Hasil E Zeest By Mehwish Ghafoor Readelle50217 Last Episode Part 1
No Download Link
Rate this Novel
Last Episode Part 1
تم سے میں بعد میں بات کروں گا نوری ۔اپنے سامنے ساکت کھڑی نوری کی سائیڈ سے گزرتا ہوا وہاج کے مقابل آن کھڑا ہوا تھا ۔
تمہیں میں بزدل سمجھتا آیا تھا مگر تم تو ایک سفاک انسان نکلے ۔وہاج کو گریبان سے پکڑا ہوا وہ غرلایا تھا ۔
مجھ بزدل کی ہمت دیکھو ارتضی شاہ سیدھا تمہاری شہ رگ پر پاوں رکھا ہے ۔کوشش کے باوجود بھی خود کو ارتضی کی مضبوط گرفت سے رہا نا کروا سکا تھا۔
تمہیں کیا لگا اگر تم رائمہ کو میرا نہیں ہونے دو گے تو کیا میں خاموش بیٹھ جاؤں گا نہیں ارتضی شاہ نہیں میرا انتقام تمہارے نکاح والے دن سے شروع ہوگیا تھا جب میں نے اپنی رائمہ کی نظروں میں اجنبیت دیکھی تھی۔۔ارتضی کی گرفت اس کے گریبان پر سے ڈھیلی پڑی تھی ۔
جب جب میرے اور رائمہ کے درمیان سب ٹھیک ہونے لگتا جب جب تم ارتضی شاہ کسی دیوار کی مانند ہم دونوں کے درمیان حائل ہوئے ہو ۔کب تک تمہیں برداشت کرتا تمہیں ماہین کے ساتھ دیکھ کر مجھے آگ لگتی تھی جب میں اپنی محبت کو انہیں سکتا تو تمہین کیسے خوشیاں حاصل کرنے دے دوں ۔نفرت انگیز لہجے میں کہتا ہوا وہ کہیں سے بھی پہلے والا ویاھ نہیں لگ رہا تھا جس کی آنکھوں میں ارتضی کا ڈر صاف دیکھتا تھا ۔آج تو فقط انتقام بول رہا تھا اس کے لہجے اور ہر عمل میں ۔
ماہین تو ناسمجھی میں فقط اسے سن رہی تھی جو اس سے اور ارتضی اپنی نفرت کا اظہار کر رہا تھا ۔
اس دم میں نے سوچ لیا تھا کہ اگر رائمہ میری نہیں ہوگی تو ماہین صاحبہ کو بھی آپ سے دور کرکے ہی رہوں گا مگر یہاں میں مات کھا گیا آپ کی یہ ماہین بہت زیادہ ہی سمجھدار نکلی یا یہ کہوں کہ میرا سکہ ہی کھوٹا نکلا جو اسے اپنی باتوں میں لے سکا ۔نوری کو نفرت سے چھوڑتا ہوا ماہین کو خونخوار نظروں سے دیکھ رہا تھا جس کی سمجھداری کے باعث وہ اور نوری ناکام ہوئے تھے اپنی سازش میں ۔
تم تو کیا مجھے اور ماہین کو کوئی الگ نہیں کرسکتا کیا تمہاری مما مے نہیں بتایا تھا تمہیں ۔کافی دیر تک اسے سننے کے بعد ارتضی نے بولنا شروع روع کیا تھا ۔
ویسے بہت اچھا کیا بابا نے جو تمہارا میری بہن کے ساتھ جڑا رشتہ وقت سے پہلے ہی ختم کردیا جو شخص شادی سے پہلے ہمارے خاندان کا دشمن ہے وہ شادی کے بعد کیا کرتا میری بہن کے ساتھ ۔ارتضی کی بات پر وہاج نے ناسمجھی میں بولتے ہوئے ارتضی کو دیکھا تھا ۔
کیا مطلب۔وہاج کے سوال پر ارتضی مسکرا اٹھا تھا ۔
مطلب یہ کہ پہلے تو مجھے زیادہ برائی نظر نہیں آتی تھی تمہارے اور رائمہ کے رشتے میں مگر اب رائمہ کو بھول جاؤ تم کیونکہ اب میں ارتضی شاہ تمہارے ساتھ اپنی بہن کا رشتہ تو دور کی بات ہے اس پر تمہارا سایہ بھی پڑنے نہیں دوں گا یہ میرا وعدہ ہے تم سے ۔مضبوط لہجے میں کہتا ہوا وہاج کو ساکت کرگیا تھا ۔
اس کا مطلب ارتضی شاہ تمہیں میرے اور رائمہ رشتے سے کوئی اعتراض نہیں تھا ۔وہاج کے سوال پر ماہین نےطبھیچارتصی کو دیکھا تھا ۔
اب ہے ۔بات ختم کرتا ہوا وہ نوری کو خود کو دیکھتا پاکر اس کی سمت بڑھا تھا ۔
اس رات میں نے آپ کو جو بھی کہا بہت شرمندہ ہوا تھا میں خود کے لفطوں پر کہ میں کون ہوتا ہوں کسی عورت کے کردار کو جج کرنے والا کسی کے کردار کی دھجیاں اڑانے والا ۔
مجھے غلط الفاظ استعمال کرنے کے لیے آپ اور آپ کے الفاظوں نے اکسایا تھا ۔
میں اپنے نفس پر تو فتح پاگیا تھا مگر اپنے لفظوں پر نہیں رکھ سکا غصے میں جو منہ میں آیا بولتا گیا یہ جانتے ہوئے بھی کہ میرے الفاظ آپ کو اندر سے توڑ رہے ہیں۔
مگر میں پھر بھی بولتا گیا تاکہ آپ سیدھی راہ سے نا بھٹکیں ۔
اور جب آپ پر اپنی باتوں سے کوئی فکر نا پڑتے دیکھا تو میں نے آپ کو حویلی سے جانے کے لیے کہہ دیا ۔ماہین خاموشی سے نوری اور ارتضی کو دیکھ رہی تھی ۔
اپنی زندگی میں بار اس نے نوری جیسی عورت دیکھی تھی جو محبت کی خاطر سب کرنے کو تیار تھی ۔
ہوں تو میں بھی مرد ذات ہی کب تک آپ اور آپ کی پیشکش کو فراموش کرتا ایک دننا دن حد ہے ایک عرصہ کبھی نا کبھی میں بھی بھٹک جاتا اور آپ کے ساتھ مل کر گناہ کر بیٹھتا ۔
کیونکہ گھر سے باہر نکلنے والی عورت کے پیچھے تو فقط ایک شیطان ہوتا ہے جبکہ ہم مردوں کے پیچھے دس ہوتے ہیں جو بڑی آسانی ہم مردوں کو نفس کا پجاری بنا دیتے ہیں ۔اپنے نفس پر قابو پاتے ہوئے میں نے آپ کو جانے کے لیے کہا تھا ۔
تاکہ آپ کو اور خود کو اس سنگین گناہ سے بچانے کی خاطر آپ کوجانے کے لیے کہا تھا ۔
مگر میری کوشش ناکام ٹھہری آپ ایک دلدل سے نکل کر دوسری دلدل میں خود گرگئی۔
آپ کے حق میں میں جس شخص کے ساتھ لڑا آپ اس ہی گھٹیا شخص کے ساتھ مل گئی اس دن مجھے اپنی کی گئی غلطی پر پشیمانی کرگئی تھی ۔
نم آنکھوں سے ارتضی کو دیکھتی ہوئی اس کے برابر میں کھڑی کو ماہین کو راہ بھری نظروں سے دیکھ رہی تھی ۔
میں آج بھی شرمندہ ہوں نوری اپنے الفاظوں سے تمہیں آج یہاں تک لانے کے پیچھے بھی میرا ہی ہاتھ ہے ،ہوسکے تو معاف کردیں ۔ارتضی کو خاموش ہوتے دیکھ اپنے ہاتھوں کی پشت سے آنسوؤں صاف کرتی ہوئی سرخ آنکھوں سے ارتضی کو دیکھ رہی تھی ۔
معاف کردوں گی آپ کو سائیں صرف ایک سوال کا جواب دے دیں مجھے ۔روکنے کے باوجود بھی آنسو اس کے رخسار پر بہے تھے ۔
کیا نہیں ہے مجھ میں جو اس میں ہے ،ماہین کی سمت اشارہ کرتی ہوئی ارتضی کے عین سامنے آکھڑی ہوئی تھی ۔
آپ اب بھی سمجھنے کے بجائے بیوقوفی کررہی ہیں ۔ماہین کی نظریں کیے وہ نوری سے مخاطب ہوا تھا ۔
اس سے کئی زیادہ خوبصورت ہوں بس ایک کمی رکھ دی اللہ سائیں نے مجھ میں کہ مجھے غریب بنایا ۔شاکی نظروں سے نوری کو دیکھتی ہوئی ماہین اس کے اس سے زیادہ خوبصورت ہونے کی بات دل سے ہامی بھر گئی تھی ۔
چلیں غریب بنایا بھی آپ کی حویلی کی ملازمہ نا بناتا ،پھر تو آپ سے محبت کرسکتے تھے ۔
کرتے نا آپ مجھ سے محبت ۔ہذیانی انداز میں بولتی ہوئی وہ وہاں کو پہلی بار قابل رحم لگی تھی ۔
نہیں ہوتی پھر ،ماہین کے ہاتھ کو تھامے ہوئے ارتضی کو دیکھ کر وہ پیچھے ہوئی تھی ۔
بخش دیا آپ کو ،آج کے بعد یہ نوری کبھی بھی آپ راہ نہیں دیکھے گی ،اپنے لیے جیئے گی عزت کے ساتھ ۔کہتی ہوئی ارتضی اور ماہین س دور ہوکر دوسری سائیڈ ہوگئی تھی ۔
ہر عورت قابل عزت اور قیمتی ہوتی ہے نوری اور تم بہت قیمتی ہو خود کو اس طرح بے مول مت کرو ۔ماہین کے اپنے ساتھ اتنے نرم لہجے پر وہ کرب سے آنکھیں میچ گئی تھی ۔نوری کو کندھوں سے تھامے ہوئے وہاج کو دیکھ ارتضی ماہین کا ہاتھ پکڑ کر وہاں سے گیا تھا ۔
دونوں کا درد برابر تھا ایک کو محبوب حاصل ہوتے ہوتے رہ گیا تھا جبکہ دوسری نوری لاحاصل کے پیچھے باہر کر اپنے پاؤں چھلنی کروا چکی تھی ۔
شاید ان کی زیست میں یہ لاحاصل رہنا قرار پایا تھا ۔
نیکسٹ ویک آپ کو پھر سے ٹریٹمنٹ کے لیے آنا ہوگا ۔یہ جو ڈائٹ پلین میں نے آپ کو لکھ کر دی ہے یہ صرف ون ویک کے لیے ہیں نیکسٹ ویک جب ٹریٹمنٹ کے لیے آئیں گے تو آپ کی ہلتھ کو دیکھ کر دوبارہ سے ڈائٹ شیٹ دوں گا جب تک کے لیے اس ہی پر عمل کرنا ہے آپ کو ۔اپنے مخصوص انداز میں اپنی پیشنٹ کے ساتھ چلتے ہوئے ڈاکٹر شاہ زین کمال ہلکی سی مسکراہٹ لبوں پر سجائے ہوئے تھے، ہلکی سی مسکراہٹ جو ان کی شخصیت کا اہم حصہ تھی ۔
جی ڈاکٹر ،ابھی اپنے پیشنٹ کو مزید ہدایت دیتے کہ سامنے کارڈیالوجی ڈاکٹر نوفل ابراہیم کے ساتھ حیدر شاہ کو محو گفتگو کرتے دیکھ پیشنٹ کو جانے کا کہتے ہوئے ان کی سمت بڑھے تھے ۔
حیدر بھائی یہاں پر ۔پریشان ہوتے ہوئے وہ حیدر اور نوفل ابراہیم کی طرف بڑھ رہا تھا کہ اچانک ہی نرس کے پکارنے پر اس کی طرف متوجہ ہوا تھا ۔
حیدر اب مزید دیر نہیں کی جاسکتی جتنی جلدی تمہاری ہارٹ سرجری ہوجائے اتنا ہی تمہارے لیے بہتر ہے ۔
امید ہے کہ تم میری بات سمجھ رہے ہو ۔رپورٹس ہاتھ میں پکڑے حیدر خاموشی سے سن رہا تھا۔
تین مہینے میں تمہاری ہیلتھ میں بہتری آنے کے بجائے اور بھی بگڑ رہی ہے تمہاری حالت یہ کوئی اچھا سائن نہیں ہے ۔
کہیں پر بھی کسی بھی وقت تمہیں میجر ہارٹ اٹیک ہوسکتا ہے ۔حیدر شاہ تمہارے لیے اتنی سی عمر میں ہارٹ پیشنٹ بننا عام بات تو نہیں ہے ۔
تم میرے ایسے واحد پیشنٹ ہو جو میرے دوست ہونے کے ساتھ ساتھ مجھے تمہارے ساتھ مجھے بہت ہمدردی ہے ۔کیا کیا میرے ساتھ بھی شیئر نہیں کرسکتے اپنی پروبلم میں تمہارا ڈاکٹر ہوں اور حق بنتا ہے میرا جاننے کا ۔حیدر کے کندھے پر ہاتھ رکھتے ہوئے فکر سے بول رہے تھے ۔
درد تو ہر ایک کے سینے میں چھپا ہوتا ہے ۔
بس فرق اتنا ہوتا ہے کہ کوئی جتا دیتا ہے ۔۔،
اور کوئی دل کے کسی کونے میں ہی دفنا دیتا ہے ۔
کون ہے خوش قسمت جسے دنیا میں بنا ذلالت کے محبت اور محبوب دونوں مل جاتے ہیں ۔۔۔۔۔،سر جھکائے وہ آہستگیسے بول رہا تھا ۔
ہاں جب ہی تو ہارٹ پیشنٹ بن گئے ہو ۔اب کی بار ڈاکٹر نوفل چبا کر بولے تھے ۔ان کی بات پر حیدر مسکرایا تھا ۔جو ڈاکٹر نوفل کو ذرا نہیں بھایا تھا ۔
اپنے لیے نا سہی اپنی وائف کے لیے ہی سرجری کے لیے مان جاؤ ۔ ایک بار پھر سے انہوں نے حیدر کو قائل کرنا چاہا تھا ۔
اس لیے تو آج یہاں موجود ہوں ۔رپورٹ پر نظریں جمائے وہ نوفل ابراہیم کو خوشگوار حیرت کا شکار کرگیا تھا ۔
تو اتنی دیر سے تم مجھے پاگل بنا رہے تھے ۔حیدر کے گلے لگتے ہوئے وہ اس سے زیادہ خوشی محسوس کررہے تھے ۔
اب بس کریں ڈاکٹر صاحب مجھے گھر بھی جانا ہے حیا کو سب بتانے کے لیے ۔نوفل ابراہیم سے الگ ہوتے ہوئے وہ آخر میں سنجیدگی سے بولا تھا ۔
آل دا بیسٹ ۔حیدر کو وہاں سے جاتے دیکھ وہ دل میں اس کی لمبی زندگی کی دعا کرتے ہوئے اپنے کیبنٹ کی سمت بڑھے تھے جب ڈاکٹر شاہ زین کمال کی آواز پر وہ مڑ کر انہیں دیکھتے ہوئے سوالیہ انداز میں مسکرائے تھے ۔
کیسے ہیں آپ ڈاکٹر نوفل ابراہیم ۔حیدر کو وہاں سے جاتے دیکھ پرجوش انداز میں بولتا ہوا شاہ زین ان کی سوالیہ نظروں سے دیکھنا اگنور کرگیا تھا ۔
الحمداللہ بلکل ٹھیک ہوں آؤ اندر بیٹھ کر بات کرتے ہیں ۔اپنے کیبنٹ میں اسے بھی ساتھ لے کر جاتے وہ مبہم سا مسکرائے تھے ۔
حیدر شاہ آپ کے پاس مطلب کیا وہ آپ کے پیشنٹ ہیں اگر ہیں تو کب سے ۔ڈاکٹر نوفل ابراہیم کی بھنویں سکڑی تھیں شاہ زین کمال کے پوچھنے پر ۔
میرا کوئی حق نہیں ہے آپ سے آپ کے پیشنٹ کی انفارمیشن حاصل کرنا کا مگر حیدر شاہ کو دیکھ کر مجھ سے رہا نہیں گیا تھا ۔
ایکچولی وہ میرے جانے والے بھی ہیں عنقریب ہی بہت گہرے رشتے میں بندھنے والے ہیں ہم ۔اس لیے آپ سے پوچھ رہا ہوں ۔ڈاکٹر نوفل کی سوالیہ نظروں سے گھبرا کر وہ خود کمپوز کرگیا تھا ۔
کیونکہ آپ بھی ایک ڈاکٹر ہے اس لیے آپ کہہ رہے ہیں تو صرف اتنا بتا سکتا ہوں کہ حیدر شاہ تین ماہ سے ہارٹ پیشنٹ ہیں ۔
ان کے دل میں میں سوراخ ہے اب نوبت سرجری تک پہنچ گئی ہے ۔ڈاکٹر نوفل ابراہیم کے منہ سے نکلے الفاظ شاہ زین کو ساکت کرگئے تھے ۔
بظاہر باہر سے خوش نظر آنے والے حیدر شاہ کو دیکھ کر کہیں سے بھی وہ اندازہ نہیں لگا سکا تھا کہ وہ دل کے معملے میں اس قدر حساس نکلے گا ۔
وہ سرجری کے لیے نہیں مان رہے کیا ۔کافی توقف کے بعد شاہ زین گویا ہوا تھا ۔
بہت بار کہنے کے باوجود وہ اچانک آج ہامی بھر گیا ہے سرجری کے لیے ۔
حیدر شاہ جیسے لوگ اس دنیا میں بہت کم پائے جاتے ہیں حساس نرم طبیعت کے مالک اس لیے خدا سے دعا ہے کہ وہ ہمیشہ میرے دوست کے روپ میں سلامت رہے ۔
آمین ۔ڈاکٹر نوفل کے رکتے ہی وہ فورا سے بول گیا تھا ۔
اتنا کافی ہے یا اور بھی کچھ جاننا ہے ۔دوستانہ لہجے میں پوچھتے ہوئے شاہ زین کے سوال کن چہرے کو پڑھ گئے تھے ۔
تین ماہ پہلے میری اور حیدر کی ملاقات اس ہی کیبنٹ میں ہی ہوئی تھی ۔
آیا تو وہ اپنے بائیں ہاتھ کے درد کو لے کر تھا میرے پاس نارمل ایس ای جی کرنے اوع چند ٹیسٹ کے بعد اپنے وہ دل میں سوراخ کے بارے میں سن کر بھی ذرا بھی افسردہ نہیں ہوا تھا ۔
الٹا مجھے پریشان دیکھ پتا ہے کیا کہا تھا ۔ڈاکٹر نوفل ابراہیم کے سوال پر وہ آنکھوں سے ہی پوچھ گیا تھا ۔
اللہ پاک جو کرتے ہیں ہم سب کی بہتری کے لیے کرتے ہیں اس میں بھی میری بہتری ہی ہوگی ۔مضبوط لہجے میں کہتا ہوا وہ مجھے حیران کرگیا تھا ۔
اس کی سب سے بڑی بات جس پر میں ہنس پڑا تھا ۔شاہ زین کمال بس ڈاکٹر نوفل کے تاثرات دیکھ کر ان کی حیدر کے ساتھ اتنی انسیت دیکھ حیران ہوا تھا ۔
اس نے مجھے کہا کہ اب میں اپنی سنجیدہ زندگی میں تباہی مچادوں گا ۔پوچھوں گے نہیں کیا ۔
میں کہا کیا کرو گے ایسا جس سے تمہاری زندگی میں تباہی مچ جائے ۔
تو کہنے لگا میں اب شادی کروں گا اور اب اپنی زندگی میں تباہی مچانے کے لیے تباہی کو لاؤ گا ،ایک نئی زندگی کے لیے ۔امید بھرا لہجہ جو پل بھر کے لیے میرے وجود کو ساکت کرگیا تھا ۔
ٹھیک ایک ڈیڑھ ماہ بعد مجھے اس کی شادی کی خبر مل گئی خوش ہوئی تھی یہ سوچ کر اس کے دل میں زندگی جینے کی رمق باقی ہے ۔
جب ہی میں نے فیصلہ کر لیا تھا کہ اس شخص کو کچھ نہیں ہونے دوں گا ۔ڈاکٹر نوفل کی آنکھیں نم ہوئیں تھیں ۔
انشااللہ حیدر بھائی کو کچھ نہیں ہوگا ۔پر نم لہجے میں کہتے ہوئے شاہ زین نے ارتضی کو کال ملائی تھی ۔
مگر دوسرے ہی لمحے کوئی رسپوزنس نا پاکر وہ فون رکھ گیا تھا۔
دو مہینے بعد ۔۔۔
۔حیدر کی سرجری کامیاب ٹھہری تھی ۔سرجری کے بعد حیدر شاہ کا استقبال بڑے ہی شاندار طریقے سے کیا گیا تھا ۔
کیا کے بے جا خیال اور محبت کی وجہ سے حیدر نے بہت جلد ریکور کیا تھا۔
میری پہلے بات سن لو ہم پھر چلتے ہیں ۔حیدر کی بات سنے بغیر وہ شاہدہ بیگم کےپاس آبیٹھی تھی ۔
دیکھیں نا خالہ جانی یہ سڑی ہوئی ککڑی مجھے باہتچلے کر نہی جارہے ۔حیدر جو کتنے دنوں سے اسے اپنی بتانے کے لیے اس کے آگے پیچھے پھر رہا تھا مگر ہر بار کہنے سے پہل ہی گیا اسے خاموش کروادیتی تھی ۔
جب اسے کل اپنے پریگنیٹ ہونے کا پتا چلا تھا جب سے اس نے حیدر کو ایک ٹانگ پر نچا رکھا تھا ۔اور وہ بیچاری خاموشی سے ناچ بھی رہا تھا ۔
حیدر میرا نا تمہارے ہاتھ کا بنا چیز آملیٹ کھانا ہے ۔پہلی ہی فرمائش سن کر حیدر کا سر چکرایا تھا ۔
کچھ دیر بعد چیز املیٹچاس کے سامنے رکھتا ہوا لیپ ٹاپ لیے سیدھا ہو بیٹھا تھا ۔
مجھے اورنج جوس پینا ہے ۔بچوں جیسی شکل بنائے وہ حیدر کو بہت پیاری لگی تھی ۔اسے جوس لاکر دیتا ہوا وہ واپس سے اپنے کام کی جانب متوجہ ہوا تھا ۔
کچھ گھنٹے بعد سونے کے لیے لیتا ہوا حیدر ابھی اپنی آنکھیں بند کیے سونے لگا تھا مگر اگلے ہی لمحے حیا کی ایک اور فرمائش وہ مسکراتا ہوا اٹھا تھا ۔
مجھے نیند نہیں آرہی خوشی کے مارے اس لیے تم بھی میرے ساتھ ۔ماہین کی گڈ سن کر بھی اس کا یہ ہی حال تھا۔اب اپنی باری میں تو وہ بہت زیادہ خوش ہوئی تھی ۔
ساری رات جاگنے کے بعد بھی حیا کی فرمائش ختم نہیں ہوئی تھی ۔
اگلی صبح وہ پھر سے شروع ہوگئی تھی ۔
ان سب سے سر پکڑ کر بیٹھتا ہوا حیدر آخر کار تھک گیا تھا حیا کی کل سے شروع ہوئی فرمائشوں سے تھک کر بیڈ پر گرنے کے انداز میں لیٹا تھا ۔
اب بھی جب وہ اسے اپنے دل کی بات بتانے لگا وہ نیچے آگئی تھی ۔
حیدر بیٹا اس حالت میں حیا کی ہر بات ماننی ہے تمہیں اس کا جو دل کرتا ہے اسے لا کر دو جہاں جانا چاہتی ہے وہاں لے کر جاو ویسے بھی یہ اب اپنی میکے تو جا نہیں سکتی ۔حیا کا منہ اتار گیا تھا بخاری ولا کے بارے میں سوچ کر حمدان بخاری شاکرہ بیگم اور ریاض بخاری یو ایس میں مکمل طور ہر سفٹ ہونے کی خاطر گئے تھے ۔
جی ماں ہر یہ میری کوئی بات سنے جب نا تب ہی میں اسے کہیں لے کر جاو گا۔حیدر اور گیا کی نوک جھونک دیکھ کر ماہین ہمیشہ سے ہی مسکراتی آئی تھی آج بھی ان دونوں کو دیکھ وہ شاہدہ کے سامنے آ بیٹھی تھی ۔
لے جائیں نا حیدر بھائی ۔ماہین کو بھی گیا کے حق میں بولتے دیکھ حیدر ہار مان گیا تھا ۔
اچھا ٹھیک ہے تم جاکر تیار ہو آو ۔
چلیں ماہین آپی ۔ ماہین کو ساتھ لے کر جاتی ہوئی چہکی تھی ۔
اللہ ان میرے دونوں بیٹوں کی خوشیاں سلامت رکھے ۔حیدر کی پیشانی پر بوسہ دیتی ہوئیں وہ ماہین اور گیا دونوں کی طرف سے خوشخبری سن کر خوشی سے پھولی و سمائی ہوئی تھیں ۔
حیا میں پیاری نہیں لگتی اب ارتضی میری دیکھتے بھی نہیں ہیں۔ارتضی کا زیادہ تر ہسپتال میں وقت گردانا ماہین ناگوار گزر رہا تھا اور اسے یہ ہی وجہ لگی تھی ارتضی کے ہسپتال میں زیادہ وقت گزارنے کی ۔
تو کس نے کہا ہے آپ کو بانو قدسیہ بنے پھرنے کے لیے ۔ماہین کے رف سے کیچڑ میں قید کیے بالوں اور عام سے حلیے پر چوٹ کی تھی ۔
کبھی مجھے دیکھا ہے حیدر کی نظریں نہیں ہٹتی ہیں میرے سراپے پر سے ۔اپنی لپ اسٹک کو مزید گہرا کرتی ہوئی ماہین کو اپنا سراپا دیکھنے ہر مجبور کرگئی تھی ۔
شیشے میں اپنا عکس دیکھتی ماہین خود بھی خود بانو قدسیہ ہی لگی تھی بے ساختہ ہی مسکرا دی تھی ۔
خیر سے جاو اور خیر سے آو۔دعا دیتی ہوئی ماہین مسکرا کر اپنے کمرے کی جانب بڑھی تھی ۔
ملک ریحان کے ساتھ کی گئی بے وفائی بہت مہنگی پڑنے والی ہے نوری میڈم تجھے ،
بہت سر چڑھا لیا تھا تجھے اور تو اپنی اوقات بھول گئی اب وقت آگیا ہے تجھے تیری اوقات دیکھانے کا ،طیش سے بھرا بیٹھا ریحان پچھلے کئی دنوں سے شمازیہ اور اپنی بیٹیوں کی دوری میں بکھرا ہوا سیر بنا ہوا پھر رہا تھا اوپر سے نوری بھی اس دن کے بعد سے ملک ہاوس میں نہیں آئی تھی ۔
نوری کو کال مالٹا ہوا وہ اپنی بیٹیوں کی تصویر دیکھتا ہوا مزید بھڑک اٹھا تھا ۔
کیا ہوا ملک صاحب !کئی کالز کے بعد کال پک کرتی ہوئی نوری کی خوبصورت و معصوم آواز پر وہ دل پر ضبط کرگیا تھا ۔
کچھ خاص نہیں ،
ویسے کافی عرصے بعد تجھے اپنے سائین سرکار کو اتنے قریب سے دیکھنے کا موقعہ ملا تھا ،بڑی خوش ہوئی ہوگی نا تم ،ارتضی کے ذکر پر بنا کوئی تاثرات دیئے وہریحان کے جتاتے ہوئے لہجے کو نوٹس کرتی ہوئی وہ اس کے اسپارٹ بوائے کو جانے کا کہتی ہوئی سائیڈ ہر آبیٹھی تھی ۔
کیا ہوا ،
کچھ نہیں نوری ڈارلنگ ،ریحان کے لہجے پر وہ کرب سے آنکھیں بند کرگئی تھی ۔
جنتا دیکھنا ہے ارتضی شاہ کو جی بھر کر دیکھ تو لیا ہوگا تم نے ،نوری کے خوبصورت چہرے کے رنگ فق ہوئے تھے
کیا کرنے کا ارادہ ہے سائین کے ساتھ ،ریحان کے انداز سے وہ ڈری تھی ۔
میں کہاں کچھ کرنے والا ہوں ۔
وہ آج دنیا مطلب گاؤں سے ہمیشہ ہمیشہ کے لیے رخصت ہوجائے گا ۔ فوٹو فریم سائیڈ ٹیبل پر واپس رکھتا ہوا سکون کا سانس بھر گیا تھا ۔
ارتضی سائین کو کچھ نہیں کریں گے آپ ،دبے انداز میں غرلائی تھی ،
مجھے روکنے والی تم ہو کون ،بھولو مت اپنی اوقات دو کوڑی کی ملازمہ ۔چبا کر کہتا ہوا جگہ سے اٹھا تھا ۔
اگر ارتضی سائین کو کچھ بھی ہوا تو میں تمہیں چھوڑو گی نہیں، اچانک سے ریحان کو وارن کرگئی تھی ۔
کون کمبخت چاہتا ہے کہ تم چھوڑو مجھے ،میں تو خود یہ ہی چاہتا ہوں کہ تم مجھے ہر وقت ایسے ہی اپنے حسن کے جال میں جکڑے رکھو اور اب دیکھو شمازیہ بھی چلی گئی ہے ۔ کمینگی ہنسی ہنستا ہوا نوری کو زیر لگا تھا۔
میں نے تمہیں دوکھا دیا ہے نا تو تم مجھ سے بدلہ لو ،سائین کے ساتھ کچھ نا کرو ،تم جو چاہوں گے میں ویسا ہی کروں گی ،ہاتھ جوڑ کر منت کرتی ہوں ۔فون پر موجود نوری ریحان کی دل کی دنیا تباہ کیے ہوئی تھی ۔
جیسے جادوگر کی جان طوطے میں ہوتی ہے ویسے ہی تیری جان ارتضی شاہ میں بستی ہے ،نوری کے خیال کو جھٹکتا ہوا وہ نفرت سے گویا ہوا تھا ۔
ڈارلنگ اب بہت دیر ہوگئی ہے، اب تک تو میرے آدمی اپنا کام کرچکے ہونگے ،نوری کے چہرے پر سے رنگ اڑے تھے وہیں وہ تمخسرانہ انداز میں قہقہ لگا گیا تھا ۔
سائین ،زیر لب بڑبڑاتی وہ زانوں کے بل زمین پر بیٹھتی چلی گئی تھی ۔
شاہ ،پلیز گھر آجائیں، فون پک کرتے ہی ماہین کی بھرائی آواز سن کر وہ کرب سے آنکھیں میچ گیا تھا،
آپ کو فرق پڑتا ہے ماہین میرے گھر آنے نا آنے سے ۔شرارت سے پوچھتا ہوا وہ ریش ڈرائیونگ کرتا ہوا پوچھ رہا تھا،
پڑتا ہے تو کب سے فون کررہی ہوں ۔کب آئیں گے ،عجیب سی بے چینی ہورہی تھی ماہین کو کو ارتضی کی غیر موجودگی سے ۔
بس آرہا ہوں آپ تھوڑی دیر اور انتظار کرلیں ۔بس آرہا ہوں ۔ارتضی کے کہتے ہی وہ مسکرائی تھی ۔
غلام رسول یہ بریک کیوں نہیں لگ رہا ۔اگلے ہی لمحے میں ماہین کی مسکراہٹ غائب ہوئی تھی ۔
غلام رسول ،پریشانی میں ارتضی کا فون اس کے ہاتھ سے چھوٹ کر نیچے گرا تھا۔
ارتضی آپ سن رہے ہیں ۔ارتضی ،ماہین کیچاواز سننے سے ارتضی قاصر تھا اپنی تمام تر کوشیش کے بعد بھی وہ گاڑی پر بریک نہیں لگا پارہا تھا ۔
سامنے سے آتے لوڈڈ ٹرک کے ساتھ ارتضی شاہ کی گاڑی ٹکرائی تھی ۔گاڑی کے ٹائروں کی چرچڑاہٹ اور کار اور ٹرک کی زور دار ٹکراو کی آواز کے ساتھ ماہین کی دلخراش چینخ پوری حویلی میں سنسناہٹ پھیلا گئی تھی ۔
ارتضی۔ی۔ی۔ی۔ی۔ی۔۔۔۔
جاری ہے۔
