Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 16

کیا ہوا ہے اسے ارتضی ۔۔۔ارتضی جو خاموشی سے بیڈ کے پاس رکھی چیئر پر بیٹھا ماہین کو ہی دیکھ رہا تھا شاہدہ بیگم نے اس سے فکر سے پوچھا تھا ۔
بی پی لو ہونے کی وجہ سے بے ہوش ہوئی ہیں ۔ دن بھر کی تھکان کی وجہ سے بی لو ہوجانا نارمل ہے ۔۔ارتضی با آسانی ماہین کو شاکڈ کی وجہ سے ہوئی بےہوشی کو بی پی لو کا نام دے گیا تھا ۔
انہیں آرام کرنے دیں ۔۔۔ماہین کے سرہانے بیٹھی ہوئی شاہدہ بیگم اور شاکرہ بیگم کو نرم لہجے میں کہتا ہوا خود ہنوز ماہین کے ہاتھ کو تھامے ہوئے تھا ۔
میرا خیال ہے کہ ارتضی بھائی صحیح کہہ رہے ہیں ہمیں ماہین آپی کو آرام کرنے دینا چاہیے ۔
اور پھر نیچے مہمانوں کو بھی دیکھنا ہے ۔۔حیا کی بات سے متفق ہوتی نرجس بھی ارتضی کو ماہین کا ہاتھ پکڑے دیکھ لب دبائے مسکرائی تھی ۔
ارتضی بھائی جب تک ہم مہمانوں کو دیکھ رہے ہیں جب تک آپ آپی کے پاس ہی رہیئے گا کیا پتا کب ہوش آجائے ۔۔حیا نے فورا سے جواز پیش کیا تھا ارتضی کو ماہین کے پاس روکے رکھنے کا ۔
جی ۔۔۔ماہین کی پیشانی پر بوسہ دیتی ہوئی شاہدہ بیگم ایک کونے میں کھڑے دلاور شاہ کے تنے ہوئے اعصاب دیکھ کر حیران ہوئی تھیں ۔
آئیں آپا ۔۔۔۔شاکرہ بیگم کے پیچھے شاہدہ بیگم روم سے نکلی تھیں ۔۔
ماہین کے میک زدہ چہرے کو نم آنکھوں سے دیکھتے ہوئے ریاض صاحب اور حمدان صاحب بھی روم سے گئے تھے ۔
انکل چلیں ۔۔۔خاموش کھڑے دلاور شاہ کے قریب آکر حیا نے انہیں پکارا تھا ۔
جی بیٹا ۔۔۔۔۔روم سے جاتے ہوئے حیا اور نرجس نے مڑ کر ارتضی کو ماہین کے پاس بیٹھتے ہوئے دیکھ مسکرائی تھیں ۔۔۔
مَیں نے ہر بار نَئی آنکھ سے دیکھا تُجھ کو🥀❣️
مُجھ کو ہر بار نَیا عِشق ہُوا ہے تُجھ سے..🥀❣️
یہ کیا ماہین ارتضی شاہ! آپ تو بہت کمزور دل کی واقع ہوئیں ہیں ۔
مجھے لگا تھا ماہین بخاری بہادر ہے دوسرے کے حق میں بنا کسی فائدے کے لڑنے کا جذبہ رکھتی ہے ،پھر مجھے دیکھتے ہی اپنے ہوش کھو گئیں آپ ۔۔۔ماہین کو بے ہوش دیکھ وہ بس بولتا ہی جارہا تھا ۔
میں مانتا ہوں ہماری پہلی ملاقات کا اثر ہے آپ کے چھوٹے سے دماغ پر مگر اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ آپ مجھ سے بلاوجہ نفرت کریں ۔۔۔
میں ایسا تو نہیں چاہتا تھا ! کہ آپ مجھ سے نفرت کریں۔۔،
یہ جو تمہاری بے فضول کی بدگمانیاں ہیں مجھے لے کر انہیں دور کرنے کی پوری کوشش کروں گا یہ میرا وعدہ ہے آپ سے ۔۔ماہین کے نازک ہاتھ کو نرمی سے سہلاتا ہوا وہ اسے دیکھ کر پر امید ہوا تھا ۔
میں اتنا برا نہیں ہوں ماہین اور آپ کے معملے میں تو میں خود سے بھی لڑ سکتا ہوں مگر آپ کو تکلیف دینے کا سوچ بھی نہیں سکتا ۔۔۔
پتہ نہیں کب آپ میرے دل و دماغ پر قابض ہوگئیں احساس ہی بھی نہیں ہوا مجھے ۔۔۔
پتا ہے جب ماں سرکار نے میرا رشتہ طے کیا تو یوں لگا جیسے سب کچھ ختم ہوگیا ہے ایک دم سے سب کچھ رک گیا ہو ۔۔۔
دل تو کیا ایک ہی پل میں خود کو ختم کردوں۔۔اپنا حال دل بیان کرتا ہوا وہ ماہین پر نظریں جمائے بیٹھا تھا ۔
جب آپ کا نام بابا کے منہ سے سن تو پل بھر کے لیے میں حیران ہوگا تھا کہ میں اتنا خوش قسمت کیسے ہوسکتا ہوں جسے ایک بار مانگنے پر وہ مل رہا ہے جس کی اس نے خواہش کی تھی ۔
اپنی حالت پر وہ خود ہی مسکرایاتھا ۔
اب آپ کے بغیر ارتضی شاہ ادھورا ہے ماہین ۔۔بے خودی میں ماہین کے ہاتھ پر لب رکھتا ہوا اس کے صبیح چہرے کو دیکھ کر مسکرایا تھا ۔
**لہو میں گونجتی تم ہو ثبوتِ زندگیتم ہو،،
جدھر جاؤں تمہیں پاؤں
جدھر دیکھوں تمہی تم ہو!
تمہیں پایا دعاؤں سے
حصولِ بندگی تم ہو
،،
مرا ہر غم تمہی سے ہے
مری ہر اک خوشی تم ہو
،،
کہا یہ حسن والوں نے
معیارِ عاشقی تم ہو،، چلی یہ سانس تو جانا کہیں مجھ میں تھمی تم ہو! مجھے سب کچھ میسر ہے مری بس اک کمی تم ہو،،
زمانہ ساتھ تھا لیکن
مرے سنگ بس جچی تم ہو!
نہیں آسیب کا خدشہ
مرے دل میں بسی تم ہو،، میں تم میں ڈوب جاتا ہوں کہ خوابوں کی ندی تم ہو،،
جو دیکھوں ہاتھ کی ریکھا
لگے یوں کہلکھی تم ہو! پیرانِ شہر سے پوچھو زمیں پہ اک پری تم ہو،، اکڑتے ہیں ترے دم پر غرورِ دوستی تم ہو،،
ہے کتنی خوب یہ نسبت
سوالی میں سخی تم ہو،، مری پہلی محبت کی دعائے آخری تم ہو،، نا میرا تذکرہ ہو تو کہانی ان سنی تم ہو! ذرا حالات بدلے ہیں وہی میں ہوں وہی تم ہو،، وہ رستے چوم لے کبھی جن پر چلی تم ہو

آپ میری طاقت ہیں ماہین اور کمزوری بھی ۔۔۔
پتہ نہیں کیوں ایسا لگتاہے آپ کبھی میری محبت کو سمجھ نہیں پائیں گی ۔۔۔عجیب سے بے چینی محسوس کرتا ہوا وہ اداس ہوا تھا ۔
مگر میں آپ کو ہر بار زندگی کے ہر موڑ پر اپنی محبت کا احساس دلواتا رہوں گا ۔خود سے عہد کرتا ہوا وہ پراعتمادی سے بول رہا تھا۔
کیونکہ ارتضی شاہ نے کبھی ہارنا سیکھا ہی نہیں ہے ۔۔
جانتا ہوں ہوش میں آنے کے بعد میری شکل بھی نہیں دیکھنا چاہیں گی بھی اس لیے آپ کو اس حال میں چھوڑ کر جارہا ہوں ۔۔
اپنا خیال رکھیئے گا ماہین اپنے لیے نا سہی پر میرے لیے رکھیئے گا ۔۔۔
اپنی جگہ سے اٹھتا کھڑا ہوا تھا چاہنے کے باوجود بھی ماہین کے چہرے پر نظر ڈالے بغیر وہ وہاں سے چلا گیا تھا ۔۔۔


کیسی ہے اب ماہین ،ریاض صاحب کو افسردہ دیکھ صائمہ انصاری ان کے پاس آئی تھیں ۔
بہتر ہے ماشاءاللہ سے اب ۔۔سرسری سا جواب دیتے ہوئے ان کے پیچھے آتے وہاب کو دیکھ کر سرد آہ بھر گئے تھے ۔
کھانا کھایا آپ لوگوں ۔۔
جی ۔۔۔۔مختصر سا سوال وہاب انصاری سے پوچھتے ہوئے وہ وہاں سے گئے تھے ۔
میں زندگی بھر صائمہ ریاض کا مقروض رہوں گا ۔
میں بھی ۔۔۔۔ریاض صاحب کو جاتے دیکھ وہ شرمندہ ہوئے تھے۔
بہت پیاری لگ رہی ہو ۔رائمہ کو اکیلے دیکھ وہاج سرگوشی کرتا ہوا مسکرایا تھا ۔
شکریہ ۔۔بنا وہاج کو دیکھے وہ تعریف وصول کرگئی تھی ۔
کیا ہوا ہے ۔وہ زچ آیا تھا رائمہ کے لیے دیئے لہجے سے ۔
تمہارے لیے کچھ نہیں ہوا اور نا ہی کبھی ہوگا ۔چبا کر کہتی ہوئی وہ ارتضی لو آتے دیکھ فورا سے اس کے پاس گئی تھی ۔
ایسا کیا کھیل کھیلا ہے ارتضی بھائی آپ نے ۔ارتضی کو دیکھ وہ سوچ ہی سکا تھا۔
اجازت دیجئے انکل پھر ملاقات ہو۔۔۔۔۔۔۔۔پھر کیا اب تو ہر روز ملاقات ہوگی کل صبح تیار رہنا ہمارے ساتھ شہر چلنا ہے تمہیں شادی کی شیروانی لینے کے لیے ۔۔ارتضی کی بات کاٹتے ہوئے حمدان صاحب دلاور شاہ کو دیکھ کر بولے تھے۔
انشاءاللہ انکل ۔۔۔سر جھکائے وہ عاجزی سے بولا تھا ۔
یہ خوب کہا بھائی صاحب آپ نے کل تک تو حیدر بھی آجائے گا ۔۔۔
مگر خالہ جانی وہ تو رات تک آئیں گے نا ۔۔شاہدہ بیگم کی بات پر حیا حیران ہوئی تھی ۔
ہاں آنے والا تھا مگر اب وہ صبح تک ہمارے ساتھ ہوگا ۔ارتضی کے نکاح کا سن کر ہی حیدر نے لندن سے پاکستان آنے کی پہلی فلائٹ لی تھی ۔۔
انشاءاللہ ۔۔حیدر کے آنے کی خبر حیا کے چہرے پر مسکراہٹ بکھر گئی تھی ۔


مجھے یہاں نہیں رہنا مجھے جانا ہوگا ورنہ وہ جلاد انسان۔۔۔نہیں میں نہیں رہوں گی یہاں ۔۔اپنے برابر میں سوئی ہوئی حیا کو دیکھ کر وہ اپنی جگہ سے اٹھی تھی ۔
آدھی رات کو کہین جاکر اسے ہوش آیا تھا اور تھوڑی دیر پہلے ہی حیا کی آنکھ لگی تھی ۔
دبے قدم سیڑھیاں اترتی ہوئی وہ منہ اندھیرے گھر سے باہر نکلی تھی ۔
حیا ماہین کہاں ہے بیٹا ۔۔شاکرہ بیگم جو پہلے نرجس کو اکیلے آتے دیکھ اس سے پوچھ گئی تھیں اب گیا کو آتے دیکھ وہ حیا سے بھی پوچھ گئی تھی ۔
امو جانی آپی نہیں ہیں اوپر میں تو سمجھی تھی کہ وہ نیچے ہیں ۔۔وہ حیران ہوئی تھی ۔
یااللہ یہ لڑکی کہ ان چلی گئی ہے ۔تمہارے بابا اور ریاض بھائی بھی گھر پر نہیں ہیں ۔۔پیشانی پر ہاتھ رکھ کر وہ صوفے پر گرنے کے انداز میں بیٹھی تھیں ۔
امو پریشان نا ہوں میں دیکھتی ہوں وہ کہاں گئی ہیں ۔
جی تائی امی آپ پریشان نا ہوں آجائے گی پاس میں ہی گئی ہوگی ۔خود پریشان ہونے کے باوجود وہ شاکرہ بیگم کو ہمت سے کام لینے کا کہتی ہوئی دل ہی دل میں ماہین کے لیے دعاگو تھی ۔


بھائی کو سلام پیش کروں گا جاتے ہی چار سال کیسے لندن میں گزار لیے انہوں نے ۔
عجیب خوشی محسوس ہورہی ہے مجھے جیسے صدیوں بعد کوئی قیدی رہا ہوتا ہے نا بلکل ایسی ہی فیلینگ محسوس ہورہی ہے ۔۔ڈرائیور کے ساتھ دوستانہ لہجےکرنےمیں بات کرتا ہوا چار دن میں لندن سے اکتا گیا تھا ۔
جی سرکار اپنی سر زمین کی بات ہی اور ہے ۔وہ بھی حیدر کے ساتھ کسی پرانے دوست کی طرح مسکرا رہا تھا ۔
یہ غلام رسول کیوں نہیں آیا مجھے لینے ۔۔ونڈو سے باہر دیکھتا ہوا وہ غلام رسول کے نا آنے پر حیران ہوا تھا ۔
ایک عرصے سے وہ ہی ائیر پورٹ سے سب کو لانے کی ذمہ داری نبھاتا آیا تھا۔
وہ بی بی سرکار کے ساتھ شہر ہی آئے گا سرکار سائیں کے ساتھ شادی کی خریداری کے لیے ۔۔کار کے سامنے کسی لڑکی کو آتے دیکھ وہ فورا سے بریک لگا گیا تھا ۔
کیا ہوا راشد اچانک بریک کیوں لگایا ۔۔اچانک بریک لگنے کی وجہ سے فرنٹ چیئر پر اس کا سر لگا تھا ۔۔
سائین سامنے کوئی لڑکی آئی ہے اور مجھے لگاتا ہے زخمی ہوگئی ہے ۔۔راشد کی آواز میں کپکپاہٹ حیدر نے بخوبی محسوس کی تھی ۔
سائین ہم چلتے ہیں ۔۔۔۔
کیا بکواس کر رہے ہو تم ایک لڑکی کا ایکسیڈنٹ ہوا ہے ہماری کار سے اور تمہیں اسے زخمی حالت میں ہسپتال لے جانے کے بجائے یہاں سے بھاگنے کی بات کررہے ہو ۔۔تپ کر کہتا ہوا حیدر گاڑی سے اتر کر اپنی گاڑی کے عین سامنے سیاہ سوٹ میں ملبوس لڑکی کو دیکھ کر حیران ہوا تھا ۔
ماہین کو اٹھائے وہ گاڑی کی سمت بڑھا اور راشد گاڑی اسٹارٹ کرو جلدی اور فارم ہاؤس کی طرف لو،ماہین کو دیکھ کر اس کے ہاتھ پیر پھولے تھے ۔
ماہین کی پیشانی پر لگی ہلکی سی کھروچ دیکھ کر ہیاس کا دل مٹھی میں آگیا تھا ۔
کچھ دیر کی مسافت طے کرنے کے بعد وہ فارم ہاؤس میں موجود اللہ بخش کی بیوی زرینہ کی مدد سے ماہین کو اندر لے کر گیا تھا ۔
زرینہ آپ بی بی کا خیال رکھنا میں صبح یہاں کا چکر لگاؤں گا جب تک بی بی آپ کی ذمہ داری اور آں کا ہر لحاظ رکھنا ہے کوئی کوتاہی نہیں ہونی چاہئے ۔۔۔اپنی پوری تسلی کے بعد ماہین کو زرینہ کے حوالے کرتا ہوا وہ حویلی کے لیے نکلا تھا جہاں اس کا انتظار کیا جارہا تھا ۔


آئے کچھ ابر، کچھ شراب آئے
اس کے بعد آئے جو عذاب آئے
بامِ مینا سے ماہتاب اُترے
دستِ ساقی میں، آفتاب آئے
ہر رگِ خوں میں پھر چراغاں ہو
سامنے پھر وہ بے نقاب آئے
عمر کے ہر ورق پہ دل کو نظر
تیری مہر و وفا کے باب آئے
کر رہا تھا غم جہاں کا حساب
آج تم یاد بے حساب آئے
نہ گئی تیرے غم کی سرداری
دل میں یوں روز انقلاب آئے
جل اُٹھے بزم غیر کے در و بام
جب بھی ہم خانماں خراب آئے
اس طرح اپنی خامشی گونجی
گویا ہر سمت سے جواب آئے
فیض تھی راہ سر بسر منزل
ہم جہاں پہنچے، کامیاب آئے
رات بھر ماہین کے بارے میں سوچ کر ویسے ہی اسے نیند نہیں آئی تھی اور صبح سے حمدان اور ریاض صاحب کے شیروانی کا سائز دینے کے بعد شہر سے دور اور گاؤں سے کچھ دور مسافت پر سنسان راستوں پر گاڑی دوڑاتا ہوا وہ تھک گیا تھا ۔
آرام کی غرض سے دور جنگل کے بیچوں بیچ اپنی منشا مطابق بنائے گئے فارم ہاؤس پر نظر پڑتے ہی اس کے لب مسکرائے تھے ۔
انٹر گیٹ پر سیاہ ڈریس میں ہاتھوں ہتھیار لیے کھڑے دو گارڈز نے اسے دیکھ کر بلند آواز میں سلام کیا تھا ۔
اپنی بلیک پراڈو سے اتارتا ہوا وہ سنجیدگی سے سر کو خم کرتا وہ جواب دے گیا تھا ۔
سرکار سائین ۔آپ آنے سے قبل بتا دیتے تو میں زرینہ سے کہہ کر تیاری کروا دیتا ۔۔ اللہ بخش نے سر کو جھکا کر بولا تھا ۔
اللہ بخش جو کافی عرصے فارم ہاؤس کی نگرانی کے لیے اپنی بیوی زرینہ کے ساتھ یہاں رہتا تھا۔
بنا کوئی تاثرات دیئے وہ اندر داخل ہوا تھا ۔
سب سے ویسا ہی تھا جیسا وہ چھوڑ کر گیا تھا ۔یہ دیکھ کر ارتضی کے لب مسکرائے تھے ۔
سلام سائین سرکار ۔۔۔سادہ سے کاٹن کے سوٹ میں سر جھکا کھڑی زرینہ نے ایک بھرپور جائزانہ نظر اپنے سائیں سرکار پر ڈالی تھی ۔جو جب سے آیا تھا۔
چہرے پر سنجیدگی لیے کھڑا تھا ۔۔
بلیک پیٹ شرٹ پہنے اپنی کشادہ پیشانی پر بکھرے بالوں کو سائیں ہاتھ سے پیچھے کرتا ہوا وہ زرینہ کو خود کو دیکھتے پاکر مسکرایا تھا ۔
ماشاءاللہ آپ تو بلکل بدل گئے ہیں، ،زرینہ مسکرائی تھی ۔
اور آپ بلکل نہیں بدلی۔۔۔۔جب سے وہ یہاں آیا تھا پہلی بار مسکرا کر جواب دیتا ہوا زرینہ کے دیکھنے پر چوٹ کرگیا تھا ۔
جس پر زرینہ مزید مسکرائی تھی ۔
سرکار سائین وہ بی بی جب سے آئی ہیں وہ کچھ نہیں کھا رہی ہیں ۔دونوں ہاتھوں کو آپس میں مسلتی ہوئی زرینہ ڈری تھی ۔
کون بی بی ۔۔۔۔نا سمجھی میں زرینہ کو دیکھتا ہوا وہ استفسار کررہا تھا ۔
وہ ہی سرکار سائین جو صبح چھوٹے سرکار کے ساتھ آئی تھیں ،تھوڑی زخمی تھیں مگر میں نے مرہم پٹی کردی ہے ان کی ۔۔ارتضی کی لاعلمی پر زرینہ پچھتائی تھی ۔
حیدر کے ساتھ ۔۔۔اس نے یقین دہانی چاہی تھی ۔
جی سرکار ۔۔۔زرینہ نے سر ہلایا تھا۔۔۔
کون سے روم میں ہیں وہ اس وقت ۔۔اسے پریشانی ہوئی تھی حیدر کو کسی لڑکی کے ساتھ سوچ کر ۔
سائین سرکار انہیں تو چھوٹے سرکار نے آپ کے کمرے میں ٹھہرایا ہے ۔زرینہ کے بتانے پر وہ دیوانہ وار اپنے روم کی سمت بڑھا تھا ۔
یہ خوبصورت اور عالیشان فارم ہاؤس امریکن کچن ،لیونگ روم کے ساتھ تین رومز پر مشتمل تھا ۔
اس فارم ہاؤس کا سب سے خوبصورت اور وسیع روم ارتضی شاہ کا تھا جس میں ارتضی شاہ کے علاوہ وہاں کسی کو قدم رکھنے کی اجازت نہیں تھی ۔
حیدر لڑکی کو میرے روم ٹھہرایا ہے تم نے ۔۔خود پر ضبط کرتا گیٹ کے لاک پر ہاتھ رکھ کر کھول گیا تھا ۔
گیٹ کھولتے ہی کوئی چیز اس پر پھینکی گئی تھی ۔ اس اچانک ہوئے حملے سے خود کو بچاتا ہوا جھک گیا تھا ۔
سامنے بیڈ پر سیاہ سوٹ میں ملبوس بیٹھی ماہین کو دیکھ کر اسے خوشگوار حیرت ہوئی تھی ۔۔
اپنے مضبوط قدم بڑھاتا ہوا وہ ماہین کے عین سامنے کھڑا ہوا تھا ۔
ہا۔۔۔۔۔۔۔۔یہ کونسا طریقہ ہے بیگم اپنے ایک رات پرانے شوہر کا استقبال ایسے واز پھینک کر کرتے ہیں کیا ۔۔۔۔
چچچچچچچ۔۔۔۔۔۔افسوس صد افسوس ۔۔۔۔۔
اب ایسے مجھے دیکھو گی تو یہ میرا معصوم سا دل بغاوت پر اتر آئے گا ۔۔۔۔۔
“اس پیار سے میری طرف نا دیکھو پیار ہوجائے گا
یہ پیار ہوگیا تو تیرے دل کے پار ہوجائے گا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”
حد درجہ رونے کی وجہ سے سرخ ہوئی ماہین کی آنکھوں پر چوٹ کرتا ہوا وہ اپنی فطرت کے برعکس شوخ ہوتا گنگنایا تھا ۔
گھٹیا انسان ہیں آپ ۔۔بھرائی آواز میں وہ بمشکل بولی تھی ۔
یہ کس بتایا تمہیں، ،جس نے بھی بتایا ہے بلکل صحیح بتایا ۔ڈھٹائی سے بولتا ہوا وہ ماہین کی پیشانی پر بندھی پٹی دیکھ کر پل بھر کے لیے افسردہ ہوا تھا۔
ڈھیٹ ہیں آپ ۔۔۔
میری بیگم مجھے اتنے اچھے سے جانتی ہے ۔جان کر خوشی ہوئی خانم ۔۔ماہین کو اپنے روم میں دیکھ کر اسے عجیب سی خوشی محسوس ہورہی تھی ۔
نہیں ہوں میں آپ کی بیوی ۔۔ہنوز روتی ہوئی وہ ارتضی کو سنجیدہ کرگئی تھی ۔
ویسے بیگم اگر آپ کو رخصتی کی اتنی جلدی تھی بے ہوش ہونے سے پہلے مجھے بتا دیتی تو میں کل ہی رخصتی کا انتظام کروادیتا ۔۔ڈریسنگ ٹیبل پر اپنی ریسٹ واچ رکھتا ہوا جان بوجھ کر اسے کلسا رہا تھا ۔۔
گھر پر انفارم کیا تھا گھر سے نکلنے سے پہلے ۔۔ سنجیدگی سے پوچھتا ہوا وہ میرر سے نظر آتی ماہین نے نفی میں گردن ہلا گئی تھی ۔
جس پر لب دباتا ہوا وہ اپنی پاکٹ سے سیل فون نکالتا ہوا ماہین کے قریب آبیٹھا تھا۔۔
یہ میرے سامنے اچھا بننے کی ادکاری مت کریں ۔ریاض صاحب کا نمبر ڈائل کرتے دیکھ اسے باور کرواگئی تھی ۔
کس نے کہا خانم میں اچھا انسان ہوں ۔۔سنگدل ہوں جلاد ہوں جلاد ۔ایک آنکھ دبائے وہ شرارت سے گویا ہوا تھا ۔
اسلام وعلیکم ۔۔خیر سے پہنچ گئے گھر آپ ۔۔نرم لہجہ لیے وہ ماہین کو حیران کرگیا تھا ۔
جی بیٹا پہنچ گئے ہیں خیریت ہے آپ نے اچانک سے فون کیا ۔
جی جی انکل سب ٹھیک ہے آپ فکر مت کیجئے گا۔
وہ اصل میں ماہین کا چھوٹا سا ایکسیڈنٹ ہوگیا تھا ۔۔
ماہین کا ایکسیڈنٹ ہوگیا کیسی ہے وہ کہاں ہے وہ ۔۔ریاض صاحب کے ساتھ باقی سب بھی پریشان ہوئے تھے ماہین کے ایکسیڈنٹ کا سن کر ۔
پریشان نا ہوں انکل ملازمہ نے بتایا ہت ذرا سی کھروچ آئی ہے ۔جھوٹ بولتا ہوا وہ ماہین کے منہ پر ہاتھ رکھتا ہوا اسے بولنے سے باز رکھ گیا تھا۔
میری بات ہوسکتی ہے اس سے ۔فون اسپیکر پر کرتا ہوا ریاض صاحب کی ڈیمانڈ پر وہ بھنویں سکیڑ کر ماہین کے ضبط سے سرخ ہوتے چہرے کو دیکھ وہ مسکرایا تھا ۔
کروا تو دوں انکل پر میں دوسرے روم میں ہوں اور ماہین دوسرے روم میں ہیں ۔۔لہجے میں معصومیت سموئے وہ خود کی اداکاری پر مسکرایا تھا ۔
جھوٹا مکار ۔۔۔۔دل ہی دل میں ہی اسے نئے ناموں سے نواز سکی بول تو سکتی نہیں تھی ۔
کیوں بیٹا بیوی ہے آپکی شرعی اور قانونی حق ہے آپ کا جائیں اور دیکھیں زیادہزیادہ تو چوٹیں نہیں لگی اسے ۔۔سنو آبرو سے اشارہ کرتا ہوا وہ ماہین کی غصے سے پھٹی آنکھوں کو دیکھ کر واپس سے سنجیدہ ہوا تھا ۔
جی انکل آپ کہتے ہیں تو میں دیکھ لیتا ہوں ۔آپ فکر مت کیجئے گا میں ماہین کو سیفلی گھر ڈراپ کردوں گا ۔۔
اب فکر کی کوئی بات نہیں ہے ماہین آپ کے ساتھ ہے یہ جان کر میں پرسکون ہوگیا ہوں۔۔۔حمدان صاحب پرسکون ہوتے اپنے روم کی جانب بڑھے تھے ۔
وہیں شاکرہ بیگم شکر خدا کرتی ہوئیں مسکرائیں تھیں ۔
جاری ہے ۔۔۔۔۔