Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 23 Part 1

ڈاکٹر عامر کے گھر بڑے ہی خوشگوار ماحول میں ڈنر کرکے ارتضی اور ماہین اجازت لے کر وہاں سے واپس سے گاؤں کے لیے روانہ ہوئے تھے،
ٹریفک آج نا ہونے کے برابر تھا مگر پھر بھی ریڈ سنگل پر ارتضی نے گاڑی روک دی تھی ،ساتھ ہی اس کے پیچھے دو مرسیڈیز بھی رکی تھیں جس میں دولاور شاہ کے بھیجے ہوئے گارڈز موجود تھے جو ارتضی کے لاکھ منع کرنے کے بعد بھی وہ اس کے پیچھے آگئے تھے ۔
کہاں جارہے ہیں آپ ،ارتضی کوسیٹ بیلڈ کھولتے دیکھ وہ پریشان ہوئی تھی ۔
شادی کے بعد پہلی دفعہ آپ میرے ساتھ کسی لمبے سفر پر آئی ہیں، کچھ خاص کرنا بنتا ہے نا اس لیے آپ یہاں بیٹھیں میں بس ابھی واپس آتا ہوں ،نا سمجھی میں دیکھتی ہوئی وہ ارتضی کو ڈور کھولتے دیکھ رہی تھی ۔
ارتضی گاڑی سے اترا کر رائیٹ سائیڈ پر بنی فلور شاپ کی طرف بڑھا تھا، اس کے پیچھے پیچھے دو گارڈز بھی ساتھ گئے تھے ۔
وہاں سے ماہین کے لیے سرخ گلاب کے کجرے اور وائیٹ لِیلی اور سرخ گلاب کا بکے لیے وہ مسکراتا ہوا واپس سے گاڑی کی سمت بڑھا تھا ۔
گرین سنگل ہوتے ہی وہ گاڑی سائیڈ پر روک گیا تھا۔
ہاتھ آگے کریں اپنے ، روبدار لہجہ لیے وہ ماہین کے مسکراتے چہرے کو دیکھ رہا تھا ،
ارتضی کے ہاتھوں میں اپنے لیے لائے پھول دیکھ کر وہ سرشار ہوئی تھی ،فورا سے ہاتھ آگے کرتی ہوئی وہ خاموشی سے ارتضی کو کجرے پہناتے دیکھ رہی تھی ۔
سوری ،بکے جو ماہین پرجوش ہو کر لیے تھے مگر ارتضی کی سوری کہنے پر وہ لب دبا گئی تھی ۔
سوری آپکو نہیں مجھے کہنا چاہیے خامخواہ میں نے آپ کو برا بھلا کہا ہے ،نظریں جھکائے وہ ارتضی کو معصوم لگی تھی ۔
اس لیے یہ بہت میری طرف سے آپ کے لیے ، ارتضی کے دیا ہوا بکے واپس سے اس کی سمت بڑھا گئی تھی ۔
اچھا جی میرے لائے ہوئے پھول آپ مجھے ہی لوٹا رہی ہیں،
تھوڑی دیر ماہین اسے معصوم لگ رہی تھی مگر اب اس کے انداز پر وہ اسے چالاک بھی نہ کہہ سکا ،
آپ کے نہیں میرے شوہر کے لائے ہوئے پھول ہیں جو میں آپ کو یعنی ڈاکٹر جلاد کو دے رہی ہوں ،شرارت سے کہتی ہوئی ارتضی کو حیران کرگئی تھی ۔
زہے نصیب، مسکراتے ہوئے سر کو خم کرتا ہوا وہ ماہین سے بہت لے کر ڈیش بورڈ پر رکھ گیا تھا ۔
ارتضی کے قریب ہوتی ہوئی وہ کار ڈرئیوو کرتے ہوئے ارتضی کے کندھے پر سر رکھ کر اپنی آنکھیں بند کرگئی تھی ۔
نیند آرہی ہے آپ کو ،ماہین کے اس طرح سے اپنے کندھے پر سر رکھنے سے اسے یہ ہی گماں ہوا تھا۔
نہیں ،سر اوپر کرتی ہوئی وہ ارتضی کے سنجیدہ چہرے کو دیکھ کر مسکرا رہی تھی ۔
آپ گانے نہیں سنتے کیا ،اس دن بھی جب آپ مجھے ہسپتال سے چھوڑنے بخاری ولا جارہے تھے ،تب بھی کوئی گانا نہیں چلایا تھا آپ نے ،
چلیں جب تو مینرز کے خلاف ہوتا ،مگر اب تو چلا ہی سکتے ہیں نا ۔ارتضی کے کندھے پر سر رکھے ہوئی وہ شکوہ کن انداز میں بول رہی تھی ،
میں ایسے ایسے گانے سنتا ہوں پھر آپ ہی شرم سے پانی پانی ہوجائیں گی، شرارت سے کہتا ہوا وہ پوری طرح سے ڈرائیونگ پر متوجہ تھا۔
پھر نا ہی چلائیں تو بہتر ہے ،ارتضی کے کہہ الفاظ پر وہ پہلے ہی انکار گئی تھی ۔
اب تو چلانے پڑے گے کیونکہ میری بیوی نے مجھ سے پہلی بار کوئی شکوہ کیا ہے، میوزک پلیئر آن کرتا ہوا وہ ماہین کی پھٹی ہوئی آنکھوں کو یکسر اگنور کرگیا تھا۔
کیسے بتائیں کیوں تجھ کو چاہیں یارا بتا نا پائیں
باتیں دلوں کی دیکھوں جو باقی آکے تجھے سمجھائیں
تو جانے نا تو جانے
ماہین کے لب مسکرا اٹھے تھے جبکہ ارتضی اسے اس طرح مسکراتے دیکھ لب دبائے ہوئے تھا ،
مل کے بھی ہم نا ملے تم سے نجانے کیوں
میلوں کے ہیں فاصلے تم سے نجانے کیوں
ارتضی کے کندھے پر سر رکھے ہوئی وہ ٹکٹکی باندھے ارتضی کو ہی دیکھ رہی تھی ۔
انجانے ہیں سلسلے تم سے نجانے کیوں
سپنے ہیں پلکوں کو تلے تم سے نجانے کیوں
ارتضی کے ہلتے لبوں کو وہ بڑے غور سے دیکھ رہی تھی ۔
کسے بتائیں کیوں تجھ کو چاہیں یارا بتا نا پائیں
باتیں دلوں کی دیکھوں جو باقی آکے تجھے سمجھائیں
تو جانے نا ، تو جانے نا تو جانے نا تو جانے نا، ،،
نگاہوں دیکھوں میری جو ہے بس گیا
وہ ہے ملتا تم سے ہوبہو
ماہین کے ساتھ ہوئے نظروں کے تناسب پر وہ چند پل کے لیے خود کو ان میں ڈوبتہ ہوا محسوس کررہا تھا ،
جانے تیری آنکھیں تھیں یا باتیں تھی وجہ
ہوئے تم جو دل کی آرزو
اگلے ہی پل وہ واپس سے نگاہیں سامنے کی طرف کرتا ہوا اپنے بالوں میں ہاتھ چلاتا ہوا مسکرایا تھا،
اپنے ساتھ رکی گاڑی سے بھی اس ہی گانے کی آواز پر وہ ماہین کو دیکھ کر مسکرایا تھا ۔
تم پاس ہوکے تم آس ہوکے بھی احساس ہوکے بھی
اپنے نہیں ایسے ہم کو گلے تم سے نجانے کیوں
تو جانے نا تو جانے نا تو جانے نا تو جانے نا تو جانے نا
اگلے ہی پل سگنل پر اپنے ساتھ رکی گاڑی کے شیشے کے ساتھ سر کو ٹکائے ہوئی آف سلیوو وائیٹ ٹی شرٹ پہنے ہوئے اپنے بالوں کی ہائی ٹیل پونی بنائے ہوئی لڑکی جسے پہچاننے میں اسے ذرا تاخیر نہیں لگی تھی ،
نوری کو ریحان کے ساتھ دیکھ کر وہ چونکا تھا ،
نوری ، زیر لب وہ بڑبڑایا تھا ۔
کچھ کہا آپ نے، کندھے پر ہنوز سر رکھے ہوئے ماہین کو ارتضی کی بڑبڑاہٹ سمجھ نہیں آئی تھی،
کچھ نہیں، فورا سے گاڑی کا شیشہ اوپر کرتا ہوا سگنل توڑتا ہوا گاڑی کو ہوا کی طرح اڑا کر وہاں سے گم ہوا تھا،
دھول اٹھاتی گاڑی کو جاتے دیکھ نوری جو پہلے ہی گانا سنتی ہوئی ارتضی کو سوچ رہی تھی ۔
فضا میں اڑتی دھول کو دیکھ افسردگی سے مسکرائی تھی ۔
کیا کررہی ہو تم لڑکی اپنے ساتھ ،ڈرائیوو کرتا ہوا ارتضی نوری کے بارے میں سوچ رہا تھا،
پھر اپنے کندھے پر سر رکھے سوئی ہوئی ماہین کو دیکھ وہ تشکرانہ انداز میں مسکرایا تھا


چار سال پہلے ۔
گڈ مارننگ ڈاکٹر ارتضی ،ستائیس سالہ ارتضی جو بلیو جینر پر لائیٹ پنک کلر کی شرٹ کو کہونیوں تک فولڈ کیے ہوئے اپنے ڈارک براؤن والوں کو پیشانی پر بکھرائے ہوئے تھا، جو اس کا مخصوص انداز تھا
جوکر کے کھلے ہوئے تسموں کی فکر کیے بغیر ہر فی میل نرس کی ستائش بھری نظروں کا مسکرا کر جواب دیتا ہوا ریسپشن ایریا سے گزرتا ہوا اپنے وارڈ کی جانب بڑھ رہا تھا ۔
جب سامنے سے آتی ہوئی ڈاکٹر رامین کو دیکھ کر خود پر سنجیدگی طاری کرگیا تھا۔
گڈ مارننگ ڈاکٹر ارتضی، جذبات سے لبریز لہجے میں مسکرا کر ڈاکٹر رامین بولی تھیں ۔
گڈ مارننگ، جبران مسکراہٹ لبوں پر سجائے وہ اخلاقیات کا مظاہرہ کرتے ہوئے بول گیا تھا ۔
آپکو یاد ہے نا آپ کا پرومس ،ارتضی کے نا سمجھی والے تاثرات دیکھ وہ مسکرائی تھی ۔
آج شام سرجری سے فارغ ہونے کے بعد آپ کو میرے ساتھ کافی کے لیے چلنا ہے، وہ یاد دلاتی ہوئی ارتضی کے ساتھ کافی ہر جانے کے لیے سوچ کر ہی پرجوش ہورہی تھی۔
اوہ تو کافی کا وعدہ میں نے آپ کو دیا تھا سوری میرے دماغ سے نکل گیا تھا، ڈاکٹر رامین کے سامنے اپنی پھسلتی زبان کو دانت تلے دبا گیا تھا،
میں کچھ سمجھی نہیں،
اچھا ہی ہوا کہ آپ کچھ نہیں سمجھی ،دانتوں کی نمائش کرتا ہوا وہ رامین کو دیکھ رہا تھا جو اس وقت اس کو ہنستے دیکھ کھوئی ہوئی تھی ۔
شکر ہے ۔دل ہی دل اپنے نا پکڑے جانے کا شکر ادا کرتا ہوا وہ رامین کے چہرے کے آگے ہاتھ ہلا کر اسے ہوش کی دنیا میں لایا تھا۔
ایک گھنٹے کے اندر اندر میں سرجری سے فری ہوجاؤں گا، جب تک آپ بھی فری ہوجائیں گی پھر ہم ساتھ چلیں گے ۔وہ کہہ کر وہاں رکا نہیں تھا ۔
وارڈ میں داخل ہوتے ہی فی میل نرس اسٹاف سے سرخ گلاب لیتا ہوا وہ مزید مغرور ہوا تھا ۔
سدھر جاؤ ارتضی شاہ، پیچھے سے ڈاکٹر عامر کی سرگوشی پر ہنسا تھا
میں تھوڑی کہتا ہوں کہ مجھے پھول دیں خود ہی مجھے مسکرا کر پھول دیتی ہیں تو میں لے لیتا ہوں ۔
آپ تو جانتے ہی ہیں ارتضی شاہ اپنے گاؤں کی لڑکیوں کے علاوہ کسی لڑکی کو انکار نہیں کرتا پھر چاہے وہ پھول دیں یا پھر کافی کی آفر، چیئر پر جھولتا ہوا مسکرا رہا تھا ۔
گاؤں کی لڑکیوں کو بھی کیوں چھوڑا ہے تم نے ،چیئر پر بیٹھتے ہوئے ارتضی کو دیکھ کر مسکرا رہے تھے ۔
شہر کی اور گاؤں کی لڑکیوں میں فرق ہے یہاں کسی پر پابندی نہیں ہے اور وہاں فقط پابندی ہی پابندی ہے ، ہنوز چیئر پر جھولتا ہوا تھوڑی سنجیدگی سے بول رہا تھا۔
ہمہم، پھر کتنی لڑکیوں کے ساتھ ڈیٹ ہے آپ کی ،ٹیبل پر کہونی ٹکرائے وہ دلچسپی سے پوچھ رہے تھے ۔
چار کے ساتھ ہے ،لب دبا کر وہ نظریں جھکائے جواب دیتا ہوا ڈاکٹر عامر کے ری ایکشن کی وجہ سے ایسے بول رہا تھا ۔
چار کم نہیں ہیں، طنزیہ انداز میں استفسار کیا تھا ۔
ہیں نآ مجھے بھی کم ہی لگ رہی تھیں، پرکیا کرسکتے آج سرجری بھی کرنی ہے ،تو اس لیے صرف چار ہی ڈیٹ کے لیے ٹائم نکال سکا ،ڈاکٹر عامر کے طنز کو وہ بنا سمجھے بول رہا تھا۔
توبہ استغفار ،کانوں کو ہاتھ لگاتے ہوئے وہ اپنی اٹھ کھڑے ہوئے تھے۔
اللہ معاف کرے ارتضی تم سے ،جوابا ارتضی زندگی کے سے بھرپور قہقہ لگا گیا تھا ۔
تیار ہو سرجری کے لیے ویسے، ڈاکٹر عامر کے سوال پر وہ سنجیدہ ہوا تھا ۔
آج تک میرے کیرئیر کی کوئی بھی سرجری ناکام ٹھہری ہے ،مغرور لہجہ خود پر حددرجہ اعتماد لیے وہ تیار تھا ،
انشاءاللہ کہنے کی عادت ڈال لو ارتضی شاہ ،نصیحت کرتے ہوئے وہ وہاں سے گئے تھے ۔


یار ماں فون اٹینڈ کرنے کے بعد کہاں چلی جاتی ہیں آپ ،ارتضی کی شوخ آواز سن کر وہ مسکرا اٹھی تھیں ۔
کہیں نہیں بس تمہیں خاموشی سے سنتی ہوں۔
اچھا میں نے آپ کو یہ بتانے کے لیے فون کیا تھا آج مجھے سرجری کرنی ہے دعا کیجئے گا، کہ کامیاب ٹھہروں ،
سنجیدگی سے کہتا ہوا سرجری کرنے کے لیے تیار کھڑا ہوا تھا ۔
اللہ پاک اپنا کرم کرے اور میرا بیٹا کامیاب ٹھہرے ہمیشہ کی طرح، ڈھیر ساری دعائیں لیتا ہوا وہ فون آف کرکے آپریشن تھیٹرر کی جانب مضبوط و شوخ قدموں کے ساتھ بڑھا تھا ۔
ڈاکٹر ارتضی آپ تیار ہیں، سنیئر ڈاکٹر امتیاز نے اسے مسکراتے دیکھ پوچھا تھا ،
ہمیشہ کی طرح آج بھی تیار ہوں ،آنکھوں میں مغروریت چھلکتی صاف دیکھائی دے رہی تھی ۔
مغرور ہونا بنتا بھی تھا اس کا کیریئر کی شروعات ہی کامیابی سے کرنے والا ارتضی شاہ سینئرز کے آگے بھی آج تک ڈر سے نہیں کانپا تھا۔
ویری گڈ ڈاکٹر ارتضی، ارتضی کے کانفیڈینٹ لیول کو دیکھ ڈاکٹر امتیاز خوش ہوئے تھے۔
لائٹس آن ہوتے ارتضی کا جسم پل بھر کے لیے ساکت ہوا تھا اسٹریچر پر لیٹے ہوئے بچے کو دیکھ کر ،
اس کی سرجری کرنی ہے ،حیرانگی سے پوچھتا ہوا وہ اس بچے کو ہی دیکھ رہا تھا۔
آپ نے رپورٹس پڑھی تھیں ۔ڈاکٹر امتیاز نے اسے سے حیرت سے پوچھا تھا ۔
پڑھی تھی مگر اس چھوٹے سے بچے کا ایکسیڈنٹ کیسے ہوا ،ارتضی کو تو صرف اتنا معلوم تھا کہ جس کی آج وہ سرجری کرنے جارہا ہے اس کی آنکھ کی بینائی پر ایکسیڈنٹ اثر ہوا تھا۔
ارتضی ہمارے پاس اتنا ٹائم نہیں ہے سوچنے کا جلدی سے سرجری اسٹارٹ کرنی ہوگی ہمیں ،ساکت کھڑے ارتضی کو دیکھ وہ سرجری اسٹارٹ کرنے کا کہہ چکے تھے ۔۔
آئی ایم سوری میں یہ سرجری نہیں کرسکتا ،دو قدم پیچھے ہوا تھا ۔
اب آپ مکر نہیں سکتے ارتضی شاہ، سرجری آپ کو ہی کرنی ہے ارتضی شاہ، اور آپ کرسکتے ہیں۔حوصلہ افزائی کرتے ہوئے وہ اسے کندھے پر ہاتھ رکھ گئے تھی ۔
یہ سرجری ریزکی ہوسکتی ہے بچہ بہت کم عمر ہے سر ،ارتضی کے لہجے ڈر عیاں تھا ،کاش وہ پہلے ہی رپورٹس میں بچے کی عمر پڑھ لیتا تو شاید آج سرجری کی نوبت ہی نہ آتی ۔
ارتضی کے منع کرنے باوجود بھی ڈاکٹر امتیاز سرجری شروع کر چکے تھے ۔
سرجری کرتے ہوئے ارتضی کے ہاتھ پہلی بار کانپ رہے تھے ساتھ ساتھ اسے اس بچے کی بینائی جانے کا ڈر الگ ستائے جارہا تھا۔۔
ہوا بھی کچھ یہ ہی اذہان کی آنکھیں اپنی روشنی کھو گئی تھیں، ارتضی شاہ کے کیریئر کا پہلا کیس ناکام ٹھہرا تھا جو ارتضی شاہ کو بدل گیا تھا۔
آپریشن ناکام ٹھہرا تھا کیونکہ اذہان کی آنکھ پر لگائے گئے لینز ری ایکٹ کرگئے تھے ۔
ارتضی شاہ وہیں اپنا ساکت وجود لیے ایک ہی جگہ جم گیا تھا ۔


میں کہا تھا ڈاکٹرامتیاز اس وقت یہ بچہ سرجری کے لیے تیار نہیں ہے،بے بسی کی کیفیت میں کہتا ہوا غرلایا تھا ۔
غلطی میری نہیں ڈاکٹر ارتضی شاہ غلطی آپ کی ہے،ارتضی کے منع کرنے کے باوجود بھی ڈاکٹر امتیاز کی ضد پر اس نے سرجری اسٹارٹ کی تھی ،اور اب اسے ہی مجرم ٹھہرا کر وہ خود کو بڑی آسانی سے بری الذمہ کرگئے تھے،
اگر آپ بچے کی رپورٹ اچھے سے پڑھ لیتے تو یہ سب نا ہوتا ،
پہلے اس بچے کی ایک آنکھ بینائی کم تھی مگر تمہاری غلطی کی وجہ سے آج یہ بچہ نابینا ہوگیا ہے، اس سب کے زمیدار تم ڈاکٹر ارتضی، صرف اور صرف تم ،پھٹی ہوئی آنکھوں سے کبھی اذہان کو دیکھ رہا تھا تو کبھی مسلسل اسے غلط کہتے ہوئے اپنے سے سینئر ڈاکٹر امتیاز کو جو ہر لحاظ میں اس سے بہتر ڈاکٹر کہلواتے تھے مگر آج اس ناکام سرجری کا زمیدار وہ اکیلا ہی ٹھہرا تھا ۔
تم ڈاکٹر کہلوانے کے لائق نہیں ہو ارتضی شاہ ،آج کے بعد تم ڈاکٹر کے نام پر سیاہ دھبہ کہلوائے جاؤ گے ،
اب اس کی فیملی کو جواب تم ہی دو گے کیونکہ یہ سرجری تمہاری زیرنگرانی میں کی گئی تھی ،ارتضی کو زمیدار ٹھہراتے اپنا پلہ جھاڑ کر وہ وہاں سے گئے تھے،
کبھی کبھی غلطیاں سینئرز کرجاتے ہیں اور الزام جونئیرز کے سر ڈال دیتے ہیں فقط اپنے کامیاب کیرئیر کی خاطر دوسروں پر الزام رکھ وہ خود بڑی آسانی سے بچا جاتے ہیں ۔
یہاں پر بھی ارتضی شاہ کے ساتھ یہ ہی سب ہوا تھا ،سرجری بیشک ارتضی کی زیر نگرانی ہوئی تھی مگر کرنے والے ڈاکٹر امتیاز تھے جن کی ضد اور جلد بازی پر سرجری کا آغاز کیا گیا تھا،
ارتضی اچھے سے جانتا تھا اگر وہ زمیدار ہے تو اس سے کئی زیادہ زمیدار ڈاکٹر امتیاز تھے ۔
نم آنکھوں سے اذہان کو دیکھتا ہوا ارتضی شاہ آج ٹوٹ گیا تھا، ٹوٹے ہوئے قدموں سے چلتا ہوا وہ اذہان کے پاس آیا تھا،
اس وقت آپریشن تھیٹر میں ارتضی اور اذہان کے سوا کوئی بھی ذحی روح موجود نہیں تھی ،
ایم سوری بچے ،میری وجہ سے تمہاری بینائی چلی گئی مگر میرا وعدہ ہے ارتضی شاہ کا وعدہ ہے تم سے،
میری وجہ سے تمہاری بینائی گئی ہے نا تو میں ہی تمہاری بینائی واپس لاؤں ،آنکھوں کی جگہ سفید رنگ کی بندھی پٹی کو دیکھتا ہوا بے ہوش پڑے اذہان کا ہاتھ پکڑ کر رو رہا تھا،
تم تو ڈاکٹر کہلوانے کے لائق نہیں ہو ارتضی شاہ ،ڈاکٹر امتیاز کے کہے الفاظوں کو یاد کرتے ہوئے اس کے آنسوؤں میں روانگی آئی تھی ۔
ارتضی ۔
میں واقع ہی ڈاکٹر کہلوانے کے لائق نہیں ہوں،اذہان کے ہاتھ پر سر گرائے روتا ہوا ارتضی ڈاکٹر عامر کی آواز پر سر اٹھا گیا تھا،
میں نے اس کی بینائی چھین لی ڈاکٹر عامر، جو عمر اس کی دنیا دیکھنے کی تھی میں دیکھنے کی قوت چھین لی اس سے ،مجھے نہیں پتا یہ کیسے ہوگیا میں نے منع کیا تھا سرجری کرنے سے مگر میری نہیں ایک نہیں سنی ،اور یہ دیکھیں نا یہ ،ہچیکوں کے ساتھ بچوں کی طرح روتا ہوا اذہان کے نابینا ہونے کا سوچ سوچ کر ہلکان ہورہا تھا ،
مجھ سے غلطی کیسے ہوگئی ،دونوں ہاتھوں کی انگلیوں سے اپنے بالوں کو نوچتا ہوا وہ زانوں کے بل بیٹھتا چلا گیا تھا،۔
سب ٹھیک ہوجائے گا ارتضی، تمہاری غلطی نہیں ہے میں جانتا ہوں ،نرسسز نے بتایا ہے مجھے ،ارتضی کے پاس بیٹھتے ہوئے اس کا چہرہ ہاتھوں میں لیے نم لہجے میں بول رہے تھے،
کیسے نہیں ہے میری غلطی ،میں نے رپورٹس نہیں پڑھی اچھے سے یہ سب سے بڑی غلطی ہے میری ،خود کو دنیا کا قابل ڈاکٹر مان بیٹھا میں ،
میں کیا جواب دوں گا اس ماں کو جو مجھ پر آس لگائے بیٹھی ہوئی ہے اور اس باپ کو جو اپنے بیٹے کی ایک آنکھ کی بینائی صحیح کروانے کے لیے آئے تھے مجھ سے اور میں نے دونوں آنکھوں کی بینائی چھین لی ان کے بیٹے سے،
ڈاکٹر عامر کے شانے پر سر رکھ کر وہ خود کو الزام دیتے ہوئے اذہان کے والدین کا سامنہ کرنے سے ڈر رہا تھا،
صحیح کہا ڈاکٹر امتیاز نے میں ڈاکٹر کہلوانے کے قابل نہیں ہوں ،ایک سیاہ دھبہ ہوں ڈاکٹرز کے نام پر ۔
ایک حل ہے جس سے اذہان کی بینائی واپس آسکتی ہے ،کافی دیر مسلسل خود مجرم ٹھہراتا ہوا ارتضی کچھ توقف کے بعد بے دردی سے اپنے آنسو صاف کرتا کھڑا ہوا تھا ۔
کیا ،ڈاکٹر عامر بھی اس کے ساتھ کھڑے ہوئے تھے ۔
میں اپنی آنکھیں دے دیتا ہوں پھر سب ٹھیک ہوجائے گا، ہذیانی انداز میں کہتا ہوا ڈاکٹر عامر کو اس وقت ہوش میں نہیں لگا تھا،
تم پاگلوں جیسی باتیں مت کرو ہوش میں آؤ ڈاکٹر ارتضی شاہ،
میں ڈاکٹر کہلوانے کے لائق نہیں ہو، دانت دبائے وہ چلایا تھا ۔
ارتضی کی حالت دیکھ وہ خود کو رونے سے باز رکھنے کی کوشش کے باوجود بھی رو دیئے تھے ۔
ڈاکٹر تو لوگوں کے مسیحا ہوتے ہیں خدا کا دوسرا روپ کہلاتے ہیں، انہیں ٹھیک کرکے انہیں نئی زندگی دیتے ہیں اور میں نے تو اس سے زندگی کے سارے رنگ ہی چھین لیے ہیں۔
بے بسی اے اپنے ہاتھوں کو دیکھتا ہوا وہ اپنے لبوں کو دانتوں تلے دبا گیا تھا ۔
لمبے لمبے سانس لے کر خود کو پرسکون کرو ،ارتضی انہیں اپنے چھوٹے بھائیوں کی طرح عزیز تھا جب ہی اسے تکلیف میں کر وہ خود بھی تکلیف محسوس کررہے تھے ۔
لمبے سانس خارج کرتے آنسوؤں سے بھیگے ارتضی کے چہرے کو دیکھ کچھ دیر پہلے والے شوخ و پراعتماد ارتضی کو سوچ کر انکی آنکھیں مزید نم ہورہی تھی ۔
ریلکس کرو ،اب چلو باہر اذہان کے والدین کو جواب بھی تمہیں ہی دینا ہے ،آنکھوں کو بے دردی سے رگڑتا ہوا وہ باہر جانے کے لیے تیار ہوا تھا،
میں انہیں کیا جواب دوں گا ،جاتے ہوئے وہ کرب سے پوچھ رہا تھا،
بس تمہیں امید کا دامن تھامنا ہے اور پھر انہیں بھی امید دلوانی ہے ،ڈاکٹر عامر کی بات پر لب دبائے آپریشن تھیٹر سے باہر آیا تھا ساتھ ڈاکٹر عامر بھی اس کے ساتھ ہی تھے ۔
حددرجہ سرخ ہوئی ارتضی کی سیاہ آنکھیں بکھرا حلیہ دیکھ اذہان کے والدین کو کھٹکا تھا،
ایم ویری سوری مسٹر اینڈ مسسز خان ،اذہان کی سرجری ناکام ٹھہری ہے ،اس سے آگے بولنے کی ہمت ہی نہیں ہورہی تھی ارتضی کی۔
ہمت جمع کرتا ہوا وہ بولنے کی سعی کرتا ہوا پھر سے بول رہا تھا،
وہ سرجری کے لیے اسٹیبل نہیں تھا جس وجہ سے وہ اس کی بینائی چلی گئی ہے ،لڑکھڑاتے لہجے میں وہ ابھی بول رہا تھا کہ اچانک سے اذہان کے والد نے اسے گریبان سے پکڑ لیا تھا،
جب وہ سرجری کے لیے اسٹیبل تھا ہی نہیں تو تم نے سرجری کی کیوں ،
بنا خود کو چھوڑانے کی کوشش کیے وہ سر کو جھکائے اپنی نم آنکھیں بند کرے ہوئے تھا۔
مسٹر خان ،ارتضی کو چھوڑیں ،ڈاکٹر عامر کی اور چند میل اسٹاف نے مل کر ان سے ارتضی کو چھڑوایا تھا،
آپ پلیز ہمت مت ہاریں کچھ عرصے انشااللہ پھر سے اذہان کی سرجری کی کوشش کی جاسکتی ہے، میں آپ کو یقین دلاتا ہوں، کسی لوٹے ہوئے مسافر کی طرح بے بس کھڑا ارتضی منہ پر ہاتھ رکھے روتی ہوئی اذہان کی ماں کو دیکھ رہا تھا جو کچھ بھی کہنے یا سننے سے قاصر فقط اذہان کی بینائی چلے جانے کے سوگ منا رہی تھیں ۔
آنٹی میں نے منع کیا تھا سرجری کے لیے ،ان کی زانوں ہر ہاتھ رکھے وہ یقین دہانی کرا رہا تھا ،
میرے بیٹے کے ساتھ ایسا کیوں کیا تم نے ،تم تو شہر کے جانے مانے ڈاکٹرز میں سے ایک ہو نا تو پھر کیسے سرجری ناکام ٹھہری، کیا دشمنی تھی میرے بیٹے کے ساتھ تمہاری ،ان کی بات پر کرب آنکھیں میچتا ہوا پہلی بار کسی کے سامنے اس طرح بے بس ہوا تھا ۔
میری کوئی دشمنی نہیں ہے اس بچے کے ساتھ ،مراد خان نے اسے قہر برساتی نظروں سے گھورا تھا ،
آخر کو اذہان ان کے خاندان بھر کا سب سے لاڈلا اور اکلوتا وارث تھا۔
آپ لوگ مجھے ایک موقع تو دیں میں آپ کے بیٹے کو واپس سے ٹھیک کرنے کا، گھٹنوں کے بل بیٹھا ہوا ارتضی شاہ اس وقت کسی بھیکاری کی طرح بھیک مانگتے ہوئے ہاتھ جوڑ گیا تھا ۔
دیا موقعہ ،مراد خان سے پہلے مسسز خان بول گئی تھیں ۔
میں اپنے بیٹے کا علاج اچھے اسپیشلسٹ سے کرواؤں گا، یہاں نہیں تو میں اسے آؤٹ آف کنٹری لے کر جاؤں گا ،مگر اس شخص کے حوالے پھر سے نہیں کروں گا، مسٹر خان کے سخت گیر لہجے میں کہتے سن ارتضی نے نم آنکھوں سے ڈاکٹر عامر کو دیکھا تھا جو اس وقت آنکھوں میں نمی لیے اسے ہی دیکھ رہے تھے۔
آپ بھروسہ تو کریں اگر مجھے اذہان کو اپنی آنکھیں تک دینی پڑی تو میں ذرا تاخیر نہیں کروں گا ،
میں آپ سے وعدہ کرتا ہوں ،پلیز میرے حال ہر رحم کھائیں ورنہ میں ساری زندگی پچھتاوے کی آگ میں جلتا رہوں گا،
بے بسی سے ہاتھ جوڑتے دیکھ مراد خان کے اعصاب ڈھیلے پڑے تھے ۔
دیا موقعہ تمہیں ارتضی شاہ اگر اس بار کوئی بھی کوتاہی برداشت نہیں کروں گا سیدھا اریسٹ کرواؤں گا تمہیں، ارتضی کے لیے اتنا ہی کافی تھا کہ وہ انہیں قائل کرگیا تھا ،
اب کوئی کوتاہی کوئی غلطی نہیں ہو گی مجھ سے ،زیر لب بڑبڑاتا ہوا وہ اپنی جگہ سے اٹھ کھڑا ہوا تھا ۔
اذہان سے ملنے کے بعد وہ اذہان کو ارتضی کے حوالے کیے وہاں سے مردہ قدموں کے ساتھ گئے تھے ،


دن ہفتوں سے مہینوں میں بدل گئے تھے ،ارتضی اور مسٹر خان کا رابطہ مضبوط ہوتا جارہا تھا۔
ساری ساری رات حویلی کے آخری کونے والے کمرے میں ارتضی اذہان کے ساتھ سارا سارا دن بنا کھائے بنا گزار دیتا تھا ۔
اور راتیں سجدوں میں گڑگڑا کر دعائیں مانگنے میں ،مگر ملال تھا کہ کم ہونے کو ہی نہیں ہورہا تھا ۔
شوخ ہنس مکھ مزاج کا حامل ارتضی شاہ، اپنی شخصیت پر سنگدلی کا خول چڑھا گیا تھا ،
بات بے بات پہلے وہ مسکراتا تھا اور اب وہ ارتضی شاہ مسکرانہ بھول گیا تھا ۔
اس دوران ارتضی کے اچانک لندن جانے کے فیصلے نے سب کو حیران کیا تھا ،
ارتضی کوسیاست کا نامور کارکن بنے دیکھنا دلاور شاہ کی دلی خواہش تھی جسے روندتا ہوا ارتضی شاہ اذہان کو لیے لندن جا بسا تھا ،
کیسا لگی لندن کی آب و ہوا،اذہان کے لب مسکرائے تھے ارتضی کے پوچھنے کے انداز پر ۔
میں اندھیرا کا جگنو کسے بتا سکتا ہوں کہ لندن کی آب و ہوا کیسی ہے ،اذہان کے الفاظ کسی برچھی کی طرح ارتضی کے سینے میں چبھے تھے۔
محسوس کرسکتے ہو نا تو محسوس کرو اس ہوا کی آواز کو ،قدموں کی آہٹ کو ،پرندوں کو چہچکاہٹ کو ،پانی کے قطروں کی آواز کو ،محسوس کرو گے تو دیکھنے سے زیادہ خوبصورت لگے گا محسوس کرنے کا عمل،
ارتضی کی کہی بات پر غور کرتا ہوا اذہان دن بدن اپنی دیکھنے کی کمی کو بھولنے لگا تھا ۔
آئے دن کسی نا کسی ہوسپٹل میں اذہان کے ٹیسٹ کروانے کے بعد ارتضی کی چار سال کی محنت آخر رنگ لے آئی تھی ،
اذہان کی میڈیکل رپورٹس لیے وہ واپس پاکستان آنے سے پہلے اذہان کے والدین کو اطلاع دے گیا تھا،
ارتضی شاہ اور اذہان نے جیسے ہی پاکستان کی سر زمین پر قدم رکھے تھے ویسے ہی مسٹر خان اذہان کو اپنے ساتھ چند دن کے لیے لے گئے تھے ،


حال ۔۔۔۔۔
ماہین کے ساتھ گزرے یہ چند دن ارتضی شاہ کے لیے بہت زندگی کے خاص ترین دنوں میں سے ٹھہرے تھے ،
بہت حد تک ماہین کو ارتضی کی عادت ہوچکی تھی رات کو اس کے سینے پر سر رکھ کر سونا تو کبھی راتوں کو اٹھ کر اس کی غیر موجودگی سے پریشان ہوجانا ،
کبھی ماہین بے وجہ بات بے بات ارتضی کو تنگ کرنا تو کبھی رات میں اپنے ہاتھوں کی بد مزہ چائے بنا کر ارتضی کو دینا جو ارتضی اس کی خوشی کی خاطر مسکرا کر پی جاتا تھا ۔
اور ہر بار ماہین اس کے بولنے کے انتظار میں ہی رہتی تھی مگر وہ شخص اپنی خاموشی سے اسے یہاں پر بھی حیران کر جاتا تھا ۔
آج ارتضی شاہ کی زندگی وہ دن آگیا تھا جسے سوچتے ہوئے رات بھر جاگتا تھا ،جس وجہ سے نیند اس کی آنکھوں سے کوسوں دور رہتی تھی ،
آج بھی ساری جاگ کر اس نے اذہان کی رپورٹس پڑھی تھیں ،اس کے بعد بھی وہ دوبارہ سے پڑھ رہا تھا کہ کہیں کوئی بھی پوائنٹ اس کی نظر سے چھوٹ نا گیا ہو ،
ڈر لگ رہا ہے آپ کو ،ارتضی کو کئی بار رپورٹس کو پڑھتے دیکھ ماہین نے اس سے پوچھا تھا ،
تھوڑا تھوڑا، عجیب سی بے چینی لیے وہ مخاطب ہوا تھا ۔
مجھے ڈاکٹر جلاد پر تو نہیں پر منت ہسپتال کے رحم دل ڈاکٹر اور اپنے شوہر ڈاکٹر ارتضی شاہ پر پورا یقین ہے ،ارتضی کے ہاتھ پر ہلکا سا دباؤ دیتی ہوئی خود بھی گھبرا رہی تھی،
جب سے اسے ارتضی کی آخری سرجری کے بارے میں معلوم ہوا تھا ۔
انشاءاللہ اللہ پاک نے چاہا نا تو آپ ضرور کامیاب ہونگے ،ارتضی کے لیے اتنا ہی کافی تھا کہ ماہین اس پر اعتبار کرتی تھی ۔
انشاءاللہ ،ماہین کی آنکھوں میں دیکھتا ہوا تھوڑا پرسکون ہوا تھا ۔
آپ چلیں گی میرے ساتھ ،آس بھرے لہجے میں اس نے پوچھا تھا ۔
آپ جائیں میں سب کے ساتھ آؤں گی وہاں ،جانے کا تو بہت دل تھا اس کا بھی مگر خود کو مضبوط ظاہر کرنے کے لیے اس تھوڑا وقت درکار تھا۔
جیسی آپ کی مرضی ،ماہین کی پیشانی پر رکھتا ہوا ہاتھوں میں رپورٹس پکڑے وہ جانے کے لیے مڑا تھا جب اچانک سے ماہین کو اپنی روکے دیکھ حیران ہوا تھا ۔
تھوڑا جھک سکتے ہیں آپ ،وہ نا سمجھی میں بھنویں سیکڑ کر ہلکا سا جھک گیا تھا ۔
تھوڑا اور جھک جائیں ،ارتضی کے ہلکے سے جھکنے پر زچ آئی تھی ۔
اوکے ،ارتضی کے جھکنے سے پہلے ہی ماہین پیروں کے پنجوں پر کھڑی ہوتی ہوئی ارتضی کی کشادہ پیشانی پر اپنے نازک لب رکھ گئی تھی ۔
ارتضی جو ماہین کے عمل پر شاکڈ کھڑا ہوا تھا ۔
فی امان اللہ، آیت الکرسی سے اس ہر حصار باندھتی ہوئی اسے جانے کی اجازت دیتی ہوئی مسکرائی تھی ۔
جلدی آئیے گا ،جاتے ہوئے وہ اسے جلد آنے کا کہنا نہیں بھولا تھا۔
سب کی دعاؤں کے ساتھ ارتضی شاہ ہسپتال کے لیے نکلا تھا ۔
کچھ دیر بعد کسی سرجری کے لیے اس نےہسپتال میں قدم رکھے تھے ویسے تو وہ عموما ہی ہسپتال میں راونڈ لگاتا رہتا تھا ۔
چار سال پہلے اور آج کے ارتضی میں رات دن کا فرق تھا ، چار سال پہلے والا شوخ و مضبوط قدم والا ارتضی شاہ جیسے کہیں کھو گیا تھا،
آج اس کے قدموں میں سستی و سرجری کا ڈر صاف عیاں تھا ،
جاری ہے ۔