Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 20 Part 2

مہندی کی تمام تر رسموں کے بعد شاہ حویلی کے مکین اپنی منزل جانب رواں دواں ہوئے تھے سوائے حیدر اور ارتضی شاہ کے ۔
وہیں پسینے میں شرابور ارتضی شاہ اپنی مہندی میں خوب ہلاغلا مچانے کے بعد حیدر شاہ کے ہمراہ اپنی گاڑی کی طرف بڑھا تھا ۔ایک آخر نظر ماہین پر ڈالتا ہوا وہ مسکرا رہا تھا۔
اتنا آسان نہیں تھا ارتضی شاہ کے لیے یہ سفر آگے بہت سے مشکلات بانہیں کھولے ارتضی شاہ کی منتظر تھیں ۔
یہ سب جاننے کے باوجود بھی ارتضی شاہ ماہین کو حاصل کرلینے کی خوشی کو محسوس کررہا تھا ۔
بالوں کو پیچھے کرتا ہوا وہ گاڑی میں جا بیٹھا تھا ۔
مسکرا لو ارتضی شاہ یہ مسکراہٹ کچھ گھنٹوں کی مہمان ہے تمہارے پاس ۔سرد مہری سے اپنے حنائی ہاتھوں کو دیکھ کر ماہین اپنے منصوبے کو سوچ کر تلخی سے مسکرائی تھی ۔
رات کی چار بجے سب تھکان کی وجہ سے بے خبر خواب خرگوش کے مزے لوٹ رہے تھے ۔
وہیں ماہین شاہ سیاہ چادر میں خود کو چھپائے ریاض صاحب کو کمرے کے درواز کے پاس نم آنکھیں لیے کھڑی تھی ۔
میں بہت بری ہوں بابا اس لیے آپ کے فیصلے کا ماں نہیں رکھ پائی ،ارتضی اتنے برے نہیں ہیں مگر وہ جب مسکراتے ہیں نا تو مجھے یوں لگتا ہے جیسے میں ہار گئی ہوں خود کے ہی دعوے الٹے پڑتے محسوس ہوتے ہیں ۔
اور میں نہیں چاہتی کہ وہ فاتح ہوں اور شکست یاب اس لیے جارہی ہوں بابا آپ کی عزت کی پاسبان نہیں بن پاؤں گی ۔خدا حافظ
آنسوؤں سے تر چہرے کو لیے وہ آخری نظر پورے گھر میں دوڑاتی ہوئی داخلی دروازے کی طرف بڑھی تھی ۔
بھائی کیا آپ مجھے شہر تک چھوڑ دیں گے ۔گارڈ کو سوئے دیکھ وہ سامنے سے گزرتی ہوئی کار کو اشارے سے رکواتی ہوئی ڈرائیونگ سیٹ پر بیٹھے شخص کو دیکھ کر ہلکی سی آواز میں بولی تھی ۔
سرکار سائین ،بی بی سرکار سیاہ چادر میں رات کے اس پہر بخاری ولا سے نکلی ہیں ۔
اور خدا بخش کو انہوں نے شہر چھوڑنے کی گزارش کی ہے۔بخاری ولا میں تعینات کیے ارتضی شاہ کے چند گارڈز جو عام حلیے میں ہر وقت بخاری ولا پر نظر رکھے ہوئے تھے ۔
فارم ہاؤس پہنچوں انہیں لے کر ۔حکم صادر کرتا ہوا وہ خود بھی حویلی سے نکلا تھا ۔
پلیز ۔آجائیں، ،نظریں نیچی کیے ڈرائیور نے بیٹھنے کو کہا تھا ۔
ماہین۔۔۔کرب سےآنکھیں میچ کر کھولتا ہوا وہ ریش ڈرائیونگ کرنے لگا تھا ۔
کچھ دیر بعد ارتضی شاہ فارم ہاؤس کے پورچ ایریا میں پریشانی سے چکر کاٹتا ہوا ماہین کے اس پہر گھر سے بھاگنے کا سوچ کو خود کے غصے پر ضبط کیے ہوئے تھا ۔
یہ کہاں لے کر جارہے ہیں آپ مجھے گاڑی روکیں ۔گاڑی کو کسی بڑے سے گھر میں داخل ہوتے دیکھ وہ اپنی بے وقوفی پر پچھتائی تھی ۔
میں کہا گاڑی روکیں، اب کی بار بھرائی آواز میں چلائی تھی ۔
بی بی سرکار تھوڑی دیر کی بات ہے ۔سائیں سرکار آپ کو سب بتا دیں گے ۔پورچ میں گاڑی کو بریک لگاتا ہوا ڈرائیور سامنے کھڑے ارتضی کو دیکھ کر فورا سے گاڑی سے اترا تھا ۔
بی بی سرکار سن کر ماہین کے اوسان خطا ہوگئے تھے ۔
عجیب سی سرسراہٹ پورے جسم میں دوڑی تھی ۔
جس شخص سے بھاگنا چاہتی تھی آج پھر گھوم پھر کر وہ اس ہی شخص کے پاس پہنچ گئی تھی ۔
جاؤ ۔سر جھکائے کھڑے ملازموں کو جانے کا کہتا ہوا کار کا بیک ڈور کھول کر ماہین کو باہر آنے کا کہہ گیا تھا ۔
آپ باہر نکل رہی ہیں یا میں خود نکالوں ۔ڈانٹ دبائے وہ دھاڑا تھا ۔
لرزتے وجود کے ساتھ باہر نکلتی ہوئی وہ ارتضی کے چہرے پر چھائے کڑے تاثرات دیکھ کر مزید ڈری تھی ۔
ماہین کا ہاتھ مضبوطی سے پکڑتا ہوا اندر کی طرف بڑھا تھا ۔
وہ تو فقط گھیسٹتی ہوئی ارتضی کے پیچھے پیچھے چل رہی تھی ۔
لائن قطار سے کھڑے ملازمین سر جھکائے ان کو دونوں کو جاتے دیکھ مزید نگاہ جھکائے ہوئے تھے ۔
روم میں لاتے ہی ماہین کو پکڑے ہوئے ہاتھ سے آگے کرتا ہوا ارتضی اسے جھٹکے سے بیڈ پر بیٹھا گیا تھا ۔
خود ایک ٹانگ بیڈ پر رکھتا ہوا وہ ماہین پر جھکا تھا ۔
بہت بھاگنے کا شوق ہے نا آپ کو مجھ سے دور ۔جبڑے بھینچے وہ ضبط سے بولا تھا ۔
ارتضی کے خوف سے لرزتے ہوئے وجود کے ساتھ ماہین کے آنسو بہنے شروع ہوئے تھے ۔
جن ٹانگوں سے آپ ہر وقت بھاگنے کے لیے تیار رہتی ہیں نآ ان ہی ٹانگوں کو چلنے کے قابل نہیں چھوڑوں گا ماہین شاہ پھر بھاگ کر دکھانا مجھے ۔غرلاتے ہوئے وہ ماہین کے آنسوؤں کو یکسر اگنور کرگیا تھا ۔
ہر ایک شخص بھی اعتبار لائق نہیں ہوتا ماہین شاہ ۔
ایسے حیرانگی سے مجھے دیکھنے کی ضرورت نہیں ہے، ماہین کی آنسوؤں سے بھری آنکھیں اچانک سے اٹھی تھیں ۔
جب سے آپ میرے نکاح میں آئی ہیں نا جب سے میری تمام تر سورسز اور کڑی نظر ہر وقت آپ پر ہی رہتی ہے،
سو ٹو بی کیئر فل فار دا نیکسٹ ٹائم مائے ڈیئر وائف ۔ماہین کے آنسوؤں سے تر رخسار کو اپنے ہاتھ کی پشت سے سہلاتا ہوا ماہین کی آنکھوں میں خود کے لیے خوف دیکھ کر محفوظ ہوا تھا۔
ساری بات اب ماہین کی نظریں آئی تھی، رات کے اس پہر بخاری ولا کرتیں سامنے کار میں موجود شخص اور پھر اسے اتنی آرام سے شہر تک چھوڑنے پر راضی ہوجانا مطلب وہ شخص ارتضی شاہ کا تعینات کیا ہوا تھا اس پر نظر رکھنے کے لیے ۔
اب اپنے آنسو صاف کریں اور گھر جائیں،نیند تو اب آپ کو ویسے بھی نہیں آئے گی تو بہتر رہے گا جلدی سے تیار ہوجائیے گا۔
ایک بات اور ماہین شاہ آخری بار آپ کو معاف کررہا ہوں اگر دوبارہ آپ نے اپنے قدم میری اجازت کے بغیر باہر نکالے تو میں اپنی بات پوری کرتے ہوئے ایک پل کے بھی پیچھے نہیں ہٹوں گا ۔ارتضی شاہ کی خون خوار نظروں سے وہ رخ موڑ گئی تھی ۔
چلیں ۔ماہین کے سر پر چادر اوڑھاتے ہوئے ارتضی شاہ سنجیدگی سے بولا تھا ۔
مضبوط قدموں کے ساتھ چلتا ہوا وہ ماہین کا ہاتھ اپنی گرفت میں لیے ہوئے تھا ۔
ماہین جو ارتضی شاہ کے سرد رویے اور خود کے پکڑے جانے پر نم پلکیں لیے مردہ قدموں سے چل رہی تھی ۔
بی بی کو واپس سے بخاری ولا چھوڑ آؤ اور زرینہ آپ ساتھ جاؤ بی بی کے ۔ماہین کو گاڑی میں بیٹھا کر وہ زرینہ کو مزید ہدایت دیتا ہوا دونوں ہاتھ سینے پر باندھ کر ماہین کو جاتے دیکھ رہا تھا ۔


اب وقت آگیا ہے ارتضی مجھ کو دیئے وعدہ کو پورا کرنےکا ۔وائیٹ گولڈن کلر کی شیروانی پہنے وہ بلکل تیار تھا دلاور شاہ کی بات پر اس کے لبوں پر مسکراہٹ رینگی تھی ۔
سن گن ملی ہے مجھے کہ صائمہ پھوپھو رات سے شاہ حویلی میں ہی ہیں ۔
میں نے تو فقط شادی میں شرکت کے لیے مدعو کیا تھا یہ نہیں پتہ تھاکہ آپ دونوں پچیس سال بعد اچانک میری شادی پر صلح ہوجائے ۔چلیں یہ ایک دن تو ہونا ہی تھا۔ارتضی کو نا سمجھی سے دیکھتے ہوئے اس کے بالوں کو کومب کرتے ہاتھوں کی حرکت پر زچ ہوئے تھے ۔
مگر ان کی محبت کے آگے آپ سب کچھ فراموش کرنے کو تیار ہیں اپنےبیٹے کی خوشیاں تک آپ کو نظر نہیں آرہی بابا ،شیشے میں ابھرتے دلاور شاہ کے عکس کو دیکھ کر وہ افسردگی سے سوچ کر رہ گیا تھا ۔
کہنا کیا چاہ رہے ہو آخر تم ۔
یہی کہ میں آپ کا بیٹا ہوں اور بلکل بھی آپ پر نہیں گیا رہی بات وعدے کی تو وہ پورا ہونے کے لائق لگا تو ضرور پورا کروں گا ۔
تم اپنی زبان سے پھر رہے ہو ارتضی ۔ارتضی کا لہجہ انہیں بغاوت کا اعلان کرتا ہوا لگا تھا ۔
میں نے یہ کب کہا بابا سرکار کہ میں وعدہ پورا نہیں کرنے والا کروں گا ۔
آجائیں پھوپھو اندر ۔دروازے پر کھڑی صائمہ کو دیکھ کر وہ انہیں پکار گیا تھا ۔
صائمہ انصاری اور وہاں ہی ارتضی کی شادی میں شامل ہوئے تھے وہاج نے صاف انکار کردیا تھا شادی میں شرکت کرنے سے ۔کمرے میں داخل ہوتی ہوئی وہ دلاور شاہ کے برابر میں کھڑی ہوئی تھیں ۔
آپ سے ایک سوال پوچھنا تھا ۔
ہاں کیوں نہیں ۔ارتضی کے انداز پر وہ بھی دلاور شاہ کو دیکھ رہی تھیں ۔
آپ سب سے زیادہ کس شخص کی مقروض ہیں ،اچانک سوال پر وہ بکھلائی تھیں ۔
ابھی کے لیے اتنا کافی ہے ارتضی بس تم اپنی زبان پر قائم رہو ،ارتضی کو تنبیہ کرتے ہوئے صائمہ کا ہاتھ پکڑ کر باہر دلاور شاہ وہاں سے گئے تھے ۔
دیکھتے ہیں بابا سرکار میں بھی ایک سیاست دان کا بیٹا ہوں ۔کلون کی خود پر بارش کرتا ہوا وہ اپنی سوچ پر مسکرایا تھا ۔


خوبصورت میک اپ کے ساتھ پنک گولڈن کلر کے برائیڈل ڈریس میں آج برات کی نسبت کافی ہیوی جیولری بے دلی سے پہنے ہوئی تھی، ساری جیولری خاص طور پر شاہ حویلی سے اس کے لیے آئی تھی ،
اپنے سوگوار حسن کے ساتھ اپنی خوبصورتی میں چار چاند لگا رہی تھی،
ریڈ کلر کا نیٹ کا کام دار ڈوپٹہ ہاتھوں میں لیے بیٹھی تھی جو نرجس اسے پکڑا کر گئی تھی ۔
یہ ڈوپٹہ ہاتھ لے بیٹھی ہو اب چہرہ ڈھانپنا ہے اس سے پاگل لڑکی ،اب صحیح ہے ۔ نرجس کے سامنے لبوں پر مسکراہٹ سجائے وہ پلکیں جھکا گئی تھی ۔
میرائن کلر کے غرارے اور شارٹ فراک زیب تن کیے سیمپل سے میک اپ پر حیا آج جیولری کے نام پر فقط جھومر لگائے ہوئے تھی۔
ماشاءاللہ بہت پیاری لگ رہی ہیں آپ آج تو ارتضی بھائی کی خیر نہیں ۔حیا شرارت سے بولی تھی ۔
ارتضی کے نام پر ماہین کو صبح کی اپنی اور ارتضی کی ہوئی ملاقات یاد آئی تھی ۔
حیا جلدی آؤ نیچے، شاکرہ بیگم کی آواز پر وہ فورا سے نیچے بھاگی تھی ۔
سارا ٹائم حیدر شاہ اپنی سرخ آنکھیں سب سے چھپائے پھر رہا تھا ،
وہیں دلاور شاہ کو ہول اٹھ رہے تھے ارتضی کو خاموش دیکھ کر ۔
بھابھی اب تک تیار نہیں ہوئی کیا ،رائمہ کے حیا سے پوچھے گئے سوال پر ارتضی کے کان کھڑے ہوئے تھے ۔
بس ابھی آجائے گی آپ کی بھابھی،حیدر کو خود سے کتراتے دیکھ حیا پریشان ہوئی تھی ۔
کچھ دیر بعد ماہین کو ارتضی کے ساتھ لاکر بٹھایا گیا تھا ۔
مگر ارتضی نے ماہین کو ایک نظر دیکھنے کی زحمت تک نا کی تھی ،اس کا احساس ماہین کو بخوبی ہوا تھا ۔
رسموں کے دوران بھی دونوں ایک دوسرے سے انجان بنے ہوئے بے دلی سے رسموں کا حصہ بنے ہوئے تھے ۔
حیدر سب کو کام کا کہہ کر وہاں سے چلا گیا تھا ،مزید دیر وہاں رکنا اس کے لیے محال تھا ۔
سب کی دعاؤں اور قرآن پاک کے سائے میں ماہین رخصت ہوکر ارتضی کے ہمراہ شاہ حویلی اپنے گھر پہنچی تھی ۔
ماہین کی جانب ہاتھ بڑھاتا ہوا ارتضی شاہ اس کا منتظر تھا ۔
جو گھونگھٹ سے ارتضی کے بیزار چہرے کو دیکھ کر نا چاہتے ہوئے بھی افسردہ ہوئی تھی ۔
ارتضی کی چوڑی ہتھیلی پر اپنا نازک ہاتھ رکھتی ہوئی آنکھیں جھکائے ہوئی تھی ۔
اپنی ہمراہی میں ماہین کو حویلی میں لاتا ہوا ارتضی شاہ سرشار ہوا تھا۔
مگر چہرے پر سنجیدگی لیے وہ ماہین کے ساتھ ہی لیونگ روم میں رکھے کاؤچ پر بیٹھا تھا ۔
کوئی مزید رسم نہیں ہوگی اب آپ سب بھی تھک گئے ہونگے ۔آرام کرلینا چاہئے اور ماہین بھی تھک گئی ہوگی ،رائمہ بھابھی کو لے جاؤ ۔شاہدہ بیگم کی بات پر سب متفق ہوئے تھے ۔
رائمہ چند ملازماؤں کے ساتھ ماہین کو ارتضی کے کمرے تک چھوڑنے گئی تھی ۔
ایک ایک کرکے سب کو جاتے دیکھ ارتضی شاہدہ بیگم کو وہیں بیٹھے دیکھ ان کے پاس آیا تھا ۔
ماں آپ تھک گئی ہونگی آپ بھی آرام کرلیں ،ارتضی ان سے خاطب ہوا تھا۔
اور تم ۔شاہدہ بیگم اپنی جگہ سے اٹھی تھیں ۔
میں بھی چلا جاؤں ۔گرنے کے انداز سے وہ کنفرٹ کی پشت سے ٹیک لگائے وہ مبہم سا مسکرایا تھا ۔
جلدی چلے جانا زیادہ انتظار نہیں کروانا ماہین کو ۔ارتضی کے بالوں کو بکھرتی ہوئیں وہ اپنے کمرے کی سمت بڑھی گئی تھیں ۔
وہ میرا انتظار کر ہی نا لے ۔تلخی سے سوچتا ہوا وہ حویلی کے کونے والے کمرے میں بند ہوا تھا ۔


تازے گلاب کے پھولوں اور کینڈلز کے ساتھ سجایا گیا ارتضی شاہ کا کمرہ جس کا دروازہ کھولتے ہی چار سو گلاب کی خوشبو پھیل گئی تھی ۔
عجیب احساس کے ساتھ رائمہ کا ہاتھ تھامے وہ اندر داخل ہوئی تھی ۔
ویسے مجھے یقین نہیں آرہا آپ میری بھابھی بن گئی ہیں ۔رائمہ کی بات پر وہ ہلکا سا مسکرائی تھی ۔
اگر کسی چیز کی ضرورت ہو تو بتائیے گا میں فورا سے حاضر کروا دوں گی ۔ماہین کو بیڈ پر بیٹھا کر وہ وہاں چلی گئی تھی ۔
کینڈلز جلنے کی وجہ سے کمرے کافی روشنی پھیلی ہوئی تھی ۔
جہازی بیڈ کے سامنے رکھی ڈیسنٹ سی ڈریسنگ ٹیبل کے شیشے میں ابھرتے اپنے عکس کو دیکھ کر بیڈ سے اترتی ہوئی وہ پورے کمرے کا جائزہ لینے لگی تھی ۔
پورے کمرے بک ریکرز کے علاوہ جہازی بیڈ ایک عدد دیوان اور اس کے سامنے رکھی ٹیبل دکھی تھی ورنہ تو سارا کمرہ ہی بک ریکرز پر مشتمل تھا۔
گلاس ونڈو پر سے پردہ ہٹا کر وہاں کھڑی ہوئی تھی ،آسمان پر چودہویں کے چاند کر کو دیکھ کر وہ افسردہ ہوئی تھی ،
کتنا کچھ بدل گیا تھا اس کی زندگی میں ارتضی جیسے شخص کو تو اسے نے تصور میں بھی اپنے ہم سفر کے روپ نہیں دیکھا تھا۔
اس نے تو خود پر پابندی عائد کی ہوئی تھی محبت کرے گی تو فقط اپنے ہمسفر سے اپنے محرم سے مگر یہاں تو سب الٹا ہوگیا تھا ،
محبت تو دور وہ ارتضی سے نفرت بھی کرتی تھی یا نہیں وہ خود ان سوچوں میں الجھی ہوئی تھی ۔
نم آنکھیں لیے وہ واپس سے بیڈ پر آبیٹھی تھی ۔
مسلسل بیڈ پر بیٹھی ہوئی وہ تھک گئی تھی ۔
نیند سے بند ہوتی ہوئی آنکھوں کے باوجود وہ ارتضی کا انتظار کررہی تھی جو نجانے کہاں رہ گیا تھا ۔
جاری ہے ۔