No Download Link
Rate this Novel
Episode 13
بہت خوشی ہوئی آپا آپ کو بھائی صاحب کو یہاں دیکھ کر ۔۔شاہدہ بیگم اور دلاور شاہ کو دیکھ کر شاکرہ بیگم کی خوشی کا کوئی ٹھکانہ ہی نا تھا ۔
خوشی تو مجھے بھی بہت ہور ہی ہے شاکرہ جس وجہ سے میں یہاں آئی ہوئی یہ جاب کر تمہیں بھی اتنی ہی خوشی ہوگی۔۔پراعت۔اس لہجے میں کہتی ہوئیں حیا کو دیکھ کر مسکرائیں تھیں ۔
کمال کردیا آپ نے تو خالہ جانی بلآخر آپ نے ارتضی بھائی کو منا ہی لیا ۔۔۔شاہدہ بیگم کے گلے لگتی ہوئی وہ چہکی تھی ۔
کمال میں نے نہیں تم نے کیا ہے اگر تم میری آنکھیں نا کھولتی تو میں یہاں تھوڑی نا ہوتی ۔۔۔حیا کے گال پر ہاتھ رکھتی ہوئی وہ پیچھے سے آتی ہوئی پیلے کلر کی سادہ سی شرٹ کے ساتھ شاکنگ پنک کلر کے پاجامہ پہنے ہوئے وہ
ڈوپٹہ سر پر درست کرتی ہوئی ماہین کو دیکھ کر وہ مسکرائیں تھیں ۔
ماشاءاللہ بہت پیاری لگ رہی ہو ۔۔۔۔میک اپ سے پاک ماہین کے چہرے کو دیکھ کر وہ اپنی پسند پر سرشار ہوئیں تھیں ۔
اسلام وعلیکم انکل ۔۔دلاور شاہ کو سلام کرتی ہوئی اپنے لبوں پر مسکراہٹ لیے اور بھی زیادہ پیاری لگ رہی تھی ۔
بس خالہ جانی اتنا نا دیکھیں کہیں نظر نا لگ جائے میری ماہین آپی کو ۔۔۔میری پر زور دیتی ہوئی وہ شرارت سے گویا ہوئی تھی ۔
پاگل اپنوں کی نظر نہیں لگتی ۔۔۔ہنوز ماہین کو دیکھتی ہوئی وہ حیا کی بات پر دلاور شاہ کی سمت دیکھتی ہوئی دلاور شاہ کی نظروں میں اپنے لیے داد دیکھ وہ اور بھی پرجوش ہوئی تھیں۔
ماہین بیٹا ۔۔۔۔جی بابا ۔۔۔۔ شاہدہ بیگم کے مسلسل ماہین کو دیکھنے پر ریاض صاحب ماہین کو پکار اٹھے تھے ۔
آپ جاؤ اور کھانے کا انتظام دیکھ لو کچن میں سلیمہ کت ساتھ ۔۔۔
جی بابا ۔۔۔۔ریاض صاحب نے ماہین کو اس وقت یہاں سے بھیجنا ہی صحیح لگا تھا۔
میرے یہاں آنے کا مقصد تو آپ سمجھ ہی گئے ہونگے ریاض بھائی ۔۔۔شاہدہ بیگم کی بابت انہوں نے مثبت میں گردن ہلائی تھی ۔جبکہ شاکرہ بیگم نا سمجھی میں ریاض صاحب کو دیکھ کر شاہدہ بیگم کی طرف متوجہ ہوئیں تھیں ۔وہیں حیا شاہدہ بیگم کے برابر میں اپنی ٹھوڑی کے نیچے ہاتھ رکھے بیٹھی ہوئی تھی ۔
ماہین کو میں اپنے شاہ کے لیے مانگے آئی ہوں آپ ریاض بھائی ۔۔۔دلاور شاہ جو ہنوز خاموش بیٹھے ہوئے دیکھ وہ کلسی تو تھی مگر انہیں اپنے کیے فیصلے کو انجام بھی دینا تھا ۔۔۔
اور تم سے شاکرہ تمہارے گھر کی رونق کو اپنے حیدر کے لیے مانگنے آئی ہوں ۔شاکرہ بیگم کے ہاتھ پر دباؤ دیتی ہوئی وہ حیآ کے شاکڈ چہرے کو دیکھ کر مسکرا اٹھی تھیں ۔
واووو مطلب ارتضی بھائی اور ماہین آپی کو ایک کرنے کا اتنا بڑا انعام ۔۔۔آنکھوں سے عیاں تھی حیا کی کیفیت ۔
کب تمہیں خود سے شرم آئے گی ۔۔۔۔
حیا بیٹا آپ جاؤ اور ماہین آپی کی مدد کروا دو ۔۔۔ڈھیٹوں کی طرح حیا کو دیکھ دانت دبائے وہ حیا کو ہنوز وہیں بیٹھے دیکھ کلسی تھیں ۔
مگر ۔۔۔۔۔۔اگر تم کو ارتضی یا حیدر کے بارے جو چھان بین کروانی ہے تم کروا سکتے ہو آخر کو باپ ہو تم دونوں ۔۔روبدار آواز میں بولے تھے ۔۔۔۔
ایسی بات نہیں ہے ہمارے لیے تو بہت مان کی بات ہے آپ کے گھر سے رشتہ جرڑنے کی ۔
اور گھر کے ہی بچے ہیں چھان بین کی تو کوئی بات نہیں ہے ۔۔۔حمدان صاحب سہولتاً بولے تھے۔
تو پھر اگر۔۔۔مگر ۔۔۔۔وگر کچھ نہیں ۔ شاہدہ بیگم کو خاموش رہنے کا کہتے ہوئے دلاور شاہ نے ریاض صاحب کو واپس سے بولنے کا کہا تھا۔
میرے کہنے کا مطلب ہے کہ نا ماہین ارتضی کو جانتی ہے اور میرے خیال سے نا ہی ارتضی نے ماہین کو دیکھا ہوگا ۔۔
زیادہ بہتر ہوگا کہ ہم ان دونوں کی رائے لے لیں تو ۔۔ اپنا موقف بیان کرتے ہوئے ریاض صاحب حمدان کو اپنی بات سے اتفاق کرتے دیکھ مسکرائے تھے ۔
آپ لگتا ہے چاچو جانی کہ وہ دونوں نہیں ملے ۔
میں نے خود ہی تو کروائی ہے ان دونوں کی ملاقات ۔۔آنکھیں مٹکاتی ہوئی وہ خود شاباشی دیتی ہوئی شاکرہ بیگم کی گھوریوں کو اگنور کیے ہوئے تھی ۔
اس میں تو کوئی بڑی بات نہیں ہے بھائی صاحب منگنی کے بعد تو وہ دونوں آرام سے ملے لیں گے ۔۔۔شاکرہ بیگم کو دیکھتی ہوئی پرجوش ہوئی تھیں ۔۔
آپا بلکل درست کہہ رہی ہیں ۔۔بھائی صاحب ۔۔۔۔شاکرہ بیگم کی رضامندی پر حمدان صاحب ریاض صاحب کے ہاتھ پر دباؤ دے گئے تھے ۔
جیسا آپ کو صحیح لگے میری طرف سے ہاں ہے ۔۔ فخرایہ انداز میں وہ ماہین سے پوچھے بغیر ہاں کرگئے تھے ۔
سچ چاچو ۔۔۔۔۔ریاض صاحب کے بولنے پر وہ خوشی سے چلائی تھی ۔
حیا آپ ماہین کے پاس جاؤ اور سلیمہ کے ہاتھ مٹھائی بھجوادینا ۔۔۔حیا کو غصے سے گھورتی ہوئی شاکرہ بیگم کو دیکھ شاہدہ بیگم مسکرائیں تھی ۔
پتہ نہیں کیا ہے امو آپ خو بس ہر وقت مجھے ہر جگہ سے جانے کا کہتی رہتی ہیں ۔منہ بنائے وہ چاہتے ہوئے بھی وہاں سے گئی تھی۔
پرسوں منگنی کرکے پورے خاندان بھر میں اعلان کردیتے ہیں ۔۔اپنی بیگم کی جلدبازی پر دلاور شاہ خود بھی نا خوش تھے ۔
آج ارتضی نے ہاں کی ہے اگر صبح ہوتے ہی ناکردی تو ۔۔ریاض صاحب کے شاکڈ چہرے کو دیکھ وہ دل ہی دل میں سوچ کر خاموش ہوئی تھیں ۔
ٹھیک ہے پھر پرسوں ہم ارتضی اور ماہین کی منگنی کردیتے ہیں اور ان دونوں کے ولیمے پر حیدر اور حیا کی منگنی کردے گے ۔۔دلاور شاہ کی بات پر سب ہی متفق ہوئے تھے ۔
آپ کو پتا ہے اندر آپ کا اور میرا رشتہ فکس ہوگیا ہے ۔اور اس نئے رشتے کے لحاظ سے آپ میری جٹھانی بنے گی اور میں آپ کی چھوٹی سی پیاری سی دیورانی ۔منہ میں گلاب جامن رکھتی ہوئی اپنے اور حیدر کے رشتے پر زیادہ خوش ہورہی تھی ۔
آپ کو حیرت نہیں ہوئی اور برا بھی نہیں لگا چاچو نے بنا پوچھے آپ سے آپ کا رشتہ فکس کردیا میرے کزن کے ساتھ ۔تاثرات سے پاک ماہین کے چہرے کو دیکھ کر وہ حیران ہوئی تھی ۔
برا کیوں لگے گا مجھے اور شادی تو ایک نا ایک دن کرنی ہی تھی ۔تو وہ تمہارا کزن سے ہی سہی اور رہی بات بابا کی مجھ سے نا پوچھنے کی تو وہ اگر پوچھتے بھی نا تو میں کبھی بھی انکار نا کرتی کیونکہ ہمارے حق میں لیے ہمارے ماں باپ کے فیصلے زیادہ بہتر ہوتے ہیں ۔۔عام سے لہجے میں بولتی ہوئی وہ ریاض صاحب کو دیکھ کر مسکرائی تھی۔
مجھے پتہ تھا میری ماہین میرا مان اور غرور ہے جب ہی تو بنا پوچھے اپنی بیٹی کی زندگی کا رونا بڑا فیصلہ کردیا ہے ۔ماہین کی پیشانی پر بوسہ دیتا ہوئے وہ پرسکون ہوئے تھے ۔
وہ ماہین کے پاس یہ سوچ کر آئے تھے کہیں انہوں نے جلد بازی میں ماہین سے پوچھے بغیر ہاں کرکے غلط کرگئے تھے ۔
مگر ماہین کی باتیں سن کر بلکل ہلکے پھلکے ہوگئے تھے۔
نا ماہین نے حیا سے کچھ پوچھنے کی زحمت کی تھی اور نا ہی حیا کے بتانے کی زحمت کی تھی کیونکہ اس وقت تو وہ خود کو دنیا جہان کی سب سے خوش قسمت لڑکی تصور کیے خوشی سے جھوم رہی تھی ۔
ذرا سی رات ڈھل جائے تو شاید نیند آجائے
ذرا سا دل بہل جائے تو شاید نیند آجائے
ابھی تو کرب ہے بے چینیاں ہیں بے قراری ہے
طبعیت کچھ سنبھال جائے تو شاید نیند آجائے
ہوا کے نرم جھونکوں نے جگایا تیری یادوں کو
ہوا کا رخ بدل جائے تو شاید نیند آجائے ۔۔۔۔
ہر رات تو نیند ویسے ہی اس کی آنکھوں سے کوسوں دور رہتی تھی اور آج ماہین کو کھو دینے کا دکھ اسے بے چین کیے ہوئے تھا ۔۔
ہمیشہ سے ہی ایسا ہی ہوا تھا اس کے ساتھ جب جب وہ زندگی سے امید لگاتا تھا کسی خوشی کو پانے کے لیے اور وہ عین وقت پر دغا دے جاتی تھی ۔
بیڈ کراؤن سے ٹیک لگائے وہ سائیڈ ٹیبل پر رکھے لیمپ کو آن آف کرتا ہوا مسلسل ماہین کو سوچ کر وہ تلخ مسکرایا تھا ۔۔
ابھی تک جاگ رہے ہو ارتضی ۔ارتضی کے روم کی جلتی لائیٹ دیکھ کر دلاور شاہ روم داخل ہوتے ہی استفسار کیا تھا ۔
جی بابا سرکار نیند نہیں آرہی تھی اس لیے ۔۔وہی پرانہ بہانا سناتا ہوا دلاور شاہ نے نظریں چرا رہا تھا ۔
ناراض ہو ۔۔
میں خود سے ناراض ہوں بابا اور پھر میں کون ہوتا ہوں کسی سے ناراض ہونے والا خاص کر آپ سے اور ماں سرکار سے ۔۔دلاور خان کو بیڈ پر بیٹھنے پر وہ ٹانگیں لٹا کر سیدھا ہو بیٹھا تھا وہیں ارتضی شاہ کے اس انداز پر وہ مسکرائے تھے ۔
ہمیشہ ہی سرہانے بیٹھا ہوتا تو وہ یا جگہ سے اٹھ کھڑا ہوجاتا تھا یا کبھی اپنی پاؤں سمیت کر بیٹھ جاتا تھا ۔
یہ شاید ارتضی کا اپنے بڑوں کو مان عزت دینے کا طریقہ تھا ۔
عزت میں دل میں ہوتی ہے ان چیزوں سے کیا ہوتا ہے ۔
مجھے اچھا لگتا ہے ۔دو ٹوک انداز میں کہتا ہوا لیمپ کو آن کرگیا تھا ۔
پرسوں منگنی ہے فکس کردی ہے تمہاری ماں نے تمہاری ۔۔ارتضی کے چہرے پر نگاہ ٹکائے وہ سنجیدگی سے بول رہے تھے ۔
لڑکی مان گئی اتنی جلدی ۔۔۔شک گزرا تھا اسے ۔
لڑکی نہیں ہے ماہین نام ہے اس کا ۔میں خود حیران تھا تمہاری ماں کی جلدبازی پر ۔۔دلاور شاہ کے بتائے گئے نام پر وہ اٹک کر رہ گیا تھا ۔
کیا نام لیا آپ نے ۔۔نام سن کر ہی ایک امید کی لہر جاگ اٹھی تھی اس کے دل میں ۔
ماہین نام ہے اور تمہارے انکل حمدان کے بھائی کی بیٹی ہے ۔
اب تک بات چیت میں وہ پہلی بار مسکرایا تھا ۔
مان کیسے گئی میرے لیے ۔حیرت کا شکار ہوتا وہ پریشان ہوا تھا۔
دلاور شاہ کی بات اسے مزید پریشان کرگئی تھی۔
اب تو ہسپتال میں ڈاکٹرز بھی موجود ہیں اور جس حساب سے تمہاری ماں جلدبازی دیکھا رہی ہیں تمہاری شادی میں دیر نہیں ہے ۔
پھر کب جوائن کررہے ہو ہسپتال ۔۔ارتضی کے بدلتے تاثرات دیکھ وہ افسردہ ہوئے تھے ۔
ہاتھ کانپتے ہیں میرے بابا ۔۔ڈر لگتا ہے کہ کہیں میں پھر کسی اور کی۔۔۔۔وہ چاہ کر بھی کہہ نہیں سکا تھا ۔
اور وہ پاگل کہتا ہے کہ سرجری کروائے گا تو مجھ سے ۔اسے کیسے بتاؤں مجھ میں کوئی امید اور خواہش نہیں رہی ڈاکٹری کی ۔مگر وہ بضد ہے ۔
کبھی کبھی سوچتا ہوں بابا کاش میں ڈاکٹر نا بنتا کم از کم اس کرب اور اذیت سے نجات ہوتی مجھے سکون سے عام لوگوں کی طرح گھوڑے بیچ کر سوتا ۔۔افسردگی سے کہتا وہ دلاور شاہ کی نم انکھوں کو دیکھ کر سرجھکا گیا تھا ۔
کب تک کرو گے اپنے ساتھ ایسا ۔۔
یہ نہیں ہے کہ ہر ڈاکٹر پرفیکٹ ہوتا ہے کہیں نا کہیں کرئیر کے کسی حصے میں غلطی ہوجاتی ہے سب سے ہوتی ہے ۔ پر وہ اپنے پیشے سے منسلک رہتے ہیں اپنی غلطی سے سیکھتے ہیں ناکہ اپنی غلطی کی وجہ سے خود کو سنگدل بنانے کی کوشش کرتے ہیں ۔آج پھر وہ ارتضی کو سمجھانے کی کوشش کررہے تھے ۔۔
میں سنگدل ہوں بابا سرکار ۔کھوکھلے لہجے میں کہتا ہوا وہ اپنی جگہ سے اٹھ کھڑا ہوا تھا۔
ہمہم ۔وہ سنگدل ہو تم جو پندرہ سال کی بچی کو کام کرتے دیکھ حمایت کرتا ہے ۔اسے ہی تو سنگدل کہتے ہیں ۔
غلام رسول کی لاکھ غلطیوں پر تم اس کے بچوں کو دیکھ کر اسے کام سے نکالتے نہیں ہو بلکہ اسے اپنے ساتھ رکھتے ہو ۔اور ایسے سنگدل ہونے پر فخر محسوس کرتا ہوں ۔ارتضی کی پیٹھ کو دیکھتے ہوئے وہ تاسف سے مسکرائے تھے ۔
باپ ہوں تمہارا شاہ ۔۔۔۔پہلے دن سے خود کو سنگدل دیکھانے کی کوشش میں وہ ناکام ہوگیا تھا ۔
آپ کو نہیں لگتا تو کیا ہوا پر میں ہوں سنگدل ہی ۔مضبوط لہجے میں کہتا ہوا اپنے بات پوری کرنے کا وہ عادی تھا۔
چلو بن جاؤ سنگدل ۔۔ہار مان گئے تھے وہ ارتضی کے سامنے ۔
سو جاؤ کل صبح تمہارے ساتھ ساری شاپنگ کرنے کا پلین بنایا ہوا ہے ۔۔ارتضی کے کندھے پر ہاتھ رکھتے ہوئے دلاور شاہ وہاں سے گئے تھے ۔
سوری بابا سرکار ۔دلاور شاہ کو جاتے دیکھ وہ افسردہ ہوا تھا ۔
کیسے مان گئی تم مس ماہین ریاض بخاری مجھ سے شادی کے لیے ۔کچھ تو مس ہورہا مجھ سے مگر کیا ۔۔
بیڈ پر دراز میں سونے کی کوشش کررہا تھا مگر آنکھوں کے سامنے آتے ماہین کے چہرے کو دیکھ وہ پریشان ہوا تھا ۔
شاہ آج تم کہیں نہیں جاؤ گے ۔
جانتا ہوں آپ تیار ہوجائیں میں لے چلوں گا آپ کو شاپنگ پر ۔شاہدہ بیگم کے پکارنے پر وہ فورا سے پہلے بولا تھا ۔
سمی تم بھی تیار ہوجاؤ تم بھی چل رہی ہو ہمارے ساتھ ،شاہدہ بیگم کے ساتھ بیٹھی ہوئی رائمہ کو دیکھ وہ مسکرایا تھا ۔
بھائی میں ۔۔حیرت سے ارتضی کو دیکھتی ہوئی وہ شاہدہ بیگم کو وہاں سے جاتے دیکھ بولی تھی۔
تمہارے علاوہ کون ہے میری سمی ۔آج رائمہ کو وہ پہلے والا ارتضی لگا تھا ۔جو ہمیشہ پیار سے پیش آتا تھا ۔
پر بھائی ۔۔اس دن مال میں جو ہوا ۔وہ بولتی ہوئی بیچ میں روکی تھی ۔
بنا تم سے پوچھے ہاتھ اٹھا دیا تھا مگر کیا کرتا چاہ کر بھی بھول نہیں پایا ہوں میں وہ رات جب تم ۔
غلطی ایک بار کی جاتی ہے بھائی اور وہ غلطی میں کرچکی ہوں ۔ارتضی کی بات بیچ میں کاٹتا ہوئی وہ افسردگی سے بولی تھی ۔
کون بھائی اپنی بہن کا ہاتھ ایک بزدل انسان کے ہاتھ میں دینا پسند کرتا ہے جو میرا سامنہ نہیں کرسکتا وہ کیسے تمہارے لیے دنیا سے کیا لڑے گا ۔
اگر وہ بزدل تھوڑا سا بہادر ہوکر مجھے یہ کہہ دے کہ وہ تم سے شادی کرنا چاہتا ہے میں اس ہی دن تمہارا اس کے ساتھ نکاح کروا دوں گا ۔رائمہ کو دیکھتا ہوا وہ اپنے دل کی بات کرگیا تھا۔
مگر آئے جب نا اس میں اتنی ہمت نہیں ہے ۔وہاج کی بزدلی پر وہ ہمت ہار گئی تھی۔
ایسی بات بھی نہیں ہے دو دن پہلے میرا اور اس کا سامنا ہوا تھا اور وہ پانچ منٹ تک آنکھوں کی تاب جھیل چکاہے ۔ارتضی کی بات پر امی کبھی مسکرائی تھی ۔
آئی لوو یو بھائی ۔پر میں آپ کو معاف نہیں کروں گی آپ مجھ پر ہاتھ اٹھایا تھا ۔ارتضی کے ساتھ لگی ہوئی وہ ناراضگی سے بولی تھی ۔
اور میں معافی مانگ بھی نہیں رہا ۔شرارت سے کہتا ہوا وہ کسی کی خفگی بھری نظریں دیکھ کر مسکرایا تھا ۔
بھائی آپ کو پتا ہے بھابھی کون ہیں ۔ارتضی کو خاموش دیکھ وہ پھر سے بولی تھی ۔
وہی مال والی ہیں ۔میں تو حیران رہ گئی تھی ۔انہیں دیکھ کر واقع میں دنیا گول ہے ۔کھلکھلاتی ہوئی سنی کو دیکھ وہ دل سے مسکرایا تھا ۔
پتا نہیں کیا بنے گا بابا کا ۔آتے ہی نرجس کے شکوے شروع ہوچکے تھے ۔
اگر یہ گیا مجھے دو دن پہلے فون کرکے آنے کا نہیں کہتی تو میں تمہاری منگنی میں شامل ہی نا ہو پاتی ۔پاپ کارن کھاتی ہوئی حیا شرارت سے مسکرائی تھی ۔
ویسے تم بازی مار گئی ماہین ۔
وہ کیسے آپی ۔ڈیڑھ سالہ حورین کو گود میں لیے وہ اس کے ساتھ کھیلنے میں مصروف تھی ۔
بھئی میرے ہزبینڈ سے زیادہ ہینڈسم ہے ۔۔حیا کو دیکھ وہ ماہین کے چہرے پر آئے رنگ دیکھ کر مسکرائی تھی ۔
آپ تو ایسے کہہ رہی ہیں جیسے ہماری کوئی شرط تھی ایسی ۔عام سے لہجے میں بولتی ہوئی وہ حورین کے پھولے ہوئے گالون گالوں پر لب رکھتی ہوئی مسکرائی تھی ۔۔
اور رہی بات ہینڈسم کی تو یہ میرے نصیب ہیں ۔
ماہین کی بات پر نرجس اور حیا دونوں مسکرائی تھیں ۔
اپنی کہی بات کے بعد ارتضی کا چہرہ خیالوں میں لہراتے ہی وہ توبہ توبہ کرگئی تھی ۔
اللہ پاک اس جلاد کا خیال کیوں آرہا ہے مجھے ۔۔۔خوف سے آنکھیں بند کرتی ہوئی حدیں کو لیے اپنے روم کی جانب بڑھی تھی ۔۔۔۔۔۔۔
جاری ہے ۔۔
