53.7K
31

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 1

یہ پٹھان تھا جود دنیا کو اپنی مٹھی میں بند کرنے کے در پر تھا اس کار عب و ” دید یہ تھا کہ آگ کی مانند لوگوں کے ارد گرد پھیلا ہوا تھا ایک خوف تھا جو دلوں میں برف کی مانند منجمد تھا اور ایسی برف جو تیز دھوپ کی تپش سے بھی نہ پکھل سکے
کمرے کی چوکھٹ اونچی ہونے کی وجہ سے اس کے بند دروازے کے نیچے سے ٹپ ٹپ گرتا خون صحن میں ایک لکیر کی مانند پھیل رہا تھا اس کے ساتھ کسی کی گونجتی دل خراش چینخوں میں اس ٹپ ٹپ کی آواز دب کر رہ گئی تھی پٹھان ہمیں معاف کر دے پٹھان ہم غداری نہیں چاہتا تھا لیکن ہم اندھا ہو ” ” گیا تھا جو تجھ سے غداری کر بیٹھا پٹھان ہمیں معاف کر دے۔۔۔ ایک شخص جو ابتر حالت میں موجود نیچے بیٹھا اپنے سامنے ٹیبل پر بیٹھے شخص سے گڑ گڑا کر اپنی زندگی کی بھیک مانگ رہا تھا جب کہ ٹیبل پر بیٹھا شخص بغور اس آدمی کی فریادوں کو سن رہا تھا
غدار کو معاف کر دینا گویا اپنے ہاتھوں سے اپنے پہلووں میں سانپ پال” “لینا۔۔۔۔ وہ شخص اپنے دونوں ہاتھ ٹیبل پر ٹکائے تھوڑا آگے کو جھکتا مونچھوں تلے دبے عنابی لبوں سے جب بولا تو اس کی روح فنا کر گیا تھا ایک موقع پٹھان ایک موقع بس۔۔۔۔” ٹھیک ہے کسی دور میں تم موسیٰ زار پٹھان کے کام آیا کرتے تھے تمہارے ” لیے دل میں ایک نرم گوشہ پیدا ہوا ہے تمہاری سزا کو کم کر دیتے “ہیں۔۔۔۔ اس کے ہونٹوں پر چھائی مسکراہٹ کسی اچھی بات کی علامت تو نہ تھی لیکن وہ شخص پٹھان کی بات پر خوش ہوا تھا شاید وہ پٹھان کی مسکراہٹ سے دھوکا کھا گیا تھا اگر وہ اس کی پتھر یلی آنکھوں کو دیکھ لیتا تو اس کی بات پر کبھی یوں خوش نہ ہوتا
اس سے پہلے پٹھان کچھ بولتا ایک شخص جس کی عمر چالیس کے قریب لگ رہی تھی سر پر رومال باندھے اس کے قریب آیا اور کان کے قریب ہوتے کچھ بولا تھا کہ پٹھان کھل کر مسکرایا اور اثبات میں سر ہلاتے ٹیبل سے اترا تھا “ہاں تو تمہاری سزا تھوڑی اور کم کرنے کا فیصلہ کیا ہے محمود ۔۔۔۔۔” پٹھان نے اس شخص کو کہنے کے ساتھ ساتھ محمود کو آواز دی جو بنا کسی دیری کے ہاتھ باندھے مودبانہ انداز میں اس کے سامنے کھڑا تھا گرم خولتا ہوا پانی تقریباً پانچ منٹ تک اس کے اوپر ڈالوا گر یہ بچ گیا تو اسے ” ” جانے دینا جان کی بخشش کے ساتھ ساتھ اس کا علاج بھی کر وا دینا۔۔۔۔۔ جس خوبصورتی کے ساتھ وہ پہلے مسکرایا تھا اب اس سے کئی گنازیادہ سختی اس کے چہرے پر در آئی تھی وہ شخص پٹھان کی بات سنتے بلبلا اٹھا تھا
نہیں پٹھان تم ایسا نہیں کر سکتا ۔۔۔۔” وہ شخص گڑ گڑاتے ہوئے بولا تھا پٹھان ہوں ایسا کر سکتا ہوں۔۔۔” وہ اپنا تمام تر غرور سمیٹے بولا تھا اور پھر اس نے ہاتھ سے اشارہ کیا جیسے کہنا چاہ رہا ہو اسے لے جاو مزید دلچسپی اس میں باقی نہیں رہی ” پٹھان کیا حکم ہے۔۔۔؟” وہ چالیس سالہ مرد اس کے قریب آتے بولا تھا ” چلو چلتے ہیں کسی کو انتظار کروانا اچھی بات نہیں بہرام خان۔۔۔” دلکشی سے بولتا بہرام خان کو مسکرانے پر مجبور کر گیا تھا اور پھر اپنے پٹھان کے قدموں کو اپنے قدم بنائے اس کے پیچھے چلنے لگا تھا
زور اشہ پر نسپل کے آفس میں بیٹھی کب سے پر نسپل کا انتظار کر رہا تھا جو اس کے سامنے کرسی پر بیٹھانا جانے کو نسی فائلز ٹٹول رہا تھا ” پر نسپل سر مجھے دیر ہو رہی ہے پلیز سائن کر دیں۔۔۔۔ زوراشہ کے صبر کا پیمانہ لبریز ہونے کی دیر تھی اور یہی اس کا صبر ختم ہوا تو بول اٹھی تھی زوراشہ خان صبر سے کام۔۔۔۔” ابھی وہ اتناہی بولا تھا کہ کوئی دروازہ کھولتا اندر داخل ہوا تھاز وراشہ اور پرنسپل نے بے وقت دروازے کی جانب دیکھا تھا اور اندر داخل ہونے والی شخصیت کو دیکھتے زور اشہ کا حلق تک کڑوا ہو گیا تھا زور اشہ پر نسپل کو گھورتے کھڑی ہوئی تھی جو اپنی کرسی چھوڑے اس باوقار شخصیت کی جانب گیا تھا
معذرت خواہ ہوں پٹھان جو زحمت دی لیکن آپ کا ہی حکم تھا اور بھلا ” وہ جو مزید بولنے کا ارادہ رکھتا تھا پٹھان نے ہاتھ اٹھائے اسے بولنے سے باز رکھا تھا اور سر سے باہر جانے کا اشارہ کیا البتہ نظریں سامنے زور اللہ پر تھیں جو منہ بنائے کھڑی تھی جی کیا مسئلہ لاحق ہوا ہے زور اشہ پٹھان۔۔۔؟” آفس کے خالی ہوتے ہی وہ لفظوں کو دانتوں میں دہائے اس کی جانب بڑھتے ہوئے بولا تھا پٹھان مجھے نہیں پڑھنا خاص کر یہاں۔۔۔۔” وہ پیچھے کو قدم لیتی اپنے خشک ہو نٹوں پر زبان پھیرتے بولی تھی لیکن اگلے ہی لمحے پیچھے آتی دیوار نے اس کے قدموں کو زنجیر ڈالی تھی وہ دیوار کو کوستی اپنا گلا تر کرتے پٹھان کو دیکھنے لگی جو کڑے تیوروں سے اسے گھور رہا تھا
کیوں کون سے سنگین مسائل درپیش ہیں تمہیں جن کو مد نظر رکھتے تم یہ ” اہم فیصلہ میری اجازت کے بنا کر رہی تھی بتانا پسند کروگی میری ” پٹھانی ۔۔۔ وہ دونوں سائیڈ پر ہاتھ اس کے فرار کے سارے راستے بند کرتا سنجیدگی کی حدوں کو چھوتے ہوئے پوچھ رہا تھا زور اشہ نے اپنے قریب کھڑے اس شخص کو دیکھا جو سفید کاٹن کی شلوار قمیض میں ملبوس تھا گوری رنگت جس پر کالی داڑھی اور کالے ہی بال جو سر پر رومال بندھے ہونے کی وجہ سے کچھ باہر ماتھے پر جھانک رہے تھے اور سب سے پرکشش اس کی سیاہ آنکھیں جن میں گویا سب کی سیاہی لکھی گئی ہو وہ بلا شبہ کسی ریاست کا بادشاہ تھا پٹھانوں کی ریاست کا بادشاہ وہ حسین تر تھا
وہ وجاہت کا شاہکار تھا وہ خود ایک شاہکار تھا وہ پٹھان تھا موسیٰ زار پٹھان I جو کسی کا بھی دل دھڑکا سکتا تھا اور اس وقت وہ زوراشہ کا دل دھڑ کانے کو کافی تھا ” پپ۔ پٹھان۔۔۔۔” وہ با مشکل صرف اتنا بولی تھی جی زحمت کریں بولنے کی۔۔۔” وہ جو بولنے کی کوشش میں ہلکان ہو رہی تھی پٹھان کی بات پر رونے والی ہو گئی
موسیٰ زار پٹھان پلیز دور ہو جاو کوئی آجائے گا۔۔۔۔” جب کوئی بات نہ ملی تو بے بسی سے اسے پیچھے کرنے کی کوشش کرتے بولی تھی کسی میں اتنی جرآت نہیں وہ میری اجازت کے بنا اندر داخل ہو سکے اور ” وہ کہتے رکا تھا اور مزید ایک قدم آگے ہوا تم موسیٰ زار پٹھان کی ملکیت ہو بیوی ہو تم پٹھانی ہو میری پٹھان کی ” ” پٹھانی ۔۔۔ اس کے لفظوں نے اسے سہنے پر مجبور کر دیا تھا بس اسی لیے مجھے یہاں نہیں پڑھنا مجھے وہاں پڑھنا ہی نہیں جہاں تمہارا حکم ” ” چلتا ہو جہاں سب تمہاری غلامی کرتے ہوں۔۔۔ وہ غصے سے بولی تھی
استغفار حکم چلانے اور غلامی کروانے والی زات تو اللہ کی ہے میں تو اس کا ” ناچیز بندہ بس اس کی دی گئی نعمت سے لطف اندوز ہو رہا ہوں۔۔۔ وہ سحر انگیز باتیں بولتا اس کو گمراہ کر رہا تھا جب کہ زور اشہ کا دل کیا اپنا سر پیٹ لے پٹھان میرے معاملات میں داخل اندازی مت کرو۔۔۔۔” وہ قطعاً انداز میں بولی تو پٹھان مسکرایا تھا یہ واحد اس کی پٹھانی تھی جو اکثر نڈر ہو کر اس کے سامنے ایسے الفاظ کہہ بیٹھتی تھی اور وہ یہ بھی جانتا تھا ایسے الفاظوں کے بعد وہ دل میں خوف لیے اسے دیکھتی تھی کسی کی اتنی اوقات نہیں کہ میرے علاوہ تمہارے معاملات میں دخل ” دے سانسیں نہ چھین لے پٹھان اس نیچی اوقات کے مالک کی اور تم بھی
ایسے الفاظوں کو زبان پر لانے سے پہلے سو نہیں ہزار بار سوچا کرو کہیں ” تمہاری زبان کے لیے نقصان دہ نہ ثابت ہوں۔۔۔ وہ اس کے دونوں ہاتھوں کو تھامے اسے تنبیہ انداز میں بولا تھا کہ اس کی ریڑھ کی ہڈی میں سہنسنایت دوڑھ گئی تھی ہاتھ چھوڑ و میر اموسی اور کون بیوی۔۔۔؟ وہ بیوی جسے یہ تک اندازہ نہیں ” ” اس کا غنڈہ پٹھان کب اسے چھوڑ ڈالے۔۔۔ وہ تلخی سے بولی تھی ” اچھا بھول گیا تھا کہ مجھے تمہارے ہاتھ نہیں پکڑنا چاہیے تھے ۔۔۔۔” وہ اس کے دونوں ہاتھوں کو چھوڑتے بولا اور اس کی جانب دیکھا جو سرے سے اپنی بات اگنور ہونے پر غصے سے تپ گئی تھی اس نے آگے بڑھتے اسے کمر سے تھاما تھا
بھول گیا تھا میں کہ شوہر ہوں میں تمہارا یوں اکیلا ہاتھ پکڑ ناشوہروں کو ” زیب نہیں دیتا۔۔۔۔ وہ اسے تھوڑا قریب کرتے اس کا ایک ہاتھ تھامے اسے لبوں سے لگا گیا تھا جب کہ اس کا لمس محسوس کرتے وہ دل و جان سے کانپ گئی تھی اور یہی اس کی زبان کو گو یا قفل بندھ گیا ہو و ” پٹھان۔۔۔۔” وہ دھڑکنوں میں برپا ہوتے اشتعال کو دہائے اس کو پکار ہی سکی تھی جی قربان۔۔۔۔” وہ اپنی سیاہ آنکھوں کو اس کی سرمئی آنکھوں میں گاڑتے محبت کا جہاں اپنے الفاظوں میں سموئے بولا تھا ” تم کیا چاہتے ہو پٹھان نہ جینے دے رہے ہو نہ مرنے ۔۔۔۔”
وہ بھرائی آواز میں بولی تو پٹھان خاموشی سے اس کا چہرہ تکنے لگا میں کیا چاہتا ہوں زور اللہ تمہیں جلد معلوم ہو جائے گا فلوقت یوں ” ٹسوے بہا کر تم مجھے میرے ارادوں سے کسی صورت نہیں ہٹا سکتی اسی لیے ان کو فضول مستر الباوان کی قمیت تمہارے ارادوں سے کئی بڑھ کر ” وہ اس کی پلکوں پر ٹھہرے آنسووں کو انگلی کی پوروں سے چھوتے بولا جو فوراً گال پر پھیل گئے تھے کیوں اپنے ارادے سے پیچھے نہیں ہٹ سکتے مجھے نہیں پڑھنا یہاں میر ادم ” گھٹتا ہے تمہارے بنائے گئے اصولوں میں دم گھٹا ہے میرا جب مجھے کوئی ” پٹھان کی ملکیت کہتا ہے ۔۔۔۔
وہ اس کا ہاتھ جھٹکتے بولی تو پٹھان نے اپنے جھٹکے گئے ہاتھ کو دیکھا غصے کا طوفان تھا جو پٹھان میں برپا ہوا تھا جس کا نشانہ یقیناً وہ اپنی پٹھانی کو نہیں بنانا چاہتا تھا جو پٹھان اپنے ار وہاں سے پیچھے ہٹ جائے اپنی بات سے مکر جائے اس کو ” ہم پٹھان نہیں ایک دھپ مانتے ہیں اور دھیوں کو ہم بہت اچھے طریقے سے اس دنیا سے ہٹاتے ہیں۔۔۔۔ وہ اپنے جھٹکے گئے ہاتھ پر نظریں مرکوز کئے بولا اور اس کی مٹھی بنائے اسے دیکھا تھا اسی لیے ابھی میرے قبر کو ہو امت ہی دو تو تمہارے لیے اچھا ہے ورنہ یہ ” جگہ مجھے بہت نا مناسب لگ رہی ہے اپنے رشتے کو آگے بڑھانے کے ” لیے۔۔۔۔
اس سے دو قدم پیچھے ہوتا بولتا اس کا چہرہ شرم و غصے سے سرخ کر گیا تھا وہ شکوہ کناہ نظروں سے اسے دیکھتی آفس سے نکلی تھی اس کے نکلتے ہی بہرام خان اور پر نسپل اندر داخل ہوئے تھے جب کہ ان دونوں کو غضب ناک نظروں سے دیکھتا پٹھان آفس سے نکلا تھا اور سامنے دیکھا جہاں اس کی پٹھانی تیز تیز قدم لیتی رہی تھی یونیورسٹی کے گراونڈز مکمل طور پر خالی تھی یہاں تک کہ کوئی پرندہ بھی وہاں پر مارتا نظر نہیں آرہا تھا زوراشہ غصے سے خولتی حویلی میں داخل ہوئی تھی یہ دیکھے بنا کہ دو پٹہ اس کے سر سے ڈھلک چکا ہے جو کہ مردان خانہ سے اندر داخل ہوتے داود خان کی نظروں سے چھپا نہ رہا تھا یہ تعلیم اگر تمہار ا ڈوپٹہ سر سے اتر وادے تو آگ لگادے ایسا تو تعلیم کو”
داود خان کی طیش بھری آواز نے اس کے تیز قدموں کو زنجیر ڈالی تھی اور سختی سے آنکھیں نیچے اس نے ڈوپٹہ سر پر اوڑھا تھا معاف کر دیں لالہ یہ ابھی اترا۔۔۔۔” وہ شرمندہ سی دبی دبی آواز میں بولی تھی اگر ہمار ا بس چلتا ہم تم کو کبھی باہر پڑھنے نہ بھیجتا لیکن ہم مجبور ہے کہ تم ” پٹھان کا بیوی ہے اور یہی بات سوچتے ہمارا خون اندر ہی اند را بال مارتا پٹھان کا زکر کرتے اس کی لہجے کی کڑواہٹ زور اشہ نے محسوس کی تھی اسی لیے بنا کوئی جواب دیے اندر بڑھ گئی تھی کمرے میں داخل ہوتے اس نے اپنا بیگ بیڈ پر دے مارا تھا ” ارے کیا ہوا بچہ ۔۔۔۔؟”
آفشاں جو زوراشہ کی داود سے ہوتی عزت افزائی سن چکی تھی اور اس کو یوں غصے سے بھری دیکھ اس کے پیچھے آئی اس کو یوں بیگ بیڈ پر مارتے دیکھ اس نے فکر مندی سے پوچھا اس بچی کا جینا حرام کیا ہوا ہے ہر کسی نے نہ باہر سانس آتا ہے نہ گھر ” ” میں۔۔۔ وہ بیڈ پر دھڑام سے بیٹھتے بولی تھی ” کیا ہوا ہم کو بتا۔۔۔۔” آفشاں (اسکی امی ) نے اس کے پاس بیٹھتے پوچھا تھا ” پٹھان کا بچہ ملا تھا مجھے ۔۔۔” وہ غصے سے چباتے ہوئے بولی تھی پٹھان ملا تھا کیسا تھی ہماری جگر کا گوشہ ۔۔۔”
آفشاں تو پٹھان کاز کر سنتی گویا نہال ہو گئی تھی زور اشہ نے اپنی ماں کو دیکھا تھا اور ایسے دیکھا جیسے کہنا چاہ رہی ہو کہ پلیز اب اس کی تعریف مت شروع کر دینا سار استیا ناس کر دیا اس نے میرے ارادوں گا مورے اچھا بھلا میں وہ ” یونیورسٹی چھوڑنے کا پلین بنا چکی تھی لیکن کمبخت بھول گئی تھی وہ پٹھان ہے ہمارے ارادوں کا بیڑا گر ک کر دے گا وہ جلتی کڑتی اس کو کڑے الفاظوں سے نواز نا چاہتی تھی لیکن فلحال وہ پٹھان کے بارے نغلط الفاظ کہتی اپنی ماں سے جوتی کھانے کا ارادہ نہیں رکھتی تھی لڑکی تم میں تمیز ہے یا نہیں شوہر ہے تمہاری یہ “اس ” کیا ہوتی ہے ادب ” کے دائرے میں شامل ہوتے الفاظوں کا استعمال کیا کر دور نہ کامل زبان کو اتار کر پھینک دو جو شوہر کے لیے تمیز کا لفظ نہ بول سکے ۔۔۔۔۔
اتنا لمبا چوڑا لیکچر سنتے زور اشہ نے سر تھاما تھا اور ویسے ہی سر تھا۔ تھامے اپنے سر کو حرکت دیتے اثبات میں ہلایا تھا