Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 11

خالہ جانی کیا آپ کو نہیں لگتا اب کی ساس بننے کی عمر ہوگئی ہے ۔۔۔۔جب سے بخاری ولا سے آئی بیٹھی حیا موقعے کی تاک میں تھی شاہدہ بیگم سے اکیلے میں بات کرنے کے لیے ۔۔۔
مطلب کیا ہے تمہارا میں بوڑھی ہوگئی ہوں ۔۔۔شاہدہ کے استفسار سے وہ اپنی پیشانی پر ہاتھ رکھ گئی تھی ۔۔
میری پیاری سی خالہ جانی ۔۔۔آپ بوڑھی نہیں ہوئی ہیں بس آپ کو نہیں لگتا کہ آپکی کوئی بہو ہو جو آپ کی خدمت کرے آپ کے چھوٹے چھوٹے پیارے پوتا پوتی ہوں ۔۔۔۔
جو آپ کو تنگ کریں آپ ان کے کھیلیں ۔۔۔۔شاہدہ بیگم کی آنکھوں کے سامنے آن کے چھوٹے چھوٹے اپنے پوتا پوتی کھیلتے ہوئے دیکھ وہ مسکرائی تھیں ۔
بتائیں ۔۔۔۔۔۔حیا کے پوچھنے پر وہ موجودہ حال میں آتی ہوئیں افسردہ ہوئی تھیں۔
کیا کیا جائے ۔۔۔وہ الٹا حیا سے ہی رائے مانگ رہی تھیں ۔
شاہدہ بیگم کے پوچھنے پر وہ دل ہی دل خوش ہوئی آخر کو وہ چاہتی ہی یہ ہی تھی کہ شاہدہ بیگم خود اس سے رائے مانگیں ۔۔۔
سمپل ارتضی بھائی کی شادی کروادیں ۔۔۔ہاتھ میں لیے ایپل کی بائٹ لیتی ہوئی وہ اپنے تحت بہت آسان رائے دے گئی تھی ۔۔
ارتضی مانے تب ہی ہوگی نا اس کی شادی ۔۔افسردگی سے حیا کے ہاتھ سے اپیل لے کر کھانے میں مصروف ہوئیں تھیں ۔
وہ مان جائیں گے آپ نے کوئی لڑکی دیکھی ہے یا وہ بھی میں ہی سیجیسٹ کروں آپ کو ۔۔۔اپنا ایپل واپس سے لیتی ہوئی وہ مضنوئی خفگی سے پوچھ رہی تھی ۔
حیدر کے لیے تو میں دیکھ لی ہے اس کی دلہن۔۔۔۔ہاں اچھے جانتی ہوں آپ کی چھوٹی بہو کو ۔۔۔۔ان کی بات بیچ میں کاٹتی ہوئی وہ شرارت سے گویا ہوئی تھی ۔
مگر ارتضی کے لیے آج تک کوئی لڑکی نظر میں چڑھی ہی نہیں ۔۔خاندان بھر کی لڑکیوں کو سوچتی ہوئیں وہ توبہ توبہ کر گئیں تھیں ۔
میری نظر ہے ایک لڑکی ،خوبصورت ،خوش مزاج اور سگھڑ بھی ۔۔۔
کون ہے وہ لڑکی اور کہاں سے ہے ۔۔۔ دیوان پر بیٹھی ہوئی وہ اور چوڑی ہوئی تھی شاہدہ بیگم کے اسرار پر ۔
کون ہے کہاں سے ہے بلکہ سب بتاؤ گی کیا دیکھا دیتی ہوں آپ کو ۔۔۔۔۔سیل فون میں محفوظ کی ہوئی ماہین کی چند فوٹوز شاہدہ بیگم کو دیکھاتی ہوئی وہ ساتھ ساتھ ان کے چہرے کے زاویے پڑھ رہی تھی ۔۔
ماشاءاللہ بہت پیاری بچی ہے اور میرے شاہ کے ساتھ تو اور بھی پیاری لگے گی نام کیا ہے ۔۔۔کچھ توقف کے بعد زوم کرکے ماہین کی فوٹوز دیکھنے کے بعد ماہین کی تعریفوں کے قصیدے پڑھنے شروع ہوگئی تھیں ۔۔۔
ہاں۔۔۔۔ ہاں ۔۔جانتی ہوں خالہ جانی ماہین آپی جب تک آپ کی بہو نہیں بن کر آجاتی ہیں جب تک آپ ان کی تعریفیں کریں گی ۔
ماہین آپی ہیں یہ ریاض چاچو کی بیٹی ۔۔۔۔
اچھا ماشاءاللہ ماں سے بھی بڑھ کر خوبصورت ہے ۔۔۔۔ماہین کے مسکراتی ہوئی فوٹو کو دیکھ کر وہ سچے دل سے اس کی خوبصورتی پر قائل ہوئیں تھیں ۔
نظر نا لگا دینا آپ میری آپی کی اور ویسے بھی جب وہ آجائیں گی بہو بن کر تو آپ میں خطرناک ساس والا روپ آجائے گا ۔۔۔آنکھوں میں شرارتی لیے وہ سنجیدگی سے بولتی ہوئی شاہدہ بیگم کے ہاتھ سے اپنا فون واپس لے گئی تھی ۔
چل پاگل میں بہت اچھی ساس بنوں گی دیکھنا تم ۔۔۔۔حیا کے کندھے پر ہلکی سی چیت لگاتی ہوئی وہ ماہین کو دل سے پسند کر گئیں تھیں ۔
تمہارے لیے سخت گیر ساس بنوں گی ۔۔۔حیا کا کان کھینچتی ہوئیں وہ بھی شرارتی ہوئیں تھیں ۔
اگر میرے ساتھ یہ بری ساس بنی نا تو مجھ سے کوئی امید مت رکھیئے گا کہ میں اسٹار پلس کی بیچاری بہو بنوں گی ۔۔۔وہ کیا کسی سے کم تھی ۔
اچھے سے جانتی ہوں تمہیں ۔۔مگر ایک بات تنگ کررہی ہے ارتضی کو کیسے راضی کیا جائے ۔۔۔۔سنجیدگی سے پوچھتی ہوئی وہ پریشان ہوئیں تھیں ارتضی کو منانے کا سوچ کر۔
وہ تو راضی ہی راضی ہیں آپ بس شادی کی بات چھیڑیں پھر دیکھئے گا ارتضی بھائی کے بدلتے رنگ ۔۔۔۔پراعتماد لہجے میں بولتی ہوئی وہ مسکرائی تھی ۔
بس آپ وہ کریں جو میں کہوں گی پھر دیکھنا آپ ارتضی بھائی کے سہرے کے کھلتے ہوئے پھول ۔۔۔۔آنکھیں مٹکاتی ہوئی وہ پر یقین ہوئی تھی۔
جیسے کہ کیا کرنا ہے ۔۔وہ بھی تیار تھیں حیا کا ساتھ دینے کا سن کر انہیں ڈھارس ملی تھی ۔
اپنے شیطانی دماغ میں چلتی ہوئی واردات کو ان کے گوش گزار کرتی ہوئی وہ دونوں ایک دوسرے کو دیکھ کر مسکرائیں تھیں ۔
میشن ارتضی شاہ کی شادی پر آج سے عمل درآمد کرنا ہے ۔۔۔


مس ماہین آپ کا گھر آگیا ہے ۔۔۔۔قدرے آرام سے کہتا ہوا وہ ماہین کو استحقاق بھری نظروں سے دیکھ کر ہلکا سا مسکرایا تھا ۔
بنا ارتضی کو دیکھ وہ گاڑی سے اتری تھی ۔۔
شکریہ کہوں یا نا کہوں ۔۔۔کچھ توقف سوچنے کے بعد وہ شکریہ کہنے کے لیے مڑی تھی ۔۔
کہ ارتضی گاڑی اسٹارٹ کرتا ہوا وہاں سے گیا تھا ۔
جلاد ۔۔۔۔۔ارتضی کو جاتے دیکھ وہ اندر کی سمت بڑھی تھی ۔
ماہین کو بخاری ولا تک چھوڑ وہ اس کے شکریہ ادا کرنے سے پہلے وہاں سے آگیا تھا ۔۔
سارے راستے ماہین اور اپنے اس کے ساتھ گرزے لمحات کو سوچ کر مسکراتا رہا تھا ۔
جب سے اسے یہ پتہ تھا کہ ماہین حیا کی کزن ہے زیادہ خوش ہورہا تھا ۔
ان ہی سوچوں کو سوچ کر وہ ہسپتال جانے کے بجائے سیدھا حویلی آیا تھا ۔
اچانک سے برابر میں بنے انصار ولا کی چھت پر کھڑے وہاج کو دیکھ کر اس کی مسکراہٹ کی جگہ سرد سنجیدگی نے لی تھی ۔
دونوں ہاتھ سینے پر باندھے ہوئے وہ وہاج کے نڈر چہرے کو دیکھ کر آبرو آچکا کر داد دے رہا تھا ۔۔۔
آج وہاج انصاری کسی سے نہیں ڈرنے والا ہے ۔۔۔۔آنکھوں میں خوف لیے وہ ارتضی کے سرد داد پر دل ہی دل میں عہد لے رہا تھا ۔۔
وہاج کو آبرو سے نیچے آنے کا اشارہ کرتا ہوا ارتضی اس کے اڑتے رنگ دیکھ کر لب دبا گیا تھا ۔۔۔۔
کیوں آؤں میں تو نہیں آرہا آج دور سے فیس کرکے اتنا خوف آرہا ہے سامنے جاکر کیا ہوگا ۔۔لیکن میں ہمت نہیں ہاروں گا ۔۔۔۔
خاموش چلتی جنگ سے وہاج اپنے قدم پیچھے لیتا ہوا سامنے سے ہٹا تھا ۔۔۔
اسے پیچھے ہٹتے دیکھ بے اختیار ہی ارتضی قہقہ لگا گیا تھا ۔
ہنستا ہوا وہ اپنی پینٹ کی پاکٹ سے سیل فون نکالتا ہوا وہ کچھ سوچ کر نمبر ڈائل کرگیا تھا ۔
جو پہلی ہی کال پر اٹینڈ کرلیا گیا تھا ۔جسے اس کے ہی فون کے انتظار میں ہو مقابل ۔۔۔۔
ہر لحاظ میں کمال ہے بس تھوڑی ہمت و جذبے کی کمی ہے اور وہ مین خود اس بزدل میں ڈال دوں گا ۔۔۔
سنجیدگی سے بولتا وہ حویلی میں داخل ہوا تھا ۔۔۔
ہماری تو تمام تر کوشیش ناکام رہی ہیں۔۔۔۔
اگر تم اس کے سوئے ہوئے جذبے کو جگانے کی تاب رکھتے ہو تو کیوں نہیں تم بھی اپنی قسمت آزما لو ۔۔۔مقابل کی بات پر حیران ہوا تھا ۔
مطلب شک ہے آپ کو میری قابلیت پر ۔۔۔۔غلام رسول کے لیے گئے سلام پر ہلکا سا سر کو خم کرتا ہوا معمول کے خلاف مسکرا کر جواب دیتا ہوا وہاں سے گزرا تھا ۔
ہرگز نہیں ۔۔۔۔مقابل نے فورا سے ارتضی کو جواب دیا تھا ۔۔۔
چلیں پھر بات ہوتی ہے آپ سے ۔۔۔۔کوشش کو تو ملاقات کرنے کی ہے دیکھتے ہیں کس وقت ہماری ملاقات کا وقت مقرر کیا ہے خداوند نے ۔۔۔لیونگ روم میں رکھے صوفے پر گرنے کے انداز میں بیٹھتا ہوا وہ کال ڈیسکنیٹ کرتا ہوا آنکھیں موندے گیا تھا ۔۔۔


تائی امی ۔۔۔۔حیا کہاں ہے ۔۔گھر آتے ہی ماہین کا پہلا سوال تھا ۔۔
خیر ہے آج حیا بھی گھر میں آتے ہی چاچو چاچو کی رٹ لگائے ہوئے آئی تھی اور اب تم اس کے نام کی رٹ لگائے ہوئے آئی ہو۔۔۔۔
یہ کیا لگا ہے تمہارے ہاتھ پر ۔۔۔۔ماہین کے ہاتھ پر بندھی پٹی کو دیکھ کر وہ پریشان ہوئیں تھیں ۔
کچھ نہیں تائی امی بس ہلکا سا کٹ ہے ۔۔۔آپ حیا بتائے نا حیا کہاں ہے ۔۔۔پانی کا گلاس منہ سے لگاتی ہوئی وہ پھر سے استفسار کررہی تھی ۔
اپنی خالہ جانی کی طرف گئی ہے ۔۔۔ماہین کے ہاتھ دیکھتی ہوئیں وہ پریشان ہوئیں تھیں ۔
تم سچ کہہ رہی ہو نا کہ چھوٹا سا کٹ ہے ۔۔ان ہیں ماہین پر شک گزرا تھا ۔
جی تائی امی بس بینڈیج کی وجہ سے زیادہ لگ رہا ہے آپکو ۔۔ان کے پریشان چہرے کو دیکھ کر وہ ہمیشہ کی طرح آج بھی اسے ان پر ٹوٹ کر پیار آیا تھا ۔
تم کہہ رہی ہو اس لیے مان رہی ہو جب تک دیکھوں گی نہیں یقین نہیں آئے گا مجھے ۔۔
تم حیا کے ساتھ گئی تھی نا تو اس کے ساتھ واپس کیوں نہیں آئی ۔۔۔ماہین کے چہرے پر نظریں جمائے پوچھ رہی تھیں ۔
تائی امی اسے ضروری کام آگیا تھا تو میں ہی اسے فورس کیا جانے کے لیے ۔سچ کے ساتھ وہ حئا حمایت میں جھوٹ کا سہارا لیتی ہوئی بولی تھی ۔
چلو تم فریش ہوجاؤ ریاض بھائی تمہارا کب سے پوچھ رہے ہیں ۔۔۔
بابا گھر پر ہیں ۔۔۔۔ماہین کے سوال پر وہ مثبت میں گردن ہلاتی ہوئیں مسکرائیں تھیں ۔


ارے واہ آج تو قسمت کی دیوی مہربان ہورہی ہے تجھ پر حیا بخاری ۔۔حویلی کے پچھلے گارڈن میں بنے حیدر کے پرند نگر کے دروازے کو کھولہ چھوڑ حیدر کو جلد بازی میں جاتے دیکھ وہ حیران ہوئی۔۔۔
کیونکہ حیدر اس پر ہمیشہ ہی بڑا سا تالا لگا کر رکھتا تھا ۔
مگر آج کھلا دیکھ وہ بنا موقع ضائع کیے اندر داخل ہوئی تھی ۔
پرند نگر جو بڑے سے کمرے کی طرح بنا ہوا بغیر چھت کے ۔
چار دیواری کے بیچ میں لگے گھنے درخت پر بیٹھے رنگ برنگے پرندوں کو دیکھ کر وہ حیرت انگیز انداز میں مسکرائی تھی ۔
دبے قدم چلتی ہوئی درخت پر ٹنگے اکلوتے پنجرے کو دیکھ کر آگے بڑھی تھی ۔
یہ چنگیز خان کہاں ہیں ۔۔اردگرد نظریں دوڑاتی ہوئی اس پنجرے کے پاس آکر بیٹھی تھی ۔
ارے واہ آپ تو بہت ہی خوبصورت ہیں میاں میٹھو ۔۔
پنجرے میں قید رنگ برنگے پروں والے خوبصورت طوطے کو دیکھ کر اس سے مخاطب ہوئی تھی ۔
مائے سلیف نہال ۔۔۔۔آنکھیں پھاڑ کر طوطےکو دیکھتی ہوئی وہ حیران ہوئی تھی ۔
جادوئی طوطا ۔۔۔منہ ہی منہ بڑبڑائی تھی ۔
تم یہاں کیا کر رہی ہو تباہی ۔۔۔۔۔ حیدر جو دلاور شاہ کے بلانے پر یہاں سے گیا تھا۔
وہاں سے پریشان ہوتا ہوا وہ اس کی پریشانی کو مزید تول حیا کی پرند نگر میں موجودگی نے بڑھائی تھی۔
تباہی میں کچھ پوچھ رہا ہوں ۔۔ سخت گیر لہجے میں وہ چبا کر پوچھ رہا تھا ۔
اگر ایک بار اور مجھے تباہی کہا نا تو۔۔۔۔۔۔۔۔
تو۔۔۔۔
تو میں یہ تمہارا جادوئی طوطا اڑا دوں گی ۔۔پنجرے میں چکر کاٹتے ہوئے طوطے کو دیکھ کر حیدر کو دھمکی دیتی ہوئی بولی تھی ۔
اڑا کر تو دکھاؤ ۔۔حیا کی دھمکی پر اسے تاؤ چڑھا تھا ۔
اڑا دیا تو ۔۔۔دونوں ہاتھ کمر پر رکھتا ہوئی میدان میں اتری تھی ۔
ٹوٹل تباہی ۔۔۔۔۔چبا کر بولتا ہوا وہ حیا کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بولاتھا ۔
نگاہوں کے تصدم سے عجب تکرار کرتا ہے ۔۔۔،
یقین کامل نہیں لیکن ،گماں ہے پیار کرتا ہے ۔۔،
لرز جاتی ہوں یہ سوچ کر ،کہیں کافر نا ہوجاؤں۔۔،
دل اس کی پوجا پر بڑا اسرار کرتا ہے ۔۔۔۔۔۔،
اسے معلوم ہے شاید “میرا دل ہے نشانے پر “۔۔۔،
لبوں سے کچھ نہیں کہتا، نظر سے وار کرتا ہے ۔۔۔،
میں اس سے پوچھتی ہوں خواب میں”مجھ سے محبت ہے”۔،
پھر آنکھیں کھول دیتی ہوں ،جب وہ اظہار کرتا ہے۔۔۔۔۔ !
کیا ہوا ۔۔۔حیا کی آنکھوں کے سامنے چٹکی بجاتا ہوا اسے ہوش میں لایا تھا ۔۔
میں تباہی ہوں ۔۔۔اس کی گہری سیاہ آنکھوں میں خود کو ڈوبتے دیکھ وہ ہڑبڑائی تھی ۔
خود ہی مان لیا ہے تم تو اب میں کیا کر سکتا ہوں ۔پینٹ کی جیب میں ہاتھ دیے وہ کندھے آچکا کر شرارت سے مسکرایا تھا ۔
تباہ کردو تمہیں سڑی ہوئی ککڑی ۔۔۔پیر پٹختی ہوئی وہ غصے سے چلائی تھی ۔
تباہی ہو تو تباہی ہی مچاؤ گی نا اور کر ہی سکتی ہو تم تباہی ۔حیا کو چڑتے دیکھ وہ اسے اور چیڑا رہا تھا ۔
اللہ کرے تمہارے سارے پرندے اڑ جائے ۔۔۔معصوم سی بد دعا جو کبھی بھی پوری نہیں ہوسکتی تھی ۔
اڑنے ہوتے نا تو یہ سب یہاں نا ہوتے۔۔ درخت پر بیٹھے اپنے پالتو پرندوں کو دیکھ کر فاتح انداز میں مسکرایا تھا ۔
ان سب پرندوں کو دیکھ وہ اپنی دی گئی بد دعا پر پچھتائی تھی ۔
اگر یہ تو جادوئی طوطا اڑا دیا جائے ۔۔۔۔پنجرے کی طرف بڑھتی ہوئی وہ حیدر کا منہ چڑہتی ہوئی طوطے کو دیکھ کر مسکرائی تھی ۔جو بے صبری سے باہر آنے کی راہ دیکھ رہا تھا ۔
تباہی نو ۔۔۔۔حیا کو پنجرا کھولتے دیکھ حیا کا ہاتھ پکڑ گیا تھا ۔
حیا اٹھو ۔۔۔۔
حیا کیوں اب بولو نا تباہی ۔۔۔حیدر کو لائن پر آتے دیکھ وہ خوش ہوئی تھی ۔
زیادہ خوش ہونے کی ضرورت نہیں ہے کیونکہ تباہی ،تباہی ہی رہتی ہے ۔۔
حیدر ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ حیا اور حیدر کی ہوتی ضد بحث سے فائدہ اٹھاتا ہوا طوطا اپنی چونچ کے ذریعے پنجرے کی اٹکی ہوئی کنڈی کھو ہوا میں پر پھڑپھڑاتا ہوا دونوں کو خود کی طرف متوجہ کیے ہوا میں تیرتا ہوا گم ہوا تھا ۔
اڑ گیا کہاں تھا نا جادوئی طوطا ہے مگر نہیں مانے تم ۔۔
بنا کسی کے کھولے اڑ گیا ۔۔۔حیران ہوتی حیا حیدر کو خود کو گھورتے پاکر اپنا نچلا لب دانتوں تلے دبا گئی تھی ۔
ویسے پرندے اڑتے ہوئے زیادہ اچھے لگتے ہیں ناکہ قید میں ۔۔
حیدر کی ناراضگی کا اندازہ کرنے کی خاطر وہ نرم لہجے میں بولی تھی ۔
میرا نہیں یار تباہی وہ دوست کا تھا ۔۔
سوری ۔۔۔۔حیا کو منمناتے دیکھ وہ چاہ کر بھی غصہ نہیں کرسکا تھا۔
ابھی جاؤ یہاں سے ۔۔۔پیشانی پر ہاتھ رکھ کر وہ خود پر ضبط کررہا تھا۔
سوری ۔ وہ کہہ وہاں سے چلی گئی تھی واپس سے بخاری ولا جانے کے لیے ۔۔۔۔۔
سوری سے کیا نہال واپس آئے گا ۔۔اپنے دوست کے سامنے جانے کا سوچ کر وہ پریشان ہوا تھا ۔


میں آپ سے ناراض ہوں ۔۔۔روم ناک کرکے اندر آتی ہوئی وہ شکوہ کن انداز میں بولی تھی ۔
کیا بابا جان سکتے اپنی بیٹی کی ناراضگی کی وجہ ۔۔ماہین کو اپنے پاس بیٹھنے کا اشارہ کرتے ہوئے لاڈ اٹھانے کے انداز سے پوچھ رہے تھے ۔
پہلے آپ مجھے گاؤں لائے میں کچھ نہیں کہا اور ساتھ آگئی آپ کے ۔۔۔
اور آپ یہاں آکر مجھے بھول گئے ۔۔ بابا کے سینے پر سر رکھتی ہوئی وہ نم لہجے میں بولی تھی ۔
یہ آپ کو کس نے کہا کہ بابا اپنی جان کو بھول گئے ہیں ۔۔ماہین کی نم آنکھوں میں دیکھ کر پوچھتے ہوئے وہ مسکرائے تھے ۔
کسی نے بھی نہیں میں نے خود فیل کیا ہے ۔۔وہ ہنوز سینے پر سر رکھے ہوئے ناراضگی ظاہر کر رہی تھی ۔
ریاض بخاری سب کچھ بھول سکتا مگر اپنی ماہین کو کبھی بھی نہیں بھول سکتا ۔سمجھی آپ ۔۔۔ماہین کے بالوں کو سہلاتے ہوئے ماہین کی پرسکون مسکراہٹ دیکھ کر ریلکس ہوئے تھے ۔
بابا ہم گھر کب جائیں گے ۔۔۔کچھ توقف بعد وہ سیدھی ہو بیٹھی تھی ۔
دیکھتے ہیں ۔۔۔۔۔ آپ نے کھانا کھایا ہے ۔۔۔ماہین کی بات پلٹتے ہوئے وہ فکر مندی سے پوچھ رہے تھے ۔
نہیں آج ہم دونوں مل کر کھائیں گے ۔۔۔ماہین کے مسکراتے ہوئے چہرے کو دیکھ کر وہ چاہ کر بھی اسے سچ نہیں بتا پائے تھے۔
کہ وہ حمدان صاحب کو وعدہ دے چکے تھے ہمیشہ کے لیے گاؤں رہنے کے لیے ۔۔
ماہین بیٹا یہ آپ کے ہاتھ پر کیا لگا ہے ۔۔ماہین کی تمام تر کوشش کے بعد بھی وہ اس کے ہاتھ پر بندھی پٹی کو دیکھ چکے تھے ۔
معمولی سی چوٹ ہے بابا ۔۔۔۔چلیں نا مجھے بھوک لگ رہی ہے ۔ اپنے ہاتھ پیچھے کرتی ہوئی وہ منمنائی تھی ۔
معمولی سی ہے نا ۔۔۔
ہاں نا اگر بڑی چوٹ ہوتی تو میں شور مچا کر یہ گھر سر نا اٹھا لیتی ۔۔
یہ بات تو آپ نے سہی کہی ۔۔۔اپنی ہی حرکت یاد دلاتی ہوئی وہ ریاض صاحب کو ہنستے دیکھ کھلکھلائی تھی ۔


یہ لو شاہ پانی لو ۔۔۔۔۔۔۔اف اللہ ۔۔۔۔۔۔سر پکڑ ارتضی کے سامنے بیٹھتی ہوئیں شاہدہ بیگم اپنی اداکاری کے جوہر دکھانے شروع کیے تھے ۔
کیا ہوا ماں ۔۔۔۔۔پانی کا گلاس ٹیبل پر رکھتا ہوا وہ پریشان ہوا شاہدہ بیگم کی حالت دیکھ کر ۔
چلتے پھرتے چکر آتے ہیں نہیں ہوتا مجھ سے کام مگر کیا کروں تمہیں ملازماؤں کے ہاتھ سے پانی نہیں لیتے کھانا تو پھر دور کی بات ہے ۔ اب بس تمہاری دلہن دیکھ لوں بس اب اس زندگی سے کوئی امید اور خواہش نہیں ہے ۔۔دونوں ہاتھوں سے سر تھامے ہوئے آنکھیں بند کیے ہوئے تھیں۔۔
جی سرکار سائین۔۔۔ بی بی سائیں کی طبیعت ناساز رہنے لگی ہے ۔۔شاہدہ بیگم کی سیکھائی ہوئی ملازمہ کو دھیان سے سنتا ہوا ارتضی پریشان ہوا تھا ۔
بس میری بہو آجائے تمہاری ساری ذمہ داری اسے سونپ کر آزاد ہوجاؤں گی ۔۔ملازمہ کو جانے کا اشارہ کرتی ہوئی وہ ارتضی کے پریشان چہرے کو دیکھ کر واپس سے آنکھیں بند کرگئیں تھیں ۔
آپ کو بہو کی نہیں وٹامن ڈی کی ضرورت ہے کمزوری ہورہی ہے آپ کو ۔۔شاہدہ بیگم کی تکلیف کا حال نکالتا ہوا وہ اپنی جگہ سے اٹھ کھڑا ہوا تھا ۔
یاد سے وٹامن ڈی کی میڈیسن سونے سے پہلے دودھ سے لے لیجئے گا ۔۔اپنی سناتا ہوا وہ وہاں بڑے بڑے قدم لیتا ہوا وہاں سے چلا گیا تھا ۔۔۔
ارتضی کو جاتے دیکھ وہ اپنا پلین فیل ہوتے دیکھ افسردہ ہوئی تھیں۔۔


ہیلو ۔۔۔اَن نون نمبر کو دیکھ کر برا سا منہ بنا کر اٹھاتی ہوئی وہ بیزاریت سے بولی تھی ۔
ماہین کی معصوم آواز سن کر وہ مسکرایا تھا ۔
زخم کیسا ہے اب آپ کا ۔بنا دل کی سنے وہ مدعے پر آیا تھا ۔
ڈاکٹر جلاد ۔۔ارتضی کی آواز سنتے ہی دماغ میں یہ نام آیا تھا۔
ٹھیک ہے پر مگر میرا نمبر کیسے آیا آپ کے پاس ۔ارتضی کی کال پر وہ حیران ہوئی تھی ۔
یہ میرے لیے کوئی مشکل امر نہیں رہا آپ اسے چھوڑیں یہ بتائیں درد تو نہیں ہورہا ۔کار کی بیک سیٹ پر سر رکھے وہ پرسکون انداز میں مسکرا رہا تھا ۔
آپ سے مطلب ۔۔ترچھی سے کہتی ہوئی وہ فون رکھ گئی تھی۔
مگر اگلے ہی پل ارتضی کا میسج پڑھ کر اس کے لب خود بخود مسکرائے تھے ۔
پین کلر بھیج رہا ہوں آپ کے لے لیجئے درد نہیں ہوگا ۔۔۔
اتنا برا بھی نہیں ہے یہ ڈاکٹر جلاد ۔۔مگر ہے تو جلاد ہی نا ۔۔اپنے ذہن میں ارتضی کے لیے مثبت سوچوں جھٹکتی ہوئی فون کو بیڈ پر پھینکنے کے انداز رکھتی ہوئی کھڑی کے پاس کھڑی ہوئی تھی ۔
پہلی ملاقات میں ہی ارتضی بھائی رات کے اس پہر یہاں پہنچ گئے اور وہ بھی گفٹ لے کر واہ بھئی واہ ۔۔۔
کھڑی سے کار میں بیٹھے ہوئے ارتضی کو دیکھ کر شاہ حویلی کے ملازم گارڈ کو بکس پکڑا کر واپس سے گاڑی میں جا بیٹھا تھا۔۔۔
اپنے کمرے سے بھاگتی ہوئی وہ گارڈ سے شاپر لے کر اسے جانے کا کہتی ہوئی تجسس سے بکس کو کھول کر دیکھتی ہوئی حیران ہوئی تھی ۔
ایک بھائی جسے محبت دیکھائی نہیں دیتی اور ایک یہ ہیں جنہیں محبت تو ہو گئی ہے پر کرنی نہیں آتی ۔
بندہ پھول بھیجواتا ہے کوئی جیولری ،کوئی بھی گفٹ بھیجتا ہے مگر یہاں تو میڈیسن بھیجی جارہی ہیں ۔ جس تجسس کے ساتھ اس نے بکس کھولا اتنی ہی بدمزگی سے بند کرتی ہوئی وہ ماہین کے روم کا دروازہ بجانے لگی تھی۔
ماہین آپی دروازہ تو کھولیں یار ۔۔۔
جب سے وہ شاہ حویلی سے آئی تھی جب سے ہی ماہین نے اس سے بات تک نہیں کی تھی یہاں تک کہ اپنا روم بھی علیحدہ کروالیا تھا۔۔
اب بھی ماہین کی طرف سے کو ریسپونس نہیں ملا تھا ۔۔
کوئی نہیں کب تک روم میں بند رہیں گی صبح تو کھولیں گی نا۔
ملازمہ کو بکس دیتی ہوئی وہ ماہین کے روم کے بند دروازے کو دیکھ کر اپنے روم کی سمت بڑھی تھی ۔
۔
جاری ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔