No Download Link
Rate this Novel
Episode 9
یہ سر شاویز نیازی کون ہیں ۔۔۔گاڑی میں بیٹھتے ہی حیا کے سوال پر وہ مسکرائی تھی ۔
سر شاویز نیازی میرے اسکول کے وائس پرنسپل ہیں ۔۔ عام سے لہجے میں بولتی ہوئی وہ حیا کے دماغ میں چلتی سوچوں سے انجان تھی ۔
اچھا جی مجھ سے جھوٹ اگر وہ آپ کے اسکول کے وائس پرنسپل ہیں تو آپ سے آپ کی خیریت اور کب واپس آنے کا ارادہ ہے آپ کا کیوں دریافت کررہے ہیں وہ بھی واٹس ایپ پر میسج کرکے ۔۔آبرو ریس کرتی ہوئی وہ اپنی ذہانت کا ثبوت دے گئی تھی ۔
مطلب تم نے سر میسج ریڈ کیے تھے اور مجھے بتایا بھی نہیں ۔۔
حیا جو صبح اٹھتے ہی ماہین کے فون کی بجتی نوٹیفکیشن سے الرٹ ہوئی تھی ۔
فورا سے سارے نوٹیفکیشن ریڈ کرتی ہوئی اپنے خرافاتی دماغ کے گھوڑے دوڑا رہی تھی۔
بات مت پلٹیں صاف صاف بتائیں کیا ماجرہ ہی یہ ۔۔۔حیا کے آگے بڑھنے پر گاڑی کے گیٹ سے لگ کر بیٹھ گئی تھی ۔
وہ اس لیے کیونکہ میری کلاس ان کے انڈر میں ہے ۔
ٹھہر ٹھہر کر جواب دیتی ہوئی وہ گاڑی کی ونڈو پر سر رکھ گئی تھی ۔
اچھا بس یہ پوچھنے کے لیے میسج کیے گئے تھا کوئی اور تو چکر نہیں ہے نا ۔۔۔ابھی بھی اسے شاویز اور ماہین پر شک ہورہا تھا ۔
کہیں آپ دونوں ایک دوسرے کو پسند وسند تو نہیں کرتے ۔۔۔دل کا ڈر زبان پر آہی گیا تھا ۔۔۔
انہوں نے بہت بار پرپوز کیا ہے مجھے ۔۔۔
اتنی بڑی بات آپ اتنے آرام سے کیسے کہہ سکتی ہیں ۔۔۔ماہین کے عام انداز پر وہ شاکڈ ہوئی تھی ۔
اتنی بڑی بات تو نہیں ہے جب ہم لڑکیاں گھر سے باہر کام کرنے جاتی ہیں تو بہت سے راہ میں بھی آتے ہیں مگر ایسا تھوڑی ہوتا ہے ہر راہ گیر کو ہاتھ تھما دیا جائے ۔۔۔اپنی مخصوص دھیمے لہجے میں بولتی ہوئی وہ حیا کو سمجھ رہی تھی ۔
میں نے تو چلو شوق شوق میں ٹیچنگ شروع کی مگر ایسی بہت سی لڑکیاں ہیں جو اپنے گھر کے تنگ مسائل کی وجہ سے باہر جوب کرتیں ہیں عام سی بات ان سب کو بھی یہ کچھ فیس کرنا پڑتا ہے ۔۔۔۔۔۔
اور تم بے فکر رہو میری مجازی خدی میری طرف سے کچھ بھی نہیں اور نا ہی ہونے والا ہے کبھی ۔۔۔مسکراتی ہوئی وہ حیا کے گالوں کو کھینچ گئی تھی ۔۔
اور کیوں نہیں ہوسکتا ۔۔۔اب اسے ایک فکر لاحق ہوئی تھی ۔
کیونکہ ماہین ریاض بخاری فقط اپنے محرم سے محبت کرے گی اور اس کو ہی اپنے دل میں بسائے گی ۔۔۔
کاش میرا کوئی بھائی ہوتا اگر بھائی ہوتا نا تو آپ کو اپنی بھابھی جان بناتی ۔۔۔حیا کی کہی بات پر ماہین مسکرائی تھی ۔
جو ہے نہیں اسے سوچ کر خود کو پریشان کرنا ۔جو ہمیں خدا نے دیا ہے بس اس کا شکر ادا کرنا چاہیے ۔۔۔ماہین کی بات حیا کے دل میں گھر گئی تھی ۔۔۔
اووووو میرے بچہ اداس ہوگیا ۔۔۔۔۔ حیا کو خاموش بیٹھے دیکھ ماہین آنکھوں میں شرارت لیے پوچھ رہی تھی۔جو سوچ کے ساتھ ساتھ آنکھیں مٹکا رہی تھی ۔
سگا بھائی نہیں ہے تو کیا ہوا ۔۔۔۔ارتضی بھائی بھی تو میرے ہی بھائی ہیں ۔۔۔۔
ماہین ارتضی شاہ ۔۔۔
حیا حیدر شاہ ۔۔۔۔۔۔دونوں کو ایک ساتھ تصور کرتی ہوئی وہ ساتھ میں خود کو حیدر کو دیکھ کر چہکی تھی ۔
ہاؤ کیوٹ کپلز ۔۔۔۔دونوں ہاتھ ماہین کے ہاتھوں پر رکھتی ہوئی وہ کھوئے ہوئے انداز میں بڑبڑا رہی تھی ۔۔۔۔
کون ہیں کیوٹ کپلز ۔۔۔۔۔ وہ حیا کی بس اتنی ہی بڑبڑاہٹ سن پائی تھی۔
بعد میں بتاؤں گی ۔۔۔۔۔ماہین کے گلے لگتی ہوئی وہ چہکی تھی ۔
حیا کے اچانک گلے لگنے پر وہ فقط مسکرائی تھی ۔
حیا سے معافی مانگنے کی خاطر حیدر شاہ بخاری ولا آیا تھا ۔
مگر حیا کے ساتھ ماہین کو گھر سے نکلتے دیکھ حیدر ان کے پیچھے ہی چل دیا تھا خود کی تسلی کے لئے ۔
وہ جس لڑکی کی تلاش میں تھا اسے اپنے ہی گاؤں میں دیکھ کر اسے اپنی بصارت پر شک گزرا تھا ۔۔
میں نے کہا وہ اجنبی ہے
دل نے کہا یہ دل کی لگی ہے
میں نے کہا وہ سپنا ہے
دل نے کہا پھر بھی اپنا ہے
میں نے کہا وہ دو پل کی ملاقات ہے
دل نے کہا وہ صدیوں کا ساتھ ہے
میں نے کہا وہ میری ہار ہے
دل نے کہا یہ ہی تو پیار ہے
وائیٹ کلر کے ڈوپٹے کو اچھے سے سر پر رکھتی ہوئی ماہین کو کار سے اترتے دیکھ حیدر شاہ کی نظریں عاجزی سے جھکی تھی ۔۔۔۔
ماہین کو دیکھ کر حیدر کو انجانی سی خوشی محسوس ہورہی تھی ۔
جیسے کسی ڈوبتے ہوئے شخص کو سہارا مل گیا ہو۔۔۔۔۔
ویسے ہی ماہین کو دیکھ کر حیدر کے لبوں پر جو مسکراہٹ آئی تھی جو اسے اور بھی وجیہہ بنا رہی تھی ۔
کیسی ہو ٹوٹل تباہی ۔۔۔ حیدر کی آواز پہچاننے میں حیا کو ذرا دیر نا لگی تھی ۔
بنا مڑے وہ ماہین کا ہاتھ پکڑ کر وہ اسے لہراتے سر سبز کھیت دیکھاتی ہوئی خود کو حیدر کی موجودگی سے انجان ظاہر کر رہی تھی ۔
اتنا تو وہ جان گئی تھی جس شخص سے ناراضگی کا اظہار کیا جارہا ہے وہ کوئی اور ہو ہی نہیں سکتا تھاحیدر کے سوا ۔۔۔مسکراہٹ دبائے ماہین اس کی ناراضگی والا روپ دیکھ کر حیران تھی۔
یہاں سے لے وہاں ہماری زمینیں ہیں اور یہ یہاں سے شروع ہورہی ہے یہ اس سڑی ہوئی ککڑی کی ہیں ۔۔۔اپنے پیچھے حیدر پر ترچھی نظر ڈال کر وہ ناراضگی سے بولی تھی ۔
سڑی ہوئی ککڑی یعنی حیدر کی ۔۔۔سرگوشیانہ انداز میں پوچھتی ہوئی وہ گردن موڑ کر حیا کے پیچھے کھڑے حیدر کا جائزہ لیتی ہوئی واپس سے حیا کی طرف گردن موڑ گئی تھی ۔
ویسے چوائس کمال ہے تمہاری ۔۔۔۔۔میں بات کروں ۔۔۔
کوئی ضرورت نہیں ہے ۔۔۔۔۔۔۔بد مزہ ہوتی ہوئی وہ ماہین کو اپنے ساتھ گھیسٹتی ہوئی کار میں اسے بیٹھا کر خود اپنے پیچھے آتے حیدر کو گھور رہی تھی ۔
یہ تم ہمارے پیچھے کیوں آرہے ہو ۔
معافی مانگنے کے لیے ۔۔۔۔۔حیا کے سامنے نظریں جھکائے وہ ملزموں کی طرح کھڑا تھا ۔
کیوں ۔۔۔۔
کل رات میں نے جس طرح سے تم سے بات کی تھی اس طرح سے نہیں کرنی چاہیے تھی مجھے اس لیے سوری ۔۔۔۔
کیا کہا۔۔۔کان پر ہاتھ رکھتی ہوئی وہ اسے ظاہر کر رہی تھی جیسے کچھ سنا ہی نا ہو ۔۔
حیا کی اداکاری پر گاڑی میں بیٹھی ماہین قہقہ لگا گئی تھی۔
معافی چاہتا ہوں اپنے کل کے رویے کے لیے ۔۔۔ بلند آواز میں حیا کے کان میں چلاتا ہوا اپنا حساب برابر کرگیا تھا ۔۔
آرام سے بولو بہری نہیں ہوں ۔۔اپنے سن ہوتے ہوئے کان پر ہاتھ رکھتی ہوئی وہ خفگی سے بولی تھی۔
اب تو معاف کردو تباہی ۔۔۔کان پکڑے وہ سچ میں شرمندہ تھا ۔
معاف کیا ۔۔۔۔کیا یاد کرو گے ۔۔۔۔۔کہ حیا بخاری نے تمہیں معاف کردیا ۔۔۔۔شان بے نیازی سے کہتی ہوئی وہ گاڑی میں جا بیٹھی تھی ۔۔۔۔
یہ لڑکی کون ہے تمہارے ساتھ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔حیا سنو تو ۔۔۔۔۔۔ وہ پیچھے سے پکارتا رہ گیا اور وہ
اپنی دھول اڑاتی گاڑی لیے وہاں سے جاچکی تھی ۔۔۔
🥀🥀🥀🥀🥀🥀
ہر فیسیلٹی یہاں موجود ہے کہیں سے بھی مجھے یہ گاؤں نہیں لگ رہا بلکہ ایک چھوٹا سا شہر لگ رہا ہے ۔۔۔آدھے سے زیادہ گاؤں گھومنے کے بعد ماہین کو حیرت کے ساتھ ساتھ خوشی ہوئی تھی ۔۔۔
ابھی سب سے بڑی فیسیلٹی تو آپ نے دیکھی نہیں آپی ۔۔۔
وہ کیا ہے ۔۔۔۔تجسس میں پوچھتی ہوئی ماہین پرجوش ہوئی تھی جاننے کے لیے ۔۔
یہاں کا سب سے بڑا ہسپتال تو آپ نے ابھی تک دیکھا ہی نہیں ہے اس کو دیکھنے کے بعد آپ یہ چھوٹا سا شہر بھی ہٹا دیں گی ۔۔۔حیا کے لہجے میں الگ ہی کھنک تھی اپنے گاؤں کی پذیرائی پر ۔۔۔
ایسا ہے کیا۔۔۔۔
تو میں بہت بے چین ہورہی ہوں دیکھنے کے لیے ۔۔۔
منت ہسپتال کی طرف لے چلیں ۔۔۔حیا کا حکم ملتے ہی گاڑی منت ہسپتال کی طرف گامزن ہوئی تھی ۔۔۔
چوہرائے سے موڑ پر مڑتی ہوئی گاڑی کے ساتھ ساتھ ماہین کی زندگی عجیب موڑ پر مڑ گئی تھی ۔۔۔۔
اس نئے سفر سے وہ بے خبر ،،، بس بے صبری سے منت ہسپتال کی راہ دیکھ رہی تھی ۔
کہاں تک پہنچ گئے ہو ۔۔۔آخری ڈاکٹر کا انٹرویو لے کر وہ پھر سے ڈاکٹر عامر شہزاد کو فون کر گیا تھا۔
میرے گھر سے تمہارے گاؤں کا سفر چار گھنٹے کا ہے ۔۔ارتضی کی صبح سے اسے کوئی بیسویں کال تھی اب کی بار وہ مسکرایا تھا ارتضی کے پوچھنے پر ۔
کیا ہوا ۔۔۔۔ارتضی کی آواز میں افسردگی محسوس کرتا ہوا وہ سوال کرگیا تھا ۔
کچھ نہیں بس یہ ناکام ڈاکٹر قابل ڈاکٹرز کے انٹرویو لے کر تھک گیا ہے اب ۔۔۔
آجاؤ پھر بیٹھ کر بات کرتے ہیں ۔افسردگی سے کہتا ہوا وہ کال ڈیسکنیٹ کرگیا تھا ۔
صبح سے ہسپتال میں بیٹھا ہوا وہ ہر آنے والے ڈاکٹرز کے انٹرویو کلیئر کرچکا تھا ۔
انگلیوں کے پوروں سے گردن و سر کو دباتا ہوا وہ چیئر کی پشت پر سر رکھ کر آنکھیں موند گیا تھا ۔۔
محبت کیا ہے دل کا درد سے معمور ہوجانا
متاع جاں کسی کو سونپ کے مجبور ہوجانا۔۔۔،
قدم ہیں راہ الفت میں تو منزل کی ہوس کیسی
یہاں تو عین منزل ہے تھکن سے چور ہوجانا ۔۔۔،
یہاں تو سر سے پہلے دل کا سودا شرط ہے یارو
کوئی آسان ہے کیا سرمد سے منصور ہوجانا ۔۔۔،
بسا لینا کسی کو دل میں ،یہ دل ہی کا کلیجہ ہے ۔
پہاڑوں کو تو آتا ہے جل کر طور ہوجانا ۔۔۔۔۔۔
نظر سے دور رہ کر بھی تقی وہ پاس ہیں میرے
کہ میری عاشقی کو عیب ہے مہجور ہوجانا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔،،
آنکھیں بند کیے وہ ماہین کے صبیح چہرے کو سوچ کر واپس سے سیدھا ہو بیٹھا تھا ۔
کافی حد تک آج وہ کافی ڈاکٹرز کے انٹرویو کلیئر کرچکا تھا ۔ ان سب کو ساتھ ساتھ پک اینڈ ڈراپ کی سہولت سے دےکر انہیں صبح سے جوائن کرنے کا کہہ چکا تھا ۔۔۔۔
واوو حیا یہ تو واقع میں ہی بہت شاندار ہسپتال ہے ۔۔۔
اور نام تو اور بھی پیارا منت واوووو ۔۔۔
ابھی یہاں پر ڈاکٹرز نہیں ہیں بس نرسس ہیں جو مریضوں کو دیکھتی ہیں ۔۔۔۔ماہین کو آگاہ کرتی ہوئی وہ متلاشی نظریں دوڑاتی ہسپتال کے اندر داخل ہوئی تھی ۔
یہاں بلڈ ڈونیٹ بھی کیا جائے گا ۔۔۔
حیا پھر تو یہ بہت مہنگا ہوگا اور گاؤں والوں کی پہنچ سے دور بھی ۔۔
کیونکہ اتنا خرچہ اس ہسپتال کے مالک نے کیا ہے تو وہ گاؤں والوں سے وصولوں گا نا ۔۔۔۔
اپنے تحت وہ صحیح سوچ رہی تھی ۔۔۔
یہ فلاحی ہسپتال ہے میری آپی ۔
اور رہی بات مہنگے ٹریٹمینٹ کی تو جو افورڈ نہیں کرسکتے ان کے لیے سب فری اور جو افورڈ کرسکتے ہیں ان کے لیے کوئی رعایت نہیں ہے ۔۔۔۔ماہین کو آگاہ کرتی ہوئی وہ سامنے سے آتی نرس کو دیکھ مسکرائی تھی ۔
بڑے دل والا اور حساس طبیعت کا مالک ہوگا اس منت ہسپتال کا مالک ہوگا۔۔۔۔جو شخص سنگدل ،جلاد تھا اس کی نظر میں آج وہ جانے انجانے میں اس کی تعریف کررہی تھی ۔
انجانے احساس کے ساتھ خوبصورت و ہر آرائش کے ساتھ بنے منت ہسپتال کو دیکھتی ہوئی مسکرا رہی تھی ۔ کہیں سے بھی یہ ہسپتال اسے گاؤں کا حصہ نہیں لگ رہا تھا ۔
آپ دیکھیں میں ابھی آئی ۔۔۔جس مقصد سے وہ ماہین کو یہاں لائی تھی وہ بھی تو اسے پورا کرنا تھا ۔۔
ارتضی کا پوچھتی ہوئی وہ خالی وارڈز کے سامنے سے گزرتی ہوئی ارتضی کے کیبنٹ تک پہنچی تھی ۔
شکر ہے ارتضی بھائی آپ یہاں پر ہے ورنہ تو میں بنا آپ سے ملے جاتی ۔۔۔کیبنٹ میں داخل ہوتی چیئر سے ٹکرائی تھی ۔۔
تباہی ۔۔۔وہ زیر لب بڑبڑایا تھا ۔
دھیان سے ۔۔۔ مسکراتا ہوا وہ اپنی چیئر سے اٹھ کھڑا ہوا تھا ۔
اب میں تمہیں کچھ دن یہاں پر ہی ملوں گا ۔حیا کے برابر میں کھڑا ہوتا وہ اس کو یہاں دیکھ کر حیران ہوا تھا۔۔
اور ڈیری پر ۔۔۔
جس کی ہے وہ خود سنبھالے گا میں تو وزٹ کرنے گیا تھا
اور کیا لو گی ۔۔۔
عام سے میں پوچھتا ہوا وہ حیا کو خاموش دیکھ مسکرایا تھا ۔
کیا ہوا ۔۔۔۔۔
وہ ارتضی بھائی میری کزن آئی ہوئی ہے میرے ساتھ باہر کھڑی ہے وہ بھی آپ سے ملنا چاہتی ہے ۔۔۔بنا رکے وہ جھوٹ بول گئی تھی ۔۔۔
اچھا تو پھر تم انہیں اپنے ساتھ لے آتیں ۔۔۔واپس سے اپنی چیئر بیٹھتا ہوا وہ حیا کے ہاتھوں میں ہوتی حرکت کو نوٹس میں لیے ہوئے تھا ۔
وہ بہت شرمیلی ہیں اس لیے وہ یہاں نہیں آئیں آپ چل کر مل لیں ان سے ۔۔۔ارتضی شاہ کے سامنے جھوٹ بولنے کی ہمت جمع کرتی ہوئی وہ پسینہ پسینہ ہورہی تھی ۔
حیرت ہے مجھ سے ملنا چاہتی ہے اور شرم بھی آرہی ہے ۔۔بات کو دھراتا ہوا وہ کنفیوز ہوا تھا ۔
چلو مل لیتے ہیں ۔اچانک سے اپنی جگہ سے اٹھتا ہوا وہ گیٹ کھول کر باہر کی طرف جاتا ہوا رکا تھا ۔
اف شکر ۔۔۔دل پر ہاتھ رکھے ہوئی وہ لمبا سانس باہر نکال کر مسکرائی تھی۔
تم بھی آؤ نا ۔۔۔گردن موڑ کر حیا کو بھی ساتھ آنے کا کہتا ہوا حیران ہوا تھا حیا کو یوں ہنوز کھڑے دیکھ ۔
آپ چلیں میں آتی ہوں پانی پی کر ۔پانی کا گلاس منہ سے لگاتی ہوئی وہ ارتضی کی طرف پیٹھ کر گئی تھی ۔
حیا کو پانی پیتے دیکھ وہ اپنے کندھے اچکاتا ہوا وہاں سے گیا تھا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
مغرور چال چلتا ہوا وہ وارڈز میں کھڑے نرس اسٹاف کے سلام کا جواب دیتا ہوا ۔۔۔
سامنے مسکراتی ہوئی ماہین کو دیکھ کر پل بھر کے لیے رکا تھا ۔۔۔
آنکھوں کو ہتھیلی سے مسلاتے ہوئے وہ اس کے ہونے پر مسکرایا تھا ۔
سکونِ دل کے لیے کچھ تو اہتمام کروں..
اور ذرا نظر ملے پھر اُنہیں سلام کروں!!!
مجھے تو ہوش نہیں، آپ مشورہ دیجیے…
کہاں سے چھیڑوں افسانہ کہاں تمام کروں!!!
اسلام وعلیکم کیسی ہیں آپ ۔۔۔شناسائی آواز پر وہ اچانک سے مڑی تھی ۔۔۔
ج۔۔۔ججل۔۔۔۔جللا۔۔۔۔۔
جلاد ۔۔۔۔۔۔۔ماہین کی آنکھوں میں اپنے لیے خوف اور اپنے سامنے اٹکتے دیکھ ارتضی خود سے ہی ماہین کا لفظ پورا کرگیا تھا۔
کیوں ۔۔۔۔ارتضی کو دیکھ وہ آنکھیں بند کرگئی تھی جیسے آنکھیں کھول لینے کے بعد وہ وہاں نہیں ہوگا ۔۔
تھوڑی دیر بعد آنکھ کھولتی ہوئی وہ اپنے سامنے کھڑے ارتضی کو دیکھ کر وہاں جانے کے لیے مڑی تھی ۔
آہہہہہہہہ۔ پچھلی ملاقات یاد کرتی وہ دھندلی ہوتی نگاہ سے وہاں سے جاتی ہوئی اچانک سے ٹیبل پر رکھے کانچ کے ٹکڑوں پر ہاتھ رکھتی ہوئی اپنا ہاتھ زخمی کروا گئی تھی۔
کرلیا نا خود کو زخمی لو اب مزے ۔۔۔ماہین کا ہاتھ پکڑتا ہوئے وہ خفگی و فکر سے بولا تھا ۔
چھوڑیں میرا ہاتھ ۔۔۔ خون دیکھ کر ہی ماہین کی آنکھوں میں جیسے سیلاب امڈ آیا تھا ۔
پہلے بینڈیج کروالو پھر چھوڑ دوں گا ۔۔کٹ لگی جگہ پر ہاتھ سے دباؤ دیتا ہوا وہ ماہین سے زیادہ پریشان ہوا تھا ۔
میں ڈاکٹر سے بینڈیج کرواؤ گی ۔۔۔ضدی بچوں کی طرح روتی ہوئی کیوٹ لگ رہی تھی ۔
آپ اطلاع کے لیے عرض کہ میں ڈاکٹر ہی ہوں اب بینڈیج کرسکتا ہوں آپکی ۔۔حیرانگی سے ارتضی کو دیکھتی ہوئی وہ اس کے ساتھ چل رہی تھی ۔
یہاں بیٹھو ۔۔۔۔۔۔ ماہین کو چیئر پر بیٹھا کر وہ خود گھٹنوں کے بل بیٹھ کر ڈیٹول سے خون صاف کرنے میں مصروف تھا ۔
ارتضی شاہ کو ایسے دیکھ وہ حیران ہوئی تھی ۔
جلاد ڈاکٹر کیسے بن سکتا ہے ۔۔۔وہ منہ ہی منہ بڑبڑائی تھی ۔
ماہین کی بڑبڑاہٹ سنتے ہوئے ارتضی کے لبوں کو مسکراہٹ چھو کر گزری تھی ۔۔۔۔
ہمہم ۔۔۔۔۔۔۔۔اب تو یہ ہی سچ ہے ۔۔۔سنجیدگی سے بولتے ہوئے ارتضی کو سن کر ماہین کو حیرت کا جھٹکا لگا تھا ۔
ڈاکٹر جلاد ۔۔۔۔وہ زیر لب بولی تھی جس پر ارتضی مثبت میں گردن ہلا کر یقین دہانی کروا گیا تھا ۔
جاری ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
