Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 17

سنا میرے سسر صاحب کیا کہا ۔قانونی اور شرعی طور میری بیوی ہیں آپ اور کیا کہہ رہی تھیں آپ ۔۔۔۔۔
ہاں ۔۔۔یاد کرتا ہوا وہ ہنوز ماہین مے منہ پر ہاتھ رکھے ہوئے تھا ۔
نہیں ہوں میں آپ کی بیوی ۔۔۔ماہین کی نقل کرتا ہوا وہ قہقہ لگا گیا تھا ۔
اللہ پوچھے گا جلاد انسان تمہیں ۔۔۔ مسلسل روتی ہوئی ارتضی کو قہقہ لگاتے دیکھ اس کے رونے میں روانگی آئی تھی ۔
ماہین کو زارو قطار روتے دیکھ وہ اپنا ہاتھ پیچھے کر گیا تھا ۔
ت۔ جیسے جلاد سے اپنی جان بچا کر گھر سے بھاگی تھی ۔
مگر میری قسمت نے آج بھی میری ساتھ دغا کردی اور پھر سے تمہاری قید میں آگئی ہوں ۔
میری وجہ سے آپ گھر سے بھاگی تھیں ۔وہ شاکڈ ہوا تھا ۔
ہاں ۔۔۔۔نہیں منظور مجھے یہ رشتہ نفرت کرتی ہوں میں تم سے ۔۔۔وہ ہذیانی انداز میں چلائی تھی ۔۔
میرا نہیں خیال کہ میں تمہیں کبھی تکلیف پہنچائی ہے ۔ہماری تو ملاقات بھی دو تین بار ہی ہوئی ہے ۔اور ہر بار تم مجھ سے لڑنا شروع کرتی ہو نا کہ میں ۔ نجانے وہ کیا چاہتا تھا مگر ماہین کے نفرت کے اظہار پر ماہین کی موجودگی میں بے قابو ہوئے دل پر ضبط کی بیڑیاں ڈال کر بیٹھا تھا ۔
مجھ سے نفرت کی وجہ ۔۔سوال کرتا ہوا وہ پہلی بار ڈرا تھا ۔
نفرت کی وجہ جاننی ہے تمہیں ۔۔جو شخص اپنی بہن کی عزت نہیں کرسکتا ۔
جس شخص کے پاس دل و احساس نامی شے ہی نہیں ہے ۔
مجھے میری زندگی ایسا شخص نہیں چاہے جو سنگدل ہو جسے دوسروں کو درد دے کر خوشی محسوس ہوتی ہو مجھے ایسا شخص اپنی زندگی میں نہیں چاہیے ۔نہیں چاہیے ۔اپنے سر کو دونوں ہاتھوں پکڑ کر وہ بلند آواز میں چلاتی ہوئی بیڈ سے اتری تھی ۔
آرام سے بولو یہ تمہارے باپ کا گھر نہیں ہے ۔۔وہ ضبط کیے بولا تھا ۔
اور ویسے یہ چیخنے چلانے کا اب تو کوئی فائدہ نہیں ہے تمہارے پاس نکاح میں باندھ چکی ہو میرے ساتھ ۔چہرے پر سنجیدگی لیے وہ سرد مہری سے باور کروا گیا تھا ۔
نہیں مانتی میں۔۔۔
تمہارا اور میرا اگر کوئی رشتہ ہے تو فقط نفرت کا ۔۔لہو چھلکتی آنکھوں میں خوف لیے وہ ارتضی کے چہرے پر سے نگاہ ہٹائے اس کی جانب پیٹھ کرتی ہوئی وہ منمنائی تھی ۔
محبت اور نفرت ایک سکے کے دو پہلو ہوتے ہیں ماہین شاہ ۔
اگر پہلو نفرت پلٹ دو تو محبت جیت جاتی ہے ۔۔۔
اور پھر پہلو محبت پلٹ دو تو نفرت اپنا راج کرتی ہے۔
تاریخ گواہ ہے جس سے زیادہ محبت کی جاتی ہے اس ہی سے حد درجہ نفرت ہوتے دیر نہیں لگتی ۔اچانک سے اس کی آنکھیں نم ہوئی تھیں ۔
ایک بات یاد رکھنا نفرت کے بعد محبت تو آسانی سے ہوجاتی ہے ۔
مگر محبت کے بعد ہوئی نفرت بہت طاقتور ہوتی ہے ۔۔باور کرواتا ہوا ماہین کی پیٹھ کو دیکھ کرب سے آنکھیں میچ کر واپس سے کھولتا ہوا مزید بولا تھا ۔
اس ہی شخص سے واپس سے محبت ہونا ناممکن ہوجاتی ہے ۔ارتضی کے لفظوں میں الجھتی ہوئی وہ سن ہوئی تھی ۔۔
میں تمہاری باتوں میں نہیں آنے والی کیونکہ مجھے تم سے کبھی محبت نہیں ہوگی ۔۔۔۔ڈرے سہمے میں وہ خود کو مضبوط کرتی ہوئی بولی تھی ۔
یہ گھمنڈ یہ مغروری جچتی ہے اس پر
آخر کو ہم نے اسے چاہا ہی اتنا ہے ۔۔
مجھے بس یہاں سے جانا ہے پلیز دو ۔۔۔ارتضی کی خاموشی پر وہ ارتضی کی جانب مڑتی ہوئی نم آنکھوں سے التجا کررہی تھی ۔
کہہ دیا ایک بار میرے نکاح میں ہو تم ۔۔۔دانت دبائے وہ غرلایا تھا ۔
ارتضی کے غرلانے پر وہ سہمی تھی ۔
پلیز جانے دو مجھے ۔۔۔دونوں ہاتھ جوڑے وہ فرش پر بیٹھتی چلی گئی تھی ۔
سنگدل ہوں میں میرے دل میں رحم کہاں سے آئے گا ۔ماہین کو روتے دیکھ اس کا دل کرلایا تھا ۔
مگر وہ لاپرواہ بن گیا تھا ۔
ایک گھٹنے سے مسلسل ارتضی کی منت کرتی ہوئی وہ گھٹنوں میں سر دیئے پتھر پر سر مار مار کر تھک گئی تھی ۔
ارتضی جو خاموش سے ماہین سے کچھ فاصلے پر کھڑا ہوا اسے ہی دیکھ کر خود پر ضبط کیے کھڑا وہ کچھ توقف کے لیے کمرے سے باہر گیا تھا ۔
دس منٹ کے اندر اندر تم گارڈز کو لے کر پہنچوں ایک سیکنڈ کی بھی تاخیر میں برداشت نہیں کروں گا ۔
سمجھے ۔سخت گیر لہجے میں غلام رسول کو حکم دیتا ہوا تمخسرانہ انداز میں مسکرایا تھا ۔ کچھ دیر بعد کمرے میں واپس آتے ہوئے ماہین کو ویسے ہی بیٹھے دیکھ اس کے قریب آکر رکا تھا۔
بھاگنا چاہتی ہو مجھ سے ۔۔کمرے میں سرد خاموشی اور ماہین کی ہچکیوں کی آواز کے ساتھ ارتضی کی گھمبیر آواز گونجی تھی ۔
ب۔۔ہ۔۔۔بہ۔۔ت۔۔بہت ۔۔۔۔ دو۔۔۔۔۔ر جججج۔۔۔ہہہہاں۔۔۔ تتتمہہہہارررا سسسسایہ ۔۔۔۔ ببببببھیییی نا ہہہو ۔۔۔۔سسکیوں کے بیچ بولتی ہوئی وہ ارتضی کو قابل رحم لگی تھی ۔
ماہین کے جواب پر اپنی سرخ آنکھیں لیے وہ اپنے خشک لبوں کو زبان سے تر کرگیا تھا ۔
اپنے دل میں آئے رحم کو اپنی بے حسی کے ذریعے روندتا ہوا ماہین کے پاس آکھڑا ہوا تھا ۔


خالہ جانی آپ کو پتا ہے ارتضی بھائی اور ماہین آپی ایک ساتھ ہیں ۔
ماہین کے لیے شاہدہ بیگم کی ہوئی شاپنگ دیکھتی ہوئی حیا ارتضی اور ماہین کو ایک ساتھ سوچ کر چہکی تھی ۔
بتایا ہے ارتضی نے مگر یہ حیدر کیوں نہیں آیا ابھی تک ۔حیدر کے اب تک نا آنے پر وہ پریشان ہوئیں تھیں ۔
حیدر کے نام پر حیا کے دل میں ہلچل مچ گئی تھی وہ جو خود حیدر کے انتظار میں بیٹھی ہوئی تھی ۔
حیا فون تو کرو ۔
جی خالہ جانی ۔گاڑی کے ہارون کی آواز سنتی ہوئی وہ حیدر کو سوچ کر مسکرائی تھی ۔
لو نام لیا اور آگیا حیدر ۔۔۔شاہدہ بیگم مسکرا کر اٹھی تھیں ۔
جس پر حیا فقط مسکرائی تھی ۔
چلو ویلکم کر لو حیدر کا ۔رائمہ نے اس کے کان میں سرگوشی کی تھی۔
آپ جائیں میں یہاں پر ہی ٹھیک ہوں ۔ڈریسز کو دیکھتی ہوئی وہ مصومروف انداز میں بولی تھی ۔
سوچ لو ۔۔شرارت سے کہتی ہوئی وہ حیا کے چہرے پر نظریں جمائے ہوئی تھی ۔
سوچ لیا آپ جائیں رائمہ آپی ۔۔رائمہ لے دیکھنے پر شرم محسوس کرتی ہوئی وہ زچ آئی تھی ۔
چلو میں تو جارہی ہوں حیدر بھائی سے ملنے ۔۔۔رائمہ کو جاتے دیکھ وہ اپنے ہاتھوں میں چہرہ چھپا گئی تھی ۔


دور بھاگنا چاہتی ہو مجھ سے ۔مقابل کے سوال پر ڈری سہمی سی بیٹھی ہوئی وہ گردن کو مثبت میں ہلا گئی تھی ۔
لفظ تو جیسے منہ میں ہی دم توڑ گئے تھے ۔
چلو تمہیں موقع دیا ۔جتنا بھاگ سکتی ہو بھاگوں میں یا میرے بندوں میں سے تمہیں کوئی نہیں روکے گا ۔مقابل کے لہجے میں سنجیدگی محسوس کرتی وہ اپنی آزادی کا سوچ کر مسکرائی تھی ۔
اس کو یوں مسکراتے دیکھ ارتضی کو اس پر سے اپنی نظریں ہٹانا مشکل ترین عمل لگا تھا ۔
اگر تم بھاگتی ہوئی کہیں پر بھی تھک کر رک گئیں۔
تو میرے بندے تمہیں دھر لیں گے اور پھر تمہیں ہتھیار ڈالنے ہونگے ۔
میرے پاس واپس آنا ہوگا تمہیں کبھی نا جانے کے لیے ۔ایک پل میں اس کے معصوم چہرے پر مسکراہٹ کی جگہ ڈر نے لی تھی ۔
پ۔۔پ۔۔ر۔۔پپر اب۔۔۔۔۔۔۔بھی۔۔۔۔۔۔تتتو۔۔۔۔۔۔۔کککہا۔۔۔۔می۔۔۔میں ۔۔۔۔۔ییہاااں۔۔س۔سے۔۔۔بھ۔ھاااگ۔۔۔سسک۔سسکتی۔۔۔ہ۔۔ہہوں۔ بمشکل ارتضی کے ڈر سے وہ ہچکچاتے ہوئے بولی تھی ۔
تو میں نے کب منع کیا ہے ۔
ابھی بھی تم بھاگ سکتی لو راہ کھل گئیں ہیں تمہاری جاؤ.
اسے جانے کی اجازت مقابل کسی ضبط سے کی تھی یہ اس سے بہتر کوئی نہیں جان سکتا تھا۔
اس کے سامنے سے ہٹاتا ہوا وہ سائیڈ ہو کھڑا ہوا تھا ۔
سامنے کھلے دروازے کو دیکھتی ہوئی وہ ایک نظر دونوں ہاتھ سینے پر باندھ کر کھڑے مقابل کے سنجیدہ چہرے پر ڈالتی ہوئی دروازے کی طرف بڑھی تھی ۔جب مقابل کی آواز نے اس کے قدم جکڑے تھے۔
تیرے” ہاتھ” بناؤں پینسل سے
پھر “ہاتھ”پہ تیرے ہاتھ رکھوں،
کچھ “الٹا سیدھا” فرض کروں
کچھ ” سیدھا الٹا ” ہو جائے،،
میں” آہ “لکھوں تو ہائے کرے
بے چین لکھوں ” بے چین ” ہو تو،،،
پھر بے چین کا “ب” کاٹوں
تجھے “چین “زرا سا ہو جائے،،،،
ابھی “ع ” لکھوں تو سوچے مجھے
پھر ” ش” لکھوں تیری نیند اڑے ،،،،،
جب ” ق ” لکھوں تجھے کچھ کچھ ہو
میں ” عشق ” لکھوں تجھے ہوجائے ۔۔۔۔۔!
ارتضی کے لفظوں کو آڑے نا لاتے ہوئے وہ دروازے کی طرف بڑھ گئی تھی ۔
آنکھوں میں ہلکی سی نمی لیے وہ اسے جاتے دیکھ کر کرب سے مسکرایا تھا ۔
سرکار سائین ۔۔۔غلام رسول کی بات سنے بغیر وہ کال کاٹ گیا تھا ۔
ڈھلتے سورج کے سائے میں وہ سنسان راہوں پر اندھا دھند بھاگتی ہوئی اپنے پیچھے کسی کو بھی نا آتے دیکھ ہلکی رفتار سے بھاگی تھی ۔
طویل مسافت طے کرنے کے باوجود بھی وہ رکی نہیں تھی ارتضی کی بات یاد کرکے ۔
سائیں بی بی ابھی تک بھاگ رہی ہیں ۔ڈرائیونگ کرتے ہوئے گارڈ نے اسے آگاہ کیا تھا۔
جتنا بھاگ سکتی ہے بھاگنے دو تم بس فالو کرتے رہو اسے۔
آخر کہیں نا کہیں تو تھک کر روکے گی ۔بیک سیٹ کی ٹیک پر سر رکھ کر اپنی آنکھیں بند کرتا ہوا وہ خود کو پرسکون رکھنے کی سعی کر رہا تھا۔
کافی دیر بعد بھی اپنے پیچھے کسی کو نا آتے دیکھ وہ تھک کر
فٹ پاتھ پر لگے گھنے درخت سے ٹیک لگاتی ہوئی گہرے گہرے سانس بھرنے لگی تھی ۔
جب اچانک فضا میں وہ اڑتے پیڑول کے دھوئیں کی سمیل محسوس کرتی اردگرد گاڑیوں کی ٹائروں کی چرچڑاہٹ کانوں کو چیرتی ہوئی سنائی دی تھی۔
دونوں آنکھیں وا کرتی ہوئی وہسامنے کانوں پر بلیو ٹوتھ اور ہاتھوں میں لی گن اس پر تانے بلیک کلر کی پینٹ شرٹ پہنے ایک جیسی ڈریسنگ میں کھڑے گارڈز کو دیکھ کر ڈری تھی ۔
سامنے گاڑیوں کی لگی قطار کو چیرتا ہوا اشارے سے گارڈز کو دور کرتا ہوا ۔
وہ ایک ایک قدم بڑھاتا اس کے ڈرے ہوئے چہرے کو دیکھ تمخسرانہ انداز میں مسکرایا تھا۔
مقابل اور اس کے اور اپنے بیچ کے فاصلے کو مٹا کر آتے ہوئے دیکھ وہ اپنی بے بسی پر رو بھی نا سکی تھی ۔
بہت تیز بھاگتی ہو ویسے ۔وہ ماہین کے عین سامنے رکا تھا ۔
اگر بھاگنے کا شوق پورا ہوگیا میری بیگم کا ۔۔یا اور بھی بھاگنے کا ارادہ ہے ۔۔تمخسر سے پوچھتا ہوا وہ دو زانوں پر اس کے سامنے بیٹھا تھا ۔
ارتضی کی بات پر وہ آنکھیں بند کرگئی تھی ۔جیسے آنکھیں کھولنے پر ارتضی سامنے نہیں ہوگا ۔
بلی کو دیکھ کر آنکھیں بند کرلینے سے کبوتر بچتا نہیں ہے ۔
اپنی آنکھیں کھول لو ۔۔ارتضی سے وہ خوفزدہ ہوئی تھی ۔
زمانہ مشہور سنگدل تھا میں اور۔۔۔۔۔۔۔،
تیرے عشق نے مجھے خاکستر کردیا ،، ۔
چلیں اب شادی کی تیاریاں بھی کرنی ہے ۔گارڈز کو ہاتھ سے جانے کا اشارہ کرتا ہوا عام سے انداز میں بولا تھا۔
نم آنکھوں سے ارتضی کو دیکھتی ہوئی وہ کھڑی ہوئی تھی ۔
تم پچھتاؤ گے ۔۔۔
تمہیں گھر چھوڑ کر آنے کے بجائے تمہیں مجھے اپنے ساتھ حویلی لے چلنا چاہیے اس لیے ۔۔ارتضی کو تاسف سے دیکھتی ہوئی وہ اپنے درد سے پٹھتے سر کو تھام گئی تھی ۔
پچھتانے کے دن تو میرے آج سے شروع ہوگئے ہیں ۔مجھے اس سے لڑکی سے محبت ہوگئی جسے محبت کرنے والوں کی قدر نہیں ہے ۔۔
اب لگتا ہے ساری زندگی تمہارے ہاتھوں خوار ہونا ہے مجھے ۔ماہین کو مسکرا کر دیکھتا ہوا آسمان پر غروب ہوتے سورج کی سرخی پھیلی دیکھ وہ فقط سوچ ہی سکا تھا ۔
جاری ہے ۔۔۔۔۔