No Download Link
Rate this Novel
Episode 7
یہ بچہ کون تھا شاہ ۔۔ارتضی کو رحیم کا ہاتھ پکڑ کر باہر لے جاتے ہوئے دیکھ سب حیران ہوئے تھے ۔۔۔
غلام رسول کا بڑا بیٹا تھا ۔۔۔۔۔بدمزگی سے جواب دیتا ہوا وہ اپنی جگہ پر آبیٹھا تھا۔
سمجھ سے باہر ہے ان غریب لوگوں کے کھانے کے لیے گھر میں دانے نہیں ہوتے اوربچوں کی یہ ایک لمبی قطاریں کھڑی کرلیتے ہیں ۔۔۔
ایسے میں نا ٹھیک سے بچوں کی پرورش کرپاتے ہیں اور نا ہی اچھی تعلیم دلوا پاتے ہیں ۔۔۔۔غلام رسول کے چھوٹے بچوں کو سوچتا ہوا وہ پریشان ہوا تھا ۔۔
ہمارے پاس اتنا سب ہونے کے باوجود بھی ہم دو سے تین بچے کرتے ہیں یار ۔۔
کیونکہ ہمیں ان کے بہتر مستقبل کی فکر ہوتی ہے مگر ان لوگوں کو بس کرکٹ ٹیم بنانے سے مقصد ہے ۔۔
بچوں کے فیوچر سے کوئی سروکار ہی نہیں ہے ۔۔۔
بلکل سہی ۔۔۔۔ارتضی کی بات پر سب پہلے اسد نے ہامی بھری تھی وہ جو خود بھی اپنے ملازموں کے بچوں کو دیکھ یہ ہی سوچتا تھا جو ارتضی نے بات کہی تھی ۔
اب تو حکومت نے بھی کہہ دیا ہے چھوٹا گھرانہ خوشحال پاکستان ۔۔۔
شیراز کی بات پر سن کر ارتضی مسکرایا تھا ۔۔
پر حکومت کی سنتا کون ہے ۔۔۔
میں نے سنی ہے نا صرف دو ہی بچے ہیں میرے ۔۔۔ریحان ملک اپنی بات پر قہقہ لگاتا ہوا سب کے چہروں پرمسکراہٹ بکھیر گیا تھا۔۔۔۔
یہ محفل ساتھ بندوں پر مشتمل تھی جس میں ارتضی شاہ بھی شامل تھا ۔۔۔
کہنے کو تو سب ارتضی کے دوستوں میں شمار کیے جاتے تھے ۔۔۔۔
مگر ارتضی شاہ کا ان میں سے کوئی دوست نہیں تھا سب مخالف تھے ایک دوسرے کے ۔
ایک شاعر نے بہت خوب کہا ہے ۔۔۔۔۔
یہ دنیا ہے صاحب ۔۔۔یہاں سب ۔۔۔۔۔۔۔۔
تیرے منہ پہ تیرے میرے منہ پر میرے ۔۔۔
یہاں بھی کچھ یہی حال تھا بظاہر تو آج ایک ساتھ محفل لگائے بیٹھے تھے۔۔۔
یہ سب مرد حضرات بس ایک موقعے کی تاک میں تھے ارتضی شاہ کی دکھتی رگ پر پاؤں رکھنے کے لیے۔۔۔
جس کا اب تک ارتضی کی طرف سے کوئی بھی موقع فراہم نہیں ہوا تھا ۔۔
ایک دوسرے کے لیے دل میں کینہ و بغض پالے ہوئے لبوں پر شاطرانہ مسکراہٹ سجائے بیٹھے تھے ۔
ارتضی کی طرف سے کوئی موقع نا پاتے دیکھ سراج کی برداشت جواب دے گئی تھی ۔
بڑے عرصے بعد تمہیں یہاں دیکھ کر بہت خوشی ہوئی ارتضی شاہ ۔۔
ایسا کیا ہوا تھا کہ سیاست میں آنے کا اعلان کروا کر تم خود لندن میں آباد ہوگئے ۔۔خلوص میں چھپے طنز کو سمجھتا ہوا ارتضی شاہ مسکرایا تھا ۔
وہ کیا ہے نا کچھ لوگ وقت کے ساتھ بدلنے کے بجائے ویسے ہی رہتے ہیں ایک ہی جگہ پر ۔۔۔۔جو کبھی نہیں بدل سکتے ۔۔۔میٹھا سا طنز اب کی بارارتضی شاہ کی طرف سے آیا تھا ۔
اور رہی بات سیاست کی تو مجھے اس میں ذرا انٹرسٹ نہیں ہے ۔۔۔۔
جو چیز دل کو نابھائے میں اسے کرنے سے ذرا گریز ہی کرتا ہوں ۔۔۔بڑے ہی تحمل سے بولتاہوا وہ اپنی نشست پر ریلکس ہو بیٹھا تھا۔
انٹرسٹ نہیں ہے تو لے لو ویسے بھی تمہاری تو بڑی شریں زبان ہے ۔۔
جس سے تم کبھی بھی کسی کو بھی پیار پیار سے لتاڑ کر رکھ دیتے ہو ۔۔۔۔ سراج کی بات پر ارتضی شاہ کا بلند باک قہقہہ مردان خانے میں گونج اٹھا تھا ۔۔۔
شریں لہجے اور چاپلوسی کرنے میں دن اور رات کا فرق ہے سراج اور مجھے شوق نہیں ہے کہ میں کسی کے جمے جمائے پیر اکھاڑ دوں ۔۔۔۔۔
الحمداللہ مٹی کو سونے کردینے والے نصیب سے نوازا ہوا ہے خداتعالی نے مجھے ۔۔۔۔ تشکرانہ انداز میں بولتا ہوا وہ سب کو پل بھر کے لیے خاموش کروا گیا تھا ۔
ویسے ہی بہت برا ہوں میں کچھ خاص اچھائی نہیں ہے مجھ میں ۔۔دل میں سوچتا ہوا وہ تلخ مسکرایا تھا۔
اور پھر میں اپنی خاطر کسی کی نظر میں برا نہیں بننا چاہتا۔۔۔۔۔ ٹانگ پر ٹانگ رکھے وہ بڑے ہی آرام سے سراج کو اپنی قابلیت کا آئینہ دیکھا گیا تھا ۔۔
اچھا تو یہ میڈیا میں تمہارے سیاست میں آنے کی خبریں کیوں گردش کررہی ہیں ۔۔۔اصل بات پر آتے ہوئے سراج کے ساتھ سب ارتضی کے جواب کے منتظر تھے آخر وہ لوگ آج آئے ہی اس لیے تھے۔
ایسی بات ہے ۔۔۔۔ارتضی خود حیران ہوا تھا میڈیا میں اپنے سیاست کی خبر کے بارے میں سن کر ۔
ریکٹ تو تم ایسے کررہے ہو جیسے تمہیں کچھ علم ہی نا ہو ۔۔۔
ارتضی کے انداز پر بلال خان نے بھی میدان میں انڑی دی تھی ۔
میرے سیاست میں آنے کی خبر تم لوگوں کو کیوں بے چین کررہی ہے ۔۔۔
سیاست دانوں کی فیملی سے ہوں تو جب چاہے آرام سے آسکتا ہوں ۔۔۔دونوں ہاتھ صوفے کی پشت پر رکھتا ہوا ان سب کے کڑے تیوروں کا جائزہ لیتا ہوا وہ دلاور شاہ کے نئے کارنامہ کو تاسف سے سوچ کر مسکرایا تھا ۔۔۔
چار سال پہلے بھی یہاں سے جانے کی سب سے بڑی وجہ سیاست بنی تھی اور یہ سب جاننے کے باوجود بھی آپ نے پھر سے۔۔۔۔۔
ارتضی شاہ ان لوگوں میں سے ہر گز نہیں ہے جو وقت گزرنے کے باوجود ایک ہی جگہ پر ٹھہرا رہ جائے ۔۔۔
بلکہ میرا شمار تو سمندر کی شوخ لہروں میں کیا جاتا ہے ۔۔۔۔
کب اپنا رخ موڑ لوں مجھے خود پتا نہیں چلتا ۔۔۔۔اپنی ذہن میں چلتی سوچوں کو بنا کسی پر ظاہر کیے وہ ان سب کے سکت چہروں کو دیکھ کر مسکرا رہا تھا ۔۔
ارے چھوڑو یہ سیاست کی باتیں اتنے عرصے بعد ہم سب ایک ساتھ ہیں ۔۔۔اپنے خالص دوغلے پن پر اترتا ہوا ریحان بات بڑھ نا جانے کے ڈر سے بولا تھا ۔۔۔
ارتضی شاہ کے ساتھ کی بحث میں نقصان تو ان کا ہی ہونا تھا ناکہ ارتضی کا ۔۔
اس کا تو کوئی بال بھی باکا نہیں کرسکتا تھا ۔
بڑی سونی محفل کا اہتمام کیا ہے تم ارتضی شاہ نا شراب نا ہی شباب ۔۔۔۔ریحان کی بات پر سب متفق ہوئے تھے ۔
شراب تو پھر بھی مل سکتی ہے تم سب کو مگر شباب کا خیال ذہن سے نکال دو کیونکہ یہ ارتضی شاہ کی موجودگی میں ہر گز نہیں مل سکتا ۔۔۔۔اپنے مخصوص انداز میں بولتا ہوا وہ ہری جھنڈی دیکھا گیا تھا ۔
بڑا آیا مولوی تو مولوی کا بیٹا ۔۔۔۔ارتضی کی بات کو تمخسر میں اڑاتا ہوا اسد بد مزہ ہوا تھا ۔
پتا ہے سب سے پہلے تم مولوی ہی جہنم میں جاؤں گے۔۔۔۔ارتضی کی طرف ہاتھ سے اشارہ کرتا ہوا وہ بے رونق محفل کا سوچ کر کرلا رہا تھا۔
اتنا یقین ذرا مجھے بھی تو پتا چلے۔۔۔ شیراز کی بات پر ارتضی کو ذرا حیرانی نا ہوئی تھی ۔اچھے سے جانتا تھا کہ وہ ان سب کی دکھتی رگ پر پاؤں رکھ گیا تھا ۔۔
پتا ہے قیامت والے دن ہم سب پیچھے کھڑے ہونگے اور مولوی سب پہلے جہنم میں جائے گے ۔۔۔۔اور ان مولویوں میں سب سے آگے ہوگے تم ۔۔۔۔
شیراز کی بات فلک شگاف قہقہ لگاتا وہ حیران ہوا تھا ۔۔۔۔
ہر جگہ میں جب تم لوگوں سے آگے رہتا ہوں تو وہاں پر بھی رہنا میرا حق بنتا ہے ۔۔۔۔ارتضی کے انداز پر سب مسکرائے تھے مگر اگلے ہی لمحے سب کی مسکراہٹ سمٹ گئی تھی ۔
لو بھئی حق بنتا ہے میرا تم لوگوں کو جہنم کی راہ دیکھانے کا پھر میرے پیچھے پیچھے چل کر جہنم تک جاؤ گے
اور پھر تم لوگ جہنم میں رونق لگاتے رہنا اور میں اپنے رب کو راضی کرکے جنت میں بیٹھ کر تم لوگوں کے تماشے دیکھ کر ہنستا رہوں گا ۔۔۔اپنا قہقہے ضبط کرتا ارتضی شاہ کی حد درجہ سنجیدگی میں کہی بات پر سب اپنا منہ سا لے کر بیٹھ گئے تھے ۔۔۔
ابھی ان پر گزارا کرو میں اور منگواتا ہوں ۔۔۔۔شراب کی کئی بوتلیں ان سب کی طرف بڑھاتا ہوا خود شراب پینے سے گریز کیے ہوئے تھا۔
ان کو شراب پانی کی طرح پیتے دیکھ اپنی جگہ سے اٹھتا ہوا وہ غلام رسول کو آواز لگا گیا تھا جو مردان خانے کے باہر کھڑا ارتضی شاہ کے حکم کا منتظر بس حکم ملنے کی دیری تھی وہ فورا سے حویلی کی طرف بڑھا تھا۔۔۔۔
🥀🥀🥀🥀🥀🥀
کہاں ہو ۔۔۔۔۔ماہین کو گہری نیند میں سوتے دیکھ وہ بیڈ سے اٹھ کر کھڑی کے پاس آ کھڑی ہوئی تھی ۔۔
آسمان پر ابھرے چاند کو دیکھ کر وہ جب بھی اپنی پریشانی ختم نا ہوتے دیکھ بھی وہ حیدر کا نمبر ڈائل کرگئی تھی ۔
جس سے محبت ہوتی ہے اس کے ساتھ اپنی ہر پریشانی شیئر کرکے انسان پرسکون ہوجاتا ہے ۔
یہ کیا بچکانہ سوال ہے حیا گھر پر ہی ہوں ۔۔۔۔گارڈن میں اکیلے بیٹھا ہوا حیدر اپنی خیالی دنیا میں خود کو اس لڑکی کے ساتھ تصور کرتا ہوا مسکرا رہا تھا ۔جس کے نام تک سے وہ ناواقف تھا۔۔
حیا کی کال اسے اس وقت کسی دشمن سے کم نہیں لگی تھی۔
سوری اگر تمہیں پریشان کیا ہوا ہو تو ۔۔۔
کر تو دیا ہے اب کیا سوری ۔۔۔حیدر کا سرد رویہ اس کے درد میں اور اضافہ کرگیا تھا ۔۔۔
ایم سوری دوبارہ سے تنگ نہیں کروں گی ۔۔۔۔۔خدا حافظ ۔۔
دانتوں تلے لب دبائے وہ کال ڈیسکنیٹ کرگئی تھی ۔۔۔
ماہین کی بند آنکھیں جو نیند میں ہونے کے باوجود بھی لرزتی پلکوں کو اداسی سے دیکھ کر ان پر لب رکھ گئی تھی ۔۔
حیا حمدان بخاری کو آپ سے زیادہ کوئی بھی عزیز سے نہیں ہوسکتا پھر چاہے میرے سامنے حیدر شاہ ہی کیوں نا ہو ۔آنسوؤں کی لڑی ٹوٹ کر حیا کے رخسار پر گری تھی ۔
معمول کے حساب سے آج حیا کے لہجے میں کھنکھی نا محسوس کرکے حیدر اپنے رویے پر پشیمان ہوا تھا ۔۔۔
کئی بار حیا کا نمبر ٹرائے کرنے کے باوجود فون بند جارہا،تھا ۔۔
یہ کیا کردیا حیدی ملکہ جذبات کو ناراض کردیا تو نے ۔
کوئی نہیں کل صبح اسے گھر جاکر منا لوں گا ۔۔۔۔سونے کے ارادے سے اٹھتا ہوا وہ اپنا فون سائیڈ جیب میں ڈال کر حیا کو سوچ کر مسکرایا تھا ۔
وہ سرکار سائیننے لوازمات منگوائے ہیں مردان خانے میں ۔
ارے غلام رسول تمہارا بیٹا رو رہا تھا تمہیں یاد کرکے جاکر اسے چپ کرواؤ میں جب تک ٹرے تیار کرتی ہوں ۔۔
اماں رشیدہ کی بات سنتا ہوا غلام رسول پریشان ہوتا سرونٹ کوارٹر کی طرف گیا تھا ۔۔
او نوری اری او نوری ادھر جلدی سے ۔۔۔نوری کو آواز لگاتی ہوئی اماں رشیدہ پرسوچ انداز میں مسکرائی تھیں ۔
کیا ہے اماں ۔۔ارتضی شاہ کی بے رخی و سنگدلی سے پیش آنے پر صدمے میں اپنے بستر پر پڑی نوری اماں کی آواز پر کچن میں آئی تھی ۔
یہ لے اور جا مردان خانے میں دے آ ۔۔ٹرے نوری کی سمت بڑھاتی ہوئی وہ نوری کو حیران کرگئی تھیں ۔
پر میں اور وہ مردان خانے میں ۔نا اماں میں نہیں جاؤں گی ۔۔
۔اے پاگل پن نا کر سب بڑے اور نوجوان لوگ ہیں مردان خانے شاید تیری خوبصورتی سے ہمارے نصیب جاگ جائیں ۔
نہیں اماں یہ غلط ہے اور سائین سرکار ۔۔۔نوری منمنائی تھی۔
کیا ہوا میرے بیٹے کو ۔۔۔اپنے کمرے میں داخل ہوتا ہوا غلام رسول اپنے بیوی بچوں کو سوتے دیکھ اماں رشیدہ کی غلط بیانی سوچ کر پریشان ہوا تھا ۔
کچھ نہیں ہوتا اور سائین سرکار نے ہی بلوایا ہے تجھے ۔نوری کے انکار پر جھوٹ کا سہارا لیتی ہوئیں وہ ارتضی کے نام پر اسے قائل کر گئی تھیں ۔
حویلی میں داخل ہوتا ہوا حیدر نوری کو لوازمات کی ٹرن تھامے مردان خانے کی جانب جاتے دیکھ حیران ہوا تھا ۔۔۔
یہ وہاں کس لیے جارہی ہے ۔۔۔
غلام رسول ۔۔۔۔ پہلی بار حیدر شاہ کی گرجدار آواز حویلی کی چار دیواری میں گونجی تھی ۔
اب تمہارے کام اب نوری سر انجام دے گی ۔۔
سہی کہتے ہیں سر پر چڑھ گئے ہو تم جاؤ اور اس نوری سے ۔۔سامنے نوری کو نا پاکر حیدر شاہ اپنی پریشانی پر ہاتھ رکھ کر لمبا سانس باہر نکال گیا تھا ۔
اب بھگتنے کے لیے تیار رہنا ۔۔ارتضی کے ہونے والے ردعمل سے وہ خود بھی انجان تھا ۔
غلام رسول کو حیران و پریشان چھوڑ حویلی کے اندر قدم رکھ گیا تھا ۔
🥀🥀🥀🥀🥀🥀
ہلکے آسمانی کالر کے سادہ سے سوٹ میں ملبوس نوری کو مردان خانے میں آتے دیکھ ارتضی شاہ حیران رہ گیا تھا
اس طرح تو پہلے کبھی بھی شاہ حویلی میں ایسا نہیں
ہوا تھا ۔کہ مردان خانے میں مشروبات پیش کرنے کوئی
ملازمہ آئی ہو ۔۔۔۔
میں نے تو غلام رسول کو بلایا تھا تو یہ ۔۔۔اپنے ذہن پر زور دیتا ہوا وہ نوری پر اٹھنے والی محفل میں موجود سب کی ہوس بھری نظریں دیکھ وہ نوری کو پکار اٹھا تھا ۔۔۔
نوری تم یہاں کیا کر رہی ہو ۔۔۔۔
سرکار سائین اماں نے بھیجا تھا کہ آپ نے بلایا ہے ۔۔۔
وہ ارتضی کت سامنے سر جھکائے کھڑی ہوئی تھی ۔
تم غلام رسول نہیں ہو جاؤ تم یہاں سے ۔۔۔۔۔ارتضی شاہ کا بس نہیں چل رہا تھا کہ وہ اسے منظر سے ہی غائب کردے ۔
کہنے وہ شاہ حویلی کی ملازمہ تھی مگر ارتضی شاہ کی نظر میں وہ رائمہ جیسی ہی تھی ۔۔
جی سرکار ۔۔۔
ارے روکو آہی گئی ہو تو ذرا ہمیں یہ تو دیتی جاؤ جو تم ابھی لائی ہو ۔۔۔۔ریحان کی لڑکھڑاتی زبان اس کے نشے میں
ہونے کا ثبوت دیے رہی تھی۔
سر پر سے سرکتے ہوئے ڈوپٹے کو سنبھالتی ہوئی وہ سر ہلا کر آگے بڑھی تھی ۔۔۔
ارتضی کی بھنیچی ہوئی مٹھیاں دیکھ باقی سب خاموشی سے ریحان کو دیکھ رہے تھے جس کی کچھ دیر میں شامت آنے والی ارتضی شاہ کے ہاتھوں ۔۔۔
واہ سائیں واہ ۔۔۔۔۔یہ ہوئی نا بات شراب بھی شباب بھی ۔۔۔
رونقیں تو یہاں بکھری ہوئی ہیں ۔۔۔۔۔ارتضی شاہ ۔۔۔
نوری کو دیکھ اسے نشہ کچھ زیادہ ہی چڑھ گیا تھا ۔
کیا چیز تم نے چھپا رکھی تھی ہم سے اب تک ۔۔۔۔۔۔۔۔
آنٹی کیسی ہیں ۔۔۔۔۔۔نوری کو غصے سے دیکھتا ہوا وہ اچانک سے سوال کرگیا تھا ۔
ارتضی کے سوال پر سب ریحان کے لیے دعا گو ہوئے تھے۔
ٹھیک ہی ہیں ۔۔۔بدمزگی کے ساتھ مختصر سا جواب دیا گیا تھا ۔
نوازش ہے آپ کی ۔۔۔۔۔
رشنا کیسی ہے کہاں ہوتی ہے آج کل ۔۔۔۔۔پھر سے سوال کیا گیا ارتضی کی طرف سے ۔۔۔
کیا یار سوال پر سوال ۔۔ک کیا باتیں لیے بیٹھا ہے تو ۔۔۔ارتضی کے سوال کا جواب نا دیتا ہوا وہ نوری کی طرف متوجہ ہوا تھا ۔۔
کیا نازک سراپا ہے یار ۔۔۔۔۔
بھابھی کیسی ہیں ۔۔۔۔
سہی ہے وہ بھی ۔۔۔۔ موڈ نا خراب کر ۔۔۔ ارتضی شاہ کے شروع ہوئے سوالات سے وہ زچ آیا تھا ۔۔۔
شراب کے خالی گلاس اٹھاتی ہوئی نوری اپنے متعلق باتیں سنتی ہوئی آنسو ضبط کیے ہوئی تھی ۔
ہوش روبا حسن ہے تمہارا کہاں سے آئی ہو ۔۔۔۔لڑکی ۔۔
میرے خیال سے دو بیٹیاں ہیں نا تمہاری ۔۔۔۔وہ کیسی ہیں ۔۔
خوبصورت ہیں یا بس ۔۔۔۔۔۔یہ کہتے ہوئے ارتضی کو خود سے شرمندگی محسوس ہوئی تھی ۔
کیا مطلب ہے تمہارا ارتضی شاہ ۔۔۔
بیٹیوں کے ڈاکڑ پر ریحان کی نشے سے بند ہوتی آنکھیں پھٹی تھی ۔
جو تم سمجھ رہے ہو ملک ریحان ۔۔۔۔۔
تم جاؤ یہاں ۔۔۔۔نوری کو وہاں سے جاتے دیکھ ریحان کی طرف ہلکا سا جھکتا ہوا ارتضی شاہ سنجیدگی سے بولا تھا ۔
نا ماں کے نام پر غیرت جاگی نا ہی بہن پھر بیوی پر تو کیا خاک جاگتی ۔۔۔۔
چلو بیٹیوں کے نام پر تو جاگ ہی گئی ۔۔۔۔
ہمت کیسے ہوئی تمہاری ۔۔۔۔لڑکھڑتے لہجے میں ریحان ارتضی پر دھاڑا تھا ۔
ہمت کی تو بات ہی نا کرو کیونکہ اپنی دیکھانے میں ذرا بھی تاخیر نہیں کروں گا ۔۔۔
نکلو یہاں سے محفل ختم ہوئی ۔۔۔داخلی دروازے پر کھڑا ہوا وہ بدتہذبی سے بولا تھا ۔
تم تو برا مان گئے میں مذاق کررہا تھا۔۔۔۔لڑکھڑاتے قدموں سے دروازے تک آتا ہوا ریحان ارتضی کے کندھے پر ہاتھ رکھتا ہوا بولا تھا ۔
ریحان کے ہاتھ کو اگلے ہی پل جھٹکتا ہوا ارتضی خود پر ضبط کیے کھڑا تھا ۔
مردان خانے کے خالی ہونے کے فورا بعد ارتضی حویلی کے باورچی خانے میں موجود تھا جہاں سر جھکائے کھڑی اماں رشیدہ اور ان کے پیچھے کھڑی نوری کو خون خوار نظروں سے دیکھتا ہوا ضبط کی انتہا پر کھڑا تھا ۔
کتنا عرصہ ہوگیا ہے یہاں پر کام کرتے ہوئے۔یہ نہیں پتا آپکو مردان خانے میں فقط مرد آتے ہیں چاہے محفل لگی ہو یا نا۔۔
بتائیں۔۔
پھر کس کی اجازت سے آپ نے اسے مردان خانے میں بھیجا تھا ۔
جبڑے بھینچے وہ اپنے کڑے ضبط کا مظاہرہ کرتا احترام کے دائرے میں رہتا ہوا بول رہا تھا ۔
سرکار سائین غلطی ہوگی ۔اماں رشیدہ کو وہ چاہ کر بھی تلخ نہیں ہو پارہا تھا۔
غلطی نہیں ہے یہ گناہ کیا ہے آپ نے اپنی بیٹی کو مردان خانے میں بھیج کر ۔۔۔
اور تم نوری بی بی تمہیں ذرا اندازہ نہیں ہے اگر عورت چاہے جتنی بھی نیک کیوں نا ہو اگر وہ پردوں میں چھپ کر بھی مردان خانے میں آئے تو وہ فحاشہ ہی کہلواتی ہے ۔۔۔
سرخ انگارہ آنکھوں سے دونوں کو گھورتا ہوا اپنی پیشانی پر بکھرے ہوئے بالوں میں ہاتھ چلاتا ہوا خود کو پرسکون کرنے کی کوشش کررہا تھا ۔
آج آپ لوگوں کی اس شاہ حویلی میں آخری رات ہے جاکر سامان پیک کریں اپنا ۔۔۔
ایسے نا دیکھیں مجھے اب کہہ سو کہہ دیا جائیں ۔۔
اماں رشیدہ کی آنکھوں میں رحم کی آس دیکھ کر وہ فورا سے بولا تھا۔
تمہیں الگ سے انویٹیشن کارڈ دینا پڑے گا۔۔۔۔
مردہ قدموں سے چلتی ہوئی اماں رشیدہ وہاں سے گئی تھی جبکہ نوری کو ہنوز وہاں کھڑے دیکھ وہ نوری پر غرالایا تھا ۔
سائین سرکار میں وہاں میں آپ کے لیے آئی تھی ۔
وہی پر رک جاؤ اور میرے لیے کیوں آئی تھی مین نے بلوایا تھا آپکو ۔۔۔نوری کے خود کی طرف بڑھتے قدم دیکھ ارتضی کا خون خولہ تھا۔
محبت کرتی ہوں میں سائیں آپ سے ۔۔چار سال سے آپ کی تصویروں سے محبت کرتی آئی ہوں سائیں ۔۔
بکواس بند کرو اپنی ۔۔۔۔
کیوں سائیں جب ایک بادشاہ کو اپنی باندی سے محبت ہو سکتی ہے تو کیا ایک نوکرانی کو اپنے سائین سرکار سے محبت نہیں ہوسکتی ۔۔
کیا ہم ملازماؤں کو محبت کرنے کا حق نہیں ہے کسی کو چاہنے کا۔۔۔
کیا ہم غریبوں کے پاس دل نہیں ہوتا ،احساس جذبات نہیں رکھتے ہم غریب لوگ ۔
نوری کی باتوں سے ارتضی کو اپنا سر گھومتا ہوا محسوس ہوا تھا ۔
دیکھو نوری تمہیں حق ہے محبت کرو مگر خود کو دیکھ کر ۔
آسمان کی طرف منہ کرکے چلنے والا انسان ہمیشہ منہ کے بل گرتا ہے ۔
رہی بات اس کی جو بکواس تم نے کی ہے دوبارہ مت کرنا ۔انگشت کی انگلی سے اسے وارن کرتا وہ وہاں سے جانے کےلیے مڑا تھا ۔
جب نوری کی کہی بات پر حیران ہوتا ہوا اپنا چہرہ اوپر کرگیا تھا۔۔
سائیں میں ساری عمر نہیں مانگ رہی آپکی بس ایک رات
اس حد تک گری ہوئی ہو تم تو اور میں تمہارے لیے ریحان کو سنا کر آیا ہوں ۔
میں چوک گیا تمہیں پہچاننے میں مگر وہ تمہاری اصلیت پہچان گیا۔
یہ بات یا رکھنا اس گاؤں کی ہر لڑکی کو ارتضی شاہ نے اپنی عزت کی نظر سے دیکھا ہے اپنی بہن ،بیٹی سمجھ کر دیکھا ہے۔۔۔۔۔۔۔جبڑے بھینچے وہ غرالایا تھا۔
سرکار ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
بکواس بند کرو اپنی دفع ہو یہاں سے ۔غصے سے ڈھاڑتا ہوا وہ اپنا ضبط کھو بیٹھا تھا۔۔۔۔۔۔۔
جاری ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
