Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 25 Part 2

ارتضی شاہ کی منعقد کردہ شاعری کی محفل عروج پر تھی ۔
سب ہی بھرپور انداز میں حصہ لے رہے تھے ۔
وہیں اچانک سے حیدر شاہ کی خوبصورت آواز پر سب لوگ خاموش ہو بیٹھے تھے اسے سننے کی خاطر ۔
مجھ کو شاید ہرا بھرا کردے
تیری آواز معجزہ کردے ،،،،،،
مسکراتی ہوئی حیا حیدر کو دیکھ رہی تھی جبکہ حیدر سر جھکائے ہوئے کہہ رہا تھا ۔
رونے والوں کی خیر ہے سائین
خود کے بارے میں سوچ کر وہ پھیکا سا مسکرایا تھا ۔
ہسنے والوں کا ہی بھلا کردے ،
اب کی بار حیدر کی نظر بے ساختہ ہی حیا پر ٹھہری تھی جس کے چہرے پر دھنگ کے رنگ بکھرے ہوئے تھے ۔
یہ میری قید کا تقاضا ہے
ہر رہائی سے اب رہا کردے ،،
حیدر کے لہجے میں گھلے غم کو محسوس کرتا ہوا ارتضی شاہ حیران ہوا تھا ۔
آج سے پہلے تو حیدر کبھی اس طرح کی غزل نہیں پڑھتا تھا ۔
کیوں ساتھ رکھ دیا ہے اسے
جو جدا ہوگیا ،جدا کردے ۔۔۔۔ضبط سے دونوں لب آپس میں پیوست کیے آنکھیں بند کرگیا تھا ۔
تالیوں اور اوپر واہی پر نم آنکھوں سے حیا کے پر رونق چہرے کو دیکھ کر خود کو پرسکون کرنے کی کوشش کررہا تھا ۔
جو ارتضی بخوبی محسوس کرگیا تھا ۔
میں بھی کچھ عرض کروں ۔حیا کی شوخ آواز سن کر ارتضی نے اسے اشارہ سے ہاں کی تھی ۔
ارتضی کی موجودگی میں یہاں کوئی پابندی عائد نہیں کی گئی تھی ۔
مجھے تو دیکھنا بھی گوارا نہیں کررہے اور سب کے ساتھ مسکرا کر بات کررہے ہیں ۔ارتضی کو حیا کے ساتھ مسکراتے ہوئے دیکھ ماہین کو مزید تکلیف ہورہی تھی ۔
جو ارتضی بخوبی جانتا تھا۔
مختلف طریق سے ہر طرح ستایا اس نے
مجھ کو ہر وقت،،،،،،،،،ہر بار رلایا اس نے
حیا کے الفاظ کسی برچھی کی طرح ارتضی کے سینے کو چیرتے ہوئے جارہے تھے کرب سے ماہین کو دیکھ رہا تھا ۔
ارتضی کے دیکھنے کا انداز جتانے والا تھا ۔
ہر طرف شور تھا،،،،،،،،،جلتی حسرتوں کا
مرے سینے میں دشت کو بسایا اس نے
نفی میں گردن ہلاتا ہوا وہ ماہین کو شرمندہ کرکے نگاہوں کا رخ موڑ گیا تھا ۔
پھر کہیں جاکر بنی تصویر مرے ہونے کی
پہلے خوشبو میں مرے خواب کو ملایا اس نے
حیدر کی سمت محبت لٹاتی ہوئی نظروں سے دیکھتی ہوئی سب سے بے خبر ہوگئی تھی ۔
دعوے کرتا رہا وفاؤں کے خوب مجھ سے
مگر کسی غیر کو دل میں بسایا اس نے
حیا کے الفاظوںسے حیدر کے اوسان خطا ہوئے تھے ۔
اپنے ہی لوگوں کو،،،،،،،،،،،،آگ میں ڈال کر
یوں پھر فتح کا،،،،،،،،،جشن منایا اس نے
حیا کے الفاظ حیدر کی کیفیت غیر ہورہی تھی ۔
کاٹ کر میری ساری دلیلوں کو
فیصلہ اوروں کے حق میں سنایا اس نے
ڈاکٹر ہیر کے ساتھ ارتضی کو بات کرتے دیکھ ماہین حیا کے پاس سے اٹھ کر ارتضی کے برابر میں آکر بیٹھ گئی تھی ۔
ڈاکٹر ہیر جو اسے اس طرح اچانک سے ارتضی کے برابر میں بیٹھتے دیکھ حیرانگی سے مسکراتی ہوئی وہاں سے گئی تھی ۔
میسج ٹون سے الرٹ ہوتا ارتضی ماہین کی نگاہیں سامنے جاتی ہوئی ڈاکٹر ہیر پر جمے دیکھ مسکرایا تھا ۔


آپ یہاں اور ماہین میم وہاں پر اکیلی بیٹھی ہیں سب ٹھیک تو ہے نا سر ۔ ڈاکٹر ہیر کے منہ سے نکلے لفظ شاید ارتضی کی ذہن میں چلتے خیال کے عین مطابق تھے ۔
سب ٹھیک ہے ۔مبہم سا مسکراتے ہوئے ارتضی کو دیکھ کر ماہین سلگی تھی ۔
مجھے کیا دیکھے گے جب یہ چڑیل سامنے رہے گی تو ۔ماہین پر ترچھی نظر ڈالتا ہوا وہ مزید مسکرایا تھا ۔
آپ دیکھ لینا تھوڑی دیر بعد وہ یہاں پر ہونگی ۔اعتماد بھرے لہجے میں کہتا ہوا وہ ماہین اٹھتے ہوئے دیکھ چکا تھا ۔
ہوا وہی جو ارتضی شاہ چاہتا تھا ۔
آپ نے سہی کہا تھا سر میم آگئیں ۔ماہین کے بیٹھتے ڈاکٹر ہیر وہاں سے گئیں تھیں اور ساتھ ہی ارتضی کو میسج کرکے اس کے صحیح اندازے پر داد دے گئی تھی ۔
آئے کچھ ابر، کچھ شراب آئے
اس کے بعد آئے جو عذاب آئے
ارتضی کے بازوں پر سر رکھتی ہوئی وہ آنکھیں بند کیے سرگوشیانہ انداز میں بولنے لگی تھی ۔
جسے سننے کی خاطر ارتضی اپنی گردن کو ہلکا سا جھکا گیا۔
بامِ مینا سے ماہتاب اُترے
دستِ ساقی میں، آفتاب آئے
ہر رگِ خوں میں پھر چراغاں ہو
سامنے پھر وہ بے نقاب آئے
عمر کے ہر ورق پہ دل کو نظر
تیری مہر و وفا کے باب آئے
کر رہا تھا غم جہاں کا حساب
آج تم یاد بے حساب آئے
نہ گئی تیرے غم کی سرداری
دل میں یوں روز انقلاب آئے
جل اُٹھے بزم غیر کے در و بام
جب بھی ہم خانماں خراب آئے
اس طرح اپنی خامشی گونجی
گویا ہر سمت سے جواب آئے
فیض تھی راہ سر بسر منزل
ہم جہاں پہنچے، کامیاب آئے
نم آنکھیں لیے وہ ارتضی کو دیکھتی ہوئی واپس سے آنکھیں بند کرگئی تھی ۔
میں آپ ناراض نہیں ہوں ماہین بس آپ کو ریلائز کروا رہا ہوں ۔
میں اچھے سے جانتا ہوں جیسے میں آپ کے بغیر نہیں رہ سکتا ویسے ہی آپ بھی نہیں رہ سکتی پھر کیوں مجھے چھوڑ کر چلی گئی تھی آپ ۔سب سے آخری نشست پر بیٹھے ہوئے ارتضی اور ماہین کو دیکھ کر ڈاکٹر عامر مسکرائے تھے ۔


حیدر بھائی میرا بھی دل کررہا ہے ۔ڈاکٹر شاہ زین جو ڈاکٹر عامر کے چھوٹے بھائی تھے آج اس محفل میں ان کے ساتھ ہی آئے تھے مگر اپنا دل ہار بیٹھے تھے رائمہ کو دیکھ کر ۔
رائمہ کی منمناہٹ پر کافی دیر سے اسے اپنی نظروں کے حصار میں لیے ہوا شاہ زین مسکرایا تھا ۔
تم بھی سنا لینا مگر پہلے ڈاکٹر شاہ زین کو سنانے دو پھر ۔
اٹس اوکے حیدر پہلے انہیں سنانے دیئجے ۔رائمہ کی نظریں اچانک سے ڈاکٹر شاہ زین پر اٹھی تھی مگر اگلے ہی لمحے وہ ںطر جھکا گئی تھی ۔
نہیں ڈاکٹر شاہ زین آپ پہلے آپ سنا لیجئے پھر سنا دے گی ۔رائمہ کے ہاتھ پر دباؤ دیتا ہوا حیدر ارتضی کو یہاں نا دیکھ کر پریشان ہوا تھا ۔
بھول ھو گئ ہم سے جو تیری محفل میں آ بیٹھے …
زمین کی خاک ہو کے آسمان سے دل لگا بیٹھے..
نظریں جھکائے وہ فقط رائمہ کو دیکھ کر مسکرا رہا تھا ۔
اب میری باری ،ڈاکٹر عامر جو لب سے اپنے بھائی کی رائ۔ہ پر جمی نظریں دیکھ کر مسکرا اٹھے تھے ۔
اشک تھے اسکی ہتھیلی پہ وہی رکھ دئيے ہیں
خالی لوٹا نہیں ، دہلیز پہ آیا ہوا شخص
ٹوٹتے ٹوٹتے اس خواب کی بس راکھ بچی
دیکھتے دیکھتے اک روز پرایا ہوا ! شخص
وہاج کا خیال ہی اسے اذیت سے دو چار کرگیا تھا ۔
کتنا مشکل امر تھا اسے بھول جانا ہر روز وہ خود سے لڑ کر استنبول کے کی کوشش میں خود کو ہلکان کررہی تھی ۔
سب نے شعر یا غزل سنائے ہیں سوائے ماہین بھابھی کے ۔ڈاکٹر عامر کی آواز پر ماہین نے فورا سے ارتضی کے بازوں پر سے اپنا سر اٹھایا تھا ۔
کیوں ارتضی سب سے چھپا کر کیوں بیٹھ گئے ہو ۔ارتضی کے ست پر آن کھڑے ہوتے ہوئے وہ سب کو ارتضی اور ماہین کی سمت متوجہ کروا گیا تھا ۔
جی ماہین آپ بھی سنا دیں ،کسی اور کے بہانے سہی ارتضی نے اسے مخاطب کیا تھا ۔
میں نے سنا دیا ہے آپ کو ۔سرگوشی کرتی ہوئی وہ کنفیوز ہوئی تھی ۔
میں نے تو کچھ نہیں سنا آپ سنا دیں سب کو ،نظریں چراتا ہوا وہ مکر گیا تھا ۔
کاغذ پہ نہیں لکھتے کُچھ راز مُحبت کے
پل بھر میں بدل جاتے ہیں الفاظ مُحبت کے
ارتضی کے ہاتھ پر اپنا ہاتھ رکھے ہوئی وہ اپنے چکراتے ہوئے سر کو دوسرے ہاتھ سے تھامے ہوئے تھی ۔
اُسے ٹوٹ کر چاہا تو ہم خود بکھر گئے
ایسے بدل جاتے ہیں انداز مُحبت کے
ماہین کے الفاظ اسے سرشار کرگئے تھے ۔
اپنے بھاری ہوتے سر کو تھامے وہ وہاں سے گئی تھی ۔
ماہین کو اچانک جاتے دیکھ ارتضی اس کے پیچھے جانے کے لیے اٹھا تھا مگر ڈاکٹر عامر کے روکنے پر رک گیا تھا ۔


کیا حال ہیں معصوم لڑکی ۔۔بمشکل اپنے چکراتے و بھاری ہوتے سر کو پکڑے وہ اپنے کمرے میں جانے کے سیڑھیوں کی سمت بڑھی تھی ۔
جب اپنے رنگ کرتے فون کو بنا دیکھے وہ اٹینڈ کرگئی تھی ۔
کون ہیں آپ ،،بھاری ہوتا سر اوپر سے مقابل کی آواز پر وہ پریشان ہوئی تھی ۔
میں ارتضی شاہ کی پہلی محبت ۔نوری کی طرف سے پہلا وار کیا گیا تھا ۔
جو ماہین کے دماغ کو سن کرگیا تھا ۔
کیا بکواس ہے یہ ۔۔مقابل کے دعوے پر وہ اپنے بھاری ہوتے سر کو تھامے سیڑھیوں پر ہی بیٹھ گئی تھی ۔
بکواس نہیں سچ ہے یہ معصوم لڑکی، میں ارتضی شاہ کی وہ محبت ہو جسے وہ آج تک بھول نہیں سکا ہے ،
راتوں کو اٹھ کر باتیں کرتا ہے مجھے سے ۔نوری کی چہکتی ہوئی آواز پر ماہین کے اوسان خطا ہوئے تھے ۔
جھوٹ بول رہی ہو تم مجھے اپنے ارتضی پر پورا یقین ہے ۔اپنے دماغ کی نسیں اسے پھٹی ہوئی محسوس ہوئی تھی ۔
پریہا نور کبھی جھوٹ نہیں بولتی ۔پراعتماد لہجہ لیے وہ ماہین کو بد گمان کرنے کی بھر پور کوشش کررہی تھی ۔
کیا تمہارے نکاح سے پہلے ارتضی نے تمہیں طلاق دینے کا وعدہ نہیں کیا تھا۔نوری کے سوال پر ماہین چونکی تھی ۔
وہ مہذ ایک غلط فہمی تھی ۔بنا لڑکھڑائےوہ نوری کو لاجواب کرگئی تھی ۔
اور میں تمہاری باتوں میں نہیں آؤ گی مس جو بھی تمہارا نام ہے ۔
کیونکہ مجھے اپنے شوہر پر آنکھ بند کرکے یقین ہے وہ کچھ بھی ہوسکتے ہیں بے وفا نہیں سکتے ،
ان کی محبت فقط میں ہوں تم جیسی اے ٹو زی نہیں ۔مضبوط لہجے میں بولتی ہوئی وہ نوری سے زیادہ خود کو اعتماد دلا رہی تھی ۔
چلو چھوڑو ان سب باتوں کو، کبھی سوچا ہے کہ آدھی رات کو تمہارا شوہر نمازیں پڑھ کر کون سے گناہوں کی تلافی کرتا ہے ۔ماہین کی باتوں سے لاجواب ہوتی ہوئی وہ کچھ توقف بعد بولتی ہوئی ماہین کی خاموشی پر مسکرائی تھی ۔
مگر اگلے ہی پل ماہین کے قہقہ پر فون کان سے ہٹا کر دیکھتی ہوئی حیران ہوئی تھی ۔
دوسروں کے ہنستے بستے گھروں میں آگ لگانے سے بہتر ہے تم اپنے کام سے کام رکھو ۔
میں کوئی بیوقوف نہیں ہوں جو تمہاری باتوں میں آکر اپنے شوہر پر شک کروں ،
نوری کی خاموشی پر وہ پھر سے مخاطب ہوئی تھی ۔
کوشش اچھی تھی مگر مجھے ارتضی کے خلاف نا کرسکی ۔
کہہ کر وہ کال ڈیسکنیٹ کرگئی تھی ۔
حیرت سے فون دیکھتی ہوئی نوری وہاج کو کال ملا گئی تھی ۔
میں نے اپنی آخری کوشش کرلی ہے مگر ماہین پر کچھ اثر نہیں ہوا ۔ وہاج کو اپنی اور ماہین کے درمیان ہوئی ساری باتیں بتاتی ہوئی فون بند کرکے بیڈ ہر غصے سے فون کو پھینک گئی تھی ۔
تمہارا شوہر نمازیں پڑھ کر کون سے گناہوں کی تلافی کرتا ہے۔ نوری کی کہی بات ماہین ذہن میں بازگشت کررہی تھی ۔
سامنے سے لوازمات کی ٹرے لے جاتی ہوئی سوکھاں کو دیکھ کر اسے پکار گئی تھی ۔
سوکھاں ۔چکراتے سر کو اپنے دونوں ہاتھوں سے پکڑے ہوئی وہ بے ہوش ہوکر زمین پر گری تھی ۔
بی بی سرکار ۔ماہین کو بے ہوش دیکھ سوکھاں بھاگ کر اس کے پاس آئی تھی ۔


جاری ہے ۔