No Download Link
Rate this Novel
Episode 12
سچ میں میڈیسن بھیجوادی اس ڈاکٹر جلاد نے۔۔۔۔۔سلیمہ سے میڈیسن بکس لیتی ہوئی وہ حیران ہوئی تھی ۔
یہ سنگدل انسان مجھ پر اتنا مہربان کیوں ہورہا ہے ۔۔
کہیں اپنی وحشت طاری کرنے کے لیے تو نہیں ابھی اتنا اچھا بن رہا ہے جب میں اسے اچھا سمجھنے لگ جاؤں گی تو یہ پھر سے اپنا وہ مال والا روپ دیکھائے گا۔۔۔جھرجھری لیتی ہوئی وہ میسج ٹون پر متوجہ ہوتی ہوئی وہ ارتضی کا میسج پڑھ کر اور زیادہ حیران ہوئی تھی ۔
میں اس پہلی کے مانند ہوں ماہین بخاری جسے اگر تم سلجھانے بیٹھوں گی تو خود سے ہی غافل ہوجاؤ گی ۔
اور یہ مت سمجھنا کہ یہ میڈیسن میں نے تمہیں قائل کرنے کے لیے بھیجی ہیں ۔
یہ صرف ایک ڈاکٹر ہونے کا فرض ادا کیا ہے میں نے اور کچھ نہیں ۔۔۔
میڈیسن لے کر آرام سے سو جائیں میں آپ کو آپ کے خواب میں ڈرانے کوئی ارادہ نہیں رکھتا ۔۔۔ایک ایک لفظ کو دھیان سے پڑھتی ہوئی وہ آخری لفظ پر منہ بنا کر بولی تھی ۔
آیا بڑا سمجھتا کیا ہے خود کو جیسے میں ڈرتی ہوں ۔
ماہین ریاض اپنا بابا کے علاوہ کسی سے نہیں ڈری تو یہ جلاد کون سی کھیت کی گوبھی ہے جس سے میں ڈر جاؤں گی ۔ارتضی کے خوف کو ہوا میں اڑاتی ہوئی پیں کلر لے کر بیڈ پر دراز ہوتی ہوئی منہ تک کنفرٹ لیے آنکھیں بند کر گئی تھی ۔
کوئی اثر نہیں ہوا تمہاری ترکیب کا الٹا مجھے وٹامن ڈی کی میڈیسن کی ہدایت دے کر جاتا بنا ۔۔ارتضی کے لیے لنچ تیار کرتی ہوئی وہ رات والی ارتضی کی ہدایت پر ہمت ہار گئی تھیں ۔
کوئی بات نہیں ایک پلین فیل ہوا ہے نا ابھی تو اور بھی ہیں میرے دماغ میں ۔۔۔۔ویسے کیا کررہی ہیں آپ ۔۔۔۔
اپنے پلین کے فیل ہونے کا اسے ذرا دکھ نا ہوا تھا ۔
ارتضی کے لیے کھانا بنا رہی ہوں ۔۔۔اور کیا کر سکتی ہوں ۔۔۔مصروف سے انداز میں وہ افسردگی سے بولی تھیں ۔
مرچی تیز کردیں اور نمک بھی زیادہ ہی ڈال دیں ۔۔اپنےبالوں کو ہائی ٹیل میں باندھتی ہوئی وہ ڈریسنگ ٹیبل پر فون اسپیکر پر رکھتی وہ اب اپنی جھیل سی آنکھوں میں بھر بھر کر کاجل ڈالتی ہوئی اچانک سے بولی تھی ۔
پاگل ہوگئی ہو کیا حیا ۔۔۔انہیں حیا کی ذہنی حالت پر شک گزرا تھا ۔
میں ہوش میں ہی ہوں خالہ جانی آپ کو بہو چاہیے کہ نہیں ۔۔یا کنوارے بیٹے کو دیکھ دیکھ کر عمر گزرنے کا ارادہ ہے آپ کا۔
چاہیے ۔۔۔۔فرائی پین میں اپنی پکائی ہوئی فرائیڈ بھنڈی کو دیکھتی ہوئی وہ حیا کو جواب دے گئیں تھیں ۔
شاہدہ بیگم کے فورا سے جواب دینے پر وہ مسکرا رہی تھی ۔
تو آپ اپنی ممتا کو سائیڈ پر رکھیں اور نمک مرچ ٹھوک دیں ۔۔۔۔
ٹھوک دوں مطلب ۔۔۔۔نا سمجھی میں پوچھتی ہوئی وہ اگر اس وقت حیا کو مسکراتے دیکھ لیتی تو وہ اس کی کلاس لگا دیتیں ۔۔۔
مطلب بنا ہاتھ روکے ڈال دیں ۔ویسے بنا کیا رہی ہیں آپ ۔۔۔
فرائیڈ بھنڈی۔شاہ نے آج فرمائش کرکے بنوائی ہے ۔لہجے میں پیار سموئے وہ دل کھول کر مسکرائیں تھیں ۔
فرائیڈ بھنڈی۔۔۔۔۔
اپنی ڈریس کے ساتھ اسٹولر میچ کرتی ہوئی وہ فرائیڈ بھنڈی کا سن کر منہ میں پانی لیے وہ افسوس کررہی تھی شاہ حویلی میں نا ہونے کے ۔۔
اسپائسی کھانے سے الرجی ہے شاہ کو ۔۔۔ممتا نے پھر سر اٹھایا تھا۔
میڈیسن سے ٹھیک ہوجائے گے ۔۔۔
ویسے ہی میڈیسنز بانٹتے پھر رہے ہیں آج کل ۔۔۔۔ڈریسنگ ٹیبل پر رکھے فون کو وہی پر چھوڑ واشروم میں ہاتھ دھونے کی غرض سے گئی تھی ۔
زیادہ طبیعیت بگڑ تو ویسے ہی بہت حساس ہے ۔۔۔۔
حیا ۔۔۔۔کو پکارتی ہوئی ماہین شاہدہ بیگم کی آواز پر متوجہ ہوتی ہوئی فون ہاتھ میں اٹھ چکی تھی ۔
کہاں گئی تم حیا کوئی جواب تو دو ۔۔۔
اسلام وعلیکم آنٹی میں ماہین بات کررہی ہوں حیا واشروم میں ہے ۔۔
آپ کو کام تھا حیا سے ۔۔۔۔اپنے مخصوص انداز میں بولتی ہوئی وہ شاہدہ بیگم کے جواب کی منتظر تھی ۔
کیسی ہو ماہین بیٹا آپ نے تو چکر ہی نہیں لگایا ہماری طرف ۔۔۔ماہین کی آواز سن کر ہی انہیں ارتضی کا خیال آیا تھا ۔۔
ایسی ہی نرم طبعیت کی بیوی وہ ڈھونڈ رہی تھیں ارتضی کے لیے ۔۔
بس آنٹی آپ کی بھانجی مجھے اپنے ساتھ لانا ہی پسند نہیں کرتی ۔واشروم سے حیا کو باہر آتے دیکھ ماہین اس سے شکوہ کرگئی تھی ۔
وہ تو ہے ہی پاگل آپ تو سمجھدار ہیں آپ خود آجائیں ۔۔ماہین کے ہاتھ سے فون لیتی ہوئی وہ تڑخ کر بولی تھی۔
خالہ جانی آپ کو نہیں لگتا آج کے لیے اتنا کافی ہے ۔ حیا کی آواز سن کر انہیں واپس سے اس کی ترکیب کا خیال آیا تھا۔
اگر زیادہ اسپائیسی ہوگیا تو الرجی ہوجائے گی نا ۔۔
تو آنٹی آپ اسپائسی بنائیں ہی مت ۔۔۔شاہدہ بیگم کی پریشان آواز سن کر ماہین سے رہا نا گیا تھا ۔
بنا دیکھے بنا جانے اتنا خیال ہے تو میرے ارتضی سے ملنے کے بعد کتنا ہوگا ۔۔۔دل ہی دل میں خوش ہوتی ہوئیں وہ بھنڈی میں ایک ساتھ نمک اور مرچ ڈال گئیں تھیں ۔
خالہ جانی جو کہا ہے وہ کریں ۔۔۔ماہین سے نظریں چراتی ہوئی وہ لفظوں پر زور دیتی ہوئی وہ فون رکھ گئی تھی ۔
آپ یہاں کیا کررہی ہیں ۔۔۔ماہین کو دیکھ کر وہ رخ موڑ گئی تھی ۔
ناراض میں ہوں تم سے اور نخرے تم دِکھا رہی ہو ۔۔۔حیا کے
لیے دیے سے انداز پر ماہین حیران ہوئی تھی ۔۔
ہاں تو ناراض ہونا صرف آپ کو آتا ہے میں نہیں ہوسکتی ناراض آپ سے ۔
کل رات کی بات پر پہلے آپ نے اپنا روم چینج کرلیا اور اوپر سے دروازہ بھی نہیں کھولا میرے لیے اس سلیمہ کے لیے تو بڑی جلدی دروازہ کھل گیا تھا آپ سے ۔
اب جواب دیں نا اب ایسے کیوں دیکھ رہی ہیں آپ مجھے۔۔ترکی با ترکی بولتی وہ ماہین کے حیران چہرے کو دیکھ کر استفسار کرگئی تھی ۔
پانی کا گلاس ایک سانس میں خالی کرتی ہوئی وہ بیڈ پر بیٹھتی ہوئی فون اسکرین پر انگلیاں چلانے لگی تھی ۔
ہاں تو تھی میں بلکہ ہوں کس کے سہارے پر مجھے ہسپتال چھوڑ کر آئیں تھی تم ۔۔۔ماہین کے پوچھنے پر اپنے منہ کو بند رکھتی ہوئی انجان بنی بیٹھی تھی ۔
اگر میں پھر سے گم ہوجاتی تو ۔۔میرا سامنا کرنے کے بجائے تم اپنی خالہ جانی کے گھر چلی گئی پھر تم مجھ سے یہ امید رکھتی ہو کہ میں روم بھی چینج نا کروں اور تم سے ناراض بھی نا ہوں ۔۔۔۔غصے میں بھی خود پر ضبط رکھتی ہوئی حیا کو فون پر مصروف دیکھ کلسی تھی ۔
جواب ہے آپ کے پاس حیا بی بی ۔۔حیا کئ ہاتھ فون چھینتی ہوئی وہ اس کے روبرو آن کھڑی ہوئی تھی ۔
ہاں تو سوری کہا تو تھا اور میسج بھی کیا تھا ۔اور رہی بات آپ کو وہاں ہسپتال میں چھوڑ کر جانے کی بات تو وہاں سب بابا کو جانتے ہیں اس لیے آپ کو چھوڑ کر آئی تھی ۔۔۔نم آنکھیں لیے وہ بڑی آسانی سے بات دبا گئی تھی۔
اب رو کیوں رہی ہو ۔۔ حیا کی آنکھوں میں آنسو دیکھ وہ خود افسردہ ہوئی تھی ۔
آپ ناراض جو ہیں ۔۔ہنوز آنکھوں میں آنسو لیے معصوم بچوں کی طرح بولی تھی ۔۔۔
نہیں ہوں ناراض میں تم رونا بند کرو ۔۔۔ وہ حیا کو روتے دیکھ خود بھی روہانسی ہوئی تھی ۔
سچی ۔۔۔مچی ۔۔۔۔ماہین کے گلے لگتی ہوتی ہوئی وہ خوشی سے چلائی تھی ۔
آج نا بہت اچھا دن ہوگا آپ کے لیے اور میرے لیے ۔۔۔ماہین کے ہنوز گلے سے لگی ہوئی وہ سوچ کر مسکرائی تھی ۔۔
اب دوبارہ تو نہیں کرو گی ایسا ۔۔حیا سے الگ ہوتی ہوئی وہ اپنی آنکھوں میں آئی ہوئی نمی کو صاف کرتی ہوئی پوچھ رہی تھی ۔
کبھی بھی نہیں ۔۔۔۔کان پکڑ کر گردن نفی میں ہلاتی ہوئی حیا کو دیکھ کر مسکرائی تھی ۔۔
امو جانی نے بتایا تھا کی آپ کے ہاتھ پر کٹ لگا ہے وہ کیسا ہے اب ۔۔
ٹھیک ہے اب رات میں پین کلر لی تھی تو اور بہتر ہوگیا ہے ۔۔ کٹ کو دیکھتی ہوئی وہ مسکرائی تھی ۔
بڑی مسکراہٹ آرہی ہے پین کلر کو سوچ کر مطلب محبت کی پہلی سیڑھی پر قدم رکھ کیا ہے ۔۔ماہین کو مسکراتے دیکھ وہ دل ہی دل میں سوچ کر خوش ہوئی تھی ۔
آپ مسکرا رہی ہیں کیا بات ہے ۔۔۔زبان تو آخر زبان ہے پاگل ہی جاتی ہے اور وہ ہی ہوا حیا کی زبان پھیسل گئی تھی ۔
یہ سوچ کر مسکرا رہی تھی اس معمولی سے کٹ کو دیکھ کر میں اتنا روئی تھی اب جب صبح پٹی کھولی تو دیکھا ۔۔۔اپنی بیوقوفی پر ہنس رہی تھی ۔
ویسے آپی کس نے لفٹ دی آپکو میرا مطلب کون چھوڑ کر گیا تھا آپ کو گھر تک ۔۔۔مارے تجسس کے پوچھتی ہوئی انجان بنی ہوئی تھی ۔
منت ہسپتال کے ڈاکٹر ہی تھے ۔۔۔ کسی بھی احساس سے عاری لہجے میں جواب دیتی ہوئی حیا کے خیالوں پر پانی ڈال گئی تھی ۔
اچھا ۔۔۔
تمہیں کیا ہوا ۔۔ حیا لٹکے ہوئے منہ کو دیکھ کر وہ پوچھ گئی تھی ۔۔
کچھ نہیں ایسے ہی آپ تیار ہوجائیں آج شام خالہ جانی آئیں گی ۔۔اپنی ٹون میں آتی ہوئی وہ چہکی تھی ۔
میرا تیار ہونا لازمی ہے کیا ۔۔حیا کی بات پر وہ شاکڈ ہوئی تھی۔
ایسے ہی بول رہی تھی میں تو ۔۔۔آپ کی مرضی ۔۔۔
کندھے آچکا کر کہتی ہوئی وہ ماہین کے دماغ کو داد دے گئی تھی ۔
آپ بھائی کو کھانا دے کر دور کیوں کھڑی ہوگئی ہیں آپ ۔
شاہدہ بیگم کی جلدبازی حیدر کی آنکھوں سے مخفی نا رہی تھی۔۔
مرچی تیز ہے آج کھانے میں اس لیے ۔۔بنا کوئی بہانہ بنائیں وہ حیدر کو سچ بتا گئیں تھیں ۔
پوچھ سکتا ہوں کیوں ۔۔سرگوشیانہ انداز میں پوچھتا ہوا وہ ارتضی کے کھانے کی طرف بڑھتے ہوئے ہاتھ دیکھ کر اسے کھانا کھانے سے روکنا چاہتا تھا ۔۔
یہی کہ میں بوڑھی ہوگئی ہوں اور اب اسے شادی کرلینی چاہیے ۔
ماں جانتی ہیں آپ کہ بھائی اسپائسی کھانوں سے الرجیک ہیں پھر ۔۔
شاہدہ بیگم کے پرسکون چہرے کو دیکھتا ہوا وہ حیران ہوا تھا ۔
ایسے مشورے تباہی کے علاوہ کوئی نہیں دے سکتا آپکو ۔۔حیدر کے بلکل صیحح اندازے پر وہ مسکرائیں تھی ۔۔
آہہہہہہہ۔۔۔۔افففففف ۔۔۔پہلا نوالہ منہ میں لیتے ہی ارتضی نے اپنی ماں سرکار کو دیکھا تھا جو اس وقت اس کے سامنے ہی حیدر کے ساتھ کسی بات پر مسکرا رہی تھیں ۔
دوسرا نوالہ منہ میں رکھتا ہوا وہ پانی کےگلاس کو ایک سانس میں حلق میں اتار گیا تھا ۔
لندن سے واپسی پر آپ سے ضروری بات کرنی ہے جب تک آپ بھائی دلہن تلاش کریں ۔۔ماہین کے بارے میں انہیں فلحال بتانے سے گریز کرگیا تھا ۔
خیر سے جاؤ اور خیر سے آؤ ۔۔۔ارتضی کی سرخ آنکھیں خود پر محسوس کرتی ہوئیں وہ خود ارتضی کے سوالوں کے لیے تیار کرچکی تھیں۔
وجہ جان سکتا ہوں سسسسس اتنی تیز مرچی کی سسسس آہہ ۔۔۔ ماں ۔۔تیز مرچی سے جلتی زبان اور حلق کے ساتھ وہ پوچھتا ہوا ایک گلاس اور منہ کو لگا گیا تھا۔
مرچی تیز ہوگئی ایک تو یہ عمر کا تقاضہ میرے بچے بھول کر ڈال دی اتنی مرچی ۔۔کمال کی اداکاری کرتی ہوئیں وہ حیدر کو حیران کرگئی تھیں ۔
اب تو عمر بڑھتی رہے گی اور حافطہ کمزور ہوتا جائے گا۔
میری مانو ارتضی اب شادی کرلو کب تک میں تمہاری بیمار بوڑھی ماں کھانا بناکر تمہیں تکلیف پہنچاتی رہے گی۔ڈوپٹے کے پلوں سے آنکھوں پر زور دیتی ہوئی وہ زبردستی کے آنسو نکال کر بولی تھیں ۔
جبکہ ارتضی انہیں آنکھوں میں حیرت لیے دیکھ رہا تھا ۔
کل تک جو ٹپ ٹاپ سی اپنی ماں کو سوچتا ہوا وہ آج بڑھاپے کا رونا روٹی ہوئی اپنی ماں کو دیکھ حیران ہوا تھا ۔
جی بھائی مان جائیں ماں ٹھیک کہہ رہی ہیں ۔۔رائمہ جو حیدر اور شاہدہ بیگم کے باتیں سن کر آگے بڑھی تھی ۔
اب بھابھی آجانی میری ۔۔ارتضی کے ہاتھ ہر دباؤ دیتی ہوئی وہ آنکھوں میں امید لیے بولی تھی۔
کہاں کی تیاری ہورہی ہے ۔۔رائمہ کی طرف مسکرا کر دیکھتا ہوا وہ حیدر کے پاس رکھے سامان کو دیکھ کر حیران ہوا تھا ۔
بتایا تو تھا بھائی اس بار لندن میں جاؤں گا تو بس وہیں کی تیاری ہے ۔۔
اور میرے آنے سے پہلے میری بھابھی ڈھونڈ لیں ۔۔جانے انجانے میں وہ خود کو ماہین سے ہمیشہ ہمیشہ کے لئے جدا کرگیا تھا۔
تم بھی ۔منہ کی جلن کم ہوتی ہوئی محسوس کرتا ہوا وہ مسکرا کر پوچھ رہا تھا ۔
کل رات سے جو ماں اپنی اداکاری کے جوہر دکھا رہی ہیں تو ضرور لڑکی بھی دیکھ لی ہوگی آپ نے ۔۔ارتضی کے لہجے میں چھپا ماہین کو کھو دینے کا ڈر صاف عیاں تھا۔
ہاں دیکھ لی ہی ہے میں نے اور آج شام کو ہی جارہی ہوں رشتہ مانگنے کےلیے ۔۔مضبوط لہجے میں بولتی ہوئیں ارتضی کا ڈر نادیکھ سکی تھیں ۔۔
ضرور بابا سے مشورہ کیا ہے ۔بڑے ضبط کے ساتھ لبوں پرمسکراہٹ سجائے وہ حامی بھر گیا تھا۔
وہ تو خود راضی ہیں ۔۔ارتضی کی حامی انہیں سرشار کرگئی تھی ۔
ائیرپورٹ تک تمہیں چھوڑنے چل سکتا ہوں ۔اپنی کیفیت کسی پر ظاہر کیے بغیر وہ حیدر کو سب سے اجازت لینے کے بعد جاتے دیکھ وہ پیچھے سے بولتا ہوا اس کے برابر میں آکر کھڑا ہوا تھا ۔
آپ کو اجازت کی ضرورت ہے کیا ۔۔
وہ تو میں دیکھ رہا تھاکہ تم کیا کہوں گے ۔۔ہم قدم چلتے ہوئے وہ دونوں مسکراتے ہوئے گاڑی میں بیٹھ کر ایک منزل طے کرنے چلے تھے۔
کیا کر رہے ہو ارتضی تم اپنے ساتھ ۔۔۔۔۔
چھوٹا سا حادثہ تھا یار وہ کسی بھی نیو ڈاکٹر سے ایسی غلطیاں ہوجاتی ہیں ۔۔۔
ارتضی کے مسلسل ہسپتال جوائن نا کرنے پر ڈاکٹر عامر شہزاد اسے سنجیدگی سے سمجھا رہے تھے مگر اس کی طرف سے ہر بار انکار ہی مل رہا تھا۔
نیو ڈاکٹر کتنا سمپل ہے نا خود یہ بری الزمہ کرنا ۔۔۔تلخی سے کہتا ہوا وہ گلاس ونڈو سے باہر دیکھتا ہوا کرلایا تھا ۔
غلطیوں سے سیکھا جاتا ناکہ پیچھے ہوجانا ۔۔۔۔ایک پھر کوشش کی گئی تھی ڈاکٹر عامر شہزاد کی طرف سے۔
ان گزرے ہوئے سالوں میں اس ہی غلطی کو سدھارنے کی کوشش کر رہا ہوں اور ہر روز اسے دیکھ کر مرتا ہوں ۔کیا بے بسی کی انتہا نہیں ہے عامر ۔۔۔ کرب سے آنکھیں میچتا ہوا وہ اپنی بے بسی پر مسکرا بھی نا سکا تھا۔
غلطی تمہاری نہیں تھی ارتضی تم جونئیر تھے اس وقت اور جونئیرز سے اکثر غلطیاں ہوجاتی ہیں ۔۔ارتضی کے شانے پر ہاتھ رکھتا ہوا وہ ارتضی کو صحیح ثابت کرنے کی کوشش کررہا تھا ۔
میں جونئیر نہیں تھا میں اپنے کیریئر کے اس موڑ پر تھا جہاں مجھے اپنی آنکھوں کے سامنے فقط کامیابی دِکھ رہی تھی ۔۔
World the best ophthalmologis Irtaza Shah ….
مجھے بس دنیا میں نام چاہیے طیب چشم کا ۔۔دونوں ہاتھوںسے چہرے کو رگڑتا ہوا وہ اپنی درد سے پھٹتی نسوں پر دباؤ دیتا ہوا اپنا ضبط کھو رہا تھا ۔
ایک اَن دیکھا تمغہ اعزاز چاہیے تھا مجھے تو ۔۔۔آنکھوں سے گرتے آنسو کو بے دردی سے رگڑتا ہوا وہ مسلسل بول رہا تھا ۔
عامر میری خواہش مجھے روند گئی وہ ایک غلطی میری زندگی سے سب کچھ چھین کر لے گئی اور مجھے ایسا بنا دیا ۔
جو میں کبھی نہیں تھا ۔۔۔ایسا نہیں تھا میں ۔۔۔۔۔
ایسا نہیں تھا کہ وہ پہلی بار عامر کے سامنےٹوٹ کر رو رہا تھا ہر بار جب جب عامر اس رات کا ذکر کرتا تھا جب جب ارتضی شاہ ٹوٹ کر بکھرتا تھا۔
ارتضی تمہیں حساس بننا تھا مگر تم نے کچھ اور راہ اختیار کرکے لوگوں کے دلوں میں خوف بیٹھا دیا ۔۔۔عامر کی بات پر تمخسر سے ہنستا ہوا وہ کوئی بھٹکا ہوا مسافر لگ رہا تھا۔
جو اندھیرے میں مسلسل اپنی راہ کی تلاش میں بھٹک رہا تھا ۔۔
حساس تھا جب ہی تو روند دیا گیا ۔
شوخ تھا تو سنگدل بنا اگر ۔۔۔۔
سنگدل ہوتا تو وہ غلطی سے بھی غلطی نا ہوتی ہاتھ نا کانپتے میرے ۔ ۔لب بھینچے وہ خود پر ضبط کرنے کی ناکام کوشش رہا تھا۔
ارتضی ۔۔۔۔۔کب ارتضی کو اس طرح روتے دیکھ عامر کی آنکھیں نم ہوئیں تھیں اسے خود خبر نہیں ہوئی تھی ۔
کرب سے پکارتا ہوا وہ ارتضی کی سرخ ہوتی آنکھیں دیکھ کر چاہ کر بھی کچھ نا کہہ سکا تھا۔
گھرجاؤ اور آرام کرو ۔صبح ملتے ہیں ۔۔۔
آرام ۔۔۔۔۔۔۔اسے اس وقت بے بسی خود پر قہقہ لگاتی ہوئی محسوس ہوئی تھی ۔
آرام وہ اس رات مجھ سے دور چلا گیا تھا اب فقط اپنی ناکامی کی آگ میں جلتا ہوں ۔۔۔کہنی آنکھوں پر رکھتا ہوا اپنے آنسو صاف کرتا ہوا تلخ مسکرایا تھا ۔۔۔
حوصلہ رکھو ۔۔۔۔
اس ہی کے دم پر تو جی رہا ہوں ورنہ مر تو کب کا گیا ۔۔۔احساس سے عاری انداز میں مسکراتا ہوا وہ عامر کے کاندھے کو تھتھپاتا ہوا اپنے بکھرے وجود کو سمیٹتا ہوا وہاں سے ٹوٹے ہوئے قدموں سے گیا تھا۔۔۔
اللہ رحم کرے تمہارے حال پر ۔۔۔ارتضی کو جاتے دیکھ وہ صرف یہ ہی کہہ سکا تھا۔
اللہ رحم کرے میرے حال پر ورنہ میرے حال پورے ہیں ۔
انگشت کی انگلی اٹھائے وہ بنا عامر کی سمت مڑے بولا تھا ۔
اس نے کہا تھا غرور نا کرنا اور میں مغرور بن گیا ۔
اس نے کہا تھا گھمنڈ نا کرنا اور میں گھمنڈی بن گیا ۔۔
اس نے کہا تھا اپنی نفس کی چاہتوں کے آگے گھٹنے نا ٹیکنا
ایسے ایسے چٹکی بجاتا رہا اور نفس کی چاہ کا شوخ پجاری بن گیا اور بڑے بڑے خواب بُنتا ہی چلا گیا ۔۔۔۔ایک ہی لمحے عرش سے فرش کا بھیکاری بن گیا ۔۔خود پر ہنستا ہوا وہ کہہ کر وہاں رکا نہیں تھا ۔ ارتضی کا کرب اپنے دل پر محسوس کرتا ہوا عامر اس کے لیے دل سے دعا گو ہوا تھا ۔
دل میں اک لہر سی اٹھی ہے ابھی
کوئی تازہ ہوا چلی ہے ابھی
شور برپا ہے خانہ دل میں
کوئی دیوار سی گری ہے ابھی
بھری دنیا میں جی نہیں لگتا
جانے کس چیز کی کمی ہے ابھی
تو شریک سخن نہیں ہے تو کیا
ہم سخن تیری خاموشی ہے ابھی
یاد کے ہیں نشاں جزیروں سے
تیری آواز آرہی ہے ابھی
شہر کی ہے چراغ گلیوں میں
زندگی تجھ کو ڈھونڈتی ہے ابھی
سو گئے لوگ اس حویلی کے
ایک کھڑکی مگر کھلی ہے ابھی
تم تو یارو ابھی سے اٹھ بیٹھے
شہر کی رات جاگنی ہے ابھی
وقت اچھا بھی آئے گا ناصر
غم نہ کر زندگی پڑی ہے ابھی
رات گئے حویلی میں داخل ہوتا ہوا وہ خود سے نظریں چرائے حویلی کے آخری کونے میں بنے بند کمرے کو کھولتا ہوا اندر داخل ہوکر دروازہ اندر سے بند کرگیا تھا ۔۔۔۔
جاری ہے ۔۔۔۔۔
