No Download Link
Rate this Novel
Episode 1
یہ خدا کی حکمت پر ہمارا تبصرہ کیسا ۔۔۔۔۔
جو ہو گیا ہے اسے سوچ کر رونا کیسا ۔۔۔۔۔۔۔
چار سال بعد اپنی سر زمین پر قدم رکھ کر وہ پرسکون سا مسکرایاتھا ۔
ویلکم بیک ٹو دا پاکستان ارتضی شاہ ۔۔۔۔
بلیک پینٹ پر سلیو کو کہنیوں تک موڑ وہ بلیک ہی شرٹ میں اپنی پیشانی پر بکھرے ہوئے بالوں سیٹ کرتا ہوا اپنے مغرور نقوش سمیت اپنی خوبرو شخصیت اور پر وقار وجاہت لیے اپنے اوپر اٹھنے والی ہر نظروں کو بنا خاطر میں لائے بے نیاز کھڑا وہ ائیر پورٹ پر کھڑا آدھے گھنٹے سے اپنے ڈرائیور کا انتظار کررہا تھا ۔
جسے آنے میں کچھ زیادہ ہی وقت لگ گیا تھا ۔۔
خود پر جمی لوگوں کی نظروں سے اکتاہٹ کا شکار ہوتا ہوا وہ اپنی آنکھوں پر بلیک گلاسسز سے ڈھانپ گیا تھا ۔
بظاہر تو وہ سنجیدہ اور بے نیاز بنا کھڑا تھا مگر یہ تو اب وقت بتانے والا تھا ۔
کہ طوفان کے آنے سے پہلے کی خاموشی اس ڈرائیور پر کیا قہر برسانے والی تھی۔
اسلام وعلیکم سائیں سرکار ۔۔۔۔۔
سر کو جھکائے ڈرائیور کی آواز میں صاف ارتضی شاہ کے قہر کا ڈر جھلک رہا تھا۔
ہوتا بھی کیوں نا ارتضی شاہ نے کبھی اپنے دل میں کسی کے لیے بھی نرم گوشہ نہیں رکھا تھا۔
وہ تو تھا ہی زمانہِ سنگ دل مشہور ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وعلیکم السلام ۔۔۔۔۔
میرا خیال بہت جلدی آ گئے تم ابھی کچھ دیر اور کردیتے آنے میں ۔
ویسے بھی سائیں سرکار کو انتظار کروانا تو تم لوگوں کے فائدے میں ہی ہوتا ہے ۔۔۔۔۔
گلاسسز کو نیچے کرتا ہوا وہ حد درجہ غصے کی وجہ سے سرخ ہوتی آنکھوں میں قہر لیے وہ دانت دبا کر ایئر پورٹ پر موجود لوگوں کی وجہ مسکرا کر ضبط سے بولا رہا تھا ۔۔۔
سائیں سرکار گاڑی خراب ہوگئی تھی اس وجہ سے دیر ہوگئی ۔۔۔نوکری سے نکل جانے کا ڈر ڈرائیور کو کپکپانے پر مجبور کرگیا تھا۔۔۔
دیر ہورہی ہے چلو ۔۔۔۔۔۔مسکرا کر کہتا ہوا وہ خود آگے کی طرف بڑھا تھا ۔
جبکہ ڈرائیور سامان اٹھائے مرے ہوئے قدموں سے چلتا ہوا اپنی قسمت پر ماتم کررہا تھا ۔۔
بظاہر مسکرا کر بولنے والا ارتضی شاہ اب اسے مزید اپنی نظروں کے سامنے برداشت نہیں کرسکتا تھا اور اسے نوکری سے نکال دینے میں ذرا تاخیر نہیں کرنے والا تھا۔
سامنے آتی ہوئی لڑکی کے جان پوچھ کر اپنے ساتھ ہوئے تناسب پر وہ کڑوا گھونٹ بھر کر رہ گیا تھا ۔
ایم سو سو سوری ۔۔۔۔اپنے بالوں کو کان کے پیچھے کرتی ہوئی وہ ارتضی کو دیکھ مسکرائی تھی ۔
بائے دا وئے ایم ۔۔۔۔۔اپنی قسمت کا ستارہ چمکانے کی غرض سے وہ ارتضی کی جانب بڑھی تھی ۔۔۔
مجھے کوئی انٹرسٹ نہیں ہے آپ کے نام میں
سائیڈ پلیز ۔۔۔۔۔۔۔لڑکی کی بات کو بیچ میں کاٹتا ہوا وہ کڑے ضبط کے باوجود بھی مسکرا کر بولتا ہوا لڑکی کو سائیڈ کرتا ہوا پارکنگ ایریا کی بڑھا تھا ۔۔۔
اف ۔۔۔۔۔کیا جاتا ایک نظر مجھے دیکھ لیتے تو ۔
ارتضی شاہ جو اپنی ایک نظر سے کسی کو بھی اپنا اسیر کردے یہ صلاحیت تو ارتضی شاہ کو حاصل تھی۔۔۔۔
مگر عجیب بات تھی کہ اپنی ایک نظر سے اسیر کردینے والے ارتضی شاہ نے اب تک کسی لڑکی کو نظر اٹھا کر دیکھنے کی زحمت تک نا کی تھا ۔۔
گاڑی کی چابی دو ۔۔۔۔۔
سائیں سرکار دوبارہ غلطی سے بھی غلطی نہیں ہوگی ۔۔۔
وہ جلدی سے ارتضی کے پیروں کو پکڑ گیا تھا۔
یہ کیا کر رہے غلام رسول اٹھو ۔۔۔جھٹکے سے ایک قدم پیچھے لیتا ہوا وہ غصے سے غرالایا تھا۔
سائیں میرے چھوٹے چھوٹے بچے ہیں ۔۔
دونوں ہاتھ جوڑے نم ہوتی آنکھوں کو اپنی قمیض کی آستین سے صاف کررہا تھا ۔
تو میں کیا کروں مجھ سے پوچھ کر پیدا کیے ہیں یا میں نے کہا تھا کہ کرکٹ ٹیم کھڑی کرلو ۔۔۔۔۔چبا کر کہتا ہوا ایڑھیوں کے بل گھومتا ہوا اپنا رخ موڑ گیا تھا۔
ارتضی شاہ کبھی نرم نہیں پڑسکتا ۔۔۔۔۔خود سے مخاطب ہوتا ہوا وہ غلام رسول نے نظریں پھیر گیا تھا۔
سائیں آپ جو حکم کریں میں کرنے کو تیار ہوں سائیں مگر نوکری سے نکالیں ۔۔۔۔منت بھرے لہجے میں کہتا ہوا وہ واپس سے ارتضی کے سامنے آکھڑا ہوا تھا ۔
اس مہینے کی تنخواہ بھول جاؤ ابھی کے لیے اتنا کافی ہے باقی حویلی چل کر فیصلہ ہوگا ۔۔۔
مہربانی سائیں سرکار ۔۔۔۔۔بنا غلام رسول کی پکار سنے وہ
کار کی چابی اس کی سمت اچھلتا ہوا کار میں جا بیٹھا تھا ۔
🥀🥀🥀🥀🥀🥀🥀
گلاس ونڈو سے اندر آتی سورج کی کرنوں سے تنگ آکر تکیہ کو منہ پر رکھتی ہوئی وہ کروٹ بدل گئی تھی۔
کیا ہے سورج صاحب نیند خراب کردی آپ نے میری ۔کنفرٹ کو زمین بوس کرتی ہوئی وہ منہ پر رکھے تکیہ کو سائیڈ پر پھینکنے کے انداز سے ڈالتی ہوئی وہ چھلانگ لگاتی ہوئی ونڈو سے سامنے اپنی پوری تاب لیے سورج کو غصے سے دیکھتی ہوئی بولی تھی ۔
جیسے ابھی سورج صاحب اسے جواب دے دیں گے ۔۔۔
ایک نا آپ کی نا سمجھ آنے والی زبان ۔۔۔۔خود جھنجھلاہٹ کا شکار ہوتی وہ لائیٹ پرپل کلر کے کاٹن کے پردے کھینچ گئی تھی ۔۔۔۔۔
اب آکر دکھاؤ اندر سورج صاحب ۔۔۔۔اپنے طرف سے وہ سورج سے بدلا لے گئی تھی۔
پھر سے بیڈ پر دراز ہوتی ہوئی کروٹ بدل بدل کر تھک گئی تھی مگر نیند تھی کہ آہی نہیں رہی تھی۔۔۔
غصے سے پیر پٹختی ہوئی فریش ہونے کی غرض سے واشروم میں گئی تھی ۔
وال کلاک میں ساڑھے بارہ ہوتے دیکھ وہ اپنا سر کھجا کر رہ گئی تھی ۔
آج تو حد ہی ہوگئی ۔۔۔۔ پورے گھر میں نظریں دوڑاتی ہوئی وہ ڈھیلی سی وائیٹ شرٹ کے ساتھ ریڈ ٹراؤزر پہنے رف سے حلیے میں اپنے سنہری بالوں کو کیچر میں مقید کیے کچن سے آتی ہوئی آواز پر کچن کی طرف مڑی تھی ۔
ٹائم دیکھا ہے میری بیٹی نے ۔۔۔
کچن میں داخل ہوتے ہی ریاض کے سوال پر سر ہلا گئی تھی ۔
میں یہاں لنچ کی تیاری کررہا ہوں اور میری صاحبزادی اب نیند سے بیدار ہوکر آرہی ہے ۔۔
شکوہ کن لہجے میں کہتے ہوئے ریاض صاحب اس کے جھکے سر کو دیکھ کر مسکرائے تھے ۔
سوری بابا میں نا آج بریک فاسٹ اور لنچ دونوں ساتھ ہی کروں گی ۔
پلیز آپ ناراض نا ہوں مجھ سے۔
الارم بھی لگایا تھا پر آنکھ نہیں کھلی میری اس سے ۔۔۔
سر کو جھکائے وہ منمنارہی تھی ۔
نماز پڑھی تھی ۔۔۔کچن شلیف سے مصالحہ جات نکال کر رکھتے ہوئے وہ ماہی کو ہمیشہ کی شیف لگ رہے تھے۔
پڑھی تھی نا جب ہی تو آنکھ نہیں کھلی نا بابا ۔۔
ہہہم ۔۔۔۔
ویسے نا بابا آپکو کچن میں دیکھ مجھے ریلائز ہوا کہ آج سنڈے ہے ۔۔
نصیب ہی کھل جاتے ہیں سنڈے پر میرے ۔۔۔
ویسے بابا سنڈے کو ہی کیوں کچن میں آتے ہیں آپ ۔
جبکہ آپ کو تو ہر روز ہی میرے لیے بریک فاسٹ بنانا چاہیے آخر کو میں آپ کی چھوٹی سی پیاری سی بیٹی جو ہوں ۔
سلیپ پر بیٹھتی ہوئی وہ لاڈ سے بول رہی تھی ۔۔
آپ کو یاد دلاتے چلیں کہ ہماری ایک اور بھی بیٹی ہے ۔۔شیلف پر پیاز کو چاپ کرتے ہوئے ریاض صاحب بھی اس کے ہی انداز میں بولے تھے ۔
ہاں نا وہ تو اب پرائی ہوگئی ہیں ۔۔پیچھے بچی میں یعنی آپ کی ماہی ۔۔۔۔۔۔۔
ویسے آپ بنا کیا رہے ہیں بابا ۔نا سمجھی میں ریاض صاحب کو مصروف دیکھ کر وہ سلیپ سے اترتی ہوئی ان کے برابر میں کھڑی ہوئی تھی ۔
وائیٹ کڑائی ۔۔۔
ماہی ذرا سرکا تو پاس کروانا ۔۔مصروف سے انداز میں کہتے ہوئے سلیپ پر رکھے سرکے کی بوتل کی طرف اشارہ کررہے تھے ۔
جبکہ وہ نا سمجھی میں کبھی ریاض صاحب کو دیکھ رہی تھی تو کبھی سلیپ پر رکھی بوتل کو ۔۔۔
میرے پیارے بابا یہ تو پانی ہے اور مجھے سرکہ ،سرکہ کہہ رہے ہیں یہ کون سی بلا ہے ۔۔۔
بوتل کا جائزہ لیتی ہوئی وہ منہ بنا کر بولی تھی ۔
میری پڑھاکو بیٹی یہ “vinegar” ہے اور اسے اردو میں سرکہ کہتے ہیں ۔۔۔۔
اور میری جان آپ پہلے سمیل کرو اسے پھر بولنا یہ یا سرکہ ہے یا پانی ۔۔
بابا اٹس سمیل سو یک ۔۔۔۔۔۔برا سا منہ بناتی ہوئی وہ بوتل کو واپس سے بند کرگئی تھی۔
اور ریاض صاحب اس کی سکڑتی ہوئی چھوٹی سی ناک اور آنکھوں کو زور سے مچے ہوئے دیکھ وہ ماہی کو دیکھ کر مسکرائے تھے۔
پلیز بابا یہ مت ڈالیں اس میں ۔
ماہی کی بات پر بنا دھیان دئیے وہ فقط اپنے کام میں مصروف تھے ۔
ماہی اگر آپکو کہیں جانا ہے تو آپ ابھی لنچ کے بعد ہو آؤں ۔
پھر آپکو اپنی پیکنگ بھی تو کرنی ہو گی نا۔۔
کیوں ۔۔۔۔۔پیکنگ کے نام پر ماہی سانس اٹکی تھی ۔
کیونکہ شام کو ہمیں گاؤں کے لیے نکلنا بھی ہے ۔۔۔
پر کیوں بابا ۔۔۔۔۔۔
سوال کی دوکان ہے ایک تو میری بیٹی ۔۔۔
تمہارے تایا ابو نے بلایا ہے اس لیے اور رہی پیکنگ کی تو ایک دو ہفتے لگ سکتے ہیں وہاں ۔۔
ماہی کو مزید آگاہ کرتے ہوئے ریاض صاحب مسلسل مسکرا رہے تھے ۔
آپکو نہیں لگتا کہ دو ہفتے زیادہ ہیں ۔۔۔۔۔گاؤں کی زندگی سے تو وہ گھبراتی تھی ۔
ایک دن وہاں گزارنا اسے پہاڑ چڑھنے کی طرح مشکل لگتا تھا اور اب تو دو ہفتے کا سن کر ہی اسے چکر آرہے تھے۔
اس سے زیادہ تو لگ سکتے ہیں پر کم نہیں لگ سکتے دن ۔۔
اچھے سے جانتے تھے ماہی کو گاؤں رہنا پسند نہیں تھا مگر اسے گھر پر اکیلے بھی تو وہ چھوڑ کر نہیں جاسکتے تھے ۔
اچھا ۔۔۔۔۔۔ماہی کے لفظ تو مر گئے تھے گاؤں میں اتنے دن رہنے کا سن کر ۔۔
بابا وہ مجھے عبیرہ کے ساتھ شاپنگ پر جانا تھا تو میں اس کے ساتھ چلی جاؤں ۔کچھ توقف کے خود کو ریلکس کرتی ہوئی وہ شاپنگ پر جانے کی اجازت مانگ رہی تھی۔
کیوں نہیں آپ اپنے لیے بھی شاپنگ کرلینا ۔اتنی دیر بعد ماہی کے بولنے پر ریاض صاحب اپنے ساتھ لگا گئے تھے ۔۔۔۔۔
🌹🌹🌹🌹🌹🌹
حیدر بھائی پلیز لے چلیں نا شہر بس تھوڑی دیر کے لیے ۔۔صبح سے کبھی اپنی ماں سے منت کرتی ہوئی وہ تھک گئی تھی ۔
ارتضی بھائی آرہے ہیں پھر بھی ۔۔
جی بھائی بس تھوڑی دیر کے لیے ۔۔۔۔۔
حیدر کو دیکھ کر امید کی چھوٹی سی کرن جگی تھی رائمہ کے دل و دماغ میں ۔
اور ویسا ہی ہوا حساس نرم طبعیت کا مالک حیدر شاہ آج بھی رائمہ کی امید پر پورا کھڑا ہوا تھا ۔
تم تیار ہوجاؤ گڑیا میں ماں کو مناتا ہوں ۔ رائمہ کے مسکراتے چہرے کو دیکھ کر حیدر شاہ کے پروقار چہرے پر بھی مسکراہٹ پھیلی تھی۔
ماں سرکار کچھ دیر کے لیے میں شہر جارہا تھا اگر کوئی کام ہو تو بتا دیں میں آتے ہوئے کرتا آؤ گا۔۔۔عام سے لہجے جال بُنتا ہوا وہ مسلسل مسکرا رہا تھا ۔
ملازماؤں کو کھانے کا مینیو بتاتی ہوئیں وہ حیدر کی طرف دیکھ کر مسکرائی تھیں ۔
حیدی ایک کام کرو اپنے ساتھ رائمہ کو لے جاؤ صبح سے ضد کیے ہوئے ہے شہر جانا ہے شہر جانا ہے ۔مگر تھوڑا جلدی آنا ارتضی آتا ہوگا اور تم دونوں کی غیر موجودگی اسے اچھی نہیں لگے گی نا۔اپنے مخصوص انداز میں بول رہی تھیں ۔
جو حکم ماں سرکار ۔۔سر کو خم کرتا ہوا وہ رائمہ کو جلد آنے کا کہہ کر نکلا تھا ۔
🥀🥀🥀🥀🥀🥀🥀
ایک سے ایک برینڈ ہے کیا لوں اور کیا نا لوں ۔۔۔عیبرہ کے بے صبرے پن پر وہ فقط مسکرا رہی تھی ۔
جو بھی لینا ہے جلدی سے لے لو مجھے دیر ہورہی ہے ۔۔سیل فون میں ٹائم دیکھتی ہوئی ماہی دیر ہونے کی دہائی دے گئی تھی ۔۔
ماہی یہ والا سب سے اچھا ہے میں یہ لوں گی ۔۔۔۔
بھائی یہ والا بہت پیارا ہے ۔۔۔۔
لائیٹ پنک کلر کی شرٹ پر عبیرہ کے ساتھ ایک اور ہاتھ نے بھی اس ہی ڈریس پر ہاتھ رکھا تھا۔۔۔۔
رائمہ تم دیکھو مجھے ضروری کام آن پڑا ہے میں تمہیں تھوڑی میں یہاں سے ہی پک کرتا ہوں ڈرنا نہیں اوکے ۔۔۔۔
ہاتھ ہٹاؤ یہ ڈریس میں نے پسند کیا ہے ۔رائمہ کے ہاتھ کو دور کرتی ہوئی عبیرہ کو ماہین کی سخت گھوری سے بھی کوئی فرق نہیں پڑا تھا ۔
ٹھیک ہے آپ لے لیں میں کوئی اور دیکھ لوں گی ۔۔۔۔رائمہ کے فورا سے پیچھے ہونے پر جہاں عبیرہ خوش ہوئی تھی وہیں ماہین کو اس معصوم سی لڑکی ٹوٹ کر پیار آیا تھا۔۔
میں مدد کروں آپ کی ڈریس سلیکٹ کرنے میں ۔۔ایک قدم رائمہ کی طرف بڑھتی ہوئی ماہین رکی تھی پیچھے سے آتے لڑکے کو دیکھ کر ۔
او میری معصوم گائے یہاں اکیلی کیا کر رہی ہو ۔آؤ میرے ساتھ ۔اس کا استحق سے ہاتھ پکڑ کر آگے بڑھتا ہوا وہ
فکر مندی سے پوچھتا حیران ہوا تھا رائمہ کو مال میں اکیلے دیکھ کر ۔
ان دونوں کو جاتے دیکھ ماہین واپس سے عبیرہ کی طرف متوجہ ہوئی تھی ۔
غلام رسول یہاں کے سب سے بڑے مال چلو ۔۔ایک نیا حکم صادر کرتا ہوا وہ سیل فون میں آئی رائمہ لسٹ میں اضافہ دیکھ کر مسکرایا تھا ۔
وہاج ہاتھ چھوڑیں میرا حیدر بھائی نے دیکھ لیا تو بہت غلط ہوجائے ۔منمنا کر بولتی ہوئی وہ اردگرد کے لوگوں میں حیدر کو ڈھونڈ رہی تھی ۔
خونخوار نظروں سے وہاج کے ہاتھ میں رائمہ کے ہاتھ کو دیکھ کر ارتضی شاہ کا خون خول اٹھا تھا ۔
بررفتاری سے ان دونوں کا پیچھا کرتا ہوا ارتضی شاہ اپنا ضبط کھو رہا تھا ۔
رائمہ معصوم جو حیدر کے ڈر سے گھبرا رہی تھی اسے کیا خبر تھی کہ اس کے سر پر حیدر نہیں ارتضی شاہ کا قہر برسانا تھا۔
اوکے بابا چھوڑ دیتا ہوں ہاتھ تمہارا تم میں یہاں پر رکو میں ہمارے آئسکریم لے کر آتا ہوں۔مسکرا کر کہتا وہاج تو وہاں سے چلا گیا تھا یا شاید اس کی قسمت آج اس کے ساتھ وفا کرگئی تھی
یہاں کیا کرنے آئی ہو تم ۔جب منع کیا گیا تھا کہ تم گھر سے باہر قدم بھی نہیں رکھوں گی ۔
تو کیا کرنے آئی ہو یہاں پر۔ایک زور دار تھپڑ اس نازک صنف کے گال پر جڑتا وہ طیش میں دھاڑا تھا ۔
یہ ایک شاپنگ مال کا منظر تھا جہاں وہ آس پاس سے گزرتے ہوئے لوگوں کو فراموش کیے بس کھا جانے والی نظروں سے اپنے سامنے کھڑی نازک صف لڑکی کو دیکھ رہا تھا۔
جوایک ہاتھ گال پر رکھے نم آنکھوں میں وحشت لیے سامنے کھڑے شخص کو دیکھ رہی تھی ۔
سنیں ۔۔۔۔پیچھے سے آتی معصوم آواز پر وہ نا چاہتے ہوئے بھی وہ مڑا تھا ۔
یہ آپ کی کیا لگتی ہیں ۔خود کو گھورتے اس شخص سے اسے ڈر کے ساتھ کوفت ہوئی تھی ۔
مگر ڈر کو ایک ہی پل میں ہوا میں اڑاتی ہوئی ہمیشہ کی طرح آج بھی دوسروں کے معاملات کو اپنا سمجھتی ہوئی بیچ میں کودی تھی۔
بہن ہے میری آپ کو کوئی پروبلم ہے۔دانتوں کو دباتا ہوا وہ ضبط سے بولا تھا ۔
یہ اور بات تھی کہ مقابل کھڑی دوشیزہ کے سامنے ضبط رکھنا ایک مشکل امر تھا ۔
اور یہ شاپنگ مال ہے آپ کا گھر نہیں ہے ۔ اس لیے مجھے پروبلم ہوئی ہے ۔
دوسری بات بھائی ہیں تو بھائی بنے ،جلاد یا کسائی نا بنے ۔
بھائی عزت کا رکھوالا ہوتا ہے ناکہ سرِ بازار عزت نیلام کرنے والا ۔
پہلے اپنی بہن کو عزت دینا سیکھیں ،اگر کوئی بات بری لگی ہے تو گھر پر ہینڈل کریں نا کہ پبلک پلیس میں ۔
برائے مہربانی نا یہاں تماشہ کریں اور نا ہی اپنا تماشہ بناوائیں ۔
شکریہ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
بنا بریک کے چلتی ہوئی زبان کے ساتھ تقریر جھاوہ وکٹری کا نشان اپنی دوست کی سمت کرتی ہوئی مڑی تھی۔
جب پیچھے سے اپنی نازک کلائی پر مضبوط گرفت محسوس کرتی وہ گھبرائی تھی۔
کہاں جارہی ہیں متحرمہ مجھے عزت ،شرم و تمیز کا لیکچر دے کر ۔
ایک ایک لفظ پر زور دیتا ہوا وہ اس کے برابر میں کھڑا ہوتا ہوا وہ کھوئے ہوئے انداز میں بول رہا تھا ۔
ہاتھ چھوڑیں میرا ۔ مقابل کی مضبوط گرفت کی وجہ سے وہ درد سے منمنائی تھی۔
ہاتھ پکڑ چھوڑا نہیں جاتا ۔ مقابل اپنے جتاتے ہوئے انداز کے ساتھ اسے بہت کچھ باور کروانا کا ارادہ رکھتا تھا ۔
بکواس بند کرو اپنی اور ہاتھ چھوڑو میرا ۔اب کی بار وہ مقابل کے انداز سے وہ لرز اٹھی تھی ۔
کیونکہ اس جلاد کی بہت جلد عزت بننے والی ہیں آپ ۔اس کے کان میں سرگوشی کرتا ہوا وہ اپنے پیچھے کھڑی بہن کا ہاتھ پکڑتا ہوا اپنی دلفریب مسکراہٹ اس کے ساکت وجود کی طرف اچھالتا ہوا اس پری پیکر کے معصوم چہرے کو اپنے دل اور ذہن میں حفظ کرتا ہوا۔
اسے حیران چھوڑ مال سے نکلا تھا ۔
یہ رائمہ کہاں گئی کہا بھی یہاں پر ہی کھڑی رہنا مجال ہے جو میری کبھی سن لے ۔آئسکریم کے دونوں کپوں کو افسردگی سے دیکھتا ہوا بد مزہ ہوا تھا ۔
ارتضی نام کے آئے طوفان سے بے خبر وہ آئسکریم کو ہی دیکھ رہا تھا ۔
کیا کہہ رہا تھا وہ تمہارے کان۔۔
بکواس کر رہا تھا منحوس جلاد انسان ۔۔۔۔۔۔عبیرہ کے پوچھنے پر غصے سے کہتی ہوئی خود بھی مال سے نکل رہی تھی کہ سامنے سے آتے ہوئے حیدر شاہ سے بری ٹکرائی تھی ۔۔
دیکھ کر نہیں چل سکتے اندھے نا ہو تو ۔غصے سے بولتی ہوئی بنا حیدر شاہ کے شاکڈ چہرے کو دیکھے وہاں چلی گئی تھی ۔
اندھے نا ہو تو ۔ماہین کی نقل اتارتا ہوا مسکرایا تھا ۔
انشاءاللہ اگلی قسط ایک دن بعد ۔۔۔۔۔۔
لیں جی آپ لوگوں کے بےحد اصرار پر ایپسوڈ دیا ہے ورنہ میں نے عید پر ہی دینا تھا۔
اب اپنی اچھی اچھی رائے دے کر مجھے بھی خوش کردیں کیونکہ آپ کے لائک اور مجھے حوصلہ دیتے ہیں مزید اچھا لکھنے کا ۔۔۔۔
شکریہ۔۔۔۔۔۔
