Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 8

اور پھر یوں ہوتا ہے غریب کی
محبت امیری چھین لیتی ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔،،،
محبت اور جنگ میں سب جائز ہوتا ہے سائین ۔۔۔
اور اب یہ نوری ہر ناجائز کام کو جائز کرکے دیکھائے گی آپ کو ۔۔۔
جاتے ہوئے ایک بات اور کہنا چاہوں گی سائین ۔۔۔
ہم غریب لوگ اپنی وفاداری اور مہمان نوازی کے نام پر بہت مشہور ہوتے ہیں ۔۔
ساری عمر آپ سے محبت کرکے وفاداری نبھائے گی یہ نوری اور رہی بات مہمان نوازی کی تو میرے دل اور گھر کے دروازے ہمیشہ کھولے ملے گے آپ کو ۔۔۔۔۔
رخ موڑے وہ بے دلی سے نوری کو سن رہا تھا ۔
دعا کرتی ہوں آپ کا سامنہ روز محشر سے پہلے ہو ۔۔۔
کیونکہ یہ نوری بنا آپ کو حاصل کیے مانے گی نہیں ۔۔۔۔
تم جیسی بدکردار لڑکی کو اپنے ساتھ سوچ کر بھی مجھے گھن آتی ہے خود سے ۔۔۔۔۔ تنے ہوئے اعصاب کئ ساتھ دانت دبائے وہ سرد لہجے میں بولا تھا ۔
واہ سائیں واہ میری محبت سے گھن آرہی ہے سوچے اگر مجھ سے زیادہ کوئی بد کردار لڑکی پر آپ کا دل آجائے تو اس سے گھن نہیں آئے گی آپ کو ۔۔۔۔بے خوف لہجے میں پوچھتی ہوئی وہ ارتضی کے ضبط کی انتہا آزما رہی تھی ۔
بہت ہوگئی تمہاری بکواس اب نکلو یہاں ۔۔۔۔۔
نکلو۔۔۔۔۔۔۔۔خود پر ضبط کرنے کے باوجود بھی دھاڑ اٹھا تھا ۔
حویلی سے نکال رہے ہیں سائین دماغ سے نہیں نکال پائیں گے ۔۔۔دل پر نا سہی دماغ پر تو نوری کا راج ہوگا ۔۔۔۔تمسخرانہ انداز میں وہ نم آنکھیں لیے قہقہ لگا رہی تھی ۔
ارتضی شاہ کے تو نا تو کبھی دماغ میں جگہ ہوسکتی ہے تم جیسی گھٹیا عورت کی اور پھر دل میں تو کیا ہی ہوگی ۔۔۔
تمخسر سے کہتا ہوا وہ اسے دو کوڑی کا کر گیا تھا ۔۔۔
ارتضی شاہ کے لفظوں پر کب اس کے رخسار آنسوؤں سے بھیگ گئے تھے ۔۔
جو اس دل راج کرے گی وہ مضبوط کردار کی ہوگی ۔۔۔اپنے دل کے مقام پر ہاتھ رکھتا ہوا وہ پر اعتماد لہجے میں بولتا ہوا خود میں نہیں تھا ۔
نا کہ تم جیسی مردوں کے سامنے اپنا آپ پیش کرنے والی کمزور قردار کی مالک تو وہ ہر گز نہیں ہوگی ۔۔۔۔ماہین کو سوچتا ہوا وہ اور پراعتماد ہوا تھا ۔
دوسروں کو جج نا ناکرنے والا ارتضی شاہ آج وہ خود ایک لڑکی کے کردار کی دھجیاں اڑا گیا تھا۔۔۔۔
وہ ایسی تو نہیں تھی خود کو مردوں کے سامنے پیش کرنے والی اس نے تو فقط اپنے سائین سرکار سے محبت کی تھی ۔۔
اور اس ہی کے منہ خود کو بد کردار جیسی گالی سن کر اس کا دل رویا تھا اپنی بے قدری پر ۔۔۔
اتنا یقین سائین ۔۔۔
خدا پاک آپ کا یقین برقرار رکھے اور مجھ “بد کردار ” خود کے منہ سے خود کو بد کردار کہتی ہوئی وہ کچھ پل کے لیے ٹھہری تھی۔
سائین جس سے آپ کو آپ سے محبت ہو اسے بھی آپ سے اتنی ہی محبت ہو جتنی اسے آپ کرو ۔۔۔
بس وہ کبھی آپ کے کردار پر انگلی نا اٹھائے بس آپ کو اپنا مجازی خدا نیک اور شریف انسان جانے ۔۔۔۔
بددعا دے رہی ہو مجھے ۔۔۔۔۔بے فضول کیونکہ تم جیسی لڑکی کی بد دعا کرنے سے رہی مجھے ۔۔۔۔
نوری کے طرز بیان پر ارتضی کو شک گزرا تھا اور کہیں نا کہیں ڈر لگنا بھی بنتا تھا ۔
جس طرح سے وہ نوری کی بےعزتی کر رہا تھا۔۔۔۔
سیانے کہتے ہیں کہ جس سے محبت کی جائے نا انہیں بد دعا نہیں دی جاتی انہیں تو بس دعا دی جاتی ہے ۔
اور اس نوری میں اتنی تاب اوعچاوقت کہاں سائیں سرکار کہ میں آپ کو بدعا دے سکے ۔۔۔۔
نوری کی باتوں سے اپنے سن ہوتے دماغ پر وہ نوری کے آنسوؤں سے بھیگے چہرے کو دیکھتا ہوا حیران ہوا تھا ۔۔۔۔
چار سال بعد پھر سے ارتضی شاہ آج کسی کے آنسوؤں کی وجہ بنا تھا ۔۔
جب تک نا لگے بے وفائی کی ٹھوکر ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔،،،،،
جب تک ہر ایک کو اپنی پسند پر ناز ہوتا ہے ۔۔۔۔۔،
آنسوؤں کو بے دردی سے صاف کرتی ہوئی وہ کہہ کر وہاں رکی نہیں تھی چلی گئی تھی اس حویلی سے اور ارتضی شاہ کی زندگی سے ۔۔۔۔


نکھری ہوئی صبح کے روشن سورج صاحب کی کرنوں سے بیدار ہوتی ماہین حیا کی جگہ خالی دیکھ کر پورے روم میں متلاشی نظروں سے حیا کو ڈھونڈ رہی تھی مگر وہ روم میں ہوتی تو اسے ملتی نا ۔۔۔
اپنے کھلے سنہری بالوں کو جوڑے کی شکل میں باندھتی ہوئی رات سے زیادہ پرسکون محسوس کررہی تھی ۔
میرر پر لگی چٹ کو پڑھتی ہوئی بے ساختہ ہی قہقہ لگا گئی تھی ۔
بیگم اگر آپ کو یہ چٹ مل گئی ہے تو یقیناً آپ بیدار ہوگئی ہیں ۔۔۔
اب اپنی مجازی خدا نو ۔۔۔۔نو ۔۔۔ مطلب مجازی خدی پر ذرا رحم کھائیں اور واشروم کا رخ کریں ۔۔۔۔۔
آگے آپ کو کیا کرنا ہے نیکسٹ چٹ کے ذریعے آپ کو معلوم ہوجائے گا ۔۔۔
نیچے سمائلی کے ساتھ وہ ماہین کی خوبصورت مسکان کو اور زیادہ خوبصورت بنا گئی تھی۔
مجازی خدی ۔۔۔۔واشروم میں ٹنگے وائیٹ اور پرپل کلر کے ڈریس کو متاثر کن نظروں سے دیکھتی ہوئی مسکرائی تھی ۔۔۔
واوووو اتنا اچھا اور اتنا سرپرائزنگ مجازی خدی ہوسکتی ہے ۔۔۔
مجھے ایسا ہی ہزبینڈ چاہیے اب تو ۔۔۔
دس منٹ کے شاور کے بعد وہ واشروم کے گیٹ پر لگی چٹ کو دیکھ چہک اٹھی تھی ۔۔۔
اب جب میری بیگم صاحبہ فریش ہوگئی ہیں تو لائٹ لپ اسٹک لگائیے گا ورنہ یہ میرا نازک دل بے ایمانی اتر آئے گا ۔
اچھے سے تیار ہوکر نیچے ڈائینگ روم میں آجائیں میں وہاں آپ کا ناشتے پر انتظار کررہی ۔۔۔
پھر سے غلطی ہوگئی ہے آپ اوپر والی لائن مت پڑھانا اوکے ۔۔
میں آپ کا ناشتے پر انتظار کررہا ہوں بیگم صاحبہ ۔۔۔
منہ پر ہاتھ رکھتی ہوئی وہ اپنے قہقہ کو منہ میں ہی دبا گئی تھی ۔۔۔
کہاں سے لاتی ہو اتنا دماغ وہ بھی ایسی حرکتیں کرنے کے لیے ۔۔۔
بالوں کو ڈرائے کرتی ہوئی لائت لپ اسٹک لگاتی ہوئی حیا کی کہی بات پر عمل کر گئی تھی ۔۔۔
حیا جوصبح جلدی اٹھ کر کچن میں حاضری لگوائے ہوئے تھی ۔
اس بات کا الگ ڈر لگ رہا تھا کہ کہیں ماہین اٹھ نا گئی ہو ۔۔۔۔
یہ کیا کر رہی ہو ایسے تھوڑی نا ٹرے سجائی جاتی ہے ۔۔۔
ملازمہ کے ہاتھ سے ٹرے لیتی ہوئی وہ ٹرے میں رکھے بریک فاسٹ کو بڑی خوبصورت سی شکل دے گئی تھی ۔
ڈن ۔۔۔ اب تم جاسکتی ہو ۔۔۔۔اور ایک بار پھر سے کہو یہ بریک فاسٹ کس نے تیار کیا ہے ۔۔۔
بی بی آپ نے ۔۔۔۔۔سر جھکائے ملازمہ کو حیا نے دس سے زائد بار اس یقین دہانی کرواتی ہوئی اب کی مسکرائی تھی۔
گڈ ۔۔۔۔اب جاؤں اور جو فریزر سے جوس نکال کر لے جاؤ اور بیٹی کو پلا دینا ۔۔۔
ہر بار اپنے نام پر ملازمہ سے کھانا بنوا کر وہ اسے اس طرح ہی رشوت دیتی تھی خاموش رہنے کی ۔۔۔
بی بی یہ سیب بھی لے جاؤں ۔۔ہر بار کی طرح آج بھی وہ اپنی حرکت سے باز نہیں آئی تھی۔
ہاں لے جاؤ کبھی باز نا آنا تم ۔۔۔اگر مجھے کھانا بنانا آتا نا تمہارا کبھی منہ نا دیکھتی جلدی سے لو جاؤ کبھی امو آجائیں ۔۔۔۔ٹرے اٹھا کر ڈائینگ روم کی طرف بڑھتی ہوئی ملازمہ کو ساتھ جھاڑ پلا گئی تھی ۔۔۔
آج ڈائینگ روم میں میرے اور ماہین کے علاوہ کسی کی بھی انٹری الاو نہیں ہے ۔۔
So please stay away ……
افففففف۔۔۔۔حیا تمہارے بابا میں اور چاچو کہاں پر جائیں کھانا کھانے ۔۔۔حیا کی بچکانی حرکتوں سے وہ تنگ آگئیں تھیں ۔۔۔
یہ میرا درد سر نہیں ہے امو آپ اچھے سے جانتی ہیں ماہین آپی کل کتنی افسردہ تھیں اس لیے ان کو خوش رکھنے کی چھوٹی سی کوشش ہے ۔۔۔
اور ویسے بھی جب تک بابا اور چاچو اٹھیں گے جب تک میں ماہین آپی کو اپنے ساتھ لے کر پورا گاؤں گھوماؤں گی ۔۔
اپنے ارادوں سے آگاہ کرتی ہوئی سیڑھیوں سے اترتی ہوئی ماہین کو دیکھ کر شاکرہ بیگم کو ہاتھ سے چھپ جانے کااشارہ کرتی وہ اپنی پیشانی پر ہاتھ رکھ گئی تھی خود ڈائینگ روم کے اندر چھپ گئی تھی ۔۔
اسلام وعلیکم ۔۔۔صبح بخیر تائی امی ۔۔۔
نا سمجھی میں ڈائینگ روم میں جاتی ہوئی حیا کو دیکھ کر اپنی جگہ پر کھڑی تھیں ۔
ماہین کی آواز پر اُنہیں حیا کا اشارہ سمجھ آیا تھا ۔۔۔
وعلیکم السلام۔۔۔۔ماہین کی پیشانی پر بوسہ دیتی ہوئیں وہ ماہین کو مسکراتے دیکھ خوش ہوئی تھیں ۔
یہ حیا کی بچی کہاں ہے ۔۔۔۔۔
میری ابھی کوئی بچی نہیں ہے جب ہوگی نا تو سب سے زیادہ آپ کو ہی تنگ کرے گی دیکھ لینا ۔شاکرہ بیگم کی جگہ جواب حیا کی طرف سے آیا تھا ۔۔
سن لو ۔۔۔اور جاؤ جب تک تم ناشتہ نہیں کرو ہمیں انڑی نہیں ملے گی ڈائینگ روم میں ۔۔ماہین کے روئی سے زیادہ نرم گالوں کو پیار سے چٹکی کاٹ گئیں تھیں ۔۔۔
تائی امی ۔۔۔۔۔۔شاکرہ بیگم کو شکوہ کن انداز میں دیکھتی ہوئی مسکرائی تھی ۔
ایسے ہی صدا مسکراتی رہو ۔۔۔۔
تائی امی کا پیار لے لیا ہو تو اندر آجائیں مجھے بہت زور سے بھوک لگی ہے ۔۔۔
ماہین دعا دیتی ہوئیں وہ حیا کی بلند آواز پر وہاں سے مسکراتی ہوئیں کچن کی سمت بڑھ گئی تھیں ۔۔
ویسے میری مجازی خدی مینیو میں کیا کیا ہے ۔۔۔ڈائینگ ٹیبل پر کہونی ٹکائے ٹھوڑی کے نیچے ہاتھ رکھے ہوئے تھی ۔
ایک تو یہ بیگمیں ذرا سی توجہ دی نہیں اور یہ سر پر چڑھ جاتی ہیں ۔۔ہر روز کی طرح آج بھی ٹخنوں سے اوپر تک آتی بلیو جینز پر شوکنگ پنک کلر کی سیلوو لیس شرٹ پہنے وہ بالوں کو ہائی ٹیل میں باندھے میک سے پاک چہرہ لیے کیوٹ لگ رہی تھی ۔
اچھا جی ایسی بات ہے ۔۔۔
ویسے شکر ہے خدا کا تم میری سچ کی مجازی خدا نہیں ہو ورنہ تو تم مجھ سے سال میں ایک بار ہنس کر بات کرتیں ۔۔۔
یہ تو ہے چلیں جلدی جلدی بریک فاسٹ کریں پھر ہمیں جانا بھی ہے ۔۔۔گلاس میں اورنج جوس ڈالتی ہوئی وہ ایک سانس میں بولی تھی۔
کہاں ۔۔۔
پورا گاؤں گھومنا ہے آپ کو ۔۔۔۔۔
ہمہم ۔۔۔۔ٹھیک ہے ۔۔۔ بنا اپنے چہرے پر اس جلاد کا خوف لائے وہ مسکرائی تھی ۔
اتنا وہ جان گئی تھی حیا کی کوششوں سے کہ وہ اسے بہلانے کی کوشش کررہی ہے ۔
اور ماہین اس کو اداس نہیں کرنا چاہتی تھی ۔۔۔۔
بس خاموشی سے حیا لی باتوں پر مسکرائے جا رہے تھی۔


سلیمہ یہ رشیدہ اور نوری صبح سے کہیں نہیں دِکھ رہی ہیں ۔۔۔شاہدہ بیگم کے پوچھنے پر ڈائینگ روم میں آتے ارتضی کے قدم تھمے تھے ۔
آپ جائیں ۔۔سلیمہ کو جانے کا کہتا ہوا ارتضی اپنی چیئر پر بیٹھا تھا ۔۔
شاہ تم نے سلیمہ کیوں بھیج دیا ۔۔۔شاہدہ بیگم کے ساتھ دلاور شاہ بھی ارتضی کے جواب کے منتظر تھے۔
جہاں سے آئی تھیں ۔۔۔وہیں بھیج دیا ہے میں نے انہیں ۔۔
رات بھر نوری کی باتوں کو سوچتا ہوا وہ سو نا سکا تھا اور اب صبح صبح نوری کا ذکر سن کر بد مزہ ہوا تھا ۔۔۔
کیا مطلب ۔۔۔۔حیدر شاہ کی طرف سے پوچھے گئے سوال پر ارتضی شاہ ۔مسکرایا تھا۔
فرصت میں مطلب بھی بتا دوں گا ۔۔۔
سمی یہاں پر بیٹھوں میرے پاس ۔۔۔عام سے لہجے میں جواب دیتا ہوا وہ رائمہ کو آتے دیکھ مسکرایا تھا ۔
بابا سرکارمیں چار سال پہلے سیاست میں نا آنے کی وجہ سے ہی لندن گیا تھا میرے خیال میں ۔
تو پھر یہ میڈیا میں میرے سیاست میں آنے کا شوشہ کس خوشی میں چھوڑا ہے آپ نے بتائیں گے مجھے ۔۔۔اپنے مغرور انداز سے ہٹ کر وہ آج مسکرا کر بول رہا تھا۔
میرے بڑے بیٹے ہو تو میرے بعد میری کرسی پر تو تم ہی بیٹھو گے نا ۔۔وہ بھی اس کے بابا سرکار تھے بنا کوئی رکھ رکھاؤ کے بولتے ہوئے ارتضی کی سمت چائے کا کپ بڑھا گئے تھے ۔
آپ کبھی بھی نہیں بدل سکتے بابا سرکار ۔۔دلاور شاہ کے مسکراتے چہرے کو دیکھ کر حقیقتاً مسکرایا تھا ۔
آخر بابا کا کا ہوں ۔۔
کل یہ شام میں میرے بابا تھے اور اب آپ کے بابا بن رہے ہیں ۔شرارت سے کہتا ہوا انجانے بھی ارتضی کو مشورہ دے گیا تھا ۔
بلکل سہی کہا حیدی نے میں ہی تھوڑی نا ہوں آپ کا بیٹا حیدر بھی ہے نا تو وہ آپ کرسی پر بیٹھ جائے گا ۔۔
اور تو اور اسے تو گھر گھر جاکر ووٹ مانگنے کی بھی ضرورت نہیں پڑے گی ۔ارتضی کی بات پر حیدر کو اچھو لگا تھا ۔
حیدر کی پیٹھ سہلاتی ہوئی رائمہ حیدر کی حالت پر مسکرائی تھی۔
اپنی رائے دیتا ہوا ارتضی پرسکون ہوگیا تھا ۔
اگر یہ سیاست کرے گا نا تو ہم سب کنگال ہوجائیں گے اس رحم دلی کے ہاتھوں ۔۔۔ارتضی کا مشورہ انہیں ذرا نا بھایا تھا۔
بابا سرکار سہی کہہ رہے ہیں میں اور سیاست اللہ بچائے جھوٹ بولنے سے ۔۔کانوں کو ہاتھ لگاتا ہوا حیدر دلاور شاہ کی سخت گھوری کا نشانہ بنا تھا۔
تو پھر طے ہوگیا بابا سرکار آپ کی یہ سیاست میں آخری کرسی تھی اب کوئی آپ کی آل اولاد میں سے راضی نہیں ہے اس دوغلے پن کا حصہ بننے کے لیے ۔۔دلاور شاہ کے چہرے کے اڑے رنگوں سے محفوظ ہوتی شاہدہ بیگم مسکرائیں تھیں ۔
تو کوئی بات نہیں تم دونوں سے مجھے کوئی امید بھی نہیں ہے ایک گاؤں میں فلاحی ہسپتال چلائے گا اور دوسرا ڈیری فارم چلائے گا ۔۔۔ارتضی اور حیدر دونوں کو لتاڑتے ہوئے وہ اصل بات پر آئے تھے۔
میرا پوتا میری جگہ پر بیٹھے گا ۔۔
بیٹے تیار نہیں ہیں اور آپ پوتے کی بات کررہے ہیں واہ بابا سرکار ۔۔۔ارتضی اور حیدر کا یکجا قہقہ آج کئی سال بعد ڈائینگ روم میں گونج رہا تھا۔
دونوں بیٹوں کو ہنستے دیکھ دلاور شاہ بھی قہقہ لگا اٹھی تھے۔۔
کیسا لگا تمہیں تمہارا فلاحی ہسپتال ۔۔
سہی ہے بس ۔۔دلاور شاہ کے طنز کو سمجھتا ہوا ارتضی بھی ان کے ہی انداز میں بولا تھا۔
مفت کے ڈاکٹر کہاں سے لاؤ گے۔۔۔۔اور کچھ سوچا ہے اس کے بارے میں ۔اس بار دلاور شاہ کو فکر لاحق ہوئی تھی ڈاکڑز کو سوچ کر ۔۔
ہوجائے گا اس کا بھی بندوبست بابا سرکار ۔۔۔
ابھی کہاں جانے کا ارادہ ہے آپ کا۔۔حیدر کو سوال کرتے دیکھ کر ارتضی تاسف سے گردن ہلا رہا تھا۔
تمہارے فارم میں ہرگز نہیں جانے والا مجھے دیکھ کر سارے ملازمین ایسے کانپ رہے تھے جیسے خدانخواستہ میں ان لوگوں کی موت کا پروانہ لیے کھڑا ہوں ۔۔اپنی بات پر ارتضی خود سے ہی مسکرایا تھا ۔
آپ کا روب ہی بہت ہے بھائی ۔ارتضی کے انداز پر سمی مسکراتی ہوئی بولی تھی ۔
کل کیا ہوا تھا ڈیری میں ۔۔۔ایک اور سوال حیدی یار تم وکالت پڑھ لو ابھی بھی وقت ہے ۔۔۔حیدر کے سوال سے تنگ آیا تھا۔
چھوڑ دو حیدر مجھے سب پتا ہے کل ڈیری میں کیا کیا ہوا تھا ۔
دلاور شاہ کے مضبوط لہجے پر سر جھکاتا ہوا ارتضی خاموش ہو بیٹھا تھا ۔
جبکہ حیدر بے خبر تھا کل لے واقعے سے ۔
آپ دوبارہ سے ہسپتال جوائن نہیں کریں گے۔۔۔
کب تک ایک حادثے کی وجہ سے خود کو سزا دیتے رہیں گے ۔۔ ارتضی کو خوشگوار موڈ میں دیکھ کر حیدر نے استفسار کیا تھا۔
کتنی دفعہ منع کیا ہے کہ حویلی میں بچے کام نہیں کریں گے تو یہ بچی کیوں کام کررہی ہوتی ہے ۔آج پھر اس پندرہ سالہ بچی کو صفائی کرتے دیکھ ارتضی حیدر کے سوال کو نظر انداز کرتا ہوا وہ اس بچی کے ہاتھ سے کپڑا لے کر دور پھینک گیا تھا ۔
آپ جاؤ اور اپنی اماں کو بھیجوں ماں سرکار کے پاس ۔۔۔نرم لہجے میں کہتا ہوا وہ شاہدہ بیگم کی جانب دیکھتا ہوا ڈائینگ روم سےنکل گیا تھا ۔
حیدر کیوں کرتے ہو ایسے سوال جن کا جواب نہیں ہے ارتضی کے پاس ۔۔ارتضی کو جاتے دیکھ شاہدہ بیگم افسردگی سے بولی تھیں ۔
کب تک بھائی بیرون ممالک میں جاکر اپنے آپ کو پرسکون کرنے کی کوشش کریں گے اور کب تک اپنی نا پسندیدہ جگہ ڈیری فارم کا ہر کام سرانجام دیتے رہے گے ۔۔
جبکہ ہم سب اچھے سے جانتے کہ بھائی خود سے لڑرہے ہیں وہ آج بھی ایک اچھے ڈاکڑ ہیں تو پھر ہم انہیں اس طرح کیوں ان کے پروفیشن سے بھاگنے دے سکتے ہیں ۔۔حیدر کی بات کو خاموشی سے سنتے ہوئے دلاور شاہ آج فیصلہ لے چکے تھے۔
بس اس فیصلے کو عملی جامہ پہنانے کی دیر تھی ۔۔۔۔
جاری ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔