Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 26 Part 1

کیوں نا ہم اپنی دوستی کو رشتے داری میں بدل دیں ارتضی ۔ڈاکٹر عامر کی بات پر حیدر کے ساتھ بیٹھے ہوئے شاہ زین پر ارتضی کی نظر ٹھہری تھی ۔
بہت خوب ارتضی، بلکل صیحح جگہ نگاہ ٹھہری ہے تمہاری ،میں شاہ زین کے لیے رائمہ کا ہاتھ مانگنا چاہتا ہوں دلاور انکل سے ،تم اچھے سے جانتے ہو شاہ زین کی نیچر کے بارے میں، ایک طویل عرصہ آسٹریلیا میں گزارنے کے باوجود بھی اساس مین کسی قسم کی کوئی بری نہیں ہے ۔ایک قابل ڈاکٹر بن گیا ہے اب تو وہ ۔ ارتضی کو ابھی شاہ زین کو دیکھتے پاکر وہ پھر سے مخاطب ہوئے تھے ۔
اگر تمہیں کوئی اعتراض ہے تو یہاں پر ہی بات ختم کردیتا ہوں ۔ارتضی کی خاموشی انہیں انکار لگی تھی ۔
بہت اچھا خیال ہے آپ کا ڈاکٹر عامر، بیشک ڈاکٹر شاہ زین بہت ہی قابل ہیں اور ویسے شاہ زین جیسے سنجیدہ انسان کے لیے میں کبھی بھی انکار نہیں کر سکتا ۔ارتضی کی بات آنکھیں کو تھوڑی دیر کے لیے خوشی بخش گئی تھی ۔
مگر بابا سرکار نے رائمہ ،،،،دلاور شاہ نے ارتضی کی بات بیچ میں کاٹی تھی ۔
رائمہ کے رشتے کے بارے میں ہم کچھ سوچا نہیں ہے ،ارتضی کے حیرت زدہ چہرے کو دیکھ کر ڈاکٹر عامر ناسمجھی میں مسکرائے تھے ۔
کیا مطلب انکل ۔دلاور شاہ کی طرف دیکھتے ہوئے وہ ناسمجھی میں پوچھ رہے تھے ۔
مطلب یہ ہے کہ مجھے کوئی اعتراض نہیں ہے ۔آخر کو شاہ زین آپ کا بھائی ہے تو انکار کی کوئی وجہ ہو ہی نہیں سکتی ۔ارتضی کی طرف دیکھ کر وہ مسکرائے تھے ۔
جبکہ ارتضی انہیں مسکراتے دیکھ اپنی نگاہ کا رخ موڑ گیا تھا ۔
بہت شکر گزار ہوں آپ کا کہ مجھے اتنا مان دیا مجھے ۔دلاور شاہ کے ساتھ بغلگیر ہوتے ڈاکٹر عامر کی خوشی کا کوئی ٹھکانہ نا رہا تھا ۔
اللہ پاک دونوں کو ہمیشہ ایک ساتھ خوش رکھے ۔آمین ۔ڈاکٹر عامر کی خوشی کو دیکھ کر ارتضی بھی مسکرایا تھا ۔
جب آپ نے وہاج کے ساتھ رائمہ کا رشتہ فکس کرچکے ہیں تو ڈاکٹر عامر کو ہاں کیوں کی آپ نے ۔ڈاکٹر عامر کے جاتے ہی ارتضی ان سے مخاطب ہوا تھا ۔
کون سی نئی سیاست کھیل رہے ہیں آپ میری سمی کے ساتھ ۔دلاور شاہ حیران ہوئے تھے ارتضی کے سرد لہجے کو سن کر ۔یہ بھی ان کے خود کی ہی کی گئی سیاست کا اثر تھا جو ارتضی ان سے بدگماں ہوگیا تھا ۔
صائمہ کو میں معاف کرچکا ہوں پر اس کے ساتھ کوئی بھی رشتے داری کرنے کا میرا اب ارادہ نہیں ہے ۔اپنے پاس کھڑے ارتضی کو دیکھ کر شرمندگی سے کہہ کر وہاں سے چلے گئے تھے ۔
انہیں جاتے دیکھ ارتضی شاہ چاہ کر بھی انہیں روک نہیں سکا تھا ۔


محفل اپنے اختتام کو پہنچ چکی تھی ،آدھے سے زیادہ مہمان الوداعی کلام کرتے ہوئے ارتضی شاہ کے اجازت طلب کرکے جاچکے تھے ۔
چند ایک مہمان باقی تھے جن ڈاکٹر عامر ،شاہ زین ،ہیر اور چند ایک اسٹاف میں سے جو ڈاکٹر عامر کے ہمراہ شاہ حویلی سے نکلے تھے ۔
ڈاکٹر ہیر کے علاوہ جنہیں ارتضی نے اپنے ڈرائیور کے ساتھ بھیجنے کا کہہ کر ڈرائیور کو بلانے کے لیے گیا تھا ۔
بی بی سرکار وہ بی بی بے ہوش ہوگئیں ہیں ۔بھاگ کر آنے کی وجہ سے سوکھاں کے سانس اکھڑے ہوئے تھے ۔
ماہین آپی کی بات کررہی ہو تم ،شاہدہ بیگم کے ساتھ حیا اور بھی پریشان ہوئیں تھیں ۔
جی بی بی سائیں ۔ماہین کا سن کر حیا سب سے پہلے حویلی کے اندر کی طرف بھاگی تھی ۔
رائمہ تم جاؤ اور ارتضی کو بلاؤ اور ڈاکٹر ہیر کو فورا سے لے کر آؤ ۔حیا کے پیچھے وہ بھی وہاں سے گئیں تھیں ۔
ارتضی بھائی ماہین بھابھی بیہوش ہوگئی ہیں آپ جلدی سے چلیں ۔ڈاکٹر لے ہمراہ وہ ارتضی کو سائیڈ پر لے جاتی ہوئی نم لہجے میں بول رہی تھی ۔
ماہین کا نام سنتے ہی ارتضی بنا کوئی تاثرات دیئے فورا ماہین کے پاس گیا تھا۔
کچھ توقف کے بعد ماہین کا ٹریٹمنٹ کرتی ہوئی ڈاکٹر ہیر ارتضی کو پریشانی میں کمرے کے چکر کاٹتے دیکھ مسکرائی تھی ۔
کیا ہوا ہے ہیر میری بچی کو ۔حیا اور رائمہ دونوں ایک سائیڈ پر کھڑی ہوئی تھی جبکہ ماہین کی پیشانی پر ہاتھ رکھے ڈاکٹر ہیر سے پوچھ رہی تھیں ۔
بتائیں نا ڈاکٹر ہیر کیا ہوا ہے ماہین کو ۔ارتضی کے ضبط کا پیمانہ لبریز ہوا تھا ۔
گھبرانے والی کوئی بات نہیں ہے سر ،کمزوری کے باعث میم بے ہوش ہوگئی ہے اور ویسے اس کنڈیشن میں تو یہ سب نارمل ہی ہے ۔ڈاکٹر ہیر کے الفاظوں پر غور کرتے ہوئے ارتضی کے لبوں پر مسکراہٹ رینگی تھی مگر اگلے ہی پل وہ سنجیدہ کھڑا ہوا تھا ۔
کیا مطلب ہیر ۔شاہدہ بیگم کے پوچھنے پر وہ حئا اور رائمہ کو دیکھ رہی تھی جو نا سمجھی میں کھڑی ہوئی ڈاکٹر ہیر کو دیکھ رہی تھیں ۔
انہیں کچھ دیر میں ہوش آجائے گا اور انہیں کیا ہوا ہے یہ تو آپ کو ڈاکٹر ارتضی ہی بتائے گے ۔اور پھر آپ انہیں صبح ہسپتال لے کر آئیے گا مجھے کچھ ٹیسٹ کرنے ہیں میم کے ۔اب مجھے اجازت دیجئے اللہ حافظ ۔
مسکراہٹ سمٹے وہ ارتضی کے سامنے کھڑی ہوئی تھی ۔
کونگریچولیشن ڈاکٹر ارتضی ۔ڈاکٹر ہیر کے جانے کے بعد شاہدہ بیگم سمت حیا اور رائمہ کی نظریں خود پر جمے دیکھ وہ اپنی پر ہاتھ پھیرتا ہوا مبہم مسکرایا تھا ۔
زیادہ کچھ نہیں ہے بس آپ دا۔۔دی مطلب دادی بننے والی ہیں ۔خوشی و حیرت کے ملے جلے تاثرات چہرے پر سجائے وہ کہہ کر وہاں سے گیا تھا ۔
ارتضی کو اس جاتے دیکھ شاہدہ بیگم دل سے مسکرائی تھیں ۔
مبارک ہو خالہ جانی ۔شاہدہ بیگم کی گردن میں ہاتھ ڈالتی ہوئی وہ چہکی تھی ۔
مطلب میں پھوپھی بننے والی ہوں، رائمہ اب بھی حیرت کا شکار ہوئی تھی ۔
ہاں پگلی ،میں خالہ پلس چچی بننے والی ہوں ۔ بے ہوش ہوئی ماہین کے رخسار پر لب رکھتی ہوئی وہ مسکرائی تھی ۔
پتا ہے حیا شاہ کے منہ سے سن کر کتنا اچھا لگ رہا ہے مجھے کہ میں دادی بننے والی ہوں ورنہ یہ تو میں پہلے ہی جان چکی تھی ۔ماہین کی پیشانی پر بوسہ دیتیں ہوئی رائمہ اور حیا کو حیران کرگئی تھیں۔
کیسے خالہ جانی ۔وہ چونکی تھی ۔
یہ بات دھوپ میں سفید تھوڑی کیے ہیں میں نے ۔
ماہین کے بالوں میں انگلیاں چلاتی ہوئی وہ مسلسل مسکرا رہی تھیں ۔
مجھے تو ایسا ہی لگا تھا کہ آپ نے کوئی ہیر کلر لگایا ہے ۔حیا شرارت سے گویا ہوئی تھی ۔
اب ہمیں چلنا چاہیے تاکہ شاہ ماہین سے مل سکے ۔شاہدہ بیگم اپنی جگہ سے کھڑی ہوئی تھیں۔
نہیں خالہ جانی ماہین آپی کو جب تک ہوش میں نہیں آتی جب تک میں یہاں پر ہی ہو ان کے پاس ۔ماہین کے چہرے کو محبت سے دیکھتی ہوئی حیا جانے سے انکاری تھی ۔
ہماری موجودگی میں شاہ نہیں آئے گا ماہین کے پاس دیکھا نہیں تم نے کیسے گم ہوا ہے بتا کر ۔
اور ویسے بھی یہ خوش خبری حیدر اور سائین کو بھی تو سنانی ہے ۔شاہدہ بیگم کے انداز پر رائمہ قہقہ لگا گئی تھی ۔
بڑے شرمیلے ہیں ارتضی بھائی مجھے تو آج پتا چلا ۔حیا کے کان میں سرگوشیانہ انداز میں کہتی ہوئی رائمہ حیا کو قہقہ لگانے پر مجبور کر گئی تھی ۔
ان دونوں کو اس طرح ہنستے دیکھ شاہدہ بیگم بھی مسکرائی تھیں ۔


پوری شاہ حویلی میں رات کے اس پہر بھی جشن کا سماء بندھا ہوا تھا۔ شب سے نظر بچاتا ہوا کچھ دیر بعد ارتضی اپنے کمرے میں آیا تھا ۔
جہاں ماہین ہوش میں آنے کے بعد پھر سے سو گئی تھی ۔
میں تو ویسے بھی آپ سے ناراض نہیں رہ پارہا تھا اور اب آپ نے میری زندگی کی سب سے بڑی خوشی دے کر ناراضگی کا جواز ہی چھین لیا ہے ۔ماہین کا ہاتھ تھامے وہ دو زانوں کے بل بیٹھتا ہوا ماہین کے معصوم چہرے کے خوبصورت نقوشوں میں کھویا تھا ۔
میں بہت خوش ہوں ماہین ،آپ سے ناراضگی تو اس ہی وقت ختم ہوگئی تھی کل آپ کو واپس سے اپنے پاس دیکھ میرا دل جھوم اٹھا تھا ،
پھر آپکے الفاظ مجھے ساتواں آسمان پر لے گئے تھے ۔
مگر پھر بھی اپنی خوشی پر ضبط کرتا ہوا آپ پر ناراضگی جتارہا تھا ۔
لگاتار دو دن میری زندگی کے خاص ترین دنوں میں سے ایک ہیں ۔
پر ڈر بھی بہت لگ رہا ہے اپنے اتنا زیادہ خوش ہونے سے ،خوشیاں آج تک راس نہیں آئی ہے نا ،
جس دن بھی زیادہ خوش ہوتا ہوں اس ہی دن کچھ نا کچھ ایسا ہوتا ہے کہ سب ختم اور سارے دکھ و غم باہیں کھول کر میرے سامنے کھڑے ہوجاتے ہیں ۔آؤ ارتضی شاہ ہمیں گلے سے لگا لو ۔نم لہجے میں کہتا ہوا وہ ماہین کے تھامے ہاتھ سے سر ٹکا گیا تھا ۔
کچھ دیر ماہین کے ہاتھ سے سر ٹکائے وہ ماہین کے حرکت کرتے وجود کو محسوس کرتا ہوا وہ فورا سے ماہین سے دور ہو کر سیدھا کھڑا ہوا تھا ۔
نیند سے سرخ ہوتی ہوئی آنکھوں سے اپنے سامنے کھڑے ارتضی کو دیکھ کر وہ سیدھی ہو بیٹھی تھی ۔
کافی دیر کمرے میں سرد خاموشی کا راج ہوا تھا جسے توڑنے میں پہل ارتضی نے کی تھی ۔
کیسا فیل کررہی ہیں اب آپ ۔
بہتر محسوس کررہی ہوں مگر سمجھ نہیں آرہا میں بے ہوش کیسے ہوئی اس گھٹیا عورت کو اچھی خاصی سنا کر پھر ۔ماہین اپنی کنڈیشن سے بے خبر تھی اور نا ہی اب تک کسی نے اسے بتایا تھا۔
کس کی بات کررہی ہیں ۔ماہین کے پاس آکر بیٹھتا ہوا وہ پریشان ہوا تھا ۔
وہ کوئی پریہا نور تھی شاید اور آپ اسے جانتے ہیں ،پریہا نور کے نام پر ارتضی کے چہرے پر شناسائی کے تاثرات نا دیکھ کر اپنے کیے ارتضی پر اعتبار پر وہ سرشار ہوئی تھی ۔
آپ کسی پریہا نور جانتے ہیں ۔ارتضی کو غور سے سنتے دیکھ وہ پوچھ رہی تھی ۔
نہیں آج تک تو کسی پریہا نور نامی لڑکی سے ملا تک نہیں ہوں ۔ماہین کے سوال پر دماغ پر زور دیتا ہوا سنجیدگی سے بولا تھا ۔
ایک سوال پوچھنے کے لیے کہا تھا اس نے ،تفتیش بھری نظروں سے دیکھتی ہوئی ارتضی کی بھنویں سکڑی تھیں ماہین کے انداز پر ۔
آدھی رات کو آپ نمازیں پڑھ پڑھ کر اپنے کون سے گناہوں کی تلافی مانگتے ہیں ۔ماہین کے پوچھنے پر ارتضی شاکڈ ہوا تھا، وہی ہوا تھا آج پھر ارتضی کے ساتھ اس کی تمام تر خوشی ماہین کا ایک سوال چھین کر لے گیا تھا ۔
اذہان کے لیے نماز پڑھتا تھا مگر اب اپنے خدا کو راضی کرنے کے لیے پڑھتا ہوں ۔سنجیدگی سے کہتا ہوا وہ ماہین کے پاس سے اٹھ کھڑا ہوا تھا ۔جب ماہین نے اس کا ہاتھ پکڑ کر اسے جانے سے روکا تھا۔
میں نے اس لڑکی کی بات پر یقین نہیں کیا ارتضی ،میں نے صرف آپ پر اعتبار کیا اور آپ کی ہر بات پر اعتبار کروں گی ۔بھرائی آواز کہتی ہوئی ارتضی کو ساکت کیے ہوئی تھی ۔
اب تو آپ مجھ سے ناراض نہیں ہیں نا ۔ارتضی کی خاموشی پر وہ اپنے ہاتھوں میں پکڑے ارتضی کے ہاتھ کو ہلا کر پوچھ رہی تھی ۔
اور کیا کیا کہا ہے آپ کو اس لڑکی نے ،ارتضی کو ساری روداد سنا گئی تھی ۔
آپ کال ملائیں اسے اور جیسا میں آپ کہوں گا ویسے ہی آپ اسے کہیں گی ،ارتضی کو اس لڑکی کی باتیں سن کر نوری کا گمان ہوا تھا۔
جی پر پہلے یہ بتائیں آپ مجھ سے ناراض تو نہیں ہے نا اب۔ماہین کے انداز پر ارتضی نے اپنے لب آپس میں پیوست کرلیے تھے ۔
نہیں ہوں اب کال ملائیں، سنجیدگی سے بولتا ہوا ماہین کے ہاتھ سے اپنا چھڑوا گیا تھا ۔
سچ میں پر میں یہ کیسے یقین کرلوں کہ آپ مجھ سے ناراض نہیں ہیں جبکہ آپ مجھے دیکھ کر مسکرا بھی نہیں رہے ہیں ۔ماہین کے کہتے ہی ارتضی مسکرایا تھا ۔
اب کرتی ہوں کال ۔مسکرا کر فون ملاتی ہوئی وہ ارتضی کو دیکھ کر مسکرا رہی تھی ۔


کیسے ممکن ہے کہ ماہین تمہاری باتوں میں نہیں آئی ۔تمہاری ہی کوتاہی رہی ہوگی اسے ورغلانے میں ورنہ وہ تو بہت چھوٹے دماغ کی لڑکی ہے کسی کی بھی باتوں باآسانی آجاتی ہے ۔ایک گھنٹے بعد وہاج کی کئی کالز کرنے کے بعد نوری نے کال اٹینڈ کی تھی ۔
تمہاری سوچ ہے یہ کہ وہ چھوٹے دماغ کی لڑکی ہے مجھے تو کہیں سے بھی نہیں لگا ۔
بلکہ اس کے مضبوط لہجے کو سن کر میں دنگ رہ گئی تھی ۔نوری جو کب سے خود پر ضبط کیے ہوئے تھی آخر کو پھٹ پڑی تھی ۔
ہاؤ از ڈیٹ پاسبل اس کے اور ارتضی کے درمیان میں تو غلط فہمی تھی اس کے باوجود وہ کیسے اتنے مضبوط لہجے بات کرسکتی ہے وہ تم سے ۔ضبط کے ساتھ کہتا ہوا اس کا بس نہیں چل رہا تھا کہ وہ اب پاکستان جاکر ارتضی کی زندگی برباد کردے ۔
تم منجھے ہوئے کھلاڑی نہیں ہو وہاج انصاری اور مجھے نہیں لگتا کہ تم کبھی کامیاب ہو بھی سکوگے ۔اس لیے بہتر ہے تم یہ سوچ اپنے دماغ سے نکال دو کہ تم ارتضی اور ماہین کو الگ کرنے کا دم رکھتے ہو ۔تمخسرانہ انداز میں کہتی ہوئی وہ وہاں کو اکسا رہی تھی ۔
ویٹ ویٹ ،ماہین کی کال آرہی ہے ۔وہ چونکتی ہوئی کہہ رہی تھی اسے سن کر وہاج کے چہرے پر مسکراہٹ رینگی تھی ۔
کال کٹ کرکے میری کال ایڈ کرو ماہین کی کال کے ساتھ ۔
وہ مجھے نہیں آتی کیسے کی جاتی ہے ۔ماہین کے نمبر کو دیکھتی ہوئی وہ پہلی بار اپنے کم پڑھے لکھے ہونے پر افسردہ ہوئی تھی ۔
میں بھی پاگل ہوں جو بار بار بھول جاتا ہوں ہو تو تم ایک نوکرانی ہی نا ۔کال ریکارڈ تو کر ہی سکتی ہو نا یا یہ بھی نہیں ہوسکتا تم سے ۔چبا کر کہتا نوری کو زہر لگا تھا ۔
کرلوں گی ۔ ڈاکٹر دبائے وہ غرلائی تھی ۔
اب دوبارہ تم کال مت کرنا مجھے کرنی ہوگی تو میں خود کرو گا سمجھی تم ۔تنبیہ کرتا ہوا وہ کال ڈیسکنیٹ کرگیا تھا ۔
سمجھی تم ۔۔بڑبڑاتی ہوئی وہ ماہین کا نمبر ڈائل کرگئی تھی ۔


مجھے پورا یقین تھا معصوم لڑکی، تم میری بات پر ضرور یقین کرو گی ۔پر یقین و سفاکی سے بولتی ہوئی وہ ارتضی کے شک پر یقین کی مہر لگا گئی تھی ۔
آخر کو ہو تو تم بھی عورت ہی نا اور ویسے بھی یہ مرد ذات یقین کے قابل نہیں ہوتے ۔نوری کے انداز پر ماہین کا غصے میں منہ کھولا تھا ۔جو ارتضی کے ہاتھ کے دبا دباؤ سے منہ بنا کر خاموش ہی رہی تھی ۔
کیا ہوا شوہر کے کارنامے سن کر بولتی بند ہوگئی تمہاری ۔
ماہین کی خاموشی پر چوٹ کرگئی تھی ۔
تم بلکل سہی کہہ رہی تھیں، ارتضی نے مجھے دکھا دیا ہے ۔تمہیں دل میں بسا کر میرے جذباتوں کے کھیل رہے ہیں ،مگر اب اور نہیں میں اب اور پاگل نہیں بننے والی ۔آواز تو ویسے ہی اس کی بھرائی ہوئی تھی اوپر سے ادکاری بھی کمال کی کررہی تھی ۔
ارتضی حیرانگی سے ماہین کو دیکھ رہا تھا۔
ماہین کے الفاظ نوری کے جلتے دل و دماغ پر اوس کی مانند ٹھنڈا کرگئی تھی ۔
وہ ۔۔۔۔کچھ توقف کے لیے ماہین خاموش ہوئی تھی ۔
کیا وہ معصوم لڑکی ۔۔ماہین کی خاموشی پر وہ فورا سے پہلے بولی تھی ۔
میں تم سے ملنا چاہتی ہوں ، تاکہ ارتضی شاہ سے بدلہ لے سکوں ۔ارتضی کو گھورتی ہوئی وہ دانت دبائے بولی تھی ۔
ارتضی اپنا سر کھجا کر رہ گیا تھا ۔
ضرور کل ہی ملتے ہیں میں تمہیں لوکیشن سینڈ کردوں گی ۔اوکے اپنا خیال رکھنا اس گھٹیا انسان سے ۔تلخ لہجے میں بولتی ہوئی نوری مسکرائی تھی اپنی کامیابی پر ۔
اس سے بے خبر وہ خود کئ بچھائے جال میں خود ہی پھسنے
والی تھی ۔
جی ۔۔برا سا منہ بناتی ہوئی وہ کال ڈیسکنیٹ کرگئی تھی ۔
آئی بڑی گھٹیا تو خود ہے کمینی ۔اپنے ساتھ بیٹھے ہوئے ارتضی کو دیکھ رہی تھی ۔
کون ہے یہ چڑیل اور آپ پر اس کا برا سایہ کیسے پڑگیا ۔نوری کی باتیں ماہین کو غصہ دلا گئی تھی ۔
ملازمہ تھی یہاں کی ۔ایک ایک بات ماہین کو بتاتا ہوا ماہین کے حیرت زدہ زاویہ دیکھ نوری کے بارے میں سوچ کر پریشان ہوا تھا ۔


جاری ہے ۔