Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 23 Part 2

ہر چھوٹے سے چھوٹے سے پوائنٹ پر زیر غور کیے آج چار سال بعد ارتضی شاہ کی زیر نگرانی میں اذہان کی سرجری شروع ہوئی تھی ،
ڈر کو سائیڈ کیے اپنی آنکھوں پر آئی گلاسس لگائے ہوئے ارتضی شاہ نے اپنے دائیں ہاتھ پر ڈاکٹر ہیر کو کھڑا کیا ہوا تھا ،
جو ارتضی کے کہنے سے پہلے ہی تیار کھڑی تھی آخر کو اس کی پہلی سرجری تھی ارتضی کے ساتھ جبکہ ارتضی کے بائیں ہاتھ پر کھڑے ڈاکٹر عامر شہزاد جو فقط ارتضی کا حوصلہ دینے کی غرض سے آج آپریشن تھیٹر میں موجود تھی ،
ارتضی شاہ کو ملا کر بارہ نرسسز پر مشتمل ڈاکٹر ارتضی شاہ کی ٹیم تیار کھڑی تھی ۔
جبکہ بیرون ملک کے معزز ڈاکٹرز جو سہولت یہاں موجود تھے جو خاص طور پر ارتضی نے اذہان کی سرجری کے لیے بلوائے تھے ،
سرجری شروع ہوتے ہی ڈاکٹر عامر تھوڑے فاصلے ہر کھڑے ہوئے تھے ساتھ میں بیرون ملک سے آئے ڈاکٹرز کو بھی وہ اپنے ساتھ سائیڈ پر لے گئے تھے ۔
ارتضی کے سرجری کرنے انداز کو دیکھ ڈاکٹر عامر اچھے سے پہچان گئے تھے کہ ارتضی شاہ اس وقت خود کی ذات کو بھی بھولائے ہوئے تھا ۔
وہ اس وقت اپنی پوری توجہ سرجری پر مرکوز کیے ہوئے تھا،
ایک گھنٹے بعد آپریشن تھیٹر کی تمام لائٹس آف کردی گئی تھیں ساتھ میں تالیوں کی آواز پر ارتضی ان لوگوں کی جانب متوجہ ہوا تھا۔
ریلکس ڈاکٹر ارتضی شاہ، اب رونے کا وقت نہیں ہے اب تو خوش ہونے کا وقت ہے آخر کو سرجری کامیاب ٹھہری ہے ، اپنا آنسوؤں سے بھیگا چہرہ لیےارتضی وہیں زمین پر سجدہ ریز ہوا تھا ،
ڈاکٹر عامر کی آواز پر سجدہ سے سر اٹھاتا ہوا آنکھیں بندکرتا ہوا چہرہ اوپر کیے مسکرا رہا تھا۔
ارتضی کے چار سال کے انتظار اور لاکھ کوششوں کے بعد آج اذہان کی سرجری کامیاب ٹھہری تھی ۔
مبارک ہو ،ارتضی کے ساتھ بغلگیر ہوتے ڈاکٹر عامر نم لہجے میں بولے تھے ،ان سے الگ ہوتے ہوا وہ اذہان کی طرف بڑھا تھا۔
شکر الحمداللہ ،تمہاری ضد کامیاب ٹھہری اذہان خان ،آئی گلاسس اتار کر نرس کو پکڑاتا ہوا اذہان کو اسپیشل وارڈ روم میں شفٹ کرنے کا حکم دیتا ہوا خود کو آج چار سال بعد ہلکا محسوس کرتا ہوا آپریشن تھیٹر سے باہر آیا تھا ،جہاں پر آج اذہان کی فیملی کے ساتھ آج ارتضی شاہ کی فیملی بھی موجود تھی ۔
میں نے آپ سے کیا ہوا اپنا وعدہ پورا کیا ہے مسٹر اینڈ مسسز خان ۔نم آنکھوں سے مسکراتا ہوا وہ ان دونوں کے پریشان چہروں کو دیکھ رہا تھا ۔
اذہان کی سرجری کامیاب رہی ہے ،بس کچھ دنوں کا انتظار باقی رہ گیا ہے اس کے بعد اذہان واپس سے دیکھنے لگے گا ،ارتضی کی خوشی کا کوئی ٹھکانہ ہی نا تھا،
وہیں مسٹر اینڈ مسسز خان دونوں ایک دوسرے کے جذبات واقف کچھ بھی کہنے سے قاصر فقط نم آنکھیں لیے ایک دوسرے کو دیکھتے ہوئے مسکرا رہے تھے ،
تھینک یو ڈاکٹر ارتضی شاہ، میرے بیٹے کی بینائی واپس لانے لے لیے ،مراد خان نم آنکھیں لیے تشکرانہ انداز میں بولے تھے ،
میں نے کچھ نہیں کیا سب اس خدا پاک کا کرشمہ ہے،مراد خان کو جواب دیتا ہوا وہ مسکرا رہا تھا ۔
تھوڑی دیر بعد اذہان کو ہوش آجائے گا پھر آپ اس سے مل سکتے ہیں، پیشہ وارنہ انداز کہتا ہوا وہ شاہدہ بیگم کی سمت بڑھا تھا ۔
مجھے پورا یقین تھا میرا شاہ ضرور کامیاب ہوگا ۔ارتضی کی پیشانی پر بوسہ دیتیں ہوئی وہ مسکرا رہی تھیں ،جبکہ ان کے ساتھ کھڑے دلاور شاہ ارتضی کو دیکھ کر مسکرا رہے تھے ۔
مبارک ہو بھائی ،ارتضی کے بغلگیر ہوتا حیدر دلاور شاہ کے ساتھ ارتضی کے سرد لہجے کو نوٹ کرگیا تھا ۔
ماہین نہیں آئیں کیا، ارتضی کے پوچھنے پر دلاور شاہ خود پر ضبط کرگئے تھے ،
ماہین اور ارتضی کو ایک ساتھ ہنستے مسکراتے دیکھ انہیں لگا تھا کہ ارتضی ان کو دیا ہوا وعدہ بھول گیا ہے ،
ابھی تک تو نہیں آئی مگر حئا کے ساتھ آجائے گی، ارتضی کو برا تو بہت لگا تھا مگر بنا کسی پر ظاہر کیے وہ وہاں سے گیا تھا ۔


ڈاکٹر صاحب یہ پٹی کب کھولے گی، ایک ہفتے سے مسلسل اذہان ایک ہی سوال پوچھ پوچھ کر ارتضی کو تنگ کیے ہوئے تھا ۔
کیوں ،اذہان کے چہرے پر نظریں جمائے وہ مسکرا رہا تھا ،
ان چار سالوں میں اذہان ارتضی کے لیے کتنا اہم ہوگیا تھا یہ ارتضی کے علاوہ کوئی نہیں جان سکتا تھا۔
کیونکہ مجھے سب سے پہلے اپنی نیو مما اور آہ کو دیکھنا ہے اور پھر،
اور پھر ،اذہان کو رکتے دیکھ وہ سنجیدگی سے پوچھ رہا تھا ۔
پھر میں ڈاکٹر ہیر کو دیکھوں گا، شرارت سے لبریز لہجے میں بولتا ہوا وہ خود بھی مسکرا رہا تھا ۔
شرم کرو وہ بڑی ہیں تم سے ،ہنستے ہوئے ارتضی نے وارڈ روم میں داخل ہوتی ہوئی ماہین کو دیکھ کر اذہان کے شانے پر ہاتھ رکھا تھا اسے چپ کروانے کی خاطر مگر وہ بھی اذہان تھا ۔چپ ہونے والوں میں سے کہاں تھا۔
اب دیکھیں نا ڈاکٹر صاحب میری آنکھیں واپس آگئی ہیں اور عمر بھی اتنی ہوگئی ہے کہ میری ایک عدد گرل فرینڈ بھی ہونی چاہیے ۔اذہان کی بات پر آبرو ریس کرتی ماہین حیران ہوئی تھی ۔
اذہان تمہیں آرام کرنا چاہیے ۔دانت دبائے ارتضی اپنی شامت بلوا گیا تھا۔
آپ کی بھی تو کتنی گرل فرینڈز تھی ،ہر روز تین سے چار لڑکیوں کے ساتھ کافی پر جاتے تھے ،میں نے آپ کو کبھی کہا کہ آپ نے غلط کیا یا وہ آپ سے بڑی ہونگی نہیں نا ،ماہین کی آنکھیں پھٹی کی پھٹی رہ گئی تھیں ۔
جبکہ ارتضی اذہان کے منہ پر ہاتھ رکھ کر اسے چپ کروانے کی کوشش میں ناکام رہاتھا ۔
چلیں میں تو پھر صرف ان سے دوستی کے حق میں ہوں آپ تو ہر نرس سے مسکرا مسکرا کر پھول لیتے تھے ،
یہ تو آپ چار سال سے اتنے سڑو ڈاکٹر بنے ہیں ورنہ تو دل پھیک عاشق مزاج ڈاکٹر مشہور تھے ،آج ارتضی کو لگا تھا کہ اس کی سہی معنوں میں اذہان کو بتائی ہوئی باتیں مہنگی پڑنے والی تھی۔
ماہین آئیں ہیں تم سے ملنے ،لفظوں پر زور دیتا ہوا وہ ماہین کے سنجیدہ چہرے کو دیکھ کر پریشان ہورہا تھا ۔
او نیو مما، اذہان کی چہکتی ہوئی آواز پر وہ مبہم سا مسکرائی تھی ۔
جی ،کیسے ہو اذہان تم اب ،نارمل انداز میں بولتی ہوئی ارتضی کے ساکت چہرے کو دیکھ کر نظروں کا زاویہ بدل گئی تھی ۔
ٹھیک ہوں اور اب آپ کی آواز سن کر اور بہتر محسوس کررہا ہوں ۔ارتضی شاہ سمجھنے سے قاصر تھا ماہین کو جس کے چہرے پر ذرا سی بھی ناراضگی نہیں تھی الٹا وہ تو مسکرا کر بول رہی تھی ۔
اذہان کے سونے کے بعد ارتضی ماہین کے پیچھے آیا تھا۔
ماہین جو آپ نے سنا وہ ماضی کی باتیں تھی ،نظریں جھکائے وہ خود کو کمپوز کررہا تھا۔
جانتی ہوں ہر ایک مرد کا ماضی ہوتا ہے آپ کا بھی ہوگا ،اس لیے مجھے آپ کے ماضی سے کوئی فرق نہیں پڑتا ،
ہاں اگر یہ سب حال کی بات ہوتی تو شاید تھوڑا بہت فرق پڑتا یا نہیں بھی ،کندھے اچکاتی ہوئی صاف گوئی سے کہہ کر ارتضی کو حیران کرتی ہوئی وہاں سے گئی تھی ۔
وہ ارتضی پر ظاہر تو کر گئی تھی کہ اسے کوئی فرق نہیں پڑتا مگر کہیں نا کہیں اذہان کی کہی باتیں اس کے دماغ میں گھر کر گئی تھیں ۔
یہ کیسے ہو سکتا ہے ،پرسوچ اندازمیں ماہین کے پیچھے گیا تھا ۔


اذہان کی سرجری سے بھی فارغ ہوگئے ہو تم اب شاہ ،
ماہین کو لے کر کہیں گھومنے پھرنے چلے جاؤ،شاہدہ بیگم کی کہی بات پر دلاور شاہ کے اعصاب تنے تھے ،
حیدر تم کہوں نا شاہ سے ،حیدر جو خاموشی سے بیٹھا ہوا سن رہا تھا اپنے نام کی پکار پر گردن ہلاگیا تھا ،
جی بھائی ماں سرکار صحیح کہہ رہی ہیں، بڑے ضبط سے کہہ رہا تھا۔
ماں سرکار اذہان کی طبعیت تھوڑی اور سیٹ ہوجائے پھر ،
میں کچھ نہیں سننے والی تم دونوں بس جارہے ہو، حتمی فیصلہ سناتی ہوئی دلاور شاہ کی خوف ناک سنجیدگی کو محسوس کرگئی تھیں ۔
ٹھیک ہے جیسی آپکی مرضی ،کہہ کر وہ اپنے کمرے کا رخ کرگیا تھا جہاں ماہین پہلے سے شاہدہ بیگم کے کہنے پر پیکنگ کرنے میں مصروف تھی ۔
یہ سب کیوں پیک کررہی ہیں آپ ماہین ،شادی کا لہنگا اور ارتضی کی شادی والے دن پہنی گئی شیروانی سوٹ کیس میں پیک کرتی ہوئی ماہین ارتضی کو گھور کر واپس سے اپنے کام کی سمت متوجہ ہوئی تھی ۔
میں کچھ پوچھ رہا ہوں ماہین آپ سے ،ماہین کے جواب نا دینے پر وہ لفظوں پر زور دیتے ہوئے بولا تھا ۔
پیکنگ کررہی ہوں ،سرسری سا جواب دیتی ہوئی وہ کبڈ سے جیولری بکس نکل کر بیڈ پر رکھ رہی تھی ،
وہ مجھے بھی دکھ رہا ہے کہ آپ پیکنگ کررہی ہیں ،حیرانگی سے ماہین کو سوٹ کیس کے ساتھ زور زبردستی سامان ٹھونستے دیکھ رہا تھا ۔
ہوگیا ،دونوں ہاتھ جھاڑتی ہوئی وہ ایسے خوش ہورہی تھی جیسے کوئی قعلہ فاتح کرلیا ہو ،
ہم ہنی مون پر جارہے ہیں ناکہ کسی کی شادی پر جو آپ یہ سب بھی لے کر چل رہی ہیں، ماہین کو بیڈ پر آرام سے بیٹھے دیکھ وہ کلس رہا تھا ۔
ہاں جانتی ہوں ہم ہنی مون پر جارہے ہیں، شان بے نیازی سے کہتی ہوئی مسکرائی تھی ۔
پھر ،ماہین کی عقل پر ماتم کرتا ہوا اس وقت کو کوس رہا تھا جب اس نے ہنی مون پر جانے کی ہامی بھری تھی ۔
کل حیا نے ہماری شادی والے دن کی پکس سینڈ کی تھی ،دونوں ہاتھ کمر پر رکھے ہوئے ارتضی کو دیکھ کر وہ نظریں جھکائے ہوئی تھی ۔
کوئی بھی ایسی پک نہیں ہے جس میں مسکرا رہی ہوں ایسے لگ رہا ہے جیسے مجھے کسی نے مار پیٹ کر بٹھایا ہوا ہے ،ماہین کی منمناہٹ پر وہ مبہم سا مسکرایا تھا ۔
تو اس کا کیا مطلب ہوا ،
مطلب یہ ہوا ہم وہاں جاکر دوبارہ سے فوٹو شوٹ کروائیں گے ۔چہک کر اٹھتی ہوئی وہ ارتضی کا ہاتھ پکڑے ہوئی تھی ۔
واٹ، وہ چونکا اٹھا تھا۔
کیا ہوا آپ کو اچھا نہیں لگا میرا آئیڈیا ،
نہیں مجھے بلکل بھی پسند نہیں آیا تمہارا آئیڈیا، سوٹ کیس خالی کرتا ہوا وہ چبا کر بولا تھا ۔
اپنی اپنی کرنی ہے میری سنی ہی کب ہے جلاد نے جو آج سنے گا ،خالی سوٹ کیس دیکھ وہ روہانسی ہوئی تھی ۔
اب صرف آپ وہ کپڑے رکھیں گی اس میں جو میں آپ کو دوں گا ،اپنے بجتے ہوئے سیل فون کو لیے باہر نکل گیا تھا ۔
اللہ پوچھے گا جلاد انسان تمہیں، ہاتھوں میں شادی کا لہنگا لیے وہ رونے کو تیار بیٹھی تھی ۔
کچھ دیر بعد کمرے میں داخل ہوتا ارتضی ماہین کی گود میں رکھے لہنگے اور ماہین کے لٹکے ہوئے چہرے کو دیکھ کن دبا گیا تھا ۔
ماہین ہم پھر کبھی ہنی مون پر جائیں گے، ماہین کے برابر میں آکر بیٹھتا ہوا ماہین کے بدلتے زاویوں کو نوٹس میں لیے ہوئے تھا ۔
کیوں ،وہ شاکڈ ہوئی تھی ۔
کیونکہ مجھے کل اسلام آباد کے نکلنا ہوگا سمینار کے لیے اس کے بعد آؤٹ آف کنٹری بھی جانا پڑسکتا ہے ،شرارت سے کہتا ہوا وہ ماہین کو افسردہ ہوتے دیکھ کر مسکراہٹ دبا گیا تھا ۔
ہمہم ٹھیک ہے ،اپنی جگہ سے کھڑی ہوتی ہوئی بے دلی بیڈ پر بکھرے سامان کو سمیٹنے لگی تھی ۔
ایک آئیڈیا ہے میرے پاس ،ماہین کے ہاتھوں سے کپڑے لے کر واپس سے بیڈ پر رکھتا ہوا مسکرایاتھا ۔
کیا ،بے زاری سے پوچھتی ہوئی وہ ارتضی کو ہی دیکھ رہی تھی ۔
آپ بھی میرے ساتھ چل لیں کام بھی ہوجائے گا اور ہمارا چھوٹا سا ہنی مون پریڈ بھی ہوجائے گا ۔
ایسا ہوسکتا ہے، آنکھوں میں حیرت لیے وہ مسکرائی تھی ۔
ہوسکتا ہے تو آپ کو کہہ رہا ہوں نا ،ماہین کو مسکراتے دیکھ وہ خود بھی مسکرا اٹھا تھا۔
بس اب آپ اسلام آباد کے حساب سے پیکنگ کرلیں کیونکہ ہم رات میں ہی شہر کے لیے نکلے گے ،مسکراتی ہوئی ماہین کے رخسار پر ہاتھ رکھ کر بولتا ہوا وہ کمرے سے گیا تھا ۔


ملک اور بیرون ملک کے تمام معزز ڈاکٹرز سمینار میں موجود تھے ،
سیمینار اٹینڈ کرنے کے بعد تمام ڈاکٹرز کے لیے پارٹی کا انتظام کیا گیا تھا ۔
ارتضی ماہین کو بھی ہوٹل سے اپنے ساتھ ہی لے آیا تھا ،اور بھی بہت سے ڈاکٹرز کی فیملی پارٹی میں موجود تھی ۔
ماہین کا ہاتھ پکڑے ہوئے وہ مسکراتا سب سے اس کا تعارف کروا ریا تھا ،
ماہین جو اس وقت سلوار کلر کے سادہ مگر قیمتی سوٹ پر ریڈ کلر کا ڈوپٹہ سر پر لیے ہوئی چہرے پر لائیٹ سا میک اپ کا ٹچ اپ دیئے نظر لگ جانے کی حد تک خوبصورت لگ رہی تھی ،جبکہ اس کے ساتھ کھڑا ارتضی شاہ بلیک کلر کی سوٹ میں ملبوس اپنی شاندار پرسنلٹی لیے وجیہہ لگ رہا تھا ۔
میں ابھی ڈاکٹر عامر سے بات کرکے آتا ہوں، آپ یہاں پر رہیئے گا ،
ارتضی کے سمجھانے ہر وہ گردن ہلا گئی تھی ۔
ڈاکٹر عامر کے اشارہ کرکے بلانے پر وہ ماہین کے پاس سے گیا تھا ۔
ساری پارٹی میں ارتضی ماہین کے ساتھ ساتھ ہی ریا تھا ،
کافی دیر اکیلی کھڑی ہوئی ماہین ارتضی کو دیکھ رہی تھی جو ہر پانچ سیکنڈ بعد ماہین کو دیکھ رہا تھا ۔
تمہارا قصور نہیں ہے ماہین ،انسان تو ہوتا ہی ناشکرا ہے ،تمخسرانہ انداز میں بولتی ہوئی وہ ماہین کے نا سمجھی میں خود کو دیکھتے پاکر وہ مسکرا اٹھی تھی ۔
جو چیز انسان کے پاس ہوتی ہے وہ ہمیشہ ہی بے معنی سی لگتی ہے اور جو اس کے پاس نا ہو اسے حاصل کرنے کی چاہ لیے انسان اندھا دھند اس لاحاصل شے کے پیچھے بھاگنے لگ جاتا ہے ،بنا کسی جواز کے بات شروع کرتی ہوئی لڑکی جو اس وقت سیاہ نیٹ کی ہاف بلاوز ساڑی پہنے ہوئی تھی۔ ماہین کو اکیلے کھڑے دیکھ وہ اس کے پاس آکھڑی ہوئی تھی،
مل جائے تو مٹی نا ملے تو سونا ،ارتضی شاہ کو حسرت بھری نظروں سے دیکھتی ہوئی وہ ماہین کی قسمت پر رشک کر رہی تھی ۔
کیا مطلب ،میں کچھ سمجھی نہیں، اچانک سے اس لڑکی کو اپنے پاس کھڑے ہوتے دیکھ وہ ذرا نہیں چونکی تھی ۔
اس لڑکی کے بولنے کے انداز پر ماہین کے چہرے پر نا سمجھی کے تاثرات واضح تھے ۔
اس لڑکی کی نظروں کا تاکب کرتی ہوئی ماہین کی نظریں ارتضی پر جا رکی تھی ۔جو ڈاکٹر عامر کی کسی بات پر ہنس رہا تھا ۔
ارتضی پر سے نظریں ہٹاتی ہوئی وہ اس لڑکی کی آنکھوں میں ارتضی کے لیے حددرجہ پسندگی دیکھ چونک گئی تھی ۔
وقت آنے کی دیر ہے پھر تم سب سمجھ جاؤں گی معصوم لڑکی ،ماہین کی تھوڑی کے نیچے ہاتھ رکھتی ہوئی اپنی دلفریب مسکراہٹ اس کی سمت اچھالتی ہوئی اس کے کان کی طرف ہلکا سا جھکی تھی ۔
پریہا نور ،سرگوشیانہ انداز میں اپنا نام بتاتی ہوئی وہ جاتے ہوئے ماہی کے ہاتھ میں چٹ پکڑاگئی تھی ۔
جاری ہے ۔۔۔۔۔