53.7K
31

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 4

“آپ مم-مجھے یہاں ڈرانے آئے ہیں داود۔۔۔۔؟”
کچھ توقف کے بعد وہ خائف سا بولی تو وہ اسے حصار میں ہی لیے تھوڑا کچن کے اندر ہوتا اندھیرے میں ہی ہاتھ مارتے ایک لائیٹ جلائی تھی اس جلتی لائیٹ کی روشنی میں اب وہ دونوں ایک دوسرے کا چہرا واضع دیکھ سکتے تھے
جہاں زویا کا چہرہ خوف ڈر پریشانی اور ایسے مختلف اثار نمایا کر رہا تھا وہی داود سپاٹ چہرہ لئیے اسے دیکھ رہا تھا

“تم ہمارا بیوی ہے۔۔۔۔”
“وہی بیوی جسے آپ نے شادی کے تیسرے دن ہی اس کے کمرے میں واپس بھیج دیا۔۔۔۔”
آنکھوں سے آنسوؤں اپنا بندھ توڑتے باہر پھسلے تھے
“وہ تمہارا بھائی کی غلطی ہے اگر وہ آج ہمارا بہن کو چھوڑ دے تو ہم اگلے لمحے تمہیں اپنے کمرے میں لے جائے۔۔۔۔”
داود کی بات پر زویا نے شکوہ کناں نظروں سے اسے دیکھا تھا

“افسوس ہے داود آپ پر۔۔۔۔”
وہ اس کا حصار توڑتے ہوئے بولی لیکن اگلے ہی لمحے وہ واپس اسے اپنے حصار میں قید کر چکا تھا
“تم غلط مت سمجھ ہم تم سے بےتحاشہ محبت کرتا ہے بےتحاشہ محبت اتنی کہ تمہارے وہم و گمان میں بھی نہ ہو لیکن ہم مجبور ہے تم اچھے سے سمجھتی یے۔۔۔۔”
وہ بخوبی اس کی آنکھوں میں محبت کی تحریریں پڑھ سکتی تھی یہ داود کی محبت ہی تھی جو اسے خاموش کروائے ہوئے تھی

“میرا کیا قصور اس میں بڑوں کی جنگ میں آپ نے مجھے چھوڑ دیا یہ محبت نہیں داود خان۔۔۔۔”
قہ ان تحریروں کو پلوں میں پھاڑتے ہوئے کاٹ دار لہجے میں بولی تھی
“تم ایسا کبھی مت سوچنا کہ داود اپنی زویا سے محبت نہیں کرتا تا زمہ محبت یی(تم میری محبت ہو)۔۔۔۔۔”
وہ پورے استحاق سے اس کے ماتھے پر لب رکھے بولا تو اس نے سختی سے آنکھیں میچتے مزید امڈتے آنسووں کو روکا تھا

“ہم تم کو جلد از جلد اپنے پاس لے جانا چاہتا ہے اس کے لیکن تم کو اپنے بھائی کو قائل کرنا ہو گا۔۔۔۔۔”
“میں ایسا کچھ نہیں کرونگی داود جہاں اتنا صبر کیا وہاں اور کچھ صبر سہی لیکن میں موسیٰ کو ہر گز یہ سب نہیں کہوں گی اپنے فیصلے خود کریں اور میں موسیٰ اور زوراشہ کے ساتھ ہوں۔۔۔۔”
وہ حتمی انداز میں بولتی اس سے دور ہوئی تھی داود نے ماتھے پر بل ڈالے اس دیکھا تھا

“ہمیں غصہ دلا رہا ہے تم زویا جان۔۔۔۔”
اس کی بات پر وہ منہ پھیر گئی تھی
“تم کیوں نہیں سمجھتا ہم محبت کرتا۔۔۔۔”
“بس کریں داود اپ کی محبت ہونہہ جو دوسروں کے فیصلے کی محتاج ہے نہیں چاہیے ایسی محبت۔۔۔۔”
اس کی بات کو بیچ میں کاٹتی افسوس بھری نگاہ اس پر ڈالتی پاس سے گزرنے لگی کہ اگلے ہی لمحے اس کی کلائی داود کے مضبوط ہاتھ میں تھی

“داود پلیز چھوڑیں۔۔۔۔”
اس کے لہجے کی نمی واضع تھی
“تم آج ہمارے کمرے میں ہماری باہوں میں ہمارے ساتھ سوئے گا۔۔۔۔”
وہ جو ہاتھ آزاد کروانے کی تگودو میں ہلکان ہو رہی تھی داود کی بات سے ایک جھٹکے سے اس کی جانب دیکھا جو اب ہونٹ بھینچے اسے دیکھ رہا تھا
“آپ کا دماغ تو نہیں خراب ہو گیا داود اتنی ہمت ہے کہ مجھے اپنے ساتھ کمرے میں لے جائیں اور صبح آپ کے کمرے سے مجھے نکلتا دیکھ سب کے سوالوں کا جواب دے سکیں جن کے چہیتے بنے پھرتے ہیں ان کے قہر کو خود پر لے سکیں ہے ہمت۔۔۔؟”
وہ اس کی آنکھوں میں آنکھیں ڈالے نڈر سا بولی تھی یہ ہمت تھی تو پٹھان کی بخشی ہوئی تھی اور کچھ محبت کا سہارا بھی اس کی پشت پر تھا

“ہم کو معلوم ہے تم کو یہ زبان کس کا بخشا ہوا ہے۔۔۔۔”
وہ نرمی سے اس کا ہاتھ چھوڑتا خفگی سے بولا تھا یقیناً اس کو اس کی یہ بات ناگوار گزری تھی
“تو آپ اپنی محبت بخشیں نہ داود خان بیوی ہوں آپ کی لیکن دوسروں کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا ہے اور دعویٰ محبت کا کرتے ہیں محبت بزدلی کا نام تو نہیں۔۔۔”
وہ اس کے قریب ہوتی اس کے سینے پر دونوں ہاتھ دھرے بولتی آخر میں سختی سے اپنے آنسووں کو رگڑا تھا

“جس دن ہم تم کو دوسروں کے رحم و کرم پر چھوڑے گا اس دن تم داود کی گن سے ہی اس کا جان لے لینا۔۔۔۔”
استحاق سے اس کے ماتھے پر لب رکھتا پاس سے گزر گیا تھا جب کہ وہ آنسوؤں رگڑتی اس کی پشت کو دیکھنے لگی جو کمرے کی جانب نہیں بلکہ حویلی سے باہر نکلا تھا
………………………………
تقریبآ ایک گھنٹے کی ڈرائیونگ کے بعد وہ دونوں پٹھان کا گھر کہنا تو نامناسب بات ہو گی وہ کسی محل سے کم نہ تھا جس میں پہنچ چکے تھے پورے راستے دونوں نے ایک دوسرے سے اوف تک بات بھی نہ کی تھی جہاں وہ خاموشی سے ڈرائیونگ کرتا رہا وہی وہ خاموشی سے باہر اندھیری رات میں دیکھتی آنسووں بہاتی رہی

پٹھان کی گاڑی دیکھتے چوکیدار نے گیٹ کھولا تھا تو وہ گاڑی زن سے اندر لے آیا تھا سامنے ہی بہرام خان اس کا منتظر کھڑا تھا اس کی گاڑی اندر داخل ہوتا ہی وہ فوراً آگے بڑھا تھا لیکن پٹھان کے نکلنے کے بعد زوراشہ کو گاڑی سے نکلتے دیکھ اس نے اپنے قدموں کو وہی جامد کیا تھا

پٹھان نے پہلے وہی پر رکے بہرام خان اور پھر زوراشہ کو دیکھا جو بہت اشتیاق سے اس کے محل کو دیکھ رہی تھی پٹھان نے دلچسپی سے اس کا چہرہ دیکھا جو سب فراموش کئیے ہوئے تھی اس نے آگے بڑھتے اس کا ہاتھ تھاما تو وہ ایک دم سے چونکتی ہوش کی دنیا میں لوٹی تھی اپنی اس بےخودی پر اس نے خود کو جی بھر کر کوسا تھا

“ویلکم ٹو مائے ہاؤس۔۔…”
کان کے قریب جھکتے سرگوشانہ انداز میں کہتا اس کے کھلے منہ کی پرواہ کئیے بنا مسکراہٹ دبائے اسے ساتھ لئیے آگے بڑھا تھا ان کو آگے آتا دیکھ بہرام خان کے اشارے پر گھر کے اندر تمام گارڈز نے رخ دوسری جانب موڑا تھا پٹھان نے بہرام کے پاس سے گزرتے اسے اشارہ کیا تو وہ سر جھکائے اس کے پیچھے اندر داخل ہوا تھا پٹھان نے بڑے سے لاونچ کے بیچ و بیچ لاتے اس کا ہاتھ چھوڑا اور بہرام کی جانب پلٹا تھا

“پٹھان آپ بتاتے کہ پٹھانی صاحبہ بھی آ رہی ہیں تو میں پرتپاک استقبال کرتا۔۔۔۔”
بہرام کے لہجے سے جھلکتی خوشی محسوس کرتے اس کے ہونٹ پھیلے تھے
“استقبال تو ہو گا یقیناً اس کی تیاریاں میرے گھر والے اور سسرال والے مل کر کر رہے ہونگے۔۔۔”
اس نے زوراشہ کو دیکھتے ہوئے کہا جو ابھی بھی اس گھر کی خوبصورتی میں کھوئی ہوئی تھی
“آپ کہیں تو گارڈز بڑھا دوں۔۔۔؟”
اس نے تابعداری سے پوچھا
“نہیں اس کی ضرورت نہیں جو گارڈز موجود ہیں ان کو ہی چوکنا رہنے کو کہہ دو۔۔۔”
یہ کہتے وہ باہر دروازے کی جانب مڑا تھا

“پٹھان
زوراشہ جو ان گارڈز جو دوسری جانب منہ کئیے کھڑے تھے ان کو حیرت سے دیکھ رہی تھی کہ پٹھان کو باہر جاتا دیکھ اس نے الجھن کا شکار ہوتے اسے پکارا تھا کہ اس کے باہر کی جانب بڑھتے قدموں کو اپنے نام کی زنجیرو نے جکڑا تھا

“میں کہا جاوں۔۔۔؟”
اس نے الجھتے ہوئے پوچھا
“تم چلو میں آتا ہوں۔۔۔”
بہرام سے کہتے وہ زوراشہ کی جانب آیا
“میرے کمرے میں۔۔۔۔”
وہ دنیا جہان کی نرمی اپنے لہجے میں لئیے بولا تھا
“تو میں کون سا تمہارے کمرے کے بارے میں جانتی ہوں کہ کہاں ہے اور اوپر سے یہ تو حویلی سے بھی بڑا گھر ہے۔۔۔۔”
“قربان تیسرے فلو پر جاو تیسرا کمرہ میرا ہے۔۔۔”

“تو باقی سارے کمرے کرائے پر دئیے ہوئے ہیں کیا جو تیسرے فلور پر رہتے ہو اوپر جاتے جاتے ساری انرجی ویسٹ ہو جائے۔۔۔۔”
اس کی بات پر وہ کھل کر مسکرایا تھا اپنی بات کو سوچتے وہ بھی مسکرا کر چہرہ جھکا گئی
“ابھی مجھے کام ہے بعد میں سب سوالات کے جوابات دے دوں گا جاو فریش ہو جاو ملازمہ کھانا بھیجے گی کھا کر سو جانا میں فری ہو کر آتا ہوں۔۔۔۔۔”
پیار سے اس کا چہرہ تھپتھپاتے پلٹا تو اس نے بےساختہ اس کا ہاتھ تھاما

“اتنا مصروف رہتے ہو کیا میرے لیے تو وقت ہی نہیں نکال سکو گے۔۔۔”
وہ شاید یہاں اکیلے رہنے میں ڈر رہی تھی یا اس کا دل تھا وہ بیٹھ کر اس سے ڈھیر ساری باتیں کرے جو شاید انہوں نے کبھی نہیں کیں تھی
“میرا تمام وقت تمہارا ہے زمہ قربان(میرے قربان) ابھی بھی تمہارے لیے ہی جا رہا ہوں تمہاری حفاظت میرے لیے بہت ضروری ہے۔۔۔۔”
وہ دھیرے سے اس کے لبوں کے کناروں کو چھوتے ہوئے پر حدت و دلکش لہجے میں بولتا اس کا دل دھڑکا گیا تھا

“تم مت جاو پٹھان۔۔۔۔”
وہ لبوں کو کچائے اس کے ہاتھ کو دونوں ہاتھوں سے تھامے بولی
“ڈرو مت یہاں موجود کسی بھی گارڈ میں اتنی ہمت نہیں کہ وہ نگاہیں اٹھا کر ایک سرسری نگاہ بھی تم پر ڈال لیں بےفکر ہو کر جاو تم پٹھان کی پناہوں میں ہو ۔۔۔”
وہ شاید اس کا ڈر پھانپ گیا تھا اسی لیے ڈائیرکٹ بولا تو اس نے منہ بناتے اس کا ہاتھ چھوڑا تھا تو وہ ہولے سے اس کا گال تھپتھپاتا باہر چلا گیا تھا جب کہ وہ بھی اردگرد نظریں گھماتی سیڑھیاں چڑھنے لگی تیسرے فلور کا سوچتے ہی اس نے مزید برا سا منہ بنایا تھا
………………………………
پٹھان اڈے پر موجود اپنے سامنے پڑی تمام گنز کو باری باری اٹھاتا چیک کر رہا تھا جو کل ہی انہوں نے بھاری رقم سے خریدیں تھی
“بہرام۔۔۔”
پٹھان گن چیک کرتا کرتا رکا اور کچھ یاد آنے پر بہرام کو پکارا جو ایک سائیڈ پر کھڑا اسے دیکھ رہا تھا تابعداری سے آگے بڑھا تھا
“کابل پر اس وقت کس کا قبضہ ہے۔۔۔۔؟”
“پٹھان شمشیر خان فلوقت اس پر قابض ہے۔۔۔”
اس نے فوراً جواب دیا تھا

“ہممم نائس نیم۔۔۔۔”
اپنے ہاتھ میں موجود گن کو ٹیبل پر رکھتا بولا تھا
“کابل میں موجود خوبصورت پہاڑ جن کی اوٹ سے سورج نکلتا ہو بھلا وہ پٹھان کے علاوہ کسی اور کے زیر اثر کیسے ہو سکتا ہے۔۔۔۔”
پٹھان نے اپنے ہاتھ کی ہتھیلی کو اپنے سامنے پھیلائے اس پر نظریں گاڑے روعب دار لہجے میں کہا تو بہرام خان مسکرایا یقیناً اس کی بات کے پیچھے چھپا مطلب وہ بخوبی سمجھ چکا تھا

“مجھے وہ چاہیے بہرام خان مجھے کابل چاہیے کابل کے اردگرد پھیلے سارے پہاڑ چاہیں خدا کے بعد ان پر صرف پٹھان کی ملکیت ہونی چاہیے اس پر صرف موسیٰ زار پٹھان کا نام گونجنا چاہیے شمیشیر کو واضع بتا دو کہ۔….”
وہ بولتا ہوا رکا اور ٹیبل پر انگلی پھیرتا بہرام کو دیکھا

“کہ پٹھان یہ علاقہ چاہتا ہے ان خوبصورت پہاڑوں ان میں بہتی ندیوں ان آبشاروں پر پٹھان کا دل آ گیا ہے اگر نامانے تو سمجھدار ہو۔۔۔۔”
کاٹ دار لہجے میں کہتا ہاتھ نار کر سب گنز کو زمین بوس کر گیا تھا
“لے جاو ان سب کو ایک بھی پسند نہیں آئی۔۔۔۔”
اکھڑے سے لہجے میں بولتا اشارہ کیا تھا ماتھے پر بل واضع تھے اور چہرے پر چھاتی سرخی اس پر کی علانت تھی کہ وہ غصے سے دوچار ہو رہا ہے اسی لیے بہرام نے خاموشی سے جانا ہی مناسب سمجھا تھا
………………………………
“کچھ سوچا ہے پھر پٹھان کے بارے میں۔۔۔۔”
دلاور خان نے بہروز سے پوچھا جو کسی گہری سوچ میں مبتلا تھا
“ہونہہ۔۔۔”
دلاور کی بات پر چونکتے ہوئے اسے دیکھا تھا اس وقت کمرے میں دلاور بہروز زربینہ اور داود موجود تھے
“ہاں سوچا ہے۔۔۔۔”
بہروز پرسوچ انداز میں بولا تھا
“کیا۔۔۔۔؟”
اب کہ زربینہ نے بےتابی سے پوچھا تھا

“پٹھان کو مرنا ہو گا۔۔۔۔”
اس کی بات پر جہاں دلاور اور زربینہ کے دل پر فوار پھوٹی تھی وہی داود نے بےتاثر نگاہوں سے بہروز کو دیکھا
“کیا ہم نے سہی سنا ہے۔۔۔۔؟”
داود کو گویا خود کی سماعتوں پر یقین نہ آیا ہو
“ہاں داود پٹھان سب فساد کی جڑ ہے اس کی موت یقینی ہے اور۔۔۔۔۔”
اس سے پہلے وہ مزید کچھ بولتا کہ دروازے پر گرتے برتنوں پر سب نے چونک کر دروازے کی جانب دیکھا جہاں زویا منہ پر ہاتھ رکھتے نفی میں سر ہلا رہی تھی

“زویا بیٹا۔۔۔۔”
بہروز نے گڑبڑا کر پکارا تھا
“آپ موسیٰ کو مارنے کے مارے میں سوچ بھی کیسے سکتے ہیں بابا وہ خون ہے بیٹا ہے اپ کا۔۔۔۔”
وہ ایک دم سے جذباتی ہو کر چلائی تھی
“اے لڑکی اپنی زبان کو لگام دے سمجھی۔۔۔۔”
زربینہ اس کے چلانے پر غصے سے بولی
“آپ سب میرے موسیٰ لالہ کو کبھی نہیں مار سکتے۔۔۔۔۔”
وہ قہربرساتی نظروں سے زربینہ کو دیکھتے ہوئے دگنا چلائی تھی
“آواز نیچی رکھو زویا۔۔۔۔”
اب کہ بہروز طیش کے عالم میں بولتا کھڑا ہوا تھا
“نہیں رکھوں گی۔۔۔۔”
وہ روتے ہوئے دوبارہ چلائی تھی

“زویا۔۔۔۔”
وہ غصے سے چلاتے آگے بڑھے کہ داود بیچ میں دیوار بن کر کھڑا ہوا تھا اور ماتھے پر بل ڈالے بہروز کو دیکھتا نفی میں سر ہلایا تھا
“پیچھے ہٹو داود میں اس لڑکی کا زبان کاٹ دوں جو بہت چل رہا یے۔۔۔۔”
وہ اسے پیچھے دھکا دیتا زویا کی جانب بڑھا کہ داود نے زویا کو بازو سے کھینچتے خود کے قریب کیا تھا
“نہیں بڑے ابا۔۔۔۔”
اس نے اپنے ساتھ لگی کانپتی زویا پر گرفت سخت کرتے بہروز سے کہا

“تو کیا تم بھی اب ہمارے مخالفت میں بولو گے ہاں تم بھی پٹھان کا ساتھی بن گیا ہے کیا۔۔۔۔؟”
دلاور جلتے ہوئے اپنے بیٹے سے بولا تھا
“بابا ہم کسی کا ساتھی نہیں آج بھی پٹھان میرا دشمن ہے لیکن زویا پر ہاتھ اٹھانے کا اجازت ہم خود کو بھی نہیں دیتا۔۔۔۔”
اس نے دوٹوک بات کہی تھی

“موسیٰ سے کہہ دو کہ زوراشہ کو طلاق دے ورنہ داود اس کی بہن کو طلاق دے گا اور داود تمہیں دینا ہو گی۔۔۔۔”
اب کہ زربینہ نے چالاکی سے اپنا پتہ پھینکا تھا کہ زویا سمیت داود پر پہاڑ گرے تھے داود نے بےبسی سے زویا کو دیکھا جو روتے ہوئے آنسووں سے تر چہرہ لئیے اس کی جانب دیکھتے نفی میں سر ہلا رہی تھی