Jaan e Darkaf By Sajeela Nisar Readelle50121 Episode 19
No Download Link
Rate this Novel
Episode 19
“کاش میری بھی ان کے ساتھ موت ہو جاتی۔۔۔۔۔”
ایک آنسووں اس کی آنکھ سے نکلا تھا جسے اس نے فوراً صاف کیا تھا کیونکہ وہ موسیٰ زار پٹھان تھا رونا اس کی شان کے خلاف تھا اس نے دوبارہ سے زوراشہ کو دیکھا جو ابھی بھی ویسے ہی سوئی ہوئی تھی اس کا دل کیا وہ اسے جگا دے لاکھ ناراضگی تکلیف باوجود وہ اس کی آواز سننا چاہتا تھا
اس لیے اس نے سائیڈ ٹیبل پر پٹا گلاس ہاتھ مارتے نیچے گرایا تھا اور نظروں کا زاویہ زمین کی جانب کیا
زوراشہ جس کی آنکھ کچھ دیر پہلے ہی لگی تھی اچانک شور ہونے پر ہڑبڑائی تھی اور آنکھیں ملتی پٹھان کو دیکھا جو اب دوسرا گلاس بھی نیچے گرا چکا تھا
“کک-کچھ چاہیے پٹھان۔۔۔۔۔؟”
وہ زمین سے اٹھتے ہوئے بولی اس کی آواز پر پٹھان نے آنکھیں بند کرتے گہرا سانس بھرا اور دوبارہ آنکھوں کو کھولا تھا اور جگ اٹھاتے بھی سامنے دیوار پر دے مارا تھا زوراشہ کان پر ہاتھ رکھتے چلائی تھی اور پہلے پٹھان پھر فرش کو دیکھا جس پر مکمل کانچ بکھرا ہوا تھا
“پپ-پٹھان۔۔۔۔”
“شٹ اپ۔۔۔۔۔”
وہ اس کو بولنے کا موقع دیے دھاڑا تو وہ بےاختیار دو قدم پیچھے ہوئے اور آنسوؤں بھری آنکھوں سے اسے دیکھنے لگی تھی
“تم یہاں کیا کر رہی ہو جج-جاو تم آئی کیوں ہو اپنے باپ ساتھ رہتی۔۔۔۔۔”
وہ طنز کے نشتر چلاتا اس کا دل زخمی کر رہا تھا
“پلیز پٹھان ایسے مت کہو۔۔۔۔”
“میرے پاس مت آنا بلکہ میرے سامنے ہی مت آنا واپس کمرے میں جاو سامان پیک کرو بہرام تمہیں حویلی چھوڑ دے گا۔۔۔۔”
وہ اسے خود کی جانب آتا دیکھ ہاتھ اٹھائے بولتا اس کے قدموں کو وہی جسم کر چکا تھا جب کہ اس کی آخری بات پر اس نے روتے ہوئے نفی میں سر ہلایا تھا
“میں تمہیں نہیں چھوڑوں گی۔۔۔۔”
وہ اس کے قریب آتے پوری قوت سے اس کے سینے سے لگی تھی جب کہ اس کے یوں سینے سے لگنے پر اٹھنے والی ٹھیس پر وہ ہونٹ بھینچ گیا تھا اور چہرہ جھکائے اس کے سسکتے وجود کو دیکھنے لگا سزا پٹھان اسے دینا چاہتا تھا لیکن دے وہ رہی تھی اپنے آنسوؤں کے ذریعے
“زوراشہ پلیز جاو یہاں سے۔۔۔۔۔”
وہ نرمی سے اسے خود سے الگ کرتا بولا تھا کیونکہ اس کے آنسوؤں اسے پگھلا رہے تھے اور وہ پگھلنا نہیں چاہتا تھا کیونکہ اس کی غلطی اتنی چھوٹی نہ تھی کہ وہ اس کے چند آنسوؤں پر اسے معاف کر دیتا
اس کی غلطی بہت سنگین تھی اس نے پٹھان کا دل توڑا تھا وہ بھی بڑی بےدردی سے اور پٹھان کو پہلی بار لگا کہ اس نے کیوں دل لگایا اس نے کیوں محبت کی انتہا کی
“مت کرو سزا دے دو مجھے لیکن ساتھ رکھ لو اپنے۔۔۔۔۔”
وہ دوبارہ اس کے قریب ہوتی اپنا ماتھا اس کی تھوڑی سے ٹکائے روتے ہوئے بولی تھی
“تم نے اچھا نہیں کیا راشہ میں چاہ کر بھی تمہاری بےوفائی نہیں بھول پا رہا ایک بار ایک بار تو اپنے پٹھان پر یقین کرتی یہ تھی تمہاری محبت، محبت بےاعتباری کا نام تو نہیں پھر کیوں۔۔۔۔؟زوراشہ جاو۔۔۔۔”
وہ انتہائی کرب سے بولا تو وہ مزید سسکی تھی
“پٹھانی کہو مجھے خود کی مت لو میرا نام مت کہو زوراشہ قربان کہو مجھے لیونے کہو محبت کرو پٹھان پر خود سے دور مت کرو سزا دے دو۔۔۔۔۔”
وہ اس کی گردن پر ہاتھ رکھتے روتے ہوئے اس کی آنکھوں میں دیکھتے بولی
“قابل نہیں تم میری محبت کے میری محبت نے تمہیں مغرور بنا دیا اور اسی مغروریت میں تم نے۔۔۔۔۔”
وہ بولتا بولتا رک گیا تھا اور اپنے گردن سے اس کے ہاتھ ہٹائے تھے
“آئی لو یو پٹھان آئی ایم سوری نہ۔۔۔۔۔”
وہ دھیرے سے اس کے لبوں کو خود کے لبوں سے چھوتے بولتی پٹھان کے دل کی دھڑکنیں بڑھا گئی تھی اسے زوراشہ سے اس عمل کی توقع ہر گز نہ تھی
“زوراشہ مجھے درد ہو رہا ہے پلیز۔۔۔۔”
وہ گہرا سانس بھرتا اسے بےبسی سے پیچھے کرتا بولا کیونکہ وہ اس کے لمس سے بہکنا نہیں چاہتا تھا وہ ابھی کسی صورت زوراشہ کو معاف کرنے کے حق میں نہ تھا
اس سے پہلے وہ کچھ بولتی دروازہ کھٹکھا تھا دونوں نے بےوقت دروازے کی جانب دیکھا اور پھر زوراشہ آنسووں صاف کرتی بیڈ سے اٹھی تھی
“کون ہے۔۔۔۔؟”
“پٹھان اجازت چاہتا ہوں۔۔۔۔۔”
دروازے کے اس پار بہرام تھا جو پٹھان کی اجازت کا منتظر تھا
“آجاو۔۔۔۔۔”
پٹھان سے اجازت ملتے ہی وہ اندر داخل ہوا لیکن نظر سب سے پہلے فرش پر بکھرے کانچ پر ٹھہری تھی اور پھر روئی روئی زوراشہ کو دیکھا جس نے نظریں چرائیں بہرام سر جھٹکتا پٹھان کے قریب آیا تھا
“شکر اللہ کا کہ آپ ٹھیک ہے پٹھان ہم سب بہت پریشان تھا۔۔۔۔۔”
بہرام مسکراتے ہوئے بولا تو پٹھان بھی مسکرایا تھا
“بہروز خان کی کوشش اچھی تھی۔۔۔۔”
پٹھان کے داد دیتے انداز پر وہ کھل کر مسکرایا تھا
“مجھے اپنے کمرے میں جانا ہے۔۔۔۔۔”
پٹھان خود سے کمبل ہٹائے بولا تھا اور بازو پر اپنا ہاتھ رکھا جہاں پٹی بندھی ہوئی تھی
“پٹھان ابھی ممکن نہیں سیڑھیاں چڑھنا آپ کے لیے مشکل ہو گا۔۔۔۔”
“پٹھان کے لیے کچھ مشکل نہیں۔۔۔۔”
وہ بیڈ سے اٹھتا بولا تو زوراشہ اسے تھامنے کے لیے آگے بڑھی لیکن اس نے ہاتھ اٹھائے وہی روکا تھا اور نفی میں سر ہلایا جب کہ بہرام نے مشکل سے ضبط کرتی زوراشہ کو دیکھا اور خود آگے بڑھتے پٹھان کو بازو سے پکڑا تھا اور باہر دروازے کی جانب جانے لگے ان دونوں کے کمرے سے نکلتے ہی زوراشہ نے بیڈ پر موجود تمام تکیے زمین پر دے پٹخے تھے اور بیڈ پر بیٹھتی چہرہ ہاتھوں میں چھپائے بری طرح سے رونے لگی تھی
………………………………
“معلوم نہیں موسیٰ کیسا ہو گا۔۔۔۔۔؟”
زویا بیڈ پر بیٹھی ٹشو پیپر سے ناک رگڑتی سوں سوں کرتے بولی تھی داود نے اپنی مسکراہٹ دبائی تھی کیونکہ وہ مسکرا کر اپنی شامت نہیں لانا چاہتا تھا
“وہ ٹھیک ہو گا تم خوامخواہ پریشان ہو رہا ہے۔۔۔۔”
داود پانی گلاس میں انڈیلتا اس کی جانب بڑھاتے بولا تھا
“سنا نہیں تھا دو گولیاں لگی ہیں موسیٰ کو اور سینے پر بھی لگی ہے بھلا وہ کیسے ٹھیک ہو سکتا ہے۔۔۔۔۔۔”
اس نے اس سے ہانی کا گلاس تھامتے ایک گھونٹ بھرتے واپس اسے تھمائے کہا تھا تو وہ گلاس واپس ٹیبل پر رکھتے اس کے پاس بیٹھا تھا
“داود مجھے لے چلیں نہ موسیٰ کے پاس پلیز۔۔۔۔”
وہ اس کا ہاتھ تھامے مدعے کی بات پر آئی تھی
“نہیں زویا ہم بتایا نہ وہ ٹھیک ہے نہیں جا سکتا تم۔۔۔۔۔”
اس نے ماتھے پر بل ڈالے کہا تھا
“پلیز داود آپ بھی زوراشہ سے مل لینا اور میں موسیٰ کو بھی دیکھ لوں گی اور ایک عرصہ ہوا زوراشہ سے بھی نہیں ملی اس سے بھی مل لوں گی پلیز داود۔۔۔۔”
وہ اس کے سامنے منت کرتے بولی
“نہیں کا مطلب نہیں ہوتا ہے فالتو کا ضد نہیں کرنا اب سمجھا نہ۔۔۔۔”
داود نرمی سے اس کے آنسوؤں صاف کرتا صاف انکار کر رہا تھا
“آپ میرے لیے اتنا نہیں کر سکتے داود۔۔۔۔”
وہ ایموشنل بلیک میلنگ پر اتری تھی
“داود خان تمہارے لیے سب کر سکتا ہے لیکن فلوقت یہ ممکن نہیں جو تم کہہ رہا ہے اور ابھی تم نہ ملے یہ بھی ہم تمہارے لیے ہی کہہ رہا یے۔۔۔۔۔”
اس کے دوبارہ قطعاً لہجے پر زویا نے ناراضگی سے اپنے ہاتھ اس کے ہاتھوں سے نکالے تھے اور لیٹ کر منہ دوسری طرف کرتے آنکھیں موند لیں تھی صاف ناراضگی کا اظہار تھا
“جتنا مرضی بلیک میل کر لے نہیں جانا۔۔۔۔۔”
داود اس کے پاس سے اٹھتا اس کی کنپٹی پر شدت سے لب رکھتا بولا اور اور اپنی قمیض کو صوفے سے اٹھائے پہننے لگا تھا لیکن کمرے میں گونجتی سسکتی پر اس کے قمیض پہنتے ہاتھ رکے تھے
“زویا مت کرو یار۔۔۔۔”
وہ قمیض واپس صوفے پر رکھتا اس کی جانب مڑتے ہوئے بولا
“زویا تم سے بات کر رہا ہے ہم۔۔۔۔”
اس نے دوبارہ سے کہا لیکن دوسری جانب سے سوائے سسکیوں کے کچھ سنائی نہ دیا تھا
“یہ غلط ہے یار۔۔۔۔۔”
وہ بےبس سا منہ بنائے بولا تھا
لیکن جواب ابھی بھی نداد تھا
“ٹھیک ہے رات میں جائیں گے۔۔۔۔۔”
داود ہار مانتے ہوئے بولا آخر اسے ہی ہار ماننا پڑی تھی جبکہ اس کے یوں ہار ماننے پر وہ سیدھی ہوتی روتے روتے ہنسی تھی اور داود کو زبان چڑھائی جس نے مسکراتے ہوئے نفی میں سر ہلایا تھا
اور آگے بڑھتے اس کے بالوں میں انگلیاں پھنسائے اس کے چہرے پر جھکتے اس کے ماتھے پر لب رکھے اور پھر اس کے لبوں پر لب رکھتے اس کی سانسیں روکے اسے مچلنے پر مجبور کر گیا تھا اور پھر پیچھے ہوتے ہنسنے لگا کیونکہ اس نے نہایت بےدردی سے اس کے لبوں پر کاٹا تھا وہ ہونٹوں پر ہاتھ رکھے غصے سے اسے گھور رہی تھی داود نے اسے آنکھ مارتے قمیض اٹھائی اور اس کی مسلسل گھوریوں کی زد میں ہنستے ہوئے پہنتے واپس اس کے ماتھے پر لب رکھے چہرا تھپتھپائے کمرے سے نکلا تھا پیچھے وہ بھی مسکرا دی تھی اور اٹھ کر الماری سے اپنے کپڑے نکالنے لگی
………………………………
“موسیٰ آپ نہیں جانتے میں کتنا پریشان تھی۔۔۔۔۔”
زویا پٹھان کا ہاتھ تھامے پریشانی سے بولی تھی
“تمہارا باپ کیسا ہے۔۔۔۔؟”
پٹھان نے شرارتی مسکراہٹ سے پوچھا جس نے منہ بنایا تھا
“ایسے باپ سے تو نہ ہی ہوتا تو اچھا تھا۔۔۔۔۔”
زویا افسوس سے بولی تھی
“اس کو تم اپنے ساتھ لائی ہو ۔۔۔؟”
پٹھان نے سامنے فاصلے ہر صوفے پر بیٹھے داود کے متعلق آہستہ آواز میں پوچھا جو کبھی ان کو دیکھتا کبھی کمرے میں کسی چیز کو دیکھتا کبھی اپنی فون کو دیکھتا
“ہاں میں لائی ہو۔۔۔۔۔”
“اس کو تنگ کروں۔۔۔۔۔”
پٹھان نے ایک انکھ دبائے شرارت سے کہا
“موسیٰ۔۔….”
زویا نے اس کو آنکھیں دکھائیں اور پھر داود کو دیکھا جو اس کے دیکھنے پر فوراً چہرہ جھکائے موبائل کو دیکھنے لگا تھا یقیناً وہ اب ان کے درمیان ہونے والی گفتگو نہیں سن پا رہا تھا
“زوراشہ کہاں ہے۔۔۔۔۔؟”
زویا نے زوراشہ کے متعلق پٹھان سے پوچھا جو اسے کہیں نہر نہیں آئی تھی کولڈرنک اور باقی لزومات بھی سرونٹ نے پیش کئیے تھے زوراشہ کے زکر پر پٹھان کے تاثرات سنجیدہ ہوئے تھے
“ہاں راشہ کہاں ہے۔۔۔۔؟”
وہ فونوں جب سے آئے تھے داود نے اب اپنے منہ سے چند الفاظ نکالے تھے وہ بھی زوراشہ کے متعلق
“معلوم نہیں شاید کچن میں ہو۔۔۔۔”
پٹھان نے کندھے اچکائے کہا تھا
“کیوں اتنا بھی نہیں معلوم بیوی کہاں ہے تمہارا یا یہاں پر لا کر لاوارث سمجھ کر پھینک دیا ہے۔۔۔۔”
داود کے طنز پر وہ ہونٹ بھینچ کر رہ گیا تھا جب کہ داود بخوبی اور زویا بخوبی جانتے تھے کہ پٹھان کے متعلق اس کے باپ چاچا نے زوراشہ کو استعمال کیا تھا
“میں اس کو دیکھتی ہوں۔۔۔۔۔”
زویا وہاں گہری چھائی خاموشی سے خوف کھاتی اٹھتے یوئے بولی اور دروازے کی جانب مڑی تھی لیکن فوراً اپنے قدم روکے پلٹ کر انہیں دیکھا کہ کہیں اس کے جانے کے بعد دونوں ایک دوسرے سے لڑ ہی نہ پڑیں داود نے سوالیہ نظروں سے اسے دیکھا تھا البتہ پٹھان بھی اسے ہی دیکھ رہا تھا زویا نفی میں سر ہلاتی کمرے سے نکلی تھی
“ہاو آر یو سالے بہنوئی دوست کزن صاحب۔۔۔۔؟”
زویا کے جاتے ہی پٹھان پیچھے بیڈ سے ٹیک لگائے اب مکمل اس کی جانب متوجہ ہوتا مسکرا کر پوچھا تھا
“ناٹ گڈ۔۔۔۔۔”
داود دو لفظی جواب دیتا خاموش ہو گیا تھا
“گولیاں مجھے لگی ہیں حالت تمہاری بھی خراب ہو گئی کیا اتنی فکر کہ میرے غم میں خود بھی آدھ موے ہوگئے۔۔۔۔”
پٹھان ایک آنکھ دبائے کہا یقیناً وہ اب اسے تپانے کا ارادہ رکھتا تھا
“بکواس۔۔۔۔۔”
داود نے داڑھی کھجاتے صرف یہی کہا وہ جانتا تھا اس کا سالا بہنوئی دوست کزن اب اسے صرف تنگ کرنا چاہتا ہے
“ہائے مجھے نہیں معلوم تھا داود خان کو میری اتنی فکر ہے ورنہ پانچ سات گولیاں اور لگوا لیتا۔۔۔۔”
پٹھان نچلا لب دانتوں میں دبائے شرارت سے داود سے بولا تھا جس نے اس کی بات سنتے آنکھیں گھمائیں تھی
“زیادہ خوش فہمیاں پالنے کا ضرورت نہیں ہم یہاں تمہاری بہن کو تم سے ملوانے لایا ہے صرف اس کے لیے آیا ہے۔۔۔۔”
داود نے اس سے نظریں چراتے ہوئے ان کا زاویہ سامنے وال کلاک پر ٹکایا تھا
“اچھا تو میری بہن کے کندے پر بندوق رکھ کر چلا رہے ہو بہن تو بس بہانا ہے۔۔۔۔”
وہ اسے زچ کرتے بولا تھا اور وہ ہو بھی گیا تھا
“اگر ایسا بکواس جاری رکھے گا تو ایک پل میں تین گولیاں تم پر برساتا یہاں سے چلا جائے گا۔۔۔۔”
وہ زچ ہوتے الجھا سا بولا تو کمرے میں پٹھان کا زندگی سے بھرپور قہقہ گونجا تھا
“اتنی محبت داود دلاور خان کو موسیٰ زار پٹھان سے۔۔۔۔۔۔”
پٹھان مسلسل ہنستے ہوئے بولا
“یار بکواس نہ کیا کرو۔۔۔۔۔”
داود نے چند لمحے اسے یوں ہنستے دیکھا اور پھر اپنی ہنسی کو بامشکل روکے بولتا چہرہ دوسری جانب کیا تھا
“داود۔۔۔۔۔”
کچھ دیر کی خاموشی کے بعد پٹھان نے دوبارہ اسے پکارا تھا
“ہونہہ۔۔”
وہ اس کی جانب دیکھنے کی بجائے اپنے جوتوں کو دیکھ رہا تھا
“تم مجھ سے محبت کرتے ہو یا نہیں معلوم نہیں لیکن میں تم سے بہت محبت کرتا ہوں۔۔۔۔۔”
پٹھان کی بات سنتے داود نے ایک جھٹکے سے اس کی جانب دیکھا تھا
“میں جتنا مرضی پتھر دل سخت دل سخت ترین موسیٰ زار پٹھان بن جاوں لیکن میرے سینے میں بھی دل ہے دھڑکتا ہوا دل اور۔۔۔۔۔”
“ہم چلتا ہے راشہ سے ملتا ہے۔۔۔….”
داود موسیٰ کی بات مکمل ہونے سے پہلے اٹھتا ہوا بیچ میں کاٹ کر نظریں چراتے بولا کیونکہ وہ جانتا تھا پٹھان اس کا ضبط آزما رہا ہے اور داود کے دل میں کیا ہے یہ بھی پٹھان جانتا تھا اور اگر چند منٹ اور اس کے پاس رکتا تو یقیناً وہ بھی اپنے پتھر دل میں موجود پٹھان کے لیے جزبات ظاہر کر دیتا
“اچھا چلے جاو میری بہن کا خیال رکھنا۔۔۔۔۔”
پٹھان نے مسکراتے ہوئے کہا تھا تو وہ بنا جواب دیے کمرے سے نکلا اور اپنی قمیض کا اوپری بٹن کھولے تیز تیز سانسی لینے لگا داود کو لگا اس کے لیے آکسیجن کم پڑ گئی ہو اس کے لیے سانس لینا محال ہو رہا تھا وہ اسی لیے پٹھان سے نہیں ملتا تھا کیونکہ وہ داود خان کی رگ رگ سے بخوبی واقف تھا جو چیز وہ خود سے بھی چھپاتا پٹھان بخوبی جانتا تھا ابھی بھی پٹھان اپنے دل نہیں بلکہ داود کے دل کے بارے میں بتا رہا تھا
وہ اسی لیے زویا کو منع کر رہا تھا کیونکہ پٹھان اسے ہمیشہ بےبس کر دیتا تھا
لیکن داود کو بدلہ لینا تھا پٹھان سے اسے نرم نہیں پڑنا تھا وہ پٹھان کا جانی دشمن تھا پٹھان کا ہمدرد نہیں وہ یہاں صرف اس کی بہن کو لایا تھا ورنہ اسے کوئی فرق نہیں تھا پٹھان مرتا یا جیتا
داود یہ سب سوچتے زینے اترتے خود کو اپنے مقصد سے بھٹکنے نہیں دے رہا تھا اور پھر سر جھٹک کر ہر نرم جزبات کو دل سے نکالے نیچے آیا تھا
………………………………
“تمہارا بھائی اب مجھے کبھی معاف نہیں کرے گا زویا۔۔۔۔۔”
زوراشہ زویا کے کندھے پر سر رکھے سوں سوں کرتے بولی
“فکر مت کرو موسیٰ تم سے بہت پیار کرتے ہیں۔۔۔۔”
وہ اس کے آنسوؤں صاف کرتے بولی
“نہیں کرے گا وہ مجھے بےوفا کہتا ہے اور کہتا ہے اس کی بےپناہ چاہت نے مجھے مغرور بنا دیا اور یو نو زویا آج وہ جس حالت میں ہے میری وجہ سے ہے۔۔۔۔۔”
پہلے پٹھان کے الفاظ دوہراتی آخر میں اس کے کندھے سے سر اٹھائے بولی تھی
“سب ٹھیک ہو جائے گا۔۔۔۔۔”
زویا اسے گلے سے لگائے بولی تھی جب کہ پلر کی اوٹ میں موجود داود خان ان کی باتیں سنتا محض ہونٹ بھینچ کر رہ گیا تھا اور وہی سے واپس پلٹ گیا تھا
………………………………
