Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 22

کال کروں یا نہیں، ویسے میں کیوں کروں ،وہ تو یہ سمجھے گے کہ میں انہیں یاد کررہی ہوں ،رات کے آٹھ بجے وہ کھانا کھانے کے بعد آپ ے کمرے میں آئی تھی،
کمرے میں آڑے ہی اسے ارتضی کا خیال آیا تھا اس ہی کو سوچتی ہوئی سیل فون ہاتھ میں پکڑے وہ کشمکش کا شکار تھی ۔
ویسے یاد تو نہیں کررہی انسانیت کے ناطے تو حال چال پوچھ ہی سکتی ہوں ایسی کوئی بڑی دشمنی بھی نہیں ہے ڈاکٹر جلاد کے ساتھ ،
ماہین تجھے بھی سکون برداشت نہیں ہے اچھا تو ہے وہ جلاد یہاں نہیں ہے کتنا سکون ہی ہے ،اپنی ہی بات کی نفی کرتی ہوئی وہ فون سائیڈ پر رکھتی ہوئی دیوان پر ہی سیدھی لیٹی تھی ،
سکون نا ملنے پر کچھ دیر بعد ہی واپس سے فون ہاتھ میں لیتی ہوئی وہ فون ملانے کا سوچ ہی رہی تھی کہ ناک ہوتے دروازے کی طرف متوجہ ہوئی تھی ،
آجائیں ، رائمہ تم مجھے بلالیتی میں خود ہی آجاتی تمہارے پاس ،ان کچھ دنوں میں ماہین اور رائ۔ہ کی اچھی خاصی انڈرسٹینڈنگ ہوگئی تھی ۔
میں نے سوچا میں خود ہی چلی جاتی ہوں شاید بھائی کی تھوڑی سی کمی میری موجودگی دور کردے ،رائمہ کی بات پر ماہین کے لبوں پر خود بخود مسکراہٹ رینگی تھی ۔
رائمہ ایک بات پوچھوں تم سے ۔کافی توقف کے بعد ماہین نے اس سے پوچھنے کی ہمت کی تھی ۔
جی بھابھی ،ماہین کے پوچھنے پر رائمہ مسکراتے ہوئے بولی تھی ۔
اس دن مال میں جو ہوا تھا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ماہین کو سمجھ میں نہیں آرہا تھا کہ کیسے پوچھے ۔
مطلب ارتضی نے تم پر ہاتھ اٹھایا تھا وہاں سب کے بیچ میں تم پھر بھی ناراض نہیں ہو ارتضی سے کیوں ،ڈر ڈر کے پوچھتی ہوئی وہ رائمہ کے سنجیدہ چہرے کو دیکھ گھبراہٹ میں اپنے خشک لب تر کرگئی تھی ۔
بھائی کی غلطی نہیں تھی اور نا میری بس سچویشن ہی کچھ ایسی ہوگئی تھی کہ پہلی بار بھائی کا ہاتھ اٹھ گیا مجھ پر ،کچھ دیر کی خاموشی کے بعد کمرے میں رائمہ کی آواز گونجی تھی ۔
اگر بھائی چاہتے تو کچھ عرصے پہلے ہی ہاتھ اٹھا سکتے تھے مجھ پر مگر انہوں نہیں اس وقت بھی مجھ پر ہاتھ نہیں اٹھایا تھا جب میں گناہ کخرنے جارہی تھی ایک نامحرم کو سب کچھ مان کر گھر سے بھاگ رہی تھی،
بلکہ میری غلطی کو اس طرح چھپا دیا جیسے کبھی میں نے وہ غلطی کی ہی نا ہو ۔بھرائی آواز میں بولتی ہوئی رائمہ کی شاکڈ کرگئی تھی ۔
اس دن مال میں بھائی کو یہ لگا تھا کہ میں وہاج کے ساتھ ،،،کچھ دیر کے ٹھہرتی ہوئی اپنے آنسوؤں پر ضبط کرتی ہوئی دوبارہ سے بولی تھی ۔
انہیں دھوکا دے کر ان کی عزت خاک کو میں ملا کر وہاج کے ساتھ بھاگ آئی ہوں۔آنکھوں میں آئی نمی کو انگلی کے پوروں سے صاف کرتی ہوئی لمبا سانس خارج کرتی ہوئی خود کو ریلکس کرتی وہ پھر سے مخاطب ہوئی تھی ۔
آج سارا غبار نکالنے کی خاطر وہ نم لہجے میں میں بولنا شروع ہوئی تھی ۔
رائمہ کے ساتھ بیٹھی ہوئی ماہین خاموشی سے بس اسے سن رہی تھی۔
ایک دوسرے سے چھتوں پر ملتے ہوئے میری اور وہاج کی ملاقاتیں عروج پر پہنچ گئی تھیں ،بیس سال کی تھی میں اور پھر بھی بہت ہی آسانی سے محبت میں اندھی ہوگئی تھی نا بابا سرکار اور بھائی کی محبت سے کوئی سروکار تھا نا ہی کسی اور چیز سے ذہن پر سوار تھا تو فقط وہاج ،سوتے جاگتے اٹھتے بیٹھتے بس وہاج اور اس کے ہی کہنے پر میں نے ایک دن اپنا سارا سامان باندھ لیا تھا ۔
عجیب سی رات تھی میری آنکھوں اور ذہن کی طرح ہر طرف دھند چھائی ہوئی تھی، عجیب سی گھوٹن تھی فضا میں پر میں ہر چیز سے بے خبر سب کے سونے کا بے صبری سے انتظار کررہی تھی ۔
سب کچھ وہاج کی پلینگ کے حساب سے چل رہا تھا سب لوگ گہری نیند میں سو چکے تھے کہ اچانک سے وہاج کی سرگوشی کی آواز بھائی کے کانوں میں نجانے کیسے پڑ گئی اور ۔


نیند تو کوسوں دور تھی گزری کئی راتوں کی طرح ارتضی کی آنکھوں سے،
عجیب سی بےچینی محسوس کرتا ہوا وہ کمرے میں چکر کاٹ رہا تھا کہ کسی کے قدموں کی چھاپ کی طرف متوجہ ہوا تھا ۔
اس ہی چھاپ کا دبے قدموں سے پیچھا کرتا ہوا وہ سرگوشی کی آواز پر چوکنا ہوا تھا ۔
سرگوشی اور قدموں کی چھاپ رائمہ کے کمرے کے پاس رکتے ہوئے محسوس کرتا ہوا اس کا دماغ سن ہوا تھا ۔
ششش،کیا ہے جب کہا تھا میں نے خود ہی آجاؤ گی چھت پر تو پھر تم یہاں کیوں آئے ہو ،
تمہیں لینے کہاں ہے تمہارا سامان ۔رائمہ کی بات کا جواب چہل کر دیا گیا تھا ۔
یہ رہا ہے ۔رائمہ کے کمرے سے اب رائمہ اور اس شخص کی آواز سن کر ارتضی کو حیرت کا جھٹکا لگا تھا۔
چلیں ۔رائمہ کے آگے ہاتھ پھیلاتے ہوئے وہاج نے رائمہ کے مسکراتے چہرے کو محبت پاش نظروں سے دیکھ رہا تھا ۔
شرم سے نظریں جھکائے وہاج کے ہاتھ پر ہاتھ رکھتی ہوئی سامنے دروازے پر کھڑے ارتضی کو دیکھ ناسکی تھی ۔
دعائیں نہیں لے کر جاؤ گی سمی اپنے بابا سرکار ،ماں سرکار ،اور جان لٹانے والے بھائیوں کی، کرب سے کہتا ہوا ارتضی ایک درد کے مرحلے پر کھڑا تھا جہاں اس کی سمت اس کے ساتھ بے وفائی کرنے جارہی تھی ۔
ارتضی بھائی ،ارتضی کی آواز پر وہاج کی گرفت رائمہ کے ہاتھ پر سے ڈھیلی پڑی تھی ۔
اگر رات کے اندھیرے میں سیاہ چادر میں خود ڈھانپ کر جاؤ گی تو زندگی بھر سرجھکائے روشنی کی تلاش میں بھٹکوں گی ۔
اور اگر سورج کی روشنی میں سب کی دعاؤں کے سائے تلے جاؤں گی تو سر اٹھا کر جیو گی ۔ارتضی کی باتوں پر وہ ساکت کھڑی تھی ۔
اب مرضی تمہاری ہے، وہاج کے ہاتھ سے نیچے گرے بیگ کو دیکھ کر وہ سائیڈ پر کھڑا ہوا تھا ۔
ارتضی کے سائیڈ ہوتے ہی رائمہ کو اکیلے چھوڑ وہاج وہاں سے فرار ہوا تھا ۔
یہ پل تھا کہ رائمہ کو اپنا آپ بے مول لگا تھا جس شخص کی خاطر وہ سب رشتے ناطے چھوڑ کر جانے کو تیار تھی وہ شخص اسے ارتضی کے ڈر سے اکیلا چھوڑ بھاگ گیا تھا۔
کچھ کہنا چاہوں گی رائمہ ۔ارتضی کے منہ سے رائمہ سن کر کرب سے آنکھ میچ گئی تھی ۔
سوری بھائی ۔ارتضی تمخسر سے ہنسا تھا۔
بھائی کہاں تھی وہ بہن جب بھاگنے کی تیاری کررہی تھی تم ۔کرب سے پوچھتا ہوا وہ اپنے رائمہ کے درمیان میلوں کا فاصلہ کھینچ گیا تھا۔
سوری بھائی میں بھٹک گئی تھی ۔۔کوئی لفظ ہی نہیں بن پارہے تھے رائمہ سے ۔
راہ مل گئی۔حد درجہ غصے میں ہونے کے باوجود بھی ارتضی نے ہلکی آواز میں پوچھ رہا تھا۔
آئیندہ ایسی غلطی نہیں ہوگی ۔وہ منمنائی تھی ۔
اسے غلطی نہیں گناہ کہتے ہیں ۔اب ایسا دوبارہ میں ہونے ہی نہیں دوں گا ۔کہہ کر وہ جانے کے لیے مڑا تھا۔
بھائی پلیز معاف کردیں، میں وعدہ کرتی ہوں وہاج سے کبھی نہیں ملوں گی ،پلیز کسی کو مت بتائیے گا ۔ہچکیوں سے روتی ہوئی وہ منت بھرے لہجے میں بولی تھی ۔
تم اپنی بات پر قائم رہنا اور میں زبان دیتا ہوں تمہیں یہ بات ہمارے درمیان رہے گی ،اگر تم اپنی زبان سے پھری تو تمہاری جان اپنے ہاتھوں سے لوں گا۔وہ کہہ وہاں رکا نہیں تھا ۔
ہوا بھی یہ ہی آج تک رائمہ اور وہاج کے بارے میں حویلی کے ملازمین تک کو اس بات کی خبر تک نہیں ہوئی تھی ۔


بلاوجہ کی نفرت ،بنا جواز کے بدتمیزی ،بنا مطلب کے اپنی شادی کے سارے فنگشن خراب کردیے میں نے ،رائمہ کب سے جاچکی تھی مگر جاتے جاتے وہ ماہین کو پشیمانی میں گرفتار کرگئی تھی ۔
ساری فوٹوز خراب آئیں گی ،یہ سوچ کر اسے الگ رونا آرہا تھا ۔
یااللہ کیا کروں بلاوجہ جلاد سے پنگا لے بیٹھی ہوں اب معافی کس منہ سے مانگوں گی ، کھڑکی سے باہر اچانک ہوتی ہوئی بارش کو دیکھ کر ساری باتیں بھلائے افسردگی سے مسکرائی ہوئی وہ کمرے سے باہر نکلی تھی ۔
سنو ۔ملازمہ کو پکارتی ہوئی وہ آگے بڑھی تھی ۔
چھت پر جانا ہے مجھے ۔
بی بی سائیں بہت تیز بارش ہورہی ہے ۔سر جھکائے ماہین کو وہ اپنی طرف سے آگاہ کررہی تھی۔
اس لیے ہی تو جارہی ہوں اور تم بھی چل رہی ہو میرے ساتھ ۔حکم دیتی ہوئی وہ آگے بڑھی تھی جبکہ ملازمہ حیرانگی سے اسے دیکھتی ہوئی پیچھے پیچھے چل دی تھی۔


اگرچے تجھ سے بہت اختلاف بھی نہ ہوا
مگر یہ دل تیری جانب سے صاف بھی نہ ہوا
تعلقات کی برزخ میں ہی رکھا مجھ کو
وہ میرے حق میں نہ تھا اور خلاف بھی نہ ہوا
عجب تھا جرم محبت جس پہ دل نے میرے
سزا پائی بھی نہیں اور معاف بھی نہ ہوا ۔۔۔۔۔،
اذہان کی میڈیکل رپورٹس کئی بار اچھے سے پڑھنے کے باوجود بھی ارتضی دوبارہ سے اپنے سامنے کھولے بیٹھا تھا مگر سوچ کے گھوڑے اپنی لگام توڑے ماہین کی سمت دوڑ رہے تھے ۔
کئی بار ماہین کو دیکھنے کی چاہ میں دل نے سر توڑ کوشش کی تھی مگر اس کوشش کو ارتضی شاہ نے بڑی آسانی سے تھیک کر سلادیا تھا ۔
رپورٹس آگے رکھے اب بھی ماہین کو سوچ کو جھٹکتا ہوا ارتضی سامنے کھلی رکھی رپورٹس پر جھکا تھا ۔
کیا میں اندر تشریف لا سکتا ہوں ڈاکٹر ارتضی شاہ ۔کافی دیر سے دروازے پر کھڑے ڈاکٹر عامر شہزاد جو ارتضی کو گہری سوچ میں کھوئے چہرے پر کبھی مسکراہٹ تو کبھی سنجیدگی کے تاثرات دیکھتے ہوئے وہ اندر آنے کی اجازت طلب کررہے تھے ۔
آپ کو کب سے میرے کیبنٹ میں آنے کے لیے اجازت کی ضرورت پڑنے لگی ۔رپورٹس بند کرتا ہوا ڈاکٹر عامر کو دیکھ کر مسکرایا تھا ۔
جب سے تمہاری شادی ہوئی ہے جب سے ،کیا پتا کس ٹائم بھابھی جی یہاں تشریف فرماں ہوں کچھ کہا نہیں جاسکتا ہے ،
اب ہزبیڈ اور وائف کے پرائیوٹ مومنٹس میں دخل دے کر مجھے کباب میں ہڈی تھوڑی نا بننا ہے ۔شوخی سے کہتے ہوئے وہ چیئر پر بیٹھتے ہوئے ارتضی کو دیکھ کر لب دبائے وہ اب مسکراہٹ چھپانے کی کوشش کررہےتھے ۔
آپ کو زیب نہیں دیتی اس عمر میں ایسی باتیں ،ڈاکٹر عامر کی بات پر چبا کر کہتا ہوا ان کی عمر پر چوٹ کرگیا تھا ۔
اب اس میں عمر کہاں سے بیچ میں آگئی ظاہر سی بات نئی نئی شادی ہوئی ہے تمہاری اور چھیڑنے کا حق تو بنتا ہے ۔عام سے لہجے میں بولتے ہوئے مسکرائے تھے ۔
ارتضی کو خاموش بیٹھے دیکھ وہ اپنی بات پر آئے تھے جس وجہ سے وہ یہاں ارتضی کے پاس موجود تھے۔
چلو مذاق سے ہٹ کر پوچھتا ہوں کیا تم بھابھی کو مس کررہے ہو ،جواب کی جگہ خاموشی چھائی ہوئی تھی ۔
اس کا خاموشی کا مطلب میں یہ سمجھوں کہ تمہیں بھابھی کی شدید یاد آرہی ہے .عامر سے نظریں چرائے وہ اپنی جگہ سے اٹھ کھڑا ہوا تھا ۔
حقیقت میں تو اس کا دل چاہ رہا تھا کہ وہ اب اڑ کر ماہین کے پاس چلا جائے مگر انا آڑے آئی ہوئی تھی ماہین کی طرف سے کوئی پہل جو نہیں ہوئی تھی ۔
لب دبائے وہاپنے لفظوں کا گلا گھوٹ گیا تھا تلخی سے سوچتا ہوا مسکرایا تھا ۔
ماہین کی طرف سے کوئی کال یا میسج نہیں آیا کیا تمہیں، بلکل درست اندازے پر ارتضی حیرانگی سے عامر کی طرف گردن موڑ کر اسے مسکراتے ہوئے دیکھ واپس سے رخ مڑ گیا تھا ۔
میاں بیوی کے رشتے میں انا نہیں ہونی چاہیے ،جس رشتے میں یہ انا آجاتی ہے پھر وہ رشتہ کبھی کامیاب نہیں ہوتا ارتضی،
اور میاں بیوی کے رشتے میں تو انا ہونی ہی نہیں چاہیے ،اگر دونوں میں سے کوئی ایک جھک جائے تو اس رشتے کی عمر طویل اور مضبوط ہوجاتی ہے ۔
اب مجھے ہی دیکھ لو بہت بار میرے اور شیزہ کے درمیان لڑائی جھگڑا ہوتا رہتا ہے،ارتضی کے کندھے پر ہاتھ رکھتے ہوئے وہ اسے سمجھانے کی کوشش کررہے تھے ۔
اگر غلطی میری ہوتی ہے تو منانے میں پہل بھی میں ہی کرتا ہوں اور اگر غلطی شیزہ کی ہو تو بھی میں ہی پہل کرتا ہوں ،آخر میں شرارت سے مسکرائے تھے ۔
اور یہاں غلطی تمہاری ہے ارتصی اور ماہین کی ناراضگی بر حق ہے ،
کوئی اپنے ولیمے کی دلہن کو بنا بتائے ایسے آتا ہے کیا ،
اسے کون سا فرق پڑتا ہے ،دل ہی دل ماہین کی سرد رویے کو سوچ کر افسردہ ہوا تھا ۔
جبکہ تم اچھے سے جانتے ہو تمہارا یہاں رہنا اتنا ضروری نہیں ہے پھر بھی ۔عامر کی بات پر ارتضی کی نظریں شرمندگی سے جھکی تھیں ۔
تمہاری اور ماہین کی کوئی لوو میرے نہیں ہوئی ہے جو تم اس کی کالز کی آس لگائے ضد میں یہاں بیٹھے ہو تین دن سے ،
ارینجڈ میرج ہے تمہاری وقت کے ساتھ ہی تم ایک دوسرے کو سمجھوں گے، ایسے نہیں چلے گا یہاں تم انا لگائے بیٹھے ہو اور وہاں ماہین ناراض بیٹھی ہیں تم سے،
یہ ہی دن ہیں تم دونوں کے پاس ایک دوسرے کو سمجھنے اور اچھے سے جاننے کے،
اسے کہیں لے کر جاؤ بلکہ ہنی مون پر چلے جاؤ ایک ساتھ گھوموں گے پھروں گے ایک دوسرے کو سمجھوں ناکہ ایک دوسرے کے درمیان فاصلے کے فاصلے مٹاؤ نا کہ بڑھاؤ۔خاموشی سے ڈاکٹر عامر کی باتیں سنتا ہوا ارتضی پشیمان ہوا تھا ۔
تم یہاں ہسپتال میں پیشنٹ کے ساتھ ہنی مون منا رہے ہو اور وہاں وہ بیچاری حویلی میں ملازماؤں کے ساتھ اپنی نئی زندگی کے حسیں پل خراب کررہی ہیں ۔
ارتضی ڈاکٹر عامر کے سنجیدہ چہرے کو حیرت سے دیکھ رہا تھا۔
آپ کو کیسے پتا یہ سب ،
تمہارے چہرے پر صاف صاف لکھا ہوا ہے ،ڈاکٹر عامر کی بات پر وہ سر کجھاتے ہوئے وہ مسکرا کر انہیں ہی دیکھ رہا تھا ۔
مجھے بعد میں دیکھتے رہنا چلو اب فون ملاؤ بھابھی کو ،ارتضی کے دیکھنے پر چوٹ کرتے ہوئے وہ مسکرائے تھے
کیوں وہ بھی تو کرسکتی تھی نا۔الٹا سوال پوچھتا ہوا وہ اپنی چیئر پر بیٹھا تھا ۔
کیوں کو چھوڑو اور تم بھابھی کے ساتھ یہ اپنی مضنوئی ناراضگی ختم کرو اچھے سے جانتا ہوں تمہاری شکل پر بجنے بارہ کی وجہ ۔ڈاکٹر عامر کی بات پر وہ لب دبائے مسکرایا تھا ۔
چار سال بنا کسی قصور کے تم نے بہت کچھ گنوا دیا ہے ارتضی،
خود کو مجرم ٹھہرا کر اب غلطی مت کرو اور بھابھی کو فون کرو ،سرخ آنکھوں سے عامر کو دیکھتا ہوا ارتضی ٹیبل پر رکھے اپنے سیل فون کو ہاتھ میں لیے عامر سے مخاطب ہوا تھا ۔
آپ کے سامنے تو بلکل بھی نہیں کروں گا ،پچوں کے انداز میں بولتا ہوا ارتضی ڈاکٹر عامر کے فلک شگاف قہقہے پر مبہم سا مسکرایا تھا ۔
چلو بھئی ٹھیک ہے میں چلا جاتا ہوں تم آرام سے بات کرو،
مسکرا کر ارتضی کی طرف دیکھتے ہوئے وہ دروازے کی طرف بڑھے تھے ۔
آج کی ہے آپ نے اپنی عمر کے حساب سے بات ،ارتضی کے شرارتی انداز وہ فقط مسکرائے تھے ۔
کل ڈنر میرے گھر پر ہے تمہارا اور ماہین کا ،
کس خوشی میں ۔
پہلی تمہاری اور دوسری دوبارہ سے تمہارے ہسپتال جوائن کرنے کی خوشی میں اور میں کوئی انکار نہیں سننے والا۔
ارتضی کے کھولتے لبوں کو دیکھ انگشت کی انگلی سے تنبیہ کرگئے تھے ۔
جو حکم سائین،اپنے سر کو ہلکا سا خم دیتا ہوا وہ کھل کر مسکرایا تھا ۔
ارتضی کو اپنی کہی باتوں پر اتنے اچھے تاثرات پر وہ خوشی محسوس کرتے ہوئے وہاں سے گئے تھے ۔
کاش بابا سرکار یہ ساری باتیں آپ مجھے سیکھاتے ،ماہین کو فون کرنے کا ارادہ ترک کرتا ہوا وہ حویلی جانے کے لیے کھڑا ہوا تھا۔


غلام رسول آرام سے چلاؤ گاڑی ،بن موسم برستی بارش سے اسے اکتاہٹ محسوس ہوئی تھی ۔
بارش کی وجہ سے آدھے گھنٹے کا سفر دو گھٹنے میں جو بدلنے والا تھا ،
ایک پل کی تاخیری بھی اس کی جان نکل رہی تھی ۔
جی سرکار سائین، آرام سے گاڑی چلاتا ہوا وہ اپنے ساتھ بیٹھے ارتضی کو سیٹ کی پشت پر سر ٹکائے دیکھ مسکرایا تھا ۔
گاڑی جیسے ہی حویلی میں داخل ہوئی تھی ارتضی کے لبوں پر دلفریب مسکراہٹ رینگی تھی ۔
جاؤ تم تمہاری بیوی انتظار کررہی ہوگی ،تین دن سے غلام رسول بھی ارتضی کے ساتھ ہسپتال میں تھا ۔
جی سرکار سائین ۔ارتضی کے خوشگوار لہجے پر وہ مسکراتا ہوا گاڑی سے اتراتھا ۔
سرونٹ کوارٹر کی طرف خود کو بھیگنے سے بچاتے ہوئے غلام رسول کو بھاگتے دیکھ وہ دل کر مسکرایا تھا ۔


نام کیا ہے تمہارا ،کافی دیر وہ برستی بارش میں پوری بھیگ چکی تھی ۔
اپنے سامنے ہی خود کو بھیگنے سے بچاتی ہوئی ملازمہ شیلڈ کے نیچے جاکھڑی ہوئی تھی، ماہین کے پکارنے پر وہ مسکرا کر اپنی بی بی سائیں کو دیکھ رہی تھی ۔
سوکھاں نام ہے میرا بی بی سائیں ،
بہت پیارا نام ہے تمہارا ۔ماہین کی اس طرح تعریف کرنے پر اس کی مسکراہٹ گہری ہوئی تھی ۔
کب سے ہو تم یہاں پر سوکھاں ،اچانک سے بارش مزید تیز کے ساتھ گرجتے بادلوں اور کڑکتی ہوئی بجلی کے خوف سے وہ بھاگتی ہوئی سوکھاں کے قریب آئی تھی
ماہین کو اپنے گیلے بالوں کو کان کے پیچھے کرتے دیکھ ملازمہ یک ٹک اسے ہی دیکھ رہی تھی ۔
میں تو بی بی سائیں پیدا بھی اس ہی حویلی میں ہوئی ہوں ۔ماہین کو اس طرح خود سے بات کرتے دیکھ وہ خود کو آسمان پر محسوس کررہی تھی ۔
اچھا ،سوکھاں کے انداز پر وہ مسکرائی تھی ۔
اس وقت کون آیا ہے ،گاڑی کی آواز پر ماہین نے سوال کیا تھا ،دل میں تو ارتضی کے آنے کا خیال آیا تھا فورا سے جھٹک گئی تھی ۔
میں بی بی دیکھ کر آتی ہوں ،بند آنکھیں کرتی ہوئی ماہین آسمان کی طرف منہ کیے ہوئے تھی سوکھاں کی آواز پر اسے گردن ہلا کر جانے کی اجازت دیتی ہوئی وہ مسکرائی تھی ۔
بہت غلط کیا میں نے اپنے ہی ساتھ بنا سمجھے غلط فہمی پال لی ،اور اب اس ڈاکٹر جلاد کو دیکھنے کا دل کر رہا ہے ،
ہسپتال میں ہوئی اپنی اور ارتضی کی ملاقات یاد کرتی ہوئی وہ پہلی بار ارتضی کو سوچتی ہوئی مسکرا رہی تھی ۔
قریب تھا تو کہا ہم نے سنگ دل بھی اسے
ہوا جو دور تو لگتا ہے جان جاں وہ شخص
وہ مسکراتی ہوئی زیر لب بڑبڑائی تھی ۔
اس ایک شخص میں تھیں دلربائیاں کیا کیا
ہزار لوگ ملیں گے مگر کہاں وہ شخص۔۔۔
بائیں ہاتھ کی انگلی میں پہنی ہوئی ارتضی کی دے گئی رنگ پر وہ لب رکھ گئی تھی ۔
ڈاکٹر جلاد میں انسانیت بھی ہے یہ جان کر مجھے اتنی خوشی کیوں ہورہی ہے ۔اپنے آپ سے سوال کرتی ہوئی وہ پر سوچ انداز میں آنکھیں بند کیے خود پر گرنے والی بارش کی بوندوں سے پرسکون محسوس کررہی تھی ۔


تم اوپر کیا کررہی تھیں اتنی تیز بارش میں، سوکھاں کو چھت پر سے آتے دیکھ ارتضی نے استفسار کیا تھا ۔
وہ سرکار سائین، بی بی سائین کے ساتھ تھی ، سر جھکائے وہ ڈری تھی ارتضی کے اچانک موجودگی سے ۔
بی بی سائین، رائمہ کی بات کررہی ہو ،ارتضی کو رائمہ کا گماں ہوا تھا۔
کیونکہ شاہدہ بیگم تو ویسے ہی بارش کے شروع ہوتے ہی بستر میں گھس جاتی تھیں۔
وہ سرکار سائین ،وہ ماہین بی بی سائین ،نظریں جھکائے وہ بولی تھی ۔
ماہین ہیں اوپر ،ماہین کے نام پر وہ حیران ہوا تھا ۔
جی سرکار سائین وہ بی بی سائین کا بارش میں نہانے کا دل چاہ رہا تھا اس لیے ۔مزید آگاہ کرتی ہوئی وہ واپس سے چھت پر جانے کے لیے مڑی تھی تاکہ وہ جاکر ماہین کو ارتضی کے آنے اطلاع دے سکے ۔
تم جاؤ اور حویلی کی ساری لائٹیں بند کروا دو، ماہین کے بارش میں بھیگنے کی خبر پر وہ ضبط سے حکم کرتا ہوا خود چھت پر جانے کی خاطر بڑھا تھا ۔
ایک بات اور سب ملازمین اپنے کمرے میں جاؤں ،مجھے حویلی میں کوئی بھی نا دیکھے اگر کوئی ایک بھی ملازم مجھے دکھا تو تم اور وہ اپنے جانے کی تیاری باندھ لینا ۔ غصے سے تنبیہ کرتا ہوا ارتضی سوکھاں کے وجود میں خوف کی لہر دوڑا گیا تھا ۔فورا سے پہلے وہ وہاں سے بھاگی تھی ۔
آپ یہاں کررہی ہیں ماہین ،ارتضی کی آواز اسے اپنا وہم لگا تھا ۔
ماہین ،اب کی بار وہ تھوڑی اونچی آواز میں پکار رہا تھا۔
اتنی اچھی بارش میں بھی مجھے اپنے جلاد شوہر کی آواز کیوں آرہی ہے ،خود سے مخاطب ہوتی ہوئی وہ واپس سے مگن ہوئی تھی ،
پاگل ہے کیا یہ لڑکی ،خود سے بول رہی ہے بات کر رہی ہے ،ایسے بی ہیوو کررہی ہے جیسے میری آواز سنائی ہی نہیں دے رہی ہو ،ماہین کو خود سے بڑبڑاتے دیکھ وہ پریشان ہوا تھا ۔
گرجتے ہوئے بادلوں اور کڑکتی ہوئی بجلی سے ڈر کر وہ دوبارہ سے شیلڈ کے نیچے آکھڑی ہوئی تھی ۔
کہاں رہ گئی سوکھاں، خوف سے سوچتی ہوئی اپنے پیچھے کسی کا سایہ دیکھ کر گھبرائی تھی ۔
کون ہے ،ڈر میں آواز بھی جیسے گلے میں اٹکتی ہوئی محسوس ہوئی تھی ۔
ارتضی شاہ، ماہین کے خوف کو بخوبی سمجھا تھا ۔
ارتضی شاہ مطلب ،پیچھے مڑتی ہوئی وہ نام دہرا گئی تھی ۔
مطلب میں ہوں ارتضی شاہ ،لفظوں پر زور دیتا ہوا ماہین کے کنفیوزڈ چہرے کو حیرت سے دیکھ رہا تھا ۔
یہ سچ میں ہیں یا وہم ہے میرا ، زیب لب بڑبڑاتی ہوئی ارتضی کے چہرے پر اپنے ٹھنڈے ہاتھ رکھتی ہوئی اپنا کنفیوژن دور کرتی ہوئی ایک دم سے پیچھے ہوئی تھی، جیسے کرنٹ لگ گیا ہو ۔
ماہین ۔ ماہین کی عجیب و غریب حرکتوں کو دیکھتا ہوا وہ زچ آیا تھا۔
ماہین آپ سن رہی ہیں ،اب کی بار وہ ذرا غصے سے مخاطب ہوا تھا ۔
ہ۔۔ہ۔ہہاں سن رہی ہوں۔ارتضی کو اپنے روبرو دیکھ وہ اب بھی حیران تھی ۔


سوکھاں یہ لائٹس کیوں بند کروا رہی ہو ۔اپنے کمرے سے باہر آتی ہوئیں شاہدہ بیگم لائٹس آف کرتی ہوئی سوکھاں سے پوچھ رہی تھیں ۔
شاہدہ بیگم کے پوچھنے وہ مزید گھبرائی تھی ۔
بی بی سرکار وہ سائین سرکار کا حکم ہے ،
ارتضی آگیا ہے ،حیدر تو اپنے کمرے میں کب سے جاچکا تھا اور دلاور شاہ تو کب سے سو چکے تھے ۔شاہدہ بیگم کے پوچھنے پر وہ گردن ہلا گئی تھی ۔
کہاں ہے ،ارتضی کے آنے کی خبر انہیں خوشی بخش گئی تھی ۔
بی بی سرکار وہ بی بی سائیں کے ساتھ ہیں چھت پر ،
اچھا اچھا تم جاؤ اور جو حکم شاہ نے دیا ہے وہ پورا کرو ،
شاہدہ بیگم کے کہنے کی دیر تھی وہ کچن میں موجود سب ملازموں کو جانے کا کہتی ہوئی خود بھی ان کے جانے کے لیے پیچھے چل دی تھی ۔
شکر ہے شاہ تم آگئے ۔ماہین اور ارتضی کو سوچ کر مسکراتی ہوئی وہ اپنے کمرے کی سمت بڑھی تھیں ۔


کیا کر رہی ہیں آپ یہاں وہ بھی اتنی تیز بارش میں بیمار پڑگئیں تو ،ماہین کو شیلڈ کے نیچے سے واپس باہر جاتے دیکھ ماہین کا پیچھے سے ہاتھ پکڑ گیا تھا ۔
میں بیمار نہیں پڑوں گی مجھے عادت ہے ،نظریں جھکائے وہ ارتضی کے فکرمندانہ انداز کو سمجھتی ہوئی عام سے انداز میں جواب دے گئی تھی ۔
ماہین آپ کو ایسے یہاں نہیں آنا چاہیے تھا،
وہ ،،وہ می۔۔میر۔۔میرا دل کر رہا تھا بارش میں بھیگنے کا اس لیے ۔اپنی کلائی پر ارتضی کی مضبوط تر گرفت سے وہ گھبرائی تھی ۔
اگر اتنا ہی بھیگنے کا دل کررہا تھا تو آپ شاور کے نیچے کھڑی ہوکر بھیگ سکتی تھیں بارش سمجھ کر ،کم از کم اسے ارتضی سے اسی بات کی توقع نہیں تھی ۔
یہ آپ کا شہر والا گھر نہیں ہے جہاں صرف آپ اور آپ کے بابا رہتے تھے،نرم لہجے میں بول رہاتھا۔
یہ شاہ حویلی ہے جہاں مکینوں سے زیادہ ملازمین کی تعداد ہے ،اگر ایسے حلیے میں شاہ خاندان کی بہو ملازموں کے بیچ سے گزرتی ہوئی اپنے کمرے میں جائیں گی تو کیا عزت رہ جائے گی اس کی ،ماہین کے جسم پر چپکے ہوئے کپڑوں پر سے وہ استحقاق ہونے کے باوجود بھی نظریں چرا گیا تھا ۔
خود پر نظر ڈالتی ہوئی اپنے گیلے ڈوپٹے سے خود کو ڈھانپنے کی کوشش کرتی ہوئی وہ شرمندہ ہوئی تھی ارتضی کے سامنے ۔
سوری ،نظریں نیچی کیے وہ انگلیوں کو آپس میں الجھائے ہوئی تھی ۔
سوری کرنے ضرورت نہیں ہے ،حویلی کی ساری لائٹس آف کرنے کا کہہ دیا ہے ۔ارتضی کا غصہ پل بھر میں غائب ہوا تھا ۔
کچھ توقف کی خاموشی کا راج ہوا تھا ان دونوں کے درمیان جسے ماہین نے توڑنے میں پہل کی تھی ۔
آپ بارش میں نہیں بھیگتے کیا ،ارتضی کو خاموشی سے برستی بارش کو دیکھتا پاکر وہ سوال کرگئی تھی ۔
نہیں ۔مختصر سا جواب دیتا ہوا وہ سامنے ہی دیکھ رہا تھا ۔ماہین کا ہاتھ اب بھی ارتضی کی گرفت میں تھا۔
تو مجھے ہی بھیگنے دے دیں اب تو ساری حویلی کی لائٹس آف ہوگئی ہیں، کافی دیر سے ارتضی کے ساتھ برستی بارش کو دیکھ کر وہ اکتاہٹ کا شکار ہوئی تھی ۔
آپ میری بات تھوڑی مانے گی ،وہ بھی اس کی جس جلاد سے آپ نفرت کرتی ہیں ۔ماہین کا ہاتھ اپنی گرفت سے آزاد کرتا ہوا ناراضگی سے بولا تھا ۔
میں نفرت نہیں کرتی آپ سے اور اب تو بلکل بھی نہیں ۔
بلاوجہ میں آپ سے اب نفرت کیوں کروں ،
پھر سرد رویہ کیوں میرے ساتھ، ماہین کی ہلکی سی آواز میں دیئے گئے جواب پر وہ سوال کرگیا تھا۔
مجھ سے مال والی آپ کی حرکت بھولی نہیں جاتی اس لیے آپ کو دیکھ کر میرا لہجہ خود بخود سرد ہوجاتا تھا ۔ماہین کا انداز کسی ملزم کے اعتراف جرم کے جیسا تھا۔
مگر اب تو اچھے سے بات کررہی ہوں نا اور آگے بھی اچھے سے کروں گی ۔ارتضی کا ہاتھ پکڑتی ہوئی وہ ارتضی کو حیران کرگئی تھی ۔
بخار تو نہیں ہوگیا ہے آپ کو ،اپنے ماتھے پر رکھے ارتضی کے ہاتھ کو وہ غصے سے جھٹک گئی تھی ۔
ماہین کے ہاتھ جھٹکنے پر وہ دل کھول کر مسکرایا تھا ۔
اب نیچے نہیں چلنا آپ کو ،خفگی سے کہتی ہوئی ارتضی مسکراتے ہوئے دیکھ کر نظریں جھکا گئی تھی ۔
چلیں، ماہین کے ہاتھ کو واپس سے تھام گیا تھا ۔
آپ تو سرجری کے بعد آنے والے تھے نا ،اندھیرے میں ارتضی کا ہاتھ پکڑے چلتے ہوئے وہ ارتضی کے اچانک آنے کا سبب جاننا چاہ رہی تھی ۔
آپ کہہ تو واپس چلا جاتا ہوں ۔عام سے انداز مین کہتا ہوا وہ رکا تھا ۔
میں ایسا کب کہا آپ نے ہی کہا تھا سرجری کے بعد آئیں گے، اس لیے پوچھا تھا میں تو ۔خود کو کمپوز سے کرتی ہوئی اداس ہوئی تھی ارتضی کے واپس جانے کا سن کر ۔
آپ کمرے میں جائیں اور چینج کرلیں میں ماں سرکار سے مل کر آتا ہوں ۔ارتضی کو جاتے دیکھ وہ کمرے میں داخل ہوئی تھی ۔


سوئے ہوئے تھے تم ،رات گیارہ بجے حیا کی کال پر وہ ذرا حیران نا ہوا تھا ۔
نہیں جاگ رہا تھا ۔عام سے انداز میں بولتا ہوا وہ بیڈ کراؤنسے ٹیک لگا کر بیٹھ گیا ۔
مجھے تو نیند ہی نہیں آرہی تھی یہ سوچ کر یہ ہماری منگنی کے بعد کی پہلی بارش ہے ۔حیا کی چہکتی ہوئی آواز پر مسکرایا تھا ۔
پر مجھے تو آرہی ہے ،حیا کو چھیڑنے کی غرض سے بول رہا تھا ۔
بڑے ہی کوئی بد مزہ انسان ہو تن جب ہی میں تو تمہیں سڑی ہوئی ککڑی کہتی ہوں ۔چڑتے ہوئے وہ چبا کر بولی تھی ۔
برائے مہربانی مجھے سونے دو اور تم جاگتی رہو تباہی ،حیا کی اب کی بار ہٹ گئی تھی۔
بگاڑ میں جاؤ تم دیکھنا شادی کے بعد یہ تباہی تمہیں اور تمہاری نیند کو تباہ کردے ،بنا حیدر کی سنے وہ غصے سے فون کاٹ گئی تھی ۔
کاش مجھے پہلے ہی تم نظر آجاتی ،یہ سوچ کر اسے ملال ہوا تھا۔
ابھی بھی دیر نہیں ہوئی ہے تم ہی ہو جو میری زندگی میں تباہی مچانے کا حوصلہ رکھتی ہو ۔حیا کے فون کاٹنے کے بعد بیڈ کراؤن سے ٹیک لگائے وہ آنکھیں بند کیے کافی دیر تک اسے سوچ کر مسکرا رہا تھا ۔


شاہدہ بیگم کے کمرے کا دروازہ لاک دیکھ وہ اپنے کمرے کی سمت بڑھا تھا ۔
بھوک اور تھکن کی وجہ سے ان کے کمرے کی سمت آیا تھا مگر لائک دیکھ کر وہ کچن میں جانے کا ارادہ رکھتا تھا ۔
لائٹس اون کرتا ہوا وہ پہلے چینج کرنے کا سوچ کر اپنے کمرے میں گیا تھا ،
جہاں ماہین کو بیڈ پر دراز دیکھ اس کی بھنویں سکڑی تھیں ۔
تھوڑی دیر بعد شاور لینے کے بعد وہ دروازے کی طرف بڑھا ہی تھا لہ ماہین کے پکارنے پر رکا تھا۔
کہاں جارہے ہیں آپ ،ارتضی کو جاتے دیکھ وہ اٹھ بیٹھی تھی ۔
بھوک لگ رہی ہے مجھے اس لیے کچھ کھانے کے لیے لینے جارہا ہوں ،ناب پر ہاتھ رکھے ہوئے تھکن سے چور لہجے میں بولا تھا۔
آپ بیٹھے میں لا دیتی ہوں آپ کے لیے کھانا ،بیڈ سے اترتی ہوئی وہ فرماں بردار بیویوں کی طرح مسکرا کر بولتی ہوئی اسے ہی دیکھ رہی تھی ۔
ایک غیر نے لکھا ہے تو غیر نہیں ہے
لگتا ہے اس بار میری خیر نہیں ہے
تم مجھے کتنی محبت سے دیکھ رہے ہو
حالانکہ میرا تم سے بیر کوئی نہیں ہے
ماہین کا بدلہ ہوا انداز اسے حیرت میں مبتلا کر رہا تھا۔
ٹھیک دس منٹ بعد ہاتھوں میں ٹرے تھامے ماہین کمرے میں داخل ہوئی تھی ۔
ٹرے لاتی ہوئی ماہین کو دیکھ کر مسکرایا تھا مگر یہ مسکراہٹ کچھ سیکنڈ کی مہمان تھی ۔
یہ رہا آپ کا کھانا ۔ارتضی کے سامنے ٹرے رکھتی ہوئی وہ چہک کر بولی تھی ۔
تھینک یو، مسکرا کر ماہین کو دیکھتے ہوئے ارتضی نے اپنے سامنے رکھی ٹرے کو دیکھ کر مسکراہٹ سمٹی گئی تھی ۔
کیا ہوا ،ارتضی کی ٹرے پر ٹھہری نظر کو نوٹس کر گئی تھی ۔
کچھ نہیں، جبران مسکراہٹ لبوں پر سجائے وہ ٹرے رکھے بریڈ کے سوکھے سلائس اور چائے کے دو کپوں کو دیکھ کر اپنی قسمت پر ماتم کنا تھا۔
کیا ہوا یہ کھانا اچھا نہیں لگتا آپ کو ،چہرے پر معصومیت سجائے وہ ارتضی کے صبر کا امتحان لے رہی تھی ۔
اسے کھانا کہتے ہیں ،زیر لب بڑبڑایا تھا۔
دس منٹ میں تو صرف یہ ہی بنایا جاسکتا ہے، ارتضی کی بڑبڑاہٹ وہ بخوبی سن چکی تھی ۔
یہ آپ نے بنایا ہے ،بریڈ کو دیکھ کر طنزیہ انداز میں پوچھ رہا تھا ۔
یہ تو میں نے فریزر سے نکال کر ٹرے میں سجائی ہیں بنائی تو میں نے صرف چائے ہے ،
کھانا اس لیے نہیں لائی کیونکہ وہ رحیم کی مما(ملازمہ ) نے بنایا تھا اور مجھے رائمہ نے بتایا تھا کہ آپ ملازماؤں کے ہاتھ سے پانی لے کر نہیں پیتے کجا کہ کھانا ،
اس لیے مجھے یہ ہی مناسب لگا ۔تفصیل سے بتاتی ہوئی ارتضی کو بریڈ کے سوکھے سلائس کھاتے دیکھ خاموش ہوئی تھی ۔
ماہین کو بیڈ پر بیٹھے آرام سے چائے پیتے دیکھ وہ سوکھے سلائس کو بمشکل چائے گھونٹ بھر کر حلق سے نیچے اتارتا رہا تھا۔
ارتضی جو اپنے آنے والے دنوں کو سوچ کر پریشانی سے گہرا سانس بھر گیا تھا۔


چسکیوں کے ساتھ چائے پیتی ہوئی ماہین کو وہ تاسف سے دیکھ رہا تھا ،
صحیح کہا ہے کسی نے اپنی لسی کس کو کھٹی لگتی ہے ویسے ہی ماہین کو اپنے ہاتھ کی بنائی بدذوق چائے بڑی ہی لاجواب لگ رہی تھی جب ہی تو اتنے آرام سے بیٹھی ہوئی پی رہی تھی۔
برا سا منہ بنائے ہوئے جیسے جیسے وہ ماہین کی بنائی ہوئی بد مزہ چائے پی رہا تھا ویسے ہی اسے لگ رہا تھا کہ اب ساری کی ساری چائے باہر آئے گی چائے ختم کرکے وہ کمرے سے باہر جانے کے لیے اٹھا تھا۔
اب کہاں جارہے ہیں کھانا تو کھالیا ہے آپ نے پھر ، ماہین کو آنکھیں پھاڑ کر سوال کرتے دیکھ ارتضی کو آج صحیح معنوں اپنے شادی شدہ ہونے کا احساس ہوا تھا۔
واک کرنے کے لیے جارہا ہو ،اب اسے کیا بتاتا بد ذوق چائے کا ذائقہ ختم کرنے کی خاطر وہ کچن میں جانے کا ارادہ رکھتا تھا کچھ نا کچھ تو اسے ضرور ملے گا کھانے کے لیے جس سے اس کے منہ ذائقہ چینج ہوجائے گا ۔
اچھا چلیں میں بھی چلتی ہوں آپ کے ساتھ ۔ارتضی حیرانگی سے اسے دیکھ رہا تھا۔
کیا کریں گی آپ واک کرکے آپ آرام کریں ابھی بارش میں بھیگی تھیں آپ کہیں ٹھنڈی ہوا کی وجہ سے آپ کو سردی نا لگ جائے ،بارش کے بعد چلتی ہوئی تیز ٹھنڈی ہوا کا حوالہ دے رہا تھا۔
مجھے کچھ نہیں ہونے والا ان ٹھنڈی ہواؤں سے ،شہر کی میں ہوں پھر بھی حساس آپ ہیں ،ارتضی کے حساس پن پر چوٹ کرتی اپنے سر پر ڈوپٹہ ٹھیک کرتی ہوئی مسکرا رہی تھی ۔
چلیں ،ارتضی سے پہلے وہ جانے کو تیار کھڑی ہوئی تھی ۔
میرا ارادہ بدل گیا ہے اب واک کرنے کا، تھکان بھی محسوس ہورہی ہے ،انگڑائی لیتا ہوا وہ بیڈ کی سمت بڑھا تھا ۔
اچھے سے جانتی ہوں ڈاکٹر جلاد یہ واک کرنے کا تو مہذ بہانا ہے آپ کا ،حقیقت میں تو میری بدذوق چائے کا اثر دور کرنے کی خاطر نیچے جایا جارہا تھا ۔لب دبائے وہ اپنی کی شرارت کو سوچ کر مسکرا رہی تھی ۔
تین دن بنا مجھے بتائے گھر سے باہر رہے ہیں جلاد صاحب کچھ تو میں بھی بیویوں والا بدلہ لوں ، فریزر میں رکھے مکھن اور جیم کو نظرانداز کرتی ہوئی دیکھی بریڈ کو ٹرے پر رکھتی ہوئی مسکرائی تھی ۔
اپنے لیے چائے کپ میں انڈیلتی ہوئی باقی کی بچی ہوئی چائے میں پانی ڈالتی ہوئی مسکرائی تھی ۔
اچھے سے جانتی ہوں سب میری غلطی ہے مگر صحیح انہوں نے بھی نہیں کیا ،مجھے سب بتاتے تو کیا میں نہیں مانتی ،دل میں ہوتے ملال کو وہ سائیڈ کر گئی تھی ۔
آنکھوں پر دایاں ہاتھ رکھ کر لیٹے ہوئےارتضی کو دیکھ وہ اس کے برابر میں آکر بیٹھی تھی ۔
مجھے دیکھنے سے جب آپ کو فرصت مل جائے تو پلیز لائٹ آف کر دیجئے گا، آنکھوں پر ہاتھ رکھے وہ ماہین کی نظریں پر محسوس کررہا تھا۔
میں آپ کو نہیں دیکھ رہی تھی میں تو کچھ سوچ رہی تھی ،اپنی چوری پکڑے جانے پر فورا سے خود کو کمپوز کرگئی تھی ۔
جب آپ اپنی سوچوں سے فارغ ہو جائیں تو سو جائیے گا ۔سائیڈ لمپ آف کرکے وہ ارتضی سے ذرا فاصلے پر لیٹی تھی ۔
پھر سے چلے گئے کیا، رات کے دوسرے پہر میں ارتضی کی جگہ خالی محسوس کرتی ہوئی وہ لیمپ آن کرکے اٹھ بیٹھی تھی ۔
کیا ہوا ماہین ۔دونوں ہاتھوں سے سر تھامے ماہین کو بیٹھے دیکھ ڈریسنگ روم سے باہر آتے ہوئے ارتضی نے پوچھا تھا ۔
آپ کہاں چلے گئے تھے ۔ارتضی کو سامنے دیکھ کر وہ حیران ہوئی تھی ۔
کہیں بھی نہیں آپ کے سامنے ہی تو ہوں ۔ماہین کے ہاتھ پر ہاتھ رکھتا ہوا وہ اسے اپنے موجودگی کا احساس دلا رہا تھا ۔
آپ کیا سمجھ رہی تھیں، ماہین کے بالوں میں انگلیاں چلاتے ہوا ماہین کے اچانک سے بدلے ہوئے انداز چونکا رہے تھے ۔
کچھ بھی نہیں بس ایسے ہی ۔آنکھیں بند کیے اسے اپنے بالوں میں ارتضی کی چلتی ہوئی انگلیاں سکون بخش رہی تھیں ۔
کچھ دیر بعد نیند کی وادیوں میں اترتی ہوئی ماہین کو دیکھ اپنی اچانک سے بدلی قسمت پر رشک کررہا تھا ،
اسے تو لگا تھا ماہین کے ساتھ اور اعتبار کے لیے اسے ساری عمر ہی خاک چھانی پڑے گی مگر اتنی جلدی ماہین کو بدلے دیکھ وہ ٹھیک سے خوش بھی نہیں ہو پارہا تھا ،
عجیب سی کشمکش چل رہی تھی اس کے دماغ میں ۔
فضا میں گونجتی فجر کی آذان کی آواز پر وہ اپنی جگہ سے اٹھتا ہوا وضو کرنے کی غرض سے باتھروم کی سمت بڑھا تھا ۔
نماز پڑھنے کے بعد سوئی ہوئی ماہین کو مسکرا کر دیکھتا ہوا سائیڈ ٹیبل پر رکھے اپنے سیل فون کو اٹھا کر وہ گلاس ونڈو کے پاس جاکھڑا ہوا تھا ۔۔
وعلیکم اسلام:
ڈاکٹر ہیر کیسی طبعیت ہے اذہان کی،میڈیسن تو دی ہیں نا آپ نے اسے وقت پر ،فون اٹینڈ کرتے ہی ارتضی نے سوال کیا تھا ۔
آپ نے فکر رہیں سر میں نے اسے وقت پر انجکشنبھی دے دیا تھا اور میڈیسنز بھی ،
آپ سوئی ہوئی تھیں، ڈاکٹر ہیر کی نیند میں ڈوبی ہوئی آواز کو بخوبی محسوس کرگیا تھا ۔
جی سر بس تھوڑی دیر پہلے ہی آنکھ لگ گئی تھی،پر اب میں اٹھ گئی ہوں، ارتضی کے ڈر سے صفائی دیتی ہوئی وہ جلدی سے بولی تھی ۔
آپ سے لاپروائی کی امید نہیں تھی مجھے ڈاکٹر ہیر ، ہلکی آواز میں غرلایا تھا،
سوری ٹو سے سر ،اذہان صرف دیکھ نہیں سکتا ہے آپ ایسے پریشان ہورہے ہیں جیسے خدانخواستہ اسے کوئی بڑی بیماری ہو ،ارتضی کی اذہان کو لے کر اتنی فکر پر وہ پھٹ پڑی تھی ۔
آپ نے اذہان کی میڈیکل رپورٹ اچھے سے پڑھی تو تھی نا ڈاکٹر ہیر یا اسے اپنے سامنے رکھ کر آپ سو گئیں تھیں ۔چبا کر بولتا ہوا ڈاکٹر ہیر کی نیند پر چوٹ کرگیا تھا ۔
جی ،اب کی بار ہیر منمنائی تھی ۔
تو پھر آپ نے رپورٹ کے پیج نمبر فائف کی تھرڈ لائن تو آپ نے پڑھی ہی ہوگئی جس میں صاف صاف لکھا ہے کہ وقت کے ساتھ ساتھ اذہان کی ذہنی مریض بگڑ رہی ہے ،
زیادہ دیر سونے سے وہ بے ہوش بھی ہوسکتا ہے ،پڑھا تھا نا آپ نے یہ ڈاکٹر ہیر ۔
لفظوں پر زور دیتا ہوا ہیر کی خاموشی پر گہرا سانس بھر گیا تھا ۔
ہیر کی خاموشی اس کا شک یقین میں بدل گیا تھا، ڈاکٹر ہیر نے رپورٹس ٹھیک سے نہیں پڑھی تھیں جب ہی تو وہ چونک گئی تھی ارتضی کے منہ سے اذہان کی خراب ہوتی ذہنی حالت کا سن کر ،
سکتے سے باہر آئیں اور اذہان کو چیک کریں وہ سو ہی رہا ہے یا بے ہوش ہے، ارتضی کے بولنے پر فورا سے اذہان کی نبض چیک کرتی ہوئی وہ اسے سوتے دیکھ پرسکون ہوئی تھی ۔
سو رہا ہے سر ،وہ گھبرائی ہوئی آواز میں بولی تھی ۔
ابھی ساڑھے چار بج رہے ہیں ٹھیک سات بجے تک اذہان کو اٹھا دیجئے گا ، جب وہ اٹھ جائے تو میل اسٹاف کو بلا لیجئے گا تاکہ وہ اس کی چینج کرنے میں مدد کرسکے ،جب وہ فارغ ہوجائے تو اسے اچھے سے بریک فاسٹ کروا دیجئے گا اور پھر ٹھیک آدھے گھنٹے بعد اسے واک کروانی ہے آپ کو ،یہ سب یاد سے کرنا ہے آپ کو ،اپنی سنا کر وہ فون رکھ گیا تھا ۔
واپس سے ماہین کے برابر میں کراؤن سے ٹیک لگا کر بیٹھتا ہوا آنکھیں بند کرگیا تھا ،
صبح صادق کے وقت حویلی کے تمام ملزمین اٹھ جاتے تھے یہ رول شروع سے ہی شاہ حویلی میں چلتا ہوا آرہا تھا،
جیسے جیسے سورج چار سو اپنی کرنیں بکھر رہا تھا ویسے ہی حویلی کے مکین اپنے اپنے بستر چھوڑ کر فریش ہوکر ڈائینگ روم اکھٹے ہورہے تھے ۔
کراؤن کے ساتھ ٹیک لگائے بیٹھے ہوئے وہ سو گیا تھا ،سورج کی روشنی سے اس کی آنکھ کھولی تھی ،
ماہین کو اپنے سینے پر سر رکھے سوئے دیکھ وہ مسکرایا تھا،ماہین کی نیند کا خیال کرتا ہوا وہ جاگنے کے باوجود بھی ایک سمت لیٹا ہوا تھا ،
ایسا کیا ہوا ہے ماہین شاہ جو آپ اتنی جلدی بدل گئی ہیں ،ماہین کے چہرے پر آئے بالوں کو کان کے پیچھے کرتا ہوا اس کی سکڑتی ہوئی آنکھوں کو دیکھ کر دلفریب انداز میں مسکرا رہا تھا ۔
ارتضی کے سینے پر سر رکھے سوئی ہوئی ماہین کسمساتی ہوئی مسکرا کر آنکھیں کھول گئی تھی ،
سوری ،خود کو ارتضی کے اتنے قریب لیٹے دیکھ فورا سے بدک کر پیچھے ہوئی تھی ۔
اٹس اوکے، ارتضی کے نارمل تاثرات دیکھ وہ شرم نظریں جھکائے ہوئی تھی ۔
آپ آج شام چار بجے تک تیار رہیئے گا، ہمیں ڈنر کے لیے ڈاکٹر عامر کے گھر جانا ہے ،ماہین کے مثبت میں ہلتے سر کو دیکھ کر وہ مسکراتا ہوا ڈریسنگ روم سے اپنے کپڑے لیے باتھروم میں گیا تھا ۔
افففففففف،ماہین ،ارتصی کے اتنے قریب خود کو سوچ کر بھی اسے شرم محسوس ہورہی تھی ۔


تمہیں پتا ہے تمہارے سائین کی شادی ہوگئی ہے ،ریحان کی آواز پر سر جھکے وہ اس کی چھوٹی بیٹی کے ساتھ کھیل رہی تھی ،
جانتی ہوں، نکاح ہوا تھا جب بھی آپ ایسے ہی آئے تھے مجھے بتانے ،نوری کے جواب پر وہ قہقہ لگا گیا تھا۔
بہت ہی منحوس رات تھی وہ جب میں آپ کی گاڑی کے سامنے آئی تھی کاش اس رات میں مر جاتی تو زیادہ اچھا رہتا ،ریحان کی اپنی پیٹھ پر رینگتی ہوئی انگلیوں کو محسوس کرتی ہوئی خود کے فیصلے پر ۔
اس رات شاہ حویلی سے نکال دینے کے بعد وہ بنا اپنی کو لیے اکیلی ہی حویلی سے نکلی تھی ۔
اندھا دھند بھاگتی ہوئی وہ اپنی آنکھوں میں پڑتی کار کی ہیڈ لائیٹ کی روشنی سے آنکھوں پر ہاتھ رکھتی ہوئی رکی تھی اور اس ہی وقت اپنے گھر جاتا ہوا ملک ریحان جو نشے کی حالت میں اپنے کار ڈرائیوو کرریا تھا،کسی کو گاڑی کے سامنے کھڑے دیکھ اچانک سے بریک لگا گیا تھا ۔
ارے واہ ، نوری کو سامنے دیکھ وہ چہکا تھا ،
کیا ہوا اتنی رات کو اپنے اس دلبربا حسن کو لیے بھاگتی پھر رہی ہو اگر اپنا حسن سنبھالا نہیں جارہا تو مجھے برا دو میں سنبھالنے میں مدد کردیتا ہوں، نشے میں بہکتا ہوا نوری کی جھکا تھا جس پر نوری نے اسے خود سے دور کرنے کے لیے دھکا دیا تھا،
جس پر وہ ہنستا ہوا پیچھے ہوگیا تھا،
آؤچھوڑ دیتا ہوں تمہیں شاہ حویلی کیا یاد کرے گا تمہارا ارتضی سائیں کہ ملک ریحان نے اس کی حویلی کی نوکرانی کو باعزت چھوڑ کر گیا ہے ،شام بے نیازی سے کہتا ہوا ارتضی کے نام پر آئے نوری کی آنکھوں میں آنسو دیکھ کر سنجیدہ ہوا تھا ۔
مجھے نہیں جانا شاہ حویلی واپس ،وہ بھرائی آواز میں بولی تھی ۔
پھر کہاں جاؤ گی اتنی رات میں، آنکھوں پر زور دیے وہ پوچھ رہا تھا۔
کسی ایسی جگہ جہاں میں شاہ حویلی کی نوکرانی کے نام سے جانی نا جاؤ،جہاں میرا نام اور اوقات دونوں سے کوئی بھی واقف نا ہو ۔نم آنکھوں سے بولتی ہوئی خود انجان تھی کہ اسے کہ ان جانا ہے،۔
اگر تم چاہوں تو میں تمہیں اپنے ساتھ اپنے گھر لے جاسکتا ہوں مگر ایک شرط پر ،بنا لڑکھڑائے لہجے میں وہ سنجیدہ سے بول رہا تھا۔
کیسی شرط، ریحان جیسے شخص سے اسے ویسے اچھے کی امید کہ ان تھی پھر بھی وہ پوچھ گئی تھی ۔
مجھے تم چاہیے ہو اور تمہیں نام، اوقات کے ساتھ دولت اور شہرت چاہیے ،صحیح کہا نا ،ریحان کو پھٹی نظروں سے دیکھتی ہوئی وہ مثبت میں گردن ہلا گئی تھی ۔
آؤ گاڑی میں بیٹھوں تم شہرت کی دنیا میں اپنے ساتھ لے کر چلتا ہوں، مکرنا مت تم میری بن کر رہو گی، جیسا میں کہوں گا ویسا ہی کرو گی پھر دیکھنا کیسے آسمان کو چھوٹی ہو تم ،اوپر سے لے نیچے تک اسے دیکھتا ہوا نوری کا ہاتھ پکڑ کر اسے کار میں بیٹھا گیا تھا،
تھوڑی دیر کی مسافت کے بعد گاڑی ملک ہاؤس کے پورچ ایریا میں رکی تھی ،
گاڑی کی آواز سن کر باہر آنے والی شمازیہ تھی ریحان ملک کی بیوی جو اس وقت ریحان کے انتظار میں پریشانی سے گھر میں چکر کاٹ رہی تھی ۔
شکر ہے آپ آئے میری تو جان ہی نکلی جارہی تھی ،ریحان کے پیچھے آتی ہوئی نوری کو دیکھ کر وہ پل بھر کے شاکڈ ہوئی تھی ۔
یہ کون ہے ریحان،
یہ میرے دوست کی بہن ہے ماں باپ نہیں ہے اس کے ایک بھائی ہی تھا جس کا کچھ عرصے پہلے ہی انتقال ہوگیا تھا ،اب چچا والوں نے اسے گھر سے نکال دیا ہے یہ تو شکر ہے کہ رات کے اس پہر یہ مجھے مل گئی اگر کسی اور کے ہاتھ لگ جاتی تو نجانے بیچاری کے ساتھ کیا ہوجاتا یہ سوچ کر میں اسے اپنے ساتھ لے آیا اگر تمہیں اچھا نہیں لگا تو میں واپس سے وہیں چھوڑ آتا ہوں جہاں سے یہ مجھے ملی ہیں ۔شمازیہ کی نرم و حساس طبیعت کو اچھے سے جانتا تھا تبھی اس نے دکھی کہانی سنائی تھی ،
وہیں نوری اسے نشے میں بھی اتنے اچھے سے جھوٹ بولتے دیکھ حیران کھڑی تھی ۔
نہیں مجھے ذرا بھی بڑا نہین لگا بلکہ آپ نے تو یہ بہت نیک کام کیا ہے اللہ پاک آپ کو اس اجر دیں گے ۔
اللہ کی گائے ۔نوری کی سمت بڑھتی ہوئی شمازیہ کو دیکھ وہ بڑبڑایا تھا ۔
بہت افسوس ہوا سن کر ویسے نام کیا ہے تمہارا ،سارے سوال یہاں پر ہی پوچھ لینا ،شمازیہ کی بات کاٹتا ہوا تلخ لہجے میں بولا تھا۔
آؤ میرے ساتھ ،ریحان کے ایسے رویے کی وہ عادی تھی تبھی بنا کوئی تاثرات دیئے وہ نوری کو اپنے ساتھ لیے گھر کے اندر کی طرف بڑھی تھی۔
آپ کے اور ملک صاحب کے بچے ہیں کیا ،نوری نے اچانک سے پوچھا تھا جس پر وہ مسکرائی تھی ۔
نوری کو کھانا کھلانے کے بعد شمازیہ اسے اپنے ساتھ لیے گیسٹ روم میں لے جارہی تھی،
جی میری اور ریحان کی دو جڑواں بیٹاں ہیں ،شمازیہ کے بتانے پر نوری کی نظر اپنے پیچھے کھڑے ریحان پڑگئی تھی ،
جو اسے خاموشی سے جانے کا اشارہ کررہا تھا ۔
نوری کی آنکھیں خود بخود نم ہورہی تھی ان دونوں بچیوں کا سوچ کر۔
پچھے سے نوری کو جاتے دیکھ وہ اپنے کمرے میں گیا تھا جہاں اس کی دونوں بیٹیاں بڑی ہی شان سے بیڈ پر سوئی ہوئی تھیں ۔
مجھے معاف کردیں ،ارے پاگل تک معافی کیوں مانگ رہی ہو تمہاری مرضی سے تھوڑی یہ سب ہوا ہے،
اس سب میں اللہ پاک کی مرضی شامل ہے اور دیکھنا اس میں تمہاری بھلائی ہی چھپی ہوگی ۔نوری کو گلے سے لگائے وہ انجان بھولی بھالی سی لڑکی مسکرا رہی تھی ،
نوری کو یہاں آئے ہوئے ایک ہفتہ گزر گیا تھا ریحان کی دونوں بیٹیاں انابیہ اور ابیہا دونوں ہی اس سے کافی اٹیچڈ ہوگئی تھی ۔
شمازیہ کو نوری کے پاس ناپا کر ریحان مسکراتا ہوا اس کے آیا تھا ۔
آج ارتضی شاہ کا نکاح ہوگیا ہے، لفظوں پر زور دیتا ہوا ریحان ملک نوری کو دیکھ کر بول رہا تھا ،جیسے اسے سنا رہا ہو۔
نم آنکھوں سے ریحان کو دیکھتی اپنی جگہ سے اٹھ کھڑی ہوئی تھی ۔
مجھے شہر جانا ہے آج ہی ،
تیار رہنا شام تک لے چلوں گا ،دن بدن نوری کے لیے ریحان کے احساسات بدل رہے تھے ۔
کہاں کھو گئی پریہا نور ،نوری کے آنکھوں کے سامنے ہاتھ لہراتا ہوا مسکرایا تھا ۔
آئس کریم کھانے چلیں، نوری کے انداز سے وہ ایک پل کے چونکا تھا۔
لے کر چلیں گے ۔ریحان کی آنکھوں میں دیکھتی ہوئی وہ پوچھ رہی تھی ،بس یہنی ریحان نے ہار مان لی تھی اور ساتھ لے جانے پر حامی بھر گیا تھا۔


بہت پیاری لگ رہی ہیں آپ ماہین ،گرین کلر کی کامدار شارٹ فراک کے ساتھ ہم رنگ ڈوپٹہ اور کپری زیب تن کیے ہوئی تھی، لائیٹ سا میک اپ کیے وہ سر پر ڈوپٹہ رکھتی ہوئی اسکن کلر کی کڑھائی والی چادر کاندھوں پر لیے ہوئے تھی ۔
ارتضی کی ٹکی ہوئی نظریں محسوس کرتی ہوئی ارتضی کے سامنے نظر اٹھانے سے گھبرا رہی تھی ۔
تعریف جب کی جاتی ہے تو اسے مسکرا کر وصول کرنا چاہیے ،ماہین کے سر پر ڈوپٹے کو اچھے سیٹ کرتا ہوا وہ اس کے گھبرائے ہوئے چہرے کو مسکرا کر دیکھ رہا تھا ۔
چلیں ،نظریں جھکائے ماہین کو ارتضی کے سامنے مزید دیر کھڑے رہنا محال لگ رہا تھا ۔
اب چلتے ہیں ،ماہین کی پیشانی پر عقیدت سے لب رکھتا ہوا ماہین کی بند آنکھیں ہونے کے باوجود پلکیں جھپکتی ہوئی دیکھ وہ مسکرایا تھا ۔
ارتضی کا ہاتھ پکڑے وہ پیچھے پیچھے چل رہی تھی ۔
ارتضی کے لمس کو پہلی بار اپنی پیشانی پر محسوس کرتی ہوئی وہ مسکرا رہی تھی ۔
جاری ہے ۔