Jaan e Darkaf By Sajeela Nisar Readelle50121 Episode 24
No Download Link
Rate this Novel
Episode 24
پٹھان کی گاڑی حویلی کے گیٹ کے سامنے رکی تو چوکیدار کو پٹھان کی گاڑی دیکھتے اپنی آنکھوں پر شبہ ہوا تھا
“ایک ہی گاڑی۔۔۔۔۔”
چوکیدار ہولے سے بڑبڑایا اور پھر دوبارہ گاڑی کی جانب متوجہ ہوا جس کا فرنٹ ڈور کھولتے پٹھان بڑی شان سے نکلا تھا اور ایک آئبرو اچکائے چوکیدار کو دیکھا جس نے فوراً اپنا منہ بند کیا اور گیٹ کھولتے سلام کیا جس کا جواب پٹھان سر کا خم دیتے دیا تھا اور اندر داخل ہوا تھا
پٹھان لاونچ میں داخل ہوا جو سنسان تھا اس نے سر پر بندھے رومال سے نکلے ماتھے پر بکھرے بالوں کو ایک ادا سے پیچھے کیا
“کیا اس کھنڈر میں کوئی مردہ رہتا ہے۔۔۔۔۔”
پٹھان نے دونوں ہاتھوں کے لبوں کے دونوں کناروں پر رکھتے بلند آواز میں کہا اور پھر نچلا لب دانتوں میں دبائے اپنی ہنسی روکی تھی
“آ گیا پھر شیطان۔۔۔۔۔”
سامنے کمرے سے نکلتے بہروز خان نے نہوست سے کہا تھا جب کہ خود کو یوں اپنے باپ کے منہ سے شیطان کہے جانے پر دلفریب مسکراہٹ نے اس کے لبوں کو چھوا تھا اور پھر پورے زوروشور سے سر اثبات میں ہلایا تھا
“اچھا تو مردے ابھی یہاں زندہ ہیں آخر کب تک۔۔۔۔”
پٹھان نے ایک آنکھ دبائے کہا تھا
“پٹھان تم ہمیں جینے کیوں نہیں دیتا۔۔۔۔۔؟”
بہروز خان نے تنگ آکر کہا تو اس نے کندھے اچکائے اور چہرہ دوسری طرف موڑا جہاں سے آفشاں نمودار ہوئی تھی
“میرا بچہ۔۔۔۔۔”
آفشاں تو پٹھان کو دیکھتے گویا نہال ہو گئی تھی پٹھان محبت سے مسکراتا اپنے باپ کو اگنور کرتا اس کی جانب گیا اور اس کے ہاتھوں کو تھامے لبوں سے لگایا اور پھر اسکے گلے لگا تھا
“رات کو بہرام خان کیا مل کر گیا مورے تمہارے گالوں پر تو سرخیاں چمک رہی ہیں۔۔۔۔”
پٹھان نے اس کے کان میں سرگوشی کی تو اس نے ہنستے اس کے بازو پر چپٹ لگائی تھی
“شیطان نہ ہو کرو شرم کرو مورے ہوں تمہارا۔۔۔”
وہ ہنستے ہوئے بہرام کی موجودگی کو فراموش کر گئی تھی
“میرا باپ بھی شیطان کہہ رہا ہے مجھے۔۔۔۔”
پٹھان ہنستے ہوئے تھوڑا بلند بولا کہ اس کے والد کے کانوں تک یہ الفاظ پہنچ جائیں اور وہ پہنچ بھی گئی تھے
“پٹھان۔۔۔۔۔”
بہروز تقریباً چلایا تو اس کے چلانے پر پٹھان نے کڑے تیوروں سے اسے گھورا تھا
“آواز کو آہستہ ہی رکھیں تو آپ کے لیے بہتر ہو گا میرے نام نہاد باپ ورنہ زبان کو حلق سے کھینچ لوں گا یاد رکھیے گا ۔۔۔۔۔۔”
پٹھان کے لفظ لفظ میں وارننگ تھی
“باپ ہے ہم تمہارا تمیز سے بات کر۔۔۔۔۔”
بہروز کے یوں اکڑ کے کہنے پر وہ تمسخرانہ ہنسی ہنسا تھا
“باپ نہیں باپ کے نام پر دھپا۔۔۔”
اب کہ اس کی مسکراہٹ سمٹی اور وہ تلخی سے بولا تھا
“مورے دعائیں لینے آیا ہوں باقی سمجھتی ہیں آپ۔۔۔۔”
ایک نفرت بھری نگاہ بہروز پر ڈالتا آفشاں کی جانب مڑا جس نے اس کے صدقے واری جاتے ہزار دعاوں سے نوازا تھا پٹھان آفشاں سے دعائیں لیتا پلٹا تھا اور پھر اپنے باپ کی گھورتی نگاہ خود پر پاتا وہ اس کے سامنے رکا تھا اور مسکرایا
“آپ بھی دیکھ سکتے ہیں دعائیں بہروز خان اوپس آئی مین بابا ۔۔۔۔۔”
اگر نفرت کی چنگاریا پٹھان کی آنکھوں میں بھڑک رہیں تھی تو آگ کے شعلے بہروز کے دل میں بھی اپنے عروج پر تھے
“آج آخری ملاقات ہے ہم دونوں کا تم پھر دنیا بھی چھان مارے تو تم ہمیں نہیں ڈھونڈھ پائے گا۔۔۔۔”
پٹھان جو واپسی کو مڑا تھا بہروز کے الفاظوں پر اس کے قدموں کو بریک لگی تھی لیکن پلٹا نہیں تھا
“وقت ہی بتائے گا بہروز خان۔۔۔۔۔۔۔”
بنا پیچھے پلٹے وہ بولتا وہاں سے نکل گیا تھا
………………………………
“پٹھان خبر ملا ہے دلاور خان تمام ڈرگز کے ٹرک اپنا جان پہچان اور بڑی مہارت سے روڈ کے ذریعے ملک سے باہر نکل رہا ہے اور وہ بھی آج رات۔۔۔۔۔”
پٹھان جو اڈے پر موجود کل کے لیے کام کی گنز نکال رہا تھا کہ بہرام کی بات پر اس کے چلتے ہاتھ رکے اور ماتھے پر بل پڑے تھے
“مطلب بہروز خان سہی کہہ رہا تھا تو وہ اپنے بھائی کو راتوں رات یہاں سے غائب کرتا خود بھی غائب ہونے کا ارادا رکھتا ہے۔۔۔۔۔”
پٹھان نے گن پر اپنی گرفت مضبوط کی تھی
“میرے خیال سے وہ اپنا شناخت بدلے گا یہاں تک کہ حلیہ بھی۔۔۔۔۔”
بہرام کی بات پر پٹھان نے گن دیوار میں دے ماری تھی
“یاد رہے دلاور خان آج رات ملک سے باہر نہ نکل سکے اس کے نکلنے سے پہلے میں اسے اپنے قبضے میں لے لوں گا۔۔۔۔۔”
“لیکن ہم کو معلوم کیسے چلے گا وہ کس راستے سے گیا یے۔۔۔۔۔؟”
بہرام الجھا تھا
“مجھے نہیں معلوم لیکن آج رات وہ میرے مٹھی میں ہونا چاہیے میں اسے برباد کر دونگا اس کی بربادی آج رات ہی ہوگی میں اسے اسی ڈرگز کے ٹرک میں دفناوں گا۔۔۔۔۔”
پٹھان پہلے چلایا اور پھر آخر میں کرسی کو ٹھوکر مارتے زمین پر گرایا تھا غصے سے اس کے دماغ کی رگیں پھول چکیں تھی اور پھر گھڑی پر وقت دیکھا جو شام کے چار بجا رہی تھی
“چلو بہرام۔۔۔۔۔”
وہ کمرے سے نکلتا بولا تو بہرام بھی چپ چاپ اس کے پیچھے لپکا تھا
………………………………
بہرام نے اپنے وفادار آدمیوں اور خود پٹھان کے ساتھ مل کر انفارمیشن نکالنا چاہی تھی لیکن کسی جاسوس کو یہ تک معلوم نہیں تھا وہ کون سے ٹرک کب کس وقت کہا کیسے جا رہا ہے پورے ملک میں بیٹھے جاسوسوں نے پٹھان کو مایوس کیا تھا جس پر پٹھان نے بہرام کو ان سب جاسوسوں کو جان سے مار دینے کا حکم دیا تھا اور بہرام بےچارہ الجھا اسے سمجھ نہیں آ رہا تھا وہ کیا کرے
………………………………
زوراشہ نگ سگ تیار بیٹھی کب سے پٹھان کا انتظار کر رہی تھی اس کا فون بھی پاور اوف آ رہا تھا اور اسپر سے بھوک کی شدت اس کی جان نکال رہی تھی زوراشہ پرپل سلیولیس بازووں والے سلک کے فراک اور اس پر ڈارک لپسٹک اور کھلے بالوں میں بہت خوبصورت لگ رہی تھی جبکہ اس نے کمرے کو بھی مناسب سا گلاب کے پھولوں کی پتیوں سے سجایا تھا
وہ بیٹھے بیٹھے تھک گئی تھی اس نے وقت دیکھا تو کھڑی ایک بجا رہی تھی اسے جی بھر کر رونا آیا تھا وہ بےدردی سے بیڈ سے پھولوں کو نیچے پھینکتی بیڈ پر اوندھے منہ گری رونے لگی تھی اور روتے روتے ناجانے کب اس کی آنکھ لگی اسے معلوم نہ ہو سکا تھا
………………………………
“پٹھان۔۔۔۔۔”
بہرام نے بےحد ہمت جمع کرتے پٹھان کو پکارا جو گاڑی کے ساتھ ٹیک لگائے کھڑا تھا
“وہ دونوں سمجھتے ہیں وہ پٹھان کو شکست دے چکے ہیں۔۔۔۔۔”
پٹھان نے اپنی بات کرتے آسمان کی طرف چہرہ کیے بلند قہقہ لگایا جس سے بہرام کو وحشت محسوس ہونے لگی تھی اسے لگا یہ ہنسی کسی طوفان کی آمد سے پہلے کی ہے بہرام کو معلوم تھا اس ہنسی کے پیچھے کچھ خطرناک چھپا تھا
“تم ٹھیک ہے پٹھان۔۔۔۔۔؟”
اس نے ایک احتیاط کے تحت پوچھا جس نے گردن موڑے سرخ نگاہوں سے بہرام کو دیکھا تھا بدلے کی آنکھ اس کی آنکھوں میں عیاں تھی وہ کسی صورت ہارنے والوں میں سے نہیں تھا وہ موسیٰ زار پٹھان تھا اپنے ہار میں سے بھی جیت نکالنے والا
“کھیل تو اب شروع ہوا ہے وہ بھی بہت انٹرسٹنگ۔۔۔۔۔”
اس نے نظر سامنے روڈ پر گاڑے بہرام سے کہا تھا جس کے پلے اس کی بات زرا بھی نہ پڑ رہی تھی
“ہم سمجھا نہیں۔۔۔۔۔”
“ان دونوں کی نظر میں وہ مجھے شکست دے کر کھیل ختم کر چکے ہیں پر اصل کھیل کی شروعات ہی اب ہوئی ہے میں انہیں انہی کے جال میں پھنساوں گا یہ کھیل اب بہت مزےدار ہونے والا ہے دیکھتے جاو بہرام۔۔۔۔۔۔”
پٹھان کی مسکراہٹ کے پیچھا چھپا راز بہت گہرا تھا جو کچھ کچھ بہرام کی سمجھ میں آ رہا تھا
………………………………
پٹھان کی گاڑی جو سنسنان پتھریلے علاقے سے گزر رہی تھی کہ اچانک ایک گاڑی ان کی گاڑی کے سامنے رکی تھی رات کے تقریباً تین بج گئے تھے اور اچانک یوں گاڑی کا سامنے رکنا انہیں زرا سا حیرت میں مبتلا کر گیا تھا اور حیرت کی وجہ جانی پہچانی گاڑی تھی
“یہ یہاں کیا کررہا ہے۔۔۔۔۔؟”
پٹھان خود سے بڑبڑاتا گاڑی سے نکلا تو پیچھے بہرام بھی گن سنبھالتا فوراً نکلا تھا کیونکہ اسے سامنے والی شخصیت پر زرا بھروسہ نہیں تھا جب کہ دوسری گاڑی سے وہ شخص بھی باہر نکلا تھا
“تم یہاں کیا کررہے ہو۔۔۔۔؟”
پٹھان نے ماتھے پر بل ڈالے پوچھا تھا
“تم جو کر دہا ہے ٹھیک نہیں کر رہا پٹھان۔۔۔۔۔”
داود کی بات پر اس کے بل مزید گہرے ہوئے
“کیا مسئلہ ہے میرا راستہ روکنے کا مطلب۔۔۔۔؟”
پٹھان مدعے کی بات پر آیا تھا
“تمہارے ہر راستے میں ہمارا حائل ہونا فرض ہے موسیٰ زار پٹھان۔۔۔۔۔”
داود چباتے ہوئے بولا تھا
“تو موسیٰ زار پٹھان کو راستے میں آئے کنکروں کو بخوبی ہٹانا آتا ہے۔۔۔۔”
پٹھان سینے پر ہاتھ باندھے بولا تو اس نے اس کی جانب قدم بڑھائے تھے
“ہم ان کنکروں میں سے نہیں جو آسانی سے ہٹ جائے ہم ان بھاری چٹانوں میں سے ہے جس کو زرا سا سرکانے میں بھی پورا جان لگ جائے۔۔۔۔”
داود نے اس کے مقابل کھڑے ہوتے کہا
“میں سب کنکروں کو ہٹا دوں گا داود دلاور خان فکر مت کرو آج دلاور کا موت تو کل بہروز پھر اگلے روز تم۔۔۔۔۔”
اس سے پہلے پٹھان کی بات مکمل ہوتی داقد نے پٹھان کے منہ پر مکا مارا تھا اس کے مکے پر پٹھان کی آنکھوں میں غصے کے شعلے بھڑکے تھے اس نے واپس مکا مارنے کے لیے ہاتھ آٹھایاجسے بہرام نے فوراً بیچ میں پکڑا تھا
“نہیں پٹھان۔۔۔۔۔”
بہرام نے نفی میں سر ہلایا اور داود کو دیکھا جو ان دونوں کو ہی دیکھ رہا تھا
“وار کا بدلا وار ہوتا ہے موسیٰ زار پٹھان کے لیے۔۔۔۔”
وہ بےدردی سے اپنا ہاتھ اس سے چھڑواتا پوری قوت سے داود کے منہ پر جڑا کے اس کے قدم لڑکھڑائے تھے
“وار کرنے کی بھی طاقت ہونی چاہیے ایسا وار کیا جاتا ہے۔۔۔۔”
پٹھان داود کو قہر برساتی نظروں سے دیکھ کر بولتا اپنی گاڑی کی جانب پلٹا اور پھر اس کی گاڑی کے پیچھے سے گاڑی زن سے کے گئے تھے جبکہ داود نے اپنے پھٹے ہونٹ سے نکلتے خون کو انگوٹھے کی مدد سے صاف کرتے مسکرایا تھا جو وہ چاہتا تھا وہ ہو چکا تھا اس مکے کی خیر تھی
………………………………
بہروز خان چند عورتوں کے ساتھ ایک فلیٹ میں موجود شراب کے نشے میں نازیبا حرکتوں میں مصروف تھا یہ جانے بغیر کے عنقریب موت اس کے سر پر آنے والی ہے
اور پھر تقریباً تیس منٹ بعد موت فلیٹ میں پہنچ چکی تھی پٹھان نے ایک جھٹکے سے روم کا دروازہ کھولا تو بےاختیار نظریں پھیرنے پر مجبور ہو گیا تھا
“یہ ہے میرا نامراد باپ۔۔۔۔”
پٹھان نہوست سے بولا اور بہرام کو اشارہ کیا تھا وہ عورتیں خود کو کوور کرتیں جا چکی تھیں جبکہ بہروز میں اتنی ہمت نہیں تھی وہ اٹھ سکے پٹھان گن نکالتا اس کے پاس آیا تھا
“نن-نہیں مم-میرے بیٹے۔۔۔۔”
وہ نشے میں ہونے کے باعث ٹوٹے الفاظوں میں بولا تھا
“ناجانے وہ کون سی منہوس گھڑی تھی کہ بہروز خان میرا باپ بنا۔۔۔۔”
پٹھان نفرت سے ہر لفظ بولتا گن اسے مارے بےہوش کر چکا تھا اب باقی کا کام اس کے ہوش میں آنے کے بعد سود سمیت کرنے والا تھا
………………………………
بہروز کی صبح آنکھ کھولی تو خود کو ایک کمرے میں بندھا پائے ہونے کی وجہ سے اس کے ہوش مکمل بیدار ہوئے تھے اور رار کا تمام واقع زہن میں گھومنے لگا وہ بنا کسی شک کے یہ بات جانتا تھا اسے اغواہ کر کے یہاں لانے والا کون ہے
“پٹھان۔۔۔۔۔”
وہ پوری قوت سے چلایا تھا اور بار بار بلند آواز میں چلانے لگا کہ اس کی آواز خراب ہونے لگی تھی لیکن اسے پٹھان کہیں بھی دکھائی نہ دیا تھا
“پٹھان تھوڑا کام سے گیا ہے آتا ہی ہو گا صبر رکھو۔۔۔۔۔۔”
کوئی دروازہ کھول کر اندر داخل ہوتے بولا تھا جب کہ اس شخصیت کو دیکھتے بہروز خان کی آنکھیں ابلنے کو تھیں وہ آنکھیں پھاڑے اسے دیکھنے لگا تھا
………………………………
اسلام و علیکم تکا لگائیں کہ کون آیا ہے۔۔۔؟اور ایک اور بات ناول کی تقریباً دس اقساط ہی رہ گئیں ہیں یا اس سے کم بس اگر ریگولر دون تو اس مہینے ختم ہو جائے گا ان شاءاللہ ❤️❤️❤️
