Hasil E Zeest By Mehwish Ghafoor Readelle50217 Episode 20 Part 1
No Download Link
Rate this Novel
Episode 20 Part 1
ہوش والوں کو خبر کیا بے خودی کیا چیز ہے
عشق کیجئے پھر سمجھیے زندگی کیا چیز ہے!
ارتضی شاہ اپنی وجیہہ شخصیت کے ساتھ مہندی کے فنگشن کے لیے گاؤں میں لگائے گئے پنڈال میں داخل ہوا تھا ۔
جہاں سامنے اسٹیج پر نظریں جھکائے بیٹھی ماہین دیکھ کر اس کی مسکراہٹ اور گہری ہوئی تھی ۔
مہندی اور مایوں کی نسبت کے حساب سے چہرے پر ہلکا سا میک اپ کیے ماہین یلو اور گرین کلر کے شرارے کے ساتھ جیولری کے نام پر کانوں میں ہلکے سے آویزے پہنے ہوئے وہ اپنے خوبصورت و پرنور چہرے کے ساتھ ارتضی شاہ کو مبہوت کرگئی تھی ۔
ان سے نظریں کیا ملی روشن قضائیں ہوگئیں
آج جانا کہ پیار کی جادو گری کیا چیز ہے ۔۔!
خود پر نظروں کی تپش محسوس کرتی ہوئی ماہین کی نگاہیں اپنے عین سامنے کھڑے ارتضی پر ٹھہری تھیں ۔
ارتضی شاہ جو اس وقت وائیٹ کاٹن کے سوٹ پر واسکٹ پہنے بالوں سیٹ کرنے کے بعد بھی پیشانی پر بکھرے ہوئے تھے جنہیں وہ اپنے بائیں ہاتھ کی مدد سے سیٹ کرتا ہوا الجھن کا شکار ہوا تھا ۔
دلفریب مسکراہٹ لبوں پر سجائے یک ٹک ماہین کو ہی دیکھ رہا تھا ۔
بکھری زلفوں نے سکھائی معصوموں کو شاعری
جھکتی آنکھوں نے بتایا کہ مے کشی کیا چیز ہے !
ارتضی شاہ کی محبت لٹاتی نظروں سے خائف ہوتی ہوئی وہ واپس سے نظریں جھکا گئی تھی ۔
یہ دیکھ ارتضی کی مسکراہٹ اور گہری ہوئی تھی ۔
مضبوط قدموں کے ساتھ وہ اسٹیج کی سمت بڑھا تھا ۔
ہم لبوں سے کہہ نا پائے ان سے حال دل کبھی
اور وہ سمجھے نہیں یہ خاموشی کیا چیز ہے ۔۔۔
اپنے برابر میں ارتضی کو بیٹھتے دیکھ ماہین اس پر ترچھی نگاہ ڈالتی ہوئی مزید سر جھکا گئی تھی ۔
ارتضی کو اپنے اتنے قریب آرام سے بیٹھے ہوئے دیکھ اسے گھبراہٹ محسوس ہورہی تھی ۔
پسینے سے بھیگی ہتھیلیوں کو آپس میں مسلتی ہوئی ماہین کو دیکھ کر ارتضی سامنے سے مہمانوں کو آتے دیکھ مسکرا کر سرگوشیانہ انداز میں ماہین سے مخاطب ہوا تھا ۔
ریلکس تھوڑی دیر کی بات ہے رسم کے بعد میں یہاں سے اٹھ کر چلا جاؤں گا ۔عام سے لہجے میں ارتضی کو بولتے سن وہ حیرانگی سے ارتضی کو دیکھ گئی تھی ۔
جو بظاہر سامنے نظریں جمائے مسکرا رہا تھا ۔
نظریں نیچے کرلو کسی نے دیکھ لیا تو سب مذاق بنائے گے میں تو انجوائے کروں گا مگر شاید تم برداشت نا کر پاؤ ۔ہنوز سامنے دیکھتا ہوا وہ ماہین کو مزید حیران کرگیا تھا ۔
اب تمہارا ہی ہوں کل فرست سے دیکھ لینا بلکل بھی منع نہیں کروں گا ۔ماہین کی جمی ہوئی نظریں اب بھی خود محسوس کرتا ہوا شرارت سے مسکرایا تھا ۔
ارتضی کو مسکراتے دیکھ فورا سے نظریں جھکا گئی تھی ۔
بہت پیارے لگ رہے ہیں دونوں ایک ساتھ ۔یلو کلر کی گہردار فراک پر شوکنگ پنک کلر کے ڈوپٹے کو شانوں پر اسٹال سے پھیلائے ہوئی حیا شاکرہ بیگم کے برابر آکر کھڑی ہوئی تھی ۔
یہ کیا ہے حیا ۔حیا کو نیچے سے اوپر تک دیکھتی ہوئی وہ اپنا ماتھا پیٹ گئی تھیں ۔
کیا۔پھٹی ہوئی آنکھوں سے وہ پوچھ رہی تھی ۔
ہاتھوں میں بھر بھر کر پہنی چوڑی اور گجرے پہنے ہوئے دیکھ کر انہیں زیادہ عجیب نہیں لگا تھا ۔
مگر گردن میں ڈالے ہوئے گولڈ کے بھاری نیکلیس ساتھ کانوں میں ڈالے وزنی آویزے دیکھ وہ اپنی بیٹی کے سجنے سنورنے کے پاگل پن کو دیکھ کر حیران ہوئیں تھیں ۔
یہ کیسے آیا تمہارے پاس۔رہی سہی کسر کشادہ پیشانی پر لگائے ہوئے شاکرہ بیگم کی شادی کے مانگ ٹیکے نے پوری کردی تھی ۔
مانگ ٹیکے پر ہاتھ لگا کر پوچھتی ہوئیں حیرانگی سے پوچھ رہی تھیں وہ مانگ ٹیکا جو انہوں نے ہمیشہ سے ہی حیا سے چھپاتی آئی تھیں آج حیا کو پہنے دیکھ وہ پوچھ گئی تھیں ۔
یہ اتنی ساری جیولری کیوں پہنی ہے تم نے۔ماہین دلہن ہے وہ تو اتنا نہیں سجی سنوری ہے وہ بھی تو بچی ہے ۔
مگر نہیں ساری نزاکتیں اور ادائیں تو تم میں ہیں ۔شاکرہ بیگم کی بات پر حیران ہوتی ہوئی وہ رخ پھیر گئی تھی ۔
اب جاؤ اور یہ ساری جیولری اتار کرآؤ ۔
کیوں ۔حیرت سے پوچھ رہی تھی ۔
کیونکہ تم دلہن سے زیادہ تیار ہوئی ہو ۔وہ اس کی ماں تھی اس کے ہی انداز میں بولی تھیں ۔
میرا کیا قصور ہے ماہین آپی تو ویسے ہی اتنی پیاری ہیں انہیں ان اب کی ضرورت نہیں پڑتی اور نا ہی انہیں شوق ہے ہیوی جیولری کا ۔
مگر مجھے تو ہے نا تو میں کیوں اتار دوں میں تو نہیں اتارنے والی ۔ڈھٹائی سے بولتی ہوئی وہ حمدان صاحب کے پاس کھڑی ہوگئی تھی ۔
ارے واہ آج تو میری بیٹی بہت پیاری لگ رہی ہے ۔
سچ بابا جانی ۔۔سنیں امو ایسی ہوتی ہے تعریف آپ کی طرح نہیں ۔حمدان صاحب اور حیا کو دیکھ وہ مسکرائیں تھیں ۔
بابا جانی چاچو وہاں کیوں کھڑے ہیں ۔ریاض صاحب کو ایک کونے میں اکیلے کھڑے اسٹیج پر ارتضی کے ساتھ بیٹھے دیکھ حمدان صاحب ان کی طرف بڑھے تھے ۔
ریاض ۔حمدان صاحب کی آواز پر اپنی نم آنکھیں صاف کرتے
ہوئے ان کی سمت مڑے تھے ۔
افسردہ ہورہے ہو ۔حمدان صاحب کے سوال پر ان کی آنکھیں پھر نم ہوئی تھیں ۔
نرجس کے وقت اتنا احساس نہیں ہوا تھا مگر ماہین کو اپنے سے دور جانے کا سوچ کر ہی آنکھیں خود بخود نم ہوجاتی ہیں ۔واپس سے اسٹیج کی طرف رخ موڑ گئے تھے ۔
حوصلہ رکھو ۔ریاض صاحب کا کندھے پر ہاتھ رکھتے ہوئے خود بھی حیا کو سوچ کر افسردہ ہوئے تھے ۔
حوصلہ ہی حوصلہ ہے چلیں رسم بھی تو کرنی ہے ۔مسکرا کر کہتے ہوئے حمدان صاحب کے ساتھ اسٹیج کی سمت بڑھے تھے ۔
کیسی لگ رہی ہوں ۔حیدر کے سامنے کھڑی ہوتی ہوئی حیا مسکرائی تھی ۔
اچھی لگ رہی ہو ۔مختصر بے لچک سے لہجے میں جواب دیتا ہوا چیئر پر بیٹھا تھا ۔
یہ کیا ہوتا ہے اچھی لگ رہی ہو !خوبصورت نہیں لگ رہی کیا ۔حیا کو اپنی ساری تیاری پر حیدر کے بے لچک لہجے سے پانی پھیرتے دیکھ بدمزہ ہوئی تھی ۔
حیا کے پوچھے گئے سوال پر حیدر نے ہلکی سی آواز میں کچھ بولنے لگا تھا جسے سننے کی خاطر حیا اس کے برابر میں رکھی چیئر کو گھسیٹ کر اس کے قریب ہو بیٹھی تھی ۔
اپنے چہرے پہ ہی چہرہ نیا بنواؤں گا
جیسا تو چاہے ویسا ہی نظر آؤں گا
حیا کے لبوں پر مسکراہٹ رینگی تھی ۔جبکہ سیاہ سوٹ میں گردن میں گولڈن وائیٹ کلر بنارسی شال ڈالے حیدر شاہ اپنی پروقار شخصیت کے ساتھ حیا پر سحر طاری کیے ہوئے تھا ۔
میں شجر ہوں تیرے ہونے سے ہی سر سبز ہوں
تجھ سے بچھڑوں گا تو اک دن میں ہی اجڑ جاؤں گا
اب کی بار حیدر شاہ کی نظریں مخملی کارپیٹ پر ٹھہری تھی۔
روز محشر مجھے خالق نے اگر مہلت دی
ایک غزل تجھ پہ میر تقی میر سے لکھواؤں گا
حیا کو یقین نہیں آرہا تھا کہ حیدر کبھی اس کی تعریف میں غزل کہے گا۔حیرانگی اور خوشی کے ملے جلے تاثرات چہرے پر سجائے وہ حیدر شاہ کو سن رہی تھی ۔
دھڑکنیں دل کی تیرے نام سے منسوب ہیں اب
تجھ سے چاہت روکوں گا تو مر جاؤں گا
عجیب احساس کے تحت ماہین کا عکس اس کی آنکھوں کے پردوں پر لہرایا تھا ۔
مصر والے بھلے دشمن سمجھے مجھے اپنا
میں ذولیخا کی حمایت میں چلا جاؤں گا
ماہین کا خیال آتے ہی اس کی آنکھیں نم ہونے لگی تھی ۔آنکھوں میں آئی کو وہ واپس سے دھکیلتا ہوا حیا کے مسکراتے ہوئے چہرے کو دیکھ کر مسکرانے کی کوشش کررہا تھا ۔
تو اپنا قدم ساتھ بڑھا میرے بہاؤ کی طرف
انتہا پر میں سمندر ہی نظر آؤں گا
حیدر کو خود دیکھتے پاکر حیا سرشار ہوئی تھی ۔
مطلب میں اکیلی نہیں تھی تم سے محبت کے سفر میں ۔اس کی سمجھ میں یہ ہی آسکا تھا ۔
ہم کو رہتا ہے نمازوں میں بھی اس کا ہی خیال
جانے کیا رب سے میں سجدوں کی جزاء پاؤں گا۔
اب کی بار اوپر کی طرف دیکھتا ہوا وہ لب دبا گیا تھا ۔
جاری ہے
