Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 5

سکونِ دل کے لیے کچھ تو اہتمام کروں..
اور ذرا نظر ملے پھر اُنہیں سلام کروں!!!
مجھے تو ہوش نہیں، آپ مشورہ دیجیے…
کہاں سے چھیڑوں افسانہ کہاں تمام کروں!!! 🖤 🥀
ضبط سے سرخ آنکھیں لیے وہ ماہین کو جاتے دیکھ وہ اسے روک بھی نا سکا تھا ۔۔
روکتا بھی کیسے اس کے پاس کون سا اسے روکنے کا جائز حق تھا ۔۔
داخلی دروازے سے سر ٹکائے وہ اسے جاتے دیکھ خود کو بے بس محسوس کررہا تھا ۔
اتنا سب ہونے کے باوجود بھی وہ لڑکی کے دل میں اپنی محبت نہیں جاگا سکتا تھا ۔مگر اپنے غصے و جنوں کی وجہ سے وہ اس کی نفرت کا ضرور حق دار بن گیا تھا ۔۔
ارتضی شاہ کے ڈر سے اپنے وجود میں اٹھے وسوسوں اور عجیب سی بے چینی سے جنھجھلاتی ہوئی وہ وہاج کے ساتھ یہاں آنے پر پچھتاتی ہوئی آنسوؤں کو بے دردی سے صاف کرتی ہوئی لفٹ سے نیچے آئی تھی ۔
شاہ ڈیئری فارم دیکھ کر اسے کہیں سے ڈیری فارم گاؤں کا حصہ نہیں لگا تھا ۔۔
ہر طرح کی مشینیں اور حد درجہ صفائی دیکھ کر حیران رہ وہ حیران رہ گئی تھی۔۔
اب جب وہ ارتضی شاہ کے ہاتھوں ہوئی اپنی تذلیل پر اسے ڈیری فارم سے نکلنا اسے سب سے مشکل امر لگ رہا تھا ۔
پیروں میں جیسے چلنے کی سکت ہی نا ہو ایسے تو کبھی اس سے کسی نے بات نہیں کی تھی ۔
ایسا تو نہیں تھا کہ اس نے پہلی بار کسی کے حق میں آواز اٹھائی ہو ۔
وہ تو ایسی ہی تھی دوسروں کے درد کو اپنا مان لینے والی ۔
مگر زندگی میں ایسا پہلی بار ہوا تھا اس کے ساتھ کہ اس کو اس طرح بےعزت کرکے نکالا گیا ہو ۔
اسے یاد نہیں پڑرہا تھا کہ اسے اس طرح نکالا گیا ہو اس کے ساتھ ایسا کرنے والے ہزار بار سوچتے تھے اس کے معصوم چہرے کو دیکھ کر ۔
مگر ارتضی شاہ کی آنکھوں پر تو فقط جنوں و غصے کی سیاہ پٹی بندھ گئی تھی ۔
اپنی کہی ساری باتیں جو ارتضی شاہ کے غصے وہ جنوں کی وجہ بنی تھی وہ سب فراموش کیے وہ فقط اپنی ہوئی تذلیل پر ماتم کنا تھی ۔۔
آنکھوں میں آنسو لیے نڈھال قدموں سے چلتی ہوئی ماہین کو دیکھ کر وہ ملازم نظر جھکا گیا تھا جو اسے ارتضی کے کیبنٹ تک چھوڑ کر آیا تھا ۔
اندازہ تو تھا ہی اسے اس سب کا ۔۔۔
مگر ارتضی شاہ کچھ بھی کر گزرنے کی طاقت رکھ سکتا ہے یہ اسے آج یقین ہوگیا تھا آنسو صاف کرتی ہوئی ماہین کو دیکھ کر ۔
کیا کہا ارتضی بھائی نے ۔۔۔۔۔اور آپ رو کیوں رہی ہیں ۔۔
سب کچھ ٹھیک سے ہوا نا یا بھائی نے کچھ ایسا کہہ دیا جو نہیں کہنا چاہیے تھا آپ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ماہین کی متورم آنکھیں دیکھ وہاج پریشان ہوا تھا ۔
بزدل انسان ہیں آپ جو شخص اپنی محبت حاصل کرنے کے لیے دوسروں کا کاندھا ڈھونڈتا ہو وہ کبھی بھی اپنی محبت حاصل نہیں کرسکتا ۔اپنی ساری فرسٹیشن وہاج پر نکالتی اسے حیران کرگئی تھی ۔
میں تو حیران ہوں کہ رائمہ کو آپ سے محبت ہو کیسے گئی ۔۔
ایک ایسے انسان سے جو اس کے لیے اسکے بھائی سے لڑنہیں سکتا۔ کسی اور کو بلکہ کسی لڑکی سے مدد مانگتا ہے ۔
شرم آنی چاہیے آپ کو تو ڈوب مرنے کا مقام ہے آپ کے لیے ۔۔۔۔۔لمبا سانس خارج کرتی ہوئی وہ کچھ حد تک پرسکون ہوئی تھی ۔
اور وہ غلط نہیں سہی کر رہے ہیں کیونکہ غلط تو آپ ہیں ۔۔
کون سا بھائی اپنی بہن کا ہاتھ کسی بزدل کے ہاتھ میں دیتا ہے ۔
جو اس کا مقابلہ نہیں کر سکتا وہ دنیا سے کیا خاک لڑے گا اس کی بہن کے لیے۔۔۔جانے انجانے میں ماہین اسے اکسا گئی تھی ۔
محبت کے لیے جذبہ جنون لانا پڑتا ہے ۔خود کو پہاڑ جیسا مضبوط بننا پڑتا ہے جب جاکر محبوب نصیب ہوتا ہے ۔
ایسے ہی محبت حاصل نہیں ہوتی ۔۔۔
تو بہتر ہوگا پہلے خود محبت کرنے کے قابل بنائیں ۔پھر آپ کے منہ سے محبت کی دہائیاں اچھی لگیں گی ۔۔
سہی تو کہہ رہی تو وہ آخر وہ کب ارتضی کے سامنے کھڑے ہونے کی تاب رکھتا تھا۔
وہاج کے شرمندگی سے جھکے سر کو دیکھ وہ وہاں چلی گئی تھی ۔
انجان راستوں پر بہتے آنسوؤں کو صاف کرتی ہوئی اپنے آپ سے عہد کر گئی تھی ۔۔
نا کسی کے معملات میں ٹانگ آڑائے گی اور نا ہی کسی کے لیے اپنے دل میں ہمدردی رکھے گی ۔۔۔
ارتضی شاہ کی دھاڑ کے ساتھ آخر میں کہی بات کو سوچ کر واپس سے آنکھوں سے آنسو پھر سے بہنے شروع ہوئے تھے۔
خدا کرے تمہارا اور میرا کبھی سامنہ نا ہو ارتضی شاہ۔۔
زندگی اگر ماہین ریاض نے کسی شخص سے نفرت کی ہے تو وہ تم ہو صرف اور صرف تم ارتضی شاہ ۔۔
تم انسان نہیں جلاد ہو جلاد ۔۔۔۔
زندگی ان دونوں کو محبت سے پہلے ہی اس دوہرائے پر لے آئی تھی ۔
جہاں مشہورِ سنگدل دا گریٹ ارتضی شاہ محبت کی آگ میں جلنے والا تھا ۔
اور وہین ماہین ریاض خود کی اخذ کی نفرت کی آگ میں ۔۔۔
دونوں کی زندگی اس کٹھن راہ پر آکر رکی گئی تھی۔۔۔
جہاں ہر قدم پر دونوں کو درد کا سامنا کرنا تھا ۔۔۔
🍁🍂🍁🍂🍁🍂
حیا تم ماہین کے ساتھ نہیں تھی تو پھر ماہین کہاں گئی ہے اور کس کے ساتھ ۔۔۔
حیا کو دیکھ شاکرہ بیگم پریشان ہوئیں تھیں ۔
کیا مطلب ماہین آپی گھر پر نہیں ہیں تو پھر کہاں جاسکتی ہیں ۔۔وہ الٹا شاکرہ بیگم سے سوال کرگئی تھی ۔
یہ ہی تو میں تم سے پوچھ رہی ہوں وہ اگر تمہارے ساتھ نہیں گئی تو کس کے ساتھ گئی ہے ۔۔
یااللہ رحم فرمانا میری بچی پر اسے تو یہاں کے راستوں کا بھی نہیں پتا ۔۔دونوں ہاتھوں میں سر گرائے وہ پریشان ہوئیں تھیں ۔۔
کم از کم انہیں ماہین سے ایسی لاپروائی کی امید نہیں تھی ۔
امو آپ ٹینشن نہ لیں میں کال کرتی ہوں ماہین آپی کو ۔۔شاکرہ بیگم کے گھٹنوں پر ہاتھ رکھتی ہوئی وہ خود بھی پریشان ہوئی تھی ۔
کال تو جارہی پر وہ نہیں اٹھا رہیں ۔۔۔ ماہین کے بارے سوچ کر ہی حیا روہانسی ہورہی تھی ۔
تم ٹرائے کرتی رہو شاید اٹھا لے۔۔
یااللہ میری معصوم بیٹی کی حفاظت کرنا ۔۔۔ماہین کو لے برے برے خیالات ان کے ذہن میں آرہے تھے ۔
ان سے مزید پریشان ہوتی ہوئیں دعا گو تھیں ۔
ہیلو ماہین آپی کہاں ہیں یار آپ ۔۔۔
مسلسل چار کالز کے فون اٹینڈ کرتی ہوئی ماہین حیا کی آواز سن کر رو دی تھی ۔
یااللہ تیرا شکر ہے میرے مالک ۔۔۔
ماہین کا فون اٹینڈ کرنا شاکرہ بیگم تھمی ہوئی سانسیں بحال کرگیا تھا ۔
حیا۔۔۔۔۔۔۔۔پلیز ۔۔۔۔۔۔۔۔آجاؤ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ورنہ میں مر جاؤں گی ۔۔۔۔
مسلسل رونے کی وجہ سے بھاری ہوتی ماہین کی آواز حیا مشکل سے سمجھ میں آئی تھی ۔
اچھا نا رونا بند کریں یہ بتائیں آپ ہیں کہاں میں آتی ہوں ڈرائیور کے ساتھ ۔
پتا نہیں کیوں مجھے بس رونا آرہا ہے یہ آنسو بند ہونے کا نام ہی نہیں لے رہے ۔۔۔کیا کروں میں۔۔۔۔۔معصوم بچوں کی روتی ہوئی فٹ پاتھ پر بیٹھی تھی ۔
اچھا یہ بتائیں کہاں پر ہیں آپ اس وقت ۔۔۔ماہین کی حالت کا سوچ کر ہی حیا کے ہاتھ پیر پھولے تھے۔
مجھے میں پتا کون یہ شہر ہے جہاں پر بورڈز لگے ہونگے ۔۔چڑ کر کہتی اپنی سو سو کرتی ہوئی ناک سے تنگ آئی تھی ۔
اوکے بابا ۔۔۔کوئی جگہ کی پہچان بتا دیں جہاں پر آپ اس وقت ہیں ۔۔۔حیا کی سمجھداری پر شاکرہ بیگم حیران ہوئیں تھیں ۔
یہاں پر تو بس درخت ہی درخت ہیں ۔۔۔۔
ہاں یہاں سے شاہ ڈیری فارم قریب پڑتا ہے اس زیادہ نہیں پتا مجھے ۔۔۔
ٹھیک ہے آپ وہیں رکے میں آرہی ہوں ۔
شاہ ڈیری فارم کا نام لیتے ہی پھر سے ارتصی شاہ کے ہاتھ ہوئی اپنی تذلیل یاد آئی تھی اور آنسوؤں میں روانگی بھی ۔
اللہ کرے ارتضی شاہ گنجی بیوی ملے ۔۔معصوم سی بدعا دیتی ہوئی اپنی غلطی پر پچھتائی تھی ۔
آج کا دن ہی منحوس ہے پہلے اس وہاج کی باتوں میں آکر جلاد سے پنگا لے لیا اور پھر ڈرائیور کو بھی جانے کا کہہ دیا ۔
آجاؤ حیا ۔۔۔۔گھٹنوں میں سر دیے حیا کے انتظار میں بیٹھی بھی رو رہی تھی۔
ماہین آپی ۔۔۔حیا کی آواز پر سر اٹھا کر دیکھتی ہوئی ماہین حیران ہوئی تھی حیا کے اتنی جلدی آجانے پر ۔
تم سچ میں ہو نا یا میرا وہم ہے ۔
میں سچ میں ہوں ۔ماہین کے آنسو صاف کرتی ہوئی وہ مسکرائی تھی ۔
پر اتنی جلدی کیسے ۔۔حیا کے گلے سے لگی وہ اب شاکڈ تھی ۔
وہ ایسے ہمارا ذرا سے فاصلے پر ہے اس لیے ۔اب چلیں ۔۔۔
ہہمہم۔۔۔۔آنسو صاف کرتی ہوئی وہ حیا کے ہم قدم ہوئی تھی ۔
🥀🥀🥀🥀🥀🥀
کون پُرسانیں حال ہے میرا،
زندہ رہنا کمال ہے میرا…
توں نہیں تو تیرا خیال سہی،
کوئی تو ہم خیال ہے میرا…
میرے اعصاب دے رہے ہیں جواب..
حوصلہ کب نڈھال ہے میرا…
چڑھتا سورج بتا رہا ہے مجھے..
بس یہی سے زوال ہے میرا…
سب کی نظریں میری نگاہ میں ہیں..
کس کو کتنا خیال ہے میرا !!!! 🖤 🥀
کیسا رہا دن گاؤں کے ڈیری فارم میں ۔۔دلاور شاہ کی مسرور کن آواز سن کر ان کے سامنے وہ نظریں جھکائے کھڑا ہوا تھا ۔
اچھا رہا ۔۔۔دلاور شاہ کر حیران چھوڑ وہ مختصر سا جواب دیتا وہ اپنے روم میں جانے کے لیے بڑھا تھا ۔
حیدر کی آواز پر بنا مڑ وہ رک گیا تھا ۔
لندن سے کال آئی تھی آپ نے کچھ مشینوں کا آرڈر دیا تھا کیا ۔
ہاں کل دیا تھا آرڈر کنفرم ہوگیا کیا ۔۔۔خود کی کیفیت کو چھپانے کی کوشش میں وہ کامیاب ٹھہرا تھا ۔
جی بھائی ہوگیا ہے اگر کہہ تو اس بار میں لندن چلا جاتا ہوں ۔۔
ویسے بھی کافی مہینے ہوگئے ہیں گئے ہوئے ۔۔۔ارتضی کی پیٹھ کو دیکھتا ہوا وہ حیران ہوا تھا ۔
ہاں کیوں نہیں ۔۔حیدر اور دلاور شاہ کو حیران چھوڑ وہ وہاں سے ہوا کے جھونکے کی غائب ہوا تھا۔۔
جاری ہے ۔۔۔
شارٹ ایپی مت کہیے گا کیونکہ اب ایپی ڈیلی آئے گی تو شارٹ تو ہوگی نا۔
اپنی قیمتی رائے کا اظہار ضرور کریں ۔۔
شکریہ۔۔
See translation