Hasil E Zeest By Mehwish Ghafoor Readelle50217 Episode 26 Part 3
No Download Link
Rate this Novel
Episode 26 Part 3
کہاں جارہے ہیں حیدر اتنی صبح صبح ۔حیدر کے پیچھے پیچھے چلتی حیا آخر کار زچ آئی تھی اس کے نا بتانے پر ۔
یہ صبح تو نہیں ہے گیارہ بج رہے ہیں ۔عام سے لہجے میں بولتا اپنی تباہی کے اترے چہرے کو دیکھ کر مسکرایا تھا۔
پھر بھی کہاں جارہے ہیں ۔حیا کے سوال پر وہ خاموش رہا تھا۔
تمہیں عزت راس ہی نہیں ہے سڑی ہوئی ککڑی کہاں جارہے ہو اس وقت وہ بھی مجھے بنا بتائے ۔حیدر کے سامنے کھڑی ہوئی تھی غصے سے بولی تھی ۔
اپنی زندگی کی خاطر زندگی سے مہلت لینے ،حیا کی پیشانی پر محبت کی مہر ثبت کرتا ہوا اسے حیران وپریشان چھوڑ کر گیا تھا ۔
کیا ہوا میری خوبصورت بیوی کو اور یہ بیگ کیوں پیک کیے ہوئے بابا کے پاس جارہی ہو کیا ۔پیچھے سے شمازیہ کو اپنے حصار باندھتا ہوا گھمبیر لہجے میں بول رہا تھا ۔
جبکہ بیگ پیک ہوئے دیکھ دل ہی دل میں خوش ہوا تھا ۔
نہیں اس بار میں کہیں نہیں جارہی ۔خود کو ریحان کی گرفت آزاد کرواتی ہوئی سرخ آنکھیں لیے ریحان کو کہیں سے بھی پہلے والی شمازیہ نہیں لگی تھی ۔
جس کی نظروں میں اس نے آج تک اپنےے لیے پیار اور عزت دیکھی تھی آج ان آنکھوں میں خود کے اجنبیت محسوس ہوئی تھی ۔
کیا ہوا سوئیٹی ۔ریحان کے لہجے میں ڈر محسوس کرتی ہوئی وہ اس کی جانب بڑھتے دیکھ پیچھے ہوئی تھی وہی ریحان کے قدم بھی ساکت ہوئے تھے بیڈ پر اپنا سامان دیکھ کر ۔
یہ کیا ہے شمازیہ ۔سامان کی طرف اشارہ کرتا ہوا وہ شمازیہ کے کھوکھلے قہقہے پر چونک اٹھا تھا ۔
میں کہیں نہیں جارہی آپ جارہے ہیں یہ آپ کا سامان پیک کیا ہے میں نے ۔ریحان کے ساکت چہرے کو دیکھ کر اسے گھن محسوس ہورہی تھی ۔
میں کہاں جارہا ہوں ۔حیرت سے پوچھتا ہوا وہ پھر سے شمازیہ کی سمت بڑھا تھا کی شمازیہ نے اسے ہاتھ کے اشارے سے رکنے کا کہا تھا۔
یہ خلع کے پیپرز ہے جو میں نے سائن کردیئے ہیں آپ بھی کر دیجئے ۔ریحان کا دماغ سن ہوا تھا خلع کے پیپرز کا سن کر ۔
میں نے کچھ غلط سن لیا ہے شاید تم کیوں خلع لینے کی بات کرنے لگی مجھ سے ۔خود کی ذات کو دلاسہ دیتا ہوا وہ شمازیہ کے کڑے تیوروں سے پہلی ڈرا تھا ۔
آپ نے بلکل سہی سنا ہے میں نے یہ کہا ہے کہ مجھے اب آپ کے ساتھ نہیں رہنا ۔
حق مہر کے حساب سے یہ گھر میرے نام ہے اور آپ کی جائیداد میں میرا برابر کا حصہ بھی ہے اس لیے میں تو یہ گھر نہیں چھوڑ رہی ہوں مگر آپ کو مزید یہاں برداشت نہیں کر پاؤں گی ۔نفرت سے کہتی ہوئی وہ ریحان کو طیش دلا گئی تھی ۔
کون سے حق مہر کی بات کررہی ہو تم ۔حق مہر کی شرائط بھول گئی تم ۔ریحان کے لہجے کی مضبوطی دیکھ وہ مزید ٹوٹی تھی ۔
اگر میں تمہیں خود سے طلاق دیتا ہوں جب تمہیں یہ گھر ملے گا ۔اور یہاں تو تم خود خلع لینا چاہ رہی ہو ۔تمخسرانہ انداز میں کہتا ہوا وہ شمازیہ کا مذاق بنا کر قہقہ لگا گیا تھا ۔
نہیں چاہیے مجھے آپ کی نام نہاد دولت جب مجھے آپ کا نام اپنے نام کے ساتھ برداشت نہیں ہورہا لعنت بھیجتی ہوں آپ کی اس حرام دولت پر یہ آپ کو ہی مبارک ہو ۔شمازیہ کے الفاظ اسے ساکت کرگئے تھے ۔
ریحان ملک آج میں آپ کو اپنی اور اپنی بیٹیوں کی ہر ذمہ داری سے آزاد کرتی ہوں ۔جس شخص کو وہ اپنا سب کچھ مان بیٹھی تھی آج اس کو کسی دوسری عورت کے ساتھ مل کر دکھا دینا اسے جیتے جی مار گیا تھا۔
تاکہ آپ اپنی اس سوکولڈ نوری کے ساتھ ایک حرام رشتے میں بندھے نارہیں ،اور ایک حلال رشتہ قائم کرلیں اس کے ساتھ ۔خود پر ضبط کیے وہ بمشکل بول رہی تھی ۔
شمازیہ کے منہ سے نوری کا نام سن کر ریحان کے چاروں طبق روشن کرگئی تھی ۔فورا سے اپنا رخ بدلتا ہوا شمازیہ کے سمت بڑھا تھا ۔
سوئیٹی ایسی کوئی بات نہیں ہے یقینا تمہیں کوئی غلطی فہمی ہوئی ہے ورنہ تمہیں لگتا ہے کہ تمہارا ریحان اتنی گندی حرکت کرے گا ۔شیریں لہجے میں کہتا ہوا وہ شمازیہ کو اپنے جال میں پھنسانے کی کوشش کررہا تھا ۔
گندی حرکت ارے تم جیسا گھٹیا انسان میں نے اپنی پوری زندگی میں نہیں دیکھا جو ایک ہی چھت کے نیچے بیوی اور رکھیل دونوں رکھے ہوئے ہے داد دینی پڑے گی تمہارے نڈر پن کی ۔ جھوٹ پر جھوٹ بولتے آرہے ہیں آپ ۔
یہ نیچ گرا ہوا انسان میرا ریحان ہوہی نہیں سکتا جس سے میں نے محبت کی تھی ۔وہ تو تم نہیں ہو ۔تم تو کوئی ہوس پرست انسان ہو جسے اپنی دو بیٹوں کے باپ ہونے کے باوجود بھی مکافات عمل سے ڈر نہیں لگتا ۔خاموش بت بنا شمازیہ کو سن رہا تھا بنا کوئی جواب دیئے سننے کے علاوہ اس کے پاس بچا ہی کیا تھا ۔
جو وہ شمازیہ کو خاموش کرواتا ۔
جو بات وہ شمازیہ سے چھپاتا آیا تھا آج اچانک ایسے اس کے سامنے سب سچ آجائے گا یہ تو اس میں سوچا بھی نہیں تھا۔
پر مجھے لگتا ہے ڈر کہیں آپ کے کیے گھٹیا اعمال میری معصوم پھول جیسی بچیوں کے سامنے ناآجائیں ۔بھرائی آواز میں بولتی ہوئی آنکھوں میں نفرت لیے اپنے سامنے خاموش کھڑے ریحان کو دیکھتی ہوئی گویا ہوئی تھی
اس لیے میں اپنی دونوں بیٹوں کو لے کر یہاں سے بہت دور جارہی ہوں جہاں آپ کا گندہ سایہ تک میری بچیوں پر نا پڑے ۔ اپنا فیصلہ سناتی ہوئی وہ جانے کے لیے مڑی تھی ۔
مجھے ایک موقع تو دو اپنی صفائی دینے کا ۔نوری نے مجھے ورغلایا تھا ورنہ تم بتاؤ کیا میں ایسا ہوں ۔ریحان کی بات ہر اس بار وہ قہقہ لگا گئی تھی ۔
کتنا اور گرے گے آپ مجھے نوری سے شکایت ہے بھی کیونکہ میرےاپنے شوہر مجھے دکھا دیا ہے ۔
بس اس نے تو میری آنکھوں پر بندھی محبت اور اعتبار کی پٹی کھول دی ہے ۔
نجانے کتنی لڑکیوں کو تن نے اپنی ہوس کانشانہ بنایا ہے سوچ کر بھی گھن آتی ہے مجھے ۔
شمازیہ ۔ریحان کے پکارنے پر شمازیہ نے اسے بیچ میں روک دیا تھا ۔
اپنی گھٹیا غلیظ زبان سے میرا نام بھی مت لینا ورنہ مجھ سے بڑا کوئی نہیں ہوگا تمہارے لیے ۔وہ جاتی ہوئی رکی تھی۔
میری بیٹیاں نہیں جائے گی تمہارا ساتھ سنا تم نے ۔وہ پیچھے سے چلا اٹھا تھا۔
خلع کے پیپرز کے ساتھ کسڈی پیپرز بھی ہے جب تک انابیہ اور ابیہا ساتھ سال کی نہیں ہوجاتی جب تک وہ میرے ہی ساتھ رہے گی اور اسے کے بعد بھی ۔وہ کہہ کر وہاں رکی نہیں تھی ۔
اپنی زندگی کی سب سے بڑی ہار ریحان ملک کے مقدر میں ٹھہری تھی ۔جسے وہ کھونے سے ڈرتا تھا آج وہ اسے چھوڑ کر جاچکی تھی ۔
زیست کے اس کٹھن سفر میں وہ لاحاصل ٹھہرا تھا ۔
سب سے فاسٹ ماہین ریاض ۔
سب سے فاسٹ ماہین ریاض ۔
کیا بول رہی ہیں ماہین ۔دونوں ہاتھ باندھے وہ خود کو حوصلہ دیتی ہوئی بڑبڑا رہی تھی ۔جو ارتضی صاف سن پا رہا تھا کان میں لگے ہوئے بلیوٹوتھ کے ذریعے ۔
آپ چپ ہو جائیں میں خود کا حوصلہ باندھ رہی ہو ۔جیسے جیسے وہ قدم نوری کی بتائی ہوئی جگہ کی سمت بڑھا رہی تھی ویسے ہی اسے اس خوبصورت چڑیل سے ڈر محسوس ہورہا تھا ۔
یہ تباہی کیوں فون کررہی ہے تمہیں، ارتضی کے اچانک سوال پر وہ رکی تھی ۔
کرے گی ہی نا کیونکہ آپ مجھے وہاں ہسپتال کا کہہ کر لائے ہیں فکر ہورہی ہوگی اسے ۔سر پر رکھے ڈوپٹے کو سیٹ کرتی ہوئی سامنے نوری کے ساتھ کسی شخص کھڑے دیکھ چونکی تھی ۔
ارتضی نوری اکیلی نہیں ہے اس کے ساتھ کوئی شخص اور بھی جو یہاں موجود ہے اس کے ساتھ ۔ماہین کی خبر ارتضی کو حیران کرگئی تھی۔
کون ہے وہ شخص آپ نے پہلے دیکھا ہے اسے ۔پوچھتا ہوا ارتضی گاڑی پارک کرکے ماہین کی سمت بڑھا تھا ۔
کب آئیں گی ماہین صاحبہ تم نے ٹائم کرو صحیح سے بتایا تھا نا ۔مسلسل آدھے گھنٹے سے ماہین کا انتظار کرتا ہوا بھڑک اٹھا تھا ۔
نہیں اس کی پیٹھ ہے میری طرف ۔بلیک پینٹ کے ساتھ ایش گرے کلر کی شرٹ پہنے ہوئے وہ شخص نوری کے ساتھ محو گفتگو تھا کہ اچانک ہی وہ اپنی پیشانی پر ہاتھ رکھے غصے سے پیچھے مڑا تھا ۔
وہاج ۔۔اسے دیکھ ماہین کے منہ سے بے ساختہ ہی نکلا تھا۔
وہاج کہاں سے آگیا یہاں ۔ماہین کی بات سے زچ آیا تھا ۔
وہاج اور نوری ایک ساتھ ہیں ارتضی ۔وہاج ایسا کیسے کرسکتا ہے ۔پل بھر میں ماہین کی آنکھوں میں گھلی تھی ۔
تم اتنے گھٹیا نکلو گے وہاج یہ میں نے سوچا نہیں تھا مگر اب تمہیں تمہاری اس حرکت کے بعد تمہیں چھوڑو گا نہیں چبا کر کہتا ہوا وہ ماہین کی سمت متوجہ ہوا تھا ۔
ماہین آپ کو مضبوط ہونا ہے کمزور نہیں پڑنا ۔
جی میں اندر جارہی ہوں بس آپ بھی جلدی سے آجائیں ۔ریسٹورینٹ میں داخل ہوتی وہ حیران ہوئی خالی ریسٹورینٹ کو دیکھ کر ۔
آؤ معصوم لڑکی مجھے تمہارا ہی انتظار تھا ۔نوری کی آواز سن کر وہاج فورا سے چھپا گیا تھا تاکہ ماہین اسے نا دیکھ سکے ۔
کیسی ہو ۔لہجے میں محبت سموئے وہ ماہین کے ساکت چہرے پر ہاتھ رکھتی ہوئی بولی تھی ۔
اچھی ہوں ۔اسے دیکھ کر اپنی گھبراہٹ دبائے ماہین مبہم سا مسکرائی تھی ۔
پتا ہے لوگ میری خوبصورتی پر مرتے ہیں میری ایک نظر پر جان لٹانے کو تیار رہتے ہیں ۔
مگر تمہاری معصومیت میری خوبصورتی کو مات دے گئی معصوم لڑکی ،رشک بھرے لہجے میں بولتی ہوئی ماہین کے عام سے سراپے کو دیکھ رہی تھی ۔
چوڑی دار پجامے کے ساتھ سرخ پیروں تک آتی فراق کے پہنے ہوئی سر پر سفید رنگ کا ڈوپٹہ ٹکائے ہوئے اپنے کندھے پر رکھی براؤن کلر کی چھوٹے چھوٹے شیشوں کے کام والی شال کی دونوں سائیڈ پکڑے ہوئی تھی ۔
تمہاری اس ہی معصومیت کا فائدہ ارتضی شاہ اٹھا رہا ہے تمہیں بےوقوف بنا کر ۔ماہین کی آنکھیں نم ہوئیں تھیں ۔
ارے ارے رو مت معصوم لڑکی میں ہوں نا تمہارے ساتھ ۔
اب ارتضی شاہ تمہاری معصومیت کا مزید فائدہ نہیں اٹھا پائے گا ۔ماہین کو ہاتھ پکڑے وہ آگے بڑھی تھی مگر ماہین نے اس کا ہاتھ غصے سے جھٹک دیا تھا ۔
ہاتھ مت لگانا مجھے ۔ماہین کے کڑے تیوروں دیکھ نوری شاکڈ ہوئی تھی ۔
اپنے پلین کو دیکھ ہوتے دیکھ وہاج کو حیرت کا جھٹکا لگا تھا ۔
شرم نہیں آتی تمہیں اس طرح کسی کے کردار پر انگلیاں اٹھاتے ہوئے ۔ماہین کے سوال پر نوری نے ڈھٹائی سے گردن ہلائی تھی ۔
کیوں شرم آئے گی مجھے کردار کی دھجیاں اڑانے کی شروعات تو ارتضی شاہ نے کی تھی میں تو بس وہی واپس لوٹا رہی ہوں تمہیں اور ارتضی شاہ کو الگ کرکے ۔ماہین کی آنکھوں میں حیرت نا دیکھ وہ پھر سے مخاطب ہوئی تھی ۔
سوچو ارتضی شاہ کو پتا چلے گا جب کہ تم مجھ سے ہاتھ ملانے آئی تھی سب سے چھپ چھپا کر ،کیا تم سے تعلق برقرار رکھے گا تمہارا ارتضی ۔نوری کی بات پر وہ تاسف سے گردن ہلا گئی تھی ۔
اتنے خوبصورت چہرے کے پیچھے اتنا سفاک چہرہ چھپا ہوگا یہ میں سوچ بھی نہیں سکتی تھی ۔
شرم محسوس ہورہی ہے تمہیں ایک عورت کہتے ہوئے بھی۔
کیونکہ عورت بے حد انمول ہوتی ہے ،شیشے کی طرح کردار کی شفاف ہوتی ہے ۔شرم و حیا عورت کا زیور کہلاتا ہے ،پاکیزہ محبت کی گواہی عورت ،یقین کامل عورت ،عورت ہی ہے وہ جسے قرآن پاک نے عزت بخشی ہے ،عورت ہی جسے خدا اوع اسکے رسول صہ نے عزت بخشی ہے ،عورت ہی جو دنیا اور آخرت میں سب سے زیادہ عزت کی مستحق ہے ۔ ایک سانس میں بولتی ہوئی کچھ پل کے لیے رکی تھی مگر نوری کی خود پر جمی نظروں کو دیکھ کر پھر سے گویا ہوئی تھی ۔
مگر تم جیسی عورتیں عورت ذات کے نام ہر دبا ہوتی ہیں ۔جو خود کو مردوں کے سامنے اپنی محبت کے نام پر فحاش پھیلا کر خود کو دوکوڑی کا کر دیتی ہیں ۔اس رات کا حوالہ دیتی ہوئی نوری کو لاجواب کیے ہوئی تھی ۔
اپنے ان گھٹیا کاموں سے ہم جیسی پردہ دار عورتوں کو بھی بدنام کردیتی ہیں ۔ماہین کی باتیں سن وہاج بھی ساکت کھڑا ہوا تھا ۔
عورت ذات کا تم وہ بھیانک چہرہ ہو جس سے ہر باعزت عورت حوس پرست مردوں کی نظروں سے داغدار ہو جاتی ہیں ۔مردوں کی گھٹیا نظروں سے گھبراہٹ کا شکار ہوکر وہ گھر سے قدم تک باہر نہیں نکالتی ہیں ۔
تم جیسی عورتوں زمیدار ہوتی ہیں مردوں کو راہ راست سے بھٹکانے والی ۔
یہ تو شکر ہے تم نے اس رات میرے ارتضی مضبوط کردار کے حامل ارتضی شاہ کے سامنے خود کی ذات کو روندا تھا سوچو اگر ارتضی کی جگہ کوئی اور ہوتا تو کیا تم خود سے کبھی نظریں ملا پاتی ۔نوری کے ساکت وجود میں سنسناہٹ پھیلی تھی یہ سوچ کر بھی اگر ارتضی اس رات اس کی باتوں میں آکر بہک جاتا تو واقع میں خود کی ذات کو کہیں کھو دیتی جس ذات کی حفاظت وہ اب تک ریحان ملک سے کرتی آئی تھی وہ پہلے سے ہی روند دہ جاتی اپنے ہی کیے عمل سے۔
تم بھی باہر آسکتے ہو وہاج انصاری ،نوری کو خاموش دیکھ وہ بلند آواز میں چلائی تھی ۔
کچھ توقف بعد وہاج اس کے سامنے تھا ۔
تم بزدل ہی اچھے تھے وہاج افسوس ان سب کے بعد بھی رائمہ تمہاری نہیں ہوسکتی ۔تاسف سے کہتی ریسٹورنٹ مین انٹر ہوتے ارتضی کو دیکھ کر مسکرائی تھی ۔
شاہانہ انداز میں چلتا ہوا اپنے کان میں لگی بلیوٹوتھ پھینکتا ہوا وہاج کے مقابل آن کھڑا ہوا تھا ۔
جاری ہے ۔
