Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 10

اچھے سے کریں نا دھیان دے کر ۔۔آہہہہہہ ۔۔۔۔۔۔آرام سے کریں درد ہورہی ہے ۔۔۔۔
یہ کیا کر رہے ہیں کس نے بنایا ہے آپ کو ڈاکٹر کوئی پاگل ہی ہوگا جس نے دی آپکو پی ،ایچ ڈی کی ڈگری ۔۔۔تواتر آنسو بہائے ہوئی وہ ساتھ ہی اپنی زبان کے جواہر دیکھا کر ارتضی کو ایرٹیٹ کررہی تھی ۔
اچھے سے ۔۔۔اسپرٹ سے گیلی روئی کو دیکھ کر بار بار اپنے ہاتھ کو پیچھے کرتی ہوئی وہ ارتضی کو مجبور کررہی تھی ایسا کچھ کرنے پر جو نہیں کرنا چاہتا تھا ۔
آہہہہ آرام سے درد ہورہی ہے ۔۔۔خون بند ہوچکا تھا ۔۔۔اسپرٹ سے کی گئی گیلی روئی کو سائیڈ پر رکھتا ہوا وہ ایک ہاتھ میں ماہین کا ہاتھ پکڑے ہوئے ٹھوڑی کے نیچے اپنا دوسرا ہاتھ رکھ کر بیٹھا ہوا ارتضی اس کی اداکاری دیکھ کر مسکرایا تھا جو آنکھیں بند کیے بس دہائیاں دے رہی تھی ۔
درد ہورہا ہے ۔۔۔۔نرم لہجے میں پوچھتا ہوا وہ ہنوز مسکرا رہا تھا ۔
بہت زیادہ ہورہا ہے ۔۔۔۔بچوں کی طرح منمناتی وہ ارتضی کو قابل رحم لگی تھی ۔
آپ اچھے ڈاکٹر نہیں ہے جلدی جلدی بینڈیج کریں ورنہ میرا سارا خون ضائع ہوجائے ۔۔اندر سے کچھ چھناکے کے ساتھ کچھ ٹوٹا تھا اور وہ ہی ایک پل تھا جسے ارتضی کو سنگدل بنادیا تھا ۔
آہہہہہہہہہہہہہہہ۔۔۔۔۔زخم پر ہاتھ سے زور دیتا ہوا سنجیدگی سے ماہین کو چیختے دیکھ پرسکون ہوا تھا ۔
جلاد ،سنگدل ۔۔۔۔آنسو بہاتی وہ ارتضی کو مسکراتے دیکھ کلسی تھی ۔
اور اس سنگدل اور جلاد کو آپ ہی بیدار کیا مس نام کیا آپ کا ۔۔۔۔۔
ماہین ریاض ۔۔۔۔۔ارتضی کے سخت گیر لہجے میں پوچھتے ہوئے دیکھ خوفزدہ ہوتی وہ فورا سے نام بتا گئی تھی ۔
ماہین ریاض آپ کے نازک و ملائم ہاتھ پر جو بہت گہرا کٹ آیا ہے اس میں خون آنا بند ہوگیا ہے ۔۔۔ہلکے سے کٹ پر طنز کرتا وہ اٹھ کھڑا ہوا تھا ۔۔
تو بینڈیج کون کرے گا ۔۔ارتضی کو شان بے نیازی سے جاتے دیکھ وہ سے اسے پکار گئی تھی ۔
مجھ جیسا جلاد ،سنگدل ناکام ڈاکٹر ایک چھوٹے سے مطلب اتنے گہرے کٹ کی بینڈیج کرتا ہوا اچھا تھوڑی لگے گا ۔۔
آپ ایک کام کریں ماہین ریاض کسی اسپیشلسٹ سے بینڈیج کروایں۔۔۔۔ٹھہرے ہوئے لہجے میں بولتا ہوا وہ کندھے آچکا کر واپس سے جانے کے لیے مڑا تھا ۔۔
پلیز کردیں ۔۔۔بھرائی آواز میں منت کرتی ہوئی وہ اسے جاتے ہوئے قدموں پر روک گئی تھی ۔
ایک شرط پر ۔۔۔گردن موڑ کر وہ ماہین کے آنسوؤں سے تر چہرے کو دیکھ لب دبائے کھڑا ہوا تھا ۔
کیا ۔۔۔۔۔۔۔
کل کے اور آج کے میرے ساتھ کیے گئے اپنے رویے پر سوری کرو ۔۔۔پھر بینڈیج کرنے کا سوچ سکتا ہوں ورنہ ۔۔۔۔۔
وہ بھی اپنے نام کا ایک سارے حساب برابر کرنے کھاتہ کھول بیٹھا تھا ۔
یہ کیسا وقت آگیا ہے ماہین ریاض تجھ پر کہ تو اب اس جلاد سے معافی مانگے گی ۔۔۔حیا کہاں ہو مجھے اس جلاد کے پاس چھوڑ کر کہا دفع ہوگئی تم ۔حیا کو سوچ کر مسلسل آنکھوں سے بہتے آنسوؤں میں روانگی آئی تھی ۔
جب ہی فون پر آئے حیا کے ٹیکسٹ کو فورا سے پڑھتی ہوئی اپنی قسمت پر ماتم کرتی ہوئی وہ سارے ہسپتال کو اپنے آنسوؤں سے ڈوبنے کا ارادہ کیے ہوئی تھی ۔
سوری ماہین آپی بنا بتائے جارہی ہوں ضروری کام آن پڑا ہے جس وجہ سے آپکو اکیلے چھوڑ کر جارہی ہوں ۔۔
یہاں آپ کسی کو بھی کہہ دی گی کہ تو وہ آپ بخاری ولا تک چھوڑ دے گا ۔ماہین کے زاویے دیکھنے سے قاصر رہی تھی مگر ارتضی کو مسکراتے دیکھ وہ بے صبری سے گھر کے لیے نکلی تھی ۔
عجیب سی بے بسی محسوس ہورہی تھی ارتضی کو ماہین کو یوں روتے دیکھ ۔
اچھا چھوڑیں لائیں میں بینڈیج کردیتا ہوں ۔بنا چوچراں کیے بینڈیج کرواتی ہوئی ماہین کو ایک اور نئی پریشانی نے گہر لیا تھا۔اب وہ گھر کیسے اور کس کے ساتھ جائے گی ۔
کس کے ساتھ آئیں ہیں آپ ۔۔
کزن کے ساتھ آئی تھی۔اور وہ اب مجھے یہاں اکیلے چھوڑ کر چلی گئی ہے ۔۔ارتضی کے نرم لہجے نے اسے بولنے کی ہمت دی تھی ۔
کزن ۔۔۔۔ارتضی بھائی وہ میری کزن آئی ہوئی ہے میرے ساتھ باہر کھڑی ہے وہ بھی آپ سے ملنا چاہتی ہے ۔۔حیا کی بات یاد کرتا ہوا وہ حیران ہوا تھا ۔
کیا ماہین ہی وہ لڑکی ہے جس کا ذکر حیا کررہی تھی ۔ذہن میں چلتی سوچ کو سوچتا ہوا ماہین کو دیکھ کر نظریں جھکا گیا تھا۔
حیا نام ہے آپ کی کزن کا ۔۔۔بلآخر وہ پوچھ ہی گیا تھا ۔
جس کا جواب ماہین نے مثبت میں گردن ہلا کر دے گئی تھی ۔
آئیے میں چھوڑ دیتا ہوں ۔۔۔ایک منٹ کی تاخیر کیے وہ اس لفٹ دینے کی آفر دے گیا تھا ۔
بدلہ تو نہیں لیں گے نا ۔۔رونے کی وجہ سے سرخ ہوتی آنکھیں لیے وہ سوال کررہی تھی ۔
نہیں لوں گا آجائیں ۔۔۔خالی وارڈ سے باہر نکلتا ہوا اسے اپنے پیچھے آنے کا کہتا ہوا ریسپشن کی طرف بڑھا تھا۔
بائیں ہاتھ سے آنسو صاف کرتی ہوئی وہ ارتضی کے پیچھے پیچھے چل تھی ۔
اس کا کیا بھروسہ وہ کب اپنی بات سے پھر جائے ۔


ڈاکٹر عامر شہزاد آئے تو میرے کیبنٹ میں بیٹھا دیجئے گا۔
ماہین آئیں ۔۔۔ارتضی شاہ کے پیچھے چلتی ہوئی اس نازک صنف لڑکی کو دیکھ کر سب اسٹاف نے نظریں جھکا گئے تھے ۔
وہ ہونٹ بے مثل وہ رخسار ،، کمال است ،،
وہ آنکھ وہ آبروئے طرحدار ،، کمال است ،،
آواز میں وہ ساز کہ گفتار ،، کمال است ،،
سانسیں وہ عطر بیز کہ مہکار ،، کمال است ،،
وہ قامتت_دراز کہ شہکار ،، کمال است ،،
کاندھے پہ سچے گیسوئے خمدار ،، کمال است ،،
دیکھا ہے کئی بار بھی ہر بار ،، کمال است ،،
دھیمی ہو بھلے تیز وہ رفتار ،، کمال است ،،
پرکھا جو محبت میں تو کردار ،، کمال است ،،
دل بھی بے رقص میں کہ ملا یار ،، کمال است ،،
بل کھاتی ہوئی کچی پکی سڑکوں پر مہارت سے ڈرائیوو کرتا ہوا ارتضی شاہ وقفہ وقفہ سے اپنے برابر میں بیٹھی ماہین کے صبیح چہرے کو دیکھ رہا تھا ۔
جو خاموش بیٹھی ہوئی ونڈو سے باہر دیکھتی ہوئی جلاد کے نئے انداز پر حیران تھی ۔
حیا کو کیسے جانتے ہیں آپ ۔۔اچانک سے دماغ میں سوال کو وہ ارتضی سے پوچھ گئی تھی ۔
کیوں ۔۔وہ الٹا سوال پوچھ گیا تھا۔
ایسے ہی ۔۔۔۔
کیوں بھول گئی ماہین جلاد ہے تو جلاد ہی رہے گا ۔اپنا سا منہ لیے وہ بڑبڑائی تھی ۔
کچھ کہا آپ نے ۔۔۔۔ بظاہر وہ ڈرائیونگ کررہا مگر اس کا سارا دھیان ماہین کی طرف تھا ۔
سن تو وہ سب چکا تھا پھر بھی وہ اس کے منہ سننے کا خواہش مند تھا اس کے منہ سے جلاد نام سننا بھی ایک الگ سرور بخشتا تھا ۔
نہیں تو ۔۔۔۔۔۔کچھ بھی نہیں ۔۔۔وہ ارتضی کے پوچھنے پر وہ ڈگمگائی تھی ۔
اپنی مسکراہٹ دبائے وہ ڈرائیونگ کرتا ہوا اپنی پیشانی پر ہاتھ رکھ گیا تھا ۔۔۔۔۔۔۔


چاچو ،،،، چاچو ۔۔۔ماہین کو ہسپتال چھوڑ خود وہ ڈرائیور کے ساتھ بخاری ولا آگئی تھی ۔
امو جان ،،،چاچو گھر پر ۔۔۔اندھا دھند بھاگتی ہوئی حیا ریاض صاحب کو گھر نا پا کر پھولے ہوئے سانسوں کے ساتھ شاکرہ بیگم سے پوچھ رہی تھی ۔
سانس تو لے لو پہلے اور یہ کیا تم دنداناتی ہوئی اکیلی آگئی ہو ماہین کہاں ہے ۔۔حیا کے ساتھ کو دیکھ وہ حیا کو ڈانٹ رہی تھیں مگر اس کے سر پر جوں تک نا رینگی تھی ۔۔
آجائیں گی وہ چاچو کہاں ۔
کیسے آجائے گی کل بھی گم ہوگئی تھی وہ اور تم پھر اسے اکیلا چھوڑ آئی ہو ۔۔۔
امو وہ جہاں پر ہیں محفوظ ہیں ۔۔شاکرہ بیگم کو پریشان دیکھ انہیں تسلی دے گئی تھی ۔
چاچو ۔۔۔۔۔۔۔۔۔گاڑی کے ہارون کی سن کر خفگی سے امو کی طرف دیکھتی ہوئی باہر بھاگی تھی ۔۔۔
شکر ہے چاچو آپ آگئے پتہ ہے کب سے انتظار کر رہی ہوں آپ کا ۔۔ترکی بہ ترکی بولتی ہوئی وہ ریاض صاحب کا ہاتھ پکڑ کر ان کے ساتھ ساتھ چل رہی تھیں ۔۔
واہ بابا جان کی آج چاچو کی جان بن گئی ہیں اور بابا کو بھول گئی ہیں ۔۔۔۔حیا کو ریاض صاحب کے ساتھ جاتے دیکھ حمدان صاحب لہجے میں مضنوئی ناراضگی لیے پیچھے سے بولے تھے ۔
ہا ۔۔۔۔۔۔بابا جانی سوری میں نے آپ کو دیکھتا ہی نہیں ۔۔۔ہنوز ریاض صاحب پکڑے ہوئے وہ افسردگی سے بولی تھی۔۔
چلو کوئی بات نہیں بابا نے معاف کیا اپنی جان کو ۔۔۔۔
آئی لوو یو بابا جانی۔۔۔۔حمدان صاحب اور ریاض صاحب کے درمیان میں دونوں کے ہاتھ تھامے وہ چھوٹی سی بچی لگ رہی تھی۔
چاچو ۔۔۔۔۔
جی چاچو کی جان ۔۔۔ریاض کے بیٹھنے کا بھی انتظار نا کرتی ہوئی وہ فورا سے بولی تھی ۔
نرجس آپی کی شادی کو کتنے سال ہوگئے ہیں ۔۔۔حمدان صاحب مسکرائے تھے اپنی بیٹی کی معصومیت پر ۔۔
پتہ نہیں اب کیا نیا کارنامہ انجام دینے والی ہے ۔شاکرہ بیگم دل ہی دل میں حیا کے چہرے سے شرارت دیکھ کر پریشان ہوئی تھیں۔۔
تین سال ۔۔۔ریاض صاحب کو اندازہ نا تھا وہ آج ان سے اتنی گرم جوشی سے ملنے کے بعد یہ سوال پوچھے گی ۔
تین سال ۔۔۔اور انہیں پاکستان آئے ہوئے کتنے سال ہوگئے ہیں ۔۔۔
ایک اور سوال جس کی کسی کو بھی امید نہیں تھی آج وہ سوال پوچھ رہی تھی ۔۔
تقریبا ایک سال پہلے ۔۔۔حمدان صاحب کی طرف دیکھتے ہوئے وہ مسکرائے تھے ۔
ان کے دیکھنے سے صاف ظاہر تھا وہ ان کی ہمت کو داد دے رہے تھے ۔۔جس پر حمدان صاحب نے بھی مسکرا کر داد وصول کی تھی ۔
ماہین اور حیا کی شرارتوں مین رات دن کا فرق محسوس کرتے ہوئے ماہین کو یہاں موجود نا پا کر نظریں جھکا گئے تھے ۔
تو پھر سے بندوبست کرتے ہیں انہیں یہاں بلانے کا ۔۔۔ریاض صاحب کے برابر میں آکر بیٹھتی ہوئی وہ شاکرہ بیگم کی مسلسل گھوریوں کو جھٹکتی ہوئی پرجوش ہوئی تھی ۔
جیسے کہ کیا ۔۔۔۔۔حمدان صاحب کے پوچھنے پر وہ شاکرہ بیگم کی سوالیہ نظروں کو دیکھ کر محفوظ ہوئی تھی ۔
سلیمہ چاچو اور بابا جانی کے لیے پانی لاؤ اور ساتھ ادرک والی کڑک چائے ۔۔۔
امو جان۔۔۔۔آپ بناکر لائیں اچھی سے چائے اور ایک کپ میرے اور ہاں آپ کا دل کرے تو آپ اپنے لیے بھی بنا لیجئے گا ۔۔۔۔۔ بنا حمدان صاحب کے جواب دیے وہ شاکرہ بیگم کو یہاں سے بھیجنے کے لیے ان کو چائے کا کہہ گئی تھی ۔
آپ جائیں گی تو بات شروع کروں گی نا امو ورنہ آپ نے بیچ میں ہی ٹوک دینا ہے ۔۔شاکرہ بیگم کی گھوری سے شرمندہ ہوتی ہوئی وہ دل میں سوچ کر نظریں جھکا گئی تھی ۔
چائے کے ساتھ کچھ کھانے کے لیے بھی لے آئیے گا ۔۔حمدان بخاری کے بولنے پر اپنی جگہ سے اٹھتی ہوئی حیا کی چالاکی پر تاسف سے گردن ہلا کر رہ گئی تھیں ۔۔۔
اتنا تو وہ جانتی تھیں کہ وہ کچھ ایسی بات ضرور کرنے والی ہے جو وہ ان کی موجودگی میں ہرگز نہیں کرسکتی تھی ۔
ہم کہاں تھے ۔۔۔
ہم نہیں آپ کو جواب دینا تھا۔۔۔جیسے کہ ایسا کیا کرنا چاہیے ہمیں کہ نرجس آرام سے یہاں آجائے بنا کوئی بہانا بنائے ۔۔حمدان صاحب کے ساتھ ریاض صاحب بھی حیا کے جواب کے منتظر تھے ۔
جیسے کے ماہین آپی کی شادی فکس کردیتے ہیں پھر تو وہ نچاتی ہوئیں پاکستان آئیں گی ۔۔۔
ریاض صاحب کے ساتھ حمدان صاحب بھی حیا کی بات پر حیران ہوئے تھے ۔
دونوں کو بھنویں سکیڑ کر خود کو دیکھتے پا کر وہ اپنا نچلا لب دانتوں تلے دبائے وہ اداس ہوئی تھی ۔
ارتضی اور ماہین کو ایک ساتھ دیکھ کر وہ کیا سے کیا سوچ چکی تھی ۔۔
مگر یہاں تو شادی کے نام پر ہی اسے دونوں ایسے دیکھ رہے جیسے اس نے ماہین کی شادی کا کہہ کر کوئی گناہ کردیا ہو ۔
شادی کروانے کے لیے لڑکا بھی ہونا چاہیے ۔۔۔ایسے ہی تھوڑی شادیاں ہوتی ہیں ۔۔کہیں نا کہیں حیا نے ریاض صاحب کے دل کی بات کی تھی ۔۔
کیا ۔۔۔۔مطلب آپ کو غصہ نہیں آیا ۔۔۔۔ریاض صاحب کی بات اسے سکون بخش گئی تھی ۔
اور رہی بات لڑکا ڈھونڈنے کی اپنی ورڈ بیسٹ ماہین آپی کے لیے ورڈ کا بیسٹ لڑکا دیکھا ہے ۔۔
ہینڈسم ،ڈیشنگ اور ہیرو جیسا ۔۔۔۔۔۔روانگی سے بولتی ہوئی وہ چہکی تھی ۔
ہینڈسم سے کیا ہے بیٹا سیرت معنی رکھتی ہے ۔۔۔وہ حیا کی بچکانہ حرکت پر مسکرا کر سنجیدگی سے بولے تھے ۔
بلکل ۔۔۔حمدان صاحب نے بھی اب تائید کی تھی ۔
لو سیرت ہی دیکھنی ہے نا تو منت ہسپتال منہ بولتا ثبوت ہے اور ان کی نیک سیرت اور رحم دلی کی ۔۔۔کچھ توقف کے بعد وہ بنا جھجھکے بولی تھی ۔
ایک منٹ آپ ارتضی کی بات کررہی ہیں کیا ۔۔۔۔
جی بابا جانی ارتضی بھائی اور ماہین آپی ایک ساتھ بہت پیارے لگتے ..
ان دونوں کو ساتھ دیکھ کر ایسا لگا جیسے وہ ایک دوسرے کے لیے بنے ہیں ۔۔۔بے دھیانی میں بولتی ہوئی وہ حمدان بخاری اور ریاض صاحب کی خاموشی کو سمجھ نا سکی تھی۔
ارتضی شاہ کا نام سن کر ہی ریاض صاحب کو چپ سادھ لی تھی۔
حیا آپ کا دماغ ٹھیک تو ہے ۔ایسے کیسے ہم آپ کے کہنے پر ماہین کے رشتے کے لیے شاہ حویلی چلے جائیں ۔۔۔
اور رہی بات ماہین کے رشتے کی بار تو یہ ہمارا فیصلہ ہوگا کہاں کرنا اور کہاں نہیں آپ کو بیچ میں بولنے کی ضرورت نہیں ہے ۔سمجھ میں آئی بات ۔۔۔ ریاض صاحب کو چپ دیکھ کر حمدان بخاری حیا کو ڈنپٹتے ہوئے ریاض صاحب کے ہاتھ پر ہاتھ رکھ کر انہیں حوصلہ دے گئے تھے۔
سوری بابا جانی ۔۔۔۔بھرائی آواز میں منمناتی ہوئی انگلیوں کو آپس میں الجھاتے ہوئی خود ضبط کیے ہوئی تھی ۔
حیا ۔۔۔۔۔
جی چاچو ۔۔۔۔حمدان بخاری کے ڈپٹنے پر وہ نم آنکھیں لیے خاموش بیٹھی ہوئی تھی ۔
اچھا نہیں لگتا نا بچے لڑکی والے خود لڑکے والوں کے گھر رشتہ لے کر جائیں ۔۔تحمل کے ساتھ حیا کو سمجھاتے ہوئے ریلکس ہوئے تھے ۔
اگر خالہ جان خود آئیں تو ۔۔۔نم آنکھوں میں امید جاگ اٹھی تھی ۔
سوال پوچھتی ہوئی وہ کچھ توقف کے لیے ان دونوں کو خاموش کروا گئی تھی ۔
پھر سوچا جا سکتا ہے۔۔۔۔ریاض صاحب کے کہنے کی دیر تھی اور وہ خوشی سے ان کے گلے لگ گئی تھی ۔
تو پھر تیار رہیں ۔۔۔۔۔۔کہہ کر وہ وہاں سے بھاگتی ہوئی شاکرہ بیگم سے ٹکراتے ہوئے بچی تھی ۔
سوری ۔۔۔۔اسے کیا دے دیا آپ لوگوں کے اتنی چہکتی ہوئی گئی ہے ۔۔۔چائے کا کپ حمدان صاحب کو دیتی ہوئی وہ حیا کو خوش دیکھ کر حیران ہوئی تھیں۔
ارتضی کی شادی کی بات کی ہے آج تک آپ کی آپا نے آپ سے۔۔۔چائے کی سیپ لیتے وہ عام سے لہجے میں پوچھتے ہوئے شاکرہ بیگم کے چہرے پر نظریں جمائے ہوئے تھے ۔
نہیں مگر آپ اچانک سے کیوں پوچھ رہے ہیں سب ٹھیک ہے نا ۔۔۔حمدان صاحب کے پوچھنے پر وہ پریشان ہوئیں تھیں ۔
کوئی بات نہیں ہے بیگم ۔۔۔۔شاکرہ بیگم کی نظریں اب ریاض صاحب کے چہرے پر ٹکی تھیں ۔
میں اپنے روم میں جارہا ہوں ۔۔۔۔شاکرہ بیگم کی نظریں خود پر ٹکے دیکھ ریاض صاحب اپنی جگہ سے اٹھ کر وہاں سے چلے گئے تھے ۔


جہاں کے رنج سے پھر بھی پیار کرتے رہے
خزاں تھی زیست میں لیکن بہار کرتے رہے ۔۔،
فقط وفا ہی ہمارا نہیں رہا شیوہ
وفا میں اپنی جان بھی نثار کرتے رہے ،،،
خبر تھی وہ نہ پلٹ کر کبھی بھی واپس آئیں گے
تمام عمر پھر بھی انتظار کرتے رہے ۔۔۔۔۔۔،
بچھڑتے وقت یونہی مسکرا دیے تھے کبھی
بچھڑ کے آنکھوں کو پھر اشکبار کرتے رہے ۔۔۔،
طلسم کیا تھا ان آنکھوں میں ہم نے نہ جانا
بس ان کی یاد میں دل بے قرار کرتے رہے۔۔۔۔۔،
ہزار بار کسی سے فریب کھایا ہے
ہزار بار مگر اعتبار کرتے رہے ۔۔۔،
سماج کے بھی مسائل بیان کئے زاہد
ہم اپنے شعروں میں سب آشکار کرتے رہے ۔۔۔۔
آج بڑے دنوں بعد رائمہ کو بنا کسی ملازمہ کے ساتھ چھت پر اکیلا پتنگ اڑتے دیکھ کر وہاج کو خوشگوار حیرت ہوئی تھی ۔
ہائے آسمان پر اڑتی یہ گلابی پتنگ دل چاہتا ہے اس کے ساتھ پیچ لڑاؤں ۔۔۔۔
آنکھوں میں ڈوب جاؤں اس کے
کناروں کو اس کی باہوں میں ڈھونڈ لوں
خود میں بسا کر اسے خود میں کہیں چھپالوں
من گھڑت بولتا ہوا دونوں ہاتھوں کا ہار بنائے وہاج سامنے گلابی سوٹ میں کھڑی رائمہ کو دیکھ کر بےخودی میں بلند آواز میں بولتا ہوا رائمہ کو ہسنے پر اکسا رہا تھا ۔
میرا بھی نا بڑا دل کر اس سیاہ پتنگ کو آڑے ہاتھوں لوں اتنے برے طریقے سے کاٹوں نا ساری عمر یاد رکھے گا پتنگ اڑانے والا ۔ پتنگ کو ڈھیل دیتی ہوئی چبا کر بولی تھی ۔
سمجھا کیا ہوا ہے تم نے سیاہ پتنگ والے کو ۔
میں تو دل کے ہاتھوں مجبور ہوکر تمہاری پتنگ کو ڈھیل دیے ہوئے تھا اور تم میری ہی پتنگ کو کاٹنے کی تیاری میں لگی ہوئی ہو ۔ رائمہ کو مسکراتے ہوئے دیکھ شکایت بھی اس دشمن جاں سے مہنگی پڑتی نظر آرہی تھی وہاج کو ۔
میرے مانجھے کی دھار بہت تیز ہے تو ذرا خیال رہے وہاج انصاری ۔
یہ جو تمہارے دل کے ہاتھ ہیں نا کہیں چھلی چھلی نا ہوجائے میرے تیز دھار مانجھے سے ۔
نیلے شفاف آسمان پر اڑتی ہوئی اپنی گلابی پتنگ کے ساتھ سیاہ پتنگ سے ہوتے پیچ کو دیکھ کر وہاج کی طرف الوادعی اشارہ کرتی ہوئی فاتح انداز میں دیکھتی ہوئی مسکرا رہی تھی ۔جبکہ اپنی پتنگ کے ساتھ ہوئی اچانک افتاد پر ہاتھ میں پکڑی ٹوٹی ہوئی ڈور کو بے بسی سے دیکھتا رہ گیا تھا ۔
پتنگ ہوا میں بےجان اڑتے ہوئے دیکھ کر چونکا تھا۔
غصے سے بڑے بڑے سانس بھرتا ہوا دیوار پھلانگ کر وہاج رائمہ کے پیچھے دبے پاؤں آکھڑا ہوا تھا ۔
اپنی خوشی میں مگن رائمہ خود کے پیچھے کسی کی موجودگی محسوس کرتی ہوئی گھبرائی تھی ۔
تم یہاں ،،بھائی نے دیکھ لیا تو ۔۔آنکھوں میں ڈر لیے وہ ڈور کو چھوڑتی ہوئی اس سے دو قدم دور ہوئی تھی ۔
لپک کر ڈور پکڑتا ہوا وہ رائمہ کے سپاٹ چہرے کو دیکھ کر مسکرایا تھا ۔۔
بھائی سے ڈر نہیں جانم
ان کی دھلائی سے لگتا ہے ۔۔۔
وہ جو وہاج کے منہ خود جانم سن کر سرخ ہوئی تھی وہیں وہایک ادا کے ساتھ بولتا ہوا رائمہ کی پتنگ کو ڈھیل دے کر واپس سے دیوار ٹپتا ہوا اپنی چھت پر آکھڑا ہوا رائمہ سرخ ہوتے چہرے کو دیکھ کر مسکرا رہا تھا ۔
ٹھرکی انسان میری پتنگ لے لی تم نے ۔۔اپنی پتنگ کو وہاج میں دیکھ کر وہ اپنی بےوقوفی پر پچھتائی تھی ۔۔۔
آج تم سے تمہاری پتنگ لے کر اپنی چھت پر آگیا ہوں بہت جلد تمہارے ساتھ یہاں پر پتنگ اڑانے کا ارادہ رکھتا ہوں ۔۔ رائمہ کو دیکھتا ہوا وہ مسکرایا تھا ۔
خوابوں پر کس کی پابندی ہوتی ہے دیکھتے رہو تم ۔۔۔
جب تک تم اپنے بازوں میں دم خم پیدا نہیں کرو گے نا جب تک یہ خواب ادھورا ہی رہے گا ۔۔۔ ترچھی سے کہتی ہوئی وہ وہاج کو افسردہ چھوڑ وہاں سے چلی گئی تھی ۔
کیا کروں رائمہ ایسا جس سے سب ٹھیک ہوجائے ۔۔۔ہاتھ سے ڈور کو رہا کرتا ہوا اپنی فیملیز کے بگڑے ہوئے تعلقات کو سوچ کر ہمت ہار گیا تھا ۔
جاری ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔