53.7K
31

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 13

ایک مہینہ پر لگا کر گزر گیا تھا پٹھان اکثر مصروف رہتا جس کا گلا زوراشہ بھرپور ناراضگی دکھا کر کرتی بہروز اور دلاور فلوقت خاموش تھے جیسے کسی بڑے طوفان کی تیاری کر رہے ہوں وہی داود اور زویا نے یہ ایک مہینہ بہت خوبصورتی سے ایک دوسرے کے سنگ گزارا تھا
………………………………
بہرام اردگرد سے نگاہ بچاتا لاونچ میں داخل ہوا لیکن سامنے پٹھان کو دیکھتے اس نے اپنے قدموں کو روکا تھا اور پٹھان سے نظریں چرائیں کیونکہ وہ اسے شرارتی نگاہوں سے تک رہا تھا

“مل آئے بہرام خان۔۔۔۔”
وہ قدم بہرام کی جانب بڑھائے بولا جو اس کی بات سنتا خبل سا ہو گیا تھا
“ہاں ہم مل آیا ہے۔۔۔۔”
“تو کیا سیدھے سیدھے ملنے دیا انہوں نے۔۔۔۔؟”
اس نے سینے پر ہاتھ باندھے پوچھا تو بہرام نے نفی میں سر ہلایا
“کہاں سیدھا سیدھا ملنے دیتا ہے یہ دنیا ہم تو چوری چھپے مل کر آیا ہے۔۔۔۔”
“بہرام اور چوری چھپے سیریسلی۔۔۔۔۔؟”
پٹھان نے آئبرواچکائے پوچھا تھا

“ہم بس ہمارا جان کے لیے مشکل پیدا نہیں کرنا چاہتا ہمارا گزارا نہیں اس کے بنا پر ہم اپنی اولاد کے لیے خاموش ہے ورنہ ہم اس کو کب کا اپنے پاس لے آیا ہوتا۔۔۔۔۔”
بہرام نے گہرا سانس بھرتے تھکے سے انداز میں کہا

“چلیں پٹھان۔۔۔۔۔؟”
پٹھان جو مزید کچھ بولنے والا تھا زوراشہ کی آواز پر خاموش ہو گیا اور سر اثبات میں ہلایا
“بہرام بھی ہمارے ساتھ جائے گا۔۔۔۔”
وہ بہرام کو دیکھتی تقریباً پٹھان کے کان کے قریب گھستے ہوئے پوچھنے لگی تو اس نے دوبارہ سر کو اثبات میں ہلایا تو اس نے منہ بنایا تھا

“سوتن بنا دیا ہے تم نے اسے میرا۔۔۔۔”
منہ بگاڑ کر بولتی باہر کی جانب قدم بڑھا گئی تھی
“سوتن مانتی ہے میری بیوی تمہیں۔۔۔۔۔”
مسکرا کر بہرام سے کہتا اس کے پیچھے چل دیا تو وہی بہرام پٹھان کی بات سنتا پہلے والی بےبسی کو غائب کرتا مسکرایا تھا
………………………………
پٹھان تھوڑا فاصلے پر کھڑا زوراشہ کو باری باری گھوڑوں پر ہاتھ پھیرتے دیکھ رہا تھا وہ اس وقت استبل میں موجود تھے جو کھلے میدان میں بڑی خوبصورتی سے بنا ہوا تھا کیونکہ یہ پٹھان کی پسندیدہ جگہ تھی
“پٹھان یہ کس قدر خوبصورت ہیں۔۔۔۔”
وہ پلٹتے ہوئے خوشی سے چہکتے ہوئے بولی تو وہ بھی مسکرایا تھا وہ اس کی مسکراہٹ کے لیے ہی تو جیتا تھا

“ادھر آو زرا میرے ساتھ۔۔۔۔”
پٹھان اس کا ہاتھ پکڑے تھوڑا فاصلے پر موجود گھوڑے کی جانب لے کر گیا
“واو بےتحاشہ خوبصورت ہے یہ۔۔۔۔۔”
وہ اشتیاق سے بولتی اس گھوڑے کے سر پر ہاتھ پھیرنا چاہا تو اس نے بولتے یک دم سے اگلی دونوں ٹانگیں اٹھائیں تو وہ چینخ مارتی فوراً پٹھان سے چمٹی تھی جب کہ پٹھان ہنستا ہوا ایک ہاتھ سے اسے حصار میں لیے دوسرے سے اس گھوڑے کو پیار کرنے لگا

“مجھے اس گھوڑے سے بہت محبت ہے باقی سب شوقیہ طور پر ہیں لیکن یہ آغاز سے لے کر اب تک میرے ساتھ ہے اسے بھی مجھ سے بہت محبت ہے یہ پہاڑوں کا پلا ہوا یو نو یہ زخمی ملا تھا مجھے ایک پہاڑ پر۔۔۔۔۔”
وہ دھیرے دھیرے سے اس کے سر پر ہاتھ پھیرتے بولا رہا تھا جب کہ وہ پورے انہماک سے اسے سن رہی تھی

“مجھے ابھی بھی یاد یے یہ زخمی سا بچہ پہاڑوں کے بیچ شدید ترین برف باری کے باعث بےبس سا موجود تھا مجھے یہ بہت حسین لگا میں اسے اپنے ساتھ لے آیا اور تب سے جوانی تک یہ میرے ساتھ ہے مجھے خوب پہچانتا ہے میرے علاوہ کسی اور کا لمس اسے نہیں بھاتا یہاں تک کہ بہرام بھی اسے ہاتھ لگانے کی ہمت نہیں کر سکتا۔۔۔۔۔”
اس نے اس کے لمبے بالوں میں ہاتھ پھیرتے کہا

“میں بھی نہیں لگا سکتی۔۔۔۔؟”
زوراشہ کی بات سنتے اس نے اس کی جانب دیکھا جو بہت معصومیت سے اسے پوچھ رہی تھی
“بالکل کیوں نہیں لگا سکتی ہو بہت جلد یہ تمہارے لمس میں میرا لمس محسوس کرنے لگے گا ۔۔۔۔۔”
پٹھان اس کا ہاتھ پکڑتے بولا اور گھوڑے کے قریب لے جانے لگا
“نن-نہیں۔۔۔۔”
وہ دوبارہ سے اس کے ساتھ چمٹی تھی

“کچھ نہیں ہوتا۔۔۔۔۔”
اتنا بولتے اسنے اپنے ہاتھ میں موجود اس کا ہاتھ اس کی ہشت پر رکھا تو وہ اچھلا تھا زوراشہ مزید اس میں گھسی تھی
“شششش بس میں ہی ہوں۔۔۔۔”
وہ ویسے ہی زوراشہ جا ہاتھ اہنی گرفت میں لیے اس پر پھیرتے آہستگی سے بولا تو ایک دو بار اچھلنے کے بعد وہ سکون سے کھڑا ہو گیا تھا جب کہ اسے یوں سکون سے کھڑا دیکھ زوراشہ کی خوشی کی انتہا نہ رہی تھی

کچھ دیر گھوڑوں کے پاس رکتے وہ دونوں اب جھلے میدان میں جس پر ہلکی ہلکی گھاس تھی اس پر ایک دوسرے کا ہاتھ تھامے ہلکی پھلکی باتوں میں واک کرنے لگے تھے

“پٹھان کیا تم روز میرے ساتھ ایسے کچھ دیر گھوم نہیں سکتے۔۔۔۔۔؟”
زوراشہ نے گردن موڑے اس سے پوچھا تھا
“یو نو جو وقت میں تمہارے ساتھ گزار رہا ہوں اس کے بدلے بہت سے کام پینڈنگ پر ہیں۔۔۔۔”
“بہرام خان کر سکتا ہے وہ کام تم مجھے وقت دیا کرو۔۔۔۔۔”
وہ ضدی لہجے میں بولی تھی تو پٹھان خاموشی سے سامنے غروب ہوتے سورج کو دیکھنے لگا جس کہ سرخی آسمان پر چاروں سو پھیلی ہوئی تھی

“اب ہمیں چلنا چاہیے بہت وقت ہوا ہے۔۔۔۔”
پٹھان نے اپنے قدم روکے اس کی طرف دیکھتے ہوئے کہا
“نہیں مجھے نہیں جانا ابھی تھوڑا اور گھومتے ہیں۔۔۔۔”
وہ نفی میں سر ہلائے التجایہ انداز میں بولی تو پٹھان چاہ کر بھی اسے انکار نہ کر سکا
مغرب کی آذانوں کی بلند و بالا آوازیں چاروں سوں گونجنے لگیں تھی جن کا جواب دونوں خاموشی سے دے رہے تھے

“زوراشہ چلتے ہیں کافی وقت ہوا ہے ضروری کام ہیں مجھے۔۔۔۔۔”
“مجھ سے بھی ضروری ہیں کیا پٹھان دو گھنٹوں میں دو سو بار جانے کا بول چکے ہو۔۔۔۔”
وہ منہ خفگی سے بولتی اس کے ہاتھوں سے اپنا ہاتھ کھینچ گئی اور چہرہ پھیر گئی تھی پٹھان نے دل فریبی سے اس کی تھوڑی سے پکڑتے رخ خود کی جانب کیا اور اس کا پھولا ہوا منہ دیکھتے ہنسا تھا

“اچھا تھوڑا یہاں رکو زرا میں آتا ہوں۔۔۔۔۔”
وہ دوپٹے سے نکل کر چہرے پر جھولتی چند لٹوں کو کان کے پیچھے اڑیستے بولا اور پندرہ بیس قدموں کے فاصلے پر موجود ہینڈ پمپ کی جانب جاتے اپنا رومال سر سے اتارتے بولا کو جھٹکا دیا تو وہ خوبصورت بال اس کے ماتھے پر بکھرتے زوراشہ کا دل بری طرح دھڑکا گئے تھے اس نے بےساختہ اپنے دل پر ہاتھ رکھا جو پٹھان کے لیے موجود جذباتوں سے مچل اٹھا تھا

پٹھان سمائیل پاس کرتا جھکتا ہوا ایک ہاتھ کی مدد سے اسے چلانے لگا تھا زوراشہ کو کسی کی موجودگی کا احساس ہوا تو گردن موڑ کر دیکھنے پر چند قدموں کے فاصلے پر بہرام خان کھڑا نظر آیا جو پٹھان کو ہی دیکھ رہا تھا

زوراشہ نے دوبارہ سے رخ پٹھان کی جانب کیا جو اب وضو کر رہا تھا اسے حیرت کا شدید جھٹکا لگا تھا اس نے کبھی پٹھان کو نماز پڑھتے نہیں دیکھا تھا

“میں نے آج تک کبھی پٹھان کو نماز پڑھتے نہیں دیکھا۔۔۔۔۔”
وہ سامنے پٹھان کو دیکھتے بولی جو وضو کے بعد منہ میں کچھ بڑبڑاتا سر پر رومال باندھ رہا تھا اور ہمیشہ کی طرح رومال سے نکلتے کچھ بال ماتھے پر بکھرے تھے

“اور یقین کریں پٹھانی صاحبہ ہم نے آج تک کبھی پٹھان کو نماز چھوڑتے نہیں دیکھا۔۔۔۔۔”
بہرام کی بات پر اس نے ایک جھٹکے سے اس کی جانب دیکھا یقیناً وہ اس کی بڑبڑاہٹ بخوبی سن چکا تھا اور زوراشہ تو کبھی نماز پڑھا نہ پڑھا اسے ڈھیروں شرمندگی نے آن گھیرا تھا

“بہرام خان تم کب سے پٹھان کے ساتھ ہو۔۔۔۔۔؟”
وہ ایک نظر پٹھان کو دیکھتے اس سے پوچھنے لگی کیونکہ پٹھان ابھی وہاں کسی شخص سے محوگفتگو تھا
“ہم شروع سے پٹھان کے ساتھ ہے بہت عرصہ ہوا ہے ہمیں ایک ساتھ۔۔۔۔”
اس کا لہجہ پٹھان کے زکر پر محبت سے لبریز معلوم پڑتا تھا
“مطلب تم پٹھان کے متعلق سب جانتے ہو فیملی میرے بارے وغیرہ۔۔۔۔۔؟”
وہ اس کی جانب مکمل مڑتے پوچھنے لگی کیونکہ جب سے وہ یہاں آئی تھی اس نے سوائے بہرام کے علاوہ کسی کو بھی کمرے میں داخل یا اپنے پاس بھٹکتا نہیں دیکھا تھا
“ہاں بالکل ہم سب جانتا ہے آپ کے بارے میں بھی اکثر پٹھان زکر کرتا تھا۔۔۔۔”
“کیا زکر کرتا تھا۔۔۔۔؟”
زوراشہ کی بےتابی پر بہرام اسے دیکھتا مسکرایا تھا

“یہی کہتا تھا پٹھان کہ تم اس کا بیوی ہے۔۔۔۔”
“اچھا تمہارے بیوی بچے کہاں ہیں تم نے شادی نہیں کی کیا۔۔۔۔؟”
اس کے اچانک اس سوال پر اس کی مسکراہٹ یک دم سمٹی تھی جو زوراشہ نے بخوبی محسوس کی تھی
“ہمارا سب کچھ پٹھان اور اس سے جڑے لوگ ہیں ہم اپنا زندگی اب اللہ اور پٹھان اور ہمارے مقصد کے لیے وقف کرے گا بس۔۔۔۔”
اس کی بات پر زوراشہ کے ماتھے پر چند سلوٹیں پڑیں تھی

“لیکن کیوں تمہارا گھر بار بیوی بچے کہاں ہیں۔۔۔۔؟”
وہ مکمل آج تفشیش پر اتر آئی تھی
“کیا باتیں یو رہی ہیں۔۔۔۔۔؟”
بہرام جو زوراشہ کے سوال پر کسی بہتر جواب کی تلاش میں تھا پٹھان کے آنے پر شکر کا سانس بھر گیا تھا

“میں بہرام سے اس کے بیوی بچوں کے متعلق دریافت کر رہی ہوں اور وہ ہے کہ عجیب کہہ رہا تم بتاو مجھے۔۔۔۔۔”
وہ دوپٹے کو سر پر درست کرتی اب پٹھان سے استفارہ کر رہی تھی جس کا چہرہ اس کے سوال پر حددرجہ سنجیدہ ہو گیا تھا اس نے بہرام کے چہرے کو دیکھا جو کرب سے گریزاں تھا

“ہر سوال کا جواب وقت آنے پر ابھی تم بہرام کے ساتھ واپس گھر جاو مجھے مسجد جانا ہے اور بہرام اسے چھوڑ کر مسجد میں ملتے ہیں۔۔۔۔۔”
وہ سنجیدہ لہجے میں اس سے بولتا آخر میں بہرام کو مخاطب کئیے بولا تھا

“لیکن۔۔۔۔”
“بسسس مان جاتے ہیں بات ضد نہیں کرتے۔۔۔۔۔”
وہ جو الجھی سی دوبارہ سوال داغنے والی تھی پٹھان نے اس کے ہونٹوں ہر انگلی رکھے اسے خاموش کروایا وہ یوں ہونٹوں پر انگلی کا لمس محسوس کرتے فوراً پیچھے ہوئی اور بہرام کو دیکھا جو دوسری جانب چہرہ کیے کھڑا تھا
“جاو اب رات میں ملتے ہیں کھانا کھا لینا شاید مجھے دیر ہو جائے۔۔۔۔۔”
وہ ایک قدم اس کے قریب لیتا سرگوشانہ انداز میں بولتا اس کے ہاتھ کو تھام کر لبوں سے لگایا تو اس نے اثبات میں سر ہلایا اور بہرام کے ساتھ وہاں سے چلی گئی جب کہ پٹھان نے بھی مسجد کا رخ کیا تھا
………………………………
زویا کچن میں موجود داود کے لیے ناشتہ بنا رہی تھی وہی داود نیند سے بیدار ہوتا زویا کو کمرے میں غیر موجود پاکر بنا قمیض کے کمرے سے نکلتا کچن کی جانب آیا جہاں زویا کھڑی اس کے لیے ناشتہ بنا رہی تھی وہ کچن کی جوکھٹ پر کھڑا یک ٹک اس کے ریڈ سوٹ میں موجود دل بہکا دینے والے سراپے پر نظریں ٹکائے ہوئے تھا اور اس پر اس کے لمبے ریشمی بالوں سے نکلتی پانی کی بوندیں اسے مزید اپنی طرف کھینچ رہیں تھی جب کہ وہ ان سب سے بےنیاز ناشتہ بنانے میں مصروف تھے

“کس لیے پھر سے صبح صبح بہکا رہا ہے ہمیں۔۔۔۔”
وہ اس کی پشت پر جاتا پیچھے سے حصار باندھے چہرہ اس کے نم بالوں میں چھپائے بولا تھا
اس کے یوں اچانک قریب آنے پر وہ جو اپنی دھیان میں کام کر رہی تھی ایک دم سے اچھلی دل بھی حلق کو آنے کو تھا
“دد-داود ناشتہ۔۔۔۔”
وہ ہکلا کر صرف اتنا ہی بولی اور اس کی گرفت میں کسمسانے لگی تھی

“رات کا خماری اترا نہیں تھا کہ صبح صبح نئے سرے سے اس میں جوش بھر دیا۔۔۔۔”
وہ بالوں کے زریعے گردن تک راستہ بناتا بولا تو اس نے سختی سے اپنے نچلے لب کو دانتوں میں دبایا تھا
“داود ایک بات پوچھنی تھی۔۔۔۔؟”
کچھ یاد آنے ہر وہ سنجیدگی سے بولی تھی

“فلحال دل کی بےقراریاں یہ بتاتی ہیں کہ وہ کسی قسم کے بھی سوالات و جوابات کی متحمل نہیں ہو سکتیں۔۔۔۔”
ایک ہاتھ اس کے گلے سے گزارتا گردن کے زریعے چہرے پر لاتا ہونٹوں پر رکھے اسے خاموش کروایا تھا
“داود پلیز سنیں۔۔۔۔”
وہ اس کا ہاتھ منہ سے ہٹائے اس کے جابجا لمس کو گردن پر محسوس کرتی گھبراہٹ اور بےبسی کے ملے جلے تاثرات کے ساتھ بولی تو داود نے ایک جھٹکے سے اس کا رخ خود کی جانب کیا تھا زویا اس کے کندھے سے تھوڑا ہی اوپر آتی تھی جب کہ اب وہ تھوڑی سے اس کا چہرہ اٹھائے اور خود کا چہرہ جھکائے اس کے چہرے کے ہر نقش پر نظروں کی مہر لگا رہا تھا

“پوچھ کیا پوچھنا چاہتا ہے۔۔۔۔۔؟”
وہ انگوٹھے کی مدد سے اس کی تھوڑی سہلائے پوچھنے لگا تھا
“اگر حویلی والوں کو علم ہوا میں کہاں ہوں مطلب آپ کے پاس ہوں تو اس کا انجام کیا ہو گا۔۔۔۔؟”
وہ پریشانی سے پوچھنے لگی تھی
“اس کا تو معلوم نہیں لیکن ابھی تمہارا کیا انجام ہو گا اس کا فکر کر۔۔۔۔۔”
وہ اس کے ہونٹوں پر فوکس کئیے اس کی بات کو سرے سے نظرانداز کرتے بولے اور اس سے پہلے وہ کچھ سمجھتی داود انہیں سخت ترین گرفت میں لیتا اسے تڑپنے پر مجبور کر گیا تھا
“داود۔۔۔۔”
داود کے پیچھے ہوتے ہی زویا ہانپتے ہوئے چلائی تو داود کا قہقہ پورے کچن میں زوروشور سے گونجا تھا

“مجھے زہر لگ رہے ہیں آپ۔۔۔۔۔؟”
وہ اس کے سینے پر ہاتھ رکھتی ہوری قوت سے اسے پیچھے دھکا دیتے بولی تو وہ مشکل سے ایک انچ پیچھے ہٹا ہو گا

“اور یقین مان زویا داود تم ہمیں شہد سے بھی میٹھا لگ رہا ہے۔۔۔۔”
وہ اپنی ہنسی روکے آنکھوں میں محبت کی خماری لیے اسے دیکھتے ہوئے بولا تو زویا نے خفگی سے اسے گھورا تھا اور چائے کو دیکھا جو ابل چکی تھی مزید داود کو خطرناک گھوریوں سے نوازتی چائے صاف کرنے لگی تو وہ اس کے سر پر پیار کرتا کچن سے نکل گیا تھا پیچھے وہ سر جھٹکتی مسکرا کر اپنا کام سر انجام دینے لگی تھی
………………………………
داود کے جانے کے بعد زویا برتوں کو دھونے کے بعد چھوٹا موٹا کچن کا کام کرتی کمرے میں آئی تو بیڈ پر نظر جاتے ہی وہ بیڈ کی جانب گئی اور اس پر موجود چابی اٹھائی تھی

“اوففف داود آج گھر ہی بھول گئے چابی شاید جلدی میں بھول گئے ہوں اچھا فون لگاتی ہوں۔۔۔۔”
خود سے سوال اور خود سے ہی جواب دیتی اس نے جیسے ہی فون اٹھانے کے لیے ہاتھ بڑھایا کہ باہر کے دروازے کی بیل بجی تھی جس نے زویا کی توجہ فون سے ہٹاتے اپنی جانب کھینچی تھی

“لگتا ہے داود ہونگے ضرور چابی لینے آئے ہونگے۔۔۔۔”
مسکرا کر خود سے بڑبڑاتی چابی مٹھی میں دباتی باہر کی جانب بھاگی تھی

“ارے آپ چا۔۔۔۔۔”
وہ جو دروازہ کھول کر اپنی رفتار میں بولی تھی کہ سامنے موجود شخص کو دیکھ کر اس کے الفاظ منہ میں ہی دب کر رہ گئے تھے اچانک سے اس کے قدم پیچھے کو لڑکھڑائے تھے
………………………………
اسلام و علیکم اگلی قسط ہونے والی ہے بہت دھماکے دار یہ قسط سوچا تھوڑا مائینڈ ریفریش کر لیں عید کے بعد دی ہے تو فوراً ہی دل نہیں نہ دہلا سکتی تھی اگلی قسط میں شاید تھوڑا سا راز بھی کھولوں