Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 4

مجھے جیسے پتا چلا میں فورا سے وہاں سے نکلی تھی ۔اور آپ اب بھی ناراض ہیں ۔۔ماہین کی طرف کوئی جواب نا پاکر وہ پھر بولی تھی
اچھا نا سوری اب تو ناراضگی ختم کردو ۔۔۔
ماہین کو منا منا کر وہ اب تھک چکی تھی مگر ماہین کئ ناراضگی تھی کہ ختم ہونے کا نام ہی نہیں لے رہی تھیں ۔
اتنی جلدی ہار نہیں مان لی ہے اور میں جو کب سے تمہارے انتظار میں بھوکی بیٹھی ہوئی ہلکان ہورہی تھی ۔ناراض بیویوں کی طرح شکوہ کررہی تھی ۔
اچھا نا سوری باقی کی ناراضگی بعد کے لیے چھوڑ دیتے ہیں اور پہلے ہم کھانا کھا لیتے ہیں ۔ماہین کی گردن میں ہاتھ ڈالتی ہوئی وہ منمنائی تھی ۔
میں نہیں ماننے والی چاہے تم جتنے پاپڑ بیل لو ۔۔۔
تھک ہار کر ماہین سے الگ ہوتی ہوئی وہ رو دینے کو ہوئی تھی ۔
اب خود کو بھوک لگی تو ناراضگی ختم کردو سہی ہے بیٹا ۔
حیا کے انداز پر شرارت سے مسکرائی تھی ۔
مطلب آپ مان گئی اور ساری ناراضگی ختم ۔۔۔۔
وہ تو میں دیکھتے ہی مان گئی تھی ۔۔۔حیا کے گال کھینچتے ہوئے مسکرا رہی تھی ۔
آئی لو یو ۔۔۔۔کہاں ہے حیدر ۔۔۔آنکھوں میں شرارت لیے کمرے میں نظریں دوڑاتیہوئی ماہین اپنی مسکراہٹ ضبط کرگئی تھی ۔۔
ماہین ۔۔۔۔۔۔ماہین کی بات پر منہ پر تکیہ رکھتی ہوئی وہ بیڈ پر دراز ہوئی تھی ۔
بریکنگ نیوز حیا کے گال حیا و شرم سے لال ہوگئے ہیں ۔۔
حیا کے چہرے پر سے تکیہ اٹھاتی ہوئی ماہین فل شرارت کے موڈ میں تھی۔
کوئی اس شخص سا دنیا میں کہاں ہوتا ہے…
لاکھ چہروں میں جسے دل نے چُنا ہوتا ہے!!!
ہم تو اس موڑ پر آہ پہنچے ہیں محبت میں جہاں…
دل کسی اور کو چاہے تو گناہ ہوتا ہے!!!
ایمپوسیبل حیا کی ساری حیا شرم اس کے نام میں آگئی ہے تو سوال ہی پیدا نہیں ہوتا کہ مجھے شرم آجائے ۔۔۔ڈھٹائی سے کہتی ہوئی وہ اپنے آپ کو کمپوز کرتی ہوئی ماہین سے نظریں جھکا گئی تھی ۔۔۔
تم جو کہتے ہو مان لیتے ہیں ۔
کہ صرف فرشتے ہی جان لیتے ہیں ۔۔۔۔،
بیڈ پر سے اٹھتی ہوئی ماہین کے شعر پر مسکراتی ہوئی وہ بھی اس کے ساتھ ہولی تھی ۔ڈائینگ روم میں جانے کے لیے ۔
🥀🥀🥀🥀🥀🥀
شاہ حویلی کے مکین اور ملازمین سب ا پنے اپنے کمروں میں سونے کے لیے جاچکےتھے۔
سب کے سب سو بھی گئے ہونگے یہ ارتضی کا خیال تھا ۔
اتنے لمبے سفر کی تھکان کے باوجود بھی نیند ارتضی کی آنکھوں سے کوسوں دورتھی ۔
ذہن کے پردوں پر چلتی دن بھر کی سوچ اسے سونے نہیں دے رہی تھی ۔
کبھی وہاج کے ہاتھ میں رائمہ کا ہاتھ یاد آرہا تھا ۔۔۔
تو کبھی جذبات و غصے میں رائمہ پر اٹھایا گیا اپنا ہاتھ اسے شرمندہ کررہا تھا ۔۔۔۔۔
کتنا خوش تھا آج چار سال بعد اپنے وطن اپنے گاؤں واپس آکر مگر اسے خوشیاں کب راس تھیں جو آج اسے خوشی راس آجاتی ۔۔
اپنی قسمت پر ماتم کرتے ہوئے اسے ذہن کے پردوں پر اچانک سے اس پری پیکر کا عکس کسی ٹھنڈی ہوا کے جھونکے کی لہرایا تھا ۔۔
مغرور ارتضی شاہ کے لبوں پر مسکراہٹ پھیلی تھی ۔۔۔
آج کے اس قدر تھکا دینے والے دن میں اس کا خیال اسے سکون بخش رہا تھا۔
بڑی دلچسپ غفلت ہوگئی ہے
اچانک ان سے اپنے ہوگئی ہے ۔۔،
غم جاناں بھی گو اک حادثہ ہے
غم دوراں سے فرصت ہوگئی ہے ۔۔،
تمہیں کچھ علم ہے کہتی ہے دنیا
کہ مجھے تم سے محبت ہوگئی ہے ۔۔۔۔،
اسے سوچتے سوچتے کب نیند کی دیوی اس پر مہربان ہوئی اسے خبر تک نا ہوئی تھی ۔۔۔
🥀🥀🥀🥀🥀🥀🥀
شاہ حویلی کے ساتھ بنا انصاری ولا دلوں میں نفرت و گہرے تناسب کے باوجود بھی دونوں کی چھتیں ایک دوسرے کی چھتوں سے ملی ہوئی تھیں ۔
کئی کالز کرنے باوجود بھی رائمہ کی طرف فقط سرد خاموشی چھائی ہوئی تھی ۔آخر کار میسج پر دھمکی دے گیا تھا ۔
چھت ملی ہونے کی وجہ ٹپ کر آتا ہوا وہاج کافی دیر سے رائمہ کا انتظار کررہا تھا ۔
رائمہ کو آتے دیکھ وہ فورا سے بولا تھا ۔
کہاں رہ گئی تھی تم اور کالز بھی اٹینڈ نہیں کر رہی تھیں ۔
پتا ہے میں کتنا پریشان ہوگیا تھا ۔۔
وہاج سے وہ ذرا فاصلے پر کھڑی ہوئی تھی ۔
اگر تم تھوڑی دیر میں اوپر نہیں آئی تو میں تمہارے کمرے میں آتے ہوئے ذرا نہیں کتراؤں گا ۔۔
وہاج کے پریشان چہرے کو دیکھ کر نگاہ پھیر گئی تھی ۔
یہ ارتضی بھائی اچانک سے کیسے ٹپک پڑے تھے ۔
ان کی ہمت کیسے ہوئی تم ہاتھ اٹھانے کی وہ بھی مال میں تمیز نام کی کوئی چیز ہوتی ہے یا وہ بھی اب ختم ہوگئی ہے ان کے اندر سے ۔۔ بدتمیزی سے بولتے ہوئے وہاج کو حیرت سے دیکھ رہی تھی ۔
پہلی بات یہ مت بھولو کہ جس کے بارے تم اس وقت بات کررہے ہو وہ ارتضی بھائی اور دوسری بات اگر وہ اس تھپڑ کے بجائے اگر میں جان بھی لے لیتے تو بھی کچھ غلط نا کرتے وہ ۔
ارتضی بھائی کی جگہ کوئی بھی بھائی ہوتا تو وہ بھی ایسے اپنی بہن کو کسی اور شخص کے ساتھ دیکھ کر اس بھی زیادہ غلط کرتا ۔۔۔
وہاج کو وہ کہیں سے بھی ڈری سہمی سی رائمہ نہیں لگی تھی جس سے وہاج نے محبت کی تھی یہ تو کوئی اور ہی رائمہ تھی جو اس وقت اس کے سامنے کھڑی تھی۔
رہی بات ہمت کی تو وہ چار سال پہلے اپنی ہمت کا مظاہرہ تمہاری اور میری جان لےکر آرام سے دے سکتے تھے ۔
لیکن نہیں انہوں نے تو اپنی تمیز اور بڑے دل کا مظاہرہ کیا اور چار سال کی طویل اذیت ناک خاموشی اختیار کی ۔آج وہ وہاج کو لاجواب کرنے کا پکا ارادہ کیے ہوئی تھی ۔
اگر وہ تمیز سے تمہارے ساتھ پیش نا آتے تو ہم دونوں یہاں نا ہوتے ۔۔۔آنسوؤں کو واپس سے اندر دھکیلتی ہوئی وہ کچھ دیر کے لیے خاموش ہوئی تھی ۔
محبت کرنا گناہ نہیں ہوتا ۔۔۔رائمہ کے ٹھوس لہجے کو محسوس کرتا ہوا وہ محبت کا حوالہ دے گیا تھا ۔
محبت کرنا گناہ نہیں ہے مگر محبت میں صحیح غلط کا فرق نا کرنا وہ گناہ ہوتا ہے ۔۔
اور جو میں کرنے جارہی تھی تمہارے ساتھ مل کر ۔۔
بابا سرکار، ماں سرکار اور اپنے دونوں بھائیوں کی محبت کو فراموش کیے میں تمہارا انتخاب کر گئی تھی ۔
آنسوؤں کی لڑی ٹوٹ کر اس کے رخسار پر گری تھی ۔
یہ سب جاننے کے بعد بھی ارتضی بھائی مجھ سے بات کرتے ہیں مجھ سے آج بھی اتنے ہی پیار سے پیش آتے ہیں ۔۔
مگر آج چار سال بعد پھر میں انہیں واپس سے وہی تکلیف دے گئی ہوں یہ بھی تمہاری وجہ سے ۔۔آنسوؤں کو بے دردی سے صاف کرتی وہ بھاگ کر سیڑھیاں اتر گئی تھی ۔
شرمندگی سے سر کو جھکائے کھڑا وہاج نم آنکھوں سے ستاروں سے بھرے آسمان کو دیکھ کر خالی ہاتھ لیے واپس اپنی منزل کی طرف موڑا تھا ۔۔۔۔۔
🥀🥀🥀🥀🥀🥀
سنیں ۔۔۔۔وہاج کی آواز پر وہ پیچھے مڑی تھی ۔
جی ۔۔۔آپ تو وہی مال والے لڑکے ہیں نا جو اس بیچاری کو اسے کے جلاد بھائی کے حوالے کر کے خود منظر سے ہی غائب ہوگئے تھے ۔وہاج کو دیکھتے ہی ماہین کو وہ یاد آگیا تھا۔
گاؤں میں آئے اسے آج تیسرا دن تھا ۔۔کچھ دیر کے لیے شاکرہ بیگم سے نظر بچا کر وہ باہر آئی تھی گھر میں بند رکھ اوب گئی تھی۔
ایسا کچھ بھی نہیں ہے جیسا آپ سمجھ رہی ہیں ۔اس دن کی ساری بات ماہین کو گوشگزار کر گیا تھا ۔
یہ سب مجھے بتانے کا مقصد ۔۔سوال کرتی ہوئی وہ کندھے اچکا گئی تھی ۔
آپ ہی ہیں جو میری مدد کرسکتی ہیں ۔
وہ کیسے ۔۔۔۔
آپ نے ارتضی شاہ کو باآسانی کنٹرول کرلیا تھا ۔
پلیز پلیز اس بادشاہ جلال کی سنگدلی سے میری محبت کو بچا لیے ۔۔۔
شکل سے آپ بہت سخی لگتی ہیں ۔۔۔
اپنی دال نا گلتے دیکھ وہ مکھن بازی پر آیا تھا ۔
یہ مکھن مجھے نا لگاؤ جاکر اپنے سالے کو لگاؤ اور سخی کی تو وہ تو میں ہوں الحمداللہ ۔۔
تو آپ میری مدد کررہی ہیں ۔۔ماہین کی باتوں سے وہ یہ ہی اخذ کررہا تھا۔
صرف اور صرف اس لڑکی کے لیے ۔۔۔روب جماتی ہوئی وہ راضا مندی دے گئی تھی ۔
اسے جلاد کے پاس جانا مطلب شیر کے منہ میں ہاتھ ڈالنے والی بات ہوگئی۔
حیا بھی نہیں ہے ۔دل میں اس جلاد کو سوچ کر وہ گھبرائی تھی ۔
🥀🥀🥀🥀🥀🥀
کہاں چلی سواری ارتضی شاہ کی ۔۔۔جینز کی پینٹ پر ایش گرے شرٹ پہنے وہ عام روٹین کی طرح تیار ہوکر لیونگ روم کے پاس سے گزرتا ہوا دلاور شاہ کی آواز پر رکا تھا۔
بابا سرکار ڈیری فارم جانے کا ارادہ ہے ۔۔
سر کو جھکائے وہ جیسے اپنا جرم قبول کر رہا ہو اس انداز میں بولے رہا تھا ۔
جاؤ جاؤ ۔۔۔
خدا حافظ ۔۔۔وہ کہہ وہاں رکا نہیں تھا ۔
آپ بھی نا سائین ،دلاور شاہ کو ہنستے دیکھ شاہدہ بیگم مسکرائیں تھیں ۔
🥀🥀🥀🥀🥀🥀🥀
انصاف دو ،،،،انصاف دو ،،،،،،
محبت کے دشمنوں کی اب نہیں چلے گی ۔۔۔۔۔
ہم معصوموں کو انصاف دو ۔۔
انصاف دو، ،،انصاف دو ۔۔۔۔۔۔
رائمہ اور سنو کیا نام ہے تمہارا ۔۔۔۔گیٹ کے پیچھے چھپے اس لڑکے سے بلند آواز میں نام پوچھ گئی تھی ۔
شاہ ڈیئری فارم کے مین گیٹ کے سامنے زمین پر التی پلتی مارے وہ اپنا سا دھرنا لگائے بیٹھی تھی۔۔۔
آج وہ شاہ خاندان کی عزت کا جنازہ نکالنے پر تولی ہوئی تھی ۔
اف اللہ اتنا بھی کوئی بزدل ہوسکتا ہے ۔
دل میں سوچتی ہوئی وہ دھرنا بھی اس شخص کے اکسانے پر کرکے بیٹھی تھی جس کے نام تک سے وہ ناواقف تھی ۔
وہاج ۔۔۔۔۔وہاج منہ پر ہاتھ رکھے وہ قدرے ہلکی آواز میں جواب دیتا ہوا قدموں کی چھاپ سن کر واپس سے گیٹ کے پیچھے چھپ گیا تھا ۔
بزدل لوگوں کو محبت نہیں کرنی چاہیے ۔۔۔
محبت بھی جگرے والوں کا کام ہے تم جیسے بزدلوں کا نہیں ۔۔وہاج کے چھپنے پر چوٹ کرتی ہوئی اپنے دھرنا دینے کے فیصلے پر جی بھر کر پچھتائی تھی ۔۔۔
ارتضی شاہ کی زندگی اور اس کے ڈیئری فارم میں خوش آمدید ۔۔۔مسسز ارتضی شاہ ٹو بی ۔۔۔۔فورتھ فلور پر اپنے کیبنٹ کی گلاس ونڈو سے ماہین کو دیکھتا ہوا مسکرایا تھا ۔۔۔
آج دل نے اسے دیکھنے کی چاہ کی تھی اور وہ اس کے سامنے تھی اسے اپنی خوش قسمتی پر یقین نہیں آرہا تھا ۔
ٹک ۔ٹک ۔۔۔دروازہ ناک کرتے ہوئے ملازم کے ہاتھ کانپ رہے تھے ارتضی کے کیبنٹ کے اندر جانے کا سوچ کر ۔۔
کہ نجانے کون غلطی سی ایسی غلطی اس سے سرزرد ہوگئی تھی جو سائیں سرکار نے بلایا ہے اسے ۔
کم ان ۔۔۔بنا مڑے ملازم کو اندر آنے کی اجازت دیتا ہوا وہ ماہین کی حرکتوں کو دیکھ کر مسکرا رہا تھا ۔۔۔
سائین سرکار وہ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
نیچے جاؤ اور بی بی کو جا کر کہوں میں بلایا ہے انہیں ۔۔۔ملازم کی بات بیچ میں کاٹتا ہوا ریوالونگ چیئر پر بیٹھا تھا ۔۔۔
ارتضی کا حکم ملتے ہی سکھ کا سانس لیتا ہوا ملازم سر ہلا کر وہاں سے گیا تھا۔
بی بی آپ کو سائیں سرکار نے بلایا ہے ۔۔۔۔
کیوں ۔۔۔۔بلانے کے نام پر ہی ماہین کے دم خشک ہوئے تھے۔
مال کا منظر آنکھوں کے سامنے کسی فلم کی مانند چلا گیا تھا ۔۔
ارے جاؤ نا ۔۔ وہاج کی آواز پر ملازم کے پیچھے چلتی وہ اپنے پسینے سے تر ہوتی ہتھیلیوں کو آپس میں مسلتی ہوئی وہ گھبرا رہی تھی ۔۔۔۔
بس ایک بات یاد رکھ ماہین ۔۔جب تک تو نا چاہے جب تک کوئی بھی کچھ نہیں بگاڑ سکتا سمجھی ۔سب سے فاسٹ ماہین ریاض ۔
یااللہ اپنی معصوم بندی پر رحم فرما اور اس جلاد سے میری حفاظت فرما ۔۔۔
ارتضی کے کیبنٹ باہر ماہین کو چھوڑ کر جاتا ہوا ملازم اسے ترس بھری نظروں سے دیکھتا ہوا وہاں سے گیا تھا ۔
آؤ ۔۔۔۔۔۔۔ماہین کے ڈور ناک کرنے سے پہلے ہی وہ بے صبری سے ڈور کھولے کھڑا تھا ۔۔
حیران ہوتی ہوئی وہ ارتضی کو سائیڈ ہوتے دیکھ لب دبائے اپنی گھبراہٹ چھپانے کی کوشش کررہی تھی ۔
کیا لیں گی آپ ۔۔۔۔آخری کو تم پہلی بار آئی ہو مجھ سے ملنے ۔
انصاف ۔۔۔۔۔۔چاہیے ۔۔۔۔۔ مجھے ۔۔۔۔۔
توبہ کرو لڑکی انصاف بھی بھلا کوئی کھانے کی شے ہوتی ہے ۔ماہین کی بات پر وہ ناچاہتے ہوئے بھی ہنس پڑا تھا ۔۔
یہ جلاد ہنستا بھی ہے ۔۔۔ارتضی کو ہنستے دیکھ وہ حیران ہوئی تھی ۔
رہی بات انصاف کی تو یہ میرے ساتھ بڑی ناانصافی ہوگی ۔۔۔۔۔اگر تم کچھ نہیں لوں گی تو ۔
آخر میں گھمبیر لہجے میں کہتا ہوا وہ ماہین کے حیران چہرے کو حسرت بھری نظروں سے دیکھ رہا تھا ۔
مجھ سے آپ کرکے بات کریں میں کوئی آپ کی دوست نہیں ہوں ۔۔
ارتضی کے آپ سے تم تک آتے سفر پر چوٹ کرگئی تھی۔
کون کمبخت بنانا چاہتا ہے میرے ارادے تو تمہیں لے کر بہت نیک ہیں ۔
ماہین کی بات کو سیریس نا لیتا وہ الٹا مسکرا کر اسے کلسا رہا تھا ۔
ماہین کو جواب دے کر وہ واپس سے اپنے مغرور چہرے پر سنجیدگی سجائے چیئر پر بیٹھا تھا ۔۔۔
کیا مطلب ہے ۔۔۔حیرت سے پوچھتی ہوئی وہ ارتضی کے سامنے آن کھڑی ہوئی تھی ۔
پہلی بار آئی ہو دا گریٹ ارتضی شاہ سے ملنے اور بنا کچھ چائے پانی پیے تم فقط انصاف مانگ رہی ہو ۔
تھوڑی بیٹھو کچھ میری سنو کچھ اپنی سناؤ ۔۔۔
کچھ میرے بارے میں پوچھو کچھ اپنے بارے بتاؤ۔۔
ٹیبل پر کہونی ٹکا کر بیٹھتا ہوا وہ ماہین کے شاکڈ فیس کو دیکھ کر اپنی مسکراہٹ دبا گیا تھا۔
اپنی یہ فالتو کی بکواس اور یہ چائے پانی کی آفر کو اپنے ہی پاس رکھیں کس اور کے کام آئے گی ۔۔۔۔
مجھے فقط انصاف چاہیے ۔۔۔۔ہمت جمع کیے وہ ٹھوس لہجے میں بولی تھی ۔
کس کے لیے انصاف چاہیے ۔۔۔
رائمہ کے لیے کتنا جانتی ہو رائمہ اور وہاج کو ۔۔۔۔۔
مجھ سے زیادہ جانتی ہو ایک بھائی سے زیادہ جانتی ہو تم۔
کرخت لہجے میں پوچھتا ہوا وہ اپنی جگہ سے اٹھ کھڑا ہوا تھا ۔
نہیں جانتی مگر جانتے آپ بھی نہیں ہیں ۔۔۔۔مسٹر ارتضی شاہ ۔۔
یا یہ کہنا زیادہ بہتر رہے گا آپ جاننا ہی نہیں چاہتے اپنی غرور اور نام نہاد غیرت کی خاطر ۔۔۔۔۔ارتضی کی لہو رنگ ہوئی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بولتی ہوئی وہ پل بھر کے لیے کانپ گئی تھی ۔
آؤٹ ۔۔۔۔۔ماہین کو کچھ کہنے سے باز رکھتا وہ خود پر ضبط کرگیا تھا ۔
واٹ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ارتضی کے اچانک بولنے پر اسے حیرت ہوئی تھی ۔
آئی سیڈ گیٹ آؤٹ ۔۔
رکنا بھی کون چاہتا ہے ۔۔آپ جیسے سنگدل انسان کے پاس جو فقط لوگوں کے جذباتوں کو اپنی جھوٹی شان اور انا کی روند دیتا ہے ۔
پر یہ بات رکھیئے گا مسٹر ارتضی شاہ کسی خوشیوں کو مٹی تلے روند دینے والے انسان کو کبھی خوشیاں نصیب نہیں ہوتیں ۔۔ٹھوس لہجے میں کہتی ذرا نا کانپی تھی ۔
نکلو یہاں سے ۔۔۔۔یہاں پر ارتضی کے ضبط کا پیمانہ لبریز ہوا تھا اور غصے سے ٹیبل پر ہاتھ مارتا ہوا سارا سامان نیچے گرا گیا تھا ۔
کانچ کے ٹکڑوں سے بچنے کے لیے وہ اچھل کر پیچھے ہوئی تھی ۔
نکلو یہاں سے یا بلاؤ گارڈز کو ۔۔سرخ آنکھوں سے ماہین کو گھورتا ہوا وہ غصے دھڑا تھا۔
انسان نہیں وحشی ہیں۔۔
اب اس وحشی کی وحشت اگر تم پر طاری نا کردو تو میرا نام بھی ارتضی شاہ نہیں ۔۔۔۔۔آؤؤؤٹٹٹٹ۔۔
ارتضی کے بڑھتے ہوئے غصے کو دیکھ وہ فورا سے ہی وہاں اپنی جان بچاتی ہوئی نکلی تھی ۔
کیوں۔۔۔۔۔۔۔۔۔فرش پر گھٹنوں کے بل بیٹھتا ہوا غصے سے انگلیوں سے بال نوچ رہا تھا ۔
جلاد ،سنگدل ،اور اب وحشی ایک ساتھ اتنے لقب وہ بھی اس لڑکی سے پاکر جس کے لیے پہلی بار دل نے بغاوت کا اعلان کیا تھا اس کے منہ سے یہ سب سن کر ارتضی شاہ کرلا اٹھا تھا ۔۔۔۔۔۔
۔۔جاری ہے ۔۔۔