Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 19

کب عقل آئے گی تمہیں اذہان ۔انجیکشن کے دینے کے بعد اذہان کو پرسکون ہوتے دیکھ اس کے بالوں میں انگلیاں چلاتے ہوئے ارتضی نے فکرمندانہ انداز میں استفسار کیا تھا ۔
جب کے وہ ارتضی کی بات پر مبہم سا مسکرایا تھا ۔
ہو تم سترہ سال کے اور یہ ضد اتنی بڑی ،اذہان کی ناک کو دباتا ہوا وہ چار سال پہلے والے اذہان کو سوچ کر افسردہ ہوا تھا ۔
کیوں ڈاکٹر صاحب آپ کے گھٹنے ٹیکوادیے نا اس لڑکے نے ۔اپنے الگ انداز بیان میں وہ ارتضی کو اپنی جان سے زیادہ عزیز لگا تھا ۔
جی ڈاکٹر صاحب کے پیشنٹ صاحب ۔میں بہت ڈر گیا تھا ۔اگر ری ایکشن زیادہ بڑھ جاتا تو تمہاری جان بھی جا سکتی تھی ۔چھت پر نگاہ ٹکائے اذہان کو دیکھ کر اس کی آنکھیں نم ہوئی تھیں ۔
اذہان وعدہ کرو اپنے ڈاکٹر صاحب سے دوبارہ ایسی ضد نہیں کرو ۔۔بجائے کسی جواب کے وہ فقط شرارت سے مسکرایا تھا ۔
میں آپ کو وعدہ دینے کو تیار ہوں پہلے آپ بھی مجھے ایک وعدہ دیں ۔پلکیں جھپکتا ہوا وہ ارتضی کے اپنے قریب رکھے ہاتھ کو محسوس کرتا ہوا ان پر ہاتھ رکھ کر بولا تھا ۔
کیسا وعدہ ۔اس کے ہاتھ پر دباؤ دیتا ہوا ارتضی اس کے منہ سے وعدہ کا سن کر حیران ہوا تھا ۔
میری سرجری آپ کریں ورنہ میں کسی اور ڈاکٹر سے ٹریٹمنٹ نہیں کرواؤں گا ۔ضدی لہجے میں کہتا ہوا وہ بضد ہوکر ارتضی کا سہارا لے کر بیٹھ گیا تھا ۔
یہ جانتے ہوئے تم جس حال میں ہو میری وجہ سے ہو پھر بھی ۔اذہان کی ضد ہمیشہ ہی اسے تکلیف پہنچاتی تھی ۔
میں یہ بھی تو جانتا ہوں اس حادثے کے بعد مجھے دو بابا مل گئے ہیں ۔
ایک بابا وہ جنہیں اپنی شہرت عزیز رہی اور دوسرا وہ جو ہر وقت میری فکر میں رہتا ہے خود کو قصور وار مان کر ۔ارتضی کا ہاتھ اب بھی اس کی گرفت میں تھا۔
مجھے تو اندھیرے بہت پسند ہیں ۔کھوکھلی ہنسی ہنستا ہوا وہ ارتضی کو حوصلہ دینے کی غرض سے بول رہا تھا ۔
اس میں کوئی شک نہیں تم سچ میں میرے بیٹے جیسے ہو اذہان ۔
اور میں ایک ہونے کی وجہ سے تمہیں تکلیف میں نہیں دیکھ سکتا ۔
یہ میں اچھے سے جانتا ہوں اذہان جو کچھ بھی ہوا اس میں خدا کی مصلحت تھی لیکن اگر میں احتیاط کرتا تو شاید آج تم نابینا نہ ہوتے ۔
آنکھیں ہونے کے باوجود تم دنیا کی خوبصورتی دیکھنے سے محتاج نا رہتے ۔اب کی بار ارتضی کی آنکھیں نم ہوئی تھیں ۔
میں محتاج نہیں ہوں ڈاکٹر صاحب اور آپ کے رہتے ہوئے تو بلکل بھی نہیں ۔پر اعتمادی سے کہتا ہوا ارتضی کے چہرے کو اپنے ہاتھوں میں لیے بولا تھا ۔
آپ وعدہ دیں اور آپ میری سرجری کریں نا ۔اذہان کے پوچھنے پر وہ کرب سے آنکھیں میچ گیا تھا ۔
آپ جلدی سے وعدہ دیں پھر میری جلدی سے سرجری کریں تاکہ میں آپ کی ماہین اور اپنی نیو مما کو دیکھ سکوں ۔
پھر میں آپ دونوں کے ساتھ آپ لوگوں کے ہنی مون پر بھی تو جاؤں گا ۔
آپ مسکرا رہے ہیں نا ۔شرارت سے کہتا ہوا وہ ارتضی کے مسکراہٹ سے پھیلے ہوئے لبوں کو چھو کر محسوس کرتا ہوا چہکا تھا ۔
وعدہ ۔اذہان کے دونوں ہاتھوں کو تھماتا وہ ان پر لب ر کھ کر وعدہ کرچکا تھا جسے اسے ہر حال میں پورا کرنا تھا اذہان کی خاطر ۔
ویسے ایک بات بتائیں ڈاکٹر صاحب ۔
جی پوچھیں پیشنٹ صاحب ،اس کے ہی انداز میں تجسس سے پوچھ رہا تھا ۔
یہ جو ڈاکٹر ہیر ہیں کیسی دکھتی ہیں مطلب خوبصورت ہیں ۔کسی کے قدموں کی چھاپ محسوس کرتا ہوا وہ سرگوشی میں پوچھ رہا تھا ۔
کیوں ۔ بھنویں سکیڑ کر ارتضی نے اسے گھورا تھا جس کے چہرے پر شرارت کا نام و نشان تک نہیں تھا۔
آپ دیکھ سکتے ہیں نا اس لیے آپ سے پوچھ رہا ہوں اگر خوبصورت ہیں تو میں ان سے انجکشن لے لوں گا ورنہ ۔ڈور کھولنے کی آواز پر وہ اپنی بات ادھوری چھوڑ خاموش ہو بیٹھا تھا ۔
جبکہ ارتضی اندر آتی ہیر کو دیکھ کر اذہان کو خاموش ہوتے دیکھ حیران ہوا تھا ۔
اب تو سامنے ہی ہیں وہ آپ کے اب تو بتا دیں دیکھ کر ،پھر سے سرگوشی کرتا ہوا وہ بضد ہوا تھا ۔
پوچھ کر بتاؤں ان سے ،ویسے تمہیں کیسے پتہ کہ ڈاکٹر ہیر آئی ہیں ۔حیرانگی سے اذہان سے پوچھتا ہوا وہ اذہان کو لب دباتے دیکھ مسکرایا تھا۔
چار سال کا تجربہ ہے ڈاکٹر صاحب قدموں کی چھاپ سن کر پہچان جاتا ہوں اور مجھے تو یہ بھی پتا ہے اس وقت وہ آپ کو دیکھ رہی ہیں ۔رازدانہ انداز اپناتا ہوا وہ اپنی آبرو ریس کرتا ہوا بول رہا تھا ۔
ارتضی حیران ہوا تھا ہیر کو مسکراتے ہوئے دیکھ خود کی طرف متوجہ پاکر ارتضی کی مسکراہٹ سمٹ گئی تھی۔
کیوں لگا نا جھٹکا ڈاکٹر صاحب اب زیادہ غور سے دیکھنے کی ضرورت نہیں ہے ڈاکٹر ہیر کو ورنہ ماہین کے ساتھ بےوفائی کہلائے گی ۔بڑے بوڑھوں کی طرح بولتا ہوا وہ لب دبائے مسکرا رہا تھا ۔
ڈاکٹر ہیر یہ اذہان کی میڈیکل فائل ہے اس میں سب ڈیٹیل ہے اذہان کو کس چیز سے الرجی ہے اور کونسی میڈیسن اسے ری ایکٹ کرتی ہے ۔
اچھے پڑھ لیجئے گا جب تک میں شادی سے فری نہیں ہوجاتا ہوں جب تک اذہان آپ کی تمام تر ذمہ داری آپ کے حوالے ہے ۔اپنے مخصوص انداز میں ہیر کو فائل پکڑاتا ہوا وہ اذہان کو دیکھ کر افسردہ ہوا تھا ۔
چار سال میں پہلی بار اذہان سے اتنے دن دور رہنے کا سوچ کر ہی وہ اداس ہوا تھا ۔
جائیں جائیں ڈاکٹر صاحب اچھے سے شادی کریں پر انہیں مطلب میری نیو مما کو مجھ سے ملوانے ضرور لائیے گا ۔
ضرور میرے بچے ۔سنجیدہ کھڑی ہیر پر نظر ڈالتا ہوا وہ وہاں چلا گیا تھا ۔
ارتضی کو جاتے دیکھ اذہان کی طرف بڑھی تھی ۔
کب سے ساتھ ہو ڈاکٹر ارتضی کے ۔نارمل انداز میں پوچھتی ہوئی وہ مسکرائی تھی ۔
چار سال سے ۔عام سا انداز جواب دیتا ہوا وہ آنکھیں بند کرگیا تھا ۔
بہت اچھے سے جانتے ہو ڈاکٹر ارتضی کو ۔نجانے وہ اس کیا پوچھنا چاہ رہی تھی ۔
ڈاکٹر صاحب پہلی کی مانند ہیں کوئی سمجھ نہیں سکتا انہیں اور میں تو بلکل بھی نہیں ۔اپنی اندھیرزدہ آنکھیں بند کیے وہ اسے کچھ بھی بتانے سے انکاری تھا ۔
تمہاری سرجری ڈاکٹر ارتضی سے ایسی کون سی کوتاہی ہوگئی تھی جس کی وجہ انہوں نے ہسپتال سے ریزائن کردیا تھا۔اذہان کی طرف سے کوئی بھی جواب نا پاکر وہ
اپنا سا منہ لیے خاموشی سے اذہان کی رپورٹ فائل پڑھنے لگی تھی ۔


بڑی ملاقاتیں ہورہی ہیں ۔خاموش بیٹھی ماہین کو چھیڑنے کی غرض سے حیا بولی تھی ۔
ماہین جو سب سے ڈانٹ کھانے کے بعد اپنے روم میں خاموشی سے آکر بیٹھ گئی تھی ۔
شاہ حویلی سے آتے ہی اسے ماہین کے گھر آنے کی خبر ملی تھی۔
مارے تجسس کے ماہین کے روم میں آتی ہوئی حیا مسکرا رہی تھی ۔
ملاقات کرنے نہیں گئی تھی مگر اچانک سے ملاقات ہوگئی ۔ماہین کے جواب کی اسے ذرا امید نہیں تھی ۔
اچھا پھر کیا بات ہوئی آپ دونوں کی ۔بیڈ پر بیٹھتی ہوئی وہ پرجوش ہوئی تھی ۔
یہ باتیں چھوڑو شاپنگ پر کب چلنے کا ارادہ ہے ۔سہولت وہ بات بدل گئی تھی ۔
کل صبح ۔ماہین کی پیشانی پر لگے چھوٹے سے نشان کو دیکھ کر وہ نظریں جھکا گئی تھی ۔
حیا ۔اسے اس طرح خاموش دیکھ ماہین نے اسے پکارا تھا۔
آپ بتانا نہیں چاہتی تو میں فورس نہیں کروں گی آپ کو ۔مضنوئی مسکراہٹ سجائے وہ ماہین کی نم ہوتی آنکھوں کو دیکھ کر پریشان ہوئی تھی ۔
آپ رو کیوں رہی ہیں ۔
تم سے دور ہوجاؤں گی نا کچھ دنوں میں اس لیے ۔ماہین کی زانوں پر سر رکھتی ہوئی حیا کی پلکیں بھی نم ہوئی تھی ۔
پہلی بات یہ دوری کچھ مہینوں کی ہے کیونکہ میں آپ کی دیورانی بن کر آپ کے پاس آجاؤں گی ۔
اور دوسری بات ارتضی بھائی کےہوتے ہوئے کسی کو بھی یاد کرنے کی آپ کو ضرورت ہی نہیں پڑے گی ان کی شخصیت میں سحر ہی اتنا ہے۔
اوپر سے ہیں بھی بہت کیئرنگ آپ کو اداس دیکھ ہی نہیں سکے گے اور بس پھر آپ کو اپنے آپ میں مصروف رکھے گے ۔
پوری دنیا سے غافل کرکے رکھ دیں گے ۔حیا کو خاموشی سے سن رہی تھی ۔
یہ تو میں نے بتایا ہی نہیں احرار بھائی نہیں آپائیں گے شادی میں ۔
جب ہی تو نرجس آپی اداس اداس پھر رہی ہیں ۔ ماہین کا اس بات پر بھی کوئی ری ایکشن نا پاکر وہ سیدھی ہو بیٹھی تھی ۔
کیا ہوا ہے ۔گم سم بیٹھی ہوئی ماہین کو دیکھ کر اسے اکتاہٹ محسوس ہوئی تھی ۔
کچھ نہیں ۔حیا مجھے آرام کرنا ہے پھر بات کروں گی تم سے ۔کشن پر سر رکھ کر لیٹتی ہوئی وہ آنکھیں بند کرگئی تھی ۔
ماہین کو دیکھ کر اس کے برابر میں خود بھی لیٹتی ہوئی خود پر ماہین کی نظریں جمی دیکھ ڈھٹائی سے مسکرائی تھی ۔
اسے اس طرح مسکراتے دیکھ اپنی آنکھیں واپس سے بند کرگئی تھی ۔


اپنی مرمت کرواؤں گا تھوڑا
یوں ہوش میں آؤں گا تھوڑا
ذہن دل پہ نقش کر گئی وہ دوشیزہ
آنکھوں کا علاج کرواؤں گا تھوڑا
محمار یار دھڑکن بھی اچھے سے دیکھ لے
روح کو تفصیل سے دیکھاؤں گا تھوڑا
جب سے وہ آیا تھا اپنے کمرے میں بند تھا ۔بلآخر اپنے دکھتے سر کو پکڑے شاور کی غرض سے وہ باتھروم میں بند ہوا تھا۔
ایک گھنٹے سے مسلسل سے شاور لینے کے بعد وہ کہیں جاکر تھوڑا پرسکون ہوا تھا ۔اپنی سیاہ سرخ آنکھوں کو دیکھ کر وہ پھیکا سا مسکرایا تھا ۔
حیدر شاہ کمزور نہیں ہے اور نا ہی کبھی کمزور پڑ سکتا ہے ۔بالوں کو سیٹ کرتا ہوا گرے کلر کے سوٹ پہنے عام روٹین کی طرح تیار ہوا تھا ۔
ڈور ناب پر ہاتھ رکھے وہ حوصلہ جمع کرتا ہوا کمرے سے باہر نکلتا ہوا سیدھا کچن کی سمت مڑا تھا ۔جہاں پر شاہدہ بیگم کے ساتھ رائمہ وہیں پر موجود تھیں ۔
میرے لیے تو کبھی بھی کچھ نہیں بناتی آپ اور دیکھیں ارتضی بھائی کے ساتھ آج آپ حیدر بھائی کے لیے بھی ان کی پسند کا کھانا بنا رہی ہیں ۔رائمہ کے افسردہ سے چہرے کو دیکھ کر وہ کچن میں داخل ہوا تھا ۔
یہ بات تو بلکل درست کی ہے رائمہ نے ۔۔آپ اسے سچ بتا دیں نا۔۔خود کو نارمل ظاہر کرنے کی خاطر وہ بیچ میں کوشش تھا۔
وہیں حیدر کی بات پر رائمہ کی بھنویں سکڑی تھیں ۔
نہیں حیدی ہم سچ نہیں بتا سکتے اسے ۔۔۔بیچاری کا چھوٹا سا دل ٹوٹ جائے گی ۔ایک آنکھ دبائے ارتضی نے شرارت سے بھرپور لہجے کے ساتھ دونوں کو خاموش رہنے کا اشارہ بہت گیا تھا ۔
شاہدہ بیگم مسکرائیں تھیں ۔جانتی تھی اب رائمہ کی خیر نہیں تھی ۔
کون سا سچ بھائی ۔رائمہ کی آواز کسی کنویں سے آتی ہوئی محسوس ہوئی تھی ۔
بتائیں نا ۔۔ ارتضی اور حیدر کو خاموش دیکھ وہ اسرار کر رہی تھی ۔
اب تم اتنا فورس کر ہی رہی ہو تو سن لو لیکن پلیز رونا مت ورنہ ہم انہیں کونسا منہ دیکھائے گے ۔لہجے میں افسردگی لیے حیدر نے ارتضی کی طرف دیکھ کر خاموش ہوا تھا ۔
کسے کونسا منہ دیکھانے کی بات کر رہے ہیں ۔۔وہ اب کی بار منمنائی تھی ۔
اب وقت آگیا ہے سمی تمہیں سب سچ بتانے کا ۔کب تک تم سے چھپائے رکھ سکتے ہیں اب تو تم سمجھدار ہوچکی ہو اپنے فیصلے خود سے لے سکتی ہو ۔ٹھہرے ہوئے لہجے میں وہ سنجیدگی سے بول رہا تھا ۔
حیدر اور شاہدہ بیگم ارتضی کے اتنی سنجیدگی سے کہانی کہتے دیکھ حیران ہوئے تھے۔
ماں کون سے سچ کی بات کررہے ہیں ارتضی بھائی ۔نم آنکھیں لیے وہ ارتضی اور حیدر کی باتوں سے گھبرائی تھی ۔
ارتضی کی بات پر اس وقت کوئی بھی آنکھیں بند کرکے یقین کرلیتا اگر حیدر اور شاہدہ بیگم اس کے ساتھ شامل نا ہوتے تو ۔
رائمہ یہ سچ تو شاہ اور حیدر ہی تمہیں بتائیں گے ۔۔اتنے عرصے بعد ارتضی کو شرارت کرتے دیکھ شاہدہ بیگم خاموش ہی رہی تھیں ۔
یہ ہی کہ تمہارا اور ہمارا کوئی رشتہ نہیں ہے تم ہماری بہن نہیں ہو سمی اور نا ہی بابا اور ماں سرکار کی اولاد ہو ۔۔۔رائمہ کے ساکت چہرے کو دیکھ حیدر کی ہنسی چھوٹ رہی تھی مگر خود پر ضبط کرتا رخ پھیر گیا تھا ۔جبکہ شاہدہ بیگم ارتضی کو خاموش ہونے کا اشارہ کررہی تھی مگر اس پر تو آج شرارت سوار تھی ۔
کیا مطلب ۔بھرائی آواز میں ارتضی سے پوچھتی ہوئی اپنے سامنے سر جھکائے کھڑی شاہدہ بیگم کو دیکھ کر رونے کو تیار تھی ۔
میں اور حیدر چھوٹے تھے جب بابا تمہیں حویلی لائے تھے ۔
اس دن بہت بارش ہورہی تھی مانو طوفان آیا ہو ۔
اور ہمیں بتایا تھا بابا سرکار نے کہ تم انہیں کسی درخت کے نیچے روتی ہوئیں ملی تھیں ۔۔رائمہ کی غیر ہوتی حالت دیکھ ارتضی لب دبا گیا تھا ۔
میں سچ میں آپ لوگوں کی بہن نہیں اور آپ کی بیٹی نہیں ہوں ۔آنسو بہاتی ہوئی وہ ارتضی کی بات پر یقین کرگئی تھی ۔
ممی۔۔می۔میں ۔اس حویلی کی بیٹی نہیں ہوں ۔۔رائمہ کے رونے میں روانگی آگئی تھی جسے دیکھ ارتضی کے ہاتھ پیر پھولے تھے ۔
سمی ۔۔۔۔میری بات سنو ۔حیدر اور شاہدہ کی گھوری خود پر محسوس کرتا ہوا وہ رائمہ کی سمت بڑھا تھا ۔
نہیں میں نہیں ہوں آپ کی سمی ۔پتا نہیں میں کون ہوں۔رائمہ کو حد درجہ اپنی باتیں سنجیدہ لیتے دیکھ ارتضی اسے خود سے لگا گیا تھا۔
اب جو بھی ہو تم اب تو ہماری بہن ہو نا تم۔رائمہ ے سر پر ہاتھ رکھے وہ اب بھی باز نہیں آیا تھا ۔
بھائی صحیح کہہ رہے ہیں رائمہ اب تو تم ہماری بہن ہو ۔حیدر نے بھی حصہ لیا تھا۔
رائمہ اپنے آنسوؤں سے ارتضی کی شرٹ گیلی کرگئی تھی ۔
مذاق کررہا تھا سمی ۔تم تو ہماری جان ہماری چھوٹی سی بہن ہو ۔رائمہ کے بالوں میں ہاتھ چلاتا ہوا وہ سنجیدگی سے بولا تھا ۔
بس اتنا سا دل ہے رائمہ ہم تو مذاق کررہے تھے یار ۔ہچیکیوں سے روتی ہوئی رائمہ کو دیکھ حیدر بھی اس کے قریب آیا تھا ۔
ایسا ہوتا ہے مذاق ۔ارتضی کے ساتھ لگی وہ ناراضگی سے بولی تھی ۔
ہاں نا ایسے ہی ہوتے ہیں مذاق ۔ حیدر کا موڈ کافی بہتر ہوگیا تھا ۔
جب تم ماں سرکار سے ایسے شکوے کرو گی تو ہم ایسے ہی مذاق کرے گے نا ۔رائمہ کو خود سے الگ کرتا ہوا ارتضی اس کے آنسو صاف کررہا تھا ۔شاہدہ بیگم خاموش کھڑی تینوں کو دیکھ کر مسکرا رہی تھیں ۔
میں آپ کی بہن ہوں نا ۔ارتضی اور حیدر کا ہاتھ تھام کر اس نے یقین دہانی چاہی تھی ۔
میری پیاری چڑیل جیسی بہن تم ہماری ہی بہن ہو ۔
بھائی ۔۔۔حیدر کے چڑہانے پر وہ چلائی تھی ۔
رائمہ اور حیدر کو خود سے لگائے ارتضی مسکرایا تھا ۔
مبارک ہو بھائی ۔رائمہ کے سائیڈ ہوتے ہی حیدر پھر سے ارتضی سے بغلگیر ہوتا مسکرایا تھا ۔حیدر کی مبارک باد پر وہ مبہم سامسکرایا ۔
یہ تمہاری آنکھوں کو کیا ہوا ۔حیدر کی سرخ آنکھوں پر غور کرتا ہوا وہ فکر مندی سے پوچھ رہا تھا ۔
کچھ نہیں بھائی تھکان کی وجہ سے سر میں درد ہورہا ہے اس ہی وجہ سے ۔ انگوٹھے اور انگلی کے پور سے آنکھوں پر دباؤ دیتا ہوا وہ ارتضی کے سامنے کنفیوز ہوا تھا ۔
آنکھوں پر دباؤ دینے سے سر درد ختم نہیں ہوگا ۔وہ ٹوک گیا تھا ۔
جی بھائی ۔حیدر کی بات پر اسے یقین تو نہیں آیا تھا مگر اسے سچ بتانے پر وہ فورس بھی نہیں کر سکتا تھا ۔
ماں سرکار حویلی کے اس کمرے کی بھی صفائی کروادیجئے گا ۔ حیدر پر اچٹکی سی نظر ڈالتا ہوا وہاں سے گیا تھا ۔