Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 6

آپ کو کچھ پتا ہے بابا سرکار کہ کیا ہوا ہے ارتضی بھائی کو ۔
دلاور شاہ کے برابر میں آکر بیٹھتا ہوا حیدر ارتضی کی سرخ آنکھوں کو دیکھ کر پریشان ہوا تھا ۔
صبح ڈیری پر جاتا بڑا خوش دِکھ رہا تھا مگر اب نجانے کیوں مجھے تھوڑا پریشان لگ رہا ہے ۔
اللہ خیر کرے بس سب ٹھیک ہوا ہو ڈیری میں کہیں کسی ملازم کی شامت نا لگا کر آیا ہو ۔۔دلاور شاہ کی پر وہ مبہم سا مسکرایا تھا ۔
یہ تمہیں کیا اچانک سے لندن جانے کی پڑگئی ۔۔۔۔ارتصی کو چھوڑ وہ گھوم کر حیدر پر آرکے تھے۔
گندمی رنگت کا مالک حیدر شاہ اپنی صوبر پرسنلیٹی اور مستقل مزاج شخصیت کا حامل تھا ۔
حیدر شاہ کی شخصیت پر چار چاند لگاتی اس کی بات بہ بات مسکرانے کی عادت ہمیشہ ہی اسے شاہ خاندان سے مختلف بناتی تھی ۔
ایسے ہی دل چاہ رہا تھا جانے ۔۔۔اپنے مخصوص صوبر انداز میں مسکراتے ہوئے سر جھکائے بیٹھا تھا ۔
یہ جو تمہاری ناک پر تل ہے نا تمہارے دادا سرکار کی یاد دلاتا ہے مجھے ۔۔۔۔حیدر کی ستواں کھڑی ناک دباتے ہوئے وہ مسکرائے تھے ۔۔
آپ بھی نا بابا سرکار ۔۔۔۔ دادی سرکار پر ملتے ہیں اور کبھی دادا سرکار پر ۔۔۔حیدر کی بات پر سیٹنگ ایریا میں دلاور شاہ کا جاندار قہقہ گونجا تھا ۔
اب حساس دل ہی اتنے ہو مجال ہے جو کسی ملازم پر چِلاؤ بلکل اپنی اماں سرکار کی طرح اور پھر یہ جو تمہاری ناک پر تل ہے بابا سرکار کی طرح تو بتاؤ کیسے تمہیں ایک پر ملاؤں ۔۔۔
تم تو مجھے بہت عزیز ہو حیدر شاہ اگر ارتضی شاہ دلاور شاہ کا دل ہے تو تم اس دل کی دھڑکن ہو ۔۔۔دلاور شاہ کی باتیں سن کر حیدر ان کاندھے پر سر رکھے مبہم سا مسکرا رہا تھا ۔
جب اچانک نظر سیڑھیوں سے اترتے ہوئے ایک ساتھ دو سے تین اسٹیپ کو پھلانگ کر سیاہ سوٹ میں گیلے بالوں کو بنا ڈرائے کیے آتے ارتضی کو دیکھ کر حیران رہ گیا تھا ۔۔۔
جو کچھ دیر پہلے اپنے روم میں گیا تھا اور اب فریش ہو کر ان دونوں کے سامنے کھڑا تھا۔۔۔
غلام رسول ۔۔۔۔۔بلند آواز میں پکارتا ہوا وہ بابا اور حیدر کو خود کو دیکھتے پا کر جبراً مسکرایا تھا ۔
خیر ہے جو غلام رسول کو بلا رہے ہو ۔۔۔۔
خیر ہی خیر ہے بابا سرکار بس مردان خانے کی صفائی کروانی تھی میرے کچھ دوست آرہے ہیں ۔
اس لیے یاد کیا ہے اسے ۔۔۔
دلاور شاہ کے سامنے رکھے دیوان پر بیٹھتا ہوا وہ عام سے لہجے میں بولا تھا ۔
ارتضی کے جواب پر دلاور شاہ خاموش ہوئے تھے ۔
بھائی یہ آپ کی آنکھیں سرخ کیوں ہورہی ہیں ۔۔حیدر کے سوال پر وہ پھیکا سا مسکرایا تھا ۔
رات بھر نیند نہیں آئی اور اب تھکن کی وجہ سے اور سرخ ہوگئی ہیں۔ حیدر سے نظریں چرائے وہ صاف جھوٹ بول گیا تھا ۔
بہت تیز رفتار ہے تمہاری اور کان بھی بڑے تیز ہیںتمہارے ۔۔۔
جب ہی تمہیں ایک آواز سنائی نہیں دیتی ۔۔۔سر جھکائے غلام رسول پر لفظوں کے تیر چلا رہا تھا ۔
معذرت سرکار سائین ۔۔
بس یہ ہی لفظ بولنا سیکھ لیا تم لوگوں نے ۔۔۔
وقت پہ تم لوگوں کی تنخواہ حاضر ہو مگر تم لوگ ایک آواز پر حاضر نہیں ہوسکتے ۔۔
کانوں میں روئی ٹھونسی یا گھنٹوں میں پانی پڑگیا تھا۔۔۔اپنے اندر اٹھے طوفان سے وہ سب تہس نہس کردینے کا خواہ تھا ۔
سرکار وہ ۔۔۔حیدر کو مددی نظروں سے دیکھتا ہو غلام رسول ارتضی شاہ سرخ قہر برساتی آنکھوں سے ڈر رہا تھا۔
غلام رسول تم جاؤ اور مردان خانے کی کرواؤ ۔۔۔حیدر کی اجازت پاتے ہی غلام رسول وہاں گدھے کے سر سے سینگ کی طرح غائب ہوا تھا۔۔۔
حیدی کیا تھا یہ ۔۔۔۔۔
یہ جو تمہاری رحمدلی ہے یہ پی انہیں سر پر چڑھا رہی ہے ۔
اچھے سے جانتا تھا حیدر کہ ارتضی اس پر ذرا سا غصہ ہو کر خاموش ہوجائے گا ہوا بھی کچھ ایسا ارتضی اپنے دکھتے سر کو انگلیوں کے پوروں سے دباتا ہوا دیوان پر دراز ہو گیا تھا ۔
بھائی سر میں درد ہورہا ہے ۔۔چائے کا کہہ دوں ۔۔۔
ارتضی کو دیوان پر لیٹتے حیدر اس کے پاس آیا تھا ۔
یہ بھی پوچھنے والی بات ہے حیدر جاؤں اور اپنی ماں سرکار یا رائمہ کو کہنا چائے بنانے کا۔۔۔۔آنکھوں پر کونہی رکھے لیٹے ارتضی کو دیکھ دلاور شاہ فکر سے بولے تھے۔
ارتضی اپنے روم میں چلو وہاں پر اچھے سے آرام کرلینا ۔۔
نہیں بابا سرکار میں ٹھیک ہوں آپ جائیں جاکر آرام کریں چائے پی کر ٹھیک ہوجائے گا ۔۔
سردرد تو ہے ۔۔۔۔دلاور شاہ کے فکرمندانہ انداز پر وہ انہیں دیکھ کر مسکرایا تھا ۔
میری سنتے ہی کب ہو ۔۔۔۔۔دلاور شاہ کے شکوے پر مسکراتا ہوا انہیں جاتے دیکھ واپس سے آنکھیں موند گیا تھا ۔۔۔
نوری تم جاؤ اور ارتضی سائین کا سر دباؤ ۔۔۔وہاں سے گزرتی ہوئی نوری کو دیکھ حیدر حکم کرتا ہوا وہاں سے گیا تھا ۔
جی سرکار سائین۔۔۔ارتضی کا نام سنتے ہی سر کو جھکائے وہ مسکرا کر وہاں سے گئی تھی۔
پیشانی پر نرم ملام دباؤ محسوس کرتا ہوا ارتضی شاہ نیند کی وادی میں اترتا ہوا مسکرا رہا تھا ۔۔
سرکار سائین سکون مل رہا ہے آپ کو ۔۔۔ارتضی کو اتنے قریب سے مسکراتے نوری نے مسرور کن لہجے میں پوچھا تھا ۔
نیند میں ہونے کی وجہ سے آواز کو پہچانتا ہوا وہ اپنی دونوں بھنویں سکیڑ گیا تھا ۔۔۔۔۔۔
سرکار سائین۔۔۔۔۔نوری کے دوسری بار پکارنے پر فورا سے آنکھیں کھولتا ہوا اپنی پیشانی پر رکھتا نوری کے ہاتھ کو غصے سے جھٹک گیا تھا ۔۔
ہمت کیسے ہوئی تمہاری ۔۔۔میں نے کہا تھا کہ میرا سر دبانے کے لیے ۔۔۔غصے سے دھاڑتا ہوا نوری کے سر پر آ دوڑا تھا۔
س۔۔۔س۔۔۔سر۔۔۔۔۔ککککا۔۔ر۔وووہہہ ۔۔ارتضی کے خوف سے وہ سہم گئی تھی ۔
نکلو میری نظروں کے سامنے ۔۔۔جاؤ ۔۔۔منہ پر ڈوپٹہ رکھتی ہوئی وہ سسکی دبائے وہاں سے بھاگی تھی ۔۔
اندر آتی شاہدہ بیگم کو اشکبار نظروں سے دیکھتی ہوئی وہ گئی تھی ۔
کیا ہوا شاہ۔۔۔ارتضی کے کندھے پر ہاتھ رکھتی ہوئی وہ نوری کو روتے دیکھ پریشان ہوئیں تھیں ۔
یہ لڑکی میری نظروں کے سامنے نا آئے دوبارہ ۔۔۔۔
ورنہ میں وہ کر گزروں گا جس کا کوئی تصور میں بھی سوچ سکتا ۔۔۔
آپ اچھے سے جانتی ہیں کہ میں اپنی زبان کا کتنا پکا ہوں۔ دانت دبا کر ضبط سے بولتا ہوا وہ شاہدہ بیگم کو حیران چھوڑ وہاں سے چلا گیا تھا ۔
🥀🥀🥀🥀🥀🥀
جب سے آئیں ہیں خاموش بیٹھی ہوئی ہیں ۔۔کیا بات ہوئی ہے اور کیوں اکیلی گاؤں گھومنے گئیں تھیں ۔
اور یہ کیا طریقہ تھا آپ گاؤں کے راستوں سے انجان ہونے کے باوجود ڈرائیور کو کیوں واپس بھیجا تھا ۔
جب سے ماہین اس کے ساتھ آئی تھی جب بس خاموش بیٹھی ہوئی تھی ۔
اور اب جب وہ اسے زبردستی کھانا کھا کر اپنے روم میں آئی تھیں اب تو حیا کا ضبط جواب سے گیا تھا ۔
دونوں ہاتھ کمر پر رکھ کر پوچھتی ہوئی ماہین کی اتنی طویل خاموشی سے زچ آئی تھی۔
یار کوئی لڑکی اتنی دیر تک کیسے خاموش اور مسلسل رو سکتی ہے۔۔
اگر تم پر اس وحشی کی وحشت طاری نا کردو تو میرا نام بھی ارتضی شاہ نہیں ۔۔۔بار بار گونجتی ارتضی کی آواز سے وہ خوفزاہ ہورہی تھی ۔
ماہین ۔۔۔۔۔دونوں کاندھوں کو بری طرح جھنجھوڑتی ہوئی حیا چلائی تھی ۔
حیا ۔۔۔۔۔۔بہت برا ہے ۔۔۔۔۔۔۔وہ ۔۔۔۔۔حیا کے گلے لگی وہ پھر سے رونا شروع ہوئی تھی ۔
پتا۔۔۔۔۔۔۔۔۔ نہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔حیا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔وہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ کیا۔۔۔۔۔۔۔کرنے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ والا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔میرے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ساتھ ۔۔۔۔۔
سسکیوں کے ساتھ بولتی ہوئی اس کے بارے میں سوچ کر اپنی جان ہلکان کررہی تھی ۔
کون برا ہے ماہین نام کیا ہے اس کا۔۔۔اور کوئی کچھ بھی نہیں کرسکتا آپ کے ساتھ میں ہوں نا امو بابا ہیں چاچو بھی ہیں تمہارے ساتھ تمہیں ڈرنے کی ضرورت نہیں ہے ۔۔۔۔
ماہین کے بالوں میں ہاتھ چلاتی ہوئی وہ اسے پرسکون کرنی لی کوشش کررہی تھی ۔
تم مجھے اکیلا مت چھوڑ کر جانا بلکہ میں بابا کو کہتی ہوں ہم واپس شہر چلے جاتے ہیں ۔۔۔حیا سے الگ ہوتی ہوئی وہ اپنے آنسو صاف کر رہی تھی۔۔
مگر وہ تو شہر میں آجاتا ہے ۔۔۔ہائے اللہ میں کہاں جاؤں ۔۔۔گھٹنوں میں سر دیے سسکیوں سمیت رو رہی تھی ۔
ماہین ۔۔۔۔۔ریلکس کریں کچھ نہیں ہوگا ۔
کوئی کچھ نہیں بگاڑ سکتا تمہارا سمجھی صرف تمہیں ڈرایا دھمکایا ہوگا اس نے ۔۔۔
ایسے دھمکی نہیں دی جاتی ۔۔۔حیا کی بات کی وہ نفی کرگئی تھی۔
اسے آپ نے کچھ کہا تھا اسے۔۔جواب میں ماہین مثبت میں گردن ہلا گئی تھی ۔۔۔
بس پھر اس نے آپ کو ڈرایا ہے اور کچھ نہیں ۔۔۔
سمجھی آپ چلیں اب آنسو صاف کریں ۔۔۔۔ماہین کے آنسوؤں کو صاف کرتی ہوئی وہ مسکرائی تھی ۔
سچ میں اس نے ڈرایا تھا مجھے کچھ نہیں کرے گا وہ میرے ساتھ ۔۔۔
نہیں کرے گا نام تو بتائیں اس کا ۔۔۔حیا کی باتوں سے وہ کافی حد تک پرسکون ہوگئی تھی ۔
انسان روپ میں جلاد ہے ۔۔۔متورم آنکھوں لیے وہ حیا کو حیران کرگئی تھی ۔
اچھا چھوڑیں نا مجھے نا نیند آرہی ہے ہم سوتے ہیں ۔۔ماہین کو ہاتھ پکڑ کر اٹھاتی ہوئی اس شخص کو سوچ رہی تھی ۔
کون ہے وہ جلاد ۔۔۔۔۔نیند میں ماہین کو سسکیاں لیتے دیکھ وہ پریشان ہوئی تھی ۔
🥀🥀🥀🥀🥀🥀
مردان خانے لگی آج ارتضی اور اسے دوستوں کی محفل کو شروع ہوئے ابھی کچھ ہی وقت ہوا تھا ۔۔ کہ غلام رسول کا بیٹا رحیم دروازے پر کھڑا ہوا ارتضی کو دیکھ کر مسکرا رہا تھا ۔
یہاں کیا کر رہے ہو تم جاؤ۔رحیم کو دیکھتے ہی ارتضی نے نرم لہجے میں اسے جانے کو کہا تھا ۔
مگر اسے ٹس سے مس نا ہوتے دیکھ وہ اپنی جگہ سے اٹھتا ہوا رحیم کو ہاتھ سے پکڑ باہر لایا تھا۔
بچے بڑوں کی محفل میں نہیں آتے جاؤں ۔۔آرام سے کہتا ہوا اسے پھر بھی نبھاتے دیکھ غلام رسول کو آواز لگا گیا تھا ۔
جی سرکار ۔۔رحیم کو یہاں دیکھ غلام رسول جان گیا تھا کہ اسے یہاں کیوں بلایا گیا تھا ۔
اپنے ان بچوں کو مردان خانے سے دور رکھنااگر میں نے ان میں سے کسی کو بھی اردگرد بھٹکتے ہوئے دیکھا نا تو تمہاری اس حویلی میں آخری رات ہوگی سمجھے ۔۔۔
پلر کے پیچھے چھپے بچوں کو دیکھ کر ارتضی کا خون خولہ ہوا تھا ۔
جی سرکار ۔۔۔مردان خانے میں ارتضی کو جاتے دیکھ غلام رسول اپنے شرارتی بچوں پر چاہ کر بھی غصہ نا کر سکا تھا۔۔
کیا ہورہا ہے یہاں پر ۔اپنے کان میں سرگوشی سنتا ہوا رحیم اپنے دل پر ہاتھ رکھتا ہوا پیچھے مڑا تھا مگرحیدر شاہ کو دیکھ مسکرایا تھا ۔
شکر حیدر سائین آپ تھے ورنہ میں تو ڈر ہی گیا تھا ۔
اور کیوں ڈر گئے تھے ۔گھٹنوں کے بل بیٹھتا ہوا حیدر رحیم کے معصوم چہرے کو دیکھ کر مسکرایا تھا۔
میں سمجھا سرکار سائیں ہونگے ۔۔۔
اوہ تو ارتضی بھائی سے چھپا جارہا ہے ۔رحیم کا ہاتھ پکڑ کر چلتا ہوا وہ گارڈن میں آیا تھا ۔
ویسے کیوں چھپ کر دیکھا جارہا تھا انہیں ۔۔رحیم کو اپنی گود میں بیٹھتا ہوا مارے تجسس کے پوچھ رہا تھا ۔
وہ مجھے اچھے لگتے ہیں ۔۔بلکل ہیرو کی طرح ۔۔شرما کر منہ پر ہاتھ رکھ گیا تھا ۔
میں ہیرو نہیں لگتا ۔۔مضنوئی ناراضگی میں پوچھتا ہوا وہ اپنی مسکراہٹ ضبط کرگیا تھا ۔
آپ تو پیارے والے معصوم ہیرو ہو نا ۔۔۔۔حیدر کے چہرے کو اپنے ننھے ہاتھوں کے پیالوں میں بھرتا ہوا وہ شرارت مسکرایا تھا ۔
ڈرامے باز ۔۔۔۔۔رحیم کی حرکت پر اسےجی بھر کر پیار آیا تھا ۔
ارتضی بھائی سے دور رہا کرو انہیں تنگ نہیں کیا کرو ۔۔۔
اچھے بچے بڑوں کو تنگ نہیں کرتے ۔۔۔
جی ۔۔۔۔حیدر کی گود سے اتر کر بھاگ گیا تھا ۔
کھلی فضا میں سانس لیتا ہوا حیدر اپنی بند آنکھوں کے پردے پر لہراتے عکس کودیکھ کر مسکرایا تھا ۔
جاری ہے ۔۔۔۔