53.7K
31

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 18

پٹھان نے چہرہ جھکائے خون سے لت پت اپنے وجود کو دیکھا تھا تکلیف کے چند اثاروں نے اس کے چہرے کو چھوا تھا جب کہ زوراشہ منہ پر ہاتھ رکھے پھٹی پھٹی نگاہوں سے پٹھان کے خون آلود وجود کو دیکھ رہی تھی
پٹھان نے سامنے زوراشہ کے ساتھ موجود اپنے باپ کو دیکھا جو ہاتھ میں گن تھامے رخ اس کی جانب کئیے چہرے پر مکر سجائے اگلی گولی مارنے کو تیار تھا پٹھان کی آنکھیں تکلیف اور ضبط سے سرخ ہو گئیں تھی اور پھر ایک اور گولی چلی جو پٹھان کا بازو چیرتی ہوئی گزر گئی تھی
پٹھان کے قدم لڑکھڑائے تھے اور بےاختیار اس کا ایک گھٹنا نیچے کو جھکا تھا اس سے پہلے وہ گرتا پٹھان نے اپنا ایک ہاتھ نیچے رکھے خود کو گرنے سے بچایا تھا

بہروز خان نے اگلا نشانہ پٹھان کے سر کو بنایا تھا اس سے پہلے وہ گولی چلاتا زوراشہ نے ہوش میں آتے فوراً گن کا رخ دوسری سمت کیا تھا اور تیسری گولی بہروز کے آدمی کو لگی تھی

“یہ کہا کر رہے ہیں آپ۔۔۔۔؟”
زوراشہ غصے سے چلائی تھی غصے میں اسے یہ تک احساس نہ ہوا کہ آنسووں نے اس کا پورا چہرا بھیگو دیا ہے
پٹھان نے اپنے ہاتھ میں موجود گن کو دیکھا جو زمین پر رکھے ہاتھ میں موجود تھی پھر پوری ہمت جمع کئیے اٹھا اور بنا موقع دیے بہروز خان پر گولی چلائی جو اس کی ٹانگ پر لگی تھی اور وہ لڑکھڑاتا نیچے گرتا کراہنے لگا تھا دلاور خان نے موقع دیکھتے اپنے ہاتھ میں موجود گن سے پٹھان پر گولی چلائی لیکن ہڑبڑی میں نشانہ چوک گیا تھا

دلاور نے دوبارہ نشانہ پٹھان پر باندھا اور اس سے پہلے وہ گولی چلاتا وہاں ایریے میں داخل ہوتی پچاس کے قریب گاڑیاں جنہوں نے آتے ساتھ دلاور اور بہروز کے آدمیوں پر فائرنگ شروع کر دی تھی جس سے وہاں بھاگ دوڑ مچ چکی تھی اور اس کے آدمی آپس میں ہی ٹکراتے ہڑبڑی میں گرتے ایک دوسرے کو ہی مار رہے تھے
جب کہ کچھ آدمیوں کی مدد سے بہروز اٹھا تھا اور وہاں سے فرار ہونے لگا

“زوراشہ چلو۔۔۔۔۔”
دلاور نے بھاگتے ہوئے زوراشہ سے کہا جس نے نفی میں سر ہلایا تھا اور پٹھان کی جانب بھاگی جو زمین پر اوندھے منہ گر چکا تھا سفید کپڑے خون اور دھول سے خراب ہو چکے تھے

“پٹھان۔۔۔۔”
زوراشہ پٹھان کے پاس آتی اس کا رخ سیدھا کئیے پاگلورانہ انداز میں پکارنے لگی تھی
“ہہ-ہتھ نہیں زو-زوراشہ۔۔۔۔”
وہ بند ہوتی آنکھوں کے ساتھ بامشکل بولتا اس کا ہاتھ بڑی ہمت جمع کئیے اپنے سینے سے ہٹایا تھا جب کہ زوراشہ نے اس کے ماتھے سے زبردستی اپنا ماتھا ٹکایا تھا

“معاف کر دو پٹھان۔۔۔۔۔”
زوراشہ کے آنسووں پٹھان کا چہرا بھی بھگو رہے تھے ہر سو گولیوں کی آواز بڑے زور سے گونج رہی تھی
“پٹھان پٹھانی صاحبہ پٹھان۔۔۔۔۔”
بہرام ان کے پاس آتا جلدی سے بولا تھا
“بب-بہرام جلدی سے ہوسپٹل۔۔۔۔۔”
زوراشہ آنسووں صاف کرتی بہرام سے بولا جو ابھی تک پٹھان کی حالت پر صدمے میں تھا

“نن-نہیں ہوسپٹل نہیں۔۔۔۔”
اس نے زوراشہ سے کہتے دو گارڈز کی مدد سے پٹھان کو گاڑی میں بٹھایا تھا جب کہ زوراشہ بھی اسی گاڑی میں بیٹھی تھی باقی گارڈز ان کا سفایا کرتے ہی واپس آتے

“بہرام ہوسپٹل چلو پٹھان سہی سانس نہیں لے رہا۔۔۔۔”
زوراشہ کی گود میں پٹھان کا سر موجود تھا زوراشہ اس کی مدھم سے بھی مدھم چلتی سانسوں کے دیکھتے بہرام سے روتے کوئے بولی تھی پٹھان کے ساتھ ساتھ زوراشہ کا سفید فراک بھی سرخ ہو چکا تھا اور جو حالت تھی اس کے پیش نظر وہ زوراشہ کو کسی قسم کا سمجھا نہیں سکتا تھا اسی لیے بنا جواب کے الٹے سیدھے راستوں سے وہ گھر کی جانب روانہ تھا زوراشہ اس نے اپنا دوپٹہ پھاڑے اس کے بازو پر باندھا تھا اور کچھ ٹکرا پھاڑے اس کے سینے سے بہنے والے خون پر رکھتے دھندھلی آنکھوں سے اسے روکنے کی کوشش کر رہی تھی جو کسی صورت رک نہ رہا تھا
………………………………
گھر کے سامنے گاڑی رکتے ہی پٹھان کو جلدی سے پہلے فلور کے ہی کسی روم میں لے جایا گیا تھا بہرام پہلے ہی اپنی گینگ کے ڈاکٹر کو اطلاع دیتے مختصر سا بتا چکا تھا اسی لیے وہ پہلے ہی موجود تھا

“پٹھانی صاحبہ آپ اندر نہیں جائے۔۔۔۔”
زوراشہ اس سے پہلے خود بھی کمرے میں جاتی بہرام نے اسے روکا تھا
“من-مجھے جانا ہے مم-میرا پٹھان۔۔۔۔۔”
وہ اسے پیچھے کرتی جانا چاہتی تھی لیکن بہرام نے اسے سختی سے بازو سے دبوچا تھا
“مہربانی سمجھے بات کو ابھی ضد کا من مانی کا وقت نہیں ہے پٹھان کا جان بہت ضروری ہے۔۔۔۔”
بہرام کے بےبسی سے کہنے پر قہ خاموشی سے چہرہ جھکائے واپس پلٹتی کونے میں دیوار کے ساتھ ٹیک لگائے گھٹنوں کے گرد ہاتھ لپیٹے بیٹھی سامنے ایک مرعی نقطے کو گھورنے لگی تھی
یہ سب اس کی وجہ سے ہوا تھا پٹھان کی آج جو حالت تھی وہ اسی کی وجہ سے تھی اگر اسے کچھ ہو گیا تو۔۔۔۔اس سے آگے یہاں موجود کسی کے لیے بھی سوچنا محال تھا

اندر کمرے میں پٹھان کا علاج جاری تھا اسے یہ سمجھ نہ آیا اس کو بہترین ہسپتال میں لے جانے کی بجائے واپس گھر کیوں لائے لیکن جو بھی تھا اسے فلحال پٹھان کی زندگی ضروری تھی کبھی کوئی چیز کمرے میں لے جائی جاتی تو کبھی سب اس کی سمجھ سے باہر تھا اس کے دماغ میں بس ایک چیز گھوم رہی تھی اس کا پٹھان اس کی وجہ سے اس حالت میں تھا
………………………………
زوراشہ کو وہاں ایک ہی جگہ پر بیٹھے بیٹھے صبح کے تین بج گئے تھے نہ تو کمرے سے کوئی خبر آئی تھی نہ اس کی حالت میں کوئی فرق آیا تھا

“پٹھانی صاحبہ آپ کو کپڑے تبدیل کر لینا چاہیے۔۔۔۔”
بہرام اس کو اسی پوزیشن میں بیٹھے دیکھ اس کے پاس آئے بولا تھا
“پٹھان کیسا ہے بہرام خان۔۔۔۔؟”
اس نے اس مرعی نقطے سے بنا نظر ہٹائے پوچھا تھا

“سینے پر لگا گولی نکال لیا ہے اور زخموں کو بھی بھر دیا ہے ڈاکٹر بھی اپنا کام کرتا جا چکا ہے باقی اللہ کا کام ہے۔۔۔۔”
اس نے مختصر سا بتایا تھا
“بہرام سب میری وجہ سے ہوا ہے۔۔۔۔؟”
زوراشہ آنسؤوں بھری آنکھوں سے اسے دیکھتے بولی تھی
اس سے پہلے بہرام کچھ کہتا ایک گارڈ نے اسے آواز دی تو وہ ایک نظر دیکھتا اس کی جانب گیا تھا
“پٹھان کو خون کا دو بوتل لگا دیا ہے ڈاکٹر نے کہا تھا تیسرا بھی لگانا ہے تو ڈاکٹر نے جو آدمی اپنا چھوڑا ہے اس سے کہو ہمارے پٹھان کو خون کا بوتل لگائے۔۔۔۔۔”
اس اسکی بات پر بہرام نے سر اثبات میں ہلایا تھا اور زوراشہ کا شدت سے دل ہوا وہ پٹھان کو دیکھ سکے
………………………………
حویلی میں ابھی تک کسی کو اس واقعے کی خبر نہ پہنچی تھی یا جان بوجھ کر چھپایا گیا تھا داود خان صبح فجر کی نماز کی ادائیگی کے بعد زمینوں کا چکر لگاتا واپس آیا تو کل جتنی ہی خاموشی دیکھتے اسے حیرت ہوئی لیکن سر جھٹکتا زربینہ کے کمرے کی جانب گیا تھا اور دروازہ کھٹکھٹایا تو اندر سے اجازت ملتے ہی وہ اندر داخل ہوا جبکہ زربینہ کے علاوہ اسے اپنا باپ نظر نہ آیا تھا

“خیر تو ہے کل سے نہ بابا نہ تایا کسی کو نہیں دیکھا نہ زمینوں پر آئے۔۔۔۔۔”
وہ بیڈ پر بیٹھتا زربینہ سے پوچھنے لگا الماری سے اپنا سوٹ نکال رہی تھی
“پتا نہیں کہاں غائب ہے فون بھی نہ اٹھایا کسی نے ہم خود پریشان ہے۔۔۔۔۔”
اس کے الفاظ اس کے انداز کا ساتھ نہیں دے رہے تھے الفاظوں میں تو پریشانی کا زکر تھا البتہ دیکھنے سے کوئی نہیں کہہ سکتا تھا کہ اس کو کسی قسم کی پریشانی تھی

“اچھا خبر ملتا ہے تو ہم بتاتا ہے۔۔۔۔”
گہرا سانس بھر کر بولتا وہ کمرے سے نکلا تھا اسے بھی بےمقصد زیادہ گفتگو زربینہ سے پسند نہ تھی وہ ابھی بھی اپنے باپ تایا کے متعلق پوچھنے آیا تھا کیونکہ اس کے باپ کی خبر اس کی ماں کو تو کسی صورت نہیں ہوتی تھی البتہ زربینہ سب بخوبی ان کی خبر رکھا کرتی تھی

داود کمرے سے نکلتا سیڑھیوں کی جانب بڑھا اور ابھی پہلی سیڑھی پر قدم رکھا ہی تھا کہ لاونچ سے ہلکی پھلکی آوازیں آنے لگیں پہلے اسے وہم لگا لیکن وہ آوازیں تیز تر ہوتی چلی جا رہی تھیں اور پھر اگلے ہی لمحے وہ ان آوازوں کو پہچانتا واپس پلٹا تھا اور لاونچ کی جانب گیا

“تایا جان۔۔۔۔۔۔”
داود سامنے کا منظر دیکھتا فوراً ان کی جانب بڑھا تھا جہاں زربینہ دلاور اور بہروز موجود تھے
“یہ کیسے ہوا۔۔۔۔؟”
وہ بہروز کی ٹانگ کو دیکھتے بولا جہاں فلوقت پٹی بندھی ہوئی تھی جب کہ شلوار پر ابھی بھی خون لگا ہوا تھا
“بس شکار کرتے کرتے شکاری زرا گھائل ہو گیا۔۔۔۔”
بہروز کی بات پر داود نے اس کے زخم سے نظریں اٹھائے اسے دیکھا

“کون سا شکار کیسا شکاری کس کی بات کررہا ہے آپ۔۔۔۔؟”
داود کے الفاظ الجھن سے بھرپور تھے
“ہمارا شکار سوائے پٹھان کے کون ہو سکتا ہے بےشک ہم گھائل ہوا لیکن شکار کے بھی تمام پر کاٹ دیا۔۔۔۔”
وہ یقیناً پٹھان پر وار کرنے کی وجہ سے حددرجہ خوش تھا لیکن اس کی خوشی اپنی ٹانگ کی وجہ سے زرا مانند تھی

“پٹھان موسیٰ زار پٹھان کک-کیا مطلب۔۔۔۔؟”
وہ ابھی بھی کچھ نہ سمجھا تو دلاور نے اسے مختصر سا سب بتایا جب کہ دلاور کے منہ سے یہ سب سنتے اسے بہت بڑا شاک لگا تھا

“پٹھان کیسا ہے مم-میرا مطلب وہ زندہ ہے یا۔۔۔۔۔؟”
اس نے جو بےتابی سے پوچھا تھا لیکن فوراً سنبھلا تھا
“پتا نہیں زندہ یا مردہ عین وقت پر وہ خبیث بہرام خان آ گیا ورنہ آج پٹھان کا جنازہ ہوتا۔۔۔۔۔”
بہروز کی بات پر داود ہاتھ کی مٹھی بنائے لبوں پر رکھے پیچھے مڑا تھا لیکن پیچھے زویا کو موجود دیکھ کر اسے لگا شاید اس نے سب سن لیا ہو اور ایسا ہی تھا اس کی آنکھوں سے نکلتے آنسووں اس بات کی گواہی تھے کہ وہ سب سن چکی ہے

“شرم نہیں آئی بہروز خان اپنے ہی بیٹے پر گولی چلاتے۔۔۔۔۔”
زویا تمام تمیز بلائے طاق رکھے غصے سے بولتی آگے بڑھی لیکن داود نے پیچ میں ہی اسے بازو سے پکڑ کر روکا تھا
“نہیں زویا۔۔۔۔”
وہ مچلتی روتی زویا کو قابو کرتے سرگوشانہ انداز میں بولا
“لے جائے اس گستاخ کو ورنہ آج ہم اس کو مار ڈالے گا پٹھان نہ سہی اس کا جنازہ تو نکلے گا نہ۔۔۔۔”
بہروز خان اس کے منہ سے یوں بدتمیزانہ الفاظ سنتے بھڑک ہی اٹھا تھا

“مار دیں سب کو مار دیں آپ کون سا زندہ رہ جائیں گے ایک دن آپ بھی مریں گے ایک دن آپ کی بھی پکڑ ہو گی۔۔۔۔”
زویا داود کی گرفت سے نکلنے کی کوشش کرتی روتے ہوئے چلائی تھی
“داود لے جائے اسے ورنہ۔۔۔۔”
“ورنہ کیا ہاں کیا نہیں ڈرتی میں کسی سے داود خان کی بیوی اور موسیٰ زار پٹھان کی بہن ہوں میں نہیں ڈرتی۔۔۔۔۔”
وہ داود کے ساتھ جاتے زربینہ کی بات کاٹ کر بولی جو اسے زبردستی اپنے ساتھ لے جا رہا تھا لاونچ سے نکلتے ہی داود نے اسے گود میں اٹھایا اور سیڑھیاں چڑھنے لگا تھا جب کہ روتی ہوئی زویا کا مکمل دھیان پٹھان کی جانب تھا ناجانے وہ کیسا ہو گا
………………………………
زوراشہ بہت ہمت جمع کرتی اس کمرے میں آئی تو نظر سامنے اس عزیز جاں پر پڑی جس کی جان وہ خود خطرے میں ڈال چکی تھی
وہ دروازے پر کھڑی اسے دیکھ رہی تھی جس کے وجود پر قمیض موجود نہ تھا خوبصورت کسرتی سینہ جس پر پٹی بندھی ہوئی تھی اور کمبل بھی پیٹ تک موجود تھا جب کہ وہ ڈرپ اور انجیکشنز کے زیر اثر گہری نیند میں تھا وہ قدم قدم لیتی اس کے پاس گئی اور بیڈ پر بیٹھے اس کے ڈرپ لگے ہاتھ کو چھوا تھا اور پھر انگلیوں کی پوروں سے نرمی سے اس کے دوسرے گولی لگی بازو کو چھونے لگی تھی پھر نظروں نے بھٹک کر اس کے سینے کا رخ کیا اور دل میں ایک خوبصورت سی خواہش جاگی جس پر وہ لبیک کہتی جھکی اور اس کے سینے پر اپنے لب رکھے تھے چند آنسووں آنکھوں سے پھسلتے اس کے سینے پر گرے تھے وہ فوراً پیچھے ہوئی کہ مبادا وہ جاگ ہی نہ جائے

زوراشہ اپنی نظروں سے اس کے چہرے کے ہر نقش کو چھونے لگی اور اس کے ماتھے کو دیکھا جہاں بال بکھرے ہوئے تھے وہ ہولے سے مسکرائی اور بڑی محبت سے انہیں پیچھے کیا تھا
“مجھے معاف کر دو میرے پٹھان تمہاری پٹھانی بہت غلط کر چکی ہے بہت ناانصافی کر چکی ہے۔۔….”
وہ اس کے چہرے کے ہر نقش کو انگوٹھے کی مدد سے سہلاتے ہوئے بھیگے لہجے میں بولی تھی پھر گہرا سانس بھرتی اس کے پاس سے اٹھی اور اس کے سامنے صوفے پر بیٹھی تھی اور یک ٹک اسے دیکھنے لگی
………………………………
شام تقریباً چار بجے پٹھان کی پلکوں میں زرا سی جنبش ہوئی تھی لیکن سر اور آنکھیں بھاری ہونے کہ وجہ سے اس سے کھولنا محال تھا کیونکہ وہ مسلسل ڈرپس اور انجیکشنز کے نشے میں سویا ہوا تھا

پٹھان نے زبردستی آنکھوں کو کھولا تو نظر سب سے پہلے چھت سے ٹکرائی اور پھر سائیڈ پر دیکھا یہ اس کا کمرہ نہیں تھا لیکن وہ اتنا جان گیا تھا وہ گھر موجود تھا اس کے ہاتھ میں زرا درد اٹھا تو اس نے ڈرپ لگے ہاتھ کو دیکھا اور بےدردی سے اس ڈرپ کو نکالا تھا ڈرپ نکالنے کے بعد کوفت سے اس نے سامنے دیکھا تو سامنے زمین پر سوئے وجود کو دیکھتے اس کی کوفت زائل ہوئی تھی ماتھے پر ڈلے بل بھی ٹھیک ہوئے تھے

وہ سامنے فروزی سادہ سے فراک میں ملبوس اپنی پری کو یک ٹک دیکھ رہا تھا جو زمین پر ویسے ہی سوئی پڑی تھی پٹھان کی نظریں مسلسل اس کے چہرے طواف کر رہیں تھی لیکن اچانک چھناک سے سب یاد آنے پر اس نے فوراً ایک پل میں اس سے نظریں پھیریں تھی

“میری بےوفا پٹھانی۔۔….”
پٹھان زیر لب بڑبڑاتا دوبارہ اس کو دیکھا اور پھر چھت کو گھورنے لگا تھا
ایک بار پھر سے سب فلم کی مانند اس کے دماغ میں چلنے لگا تھا اور اچانک ماضی کی کچھ یادوں نے اسے گھیرے میں لیا تھا

“وہ راکھیل ہے میرا اور راکھیل کا بیٹی راکھیل ہی ہوتا ہے۔۔۔۔۔”
یہ الفاظ ہمیشہ اس کا سینہ چیر دیتیں تھی
“تم راکھیل نہیں بیوی ہو میری بیوی بنایا تھا میں نے تمہیں شریک حیات بنایا تھا انت الحیات مانا تھا لیکن تم نے میری ہی انت کا انتم سنسکار کر دیا۔۔۔۔”
وہ زوراشہ کو دیکھ کر دوبارہ سے بولا اور پھر دوبارہ نگاہیں پھیرے چھت کو دیکھنے لگا

“کاش ماضی اتنا درد ناک نہ ہوتا۔۔۔۔”
پٹھان زہن میں سوچتا آنکھیں موند گیا تھا اس دن موت ہوئی تھی اس گھر میں قیامت برپا ہوئی تھی اس گھر میں جسے اس موت کے جشن میں حویلی بنا دیا تھا

موت ضرور ہوئی تھی لیکن ایک کی نہیں بلکہ دو کی
وہ ایک نہیں دو جنازے تھے وہ عشاء کی نماز کے وقت گھر سے نکلنے والے دو جنازے تھے
“کاش میری بھی ان کے ساتھ موت ہو جاتی۔۔۔۔۔”
ایک آنسووں اس کی آنکھ سے نکلا تھا جسے اس نے فوراً صاف کیا تھا
………………………………
اسلام و علیکم! رات میں سگنل پروبلم ہو گیا تھا جس وجہ سے قسط نہیں آئی تو اب ٹھیک ہیں اسی لیے فوراً قسط اپلوڈ کر دی تو کیسا شاک لگا تھا۔۔۔؟😂🙈 یقیناً اب سب اس شاک کے اثر سے نکل چکے ہونگے🙊🙊🙈🙈