No Download Link
Rate this Novel
Episode 15
مجھے آپ سے سب ایک بات کرنی ہے ۔۔پلیز سائیڈ پر آجائیں ۔۔ارتضی شاہ کے سب کو اچانک سے سب کو ایک ساتھ بلانے پر حیران ہوتے ہوئے رائمہ اور حیا کے علاوہ سب ارتضی کے پیچھے گھر کے اندر گئے تھے ۔
ارتضی بھائی کیا بات کرنے والے ہیں سب سے تمہیں کچھ اندازہ ہے ،بلیک کلر کے خوبصورت مگر سمپل سی ڈریس میں اپنے ساتھ کھڑی رائمہ سے حیا نے تجسس سے پوچھا تھا ۔
پتا نہیں آئے بھی بھائی ہم سے دیر سے ہی تھے اور پتہ نہیں آتے ہی کیا دماغ میں چل گیا ہے ۔۔سامنے سے آتے وہاج اور اس کے ساتھ صائمہ انصاری اور وہاں انصاری کو آتے دیکھ وہ نظریں چرا گئی تھی ۔
جو وہاج نے بخوبی محسوس کیا تھا ۔
یا اللہ خیر ۔آپ کی پھوپھو یہاں کیا کر رہی ہیں وہ بھی اپنی فیملی کے ساتھ ۔حیا حیران ہونے کے ساتھ پریشان ہوئی تھی انہیں دیکھ کر ۔
ارتضی بھائی نے بلایا ہے انہیں بھی ۔۔چاہ کر بھی رائمہ وہاج کو دیکھ کر خوش نا ہوسکی تھی ۔
دور سے سب کو یکجا سلام کرتی ہوئی وہ وہاں سے گئی تھی جبکہ حیا ان سے ملتی ہوئی مسکرانے کی اداکاری کررہی تھی ۔۔۔۔۔۔
سوری میں نے آپ سب لوگوں کو اس طرح اچانک سے اپنے ساتھ اندر آنے کو کہا مگر بات ہی کچھ ایسی تھی ۔
سر جھکائے وہ سب کی نظریں خود پر محسوس کرتا ہوا مسکرایا تھا ۔
ایسی کیا بات ہے ارتضی ۔۔ریاض صاحب پریشان ہوئے تھے۔
ہاں ارتضی بے فکر ہوکر بولو کیا بات ہے ۔اتنی سنجیدہ حالت میں سئچویشن میں بھی دلاور شاہ کے لبوں پر مسکراہٹ رینگی تھی ۔
ایسی بھی کوئی بڑی بات نہیں ہے ۔ریاض انکل آپ سے ایک اجازت چاہیے ۔۔۔دو قدم کے فاصلے ہر کھڑے ریاض صاحب کے ہاتھ تھامتا ہوا کسی بھی تاثرات سے پاک چہرہ لیے ساتھ کھڑے حمدان صاحب کو دیکھ کر بولنا شروع ہوا تھا ۔
میں منگنی نہیں کرنا چاہتا ۔۔۔۔ارتضی کی بات پر جسے کوئی آسمان ٹوٹ کر ان کے سر پر گرا ہو ۔
ہمارے خاندان میں ماہین،اور ارتضی کی منگنی کی خبر پھیل گئی تھی اور اس سب میں ارتضی کا انکار ان کے دماغ کو سن کرگئے تھے۔
یہ کیا کہہ رہے ہو ارتضی ہوش میں تو ہو ۔۔۔شاہدہ بیگم بھڑک اٹھی تھیں ۔
میں ہوش میں ہی ہوں ۔ریاض صاحب کے ٹھنڈے پڑتے ہاتھوں کو مضبوطی سے پکڑ گیا تھا ۔
حمدان صاحب اپنے بھائی کے ساکت وجودکو دیکھ کر غصے سے سائیڈ ہر کھڑی شاکرہ بیگم کو دیکھ رہے تھی ۔
آپا ۔۔شاکرہ بیگم کی آواز میں کرب محسوس کرتا ہوا وہ ساکت وجود لیے ریاض صاحب کی طرف متوجہ ہوا تھا ۔
مجھے منگنی نہیں کرنی آپ کی بیٹی سے بلکہ ڈائریکٹ نکاح کرنا ہے کروادیں گے ۔ارتضی کے الفاظ ان کے بے جان ہوتے وجود میں سکون کی لہر دوڑا گئے تھے ۔
ڈرا ہی دیا ارتضی تم ۔سب سے زیادہ پرسکون ہونے والی شاکرہ بیگم تھیں جنہیں حمدان صاحب کے قہر سے بچنے کی سب سے زیادہ خوشی ہوئی تھی ۔
بتائیں ۔۔۔۔نکاح کروائے گے میرا آج اس ہی وقت اپنی بیٹی سے ۔۔۔ارتضی کے پوچھنے کے انداز پر وہ نم آنکھوں سے مثبت میں سر ہلاگئے تھے ۔
تو بس پھر مولوی صاحب کا انتظام کروائیں ۔۔۔مسرور کن لہجے میں کہتا ہوا وہ شاہدہ بیگم کی خفگی بھری نظروں کو دیکھ کر مسکرایا تھا ۔
ارتضی مجھے تم سے بات کرنی ہے ۔۔سب کے جانے کے بعد دلاور شاہ کی آواز پر وہ جاتا ہوا رکا تھا ۔
نکاح کرنے سے پہلے مجھے ایک وعدہ دیتے جاؤ ۔۔۔
کیسا وعدہ بابا سرکار ۔دلاور شاہ کے روبرو کھڑا ہوتا ہوا وہ حیران ہوا تھا ۔
وعدہ دو پہلے ۔۔۔ارتضی کے سامنے ہاتھ پھیلاتے ہوئے وہ الگ ہی انداز میں بول رہے تھے ۔
یہ بھی کوئی انکار کرنے والی بات ہے دیا وعدہ آپ کو ۔۔دلاور شاہ کے ہاتھ پر ہاتھ رکھتا ہوا وہ مسکرا رہا تھا ۔
دلاور شاہ کے کہے الفاظوں سے اس کی دلفریب مسکراہٹ اگلے ہی پل سمٹی تھی ۔
ارتصی کو ہاتھ پیچھے کرتے دیکھ وہ اپنی پکڑ مضبوط تر کر گئے تھے ۔
یہ صحیح نہیں ہے ۔وہ ضبط سے بولا تھا ۔
کیا صحیح ہے کیا غلط ہے یہ چھوڑو ۔تم وعدہ دے چکے ہو مجھے ۔۔۔۔ضبط سے سرخ ہوتی آنکھیں لیے وہ اپنے ہاتھ کو پیچھے کرگیا تھا ۔
ارتضی شاہ ۔۔۔اپنا وعدہ نبھانا ۔۔۔تمخسرانہ انداز میں کہتے ہوئے وہ قہقہ لگا گئے تھے ۔
ٹھیک ہے میں اپنا وعدہ نبھاؤں گا پر میری ایک شرط ہے ایک ہفتے بعد ہر حال میں شادی کروانی ہوگی آپ کو ۔۔
کیسے بھی کریں اب یہ آپ کے ہاتھ میں ہے ۔پھر آپ میں آپ کو دیا ہوا وعدہ بہت جلد پورا کرکے دیکھاؤں گا ۔ضبط کے آخری مرحلے پر کھڑا وہ اپنے بابا سرکار کے آج دوغلے پن کو دیکھ کر شاکڈ تھا ۔۔
بس اتنی سی ڈیمانڈ ۔۔۔ہوجائے گی پوری ۔۔۔ دلاور شاہ کو بنا دیکھے وہ وہاں سے گیا تھا ۔۔
کیا ہوا ہے آپی اور یہ سب کیا ہے ۔۔۔نرجس کے ہاتھ میں سرخ رنگ کا ڈوپٹہ اور جیولری بکس دیکھ کر وہ حیران ہوئی تھی ۔
کچھ نہیں بس تم یہ جلدی سے پہن لو بنا چوچرا کیے ۔۔ماہین کو جیولری پہناتی ہوئی وہ پریشان ہورہی تھی ۔
کیا ہوا ہے آپی اور یہ آپ مجھے اتنی جیولری کیوں پہنا رہی ہیں ۔
ایگجمنٹ کے لحاظ سے بہت ہیوی ہے یہ جیولری بلکہ میں یہ سب پہن کر آدھی دلہن لگ رہی ہوں ۔۔۔میرر میں ابھرتے اپنے عکس کو دیکھ جھرجھری لے گئی تھی ۔
آدھی دلہن تو لگو گی ہی نکاح جارہا ہے تمہارا ۔۔یہ اب اپنے چہرہ بھی ڈھانپ لو ۔۔۔مولوی صاحب آتے ہی ہونگے ۔۔سرخ رنگ کے کام دار ڈوپٹے سے ماہین کا چہرہ ڈھانپ گئی تھی ۔۔
پر آپی آج تو منگنی ہے تو مولوی کیوں آرہے ہیں ۔نا سمجھی میں گھونگھٹ سے چہرہ باہر نکال کر پوچھتی ہوئی وہ چونکی تھی ۔
میرے بہنوئی اور تمہارے ہونے والے شوہر سے صبر نہیں ہورہا یا شاید ڈر لگ رہا ہے انہیں کہیں تم منگنی نا توڑ دو اس لیے نکاح میں باندھ رہے ہیں تمہیں ۔۔اپنے شک کو عام سے انداز میں ماہین پر ظاہر کرتی ہوئی اچانک ہوئے فیصلے پر اب تک شاکڈ تھی۔۔
ابھی کوئی اپنے ماں باپ کا بہادر بیٹا پیدا نہیں ہوا جو ماہین ریاض بخاری کو باندھ سکے ۔۔اپنے ڈر کو دبائے وہ مضبوط لہجے میں بولی تھی ۔۔
آپی بابا کو بلوادیں ۔۔مولوی صاحب کو دیکھ وہ کانپ اٹھی تھی ۔
ٹھنڈے پڑتے وجود کے ساتھ وہ ریاض صاحب کے ہاتھ کو مضبوطی سے پکڑ کر بیٹھی ہوئی تھی ۔
آپی ایسا لگ رہا ہے جیسے میری سننے سمجھنے کی ساری صلاحیت کھو گئی ہو ،عجیب سی گھبراہٹ ہور ہی ہے دل کر رہا ہے یہاں سے کہیں دور بھاگ جاؤں ۔۔
ایسے نہیں کہتے بس ریلکس کرو ۔۔۔ماہین کے سرد پڑتے ہاتھوں کو اپنی ہاتھوں میں لیے نرجس اس کی گھبراہٹ اچھے سے جانتی تھی ۔
تین بار مولوی صاحب کے ارتضی شاہ کا نام پکارنے پر بھی وہنوز روتی ہوئی مثبت میں گردن ہلا کر منظوری دے گئی تھی ۔
اپنے خدا اور اس کے رسول( صہ) کو حاضر ناظر رکھتی ہوئی اس نئے رشتے کو دل و جان سے قبول کرگئی تھی ۔۔
بیٹا بولو ۔۔۔۔
قبول ہے ۔۔۔قبول ہے۔۔۔۔قبول ہے ۔۔ہچکیوں کے ساتھ بولتی ہوئی وہ ریاض صاحب کے سینے سے ایسے لگ گئی تھی جیسے اسے اور اس کے بابا کو سب مل کر دور کردیں گے ۔۔
کچھ توقف کے بعد وہ ماہین ریاض بخاری سے ماہین ارتضی شاہ بن گئی تھی ۔۔
وہیں ارتضی شاہ بڑے شاہانہ انداز میں نکاح نامہ پر سائن کرتا ہوا حیدر کی کمی کو دل سے محسوس کرتا ہوا افسردہ ہوا تھا ۔
ریاض صاحب لے ساتھ بغل گیر ہوتا ہوا اپنے لبوں پر مسکراہٹ سجائے سوائے دلاور شاہ کے سب سے مبارکباد وصول کرتا ہوا خود کو دنیا بھر پر خوش قسمت انسان سمجھ کر مسکرا رہا تھا ۔
کچھ توقف کے بعد ماہین کو اسٹیج پر لے جانے کے لیے کہا گیا تھا ۔
آپی اب انگیجمٹ نہیں ہوگی میری ۔۔۔ماہین کی انڑی پر سرخ گلاب کی پتیاں ڈالتی ہوئی لڑکیاں ماہین کی بلند آواز میں پوچھے گئے سوال پر کھلکھلائیں تھیں ۔
وہیں نرجس نے اسے سخت گھوری سے نوازا تھا ۔
آپ تو مجھ سے بھی زیادہ پرجوش ہورہی ہیں ماہین آپی ۔حیا کی سرگوشی پر وہ خود پر ہنسی تھی ۔
نکاح ہوگیا ہے مگر تمہارے شوہر کا دل نہیں بھر رہا نکاح کروا کر ہی جائے گا ۔عبیرہ شرارت سے بڑبڑائی تھی ۔۔
سامنے اسٹیج کی صورت میں بنائی گئی جگہ جس پر ارتضی اور ماہین کے ساتھ بیٹھنے کا انتظام کیا گیا تھا ۔
گارڈن کی ڈیکوریشن کسی میرج ہال کی طرح کی گئی تھی ۔
اسٹیج پر بیٹھے ارتضی کی نظر سامنے سے کسی بات پر مسکرا کر آتی ہوئی ماہین پڑی تھی جو ایک ایک قدم بڑھا کر آتی ہوئی اس کے قریب تر آگئی تھی ۔
اسے آتے دیکھ وہ اپنا چہرہ کبھی ہاتھ سے چھپانے کی کوشش کررہا تھا تو کبھی رخ موڑ کر ۔۔لب دبائے وہ ماہین کو اپنے عین سامنے رکتے دیکھ شاہدہ بیگم کی آواز پر متوجہ ہوا تھا ۔
شاہ ہاتھ دو ماہین کو ۔ارتصی کے کندھے پر ہاتھ رکھتی ہوئیں وہ مسکرا کر بولی تھیں ۔
ماہین کو آج پورے استحقاق سے دیکھتا ہوا وہ زندگی سے بھرپور مسکرایا تھا ۔
نرجس کے ڈانٹنے پر بلآخر وہ شرمائی تھی اور اب حال یہ تھا کہ اسے اپنی نگاہ اٹھانے میں حد سے زیادہ شرم آرہی تھی ۔
بھابھی بہت پیاری لگ رہی ہیں ماں سرکار ۔۔رائمہ کی تعریف پر ماہین کو دیکھ کر وہ سرشار ہوا تھا۔
میرا عشق ہو ۔۔۔۔
تیری ذات ہو ۔۔۔۔۔
پھر حسن عشق کی بات ہو ۔۔۔
کبھی میں ملوں ۔۔۔۔۔
کبھی تو ملے۔۔۔۔
کبھی ہم ملیں ملاقات ہو ۔۔
کبھی تو چپ ہو ۔۔۔۔
کبھی میں ہوں چپ ۔۔۔۔
کبھی ہم دونوں چپ چاپ ہوں ۔۔۔۔
کبھی گفتگو ۔۔۔۔۔۔
کبھی تذکرے ۔۔۔۔
کوئی ذکر ہو ۔۔۔۔۔
کوئی بات ہو ۔۔۔۔۔
کبھی حجر ہو دن کو ہو ۔۔۔۔
کبھی وصل ہو تو وہ رات ہو ۔۔۔
کبھی میں تیرا کبھی تو میری ۔۔۔۔
کبھی آپ دوجے کے ہم رہیں ۔۔۔۔
کبھی ساتھ میں ۔۔۔۔
کبھی ساتھ تو ۔۔۔۔۔
کبھی آپ ڈوبے کے ساتھ ہوں ۔۔۔۔۔
کبھی صعوبتیں ۔۔۔
کبھی رنجیشیش ۔۔۔۔
کبھی دوریاں ۔۔۔۔
کبھی قربتیں ۔۔۔۔
کبھی الفتیں ۔۔۔۔
کبھی نفرتیں۔۔۔۔۔۔
کبھی جیت ہو۔۔۔۔۔
کبھی ہار ہو ۔۔۔۔۔
کبھی پھول ہو ۔۔۔
کبھی دھول ہو ۔۔۔۔
کبھی یاد ہو ۔۔۔
کبھی بھول ہو ۔۔۔۔۔
نا نشیب ہوں ۔۔۔۔
نا اداس ہوں ۔۔۔۔۔۔
صرف تیرا عشق ہو ۔۔۔
میری ذات ہو ۔۔۔۔۔۔۔۔
ہاتھ دیجئے اپنا ۔اپنے سامنے بڑھائے گئے ہاتھ اور شناسائی آواز پر اسے عجیب سا احساس ہوا تھا ۔
ماہین کا ہاتھ ارتضی کے ہاتھ پر رکھتی ہوئی حیا نے مسکرا کر پیچھے ہوئی تھی ۔
ارتضی اب ماہین تمہاری ذمہ داری ہے ۔۔شناسائی آواز پھر ارتضی نام سن کر ماہین کی نگاہ اچانک اپنے سامنے کھڑے مسکراتے ہوئے ارتضی کو دیکھ کر ساکت ہوئیں تھیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ماہین کے ساکت چہرے کو دیکھ جھٹکے سے اسے اوپر کی طرف کھینچ کر اسے اسٹیج پر چڑھا گیا تھا ۔
ارتضی کو اپنے محرم کے روپ پر میں دیکھ کر ہی اس اوسان خطا ہوگئے تھے ۔
مسسز ماہین ارتضی شاہ ۔۔۔ارتضی کی گھمبیر سرگوشی سے اپنا دم گھٹتا ہوا محسوس کررہی تھی ۔
ارتضی کے مسکراتے چہرے کو لمبے لمبے سانس بھرتی ہوئی اپنے چکراتے سر کو پکڑ کر بے ہوش ہوئی تھی ۔
ماہین کے بے ہوشی سے لڑکھراتے وجود کو اپنے مضبوط ہاتھوں میں فورا سے تھام گیا تھا ۔۔
بس اتنا حوصلہ ماہین شاہ ۔۔تمخسرانہ انداز میں ماہین کو دیکھ کر وہ فقط سوچ ہی سکا ۔۔۔۔
جاری ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
