No Download Link
Rate this Novel
Episode 14
سلام پھوپھو ۔۔۔بلند آواز میں سلام کہتا ہوا وہ ڈرائینگ روم خوبصورت پر فخریہ انداز میں براجمان ہوا تھا ۔
صائمہ اور وہاں دونوں ارتضی کو دیکھ خوش ہوئے تھے مگر
ارتضی کو اچانک اپنے گھر میں دیکھ وہاج کے رنگ اڑ گئے تھے ۔
بے فکر رہو آج تمہارے لیے نہیں آیا ہوں میں یہاں پر اپنی منگنی پر مدعو کرنے آیا ہوں ۔۔
وہاج کے اڑے رنگوں کو دیکھ وہ مسکرایا تھا ۔
کچھ لو گے ٹھنڈا یا گرم ۔ارتضی کو یوں اپنے گھر پوری شان سے بیٹھے دیکھ صائمہ انصاری کی خوشی کا کوئی ٹھکانہ ہی نارہا تھا۔
اچھے سے جانتی ہیں آپ کے گھر کا پانی پینا بھی مجھ پر حرام ہوگا ۔۔تلخ لہجے میں کہتا ہوا وہ وہاب انصاری کو دیکھ کر بولا تھا ۔
بابا سرکار نے مجھے اجازت دی تھی اپنی منگنی کی خوشی میں جن لوگوں لو میں چاہوں بلاسکتا ہوں ۔
اس لیے آپ لوگوں کواپنی خوشی میں شامل ہونے کی دعوت دیتا ہوں میں ۔
کل دوپہر تین بجے آجائیے گا ۔
بنا رہے بولتا ہوا وہ واپس سے کھڑا ہوا تھا ۔
مگر بھائی ۔۔۔صائمہ انصاری گھبرائی تھیں ۔
بابا سرکار کو میں خود منا لوں گا ۔آپ لوگ ضرور آئیے گا۔
اور تم اپنی نظریں اور اپنی حرکتوں سے باز رہنا ۔۔۔وہاج کے کندھے کو تھتھپاتا ہوا اسے وارن کرگیا تھا ۔
ویسے کون ہے وہ بیچاری جس کے نصیب پھوٹنے والے ہیں آپ کے ساتھ ۔
میرا مطلب ہے کون ہیں وہ خوش نصیب ۔۔ارتضی کی آنکھوں سے خوف کھاتا ہوا وہ فورا سے بات بدل گیا تھا۔
وہی ہے جس کے نازک کندھوں کا سہارا لے کر تم ڈیری آئے تھے ۔دانت دبائے ارتضی سے اسے وحشت محسوس ہوئی تھی ۔
یہ کیسے ہوسکتا ہے ۔۔۔۔حیرت سے فقط وہ سوچ ہی سکا تھا ۔
ایک اور بات میری بہن کو بہلانے کی ناکام کوشش مت کرو کیونکہ اب وہ تمہاری بزدل محبت کے شکنجے میں نہیں آئے گی ۔وہاج کا کالر سیٹ کرتا ہوا صبح رائمہ سے کہا گیا اپنا جھوٹ یاد کرکے فاتحانہ انداز میں بول رہا تھا۔
کیا نیا کھیل کھیلا ہے آپ نے ۔۔
تمہاری سوچ سے بھی آگے کا کھیل کھیلا ہے میں نے ۔۔صائمہ اور وہاب انصاری کی سمت مسکراہٹ اچھل کر وہاج کو حیران چھوڑ شوخ چال چلتا ہوا جیسے ہوا کی طرح آیا تھا ویسے ہی وہاں چلا گیا تھا۔
بخاری ولا کے گارڈن میں تقریب کا انتظام کیا گیا تھا۔
خاندان بھر چیدہ چیدہ کو مدعو کیا گیا تھا ۔۔۔
ساری ڈیکوریشن حمدان بخاری اور ریاض صاحب کی نگرانی کی جارہی تھی ۔
صبح سے کسی نا کسی بہانے سے وہ ارتضی کی تصویر دیکھنے سے قاصر رہی تھی ۔
کبھی حورین کے ساتھ کھیلنے میں مصروف تو کبھی حیا اور نرجس کی کردہ شاپنگ سے ۔
خاموشی سے بیٹھی ہوئی نرجس اور حیا کے تیار ہونے کا انتظار کرتی ہوئی وہ خود بخود مسکرا رہی تھی ۔
کس بات پر مسکرایا جارہا ہے پتا تو چلے ہمیں بھی ۔حیا کی نظر ماہین کے مسکراتے چہرے پر پڑی تو وہ فورا سے پوچھ گئی تھی ۔
پتا نہیں کیا ہورہا ہے میرے ساتھ مجھے بات بے بات ہنسی آرہی ہے پتا نہیں کیوں اتنی خوشی محسوس ہورہی ہے جیسے پتہ نہیں کیا مل گیا ہو ۔۔اپنی کیفیت سے انجان ماہین کو بولتے دیکھ نرجس نے اسے سنجیدگی سے دیکھا تھا ۔
اللہ پاک تمہاری خوشیاں سلامت رکھے ۔۔نرجس لہجے میں انجانہ سا ڈر لیے بولی تھی ۔
آمین ۔۔۔حیا کی کھلکھلاتی آواز سے وہ مسکرائی تھی ۔
شاید یہ خوشی اس جلاد کی ناکامی کی تو نہیں ۔۔میک اپ کروانے کے لیے میرر کے سامنے بیٹھتی ہوئی وہ مسکرائی تھی ۔
اپنے شولڈر کٹ بالوں کو اسٹریٹ کروائے وہ لبوں پر شوکنگ پنک لپ اسٹک لگائے وہ براون لائیٹ میک اپ کے ساتھ اپنے پہنے ہوئے سلور گولڈن کے کلر کے خوبصورت کام دار شارٹ فراک کے ساتھ ٹائٹ سلک کے پجامے زیب تن کیے ہوئی وہ تیار تھی مگر اپنے پاؤں میں سیلپر پہنے دیکھ وہ بیڈ کے نیچے رکھی ڈریس سے میچنگ اپنی ہائی ہیل پہنتی ہوئی وہ اپنے کھلے بالوں کو آگے کرتی خود کو میرر دیکھ کر مسکرائی تھی۔
کاش حیدر بھی ہوتا ۔۔یہاں ۔خود کے خوبصورت سراپے کو دیکھ اسے حیدر کی کمی محسوس ہوئی تھی۔
سنا ہے حیدر صاحب کی آج رات کی فلائٹ ہے ۔۔شرارت سے کہتی ہوئی سمپل مہرون کلر کے گہردار فراک کے ساتھ ہم رنگ چوڑی دار پجامے کے ساتھ ہم رنگ رنگ ڈوپٹہ کندھے پر پھیلائے ہوئے نرجس کہیں سے بھی ایک بیٹی کی ماں نہیں لگ رہی تھی ۔۔
ہاں تو آج تھوڑی نا شامل ہوگا ہمارے ساتھ کل رات کو آئے گا ۔نرجس کی گود مہرون کلر کی فیری فراک پہنی حورین کوکھولتی ہوئی وہ اداس ہوئی تھی ۔
سب تیار ہو ۔روم میں داخل ہوتی شاکرہ بیگم حیا اور نرجس کو تیار دیکھ چپ ہوگئی تھیں ۔۔
ہم دونوں تیار ہیں بس ماہین رہتی ہے ۔کیسی لگ رہی ہوں امو جانی ۔۔ وہ شاکرہ بیگم کے سامنے کھڑی ہوئی تھی
بہت پیاری لگ رہی ہے میری بچی ۔۔شاکرہ بیگم اپنی اکلوتی بیٹی کی نظر اتارتی ہوئیں وہ اس کی پیشانی پر بوسہ دیتی مسکرائیں تھیں ۔
یہ بہت ڈارک ہوگیا ہے پلیز لائیٹ کردیں ۔۔ماہین کے بار بار بولنے پر بیوٹیشن نے غصہ سے اپنا ہاتھ پیچھے کیا تھا ۔
میم ۔اس سے زیادہ کیا لائیٹ ہوگا ۔۔۔وہ زچ آئی تھی ۔
ماہین بہت پیاری لگ رہی ہو ۔کوئی ضرورت نہیں ہے زیادہ لائیٹ میک اپ کی ضد کرنے کی ،آپ بیٹا اس کی مت سنیں ۔ بیوٹیشن کو کہتی ہوئی وہ ماہین کو پیار سے ڈانٹ کر خود بھی چینج کرنے کے لیے وہاں سے گئیں تھیں ۔
شاکرہ بیگم کی ڈانٹ کھانے کے بعد وہ خاموشی سے بیٹھ گئی تھی ۔
وہیں شاہ حویلی میں تیاریاں عروج پر تھیں ۔
شاہدہ بیگم اپنے پھولے ہوئے ہاتھ پیروں کے ساتھ ملازماؤں پر حکم صادر کرتی ہوئی رائمہ کو اپنے ساتھ لیے بلآخر تیار ہونے کے لیے اپنے روم کی طرف بڑھی تھیں جہاں بیوٹیشن ان کا انتظار کررہی تھیں ۔
لندن کا موسم آج خاصا خوشگوار تھا ۔گلاس ونڈو کے پاس کھڑا وہ مدھم سی دھوپ کو دیکھ کر اسے پاکستان کی چمک دار و روشن دھوپ یاد آئی تھی ۔
یہاں گزرے دو دن بھی اسے صدیوں کی مانند لگ رہے تھے ۔
آسمان میں اڑتے پرندوں کو دیکھ اسے اپنے پرند گھر کے پرندوں کی یاد ستائی تھی ۔
آنے سے پہلے تباہی کے ہاتھوں اڑے طوطے اور حیا کو یاد کرکے افسردگی سے مسکرایا تھا ۔
افسردگی سے ونڈو کے پاس سے واپس بیڈ پر بکھرے سامان کو پیک کرتے ہوئے اس کے ہاتھ رکے تھے ۔
کیا ہورہا ہے ۔دل میں اٹھی بےچینی سے پریشان ہوتا ہوا وہ بیڈ پر گرنے کے انداز سے لیٹا تھا۔
اپنے بجتے ہوئے فون کی طرف متوجہ ہوتا ہوا وہ تباہی کالنگ دیکھ کر حیران ہوا تھا ۔
تباہی کو یاد کیا اور تباہی کی کال آگئی ۔فون پک کرتے ہی وہ حیا کو کلسانے کے لیے بول گیا تھا۔
اسے تباہی نہیں دل کو دل سے راہ کہتے ہیں سڑی ہوئی ککڑی ۔چبا کر کہتی ہوئی وہ اسے بہت زیادہ مس کررہی تھی ۔
کیسی لگ رہی ہو آج ۔ حیدر کا سوال اسے حیران کرگیا تھا ۔
ہمیشہ کی طرح بہت پیاری ۔شان بے نیازی سے بالوں کو پیچھے کرتی ہوئی اترائی تھی جیسے حیدر فون پر نہیں اس کے سامنے ہو ۔
میک اپ کے بعد پیاری لگ رہی ہوگی کیونکہ ویسے تو تم صدا بہار ایک ہی شکل لیے پھرتی ہو ۔حیا سے بات کرتا ہوا وہ اپنے دل میں اٹھی بےچینی پر قابو پاگیا تھا۔
سڑی ہوئی ککڑی یوں ہی رہنا ہمیشہ جل ککڑ ۔۔حیا کے زچ آنے پر وہ قہقہ لگا گیا تھا ۔
بے فکر رہو تمہارے معملے میں ایسا ہی رہوں گا ۔۔حیدر کی کہی بات پر وہ سرشار ہوئی تھی ۔
اور میں بھی ایسی ہی رہوں گی ۔اس کے انداز میں بولی تھی ۔
تیری خوشبو کا پتہ کرتی ہے
مجھ پر احسان ہوا کرتی ہے ۔،
شب کی تنہائی میں اب تو اکثر
گفتگو تجھ سے رہا کرتی ہے ۔۔،
دل کو اس راہ پر چلنا ہی نہیں
جو مجھے تجھ سے جدا کرتی ہے ۔۔،
زندگی میری تھی لیکن اب تو
تیرے کہنے پر رہا کرتی ہے۔۔،
اس نے دیکھا ہی نہیں ورنہ یہ آنکھ
دل کا احوال کہا کرتی ہے ۔۔۔۔۔،
سفید کاٹن کے کڑکڑاتے سوٹ پر براؤن چادر کندھوں پر ڈالے وہ پیروں میں پہنی بروان کلر کی کھیڑی جوتی اسکی پروقار وجاہت میں چار چاند لگا رہی تھی ۔
مضبوط قدم اٹھاتا ہوا سامنے وہ کھڑی ماہین کی سمت بڑھا تھا ۔
ہائے مس ماہین ریاض ۔۔۔وہ اپنی دلفریب مسکراہٹ لبوں پر سجائے اس کے روبرو کھڑا ہوا تھا ۔
انہیں جو شہر سے آئی اپنی فرینڈز کے ساتھ سلفی لینے میں میں مصروف تھی اسے اپنے سامنے دیکھ چونکی تھی ۔
ساتھ کھڑی اس کی فرینڈز ارتضی کی شاندار پرسنلٹی کو دیکھ کر متاثر ہوئیں تھیں ۔
ماہین ریاض میں ہی ہوں ۔۔ماہین کے سامنے ہاتھ ہلاتا ہوا اسے دیکھ کر مسلسل مسکرا رہا تھا ۔
تم لوگ جاؤ یہاں سے ۔۔سخت لہجے میں کہتی ہوئی وہ اپنے ساتھ کھڑی دوستوں سے مخاطب ہوئی تھی ۔
مآہین کے اس طرح بھیجنے پر عبیرہ اسے گھورتی ہوئی باقی سب کو لیے وہاں سے نکلی تھی۔
آج آپ کچھ زیادہ ہی تیار نہیں ہوگئی ہیں آپ ۔پیچ کلر کے بھاری کام دار پیروں تک آتے فراک پہنے مہارت سے کیا گیا لائیٹ میک اپ جو ماہین نے بیوٹیشن کو کہہ کہہ کر لائیٹ کروایا تھا۔مقابل کی تعریف کرنے کے انداز سے وہ بھڑک اٹھی تھی ۔
ماہین کی ہرنی جیسی خوبصورت آنکھیں دیکھ ارتضی اپنی دائیں آبرو کھجاتا ہوا مسکرا رہا تھا ۔
بسمل کا خدا حافظ ، قاتل کا خدا حافظ ۔،
تم جس پر نظر ڈالو، اس دل کا خدا حافظ ۔۔،
آجاؤ جو محفل میں اک جان سی آجائے
آٹھ جاؤ جو محفل سےمحفل کا خدا حافظ،
ساتھی ہو اگر تم سا منزل کی تمنا کیا
ہم کو تو عشق پیارا منزل کا خدا حافظ ۔،،
اب ہم بھی تمہارے ہیں کشتی بھی تمہاری ہے
اب مڑ کر نا دیکھیں گے ساحل کا خدا حافظ ۔۔۔۔۔۔،
آج ارتضی شاہ کو اپنی نظریں اس کے خوبصورت چہرے پر سے ہٹانا مشکل ترین امر لگ رہا تھا ۔
ہاں تو منگنی ہے میری تیار تو ہونگی ہی نا ۔جوش سے ہاتھ نچاتی ہوئی وہ اپنے اندار اچانک پیدا ہوئے کانفیڈنٹ سے پرجوش ہوئی تھی ۔
خوش ہیں منگنی سے کافی آپ ۔۔ماہین کی آنکھوں میں خوشی کی چمک صاف دیکھائی دے رہی تھی ۔
خوش نہیں بہت خوش ہوں آخر کو جسا چاہا وہی مل رہا ہے ۔لوو میرج ہے میری ۔۔۔سر پر ٹکائے ڈوپٹے کو آگے کرتی ہوئی اترائی تھی ۔
ویسے تم سے جلاد کیا خبر لوو میرج کی ایسائٹمنٹ کا ۔۔ جتا کر بولتی ہوئی ارتضی شاہ کے چہرے پرآئی سنجیدگی کو دیکھ جتانے کے انداز میں بولی تھی ۔
لوو میرج ۔۔وہ چونکا تھا ۔مطلب اس کا شک صحیح ثابت ہوا تھا ۔
انہیں اس کے اوڑھ اپنے رشتے سے بے خبر تھی ۔
ہمہم ۔۔مسکراہٹ دبائے وہ ارتضی شاہ کی دل کی دنیا کو تہس نہس کرگئی تھی ۔
اچھا کیسا دیکھتا ہے تمہارا فیانسے ۔ماہین کے چہرے پر نظریں جمائے میں وہ مسکرا رہا تھا۔
کیوں تمہیں نہیں پتا منت ہسپتال کے مالک ہے ۔۔ماہین کی آج ہر ادا پر اسے ٹوٹ کر پیار آرہا تھا۔
چھ فٹ کو چھوتا دراز قد ۔۔ارتضی اپنے قد سے موازنہ کرتا حیران ہوا تھا ۔۔اس کی لمبی ہانک پر ۔
گہرے سیاہ بال ،اپنے بالوں کو آج اس نے بھی غور سے نہیں دیکھا تھا ۔
عنابی لب ،لب دبائے وہ ماہین کے مغرور زوایہ دیکھ حیرت کا شکار ہوا تھا ۔
کھڑی ستوان ناک بنا ہتھیار کے اپنی ناک سے کسی کو بھی چاک کرسکتا ہے ۔۔ناک کی سیدھ سے اپنی انگشت کی انگلی پھیر گیا تھا ۔
اور آنکھیں ایسی کہ دل کرتا ہے ان میں ڈوب ہی جاؤں ۔۔وہ کسی ریاست کے شہزادے کا حوالہ دیتی ہوئی پہلے پہل تو گھبرائی تھی مگر مقابل کے کڑے تاثرات دیکھ وہ اپنی گھبراہٹ کو تھپک کر سلاتی ہوئی پرجوش ہوئی تھی۔
ہمہم اچھا ۔۔مسکراہٹ جو اب تک ارتضی کے چہرے پر بکھری ہوئی تھی اب سمٹ گئی تھی ۔
دیکھا ہوا ہے ۔۔ارتضی شاہ کو تفتیش ہوئی تھی ۔
بتایا تو پے ابھی لوو میرج ہورہی ہے ہماری ۔۔لوو میرج پر زور دیتی ہوئی اسے جلانے کے لیے جتا کر بول رہی تھی ۔
دیکھا ہی نہیں ہاتھ میں ہاتھ ڈال کر گھومی ہوں اس کےساتھ ۔ ماہین کی ذہنی حالت پر اسے شک گزرا تھا۔
اس کی ڈوبتی ہوئی آنکھوں میں آنکھیں ڈالی ہیں ۔ماہین ارتضی کے پوچھنے کے انداز پر ہل کر رہ گئی تھی ۔
دیکھا تو اس نے تھا ہی نہیں نرجس کے بار بار اسے لڑکے کی تصویر دیکھنے کے اسرار کو وہ ہوا میں اڑتی ہوئی منگنی کے لیے تیار ہوئی تھی ۔
ارتضی پر اپنا روم جھاڑتی ہوئی وہ پچھتائی تھی اپنی حد درجہ بیوقوفی پر ۔
اس کی چلتی زبان پر بریک لگا تھا ۔
تو منگنی کیوں کررہی ہو ڈائریکٹ نکاح کرلو ۔سنجیدگی سے کہتے ہوئے ارتضی کو یہ جانتے ہوئے بھی کہ جس شخص سے ماہین کی منگنی ہورہی ہے وہ وہی ہے مگر بھی اسے جلن محسوس ہورہی تھی ۔۔
وہ تو میرے کہنے پر ہورہا ہے یہ سب ۔ ایگجمنٹ کے بعد کا گولڈن پریڈ کا بھی اپنا مزہ ہوتا ہے ۔واپس سے اپنے بائیں ہاتھ کو نچاتی ہوئی وہ اپنی خجلت مٹاتی ہوئی بولی تھی ۔
نام کیا ہے ۔۔ارتضی کے حد درجہ سخت لہجے سے وہ گھبرا گئی تھی ۔
آئے گا تو مل بھی لینا اور پوچھ بھی لینا ۔۔انگلی میں پہنی ہوئی انگوٹھی کے ساتھ حرکت کرتی ہوئی وہ اسے بہت پیاری لگی تھی ۔
شاید آگیا ہے تمہارا فیانسے تم جاؤ اور دوبارہ سے ٹچ اپ کر آؤ ۔ماہین کے جھکے سر کو دیکھتا ہوا وہ اس کے قریب سے گزرا تھا ۔
ٹچ اپ کرآؤ جلاد ۔۔ارتضی کی نقل اتارتی ہوئی وہ پیر پٹختی اپنے گہرے فراک کو اٹھاتی ہوئی ڈریسنگ روم میں میں آئی تھی ۔
ٹچ اپ لے لیا ۔ڈریسنگ روم میں انٹر ہوتی نرجس اپنی معصوم سی بہن کو پہلی بار اتنے میک اپ میں دیکھ کر حیران ہوئی تھی ۔
بہت پیاری لگ رہی ہو ۔۔ماہین کو خود سے لگاتی ہوئی دل سے مسکرائی تھی ۔
آپی وہ مجھے اپنے فیانسے تصویر دیکھنی ہے ۔۔ماہین کی اچانک مانگ پر اپنے خالی ہاتھ اسے دیکھاتی ہوئی مسکرائی تھی ۔
جہاں کل سے نہیں دیکھی ہے تصویر تو تھوڑی دیر اور انتظار کرلو ۔۔ماہین کی دن بھر کی خوشی بے چینی میں بدل گئی تھی ۔۔۔۔۔
جاری ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
