Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 21

جب تک ارتضی نا آئے جب تک اس کا انتطار کرنا ہے تمہیں یہ نا ہو وہ آئے اور تم سوئی ہوئی ہو نرجس کی بات یاد کرتی ہوئی انتطار کرتی ہوئی ہلکان ہوئی تھی ۔
ارتضی کا انتظار کرتے ہوئے ماہین کب سو گئی اسے خود کو خیال نہیں رہا تھا ۔
صبح چھ بجے کے قریب کمرے میں داخل ہوتا ہوا ارتضی ماہین کو بیڈ پر بنا کپڑے چینج کیے آرام سے سوئے ہوئے دیکھ حیران ہوا تھا۔
اتنی بڑی غلطی ہوگئی مجھ سے ،ماہین کے پاس دونوں زانوں کے بل بیٹھتا ہوا وہ اپنی حماقت پر پشیمان ہوا تھا ۔
غلطی آپ کی ہے بلاوجہ بنا کسی جواز کے آپ مجھ سے نفرت کرتی ہیں،
آپ مجھے بتائیں تو سہی کہ میں نے ایسا کیا کیا ہے جس وجہ سے آپ مجھ سے نفرت کرتی ہیں، سوئی ہوئی ماہین سے سوال کرتا ہوا اسے اس اپنے اتنے قریب دیکھ کر مسکرایا تھا ۔
سوری ،میں آپ کو اپنے رویے سے بہت ہرٹ کرنے والا ہوں آپ کی وہ سے ہی ۔ کھڑا ہوتا ہوا کرتے کی سائیڈ جیب سے شاہدہ بیگم کا دیا ہوا مخلمی کیس ڈریسنگ ٹیبل کے داز رکھ کر ڈریسنگ روم سے اپنے کپڑے نکالتا ہوا ماہین پر ایک نظر ڈال کر شاور لینے کی غرض سے باتھروم میں گیا تھا ۔
پندرہ منٹ کے شاور کے بعد باہر آتا ہوا وہ ماہین کو ہنوز سوتے دیکھ مسکرایا تھا ۔
مس ایٹیٹوڈ سوتے ہوئے کیوٹ لگ رہی ہیں آپ ،
تھوڑی دیر ماہین کو کسمساتے دیکھ وہ اپنے چہرے پر سنجیدگی لیے دیوان پر براجمان ہوا تھا۔
ارتصی ڈریسنگ ٹیبل کے داز سے خاکی لفافہ نکال کر ماہین کے پاس آکھڑا ہوا تھا ۔
یہ لیں آپ کے حق مہر کی رقم ،بیڈ ہر ہنوز رات کے بکھرے حلیے میں بیٹھی ہوئی ماہین ارتضی کو دیکھ سیدھی ہو بیٹھی تھی ۔
جب میں کمرے میں آیا تھا تو آپ بڑے ہی آرام سے میری بیڈ پر سوئی ہوئی تھیں، ارتضی نے طنز کیا تھا جسے وہ سمجھ نہیں سکی تھی۔
آپ کو جگانا مناسب نہیں لگا مجھے اس لیے اب یہ رقم آپکو دے رہا ہوں ،عام سے انداز میں بولتا ہوا ڈریسنگ ٹیبل کی سمت بڑھا تھا ۔
اپنے سامنے پڑے ہوئے لفافہ کو ماہین حیرت سے دیکھ رہی تھی ۔
اور یہ لیں آپ کی منہ دیکھائی ،سرخ مخملی کیس ماہین کی سمت بڑھاتا ہوا وہ ماہین کے حیرت زدہ تاثرات دیکھ کر مزید سنجیدہ ہوا تھا ۔
ویسے دس بار دیکھی گئی شکل پر منہ دیکھائی کا گفٹ بنتا تو نہیں ہے پر کیا جا سکتا ہے روایت ہے پوری تو کرنی ہوگی ۔بیزاری سے کہتا ہوا وہ ہاتھ میں پکڑے مخملی کیس کے ساتھ کھیلتا ہوا ماہین کے ضبط کو آزما رہا تھا۔
آپ کے دیکھے ہوئے چہرے کو گفٹ دینے کا مجھے بلکل بھی شوق نہیں ہے اور ناہی اس روایت کو پورا کرنے کا پر کیا کروں مجبور ہوں،کندھے اچکاتا ہوا صبح صبح ماہین کو حیران کرنے پر تولہ تھا۔
کیونکہ نیچے سب سے پہلے آپ سے یہ ہی سوال کریں گے سب ارتضی نے کیا دیا ، شاہ نے کیا دیا ،کیا ملا ذرا دیکھاؤ تو سہی ۔ تمخسرانہ ہنسی ہنستا ہوا وہ ماہین کے حیرت سے کھولتے منہ کو دیکھ کر رخ موڑ گیا تھا ۔
ایک منٹ یہ کیا کہہ رہے ہیں آپ دس دفعہ دیکھا ہوا چہرہ صاف جھوٹ بول رہے ہیں آپ ،ارتضی تو اس کے آپ کہنے پر حیران ہوا تھا ۔
اور منہ دیکھائی کا گفٹ دینا شوہر کا فرض ہوتا ہے ۔
اس لیے بیوی کو دیاجاتا ہے چاہے پھر کچھ بھی ہو اور ویسے بیوی کے روپ میں تو آپ نے مجھے پہلی بار ہی دیکھا ہے ،ارتضی کے روبرو کھڑی ہوتی ہوئی وہ دو دو ہاتھ کرنے کو تیار تھی ۔
بیوی جی آپ کو بیوی کے روپ میں پہلے بھی تین بار دیکھ چکا ہوں ،تازی تازی ملاقات تو یاد ہی ہوگی آپ کو صبح پانچ بجے والی، ارتضی کے طنز پر وہ شرمندہ ہوئی تھی ۔
اب جواب ہے آپ کے پاس ہے بیوی جی ،بیوی پر خاصا زور دیتا ہوا وہ واپس سے اپنی جگہ پر جا بیٹھا تھا ۔
ہاں تو یہاں مطلب رخصتی کے بعد تو پہلی بار دیکھ رہے ہیں نا آپ مجھے ،دونوں ہاتھ کمر پر رکھتی ہوئی وہ ارتضی کے سر پر آدوڑی تھی ۔
تو رخصتی سے پہلے گھر سے کیوں بھاگی تھیں آپ ،چبا کر پوچھتا ہوا ماہین کو ہنوز خاموش دیکھ اپنا سیل فون چلانے لگا تھا۔
میں تیار نہیں تھی آپ کے ساتھ شادی پر ۔وہ منمنائی تھی ۔اسے کہاں ارتضی تلخی برداشت ہورہی تھی ۔
اب تیار ہوگی ہیں آپ، بھنویں سیکڑ ہوئے ارتضی کو حیرت ہوئی تھی ۔
نہیں میں یہ بھی نہیں کہا ،اور یہ میرا گفٹ ہے ،ارتضی کے ہاتھ سے چھینتی ہوئی وہ واپس سے اپنی جگہ پر بیٹھی تھی ۔
میں آپ کی طرح نہیں ہوں نا کسی سے بھی بلاوجہ نفرت پالنے والا ،ماہین کے حق جمانے والے انداز پر وہ خوش تو بہت ہوا تھا مگر اپنی خوشی ظاہر نا کرتا ہوا وہ شکوے کن انداز میں جتا گیا تھا ۔
اتنا تو مجھے یقین ہے کہ میں آپ سے نفرت نہیں کرتی ۔ارتضی کو دیکھتی ہوئی وہ دل میں سوچ رہی تھی ۔
ہاں تو ہم مجھے کسی سے نفرت کرنے کے لیے کسی جواز کی ضرورت نہیں پڑتی اور آپ کے لیے تو بلکل بھی نہیں پڑی ،خود کو کمپوز کرتی ہوئی عام سے انداز میں بولی تھی ۔
اور آج جو میں اتنے اچھے سے بات کررہی ہوں زیادہ خوش ہونے کی ضرورت نہیں ہے ،آپ جلاد ہیں اور رہے گے ،آج بھی جلاد پن ہی دکھایا ہے ۔رات بھر ارتضی کا انتظار کرنے والی اپنی بیوقوفی کو سوچ کلسی تھی ۔
ساری سوچیں جھٹکتی ہوئی مخملی کیس کھول کر سمپل سے گولڈ بریسلیٹ کو دیکھ کر مسکرائی تھی۔
اور آپ کو بھی زیادہ خوش ہونے کی ضرورت نہیں ہے یہ گفٹ میری طرف سے نہیں ہے ۔ماہین کے مسکراتے چہرے کو دیکھ وہ اس کے ہی انداز میں بے دلی سے بولا تھا ۔
جس پر ماہین نے اسے سوالیہ نظروں سے دیکھا تھا ۔
ماں سرکار نے دیا تھا یہ آپ کے لیے مجھے بخاری ولا سے واپسی پر ۔ماہین کے چہرے پر نا سمجھی کے تاثرات دیکھتا ہوا گہرا سانس باہر خارج کرگیا تھا ۔
ہمارے ہاں یہ روایت ہے اور بھی بہت سے فیملیز میں یہ بھی ہوتا ہوگا ،
شادی والی رات اپنے بیٹے کو کمرے میں جانے سے پہلے بابا تحفہ دیتے ہیں اسے تاکہ وہ اپنی بیوی کو دے دے اس لیے، اس لیے مجھے ماں سرکار نے دے دیا تھا۔انہیں لگا میں نے آپ کے لیے کچھ نہیں خریدا ہوگا اس لیے ۔تفصیل سے بتاتا ہوا وہ کندھے اچکا کر مسکرایا تھا ماہین کے شاکڈ فیس کو دیکھ کر ۔
جلاد سے مجھے نا کوئی امید ہے اور نا ہی کوئی اچھے کام کی توقع ہے ۔
ارتضی کا اس کے لیے گفٹ نا لانا اسے برا لگا تھا ۔کیس کو بیڈ پر پھینکنے کے انداز سے اٹھتی ہوئی اپنے بھاری ڈریس کو سنبھالتی ہوئی بمشکل ڈریسنگ روم میں رکھے اپنے سوٹ کیس سے کپڑے نکالتی ہوئی وہ غصے سے باتھروم گئی تھی ۔
میڈم کو فرق پڑتا ہے ۔ماہین کو اس طرح غصے سے باتھروم میں جاتے دیکھ وہ اپنا قہقہ ضبط کرگیا تھا۔
جلدی سے فریش ہوجائیں نیچے ساتھ چلنا ہے ہمیں ۔اونچی آواز میں بول رہا تھا ۔
بول تو ایسے رہے ہیں ساتھ جائیں گے کوئی پوچھے تو سہی رات بھر کہاں تھے۔
فریش ہوکر باہر آتی ہوئی وہ ارتضی کو بیڈ پر دراز دیکھ بڑبڑائی تھی ۔
ڈریسنگ ٹیبل پر رکھی چھوٹی سی بلیو کلر کی مخملی ڈبیہ کو دیکھ کر حیران ہوئی تھی ۔
حیران نا ہوں آپ کا منہ دیکھائی کا گفٹ ہے جو دینا لازم تھا مجھ پر ۔دیکھا تو نہیں تھا اچھے سے آپ کو مگر صبح بھوتنی کی شکل دیکھ کریہ گفٹ دینا پڑا ۔اپنی ہنسی ضبط کرتا شیشے میں ابھرتے ماہین کے عکس کو دیکھ وہ بظاہر عام سے لہجے میں بول رہا تھا ۔
نہیں چاہیے مجھے ،دل پر پتھر رکھ کر بولی تھی ورنہ اسے ہمیشہ سے ہی گفٹ لینا پسند رہا تھا اور ارتضی شاہ کا رکھا ہوا گفٹ اسے عجیب سی خوشی دے رہا تھا۔
نا لیں مرضی ہے آپ کی ویسے بھی میں منتیں نہیں کرتا ،وہ ارتضی شاہ تھا اسے لوگوں کی منتیں کرنی کہاں آتی تھی اسے۔
بدمزگی سے ڈبیہ کو کھولے بغیر دیکھے اس نے دراز میں ڈال دی تھی۔
کتنا ٹائم اور لیں گی آپ ویسے ہی لیٹ ہوگئے ہیں ۔ماہین نے اس بار اسے گھورا تھا ۔
اب ایسے مسکینوں کی طرح مجھے مت دیکھیں مجھے ترس بہت جلدی آتا ہے خاص کر لڑکیوں پر ،جھوٹ بولتا ہوا دل میں توبہ کرگیا تھا ۔
شادی کے پہلے ہی دن کوئی اپنی بیوی سے ایسے اپنے قصے سناتا ہے ۔ حیرت اور دکھ کے ملے جلے تاثرات چہرے پر سجائے ارتضی کو کمرے سے باہر جاتے دیکھ وہ اس کے پیچھے چلی تھی ۔
نیچے آتے ہی سب سے پہلے شاہدہ بیگم نے انہیں دیکھا تھا،ان کے پیچھے سے آتے ہوئے دلاور شاہ انہیں دیکھ کر ان دیکھا کرتے ہوئے لیونگ روم کی سمت بڑھے تھے ۔
صبح بخیر بھابھی، نظریں جھکائے حیدر شاہ ہلکا سا مسکرایا تھا ۔
جواب میں وہ بھی مسکرا کر اسے سلام کرتی ہوئی ارتضی کے پیچھے چل رہی تھی ۔
اللہ پاک آپ دونوں کی جوڑی کو ہمیشہ سلامت رکھے اور ہمیشہ خوش رکھے ،انہیں جاتے دیکھ دل سے دعا گو ہوا تھا ۔
شاہدہ بیگم کچن میں ناشتے کی تیاری میں مصروف تھیں ۔
دلاور شاہ کے ساتھ بیٹھے ہوئے ارتضی کو دیکھ حیدر شاہ ان کے برابر میں آکر بیٹھا تھا ۔
حیدر شاہ اور دلاور شاہ کے ساتھ محو گفتگو کرتے ہوئے ہوئے ارتضی کا دھیان ماہین پر ہی تھا۔
میں دیکھائی کا گفٹ کیا ملا ہے آپ کو ۔ارتضی کی بات پوری ہوتے دیکھ وہ حیران ہوئی تھی اس سے منہ دیکھائی کے گفٹ کا سب ہی مہمانوں نے پوچھا تھا ۔
اپنے سامنے کاؤچ پر سفید کاٹن کے کڑکڑاتے سوٹ پہنے ٹانگ پر ٹانگ رکھے ہوئے ارتضی جو اس کو دیکھ کر مسکرا رہا تھا،جیسے کہنا چاہ رہا ہو کہا تھا نا ۔
فورا سے نظریں جھکاتی ہوئی وہ اکتائی تھی سب کو بریسلیٹ دیکھا دیکھا کر ۔
یہ تو تائی امی نے خریدہ تھا آپ کے لیے ارتضی بھائی نے کچھ نہیں دیا آپ کو ۔ ارتضی کی چچا زاد کے پوچھنے پر وہ ارتضی کو دیکھ رہی تھی ۔
مگر اپنے مقابل بیٹھے ارتضی نے اپنے ہاتھ کھڑے کیے تھے ۔
اب بتاؤ ،آنکھوں سے اشارہ کرتا ہوا وہ مسکرایا تھا ۔
وہ ۔ ردا آپ کو شاید ماں سرکار نے آواز دی ہے شاید، ماہین کے برابر میں آکر بیٹھتا ہوا وہ صاف رہا کو یہاں سے جانے کا کہہ گیا تھا۔


سلور کلر کی گہر دار پیروں کو چھوتی فراک میں سمپل سے میک کیے وہ سیاہ سوٹ میں ملبوس ارتضی کے ساتھ کھڑی خوبصورت لگ رہی تھی ۔
بڑے ہی خوبصورت انداز میں ارتضی اور ماہین کے ولیمے کے ساتھ حیدر اور حیا کی منگنی ہوئی تھی۔
حیدر کے چہرے پر جتنی سنجیدگی تھی اس سے دگنی لائیٹ پنک کلر کی ڈریس زیب تن کیے حیا کا چہرے خوشی سے گلابی ہوگیا تھا ۔
حیا کو خوش دیکھ ماہین کے چہرے پر بھی خوبصورت مسکراہٹ سجی دیکھ کر ارتصی شاہ کے یہی اپنے لیے غنیمت لگی تھی ۔
ارتضی اور ماہین کے ساتھ حیدر اور حیا کو دعائیں دیتے ہوئے ریاض صاحب نم آنکھیں صاف کرتے ہوئے مسکرائے تھے ۔
ارتضی ڈاکٹر ہیر کی کال آئی ہے اذہان کے جو چند ٹیسٹ تم نے کروانے کے لیے کہے تھے ان کی رپوٹس آگئی ہیں ۔ڈاکٹر عامر شہزاد اور بہت سے اسٹاف میں ولیمے میں شرکت کی تھی ۔
سب سے اجازت لیتا ہوا ارتضی ڈاکٹر عامر کے ساتھ ہسپتال کے لیے نکلا تھا ۔
ارتضی کو جلد بازی میں جاتے دیکھ ماہین اداس ہوئی تھی، اسے ارتضی کی عدم موجودگی خلی تھی ۔
خدا خدا کرکے فنگشن اختتام پر پہنچا تھا اور ماہین نے سکھ کا سانس لیا تھا۔
مجھے کیوں عجیب لگ رہا ہے ڈاکٹر جلاد کے جانے سے ،اپنے ہی سوالوں میں الجھتی ہوئی ملازمہ کے ساتھ کمرے تک آئی تھی ۔
سنو ،جی بی بی سائین،
آپ کے سائین سرکار کہاں گئے ہیں ۔کمرے میں داخل ہوتے ہی ماہین نے پوچھا تھا ۔
ہسپتال گئے ہیں سائین سرکار، کوئی ضروری کام آگیا تھا ۔سر جھکائے وہ عاجزی سے بولی تھی ۔
ٹھیک ہے تم جاؤ۔
جی بی بی سرکار۔سر کو ہلاتی ہوئی ملازمہ دروازہ بند کرگئی تھی۔
ڈریسنگ ٹیبل کی جانب بڑھتی ہوئی وہ دراز سے ڈبیہ نکلتی ہوئی بے خیالی میں مسکرائی تھی ۔
چوائس اچھی ہے ڈاکٹر جلاد آپ کی ،ریڈ روبی ڈائمنڈ کی رنگ دیکھ کر تعریف کیے بغیر رہ نا سکی تھی ۔
ڈبی کو واپس اے بند کرکے رکھتی ہوئی اپنی جیولری اتار کر ڈریس چینج کرنے کی خاطر ڈریسنگ روم کی سمت بڑھی تھی ۔


ماں اذہان کی سرجری تک میں ہسپتال میں ہی رہوں گا ۔آپ ماہین کو بتا دیجئے گا ۔
تین دن ہوگئے تھے ارتضی کو ہسپتال میں اذہان کے پاس رہتے ہوئے اس نے بس فون کرکے اتنا ہی بتایا تھا۔
شاہدہ بیگم اس سے بہت اسرار کیا اسے آنے کے لیے مگر اس نے انکی ایک نا سنی تھی ۔
تم ٹھیک تو ہو نا بیٹا۔ماہین سے پوچھتی ہوئی وہ اسے ارتضی کے آج بھی نا آنے کا بتا گئی تھیں ۔
جی میں ٹھیک ہوں آپ بس آرام کریں ٹینشن نالیں ،مجھے بھی نیند آرہی ۔بیڈ پر کراؤن سے ٹیک لگائے بیٹھی ہوئی شاہدہ بیگم کے پاس وہ کافی دیر سے بیٹھی ہوئی تھی ۔بہانہ بناتی وہ مسکرا کر کہتی ہوئی وہاں سے چلی گئی تھی ۔۔
شروع کے دن ہوتے ہیں ایک دوسرے کے ساتھ زیادہ سے زیادہ وقت گزارنے کے اور اس وقت میں شاہ تم اپنے چار سال پرانے ڈاکٹر پن پر آگئے ۔
ماہین کو جاتے دیکھ کر وہ مزید اداس ہوئی تھیں۔
خالی جانی ،شاہدہ بیگم کو سوتے ہوئے دیکھ وہ دروازہ کو بنا آواز کیے بند کرتی ہوئی ماہین کے کمرے کی جانب بڑھی تھی۔
یاد آگئی تمہیں میری ،حیا کے آتے ہی ماہین نے شکوہ کیا تھا۔
منگنی کے بعد وہ اب آئی تھی ۔
ایسی بات نہیں ہے کل آنا چاہ رہی تھی پر امو جانی نے منع کردیا تھا اس لیے ۔منمناتے ہوئے وہ ماہین کے پاس آبیٹھی جو دیوان پر بیٹھی ہوئی بیڈ کے سرہانے لگی ہوئی ارتضی کی فوٹو دیکھ رہی تھی جو شاید چند سال پرانی تھی جس میں ارتضی کی عمر کم اور مسکراہٹ شوخ لگ رہی تھی ۔
ارتضی بھائی نا سہی ان کی فوٹوزپر گزارا کیا جارہا ہے ،ماہین کی نظروں کا تاکب کرتی ہوئی وہ شرارت سے گویا ہوئی تھی ۔
ایسی کوئی بات نہیں ہے ۔اپنی چوری پکڑے جانے پر وہ خود کو کمپوز کرتی ہوئی نظریں جھکا گئی تھی ۔
یاد آرہی ہے ۔
پتا نہیں ۔شادی سے پہلے ہوئی ارتضی کے ساتھ ملاقات سے اس عجیب کیفیت محسوس ہونے لگی تھی اسے ارتضی سوچ کر۔اور ان دنوں میں تو بہت کچھ بدل گیا تھا ۔
فون کروں ،کئی بار کرنے کی کوشش تو کی تھی مگر ہر بار انا آڑے آگئی تھی ۔
حیدر سے ملی ہو تم ۔بڑی آسانی سے بات بدل گئی تھی ۔
نہیں ۔تو جاؤ جاکر مل لو ۔حیا کے شانے پر ہاتھ رکھتی ہوئی مسکرائی تھی ۔
اوکے میں ابھی آئی ۔چہک کر کہتی ہوئی وہ ماہین کے روم سے گئی تھی ۔
کیا ہورہا ہے مجھے، آنکھیں بند کرتی ہوئی وہ اپنی کیفیت سے انجان تھی ۔


” خود مزاجی بھی مشہور تھی ۔۔۔اب سادگی بھی کمال ہے ۔۔
ہم شرارتی بھی انتہاہ کے تھےاب سنجیدگی بھی بے مثال ہے
تم یہاں پر بیٹھے ہو اور میں پاگلوں کی طرح پوری حویلی میں ڈھونڈ ڈھونڈ کر ہلکان ہورہی تھی ۔حویلی کے پچھلے حصے میں بنے گارڈن میں گم سم سا بیٹھا حیدر شاہ حیا کی آواز پر مبہم سا مسکرایا تھا ۔
تو تم سیدھی یہاں آتی نا ۔خواہ مخواہ خود کو مجھے ڈھونڈنے میں ہلکان کیا ۔ ویسے پوچھ سکتا ہوں کہ تم مجھے کیوں ڈھونڈ رہی تھیں ۔
اپنی تمام تر وجاہت کے ساتھ جینز کی بلو پینٹ پر ایش گرے شرٹ پہنے ہوا وہ سر سبز ہری گھاس پر بیٹھا ہوا افسردگی سے بول رہا تھا ۔
حیدر کے لہجے میں چھپی افسردگی محسوس کرتی ہوئی وہ حیدر کے برابر میں بیٹھی تھی ۔
کتنے برسوں کا سفر خاک ہوا ۔۔۔۔
اس نے جب پوچھا ،کیسے آنا ہوگیا ۔۔۔۔،
ویسے ہی خالہ جانی کے پاس آئی تھی تو سوچا تم سے بھی ملتی جاؤں ۔حیدر کے پروقار چہرے پر سے نظریں چراتی ہوئی وہ حیدر کے لیے اپنے دل میں چھپے جذبات کو بڑی آسانی سے چھپا گئی تھی ۔
بڑی مہربانی ،تمہاری کہ تم مجھ سے ملنے آئی ۔جتا کر کہتا ہوا حیا کو دیکھ کر طمانیت سے مسکرایا تھا ۔
حیدر کو تاسف سے دیکھتی ہوئی اپنی جگہ سے اٹھ کھڑی ہوئی تھی ۔
حیا کہاں جارہی ہو ۔ حیدر کی پکار پر اس کے لب مسکرائے تھے فقط حیدر کی فکر سے بھری آواز پر۔
ماہین آپی کے پاس واپس ،بنا مڑے بولی تھی ۔
جھوٹی، آ تم ماہین کے پاس سے رہی ہو اور نام کا دے رہی ہو ،حیا کو دیکھ کر اسے افسردہ چہرے پر مسکراہٹ بکھر گئی تھی ۔
زیادہ نہیں بولو سڑی ہوئی ککڑی ۔جارہی ہوں میں
اب آہی گئی ہو تو تھوڑی دیر تک جاؤں۔ حیا کو جاتے دیکھ واپس سے اداس ہوا تھا ۔
اگر تم اتنا کہہ رہے ہو تو رک جاتی ہوں ،حیدر کے برابر میں بیٹھی ہوئی جتانے والے انداز میں بولی تھی ۔جس ہر حیدر کھل مسکرایا تھا ۔
جاری ہے ۔