Hasil E Zeest By Mehwish Ghafoor Readelle50217 Last Episode Part 2
No Download Link
Rate this Novel
Last Episode Part 2
سوچ کبھی ایسا بھی ہو میں
ہنستے ہنستے رو جاؤں اور تو بات بہ بات ہنستی جائے ۔۔۔
سوچ کبھی ایسا بھی ہو میں کچھ
کہتے کہتے رک جاؤں اور تو بات مکمل کرنے ضد کرے ۔۔
سوچ کبھی ایسا بھی ہو میں یقین کرواؤں
اپنی محبت پر تجھے اور تو یقین کرنے سے انکاری ہو ۔
سوچ کبھی ایسا بھی ہو میں عہد کروں پوری زیست کا
اور تو شور مچائے بے وفائی کا ۔۔۔
سوچ کبھی ایسا بھی ہو میں تیری نادانی پر ہنستے ہنستے مر جاؤں
سامنے تیرے میرا جنازہ ہو اور پھر تو بے یقینی میں ہنستی جائے ۔
سوچ کبھی ایسا بھی ہو تو میری حاصل زیست اور میں تجھے پاکر ادھورا رہ جاؤں ۔۔۔۔۔
ارتضی آپ سن رہے ہیں نا مجھے ۔ارتضی کی طرف سے کوئی جواب نا پاکر اسے اپنی سانس رکتی ہوئی تھی ۔
کیا ماہین بیٹا ،شاہدہ بیگم کے ساتھ دلاور شاہ بھی ماہین کی دلخراش چیخ سے خوفزدہ ہوتے ہوئے اس کے کمرے میں آئے تھے جہاں وہ زمین پر بیٹھی ہوئی ہذیانی انداز میں ایک ہی سوال بار بار دہرا رہی تھی ۔
دیکھیں نا ارتضی کوئی جواب ہی نہیں دے رہے ۔بھیگے رخساروں کو بے دردی سے رگڑتی ہوئی وہ شاہدہ بیگم سے بھرائی آواز میں شکایت کررہی تھی ۔
ہوا کیا ہے ماہین بیٹا ارتضی سے آپ کا جواب جھگڑا ہوا ہے ۔ماہین کی بے حال ہوتی حالت دیکھ دلاور شاہ بھی فکرمند ہوئے تھے ۔
نہیں بابا میں بات کررہی تھی ارتضی سے اچانک سے کسی دھماکے کی آواز آئی تھی جیسے کوئی بہت برا ایکسیڈنٹ ہوا ہے ان کا ۔
اس کے بعد سے ارتضی کوئی جواب ہی نہیں دے رہے ہیں ۔ میں کب سے پکار رہی ہوں انہیں وہ کوئی رسپونس ہی نہیں دے رہے ۔ماہین کے بتانے پر دلاور شاہ کے اوسان خطا ہوئے تھے ۔
حیدر کو میں آپ لوگوں کے پاس آنے کا کہہ دوں گا ۔کپکاتے وجود کے ساتھ کہتے ہوئے وہ دروازے کی سمت بڑھے تھے ۔
آپ کہاں جارہے ہیں ۔ماہین کو خود سے لگائے ہوئی شاہدہ بیگم نے استفسار کیا تھا ۔
میں ارتضی کے پاس جارہا ہوں ۔
میں بھی چلوں گی بابا آپ کے ساتھ ارتضی کے پاس ۔ماہین کی بے قابو ہوتی حالت پر شاہدہ بیگم نے انہیں اس پر قابو کرنا مشکل لگا تھا ۔
ماہین ارتضی کو کچھ نہیں ہوگا ۔اگر تمہیں کچھ ہوگیا تو ارتضی کو برا لگے گا نا ۔اپنا خیال رکھنا ہے نا آپ کو اگر نہیں رکھو گی تو اس کا اثر بچے پر پڑے گا نا ۔ماہین کے بکھرے بالوں کو کان کے پیچھے کرتی ہوئی اپنی بار بار ہوتی نم آنکھوں سے مزید پریشان ہوئیں تھیں ۔
ماہین کو تو انہوں نے حوصلہ دے دیا تھا پر اپنی ممتا کو کیسے حوصلہ دیتی جو فقط اپنی اولاد کو صحیح سلامت دیکھنے کی ضد کیے ہوئی تھی ۔
آپ اپنا اور ماہین کا دھیان رکھیئے گا ۔
ارتضی کو کچھ نہیں ہونا چاہیے سائیں ۔بلآخر وہ مزید پر ضبط نا رکھ سکی تھیں ۔
بنا کوئی جواب دیئے وہ ماہین کی حالت دیکھ شاہدہ بیگم کو کرب سے دیکھتے ہوئے وہاں سے فورا گئے تھے ۔
دلاور شاہ کو جاتے دیکھ شاہدہ بیگم کے دل میں الگ ڈر دل میں کنڈلی مارے بیٹھ گیا ارتضی کو سوچ کر ۔
ارتضی،،، ٹھیک ،،،،ہونگے ،،،،،نا ماں ۔ہچکیوں کے بیچ میں بولتی ہوئی وہ شاہدہ بیگم کی غیر ہوتی حالت دیکھ مزید روئی تھی ۔
بھابھی ارتضی بھائی کو کچھ نہیں ہوگا میں کہہ رہی ہوں نا آپ کو ۔رائمہ اپنے کمرے میں سوئی ہوئی تھی ملازمہ کے اٹھانے پر وہ ننگے پاؤں بھاگتی ہوئی ماہین اور ارتضی کے کمرے آئی تھی ۔دونوں ہاتھوں میں ماہین کے چہرے کو پکڑے وہ مضبوط لہجے میں بولی تھی ۔
کچھ نہیں ہوگا میرے شاہ کو ہم اللہ سائیں سے دعا کریں گے تو کچھ بھی نہیں ہوگا ساری بری بلائیں ٹل جائے گی ۔ماہین کے آنسو صاف کرتی ہوئی وہ شاہدہ بیگم کے نم لہجے میں چھپے ڈر کو محسوس کرتی ہوں ضبط سے مثبت میں گردن ہلا گئی تھی ۔
اللہ سب کی سنتے ہیں نا ہماری بھی سنے گے ۔شاہدہ بیگم اور ماہین کو اپنے اوسان کھوتے دیکھ وہ حیدر اور حیا کی راہ دیکھ رہی تھی ۔
سب کی سنتے ہیں اللہ سائیں تو ۔ماہین کو اپنے ساتھ لے کر جاتی ہوئی وہ خود بھی وضو کر رہی تھی ۔
جبکہ شاہدہ بیگم وہی زمین پر بیٹھی ہوئی دعا گو تھیں ۔
اللہ پاک ارتضی بلکل صیحح ہوں یہ سب میرے دل کا اہم نکلے اللہ پاک آپ سن رہے ہو نا میرے ارتضی کو کچھ نا ہو،بس وہ بلکل ٹھیک ہوں۔انہیں صحیح سلامت میرے پاس بھیج دیں اللہ پاک ۔
میں بہت بار ان سے دور گئی ہوں پر اس بار میں ان کی دوری برداشت نہیں کرپاؤ گی اللہ پاک پلیز اللہ پاک ۔سجدے میں گڑ گڑا کر روتی ہوئی وہ اپنی کنڈیشن تک کو بھولائے ہوئے تھی یاد تھا تو فقط ارتضی شاہ جس کی موجودگی ہی اس کی زیست کا حاصل تھی ۔
خدا تعالی تو سب کی سنتے ہیں پر کبھی ایسا ہوجاتا ہے کہ کسی زندگی کی خاطر مانگی گئی ہماری تمام تر دعائیں ایک ہی پل میں رد ہوجاتی ہیں اور ہم بے بس ہوکر اپنی بھیگی پلکوں سے دعا کے لیے اٹھائے گئے اپنے خالی ہاتھوں کو تکتے رہ جاتے ہیں ۔
خدا کے فیصلوں کے آگے کسی کی چلی ہے ہمارے پاس تو فقط ایک ہی آپشن رہ جاتا ہے صبر کا۔جو لینے میں بہت آسان سا الفاظ ہے پر آتا بہت مشکل سے اپنے پیاروں پر ۔
ارتضی بھائی ۔خون میں لت پت ارتضی کے وجود کو ریسکیو ٹیم کی مدد سے کار سے باہر نکالا گیا تھا ۔وہیں ارتضی کے ساتھ ہی غلام رسول کو بھی باہر نکالا گیا تھا نیم بےہوشی کے باعث غلام رسول نے سامنے ٹرک میں موجود ڈرائیور کی سمت اشارہ کیا تھا ۔
جس کا چہرہ بری طرح خراب ہوا تھا کسی کے بھی پہچاننے کے قابل نا رہا تھا ۔
ارتضی کی پہنی ہوئی سفید شرٹ جو اپنی رنگت بدل کر سرخ ہوگئی تھی ۔
پیشانی پر لگے گہرے کٹ کے باعث ارتضی بے ہوش ہوگیا تھا۔
وہیں کار کے سائیڈ ڈور کے ٹوٹے ہوئے کانچ چہرے پر جگہ جگہ لگنے کی وجہ سے ارتضی کا پورا چہرہ خون سے رنگا ہوا تھا ۔
،دائیں ہاتھ پر گہرے کٹ کے باعث خون روانگی سے بہہ رہا تھا ۔ارتضی کی یہ حالت دیکھ دلاور شاہ گھٹنوں کے بل زمین پر گرے تھے ۔
جیسے کسی نے زمین ان کے پیروں کے نیچے سے کھینچ لی ہو ۔حیدر کی حالت بھی ان کے جیسی ہی تھی ارتضی کی حالت دیکھ کر لئی بار پکارنے پر بھی ارتضی کو بے ہوش دیکھ وہ اپنے آنسو پر ضبط کھو گیا تھا ۔
پورے گاؤں میں ارتضی شاہ کے بھیانک ایکسیڈنٹ کی خبر آگ کی طرح پھیل گئی تھی ۔
حویلی کے تمام ملازم و ملازمہ سمیت بچے تک ارتضی اور غلام رسول کے لیے دعا گو تھے ۔
ہسپتال کے آئی سی یو روم میں آج ارتضی شاہ سمت دو اور شخص زندگی جینے کی خاطر جدد کررہے تھے ۔ان تینوں میں کی طرف سے کوئی بھی کوشش نہیں دیکھی گئی تھی جیسے زندگی جینے کی رمق چھوڑ گئے ہو ۔
آئی سی یو روم کے باہر کھڑے دلاور شاہ اور حیدر شاہ خود کو بے بس محسوس کررہے تھے ۔
میری آہ تو نہیں لگ گئی میرے ہی بھائی کی خوشیوں کو ۔حیا کے ساتھ ساکت وجود لیے بیٹھی ماہین جو دنیا جہاں سے غافل ہوچکی تھی ۔
ماہین کی حالت اور اندر آپریشن تھیٹر میں موجود ارتضی کی تشویشناک حالت دیکھ کر حیدر شاہ خود کو ان سب کا قصور وار سمجھ رہا تھا ۔
وہیں دوسری چیئرز پر شاہدہ بیگم کے ساتھ رائمہ اور صائمہ انصاری بھی ان کو تھامے ہوئی تھیں ۔
حوصلہ رکھیں اور خدا پر یقین بنائے رکھیں ۔وہاب انصاری کے ہمدردانہ انداز پر دلاور شاہ اپنی تمام تر نفرت بھولائے ان کے گلے سے لگے تھے ۔
ایک باپ اچھے سے دلاور شاہ کا درد سمجھ سکتے تھے جو وہ اس وقت جھیل رہے تھے ۔
ماہین بھابھی آپ پریشان نا ہوں ارتضی بھائی کو کچھ نہیں ہوگا ۔وہاج جو کافی دیر سے خاموش کھڑا سب کی بگڑی حالت دیکھ رہا تھا حوصلہ باندھتا ہوا وہ سب سے پہلے ماہین کے پاس کے آیا تھا ۔
جو آئی سی یو روم کے دروازے پر نظریں گاڑے سب سے بے خبر بیٹھی ہوئی تھی ۔
ماہین کی طرف کوئی جواب نا پاکر وہ وہاں سے گیا تھا کہ اپنے بجتے فون پر نوری کالنگ دیکھ پہلی ہی کال پر فون ریسوو کرگیا تھا ۔
سائین کیسے ہیں ۔بھرائی آواز میں بولتی ہوئی وہ وہاج کو سختی سے دونوں لب دبانے پر مجبور کر گئی تھی ۔
کچھ کہا نہیں جاسکتا ۔ضبط سے کہتا ہوا وہ ماہین کی حالت دیکھ کر کرب سے آنکھیں میچ گیا تھا ۔
یہ سب ریحان ملک نے کروایا ہے سائین کے ساتھ ۔نوری کے بتانے پر وہاج کی آنکھیں شاکڈ سے پھٹی تھیں ۔
تم سچ کہہ رہی ہو ۔ایک ایک کرکے سب کو دیکھتا ہوا وہاج رائمہ کے پیچھے آکر کھڑے ہوتے شاہ زین کو دیکھ کر کرب سے نگاہیں پھیر گیا تھا ۔
پولیس اس کی تلاش کررہی ہے مگر اس کا ابھی تک کچھ پتا نہیں چل سکا ہے ۔نوری کی انفارمیشن ملتے ہی پولیس نے ریحان ملک کی تلاش جاری کردی تھی جو نجانے کہاں چھپ کر بیٹھا تھا ۔
میں فون رکھتا ہوں جیسے ہی ارتضی بھائی کے کوئی خبر ملتی ہے تو تمہیں بتاتا ہوں ۔شرمندگی سے گہرا ہوا وہاج سب سے الگ تھلگ کھڑا ہوا تھا ۔
ہمت مت ہاریں رائمہ جی ارتضی سر کو کچھ نہیں ہوگا ۔شاہ زین کے چند ہمدردی سموئے الفاظ رائمہ کو زیادہ نا سہی مگر کچھ تو حوصلہ دے گئے تھے ۔
آپریشن تھیٹر کے دروازے کے کھلنے کی آواز پر سب کی نظریں باہر آنے ڈاکٹر پر ٹھہری تھی ۔
دو پیشنٹ خطرے سے باہر ہیں جب کہ تیسرے کو ہم اپنی پوری کوشش کے باوجود بھی نہیں بچا پائے ایم سوری ۔سنیئر ڈاکٹر کہہ کر وہاں سے گئے تھے ۔
انہیں خاموشی سے سر جھکا کر جاتے دیکھ دلاور شاہ نے آنسو سے بھری آنکھوں سے حیدر کی جانب دیکھا تھا جس کی آنکھوں سے آنسو ٹوٹ کر رخسار بہے تھے ۔
ارتضی تو ٹھیک ہیں نا ۔ماہین کا قفل ٹوٹا تھا ۔
مگر اس کے سوال کا جواب یہاں موجود کسی کے بھی پاس نہیں تھا ۔
بتائیں نا ارتضی ٹھیک ہے نا انہیں کچھ نہیں ہوا نا ۔
حیا تم بتاؤ ارتضی ٹھیک ہے نا ۔دانتوں تلے لب دبائے حیا خود پر ضبط کیے حیدر کی سمت دیکھ رہی تھی جس کے پاس کوئی جواب نہیں تھا۔
کچھ دیر بعد آپریشن تھیٹر سے باہر آتے ہوئے ڈاکٹر عامر نم آنکھیں لیے سب کی آس بھری نظروں سے گھبرائے تھے ۔
اسٹیبل پیشنٹس کو اسپیشل وارڈ میں شفٹ کردیا گیا ہے ۔
جاکر مل سکتے ہیں آپ لوگ ان سے ۔بنا نظریں ملائے ڈاکٹر عامر وہاں سے جانے لگے تھے جب ماہین کے سوال نے ان کے قدم جکڑے تھے ۔
ارتضی ٹھیک ہے نا ڈاکٹر عامر ۔آس بھرے لہجے میں پوچھتی ہوئی وہ ڈاکٹر عامر کی خاموشی سے گھبرائی تھی ۔
ایم ۔
ماہین ۔۔ بے ہوش ہوکر گرتی ہوئی ماہین جواب دیتے ہوئے ڈاکٹر عامر کو بیچ میں روک گئی تھی ۔
پانچ سال بعد ۔
۔
۔
۔
۔
دیکھ کر چلو تباہی اب میری ساری ڈرائنگ خراب کردیتی تم ۔جمعے کے دن کی نسبت ماہین کی لاکھ منتوں کے بعد مقتدی ارتضی شاہ نے آج سفید شلوار سوٹ پہنا ہوا تھا۔اس سے الجھن کا شکار ہوتا ہوا وہ فرش پر کلرز اور پیپرز بکھرے ہوئے ان پر جھکا ہوا تھا ۔اپنی دھن میں چلتی ہوئی صدا کی چھوٹی تباہی بنا دیکھے مقتدی کے پیپرز پر پیر رکھنے ہی والی تھی کہ مقتدی نے اپنے پیپرز پیچھے کھینچ لیے تھے جس سے اس کی ڈرائنگ خراب ہونے سے بچی تھی ۔
بائی متتد بتائی بولتا ،مقتدی کے ساتھ ہی نیچے فرش پر بیٹھا ہوا حدید حیدر شاہ مقتدی ایک جیسے ہی کپڑے پہنے ہوئے تھا ۔
کیا ٹھیک ہی تو کہا ہے مقتدی نے ۔ ہدیہ کی پکار پر اس نے آج بھی مقتدی ہی سائیڈ لی تھی جو جائز بھی تھی ۔۔
حدید کے بولنے کی دیر تھی ہدیہ نے مقتدی کے اچھے سے سیٹ کیے بالوں پر دھاوا بول دیا تھا ۔
تباہی میرے بال چھوڑو ۔ہدیہ کی گرفت مضبوط ہوتے دیکھ مقتدی نے بھی اس کے بالوں کی بندھی چھوٹی سی پونی کو پکڑا تھا ۔
دونوں کو گتھم گتھا ہوتے دیکھ جلدی سے گیا کو بولا کر لایا تھا جو کچھ دیر پہلے ہی ان دونوں کے پاس سے اٹھ کر گئی تھی۔
یااللہ خیر ۔دنوں کو الگ کرتی ہوئی حیا ہدیہ کے ہاتھوں میں مقتدی کے بھورے بالوں کو دیکھ کر اسے غصے گھور گئی تھی جبکہ مقتدی اپنے بالوں کو اس کے ہاتھوں میں دیکھ کر خونخوار نظروں سے گھور رہا تھا ۔
تمہیں میں بتاتی ہوں ہدیہ کی بچی ۔مقتدی کو خود سے لگاتی ہوئی حیا غصے سے بولی تھی ۔حیا کے بولنے کی دیر تھی کہ ہدیہ نے سیدھا اسٹاپ ماہین کے پاس لگایا تھا۔
رونا نہیں ہے مقتدی میں ابھی اپنے بیٹوں کے لیے پاستا بنا کر لاتی ہوں اوکے میرے بہادر بیٹے ۔مقتدی کی آنکھوں میں نمی دیکھ کر وہ دونوں کو پیار کرتی ہوئی کچن کی سمت بڑھی تھی ۔
مقتدی یہ کیا حرکت کی ہے آپ نے ۔ہدیہ کی شکایت پر مقتدی کے کان پکڑ کر پوچھتی ہوئی ماہین ہدیہ کے سرخ چہرے کو دیکھتی ہوئی غصے سے بول رہی تھی ۔
میں نے کیا کیا ہے مما ۔معصومیت سے کندھے آچکا کر پوچھتا ہوا وہ ماہین کو اس میں ارتضی دِیکھا تھا ۔اور ہمیشہ کی طرح آج بھی اس کا غصے جھاگ کی مانند بیٹھ گیا تھا ۔
ایک آنکھ دبائے مقتدی ماہین کے ہاتھ سے اپنا کان چھوٹتے دیکھ شرارت سے مسکرایا تھا ۔
آنی ۔جھوت بولا ہیے متتد ۔مقتدی کو ایک آنکھ دباتے دیکھ تین سالہ ہدیہ ماہین کو کندھے سے ہلاتی ہوئی ٹوٹے پھوٹے الفاظ استعمال کرتی ہوئی بولی تھی ۔
کیا ہورہا ہے یہاں ۔حیا کی آواز پر جہاں مقتدی کی مسکراہٹ گہری ہوئی تھی وہیں ہدیہ ماہین کی ٹانگوں سے لپٹی تھی ۔
کچھ نہیں تم نے اور تمہارے بے جا لاڈ پیار نے مقتدی کو بگاڑ دیا ہے حیا دیکھو ہدیہ کی کیا حالت کی ہے اس جنونی نے ۔ہدیہ کی پونی جو تھوڑی دیر پہلے ہی ماہین نے بنائی تھی جو اب مقتدی نے کھینچ کر اس کی پونی کو اجڑا چمن بنا دیا تھا۔
اووو میری تباہی کا یہ حال مقتدی نے کیا ہے ۔حیا کو سائیڈ بدلتے دیکھ مقتدی کو بنا کسی غلطی کے ماہین کے ہاتھوں اپنی شامت آتی دیکھائی دی تھی ۔
یا یہ کارنامہ آپ نے خود انجام دیا ہے مقتدی کو ڈانٹ پڑوانے کے لیے ۔یہ نہیں بتایا بڑی مما کو پہلے آپ نے مقتدی کے بال نوچے تھے ۔ماہین کی نظریں فورا سے مقتدی پر گئی تھیں جو چہرے پر حددرجہ معصومیت سجائے حدید کے ساتھ خاموش کھڑا تھا ۔
ماں ہوں تمہاری ہدیہ تمہیں تباہی بنے صرف تم تین سال ہوئے ہیں میں سالوں سے تباہی ہوں ۔ماہین سے واپس لپٹتی ہوئی ہدیہ رو دی تھی اپنی چوری پکڑے جانے پر ۔
اچھا نا کچھ نہیں ہوتا اتنا مت ڈانٹوں بچی ہے ۔ہدیہ کو روتے دیکھ ماہین نے حیا کو خاموش کروایا تھا ۔
کیوں میرا مقتدی بچہ نہیں ہے ۔حیا اور مقتدی کی بے جا محبت پر ماہین فقط مسکرائی تھی ۔
نہیں ہے ۔شرارت سے گویا ہوتی ہوئی وہ مقتدی کے حیرت سے کھلے منہ کو دیکھ کر مسکرا رہی تھی ۔
خالہ جانی سن رہی ہیں نآ آپ کہ آپ کا مقتدی بچہ نہیں ہے بوڑھا ہوگیا ہے ۔وہ بھی حیا تھی کہاں باز آنے والی تھی ۔
مقتدی کو حدید کا ہاتھ پکڑ کر وہاں سے جاتے دیکھ ماہین گھٹنوں کے بل بیٹھتی ہوئی ہدیہ کے آنسو صاف کرتی ہوئی مسکرائی تھی ۔
مقتدی بڑے بھائی ہیں آپ کے اور اچھے بچے اپنے سے بڑوں کے ساتھ بدتمیزی نہیں کرتے نا،پیار سے سمجھاتی ہوئی ماہین حیا کو دیکھ گئی تھی جو ہدیہ کو گھور رہی تھی ۔
تھوری باری مما ۔(سوری پیاری مما)۔وہ کہہ کر وہاں سے بھاگ گئی تھی ۔
ہدیہ تو جا چکی ہے تم مجھے کس خوشی میں گھور رہی ہو۔حیا کو خود کو گھورتے پاکر ماہین نے استفسار کیا تھا ۔
میری بیٹی کو یہ بھائی بھائی ناسکھائیں ۔حیا چبا کر بولی تھی ۔
حیا کی بات کو سمجھتی ہوئی وہ قہقہ لگا گئی تھی ۔
ہدیہ کو گود میں لیتے ہی حیا نے مقتدی کو اپنا داماد بنانے کی خواہش ماہین کے سامنے ظاہر کی تھی ۔
جب سے ہی اس نے ہدیہ کو سختی سے تنبیہ کیا تھا مقتدی کو بھائی پکارنے سے۔
جھلی بڑے ہوکر خود فیصلہ کرلیں گے ابھی انہیں بچپن انجوائے کرنے دو ۔حیا کے سر پر ہلکی سی چت لگاتی ہوئی سنجیدگی سے بولی تھی ۔
شاہ زین اور رائمہ کب تک آرہے ہیں ۔ماہین کے اچانک سوال پر گیا نے کندھے اچکائے تھے ۔
شاید حیدر کے ہی ساتھ آئیں ۔اندازہ لگاتی ہوئی وہ کھیرے کے کٹے ہوئے سلائس منہ میں رکھتی ہوئی بولی تھی ۔
جبکہ ماہین مہذ سر ہلا کر رہ گئی تھی ۔
کب آئیں گی مادام آپ باہر ۔کار میں بیٹھا ہوا کافی دیر سے انتظار کرتا ہوا زچ آیا تھا ۔
سوری مصروفیاتکی وجہ سے دیر ہوگئی ۔ود آوٹ میک اپ کے بالوں کو کیچر میں مقید ہوئے نوری بالون میں انگلیاں چلاتی ہوئی بولی تھی ۔
میں نے تم سے جو سوال کیا تھا ،ڈرائیوو کرتا ہوا وہ سنجیدگی سے بولا رہا تھا ۔
کون سا سوال ۔آج کل اس کی مصروفیات کچھ زیادہ ہی بڑھ گئی تھی جس کے باعث وہ اس کے سوال کو بھول گئی تھی ۔
گاڑی کو سائیڈ پر لگاتا ہوا وہ لمبا سانس باہر خارج کرتا ہوا نوری کو پریشان کررہا تھا ۔
کیا تم میرے بچوں کی ماں بننا پسند کرو گی پریہا نور ۔وہاج کے پرپوز کرنے کے انداز پر وہ اپنے منہ پر ہاتھ رکھے کھلکھلائی تھی ۔
یہ سوال پہلی بار پوچھ رہے ہو مجھ سے ۔اور اس کا جواب یہ ہے کہ ۔وہاج اس کے سسپینس دینے پر ضبط سے آنکھیں میچ گیا تھا۔
مجھے اپنے بچوں کے بابا کے روپ میں تم قبول ہو وہاج انصاری۔نم آنکھوں سے وہاج کے مسکراتے چہرے کو دیکھ کر اس کے ساتھ گزرے پانچ سال جس میں اسے فقط عزت ملی تھی ۔
وہ کیوں اپنے مقروض کو انکار کرتی جس کی وجہ سے آج وہ عزت سے پکاری جاتی تھی ۔
دونوں کی زندگی آسان نہیں تھی مگر ایک دوسرے کا ساتھ نبھاتے ہوئے جہاں وہ پانچ سال کا طویل عرصہ گزار چکے تھے وہیں پوری زندگی بھی ایک دوسرے کو خوش رکھنے میں گزارنے والے تھے ۔
زیست کے اس مسکل سفر میں وہ ایک دوسرے کو حاصل کرکے مسرور تھے ۔
فرصت مل گئی میرے بچوں کے ساتھ بچی بنی رہنے والی ایک بیوی کو کہ ان بچوں کا ایک عدد باپ بھی جو اپنی بیوی کی آواز سننے کے لیے بے چین بیٹھا ہے ۔حیدر کے پیار بھرے شکوے پر وہ فقط مسکرائی تھی کیونکہ اس پر اپنی ناراضگی بھی تو جتانی تھی حیا کو ۔
میری چھوٹی تباہی اور میرا معصوم سا بیٹا سو گیا ہے ۔اپنے ساتھ لیتی ہوئی ہدیہ کو دیکھ کر مسکرائی تھی وہ تھی اس ہی جیسی سوتے ہوئے بھی اس کے چہرے پر شرارت عیاں تھی ۔
بڑی مشکل سے سلایا ہے تمہاری تباہی کو اور رہی بات میرے معصوم ککڑی جیسے بیٹے کی تو وہ اپنے بھائی سے ملنے گیا تھا۔اب میرا حال پوچھوں ۔یہ سہی ہے بھئی شادی کے بعد تھوڑا بہت بیوی کا حال پوچھ لیتے ہیں ان کے شوہر اور بچوں کے بعد کون بیوی کیسی بیوی کہاں کی بیوی ۔حیا کے انداز پر قہقہ لگاتا ہوا وہ حیا کو زہر لگا تھا۔
مجھ سے محبت نہیں کرتے نا آپ حیدر جب ہی تو میری فکر نہیں کرتے آپ ۔حیا کے شکوے پر حیدر کے چہرے پر سنجیدگی طاری ہوئی تھی ۔
تمہیں اپنے دل میں بسا کر دل کی بیماری سے جیتا ہوں اور پھر شکوہ ہے کہ میں محبت نہیں کرتا ۔سنجیدگی سے بولتا ہوا حیدر حیا کو سرشار کرگیا تھا ۔
کب آئیں گے آپ حیدر مجھے بہت یاد آرہی ہے تمہاری۔کچھ توقف کی خاموشی کے بعد حیا نے افسردگی سے پوچھا تھا۔
ایک دو دن میں تمہارے پاس ہوں گا کیونکہ میرا بھی اپنی تباہی کے بغیر دل نہیں لگ رہا ۔ایک دوسرے سے بات کرتے ہوئے دونوں ہی ایک دوسرے کی یاد میں اداس تھے ۔
حدید آنکھیں بند کرو ورنہ مار کھاو گے مجھ سے ۔حیا کے انداز پر مسکراتا ہوا حیا کو ایک اچھی بیوی اور اب ایک اچھی ماں کے روپ میں دیکھ کر حیدر اپنے انتخاب پر سرشار محسوس کررہا تھا ۔
مقتدی مما سوری کررہی ہیں نآ بیٹا ۔مقتدی کو خود سے لگائے ہوئے ماہین لاڈ سے بولی تھی ۔
نو مما آپ ہر بار تباہی کی ہی بات مانتی ہیں میری نہیں ۔خفگی سے بولتا ہوا وہ ماہین کے پیار کرنے پر آنکھیں بند کیے مسکرا رہا تھا جسے ماہین دیکھنے سے قاصر تھی ۔
جب ہی اسے منانے کی کوشش کررہی تھی ۔
وہ چھوٹی ہیں نا آپ سے اس لیے بیٹا ورنہ مما آپ سے بہت پیار کرتی ہیں ۔مقتدی کے گال پر لب رکھتی ہوئی وہ مسکرائی تھی مسکرانے کی وجہ سے مقتدی کے گال پر ابھرتے گڑے کو دیکھ کر ۔
مطلب میرا بیٹا مجھےتنگ کررہا ہے ۔ماہین کی بات پر فورا سے مقتدی اپنے لب دبا گیا تھا۔
ہاں مما کیونکہ آپ اس تباہی کی سائیڈ لے رہی تھیں نا اس لیے۔ماہین کے چہرے پر اپنے چھوٹے چھوٹے ہاتھ رکھتا ہوا معصومیت سے بول رہا تھا۔
مما ہمیشہ کی آپ کی سائیڈ پے مقتدی بس آپ ہدیہ کو تباہی مت کہا کریں اسے اچھا نہیں لگتا ۔اس کے ہی انداز میں بولتی ہوئی وہ مقتدی کو مسکراتے چہرے کو دیکھ کر مسکرائی تھی ۔
چاچو صحیح کہتے ہیں وہ ہے ہی تباہی ۔مقتدی کی بات پر ہستی ہوئی اسے اپنے سینے سے لگا گئی تھی ۔
بڑی ماں بیٹے کی محبت دیکھنے کو مل رہی ہے آج تو ۔ریڈ کلر کے فیری فراک میں نو ماہ کی آمائرہ کو گود میں لیے ارتضی ماہین اور مقتدی کو دیکھ کر کمرے میں داخل ہوا تھا ۔
ہم دونوں کی محبت تو چلو گھر تک محدود ہے آپ کی طرح تو نہیں ہے جب بیٹی کی یاد آئی غلام رسول کو کہا اور اسے اپنے پاس بلوالیا ۔چبا کر کہتی ہوئی اپنی جگہ سے اٹھی تھی ۔
میں حدید کو گڈ نائیٹ بول کر آرہا ہوں کیونکہ میں آج آپ دونوں کے ساتھ سوؤں گا۔ ارتضی سے مل کر خوشی سے کہتا ہوا مقتدی باہر گیا تھا ۔
بڑی برہم نظر آرہی ہیں بیوی ہماری آج ہم سے ۔آمائرہ کے گرد تکیے رکھ کراسے بیڈ پر بیٹھا کر ارتضی ماہین کے پاس آ کھڑا ہوا تھا ۔
آپ اچھے سے جانتے ہیں ارتضی آپ کا دیر سے گھر آنا میری روح کو جھنجوڑ دیتا ہے پھر بھی آپ اتنی دیر سے آئے ہیں ۔خفگی سے کہتی ہوئی وہ اب تک اس حادثے کو بھول نہیں سکی تھی ۔
جب جب آپ دیر سے گھر آتے ہیں میرا دل عجیب وسوسوں میں گھر جاتا ہے ۔
وہ حادثہ آنکھوں کے سامنے کسی فلم کی مانند چلنے لگتا ہے اگر اس ریحان کی جگہ آپ ہوتے تو یہ سوچ کر ہی میری جان نکلتی ہے ۔
اگر اس دن آپ کو کچھ ہوجاتا نا ارتضی موت آتی یا نا آتی مگر میں جیتے جی مرجاتی ۔ارتضی کے سینے پر سر رکھے ہوئے وہ نم لہجے میں بول رہی تھی ۔
جو ہوا نہیں ہے اسے سوچ کر خود کو ہلکان کیوں کریں ۔محبت پاش لہجہ اپنائے وہ ماہین کے بالوں پر لب رکھ گیا تھا ۔
ریحان نے جو کیا اس نے اپنی بھیانک موت کے ذریعے پایا تھا ۔
ٹرک میں موجود ڈرائیور کی جگہ بیٹھا ہوا ریحان اپنی موت آپ بلوا گیا تھا ۔
خدا کی دی ڈھیل کا غلط فائدہ اٹھاتے ہوئے ریحان کی ارتضی کی موت کی سازش میں خود کی موت کا سامان کرگیا تھا۔
ڈاکٹرز کی لاکھ کوشش کے بعد بھی وہ زندگی کی بازی ہار گیا تھا ۔
مجھے کچھ ہو ہی نہیں سکتا تھا ماہین کیونکہ آپ کی اور باقی سب کی دعائیں تھیں نا میرے ساتھ ۔ماہین کے بالوں میں انگلیاں چلاتے ہوئے ارتضی خود بھی حیران ہوا خدا کے کرشمے کے سامنے جو وہ اتنے بھیانک ایکسیڈنٹ کے باوجود بھی وہ آج اپنے گھر والوں کے درمیان تھا ۔
میری دعائیں اب بھی آپ کے ساتھ ہیں اور ساری عمر آپ کے ساتھ رہے گی۔آنکھیں بند کیے وہ بولتی ہوئی وہ مسکرائی تھی ۔
یہ لیں آپ کے ساتھ مجھے دیکھا نہیں ہے کہ رونا شروع کردیا آپ کی بیٹی نے ۔آمائرہ کو روتے دیکھ خفگی سے بولتی ہوئی ارتضی کو قہقہ لگانے پر اکسا گئی تھی ۔
مجھے جلن ہونے لگ گئی ہے اب اپنی ہی بیٹی سے ۔بیڈ پر رکھے ٹیڈی بیر کے ساتھ کھیلتی ہوئی آمائرہ جو رونا شروع کرچکی تھی اسے دیکھ کر خفگی سے بولی تھی ۔
ایسی بات ہے مجھے تو اب پتا چلا ہے ۔ماہین کو خود سے لگائے وہ آمائرہ کی سمت بڑھا تھا۔
آپ نے اس کی عادت بگاڑ دی ہے ارتضی آپ اسے کہیں نا دکھے تو نواب زادی رونے لگ جاتی ہیں اور پھر مجھ سے چپ بھی نہیں ہوتی ۔ارتضی کی گود میں آتے ہی آمائرہ کو
چپ ہوتے دیکھ ماہین افسردگی سے بولی تھی ۔
ہاں تو آپ ویڈیو کال پر میری بات کروا تو دیتی ہیں ۔پھر شکوے کس لیے کررہی ہیں آپ ۔آمائرہ کے گالوں پر پیار کرتا ہوا وہ شرارت سے گویا ہوا تھا ۔
مجھے سے زیادہ ہیر کے ساتھ اٹیچڈڈ ہے ،ایک اور شکوہ جو کہیں نا کہیں درست بھی تھا ،جب تک ارتضی وارڈز کے راؤنڈ پر جاتا تھا جب تک آمائرہ ڈاکٹر ہیر کے ساتھ رہتی تھی ۔
ماما ۔ماہین کے درد بھرے شکوے پر آمائرہ کے فقط ماما پکارنے پر ٹھنڈی اوس پڑی تھی ۔
لو بھئی میری بیٹی نے آپ کے تمام شکوے ایک بار میں ختم کردیئے ۔ماہین کے مسکراتے چہرے کو دیکھتا ہوا وہ خود بھی مسکرا رہا تھا ۔
ہماری بیٹی نے ۔۔اور میں کہاں گیا مما ۔ماہین کی بات بیچ میں کاٹتا ہوا مقتدی دونوں کے ساتھ لپتٹا تھا ۔
مکمل ہوا میری زیست کا کٹھن سفر
تیرا ساتھ ہی میرے لیے حاصل زیست ٹھہرا ۔۔۔
ختم شد ۔
