Hasil E Zeest By Mehwish Ghafoor Readelle50217 Episode 26 Part 2
No Download Link
Rate this Novel
Episode 26 Part 2
حیدر آپ مجھ سے محبت کرتے ہیں جیسے میں آپ سے کرتی ہوں ۔ڈریسنگ ٹیبل کے سامنے کھڑی ہوئی وہ اچانک سے بولی تھی ۔
جبکہ بیڈ پر لیپ ٹاپ کے کی بورڈ پر حیدر کی انگلیاں رکی تھی حیا کے سوال پر ۔
بولو بھی ۔اسرار کرتی ہوئی وہ حیدر کے ہاتھ سے لیپ ٹاپ لے کر بند کرتی ہوئی پھر سے پوچھ رہی تھی ۔
محبت کا تو پتا نہیں ۔مگر مجھے ان چند دنوں میں تمہاری عادت ہوگئی ہے حیا ۔
اور اس سے زیادہ کیا ہوسکتا ہے ۔اپنے مخصوص دھیمے لہجے میں جواب دیتا ہوا ساتھ سوال کرگیا تھا ۔
میں نے آپ سے محبت کا پوچھا ہے ۔آپ مجھ سے محبت کرتے ہیں یا نہیں ۔ارتضی کی فکر اور آنکھوں مین ماہین کے لیے محبت دیکھ حیا کو رشک ہواتھا ،کیونکہ آج تک اس نے اپنے لیے حیدر کی نگاہوں میں ایسے جذبات نہیں دیکھے تھے ۔اس لیے وہ ضدی ہوئی تھی ۔
جاننے کے لیے کہ حیدر اس محبت کرتا ہے یا نہیں ۔
میں اپنے حصے کی محبت تو کب سے کرچکا حیا !حیا کو دیکھتا ہوا وہ دل میں سوچ ہی سکا تھا۔
تمہارے بغیر مجھے اچھا نہیں لگتا، تم اگر مجھے دیکھائی نا دو تو مجھے گھبراہٹ محسوس ہوتی ہے،
تم مجھے اگر روم میں دیکھائی نا دو تو میرا روم میں آنے کو دل نہیں کرتا ۔
تمہارے بغیر کھانا نہیں اچھا لگتا ،تم سے نوک جھوک کیے میرا دن اچھا نہیں گزرتا،
کیا اب بھی محبت کا ہونا ضروری ہے ۔
محبت سے زیادہ طاقتور عادت ہوتی ہے جو مجھے ہوگئی ہے تمہاری ۔
کیا یہ کم ہے ۔حیا کے ہاتھوں پر اپنا رکھتا ہوا وہ مسکرایا تھا ۔
عادت تو بدلی بھی جاسکتی ہے ۔افسردگی سے بولی تھی ۔
میری یہ عادت مرتے دم تک نہیں بدلے گی ۔وہ حیدر کے مضبوط لہجے سے دنگ رہ گئی ۔
تو پھر یہ محبت ہی ہوئی نا ،پھر آپ عادت کا نام کیوں دے رہے ہیں صاف صاف کہہ دیں میری طرح کہ آپ بھی مجھ سے محبت کرتے ہیں ۔حیدر کے ہاتھ سے اپنے ہاتھ پیچھے کرگئی تھی ۔
اچھا بابا میں تم سے بہت محبت کرتا ہوں، حیا کی ناراضگی کے ڈر سے وہ فورا سے پہلے بولی گیا تھا ۔
مجھے پتا تھا میری سڑی ہوئی ککڑی ۔حیدر کے منہ سے وہ الفاظ سن کر وہ خوش ہوئی تھی جو وہ سننا چاہتی تھی ۔
کچھ توقف بعد حیا کی باتوں سے لیفٹ سائیڈ پر اٹھتی ٹھیس پر وہ خود پر ضبط کیے لیٹا ہوا تھا ۔
کافی دیر تک وہ حیا کے سونے کا انتظار کررہا تھا ۔
جیسے حیا کے سونے کا یقین اسے ہوا تو فورا سے اپنی سونے سے پہلے لینے والی میڈیسن لیتا ہوا درد کی شدت سے آنکھیں زور سے بند کیے ہوئے تھا جب اچانک سے حیا کی آواز پر گھبرا گیا تھا ۔
کیا کر کررہے ہو حیدر اور یہ اتنی رات کو کون سی میڈیسن کھا رہے تھے ،نیند میں ڈوبی ہوئی آواز لیے حیا حیدر کو پانی کے ساتھ میڈیسن لیتے دیکھ چکی تھی ۔
بلآخر پریشانی سے اٹھ بیٹھی تھی ۔
کچھ نہیں بس پین کلر لے رہا تھا ۔نارمل انداز میں وہ ضبط سے بول رہا تھا ۔
ارتضی میں درد ہورہا ہے کیا ۔پریشانی سے پوچھتی ہوئی وہ اپنی جگہ سے اٹھنے لگی تھی کہ حیدر نے اسے بیٹھے رہنے کا اشارہ کیا تھا ۔
ہاں سر میں ہی درد ہورہا ہے ،۔تم سوئی نہیں تھی ۔حیا کے برابر میں آکر بیٹھتا ہوا وہ گہرا سانس بھر گیا تھا ۔
نہیں بس تھوڑی دیر کے لیے آنکھ لگ گئی تھی ۔مجھے خوشی میں نیند ہی نہیں آرہی ۔حیدر کے شانے پر سر رکھتی ہوئی وہ حیدر کی کیفیت سے انجان تھی ۔
ہمہم واقع میں ہے ہی اتنی خوشی والی بات کہ نیند کہاں آنی ہے ۔ٹھہر ٹھہر کر کہتا ہوا وہ ارتضی اور ماہین کے لیے بہت خوش تھا ۔
پتا ہے میں نے تو ابھی سے اپنے بیبیز لے نام بھی سوچ لیے ہیں ۔ حیا کی بات سن کر حیدر نے اسے مسکرا دیکھا تھا ۔
پوچھو گے نہیں کہ کیا نام سوچے ہیں میں نے ہمارے بیبیز کے خفگی سے کہتی ہوئی وہ حیدر کے مسکراتے چہرے کو دیکھ کر چڑی تھی ۔
تمہیں ہی تو سن رہا ہوں ۔مسکرا کر کہتا ہوا وہ حیا کی مضنوئی خفگی دور کی تھی ۔
حیا اور حیدر کا بیٹا حدید حیدر شاہ اور بیٹی کا نام ہوگا ہدیہ کیسے لگے دونوں نام زیادہ بے بی نہیں کریں گے بس دو ہی کافی ہے کیوں صحیح کہہ رہی ہو نا ۔سنجیدگی سے حیا کو سنتے ہوئے حیدر کا درد اب برداشت سے باہر ہو رہا تھا ۔
بہت اچھے نام ہیں ہم ان پر کل صبح بات کریں گے مجھے کافی نیند آرہی ہے ۔اپنی جگہ پر دراز ہوتا ہوا اپنے بائیں ہاتھ پر ہاتھ رکھ کر آنکھیں موند گیا تھا ۔
اوکے ہم ینہی سے بات شروع کریں گے ۔ حیدر کو لیٹے دیکھ وہ خود بھی سونے کے لیے لیٹی تھی ۔
ماہین سو جائیں آپ ،ماہین کو جاگتے دیکھ فکر سے بولا تھا ۔
مجھے نیند نہیں آرہی ۔آنکھوں میں چمک لیے وہ ارتضی کی سمت کروٹ ہوئی مسکرائی تھی ۔
اور کیوں نہیں آرہی ہے آپ کو نیند ،ماہین کو مسکراتے دیکھ ارتضی بھی مسکرایا تھا ۔
خوشی میں ایک الگ سا احساس محسوس مجھے سونے نہیں دے رہا ۔جب سے ارتضی نے اسے اس کے پریگنیسی کا بتایا تھا جب سے وہ فقط مسکرا رہی تھی ۔
اچھا پر مجھے تو بہت نیند آرہی ہے ۔آنکھوں پر کہونی رکھے ہوئے شرارت سے گویا ہوا تھا ۔
کوئی ضرورت نہیں ہے سونے کی جب تک میں جاگ رہی ہوں جب تک آپ بھی میرے ساتھ جاگے گے ،ارتضی کے آنکھوں پر رکھے ہاتھ کو ہٹاتی ہوئی وہ غصے سے بولی تھی ۔
تو کیا اب ساری رات جاگنا پڑے گا صبح اس نوری سے ملنا بھی ہے آپ کو ،منہ لٹکائے وہ ماہین کو چھیڑنے کی غرض سے بول رہا تھا ۔
اس نوری چڑیل کا ذکر نا کریں ۔وہ بھی ماہین تھی جو بنا ارتضی کے تاثرات دیکھے بس اپنی کروانے کی کوشش تھی ،کافی حد تک وہ کوشش کامیاب ٹھہری تھی ۔
ایک بات پوچھوں آپ سے ۔ارتضی کی آنکھوں میں دیکھتی ہوئی وہ سنجیدگی سے پوچھ رہی تھی ۔
پوچھیں ۔۔ماہین کو دیکھ کر وہ بھی سنجیدگی سے مخاطب ہوا تھا ۔
آپ خوش تو ہیں نا ۔ماہین کے سوال پر ارتضی مسکرایا تھا ۔
آپ کو ایسا کیوں لگا کہ میں خوش نہیں ہوں ،وہ الٹا اس سے سوال کرگیا تھا۔
کیونکہ آپ نے ظاہر نہیں کیا کہ آپ خوش ہیں اس لیے ،ارتضی کی خود پر جمی ہوئی نظروں سے وہ کنفیوز ہوئی تھی ۔
کتنا خوش ہوں یہ نہیں پتا مگر میں اپنے خدا کا بہت شکرگزار ہوں جس نے پہلے مجھے میری محبت سے نوازا اور اب اولاد کی نعمت سے نواز رہا ہے ۔تشکرانہ لہجے میں کہتا ہوا وہ ماہین کی آنکھوں میں چمک دیکھتا ہوا حیرانگی سے دیکھ رہا تھا۔
کیا ہوا ،ماہین کے شاکڈ چہرے کو دیکھ اسے گمان گزار تھا کہ کہیں اس نے کچھ غلط تو نہیں کہہ دیا ۔ وہ پوچھے بغیر رہ نا سکا تھا ۔
مطلب آپ مجھ سے محبت کرتے ہیں یہ ہی کہا نا آپ نے ،خوشی و حیرت کے ملے جلے تاثرات لیے وہ ارتضی کو حیران کرگئی تھی ۔
نہیں میں آپ کی بات تھوڑی کررہا تھا ۔میری بیوی تھوڑی ہیں آپ ۔ارتضی کے طنز پر وہ کھلکھلا اٹھی تھی ۔
نہیں جی آپ میری ہی بات کررہے ہیں ۔شرارت سے ارتضی کے گال کھینچتی ہوئی ارتضی کو مزید حیران کرگئی تھی ۔
اب مجھے نیند آرہی ہے ۔ارتضی کی حیرت سے پھٹی آنکھوں کو مسکرا کر دیکھتی ہوئی اپنی آنکھیں بند کرگئی تھی ۔
اب میں آپ کو سونے نہیں دوں گا جب تک مجھے نیند نہیں آتی ۔ارتضی کی اونچی آواز پر ماہین اپنی آنکھیں وا کیے اسے گھور رہی تھی ۔
نہیں مجھے نیند آرہی ہے ۔
اب آپ نے آنکھیں بند کی نا تو اچھا نہیں ہوگا آپ کے لیے ۔ماہین کو آنکھیں بند کرتے دیکھ وہ تنبیہ کرگیا تھا ۔
اچھے کی مجھے فکر ہے بھی نہیں کیونکہ میرے شاہ ہیں ہی بہت اتنے اچھے کہ وہ سب اچھا اچھا ہی کرتے ہیں ۔
اور وہ مجھے سونے سے بھی نہیں روکے گے کیونکہ وہ مجھ سے محبت جو کرتے ہیں، ہیں نا ارتضی کو اپنے شیریں لہجے میں الجھاتی ہوئی وہ کب ارتضی کے بازوں پر سر رکھ کر آنکھیں موند گئی تھی ۔اور ارتضی جو فقط اسے سن رہا تھا ماہین کی شرارت سے بے خبر مسکرا رہا تھا ۔
ہاں ۔۔
میری چالاک بیوی ،ماہین کی آنکھوں پر لب رکھتا ہوا مسکرایا تھا ۔
مبارک ہو نوری بلآخر کل ہمیں فتح ملنے والی ہے ۔ریکارڈنگ سن کر وہاج کی خوشی کا کوئی ٹھکانہ نہیں تھا ۔اس ہی خوشی میں وہ صبح صبح ملک ہاؤس میں موجود تھا ۔
یہ سب میری بدولت ہوا ہے ،فخرانہ انداز میں کہتی ہوئی وہ اترائی تھی ۔
ہنہہ ۔تمہاری بدولت ہاہاہاہا ،نوری کے انداز پر وہ قہقہ لگا گیا تھا ۔
یہ تم کیوں بھول جاتی ہو پریہا نور اپنی اوقات کیوں بھول جاتی ہو تم کہ تم ایک نوکرانی تھی شاہ حویلی کی ملازمہ نوری ۔ وہاج کی بلند آواز سن کر کمرے میں داخل ہوتی ہوئی شمازیہ کے قدم ساکت ہوئے تھے ۔
ہاں تھی مگر تم آرام سے بولو شمازیہ سن لے گی ۔نوری کی آواز سن کر وہ دروازے کی اوٹ میں ہوئی تھی ۔
مطلب پریہا نور ریحان کے دوست کی بہن نہیں ہے ۔ریحان نے جھوٹ کیوں بولا مجھ سے ۔ریحان کا بولا جھوٹ اسے افسردہ کرگیا تھا ۔
آج میں بہت خوش ہوں اور میں دل سے چاہتا ہوں کہ شمازیہ بھابھی سن لے جسے وہ بہن بہن کہہ کر تھکتی نہیں ہیں ۔ کمرے میں موجود جہازی بیڈ پر پڑی شرٹ کو دیکھ کر وہ ضبط سے دونوں لب آپس میں پیوست کرگیا تھا۔
وہ تو ان کے شوہر کی خوشامد کرنے کی خاطر یہاں رہتی ہے ۔
تھوڑی شرم حیا کرو بکواس کیے جارہے ہو ۔انگشت کی انگلی سے تنبیہ کرتی ہوئی وہ غرلا اٹھی تھی ۔
کیوں تمہیں کرتے ہوئے شرم نہیں آتی میں سب بولتے ہوئے شرم کیوں کروں ۔
کیا کیا ہے میں نے ۔چبا کر پوچھتی ہوئی اچانک سے وہاج کے بدلتے روپ کو دیکھ کر حیران ہوئی تھی ۔
یہ بھی میں ہی بتاؤں ،یہ ریحان کی شرٹ اور یہ ریسٹ واچ تمہارے روم میں کیا کررہی ہے ۔بیڈ پر لٹکی ہوئی شرٹ اور سائیڈ ٹیبل پر رکھی ریحان کی ریسٹ واچ کی طرف اشارہ کرتا ہوا وہ بھڑک اٹھا تھا۔ وہاج کے الفاظ کے ساتھ ریحان کے سامان کو دیکھ کر شمازیہ کے قدم لڑکھڑائے تھے ۔
گھن آرہی ہے مجھے خود سے کہ میں نے تمہارے ساتھ کیسے ہاتھ ملا لیا ۔آج وہاج کو افسوس ہوا تھا اپنے فیصلے پر ۔
کتنی گھٹیا عورت ہو تم نوری محبت کے دم بھرتی ہو تم ارتضی کے نام کے اور اپنی راتیں ریحان کے نام کرتی ہو ۔
پل بھر میں نوری کے رنگ فق ہوئے تھے ۔
تمہیں ذرا سی بھی شرم نہی آتی کہ تم اس عورت کو دکھا دے رہی ہو جو تمہیں اپنی سگی بہنوں کی طرح مانتی ہے ۔
منہ پر ہاتھ رکھ کر اپنی چلتی سانسیں دباتی ہوئی شمازیہ پل بھر میں عرش سے زمین پر اوندھے منہ آگری تھی۔
بکواس بند کرو اپنی ۔دبے لہجے میں وہ غرلائی تھی ۔
کیوں ڈر لگ رہا ہے کہیں شمازیہ نا سن لے کرتے ہوئے کیوں ڈر نہیں لگتا تمہیں ایک ہی چھت کے نیچے کے کالے کرتوت کرتے ہوئے ۔
ارے لعنت ہے تم اور تمہاری محبت پر محبت کا مذاق بنا کر رکھ دیا ہے تم نے۔
محبت تو پاکیزگی کا نام ہے اور تم نے محبت کا تماشہ بنا کر رکھ دیا ہے ۔نوری کا اس طرح ریحان کے ساتھ رہنا وہاج کو ذرا پسند نہیں تھا مگر آج نجانے کیوں وہ اسے آئینہ دیکھا رہا تھا ۔
میں گھٹیا عورت ہوں تو تم بھی کم گھٹیا انسان نہیں ہو ،
جس لڑکی کی محبت میں تم میرے ساتھ ہاتھ ملائے ہوئے ہو اس کے ہی بھائی کا گھر برباد کرنا چاہتے ہو ۔
اگر غلطی سے بھی تمہارے ان اعمالوں کا ارتضی شاہ کو پتا چل گیا تو تمہیں کیا لگتا ہے سب جاننے کے بعد بھی رائمہ سے ارتضی شاہ تمہاری شادی اس سے کروادیں گے ۔
تو یہ تمہاری سب سے بڑی بھول ہے وہاج انصاری ۔ایک دوسرے کو لاجواب کرتے ہوئے وہ شمازیہ کی موجودگی سے بے خبر لڑنے میں مصروف تھے ۔
میں تمہاری طرح گھٹیا تھوڑی نا ہوں ۔صرف ارتضی شاہ کو ریلائز کروانا چاہتا ہوں کہ محبت کے بغیر انسان خود کو کتنا بے بس محسوس کرتا ہے ۔دونوں کو ایک دوسرے کے ساتھ کتے بلی کی طرح ایک دوسرے پر لفظوں سے جھپٹتے لڑتے ہوئے دیکھ شمازیہ اہنے مردہ جسم کو گھسیٹتے ہوئے وہاں سے گئی تھی ۔
آج اس کے اعتبار کی موت ہوئی تھی جو وہ دبا میں سے زیادہ ریحان پر کرتی تھی ۔برداشت کرنا مشکل تھا مگر نا ممکن نہیں ۔شمازیہ اچھے سے جانتی تھی اسے آگے کیا کرنا تھا۔
مگر تم تو بڑی گھٹیا ہو میں حیران ہوں کہ میں تمہاری باتوں میں آکیسے گیا کہ تم ریحان کو نشہ آور گولیوں سے بے ہوش کرتی ہو اگر یہ سب سامان اہنی ان گناہگار آنکھوں سے نادیکھتا تو ۔
آج کے بعد میں تمہاری شکل بھی نہیں دیکھنا چاہوں گا ،ارتضی شاہ نے صحیح کہا تھا تمہیں تم ہو ہی ان الفاظوں کے لائق۔کہہ کر وہاج روم سے جانے کے لیے بڑھا تھا ۔
جب نوری اس کے سامنے نیند کی گولیوں کی بوتل سامنے لہراتی ہوئی نم آنکھیں لیے کھڑی ہوئی تھی ۔
میں گھٹیا ہوں مگر گری ہوئی نہیں ہوں ،اپنی زندگی میں بس ایک شخص کے سامنے خود پیش کرنے کی بھول کی تھی میں نے اور اس کی سزا ادھر رہ کر بھگت رہی ہوں ۔
مگر تمہیں کوئی حق نہیں ہے مجھے گھٹیا عورت کہنے کا ۔
یہ وہ بوتل ہے جس سے میں اپنی حفاظت کرتی ہوں جب جب ریحان ملک میرے کمرے میں اپنے کمزور نفس و کردار کو لیے آتا ہے جب جب میں اسے یہ کبھی دودھ میں کبھی شراب میں ملا کر دیتی ہوں ۔
یہ مت سمجھنا کہ میں تمہیں صفائی دے رہی ہو ۔کیونکہ میں اپنی صفائی صرف اپنے خدا کو دوں گی ۔
گولیوں سے آدھی بھری ہوئی بوتل بیڈ پر اچھالتی ہوئی وہ وہاج کو خاموش کروا گئی تھی ۔
دیر ہورہی ہے ماہین ہمارا انتظار کررہی ہوگی اس فتح کے بعد میں خود بھی تمہارا چہرہ دیکھنا پسند کروں گی ۔وہاج کو ساکت چھوڑ وہ کمرے سے چلی گئی تھی ۔
سکتے سے نکلتا ہوا وہ بھی نوری کے پیچھے گیا تھا ،جہاں آج ان کی شکست ارتضی شاہ کے روپ میں ان کا انتظار کررہی تھی ۔
جائیں نا ماہین ۔کئی بار اسے گاڑی سے اترنے کا کہتا ہوا ارتضی اب کی بار غصے سے بولا تھا ۔
میں نہیں جارہی اس چڑیل کے پاس ۔ماہین نے ارتضی کی گھوریون کو اگنور کیا تھا ۔
میں ہوں نا تو آپ ڈر کیوں رہی ہیں ۔ماہین کے ہاتھ پر دابو دیتا ہوا اس کا حوصلہ باندھ گیا تھا ۔
جلدی آئیے گا ۔گاڑی سے اترتی ہوئی وہ کہنا نہین بھولی تھی ۔
جائیں تو سہی ماہی کو نہوز وہی کھڑے دیکھ ارتضی زچ ہوا تھا ۔
جاری ہے ۔۔۔۔
