Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 2

سنو ۔۔۔۔۔۔۔پورے مال میں رائمہ کو ڈھونڈنے کے بعد پریشان ہوتا حیدر شای پارکنگ ایریا میں آیا تھا جہاں اپنے کے ساتھ آئے ڈرائیور کو آواز لگاتا ہوا اس کے پاس آیا تھا ۔
جی سائین سرکار ۔۔۔۔۔۔۔
عاجزی سے سر کو جھکائے وہ حیدر شاہ کے حکم کا منتظر تھا ۔
چھوٹی بی بی کو دیکھا ہے یہاں سے جاتے ہوئے ۔۔۔۔۔دونوں ہاتھ کمر پر رکھتا ہوا وہ مزید پریشان ہوا تھا ۔۔۔۔
جی سرکار سائیں ۔۔۔وہ بڑے سائین سرکار کو انہیں اپنے ساتھ لے کر جاتے ہوئے دیکھا ہے میں نے ۔۔۔۔
ارتضی بھائی ۔۔۔۔۔۔
جی سائیں سرکار ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔کچھ وقت کے ملازم بھی حیران ہوا ارتضی شاہ کے پیچھے رائمہ کو جاتے دیکھ کر ۔۔
گاڑی نکالوں سائین سرکار حکم ہوتو ۔۔۔۔۔
ہہمہم۔۔۔۔نکالوں۔۔۔۔۔۔بھائی یہاں پر مگر کیسے ۔۔۔۔۔۔۔ارتضی کی اچانک مال میں آنے کی خبر اسے پریشان کرگئی تھی۔
🥀🥀🥀🥀🥀🥀🥀
ایک گھنٹے کی مسلسل مسافت طے کرتے ہوئے ارتضی شاہ کے ذہن چلتی ہوئی سوچیں ختم ہونے کا نام ہی نہیں لے رہی تھیں ۔۔
کبھی اس پری پیکر کا خیال اسے مسکرانے پر اکساتا تو کبھی وہاج کے ہاتھ میں رائمہ کا ہاتھ یاد کرکے وہ ضبط سے دونوں مٹھیاں بھیچ جاتا ۔۔۔۔۔
گاڑی کے شیشے سے باہر دیکھتا ہوا وہ رائمہ کی آواز پر متوجہ ہوا تھا
ب۔۔۔۔بھ۔۔۔۔۔۔بھا۔۔۔۔۔بھائی۔۔۔۔۔۔۔۔ ارتضی اور اپنے بیچ کے فاصلے کو پار کرتی ہوئی سمی اپنے بھائی کے قریب ہوبیٹھی تھی ۔
رائمہ کے آنسوؤں سے بھیگے چہرے سے ارتضی شاہ نظریں چرارہا تھا ۔۔۔
جس سمی سے اس نے آج تک اونچی آواز میں بات تک نہکی تھی آج وہ اس پر ہاتھ اٹھا گیا تھا ۔۔۔
یہ سوچ سوچ کر الگ اس کے دماغ کر رگیں پھٹنے کو ہورہی تھی ۔۔۔۔
بڑے ہی ضبط کے ساتھ رائمہ کے پکارنے پر ارتضی شاہ کی سرد خاموشی ٹوٹی تھی ۔۔
کیا کرنے آئی تھی تم اس بےغیرت انسان کے ساتھ ۔۔۔
بھاگنے کی تیاری تھی اس کے ساتھ ٹھیک ویسے ہی جیسے پھپھو نے ابا سائیں اور بابا سرکار کی غرت کو خاک تر کرکے اپنے عاشق کو فوقیت دی تھی۔
ویسے ہی تم بھی اس بغیرت کے ساتھ مل ہمیں بھی پورے خاندان میں رسوا و ذلیل کرنا چاہتی ہو ۔۔۔
سرد لہجے میں پوچھتا ہوا وہ دبے دبے انداز میں ڈھاڑا تھا۔۔۔۔
ن۔۔۔نہ۔۔۔۔۔۔۔نہی۔۔۔۔۔نہیں بھ۔۔۔۔۔۔۔ائی۔۔۔۔۔۔۔نفی میں گردن ہلاتی وہ ارتضی کی سرخ آنکھوں سے خوفزدہ ہوئی تھی۔
اگر ایسا ہے تو یہ تمہاری اور اس بے غیرت کی بہت بڑی بھول ہے کہ تم دونوں ارتضی شاہ کی آنکھوں میں دھول جھونکنے میں کبھی کامیاب ہوسکوں گے ۔۔۔۔احساس سے عاری لہجے میں کہتا ہوا تمخسرانہ انداز میں مسکرایا تھا ۔۔
آج تو وہ بے غیرت بچ گیا اس لڑکی کی وجہ سے لیکن کب تک وہ ارتضی شاہ سے بچ پائے گا ۔۔۔۔۔۔۔اس لڑکی کو سوچتا ہوا وہ پچھتایا تھا وہاج کے بچ جانے پر ۔۔۔۔
اگر ارتضی شاہ اپنی بہن کی خاطر کسی کی جان لے سکتا ہے تو بھی یاد رکھنا رائمہ شاہ ،،،،،کہ ارتضی شاہ اپنی عزت کی خاطر اپنی اس ہی بہن کی جان لیتے ہوئے ذرا نہیں کترائے گا ۔۔۔۔۔لہجے میں حد درجہ سنجیدگی لیے وہ اس وقت وہاج کے خون کا پیاسا ہو بیٹھا تھا ۔
بھ۔۔۔۔بھا۔۔۔بھائی ۔۔۔۔آپ ۔۔۔۔۔۔غلط ۔۔۔۔۔۔سمجھ۔۔۔۔۔۔۔ رہے۔۔۔۔۔۔۔ ہیں ۔۔۔۔۔۔۔میں۔۔۔۔۔۔۔حیدر۔۔۔۔۔۔۔۔بھائی۔۔۔۔۔۔ساتھ ۔۔۔۔۔۔۔ماں ۔۔۔۔سے۔۔۔۔۔۔ اجازت۔۔۔۔۔ لے۔۔۔۔۔ کر۔۔۔۔۔۔ آئی۔۔۔۔۔تھی ۔۔۔۔
می۔۔۔۔میں ۔۔۔۔۔وہاج۔۔۔۔۔کے۔۔۔ساتھ ۔۔۔۔۔۔نہیں ۔۔۔۔ آئی۔۔۔۔ تھی۔۔۔۔۔ بمشکل خود کے آنسوؤں پر ضبط کرتی ہوئی وہ اٹک اٹک کر بول رہی تھی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اچھا تو کہاں ہے مجھے تو کہیں نہیں دیکھا ۔۔۔۔۔۔رائمہ کے حد درجہ رونے کی وجہ سرخ ہوتے چہرے کی رخ کرتا ہوا وہ واپس سے اپنی نظر پھیر گیا تھا۔۔۔۔
بھائی میں سچ کہہ رہی ہو ۔۔۔۔۔جس بہن کی آنکھوں میں ایک آنسو بھی برداشت نا کرنے والا ارتضی شاہ آج خود اس کے آنسوؤں کی وجہ بنا ہوا تھا۔
چلو مان لیا کہ تم حیدر کے ساتھ آئی تھی ۔۔۔اپنے آنسوؤں صاف کرو ۔۔۔۔۔۔۔ لہجے میں فکر سموئے وہ پہلے سے نرم پڑا تھا رائمہ کے آنسوؤں سے ۔۔۔۔۔
سچ میں بھائی آپ کو یقین ہے نا اپنی سمی پر ۔۔۔۔۔۔آنسوؤں صاف کرتی وہ ارتضی کے کندھے پر سر رکھ گئی تھی ۔۔
اگر سمی مجھے ذرا بھی بھنک پڑی نا کہ تم نے مجھ سے جھوٹ بولا ہے تو خدا کی قسم میں وہ کر گزروں گا جو شاید تصور میں بھی سوچ نہیں سکتا ۔۔۔۔۔۔رائمہ کے بالوں کو سہلاتا ہوا وہ ابھی کشمکش کا شکار تھا ۔۔۔۔۔
🥀🥀🥀🥀🥀🥀🥀
میری معصومیت پر نا جانا۔۔۔
میرے دوکھے میں ہرگز نا آنا ۔۔۔۔۔
لوٹ لیتی ہوں میں مسکرا کر ،،،،
میرے حسن سےحساس لڑکوں اللہ بچائے ۔۔۔۔۔۔
اپنی دھن میں گنگناتی ہوئی وہ گھومتی ٹیبل پر رکھے واز سے ٹکرائی تھی۔۔۔
اففففففففففف۔۔۔۔۔۔یا اللہ پھر سے ۔۔۔۔۔۔امو نے تو آج جان ہی لے لینی ہے تیری حیا آخر کو تو ان کے پیرس سے لائے ہوئے واز کا قتل جو کردیا ہے ۔۔۔۔۔وہ واز جو کچھ دیر پہلے لیونگ روم میں سجا ہوا اپنی خوش قسمتی پر ناز کررہا تھا ۔۔
مگر حیا کو ذرا دیر نا لگی تھی اسے زمین بوس کرنے میں وہ بھی کرچی کرچی کردینے میں ۔۔۔
پھر سے کچھ توڑ دیا کیا حیا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
لیونگ روم سے کچھ ٹوٹنے کی آواز پر جلدی سے اندر آتی ہوئی شاکرہ بیگم کے لب سل گئے تھے اپنے دل عزیز واز کو زمین بوس دیکھ کر ۔
امو۔۔۔۔۔وہ نا ۔۔۔۔۔۔۔۔شاکرہ بیگم کے تنے ہوئے تاثرات کا جائزہ لیتی ہوئی سختی سے آنکھیں میچ گئی تھی۔
کب سدھرو ۔۔۔۔۔حیا کی بے دھیانی کی وجہآئے دن کچھ نا کچھ نقصان ہوتا تھا اور آج جب شاکرہ بیگم پورے گھر اپنی نگرانی میں صفائی کرواتی ہوئیں تھک سی گئی تھی ۔
حیا کو لیونگ روم کی طرف جاتے دیکھ سکون کا سانس بھی نا لے سکیں تھیں کہ واز گرنے کی آواز پر بھاگتی ہوئی وہاں آئیں تھیں جہاں ان پسندیدہ واز اپنی قسمت پر ماتم کررہا تھا ۔
جب سدھارنے والا مان جائے گا ۔۔۔۔۔۔
کیا کہا تم نے۔۔۔۔۔۔منہ ہی منہ بڑبڑاتی ہوئی وہ شاکرہ بیگم کی بلند آواز پر سہمی تھی۔
مما میں آپ کی اکلوتی اولاد ہوں اور آپ کا یہ لہجہ مجھے ہمیشہ یہ احساس دلاتا ہے جیسے میں آپ کی سگی اولاد نہیں ہوں ۔۔۔۔۔۔
جیسے کہ کسی کوڑے دان سے مجھے اٹھایا ہو۔۔۔۔۔آنکھوں میں مضنوئی آنسوؤں لیے وہ پوری کی پوری معصومیت کی مثال بنی ہوئی تھی ۔
بس یہ ہی ڈرامے لگانے آتے ہیں یا پھر یہ توڑ پھوڑ ۔۔۔۔۔
حیا یہ آنکھیں اللہ نے ہمیں دیکھنے کے لیے ہی دی ہیں نا تو ان استعمال بھی کیا کروں ۔۔۔
اب یہاں کی ساری صفائی اب تم کروں گی بنا کسی ملازمہ کی مدد کے ۔۔۔۔حیا کی معصومیت و ڈرامے آڑے نا لاتے ہوئیں وہ تاسف سے گردن ہلا کر رہے گئی تھیں حیا کی بات کی پر۔
آپ مجھ سے ذرا پیار نہیں کرتی آپ سے تو اچھے بابا ہیں وہ کرتے مجھ سے پیار ۔۔۔۔۔
مس اوور ایکٹنگ کی دوکان یہ ساری اداکاری آپ اپنے بابا کے سامنے کیا کریں میرے سامنے مت کیا کریں خومخواہ اپنی انرجی ویسٹ کرتی ہیں ۔۔۔
چلو شاباش کام پر لگو شام میں ریاض بھائی اور ماہین آرہے ہیں مجھے اور بھی بہت کام ہیں۔
سچ میں ماہین آپی بھی آرہی ہیں ۔۔وہ بھی گاؤں ۔۔۔۔۔
حکم صادر کرتی ہوئی وہ جانے کے لیے مڑی تھیں کہ حیا کی حیرت زدہ آواز پر واپس سے اس کی طرف مڑی تھیں ۔
ہاں ۔۔۔۔۔۔۔اب چلو تم یہ کام کرو ۔۔۔
امو یار یہ مجھ سے نہیں ہوا یہ خود مجھ سے ٹکرا گیا اور پھر یہ خود ہی ٹوٹ گیا ۔۔۔۔۔۔
میں نے کچھ نہیں کیا ۔۔۔خود کو بری الزامہ قرار کرتی ہوئی وہ شاکرہ بیگم کا ہاتھ پکڑ کر منمنائی تھی ۔
یہ بے چیزیں کب چلنے پھرنے لگ گئیں ۔اپنے ہاتھ کو حیا سے چھوڑواتی ہوئیں اپنی مسکراہٹ ضبط کرگئیں تھیں ۔
پلیز ارتضی بھائی آرہے ہیں بلکہ پہنچ ہی گئے ہونگے اور پھر خالہ جان بھی ناراض ہوجائیں گی مجھ سے اگر میں نا گئی تو۔۔
اور آپا کیوں ناراض ہونے لگی تم سے ۔۔۔
ایک اور سوال شاکرہ بیگم کی طرف سے سن کر حیا اپنی کی تفتیش پر کلسی تھی۔
یہ ابھی نہیں بتا سکتی امو جب وقت آئے گا نا خود پتا چل جائے گا آپکو ۔۔
اچھا اب جارہی ہوں جلدی جاؤں گی تو جلدی آؤ گی نا ۔۔ امو کی پیشانی پر لب رکھتی ہوئی وہ منظر سے غائب ہوئی تھی۔۔۔
🥀🥀🥀🥀🥀🥀🥀
سب بدل سکتا ہے سارے نظام بدل سکتے ہیں مگر اس گاؤں کی سڑکیں نہیں بدل سکتی ۔۔۔جگہ جگہ سے ٹوٹی ہوئی سڑکوں پر مہارت سے ڈرائیونگ کرتا ہوا غلام رسول ارتضی شاہ کے غصے سے غرالانے پر مزید دھیان سے ڈرائیو کرتا ہلکان ہورہا تھا ۔
پہلے ہی ارتضی شاہ کے غصے کا خمیازہ بھگتنا رہتا تھا اگر اب کوئی کوتاہی برتنا اس کے لیے خطرے سے خالی نا تھا۔
وہ دیکھو تم سے اچھی تو ڈرائیونگ وہ کررہا ہے ۔اپنی گاڑی سے آگے جاتی گاڑی کو دیکھ کر ارتضی کا خون خولہ تھا۔
بھائی آپ غصہ نا ہوں ویسے پہنچ ہی گئے ہیں ہم ۔۔۔ارتضی کے بے وجہ غصے پر رائمہ مسکرائی تھی ۔
رائمہ کے بولنے پر ارتضی خاموش ہو بیٹھا تھااور اس کی خاموشی غلام رسول کو پرسکون کرگئی تھی ۔
یا اللہ تیرا شکر ہے ۔۔۔حویلی کے اندر گاڑی روکتا ہوا غلام رسول بلکل پرسکون ہوا تھا ۔۔۔۔۔
کوئی حال نہیں ہے یہاں کے ۔۔۔اس سے بہتر لندن ہے ۔۔۔۔دل میں سوچتا ہوا وہ کار ڈور پر غصہ نکال گیا تھا ۔
رائمہ آپی ۔۔۔۔۔۔لائن بنائے بھاگ کر آتے ہوئے چھ سے سات بچوں کو دیکھ کر ارتضی کو حیرت ہوئی تھی رائمہ کو ان کے آپی پکارنے پر۔۔۔
یہ کون سی اور کس کی کرکٹ ٹیم ہے ۔۔رائمہ کی ٹانگوں چمگادڑ کی چیپکے ہوئے رنگ برنگے نین نقوش کے بچوں کو دیکھ کر ارتضی کو کوفت ہوئی تھی۔
غلام رسول کے بچے ہیں بھائی ۔۔۔۔۔مسکرا کر جواب دیتی ہوئی وہ واپس سے بچوں کی طرف متوجہ ہوئی تھی۔
یہ وہ ہی بھائی ہیں جو آنے والا تھا وہ باہر سے۔۔۔۔غلام رسول کا سب بڑا بیٹا رحیم ارتضی کو دیکھ کر چہکا تھا ۔
رحیم کے پوچھنے پر رائمہ نے مثبت میں گردن ہلائی ہی تھی
کہ وہ اور بھاگتا ہوا ارتضی کی ٹانگ سے لپیٹ گیا تھا خود لپیٹنے کے بعد سب کو اپنے پاس بلاتا ہوا مسکرایا تھا ۔
اپنے اوپر ہوئی اچانک بچوں کی بم باری پر اپنے ہاتھوں کو اوپر کرتا ہوا طیش میں آگیا تھا۔
پیچھے۔۔۔، پیچھے ۔۔۔دور رہو ۔خود سے چمٹے بچوں کو خود سے دور نا ہوتے دیکھ وہ ضبط کے آخری مرحلے پر کھڑا بلند آواز میں دھاڑا تھا۔
غلام رسول ۔۔۔۔۔۔۔۔۔غلام رسول۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
جی سائین سرکار ۔۔۔۔۔۔بھاگ کر آتا ہوا غلام رسول گھبرایا تھا۔
ارتضی کی دھاڑ پر پوری حویلی میں گونج اٹھی تھی ۔۔
سائین ارتضی آگیا ۔۔۔۔نم آنکھوں سے مسکراتی ہوئیں شاہدہ بیگم دلاور شاہ کو دیکھ کر بولی تھیں ۔
جبکہ حویلی میں ملازمین کانپ اٹھے تھے ارتضی شاہ کی دھاڑ پر۔۔۔
اپنے بچوں کو مجھ دور کرو ابھی اسی وقت ۔۔۔۔دانت دبا کر بولتے ہوئے ارتضی کی حالت پر رائمہ مسکرائی تھی ۔
جانتی تھی کہ ارتضی کو ہمیشہ سے ہی بچوں سے کوفت محسوس ہوتی تھی ۔
بھائی بچے تو ہیں ۔۔۔مزہ لیتی ہوئی وہ خود کو بولنے سے باز نارکھ سکی تھی۔
بچے ہیں یہ ۔۔ چبا کر بولا تھا۔
مسکراتے ہوئے بچوں کو دیکھ کر اسے وہ اپنا مذاق اڑاتے ہوئے نظر آئے تھے۔
بچوں کے دور ہوتے ہی وہ برق رفتاری سے حویلی کے اندر گیا تھا۔۔
غلام رسول برا مت منانا بھائی تھکے ہوئے ہیں اس لیے اس تھوڑے روڈلی بی ہیو کر رہے تھے ۔۔
ورنہ بہت نرم و حساس طبیعت کے مالک ہیں ۔۔۔۔۔
جی بی بی ۔۔غلام رسول کے اترے ہوئے چہرے کو دیکھتی ہوئی رائمہ مسکرا کر وہاں سے واک آؤٹ کر گئی تھی۔
ان سائیں سرکار سے دور رہنا ۔۔۔۔۔اپنے بچوں کو سمجھاتا ہوا غلام رسول سرونٹ کوارٹر کی طرف بڑھا تھا۔۔۔
🥀🥀🥀🥀🥀🥀🥀
اس لیے نہیں پسند نہیں کرتی میں یہاں آنا ۔۔۔۔کتنی گندی جگہ جگہ شہید ہوئی سڑکیں ہیں ۔۔۔۔۔۔۔
برا سا منہ بنا کر وہ اپنی بھڑاس نکالتی ہوئی بولی تھی ۔
کون سا میری جان ہر روز آنا ہوتا ہے ہمارا ۔۔
وہ تو حمدان بھائی نے بڑے مان سے بلایا تو میں منع نہیں کرسکا میری جان اور ویسے بھی کسی چیز کی کمی نہیں ہے وہاں ہر چیز کی سہولت موجود ہے آپ اچھے سے جانتی ہیں ۔۔۔
اور حیا بھی تو ہے آپ کو انٹرٹین کرنے کے لیے ۔۔۔ریاض صاحب کی بات پر حیا کو سوچتی ہوئی ماہین کھلکھلا اٹھی تھی ۔
بس ایسے ہی ہنستی رہا کرو بابا کی جان ۔۔۔۔ماہین کے سر بوسہ دیتے ریاض صاحب اسے اس طرح ہنستے دیکھ خود بھی مسکرائے تھے ۔
🥀🥀🥀🥀🥀🥀🥀
گئی تم حیدر کے ساتھ تھی اور آئی ارتضی کے ساتھ ۔۔ویسے حیدر کیوں نہیں آیا تم دونوں کے ساتھ۔۔۔
شاہدہ بیگم کے منہ سے حیدر کا رائمہ کے ساتھ جانے کا سن کر ارتضی پرسکون ہوگیا تھا ۔
کام تھا اسے اس لیے ۔۔مسکرا کر بات سنبھالتا ہوا وہ رائمہ کو خاموش رہنے کا اشارہ کرگیا تھا۔
بہت کمزور ہوگیا ہے میرا بیٹا سائین ۔۔۔۔۔۔۔ہر ماں کے ڈائیلاگ کو بولتی ہوئیں شاہدہ بیگم ارتضی کو ہنسنے پر مجبور کرگئی تھیں۔۔۔
کیا ماں سرکار میرے آتے ہی آپ کی شکایتیں شروع ہوگئیں بابا سرکار سے ۔۔۔۔۔
ہاں تو خومخواہ میرے بیٹے کو لندن بھیج کر کمزور کردیا ہے ۔۔
سن لیں بابا سرکار ۔۔۔۔ارتضی کو اتنے عرصے بعد روبرو ہنستے مسکراتے دیکھ شاہدہ بیگم نم آنکھوں سے مسکراتی ہوئی رائمہ کو دیکھ رہی تھیں ۔
سائین سرکار پانی ۔۔۔۔۔۔آدھے سے زیادہ چہرے کو ڈوپٹہ میں چھپائے ہاتھ میں پانی کا گلاس تھامے کھڑی تقریبا سولہ سال کی ملازمہ کو آنکھوں میں حیرت لیے دیکھتا ہوا وہ رخ موڑ گیا تھا۔۔۔۔
ماں سرکار میں نہیں پی رہا پانی اسے جانے کا کہہ دیں ۔۔۔۔
اچھے سے ہاتھ سینٹائز کیے ہیں اس نے وہ بھی میری نگرانی میں لے لو۔۔۔۔
ارتضی کی عادت سے وہ اچھی طرح واقف تھیں ۔
نفاست پسند ارتضی شاہ کبھی بھی ملازماؤں کے ہاتھوں کھانا پسند نہیں کرتا تھا جب ہی فورا سے پہلے بولیں تھیں ۔
جاؤں تم مجھے نہیں ہے اس کی ضرورت ۔۔۔نہایت عاجزی سے بولتا ہوا وہ اس ملازمہ سے کترایا تھا۔۔۔
تم جاؤ میں آتی ہوں اپنے نفاست بیٹے کے لیے پانی لینے کے لیے۔۔ارتضی کے جھکے سر کو مسکرا کر دیکھتی ہوئیں وہ کچن کی سمت بڑھی تھیں ۔۔۔
چار سال لندن میں رہ کر اور بگڑ گئے ہو تم ارتضی ۔۔دولار شاہ کی بات پر ارتضی سر کھجا کر رہ گیا تھا ۔
بابا سرکار یہ بچے کب سے حویلی میں کام کرنے لگ گئے ہیں ۔۔۔سنجیدگی سے پوچھتا ہوا پھر سے اس بچی کے بارے میں سوچ رہا تھا ۔
اپنی مرضی سے ایک آدھ کام کرتی ہے تمہیں دیکھنے کے لیے صبح سے ضد کررہی تھی تو میں نے کہہ دیا تھا پانی لانے کے لیے ۔۔۔
یہ لو پانی ۔۔۔۔۔
پانی کا گلاس ارتضی کی سمت بڑھاتی ہوئی شاہدہ بیگم صبح کی ہوئی بات کا حوالہ دیتیں ہوئی مسکرائیں تھیں کہ اچانک سے کچھ گرنے کی آواز سن کر کانوں پر ہاتھ رکھ گئیں تھیں ۔۔
کیا ہوا یہ کس چیز کے گرنے کی آواز ہے۔
ماں سرکار تباہی آگئی ہے شاہ حویلی میں ۔۔۔۔۔۔۔حیدر شاہ کی ہانک پر ناسمجھی سے ماں سرکار کو دیکھتا ہوا ارتضی شاہ حیران ہوا تھا۔
جاری ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔