No Download Link
Rate this Novel
Episode 3
یااللہ خیر ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ رحم فرما میرے مالک شاہ حویلی میں آئی اس تباہی سے ہم شاہ حویلی کے معصوم مکینوں کی حفاظت فرما۔۔
آمین ۔۔۔۔۔۔۔دونوں ہاتھ منہ پر پھیرتا ہوا اپنی مسکراہٹ ضبط کرگیا تھا ۔۔
میں تباہی ہوں ۔۔۔۔اور کونسی تباہی مچائی ہے میں نے اور اللہ سے تو پناہ مانگ رہے ہو جیسے خدا ناخواستہ میں کوئی شیطان ہوں ۔۔۔۔ نیچے گرے میٹل کے شوپیس کو اٹھا کر واپس سے اس کی جگہ پر رکھتی ہوئی وہ تپ کر بولی تھی ۔
تمہیں گرنا ہی تھا تو مجھ سے ٹکرانے کی کیا ضرورت تھی ۔حیدر کو سنا کر بھی اس بھڑاس کم نا ہوئی تھی باقی کی بھڑاس شوپیس پر نکالتی ہوئی حیدر کو ہنسنے پر مجبور کرگئی تھی ۔۔۔۔
نادانیاں جھلکتی ہیں میری عادتوں سے ۔۔۔۔،
میں خود حیران ہوں مجھے عشق ہوا کیسا ۔۔۔۔۔۔۔،،
اب یہ دانتوں کی نمائش کیوں کررہے ہو ۔۔۔۔۔ مضنوئی تلخ لہجہ رکھتی ہوئی وہ حیدر کو ہنستے دیکھ کچھ پل کے لیے اسے یک ٹک دیکھ کر اپنی نگاہیں جھکا گئی تھی ۔
بچپن سے ہیاپنے دل میں چھپی محبت کو سب سے چھپاتی آئی تھی تو آج کیسے اتنی آسانی سے حیدر پر افشاں کرجاتی۔۔۔
حرکتیں جب تم پاگلوں والی کرو گی تو ایک عام انسان کو ہنسی تو آئے گی نا ۔۔۔۔
حیدی تم نا ۔۔۔۔۔۔۔ سب لوگوں کو وہاں آتے ہوئے دیکھ حیا کو حیدر پر جی بھر کر غصہ آیا تھا۔۔۔۔
فرمائیں یہ ہی نا کہ میں بہت ہینڈسم ہوں ۔۔۔آبرو اچکاتا ہوا وہ حیا کی سامنے ٹکی نظروں کا تاکب کرتا سب کو آتے دیکھ سنجیدہ ہو کھڑا ہوا تھا ۔۔۔
ہینڈسم اور تم ہہہنہنہہ ۔۔۔۔۔ہو ہی نا جاؤ کہیں تم ہینڈسم ۔۔ ارتضی بھائی جیسے مرد ہوتے ہیں
اسمارٹ ،ہینڈسم ،ڈیشنگ ،، اور اصولوں کے پکے ۔۔۔
تمہارے جیسے سڑے ہوئے ککڑی جیسے لڑکے صرف پرندوں کو پانی دیتے ہوئے ہی اچھے لگتے ہیں ۔۔
حیا بخاری سے پنگا ناٹ چنگا۔۔۔ گیٹ اٹ ۔۔۔۔
خوش فہم نا ہو تو ۔۔۔منہ ہی منہ بڑبڑاتی ہوئی وہ حیدر کو چھوٹی سی بچی لگی تھی ۔۔۔۔
خالہ جانی ۔۔۔
رکو حیا میں خود ہی تمہارے پاس آتی ہوں ۔۔
کیوں میں خود آپ کو ہگ کروں گی ۔۔۔روٹھے ہوئے بچوں کی طرح بولتی ہوئی وہ شاہدہ بیگم کی جانب بڑھی تھی ۔گلے میں ڈالے اسٹولر کو جھٹکتی ہوئی آگے بڑھی کہ پیچھے رکھی ٹیبل پر تھوڑی دیر پہلے والا شوپیس دھماکے کے ساتھ نیچے آن گرا تھا ۔۔۔
سہی ہی کہا تھا حیدر نے پوری کی پوری تباہی ہے ۔شاہدہ بیگم کے دیکھنے پر ارتضی فقط یہ ہی کہہ سکا تھا ۔
ٹوٹل تباہی ۔۔۔حیا کے کان میں سرگوشی کرتا ہوا وہ اندر کی جانب بڑھ گیا تھا ۔۔
کچھ نہیں ہوتا حیا بیٹا تم اندر چلو ۔۔۔۔معصوم سی شکل بنائے شوپیس اور شاہدہ بیگم کو دیکھتی ہوئی وہ شرمندہ ہوئی تھی ۔
نوری اس ٹیبل کو مزید سائیڈ پر لگوادو اور اس شوپیس کو تھوڑا دیوار سے ملا کر رکھنا ۔۔۔تاکہ دوبارہ نا گر پائے ۔۔ ملازمہ کو آگاہ کرتی ہوئی رائمہ بھی سب کے پیچھے اندر گئی تھی۔
🥀🥀🥀🥀🥀🥀
اسلام وعلیکم تائی امی ۔۔۔۔
گھر میں داخل ہوتے ہی ماہین کی بلند آواز پر شاکرہ بیگم مسکرائیں تھیں۔۔
وعلیکم اسلام تائی امی کی جان ۔۔۔۔ماہین کو گلے لگاتی ہوئی وہ اس ہی کے انداز میں بولی تھیں ۔۔
ماہین انہیں ہمیشہ سے حیا کی طرح عزیز تھی ۔
ماہین کی ماں کے انتقال کے بعد سے انہوں نے ماہین کو اپنی بیٹی بنالیا تھا۔
اندر چلو ۔۔۔۔ماہین کو اپنے ساتھ لگائے وہ لیونگ روم کی طرف بڑھی تھیں ۔۔۔
اسلام وعلیکم بھابھی ۔۔۔۔ماہین اور شاکرہ بیگم کے سامنے رکھے دیوان پر بیٹھتے ہوئے وہ خوش ہوئے تھے ماہین کو خوش دیکھ کر ۔۔
وعلیکم اسلام ۔۔کیسے ہیں بھائی صاحب ۔
الحمداللہ بلکل ٹھیک اور یہ لیں آپ کی ماہین کو بلآخر میں منا کر للے آیا ہوں آپ کے پاس اس ۔۔۔۔
نہیں تائی امی بابا نے مجھے کوئی نہیں منایا بس یہ کہا کہ ہمیں گاؤں جانا ہے اور میں مان گئی ۔
ریاض صاحب ماہین کی تیز چلتی زبان کو سن کر حیران ہوئے تھے ۔
میری بیٹی کی اتنی لمبی زبان ہے مجھے تو اب پتا چل رہا ہے ۔۔۔۔
ورنہ تو میں پورے سفر یہ ہی سمجھتا آرہا تھا کہ میری ماہین تو سنجیدہ اور مستقل مزاج کی حامل ہے ۔۔۔۔
بابا ۔۔۔۔۔ماہین کی گھوری پر ریاض صاحب کو خاموش ہوتے دیکھ شاکرہ بیگم مسکرائیں تھیں ۔
ویسے حمدان بھائی کہاں دیکھ نہیں رہے کہاں گئے ہوئے ہیں ۔۔۔ حمدان صاحب کی عدم موجودگی محسوس کررہے تھے۔
وہ بھائی ابھی آتے ہی ہونگے۔۔۔۔
آج کل کچھ زمینوں کا مثلہ چل رہا ہے تو وہیں مصروف رہنے لگ گئے ہیں ۔۔۔
لو بھئی آپ کو یاد کیا اور آپ آگئے ۔۔۔۔حمدان صاحب کے بغل گیر ہوتے ریاض صاحب کی آنکھیں نم ہوئیں تھیں ۔
میرا بھائی یاد کرے اور میں نا آؤں ایسا کبھی ہوسکتا ہے ۔۔
اور میری ماہین بیٹی کیسی ہے اتنے عرصے بعد آپ کو تایا ابو یاد آگئے ۔۔ماہین کے اتنے عرصے بعد گاؤں آنے پر وہ شکوہ کرے بغیر رہ ناسکے تھے۔
ایسی بات نہیں ہے تایا ابو بہت یاد آتے ہیں آپ مجھے مگر یہاں آتے ہی مما کی بہت یاد آتی ہے اسی لیے یہاں آنے سے کتراتی ہوں ۔۔۔۔ نم آنکھوں سے اپنی دلی کیفیت بیان کرتی ہوئی وہ انہیں بھی افسردہ کرگئی تھی ۔
مما نہیں ہے تو تائی امی تو ہے نا ماہین کے پاس ۔۔۔۔
جی تائی امی ۔۔۔شاکرہ بیگم کے کاندھے پر سر رکھتی ہوئی مسکرائی تھی ۔
تائی امی ہماری آفت میڈم کہاں ہیں وہ نہیں آئی مجھ سے ملنے ابھی تک ۔۔۔پورے لیونگ روم میں نظریں دوڑاتی ہوئی حیران ہوئی تھی حیا کو موجود نا پا کر ۔
وہ آپا کی طرف گئی ہوئی ہے بس آتی ہی ہوگی ۔
میں کھانا لگوادیتی ہوں تھک گئے ہو گے نا آپ لوگ ۔۔
آپ بابا اور تایا ابو کھالیں ۔۔ میں حیا کے ساتھ ہی کھانا کھاؤں گی۔
ایسا پہلی بار ہوا تھا کہ ماہین کے آنے پر حیا گھر پر موجود نہیں تھی ۔
ایسے کیسے اتنے عرصے بعد آئی ہو اور کھانا بھی نہیں کھاؤ گی ہمارے ساتھ۔شاکرہ بیگم کو ماہین کی بات بلکل بھی پسند نہیں آئی تھی ۔
فکر نا کریں ایک دو ہفتے میں آپ کے ہی پاس ہوں اور جب تک میں یہاں ہوں جب تک آپ کے ساتھ ہی کھاؤ گی ٹھیک ہے ۔۔
اب آپ کھانا لگوا دیں یہ نا ہو پھر میری وجہ سے بابا کا شوگر لو ہوجائے ۔۔
کہاں رہ گئی ہے یہ حیا بھانجا میرا آیا ہے اور وہ میڈم وہاں کی ہو کر رہے گئیں ہیں ۔ حیا کی لاپروائی پر شاکرہ بیگم کلسی تھیں ۔۔۔
میری کیوٹ سی تائی امی میں فون کرکے ابھی بلاتی ہوں ۔
پھر ہ۔ دونوں مل کر اس تباہی کی بچی کو آڑے ہاتھوں لیں گے۔ماہین کی بات پر متفق ہوتیں شاکرہ بیگم مسکرا کر کچن کی جانب بڑھی تھیں۔
ایسا کیا جادو کیا ہے اس شخص نے جو مجھ سے زیادہ حیا کے لیے وہ عزیز ہوگیا ۔۔۔حیا کا نمبر ڈائل کرتے ہوئے نا چاہتے ہوئے بھی اسے جلن محسوس ہوئی تھی اس شخص سے۔
🥀🥀🥀🥀🥀🥀🥀
ارتضی سے بات کرتے ہوئے اسے اندازہ نہیں ہوا وقت گزرنے کا اور نا ہی ماہین کا خیال آیا تھا ۔
ارتضی ،حیدر ،رائمہ کے ساتھ خوش گپیوں لگی وہ اچانک سے ارتضی کو چائے کی پیشکش کرگئی تھی ۔
چائے پیئے گے ارتضی بھائی میں بہت اچھی چائے بناتی ہوں ۔۔۔۔۔۔پرجوش ہوتی حیا اپنی جگہ سے اٹھ کھڑی ہوئی تھی چائے بنانے کے لیے ۔۔۔۔
خدا کا واسطہ ہے تمہیں حیا تم کچن میں مت جانا ۔۔۔۔۔
دونوں ہاتھ جوڑے حیدر کو دیکھ کر ارتضی مسکرایا تھا ۔
دیکھ رہی ہیں خالہ جانی آپ ۔۔۔حیدر کو غصے سے دیکھتی ہوئی وہ شاہدہ بیگم کے ہنسی ضبط کرنے کی وجہ سے سرخ ہوتے چہرے کو بنا دھیان دئیے بولی تھی ۔
حیدر ایسے نہیں کہتے ۔۔۔
ماں سرکار اگر یہ کچن میں گئی تو وہاں پر بھی اپنی تباہی مچانے والی عادات سے کچن کی حالت خراب کردے ۔۔
اور پھر بیچاری ملازماؤں کو ڈبل محنت کرنی پڑے گی ۔
میں کوئی تباہی نہیں مچاتی وہ تو بس مجھے چیزیں دیکھائی نہیں دیتی اور پھر مجھ سے ٹکرا کر گر جاتی ہیں ۔
حیدر کی ملازماؤں کے لیے فکر مندی سے وہ افسردہ ہوئی تھی ۔
حیدی ۔۔حیا آپ بنالاؤں چائے اور حیدی کے لیے نہیں بنانا ۔۔۔
حیدر کو ڈانٹتا ہوا وہ نرم لہجے میں حیا سے مخاطب ہوا تھا ۔
اور ہاں ۔حیا کو پیچھے سے روکتے ہوئے ارتضی کو سب نے دیکھا تھا۔
اچھے سے ہاتھ دھونا اور پھر چائے بنانا ۔۔۔
آپ تو بلکل نہیں بدلے ارتضی بھائی ۔۔ ارتضی کو دیکھتی ہوئی وہ وہاں سے گئی تھی ۔
جو وقت کے ساتھ اپنے اصولوں کو روند دے وہ ارتضی شاہ نہیں ۔۔۔۔
میرے اصول ہی مجھے سب سے الگ بناتے ہیں ۔ دل میں سوچتا ہوا وہ سب کی نظروں کو خود پر مرکوز دیکھ کر بولا تھا ۔
اب ایسے کیا دیکھ رہے ہیں آپ سب لوگ مجھے ۔۔۔
نڈر بے خوف لہجے میں پوچھتا ہوا وہ دلاور شاہ کے مسکراتے چہرے کو سوالیہ نظروں سے دیکھ رہا تھا۔
اب بدل دو یہ اصول ارتضی شاہ اب تمہارے ساتھ وہ سب دوبارہ سے نہیں ہوگا ۔۔۔دلاور شاہ کی بات پر وہ تمسخرانہ انداز میں مسکرایا تھا ۔
نا سمجھی حیدر اور رائمہ ایک دوسرے کو دیکھتے ہوئے خاموشی سے دونوں کو سن رہے تھے جبکہ شاہدہ بیگم بھی ارتضی کو ہی دیکھ رہی تھیں ۔
“ٹوٹ سا گیا ہے میرے اعتبار کا وجود ۔۔۔۔
اب کوئی مخلص بھی ہوتو یقین نہیں آتا ۔۔۔”
ایسا اب ہو بھی نہیں سکتا بابا سرکار کیونکہ میں اب پہلے والا ارتضی نہیں ہوں میرا حساس پن کہیں مر گیا ہے ۔۔۔
اب بڑے سے بڑے طوفانوں سے نا گھبرانے والا ، چٹانوں کی طرح مضبوط ارتضی شاہ بن گیا ہوں ۔۔۔۔۔
میرے دل احساس نامی کوئی جذبہ نہیں رہا ہے کیونکہ اب میں زمانہِ سنگ دل مشہور جو ہوں۔۔۔۔۔
دلاور شاہ سے نظریں چراتا ہوا ضبط سے سرخ ہوتی آنکھوں سے وہ مسکرانے میں ناکام رہا تھا ۔
ارتضی کو اس طرح دیکھ شاہدہ بیگم افسردہ ہوئی تھیں۔
ایسا ہرگز نہیں ہے احساس کا جذبہ آج بھی آپ کے دل میں ہے بھائی ۔۔۔
ہاں یہ الگ بات ہے کہ آپ اس سے انکاری ہیں ورنہ پندرہ سالہ بچی کو حویلی میں کام کرتے دیکھ آپ بابا سرکار سے شکایت نا کرتے ۔اپنے مخصوص ٹھہرے ہوئے لہجے میں بولتے ہوئے حیدر کو دیکھ کر ارتضی اپنی جگہ سے اٹھا تھا ۔
تم یہ کہہ سکتے ہو ۔۔۔۔جو پرندوں کو دیکھ کر رو پڑے اس کے منہ سے یہ احساس لفظ بہت اچھا لگتا ہے ۔حیدر کے بالوں میں ہاتھ چلاتا ہوا وہ دل سے مسکرایا تھا ۔
ایکسیوز می ۔۔۔۔ ڈرائینگ روم سے جاتے ہوئے صوفے پر پڑے حیا کے سائلینٹ کردہ فون پر اچانک سے نظر پڑتے ہی ارتضی فون اٹھا گیا تھا ۔
ٹین مسڈ کالز ۔آبرو ریس کرتا وہ واپس سے ڈائل کرتا ہوا حیا کے پاس جانے کے لیے کچن کی جانب بڑھا تھا ۔
حیا کی بچی کہاں رہ گئی ہو ۔۔
پتا ہے کب سے تمہارے انتظار میں ہلکان ہوئے جارہی ہوں ۔
کب سے بھوکی بیٹھی ہوں تمہارے انتظار میں اور تم ہو کہ اپنے کزنوں کے ساتھ مل کر مجھے بھول گئی ہو ۔ایک سانس میں بولتی ہوئی لڑکی کی آواز ارتضی کو شناسائی لگی تھی ۔
سنیں محترمہ ۔۔۔ارتضی کی گھمبیر آواز پر ماہین کی نان اسٹاپ بولتی زبان پر بریک لگی تھی ۔
آپ کون اور حیا کا فون آپ کے پاس کیسے اور کیوں ہے ۔
حیا کے نمبر کو ریچیک کرتی ہوئی بولی تھی ۔
میں حیا کا وہی کزن ہوں جس کی وجہ سے وہ آپ کو بھول گئی ہے ۔
مگر بے فکر رہے میں اسے بھیجتا ہوں آپ کے پاس واپس ۔۔
قدرے سنجیدگی میں بولتا ہوا وہ بنا ماہین کی بات سنے کال ڈیسکنیٹ کرگیا تھا ۔
ہااااااااااا۔۔۔فون کاٹ دیا ۔۔۔۔بنا میری بات سنے ۔آئی تم گھر حیا ۔۔۔پھر بتاؤں گی تمہیں ۔۔۔۔۔بیڈ پر فون پھینکتی ہوئی وہ واشروم میں شاور لینے کے لیے گئی تھی۔
لاؤ میں کرتا ہوں تم جانے کی تیاری پکڑوں کیونکہ تمہاری کوئی کزن تمہارا کا انتظار کررہی ہیں پتا نہیں کب سے اور اپنے بھوکے ہونے کی دہائی دے رہی تھی حیدر کے ساتھ چلی جانا ۔۔۔حیا کے ہاتھ کیٹل لیتا ہوا وہ عام سے لہجے میں بول رہا تھا ۔
ماہین۔۔۔۔۔اف اللہ میں کیسے بھول گئی ۔۔۔نہیں بھائی ڈرائیور ہے میں اس کے ساتھ چلی جاؤں گی ۔بے دھیانی میں بولتی ہوئی وہ بری طرح کچن میں آتی ہوئی نوری سے ٹکرائی تھی ۔
ٹوٹل تباہی ۔۔حیا کو جاتے دیکھ ارتضی منہ ہی منہ بڑبڑایا تھا۔
سائین سرکار میں کردو ۔۔۔ارتضی کو چائے ڈالتے دیکھ نوری آگے بڑھی تھی ۔
نہیں میں خود کرلوں گا شکریہ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
کپوں میں چائے انڈیلتا ہوا وہ نوری کو سائیڈ ہونے کا کہتا ٹرے اٹھائے وہاں سے نکلا تھا ۔۔
اچھا خالہ جانی میں چلتی ہوں ۔
کیا ہوا اتنی جلدبازی میں جانے کی وجہ تو بتاؤ ۔شاہدہ بیگم کے گلے لگ کر الگ ہوئی تھی ۔
خالہ ماہین آپی آگئی ہیں اور میرا انتظار کررہی ہیں ۔
اچھا ماہین آئی ہے ۔۔۔
جی جی اب اجازت دیں ۔۔حیرت سے پوچھتی ہوئیں شاہدہ بیگم کو خدا حافظ کہتی ہوئی باہر نکلی تھی ۔
دھیان سے جانا تباہی اور پہنچتے ہی فون کردینا مجھے۔۔۔۔۔
حیا کو گاڑی تک چھوڑنے کے لیے آتا ہوا حیدر اس بار سنجیدگی سے بولا تھا۔
ہمہم ۔۔۔حیدر کی اتنی سی ہی فکر اسے سرشار کرگئی تھی ۔۔
🥀🥀🥀🥀🥀🥀🥀
“شب تنہائی میں میں پل پل راکھ ہوتا ہوں ۔
میں کیا ہوں میں سے خود سے انجان رہتا ہوں ۔۔”
آسمان پر اپنی پوری تاب سے چاندنی پھیلائے چاند کو افسردگی سے دیکھتا ہوا وہ اپنے اندر چھڑی سرد جنگ سے تھک سا گیا تھا مگر جنگ تھی کہ اسے نا ہارنے دے رہی تھی اور نا خود ہار رہی تھی۔
اللہ مجھے رہائی دے دے اس کرب سے ۔۔۔۔
مجھے میں اب اور ساکت نہیں رہی ہے اس آگ میں جلتے رہنے کی کوئی تو راہ دیکھا جو مجھے سکون بخش جائے ۔۔
ایک طویل عرصے سے اپنے اندر پکتے ہوئے لاوے کے ساتھ وہ اب اندر ہی اندر جھلسنے لگا تھا ۔۔
🥀🥀🥀🥀🥀🥀
سوری ،،،،،، سوری ،،،،،،،،ماہین آئی ام ویری ویری سوری ۔۔۔۔۔
بیڈ پر بیٹھی ماہین کی گردن میں دونون ہاتھ ڈالتی ہوئی بولی تھی ۔
کوئی معافی نہیں ملنے والی تمہیں جاؤ اور اپنے اس کزن کے آنے کی خوشیاں مناؤ ۔۔۔شکوہ کرتی ہوئی وہ حیا کو مسکرانے پر اکسا گئی ۔
ماہین ریاض جلیس ہورہی میرے کزن سے ۔ماہین کے سامنے بیٹھتی ہوئی وہ شرارت سے بولی تھی ۔
حیا کو غصے سے دیکھ کر ماہین رخ موڑ گئی تھی ۔
ارے بے بی تو نالاج ہوگیا ۔۔۔۔۔۔
حیا کا بے بی نالاج ہوگیا حیا سے ۔۔حیا کے بچکانہ انداز پر اپنی مسکراہٹ ضبط کرتی ہوئی وہ مسلسل حیا کی طرف پیٹھ کیے ہوئے تھی۔
جاری ہے ۔۔۔۔۔۔۔
