No Download Link
Rate this Novel
Episode 24
کہاں چلی گئی تھی تم ،نوری کے چہرے پر کمینگی مسکراہٹ دیکھ ریحان نے استفسار کیا تھا ۔۔
آپ سے مطلب ،
اپنی اوقات مت بھولو کہ تم ایک نوکرانی تھی جو مہری دولت پر ایسے کود رہی ہو ،ریحان بھی اپنے نام کا ایک تھا کب موقعہ ہاتھ سے جانے دیتا تھا نوری کو اس کی اوقات یاد دلانے کا ۔
چلیں آڈیشن دے دیتے ہیں کافی دیر ہوگئی ہے پہلے ہی، ریحان کے ہاتھ کو پکڑتی ہوئی ایک ادا سے بولی تھی ۔
ہاں ضرور تو تم نہیں بتاؤ گی اس انجان پارٹی میں جانے کی وجہ ،ریحان نے دوبارہ سے پوچھا اس امید میں شاید اس بار وہ بتا دے مگر آگے بھی نوری تھی اسے کہاں پوچھتی تھی وہ جو آج اس کے سوال کا جواب دے دیتی ۔
بات ٹالتی ہوئی وہ وہاں سے ریحان کو لے کر گئی تھی تھی ،ایک نظر پیچھے پریشان کھڑی ماہین پر ڈالنا نہیں بھولی تھی ۔
کیا ہوا میری بیوی جی کو جو ایسے پریشان کھڑی ہیں، ماہین کے پریشان چہرے کو دیکھ کر ارتضی خود بھی پریشان ہواتھا ۔
وہ یہاں ایک لڑکی تھی اور اس نے یہ ،ہاتھ میں پکڑی چٹ کو ارتضی سے چھپاتی ہوئی ہاتھ سے اشارہ کرتی ہوئی سامنے کسی کو نا پاکر چونکی تھی ۔
کون ،کسی کو نا پاکر ارتضی حیران ہوا تھا ۔
اسےچھوڑیں پارٹی کب ختم ہوگی، پریہا نور کے جانے کے بعد وہ اداس ہوئی تھی ۔
جب میری بیوی چاہے گی پارٹی جب ہی ختم ہوجائے گی ۔ماہیں کے شانے کے گرد ہاتھ رکھتا ہوا لاڈ سے بولا تھا ۔
چلیں ،جس شخص سے کچھ مہینے قبل وہ نفرت کی دعوے دار تھی آج اس شخص کی مسکراہٹ میں خود کو ڈوبتے ہوئے محسوس کرتی تھی ۔
ایک منٹ میں ابھی ڈاکٹر عامر کو بتا کر آتا ہوں ،ارتضی کی بات پر وہ مثبت میں گردن ہلا گئی تھی ۔
آپ میرے تہجد کے امام ہیں ،معمول کے مطابق ڈاکٹر عامر کے ساتھ تہجد پڑھ کر مسکراتے ہوئے بول کہا تھا ۔
چلو کسی ایک نماز کا تو میں امام بنا ،وہ بھی جواب مسکرا کر بولے تھے ۔
ایک آپ ہی تو جن کی وجہ سے باقاعدہ نمازی ہوگیا ہوں ورنہ تو سرجری سے پہلے دو نفل پڑھ کر ثواب حاصل کرلیتا تھا ۔اپنی ہی بات وہ قہقہ لگا گیا تھا ۔
ڈاکٹر عامر آپ کی وجہ سے میں ہنستا بولتا ہوں ورنہ تو مین کب کا مر چکا ہوتا۔آپ کا یہ احسان میں زندگی بھر نہیں بھول سکتا ۔اب کی بار ارتضی کا لہجہ نم ہوا تھا۔
میرا فرض تھا اپنے چھوٹے بھائی کا خیال رکھنا سمجھے ،ارتضی کو خود سے لگاتے ہوئے وہ مسکرائے تھے جتنا ارتضی کے لیے وہ پریشان رہتے تھے یہ ان سے بہتر کوئی نہیں جانتا تھا ۔
اب تم جاؤ اپنے روم میں اور میں اپنے روم میں جاتا ہوں ۔ ڈاکٹر عامر کو جاتے دیکھ وہ خود بھی اپنے روم میں جانے کے بڑھا تھا ۔
کہاں تھے آپ، رات کے ڈھائی بجے کے قریب کمرے میں داخل ہوتے ارتضی کو دیکھ کر وہ حیرانگی سے پوچھ رہی تھی ۔
کہیں نا کہیں اذہان کی باتیں اور پریہا نور کی چٹ کا اثر ہوا تھا جو وہ روم میں آتے ہی پڑھ چکی تھی ۔
تم اپنے شوہر کے ماضی کو نہیں جانتی ہو اور میں اس کے ماضی کا ہی ایک حصہ ہوں ،پریہا نور سے وہ انکاری ہوگا اگر تم اس کے سامنے نوری نام لو گی تو حیران ہوکربات پلٹ جائے گا بہت شاطر شخص ہے ارتضی شاہ ۔
پہلے مجھے پاگل بنایا اب تمہیں بنانے جارہا ہے ۔
میری باتوں پر یقین نہیں آرہا ہوگا تمہیں اس لیے آج رات کے دوسرے پہر میں تمہین میری بات یقین آجائے گا ۔
کبھی سوچا ہے تمہارا شوہر رات کے دوسرے پہر میں کہاں ہوتا ہے ۔
پوچھ کر دیکھنا اس سے ۔
معصوم لڑکی ،اس پر میرا نمبر لکھا ہواہے ،جب بھی تمہیں میری ضروت پڑے تو بے فکر ہوکر مجھے کال کرسکتی ہو تم،
تم یہ سوچ رہی ہو نا کہ میں انجان لڑکی ہوکر بھی تمہیں اپنا نمبر کیوں دے کر گئی ہوں ،
کیونکہ مجھے تمہاری فکر ہے کہیں تم بھی میری طرح پاگل نا بن جاؤ ،اپنا خیال رکھنا۔نوری کی چٹ پڑھ کر اسے عجیب سی بے چینی محسوس ہوئی تھی ۔
مگر اب ارتضی کو اس پہر روم میں آتے دیکھ کہی نا کہیں نوری کی بات کو یقین میں بدل گیا تھا ۔
ڈاکٹر عامر کے پاس تھا ۔ارتضی بات پر اسے یقین نہیں آیا تھا مگر پھر بھی خاموشی اختیار کیے ہوئی تھی ۔
آپ جاگ رہی ہیں اب تک ،ریسٹ واچ اتارتا ہوا نارمل انداز میں پوچھ رہا تھا۔
ہمہم، بس اچانک سے آنکھ کھل گئی تھی ۔پر اب سو رہی ہوں ،ارتضی کے نارمل تاثرات دیکھ وہ نم لہجے میں بولتی ہوئی لیٹ گئی تھی ۔
اتنے میں ڈور ناک ہونے کی آواز پر وہ واپس سے سیدھی ہو بیٹھی تھی ۔
اپنے فون کو میرے پاس ہی بھول آئے تھے تم ،ڈاکٹر عامر کی آواز سن کر ماہین کے لب بے ساختہ ہی مسکرا اٹھے تھے ،
بہت بہت شکریہ ،مسکرا کر اپنا فون لیتا ہوا ارتضی ڈور لاک کرتا ہوا مڑا تھا ۔ماہین کو مسکراتے دیکھ حیرت کا شکار ہوا تھا ۔
یااللہ تیرا شکر ہے ۔ارتضی کو خود کو دیکھتے پاکر وہ کنفرٹ میں منہ چھپا گئی تھی ۔
ارتصی اور ماہین کو ہنی مون کے لیے گئے ہوئے ایک مہینہ ہونے کو آرہا تھا ،
ایک دوسرے کے ساتھ بتائے گئے حسین پل کیمرے کی آنکھ میں قید کیے وہ حیدر کی اچانک شادی کا سن حیرت کے ساتھ خوش ہوئے تھے ۔
اب بس شاہ حویلی میں ارتضی اور ماہین کا انتظار کیا جارہا تھا ،
ان دونوں کی آمد کے اگلے ہی دن حیدر اور حیا کا نکاح طے پایا تھا۔
اچانک ہی حیدر کی سادگی سے شادی کی ڈیمانڈ پر شاہدہ بیگم پھولے ہاتھوں کے ساتھ سارے کام کرواتی پھر رہی تھیں ۔
وہیں حیا کو صدمہ لگ گیا تھا۔
مجھے سادگی سے شادی نہیں کرنی ۔کشن گود میں رکھے ہوئی وہ بھرائی آواز میں اپنا دفاع کررہی تھی ۔
شادی کرنی ہے یا نہیں ویسے بھی میرے بھانجے کو لڑکیاں بہت ہیں ۔حیا کی دکھتی رگ پر ہاتھ رکھتی ہوئیں بولی تھیں ۔
نہیں مجھے کرنی ہے شادی پر ،فورا سے پہلے بولتی ہوئی وہ شاکرہ بیگم کے چہرے پر بکھری شرارت سے انجان تھی ۔
پر ور کچھ نہیں پرسوں تمہارا نکاح ہے اور ساتھ ہی رخصتی بھی ،جو ڈریس پسند کرنا ہے کرلو خواہ وہ کتنا ہی مہنگا کیوں نا ہو ۔وہ جانے کے لیے اٹھی تھیں ۔
سچ میں، جاتیں ہوئی وہ حیا کو خوش کر گئی تھیں۔
سچ میں، حیا کے چہرے پر پھیلی مسکراہٹ ہی ان کی زندگی بھر کی خوشی تھی ۔
ونڈو سے باہر دیکھتی ہوئی وہ کچھ مہینے پہلے کی ارتضی کی کہی بات سوچ کر وہ مسکرا رہی تھی ۔
ماہین ،پلیز آپ دوبارہ کبھی کچن کا رخ مت کیجئے گا، شہد کی بوتل ہاتھ میں لیے وہ اپنی سرخ ہوتی آنکھیں کو مسلتا ہوا بول رہا تھا ،
کیوں ،جبکہ ماہین پشیمانی سے ارتضی کو شہد کھاتے دیکھ پوچھ رہی تھی ۔
آپ چائے کی دشمن تو تھیں ہی،
آج آپ نے مجھ سے بریانی کے ذریعے دشمنی نکالی ہے ،چمچ بھر کر شہد کی منہ رکھتا ہوا وہ تھوڑا پرسکون محسوس کررہا تھا ،
ہا ،،،یہ کیا آپ کی اسکن یہ کیا ہو رہا ہے ،ارتضی کی اسکن پر ریشیز دیکھ کر وہ حیرانگی سے پوچھ رہی تھی ۔
الرجی ہے مجھے اسپائسی کھانوں سے ، نارمل لہجے میں کہتا ہوا پانی کا گلاس منہ سے لگا گیا تھا ۔
تو ہوا کچھ یہ تھا ،
ماں سرکار ،سب کی دیکھا دیکھی وہ بھی شاہدہ بیگم کو ماں سرکار کہہ کر مخاطب ہوئی تھی ۔
جو انہیں سرشار کر گیا تھا ۔
آج میں ارتضی کے لیے کھانا بناؤں ،کچن میں داخل ہوتے ہی ماہین نے شاہدہ بیگم کو کام کرتے دیکھ پوچھا تھا ۔
۔
ضرور کیوں نہیں ،سائیڈ پر ہوتی ہوئیں وہ ماہین کو اس طرح ارتضی کے لیے کھانا بنانے کا کہنا ہی انہیں راحت بخش گیا تھا ۔
ارتضی کو اور کیاکیا پسند ہے ،فریزر کھولے ہوئے کنفیوز ہوئی تھی کہ کیا پکائے ارتضی کے لیے،
آپ جو بھی بناؤ گی وہ آرام سے لگا لے گا ،کھانے کے معملے میں میرے بیٹے میں حیرت نہیں ہیں، ماہین کی کنفیوزن دور ہوئی تھی ۔
بریانی بنا لوں ارتضی کے لیے ،
ضرور ،ماہین کو پرجوش دیکھ وہاں سے گئی تھیں ۔
بنا اسے ارتضی کی اسپائسی کھانوں سے الرجی بتائے ۔
ارتضی کی الرجی سے بے خبر وہ اپنی پسند کے مطابق تیز مرچ کی بریانی بنا گئی تھی ،
بہت خوب، یہ سچ میں آپ نے بنائی ہے ،ارتضی کو شک گزرا تھا ۔
حیدر جو مکمل طور پر کھانے پر جھکا ہوا تھا جیسے وہ یہاں موجود ہی نا ہو ۔جبکہ ارتضی کے اس طرح پوچھنے پر رائمہ ماہین کو دیکھتی ہوئی لب دبا مسکرا رہی تھی ۔
دلاور شاہ ارتضی اور ماہین کو دیکھ کر اپنی نظریں جھکائے ہوئے تھے ،انہیں کہاں برداشت ہورہا تھا ارتضی اور ماہین کو ایک ساتھ دیکھنا ،
کوئی شک ،ویسے تو بریانی بہت اچھی بنی تھی مگر اس کے اچھائی پر تیز مرچ مات دے گئی تھی ۔
پہلی چمچ ہی ارتضی کے حلق کو چیرتی ہوئی گئی تھی، مگر ماہین کے تجسس بھرے چہرے کو دیکھ وہ بنا کچھ کہے بڑی مشکل سے آدھی پلیٹ کھا کر اٹھ کھڑا ہوا تھا ۔
کیا ہوا اچھی نہیں لگی ۔ماہین کے پوچھنے پر سب کی نظریں ارتضی پر رکی تھی ۔
بہت اچھی بنائی ہے آپ نے ، مرچی کے باعث اس کے منہ پانی آرہا تھا فورا وہاں سے لمبے ڈہانگ بڑھتا ہوا کچن کی جانب بڑھا تھا ،
ارتضی کو اس طرح جاتے دیکھ ماہین بھی اس کے پیچھے گئی تھی ۔
ماں ،بریانی بہت زیادہ اسپائسی بنی ہے اس لیے بھائی بھاگے ہیں، رائمہ جو مزے سے بیٹھی ہوئی بریانی کھا رہی تھی شاہدہ بیگم کے آگے اپنی پلیٹ بڑھاتی ہوئی مسکرا رہی تھی ۔
میری غلطی ہے میں نے ہی نہیں بتایا بیچاری بچی کو ،شاہدہ بیگم پچھتائی تھیں ۔
باپ کی بات نہیں مانو گے تو ایسا ہی ہوگا ارتضی، دل ہی دل میں ارتضی کی فکر کرتے ہوئے نفی میں گردن ہلا رہے تھے ۔
سوری،منمنائی ہوئی وہ ارتضی کو بہت کیوٹ لگی تھی ۔
اٹس اوکے ،محبت پاش لہجے میں مسکرا کر کہتا ہوا وہ ماہین کے معصوم چہرے پر نظریں جمائے ہوئے تھا ۔
کیسے آرام سے بیٹھا ہوا سڑی ہوئی ککڑی،ایسے کسی کی شادی ہوتی ہے بے رونقی سی، ڈارک میک اپ کے ساتھ ریڈ اورنج کلر کا بھاری بھرکم برائیڈل ڈریس کے ساتھ وہ بھاری ہی جیولری پہنے ہوئی اپنے سارے ارمانوں کو پورا کرنے کی کوشش کرے ہوئی وہ نظر لگ جانے کی حد تک خوبصورت لگ رہی تھی ۔
افففف ،اللہ یہ کیسے اتنا بھاری ڈریس پہنے سکتی ہے اوپر سے اتنی جیولری بھی ،تباہی کچھ تو اپنی صحت کا خیال کرتی تم ۔
ترچھی نظر سے حیا کے اتنا سجے سنورے سراپے دیکھ کو حیدر کو اس کی فکر لاحق ہوئی تھی ۔
اس بات سے بے خبر کی کہ اس کی شامت آنے والی تھی۔
سڑی ہوئی ککڑی اللہ پوچھے گا تمہیں، میری تو مہندی کا فنگشن ہوا دھوم دھام سے نہیں ہونے دیا تم نے ،اپنی شادی پر خود سے ڈانس کرنے کا پلین بھی رائیگاں ہوا تھا حیدر کی سادگی سے شادی کرنے کے کہنے سے ۔
ایسے کیا دیکھ رہے ہو ۔حیدر کو خود کو دیکھتے پا کر کنفیوز ہوتی ہوئی حیا نے استفسار کیا تھا ۔
حیدر کے ساتھ جڑے اس نئے رشتے کے باعث اسے گھبراہٹ محسوس ہورہی تھی ۔
کیوں شرم آرہی ہے ۔حیا کے چہرے پر نظریں جمائے وہ پہلی بار شوخ ہوا تھا۔
شرم اور مجھے آ ہی نا جائے کہیں،حیدر کی بات کو ہوا میں اڑاتی ہوئی وہ طنزیہ انداز میں بولی تھی ۔
ہاں تمہیں کیوں آنے لگی شرم وہ ساری تو تمہارے نام میں آگئی ہے حیا ہے نا،دانت دبائے وہ کہتا ہوا اپنی نظروں کا رخ سامنے کرگیا تھا ۔
لو بھئی شادی ہماری ہوئی ہے اور کھانے کا ہم سے کوئی پوچھ بھی نہیں رہا ہے ۔حیدر کے ہاتھ پر چٹکی کاٹتی ہوئی وہ اسے غصے سے گھور رہی تھی ۔
کیا ہے تباہی ،اپنے ہاتھ کو مسلتا ہوا چبا کر بول رہا تھا ۔
تباہی کہنے سے پہلے سوچ لو میرے حیدر جی ،اب یہ تباہی آپ کی زندگی میں نا تباہی مچانے کو تیار ہے ۔میک اپ زدہ چہرہ لیے آنکھیں چھوٹی کرتی ہوئی غصے سے بولی تھی ۔
میں تو ڈر گیا تباہی تمہاری میری زندگی میں تباہی مچانے کی دھمکی پر ،سنجیدگی سے کہتا ہوا آخر میں سوچ مسکرا گیا تھا ۔
مجھے پورا یقین ہے حیا تم پر اور تمہاری معصوم حرکتوں پر تم ایک دن میرے دل تک رسائی حاصل کر لو گی، اگر تم کوشش ناسکی تو میرا تم سے وعدہ ہے میں خود کو مجبور کردوں گا تم سے محبت کرنے پر ۔
بھوک لگ رہی ہے مجھے ۔کھانا کھانے کے لیے جاتے مہمانوں کو دیکھ کر وہ منمنائی تھی ۔
اب کیا کیا جاسکتا ہے انتظار کرنے کے سوا، کندھے اچکا کر وہ سامنے نظریں کیے مسکرایا تھا ۔
اچانک سے سامنے سے آتی ہوئی ماہین کو دیکھ کر وہ عاجزی سے نظریں جھکا گیا تھا ۔
کب سے دیکھ رہی ہوں تمہیں چپ ہونے کا نام ہی نہیں لے رہی ہو تم ۔بلیک کلر کی ساڑی پہنے کانوں میں جیولری کے نام پر پہنے ہوئے ٹاپس جو بالوں میں چھپ گئے تھے۔
ہمیشہ کی طرح آج بھی سمپل سی تیار ہوئی وہ خوبصورت لگ رہی تھی ۔
دلہن ہوں تو مطلب بولوں بھی نا اب ، منہ لٹکائے وہ ماہین کو دیکھ کر بولی تھی ۔
مجھے بھوک لگ رہی ہے ماہین آپی ،حیا کی بات پر ماہین کے لبوں پر مسکراہٹ رینگی تھی ۔
سڑی ہوئی ککڑی تم کچھ نہیں بولو گے،حیدر کے کچھ بولنے کے لیے کھولتے منہ کو دیکھ کر وہ تنبیہ کرگئی تھی ۔جس پر حیدر نے فورا سے اپنے لب آپس میں پیوست کرلیے تھے ۔
بس اتنی سی بات ہے میں ابھی کہہ دیتا ہوں خالہ کو وہ تمہارے لیے کھانے بھیج دیں گی ۔حیا کے تنبیہ کرتے ہی حیدر کو خاموش رہتے دیکھ ارتضی اپنےقہقہے پر ضبط کرتا ہوا ان تینوں کے پاس اسٹیج پر آیا تھا ۔۔
سچ میں، آرام سے ۔حیا کے چلانے پر ماہین نے اس کے کندھے پر رکھ کر چپ کروایا تھا۔
چلیں ماہین اذہان آیا ہے خاص کر آپ سے ملنے،
تھوڑی دیر کے لیے خاموش رہنا ،حیا کو کہہ وہ ماہین ارتضی کا پکڑ کر اسٹیج سے نیچے اتر گئی تھی ۔
میری تباہی ، حیدر شاہ کی تباہی ۔۔
دونوں کو ایک دوسرے کا ہاتھ پکڑ کر جاتے دیکھ حیدر مسکرا کر اپنے برابر میں بیٹھی حیا کو دیکھ رہا تھا جو اس وقت اپنی انگلی میں پہنی ہوئی رنگ سے کھیل رہی تھی ۔
واہ بھئی واہ آج تو میری نیو مما بہت پیاری لگ رہی ہیں ۔اذہان کے تعریفی کلمات سن کر ماہین کی نظریں شرم سے جھکی تھیں ۔
ارتضی سر کم نہیں لگ رہے ہیں، عام سے سوٹ میں ملبوس ارتضی کو دیکھ کر تعریف کیے بغیر رہ نا سکی تھی۔
ڈاکٹر ہیر کو ارتضی کی تعریف کرتے سن ماہین کی بھنویں سکڑی تھیں ۔
نیو مما کے بیٹے اب کیسا فیل کررہے ہو ۔اذہان کو ماہین کے ساتھ بات کرتے دیکھ ارتضی نے اس کی طبیعیت کے بارے میں پوچھا تھا۔
آپ کے سامنے ہوں ۔اذہان کے مسکراتے چہرے کو دیکھ کر وہ واپس سے ڈاکٹر ہیر کی جانب متوجہ ہوا تھا ۔
ذرا دھیان دیں آپ ڈاکٹر صاحب پر نیو مما، کیونکہ خوبصورت پرندے زیادہ دن قید میں نہیں رہتے ،ڈاکٹر ہیر کے ہر سوال کا جواب مسکرا کر دیتا ہوا ارتضی شاہ اس وقت ماہین کی نظروں انجان تھا ۔
ماہین کو ارتضی کو گھورتے دیکھ اذہان مسکراہٹ دبائے ہوئے تھا ۔
ایکسکیوزمی پلیز ،مجھے آپ سے ضروری بات کرنی ہے۔ ارتضی کا ہاتھ پکڑے ہوئے وہ اسے اپنے ساتھ مہمانوں کے بیچ سے سائیڈ پر لے جاتی ہوئی ڈاکٹر ہیر کے شاکڈ چہرے کو دیکھ کر مسکرائی تھی ۔
بڑی ہنس ہنس کر باتیں کی جارہی تھی ڈاکٹر ہیر کے ساتھ ۔ماہین کے لہجے سے صاف عیاں تھی اس کی جلیسی کو سمجھتا ہوا ارتضی خوش ہوا تھا ۔
کونسے شوہر اپنی بیوی کے سامنے دوسری لڑکی کے ساتھ ہنس ہنس کر بات کرتے ہیں ۔دونوں ہاتھ کمر پر رکھ کر وہ لڑنے کے لیے تیار کھڑی تھی ۔
جلیس ہورہی ہیں نا آپ ڈاکٹر ہیر سے ،سنجیدگی سے کہتا ہوا وہ ماہین کے قریب بڑھا تھا ۔
اپنی چوری پکڑے جانے پر وہ فورا سے بول اٹھی تھی ۔
نہیں تو ۔آنکھیں بڑی کرتی ہوئی وہ خود کو کمپوز کررہی تھی ۔
اچھا تو پھر میرے ڈاکٹر ہیر کے ساتھ مسکرا کر بات کرنے پر آپ کو مثلہ کیوں ہورہا ہے ۔پہلی بار ماہین کو جلیس ہوتے دیکھ وہ اپنے اور ماہین کے درمیان کے فاصلے کو دور کرگیا تھا ۔
ہاں تو آپ بہت برے ہیں ۔ارتضی اور اپنے درمیان فاصلہ برقرار رکھتی ہوئی وہ پیچھے ہوئی تھی ۔۔
میں برا ہوں ۔سنجیدگی سے پوچھتا ہوا وہ ماہین کو کنفیوز ہوتے دیکھ اپنی مسکراہٹ کو لبوں کے کناروں پر دبائے ہوئے تھا ۔
پلیز یہ ڈاکٹر جلاد والا روپ گھر دھار لیجئے گا، ماہین کے جھکے سر کو دیکھ کر ارتضی کا فلک شگاف قہقہ فضا میں گونج اٹھا تھا ۔
بہت برے ہیں ارتضی آپ ،اچانک سے اپنے اور ارتضی کے درمیان کے فاصلے کو مٹاتی ہوئی ارتضی کے کشادہ سینے پر سر رکھ گئی تھی ۔
برا ہوں یا اچھا ہوں صرف اور صرف آپ کا ہوں ،اب کسی بھی لڑکی کے بارے سوچنا بھی گناہ ہوگا ۔
کیونکہ ارتضی شاہ اب صرف ماہین شاہ کا ہے ،ماہین کے گرد اپنا مضبوط حصار باندھتا ہوا گھمبیر لہجے میں کہہ رہا تھا ۔
اب مطلب پہلے ٹھرکی ڈاکٹر تھے آپ ۔ ارتضی کے سینے پر سر رکھ کر وہ شرارت سے بولی تھی ۔
لیکن ایک لڑکی کو اجازت ہے مجھے اپنا کہنے کی ۔
کون ہے وہ ۔ارتضی سے دور ہوتی ہوئی وہ حیرانگی سے پوچھ رہی تھی ۔
منت ،آپ بہت بہت برے ہیں، پل بھر میں اس کی آنکھیں نم ہوئیں تھیں ۔
جھوٹے، جلاد ،ٹھرکی ہیں آپ، غصے سے بولتی ہوئی وہ جانے کے لیے مڑی تھی کہ اچانک سے ارتضی نے ہاتھ سے کھینچ کر واپس سے اپنے مضبوط حصار میں لیا تھا ۔
چھوڑیں مجھے ڈاکٹر جلاد، ارتضی کے سینے پر اپنے نازک ہاتھ مارتی ہوئی ارتضی کی زندگی میں دوسری لڑکی کو سوچ کر ہی ہلکان ہورہی تھی ۔
پہلے بات تو پوری سن لو ،منت شاہ ہوگی وہ لڑکی ارتضی اور ماہین کی بیٹی منت شاہ ۔ارتضی کی بات پر وہ ساکت ہوئی تھی ۔
سچ بول رہے ہیں نآ آپ ۔بے یقینی اور شرم کے ملے جلے تاثرات چہرے پر سجائے وہ پوچھ رہی تھی ۔
کوئی شک، ماہین کے چہرے کو اپنے ہاتھوں میں لیتا ہوا مسکرایا تھا ۔
نہیں ،اپنے وجود کو ڈھیلا چھوڑ ارتضی کے سینے پر سر رکھ کر وہ آنکھیں بند کیے اس کے ہی اسے ہر کھڑی تھی ۔
کچھ توقف کے بعد کچھ سوچ کر ماہین بولی تھی ۔
منت بیٹی کا پھر بیٹے کا نام مراد رکھ لیں گے۔ماہین نے طنز کیا تھا ۔
مراد خیال اچھا ہے ۔ماہین کے طنز کو سمجھتا ہوا اسے چھیڑنے کی غرض سے کہتا ہوا وہ ماہین کی کمر پر گرفت مضبوط کر گیا تھا ۔
ہاں نا پھر سب لوگ سن کر یہ کہے گے ارتضی شاہ کو بچے بڑی منت مرادوں سے ہوئے ہیں جب ہی تو بچوں کے بھی منت مراد رکھ دیئے ۔ کتنا اچھا لگے گا نا ۔
سر اٹھا کر ارتضی کے سنجیدہ چہرے کو دیکھ کر چبا کر بولی تھی ۔
اچھا تو بہت لگے گا، لیکن پھر بھی آپ جو نام سیجیسٹ کریں گی ہم وہ رکھ لیں گے ۔ماہین کی ناراضگی سے ڈر کر وہ فورا اس کے حق میں بول گیا تھا ۔
ہم دونوں مل کر رکھے گے سہی ہے نا،ماہین کے معصوم انداز ہر ارتضی مثبت میں گردن ہلاتا ہوا اپنے فیوچر کو سوچ کر مسکرا رہا تھا ۔
زبردست کمال کردیتی ہو تم ہر فوٹو شوٹ پر ،
ایسا لگتا ہے جیسے کیمرے کے ساتھ تمہاری کوئی پرانی دوستی ہو ،
نا گھبراہٹ نا ہی کوئی شرم ،،،
بہت ہی کانفیڈینٹ ہو تم ،کیمرہ مین سے تعریف وصول کرتی وہ مغرور انداز میں چلتی ہوئی ڈائریکٹر کے برابر میں رکھی چیئر پر بیٹھی تھی ۔
بنا بولے ہی سب حال دل بیان کر جاتی ہیں تمہاری آنکھیں ،خدا کی طرف سے بہت ہی خاص تحفہ ہے تمہارے لیے تمہاری آنکھیں ،اس کی آنکھوں کی تعریف میں ہر ایک ہر قصیدے پڑھتے آئے تھے ۔وہ سب کی تعریف مسکرا کر ہی وصول کرتی آئی تھی۔
ویسے بھی اسے اب اپنی تعریف سننے کی عادت جو پڑگئی تھی ،
تنگ و نازیبا لباس زیب تن کیے وہ اپنے بے باک فوٹو شوٹ کی فوٹوز کو فخریہ انداز میں مسکراتی ہوئی دیکھ رہی تھی ۔
اس کی ہر ایک ادا میں مغروریت چھلکتی تھی کچھ ہی عرصے میں وہ میڈیا انڈسٹری کا ایک چمکتا ہوا ستارہ جو بن گئی تھی ،
صحیح، غلط سے اسے سروکار تھا ہی نہیں سروکار تھا تو فقط نام ،شہرت اور دولت سے جو آج اس کے پاس موجود تھی اور اسے چاہیے ہی کیا تھا جس چیز کو اس نے پانا چاہا سب ہی کچھ اس کے پاس موجود تھا،
سوائے ایک شخص کی چاہ کے جو اس کی راتوں کا سکون برباد کیے ہوئے تھا ۔
اس کی ایک نگاہ شوخ اٹھنے کی دیر تھی اور سامنے والے شخص اس کے قدموں میں ڈھیر ہوتے آئے تھے ۔
ابھی بھی کچھ ایسا ہی ہوا تھا اس کے ساتھ پروڈیوسر صاحب کے بار بار اسے مسکرا کر دیکھنے کو نوٹس کرتی ہوئی وہ جواب میں خود بھی مسکرائی تھی ۔
اگلے تین پروجیکٹس بھی میں تم سے کروانے کا ارادہ رکھتا ہوں ،آنکھیں گھوماتی ہوئی وہ سرخ لپ اسٹک سے سجے اپنے کٹاؤ دار لب دبائے مسکرا رہی تھی ۔
مجھے کوئی پروبلم نہیں ہے ،آپ مجھے شوٹ کی ٹائمنگ اور لوکیشن سینڈ کردیجئیے گا، اپنی گہری جھیل سی آنکھوں پر گلاسس چڑھائے وہ مغرور چال چلتی ہوئی اسے پارکنگ ایریا میں کافی دیر سے کھڑے شخص کا خیال آیا تھا جو باہر اس کا انتظار کررہا تھا۔
اپنے حسن کی بجلیوں سے مجھ کمزور دل پر وار کررہی ہو تم ، پروڈیوسر احسان خان اپنے دل پر ہاتھ رکھ کر اسے جاتے دیکھ کمینگی سے مسکرایا تھا ۔
بہت دیر ہوگئی آج تمہیں ،کار کا فرنٹ ڈور کھول کر گلاسس پیچھلی سیٹ پر پھینکتی ہوئی وہ اسے گھور کر سیٹ پر بیٹھی تھی ۔
اب آگے کیا کرنے کا ارادہ ہے ،کار ڈرائیوو کرتا ہوا وہ اپنے اور اس کے بیچ چھائی خاموشی کی توڑنے کی خاطر بولا تھا۔
سیٹ کی پشت پر سر رکھے ہوئی وہ اپنی آنکھیں بند کیے ہوئی تھی ۔
محبت کے ہاتھوں رسوا ہوئی تھی اب اس محبت کو رسوا کرنے کا ارادہ رکھتی ہوں ۔آنکھیں بند کیے وہ تلخی سے مسکرائی تھی ۔
مطلب ۔
مطلب یہ کہ وقت آگیا ہے لاحاصل کو حاصل کرنے کا ،مضبوط لہجے میں بولتی ہوئی بل کھاتی سڑکوں پر نظریں جمائے ہوئی تھی ۔
گھر پہنچتے ہی وہ اپنے سیل فون میں محفوظ نمبر کو مسکرا کر دیکھتی کال ملا گئی تھی ۔
اسے زیادہ انتظار کرنے کی ضرورت نہیں پڑی تھی کیونکہ فون دوسری کال پر اٹینڈ کرلیا گیا تھا ۔
ہیلو کون بات کررہے ہیں ۔مقابل کی سحر انگیز آواز اتنے عرصے بعد سن کر پرسکون محسوس کررہی تھی۔
کیسے ہیں سرکار سائین ۔
کون ۔ارتضی انجان تھا مقابل کی نسوانی آواز سے۔
اف اللہ آپ اتنی جلدی بھول گئے مجھے اور مجھے دیکھیں اب تک آپ کی کوئی بھی بات نہیں بھولی ہوں ۔ایک ادا سے کہتی ہوئی ڈریسنگ ٹیبل کے سامنے کھڑی ہوئی تھی ۔
نوری،،ارتضی زیر لب بڑبڑایا تھا ۔جو نوری بخوبی سن گئی تھی ۔
ہائے اللہ کتنا پیارا لگتا ہے آپ کے منہ سے میرا نام نوری ۔دل کے مقام پر ہاتھ رکھتی ہوئی وہ شیشے میں ابھرتے اپنے عکس کو دیکھ کر مسکرائی تھی ۔
ویسے مجھے ماہین جیسی معصوم سوتن سے کوئی مثلہ نہیں ہے سائین ۔
بکواس بند کرو اپنی ۔ماہین کو خود کی طرف متوجہ پاکر وہ اپنے چہرے پر جبران مسکراہٹ سجائیے ہوئے تھا ۔
ابھی تھوڑی دیر پہلے کون پوچھ رہے تھے ۔جیسے بھول گئے ہیں مجھے ،اپنے بالوں کے ساتھ حرکت کرتی ہوئی بول رہی تھی ۔
یاد انہیں رکھا جاتا ہے جو یاد رکھنے کے قابل ہوں یا دل کے قریب ہوں جہاں تک مجھے یاد ہے کہ میرا آپ کے ساتھ ایسا
کوئی تعلق نہیں ہے ۔
شاہ حویلی کی ملازمہ رہ چکی ہیں آپ پورا گاؤں اچھے سے جانتا ہے کہ ارتضی شاہ ملازمہ کے لائے ہوئے پانی کے گلاس کو منہ تک نہیں لگاتا ملازمہ کو منہ لگانا تو بہت دور کی بات ہے ۔جتا کر کہتا ہوا ارتضی کو اس پر ترس بھی ناآسکا تھا۔
رہی بات نام یاد رکھنے کی تو اس رات حرکت ہی ایسی کی تھی تم نے جو کوئی بھی شریف انسان بھول نہیں سکتا ۔
بہتر ہے سیدھی راہ اپنا لو کیونکہ جس راہ کی تم مسافر بننا چاہ رہی ہو وہاں کے راستے تمہارے لیے نہیں بنے ہیں ابھی بھی دیر نہیں ہوئی ہے پلٹ جاؤ ۔ایک آخری کوشش کررہا تھا وہ نوری کو سمجھانے کی ۔
آپ کی وجہ سے میں یہاں تک آئی ہوں اور اب واپس مڑ جانا میرے بس میں نہیں ہے ۔ارتضی اس کی بات پر گہرا سانس خارج کرتا ہوا فون کاٹ گیا تھا ۔
کیوں نہیں ہوسکتے آپ میرے سائین،ڈریسنگ ٹیبل پر رکھے سامان پر غصے سے ہاتھ مار کر گراتی ہوئی زمین پر ڈھے گئی ۔
ایک شرط پر رخصتی ہوگی میری اگر حیدر مجھے گود میں اٹھا کر گاڑی تک لے کر جائیں گے اور پھر حویلی میں بھی مجھے ایسے ہی لے کر داخل ہوں گے ۔
اپنی شرط بتا کر وہ آرام سے دونوں ہاتھ سینے پر باندھ کر کھڑی ہوئی تھی ۔
کب سدھرو گی تم اور یہ کیا بے ہودہ شرط لگا کر کھڑی ہوگئی ہو ،
کون سی دلہن اپنی شادی کا کھانا کھولتے ہی کھانے کی فرمائش کرتی ہے بنا کسی شرم و لحاظ کے چلو وہاں تک تو ٹھیک تھا لیکن یہ شرط نہیں مانی جائے گی تمہاری ۔حیا کی شرط پر حیران تو سب ہی ہوئے تھے مگر شاکرہ بیگم غصے سے اس کے سر پر آن دوڑی تھیں۔
بابا جانی ،نم آنکھیں لیے وہ حمدان صاحب کو پکارا تھا جو فورا سے بھاگتے ہوئے اس کے پاس آئے تھے۔
اپنی بیوی اور میری سوتیلی ماں کو چپ کروا دیں ،کیونکہ میری رخصتی ایسے ہی ہوگی ،حتمی فیصلہ سنا کر وہ حیدر کے لٹکے ہوئے چہرے کو دیکھ کر مسکرائی تھی ۔
یہ بیس کلو کا لہنگا اور اتنی بھاری بھرکم جیولری ایسے ہی نہیں پہنی تم سے بدلہ لینے کی خاطر پہنے ہوئی ہوں ،تمہیں بھی تو پتا چلے سادگی سے شادی کرنے کی سزا بیوی کیسے دیتی ہے ۔دل میں سوچ کر خود کی بھی جان ہلکان کیے ہوئی تھی ۔
میرے بھانجے کے ساتھ ناانصافی ہورہی ہے یہ ،حمدان صاحب انہیں لے کر سائیڈ پر آئے تھے ۔
حیا حیدر بھائی کیسے اٹھائے گے تمہیں، رائمہ کے بولنے پر حیدر نے حیا کو امید بھری نظروں سے دیکھا تھا، جو شان بے نیازی سے رخ موڑ گئی تھی ۔
حیدر مجھے گود میں اٹھائیں گے تو رخصتی ہوگی ورنہ رخصتی کینسل ۔آرام سے اپنے لہنگے کو سنبھالتی ہوئی سائیڈ پر رکھی چیئر پر بیٹھ گئی تھی ۔
کوشش کر کے دیکھ لوں ،شاہدہ بیگم نے حیدر کو گیا کو گھورتے دیکھ کہا تھا۔
بھائی آپ نے دیکھا ہے اس کا بھاری بھرکم لہنگا دیکھا ہے اور اوپر سے میڈم جیولری سے لدی ہوئیں ہیں ،خود کا وزن کم تھا جو اتنا سب پہن کر آئی ہے ۔حیا کی آنکھیں آنکھیں حیرت سے پھٹی تھیں۔
اگر اس کو اٹھایا نا تو میں گر جاؤ گا اس تباہی کو لے کر۔
بدلہ لے رہی ہے مجھ سے ۔اپنا ڈر ظاہر کرتا ہوا وہ بے بسی سے بول رہا تھا۔
حیدر کے رونے جیسے چہرے کو دیکھ کر ارتضی کو اس پر ترس آیا تھا۔
حیدر بھائی اٹھا لیں نا اور ارتضی ہیں نآ آپ کے ساتھ وہ نہیں گرنے دیں گے آپ کو ۔ماہین کے کہنے پر وہ نظریں جھکائے گیا تھا۔
بھروسہ ہے نا مجھ پر حیدی۔حیدر کے کندھے پر ہاتھ رکھتا ہوا ارتضی سنجیدگی سے پوچھ رہا تھا ۔
خود سے زیادہ ہے ،کہہ کر وہ حیا کی سمت بڑھا تھا۔
مجھے نہیں پتا تھا کہ تباہی اتنی بھاری بھی ہوسکتی ہے ۔اگلے ہی ہل اسے اپنی گود میں اٹھاتا ہوا اسے چھیڑنے کی غرض سے بول رہا تھا۔
میرے پیارے شوہر حیدر جی اب تیار ہوجائیں کیونکہ تباہی آپ کے گلے پڑگئی ہے ،دونوں ہاتھ حیدر کی گردن میں ڈالتی ہوئی حیدر کی ٹون میں بولی تھی ۔
ماءشااللہ سے دونوں کتنے کیوٹ لگ رہے ہیں نآ ایک ساتھ ۔حیدر اور حیا کے پیچھے پیچھے چلتےہوئے ماہین ارتضی کی بازوں میں ہاتھ ڈالے مسکرا کر بولی تھی ۔
آج تمہارا کام ختم ہوگا ،ماہین ریاض بخاری، خونخوار نظروں سے حمدان صاحب کے ساتھ کھڑے ریاض صاحب اور ماہین کو ارتضی کے ساتھ مسکراتے دیکھ وہ ان دونوں کو گھورتے ہوئے دلاور شاہ صائمہ انصاری کے ساتھ گاڑی میں جا بیٹھے تھے ۔
دلاور شاہ اور صائمہ انصاری کو جاتے دیکھ شاہدہ بیگم پریشان ہوئیں تھیں ۔
تمام تر رسموں کے بعد سب اپنے اپنے کمروں میں جاچکے تھے ،
ماہین گیا کو حیدر کے کمرے میں چھوڑ کر اپنے کمرے میں جاچکی تھی ۔
مجھے تم سے ضروری بات کرنی ہے ارتضی ۔
ارتضی جو ڈاکٹر عامر کو گیٹ تک چھوڑ کر اپنے کمرے کی سمت بڑھا تھا ۔جب پیچھے سے دلاور شاہ کی آواز پر رکا تھا۔
صبح بات کرتے ہیں بابا سرکار، ابھی آپ بھی تھک گئے ہونگے اور میں بھی تھک گیا ہوں ۔وہ کہہ کر واپس سے اپنے کمرے کی سمت بڑھا تھا۔
مجھے تم سے ابھی اسی وقت بات کرنی ہے ۔مضبوط لہجے میں کہتے ہوئے ارتضی کی سمت بڑھے تھے ۔
ایسی کیا ضروری بات کرنی ہے بابا سرکار جو صبح نہیں ہوسکتی ۔دلاور شاہ کے چہرے پر حددجہ سنجیدگی دیکھ اسے اپنا ان کو دیا ہوا وعدہ بھول گیا تھا ۔
تمہارے دیئے ہوئے وعدے کو پورا کرنے کا وقت آگیا ہے ارتضی شاہ ۔دلاور شاہ ارتضی کو کمرے میں داخل ہوتے دیکھ کر تھے۔
کونسا وعدہ بابا سرکار ،نا سمجھی میں پوچھتا ہوا اپنے بابا کے انداز پر چونک گیا تھا ۔
وہ ہی وعدہ جو تم نے مجھے اپنے نکاح سے پہلے دیا تھا ۔دلاور شاہ کے یاد دلانے پر ارتضی کو وہ وعدہ اور حالات یاد آئے تھے ۔
یاد آیا تمہیں اپنا دیا ہوا وعدہ ارتضی شاہ ۔ارتضی کو غصے سے گھورتے ہوئے وہ غرلائے تھے۔
اچھے سے یاد ہے ۔مختصر جواب دیتا ہوا وہ جانے کے لیے مڑا تھا۔
تم آج اسی وقت ماہین کو طلاق دے کر اپنا وعدہ پورا کرو ارتضی شاہ ۔دلاور شاہ کے منہ سے طلاق کا لفظ سن کر وہ کرب سے آنکھیں میچ گیا تھا ۔
یہ ہی وعدہ دیا تھا تم نے مجھے کہ شادی کے فورا بعد ماہین کو طلاق دے دو گے ،مگر تم نے چھ مہینے نکال دیئے ،پر آج تم اپنا وعدہ پورا کرو گے ،
ایک شرط پر تمہارا اور ماہین کا نکاح ہوگا آج،
کیسی شرط بابا سرکار ،سب لوگوں کے جانے کے بعد دلاور شاہ نے تنہائی میں ارتضی سے بات کرنا شروع کی تھی ۔
مجھے وعدہ چاہیے تم سے آج ۔
کیسا وعدہ ،وہ ناسمجھی میں پوچھ رہا تھا ۔
پہلے وعدہ دو ، انہوں نے اپنا ہاتھ ارتضی کے سامنے کیا تھا ۔
آپ کو کبھی انکار کرسکتا ہوں میں ۔دیا وعدہ ۔
شادی کی رات کو تم ماہین کو طلاق دو گے ،دلاور شاہ کے ہاتھ پر ارتضی کی گرفت ڈھیلی پڑگئی تھی ۔
نہیں بابا سرکار یہ غلط ہے ،پیچھے ہوتا ہوا ارتضی اپنے بابا سرکار کی بات پر ہل گیا تھا۔
تم وعدہ دے چکے ہو ،اب ریاض بخاری کے ساتھ بھی وہی ہوگا جو چھبیس سال پہلے ہمارے ساتھ ہوا تھا ۔ دلاور شاہ کو دیئے ہوئے وعدہ پر ارتضی کی آنکھیں نم ہوگئی تھیں ۔
ان کی کوئی غلطی نہیں تھی بابا یہ آپ اچھے سے جانتے ہیں ۔
انہوں نے تو آپ کی اور اپنے خاندان کی عزت بچائی تھی ۔
اگر وہ نکاح پڑھ لیتے تو ہمارے خاندان کی عزت پر کیچڑ اچھالا جاتا کیونکہ پھوپھی تو نکاح سے پہلے ہی وہاب پھوپھا کے ساتھ بھاگ گئیں تھیں ۔
پھر کس چیز کا بدلہ لینا ہے آپ کو کو ان سے جبکہ انہوں نے تو سارا کا سارا الزام خود کے ماتھے لے لیا تھا ۔
مگر ہماری اور پھوپھی کی عزت آنچ نہیں آنے دی تھی ۔
اپنے تھے وہ انہیں سمجھانا چاہ رہا تھا۔
مگر وہ جیسے کچھ سمجھنا ہی نہیں چاہ رہے تھے۔
بولو ارتضی شاہ یاد ہے نا وعدہ اپنا ۔ دلاور شاہ کو دئیے وعدہ کو سوچ کر وہ پشیمان ہوا تھا ۔
ہاں یاد ہے مجھے اپنا وعدہ اور پورا بھی کروں گا لیکن ،ارتضی کے منہ سے نکلے لفظ جہاں دولاور شاہ کو راحت بخش گئے تھے، وہیں دروازے کے ساتھ کھڑی ماہین کے پیروں تلے سے زمین نکل گئی تھی ۔
ماہین جو ارتضی کو ڈھونڈتی ہوئی حویلی کے مہمان خانے کے قریب سے گزر رہی تھی ۔
ارتضی کی آواز سن کر وہاں رکی تھی ۔
میں اپنا وعدہ پورا کروں گا بابا سرکار ،مضبوط لہجے میں کہتا ہوا وہ ماہین کی موجودگی سے انجان تھا ۔
ارتضی کے مضبوط لہجے پر اپنی سسکی دبائے وہ وہاں سے دبے قدموں سے واپس اپنے کمرے کی سمت بھاگی تھی ۔
صائمہ پھوپھو بلائیں ،ارتضی کے کہنے پر انہوں نے صائمہ انصاری کو بلوایا تھا ۔
تھوڑی دیر مہمان خانے میں ارتضی اور دلاور شاہ کے ساتھ اب صائمہ بیگم بھی آگئی تھیں ۔
پچس سال بعد آپ کو آپ کا بھائی ملا ہے پھوپھو بہت مبارک ہو آپ کو ۔آپ کے بھائی کی محبت جاگ گئی ہے آپ کے لیے۔ ارتضی کی بات پر ناسمجھی کے تاثرات ان کے چہرے پر آئے تھے۔
اب تو وہاج اور رائمہ کا رشتہ بھی فکس کردیا ہے بابا نے ،ارتضی کو غلام رسول کے ذریعے رائمہ اور وہاج کے رشتے کا پتا چلا تھا۔
تمہیں کیسے پتا چلا ،دلاور شاہ چونکے تھے کیونکہ انہوں نے سب سے چھپا کر یہ رشتہ فکس کیا تھا۔
اور وہ بھی ارتضی کی غیر موجودگی میں کیا تھا جب وہ ماہین کے ساتھ ہنی مون پر گیا ہوا تھا ۔
آپ کا ہی بیٹا ہوں بابا سرکار ،جتا کر کہتا ہوا وہ اب تک کی گفتگو میں پہلی بار مسکرایا تھا۔
آپ بتائیں پھوپھو میری شادی والے دن میں نے آپ سے سوال پوچھا تھا ۔
آپ کا کی مقروض ہیں آج بتائیں بابا کو بھی ۔
بتائیں نا پھوپھو کا شخص کی احسان مند ہیں آپ، لفظوں پر زور دیتا ہوا سنجیدگی سے پوچھ رہا تھا ۔
ریاض بخاری کی ۔صائمہ کی ہلکی سی آواز میں ریاض صاحب کے نام کو سن کر دلاور شاہ چونکے تھے ۔
آپ سے تو سب بتایا نہیں جائے گا،اس لیے میں بتاؤں گا بابا کو سب سچ ،
چھبیس سال پہلے ریاض انکل کی کوئی غلطی نہیں تھی بلکہ انہوں نے تو آپ کی عزت بچائی تھی ۔
ارتضی آج نہیں پھر کبھی یہ بات کریں گے ۔منت بھرے لہجے صائمہ نے اسے بیچ میں ٹوکا تھا۔
کیوں پھوپھو آج ہی صحیح وقت ہے بتائیں آپ،
میں وعدہ کرتا ہوں آپ سے وہاج اور رائمہ کی شادی میں کرواؤں گا ۔صائمہ بیگم کے ہاتھ پر دباؤ دیتا ہوا انہیں بولنے کے لیے اکسا رہا تھا۔
ریاض کی کوئی غلطی نہیں تھی بھائی میریمیری وجہ سے ہی انہوں نے نکاح سے انکار کیا تھا ۔کیونکہ میں اور وہاں پہلے سے نکاح کر چکے تھے ۔نظریں جھکائے وہ ساری روداد سناتی ہوئی آخر میں رو پڑی تھیں ۔
ایک بات اور بابا میں نے آپ کو کبھی یہ وعدہ دیا ہی نہیں کہ میں ماہین کو طلاق دوں گا ۔یہ یاد رکھیئے گا بابا ماہین کو مجھ سے الگ صرف میری موت کر سکتی ہے ۔
کوئی وعدہ یا قسم تو بلکل بھی نہیں، صائمہ بیگم حیرانگی سے دونوں کو دیکھ رہی تھیں ۔۔
اب آپ دونوں بیٹھ کر مصلحت کریں، شب بخیر ،شرمندگی سے نظریں جھکائے دلاور شاہ جو چھبیس سال سے ریاض بخاری کو قصور وار سمجھ صائمہ سے بھی قطعی تعلق ہوگئے تھے ،آج انہیں صائمہ بیگم کے ساتھ آبی تعلق کا فیصلہ صحیح لگا تھا ۔
میں کیسے نظریں ملاؤں گا اپنے بیٹے سے ،دونوں ہاتھوں سے سر کو تھامے ہوئے سوچ کر بھی پشیمان ہورہے تھے ۔
بھائی ،جاؤں یہاں سے ،صائمہ بیگم کو آج پھر اپنا بھائی دور ہوتا لگ رہا تھا ۔۔
آنسو صاف کرتی ہوئی وہ وہاں سے چلی گئیں تھیں ۔
کمرے میں مسلسل روتی ہوئی چکر کاٹتی ہوئی وہ تھک کر بیٹھی تھی ۔
ارتضی کو کمرے میں آتے دیکھ وہ فورا سے اسے کے پاس آئی تھی ۔
کیا ہوا ماہین آپ اب تک سوئی نہیں، واسکٹ اتار کر بیڈ پر رکھتا ہوا وہ نارمل اندازہ بول رہا تھا جیسے اس کی اور دلاور شاہ کے بیچ عام سی بات ہوئی ہو۔
کب دے رہے ہیں آپ مجھے طلاق ،ماہین کے بولنے پر ارتضی شاکڈ ہوا تھا۔
کیا کہہ رہی ہیں آپ کو اندازہ بھی ہے ۔ماہین کے کندھے پر ہاتھ رکھتا ہوا نرم لہجے میں بول رہا تھا ۔
آپ وعدہ کرسکتے ہیں تو کیا میں آپ کو پورا کرنے نہیں دے سکتی ارتضی کے ہاتھ جھٹکتی ہوئی وہ دور ہوئی تھی ۔
دیں طلاق مجھے آپ ،سرخ متورم آنکھیں لیے وہ بھرائی آواز غرلائی تھی ۔
میں آپ کو طلاق نہیں دے سکتا ،
اب مزید جھوٹ مت بولیں، ارتضی کی بات اب اسے اعتبار کہاں آنا تھا۔
ماہین پلیز یقین کریں میرا وہ صرف بابا کو ہمارے نکاح کی رضامندی کے لیے دیا تھا ۔
مجھے ذرا علم نہیں تھا کہ بابا مجھ سے ایسا وعدہ لیں گے ۔بے بسی سے کہتا ہوا وہ ماہین کے قریب آیا تھا۔
مجھے کچھ نہیں سننا بس اب آپ اپنا وعدہ پورا کریں ۔
کسے خبر تھی کہ پتھر و بے حس انسان کے نام سے مشہور ارتضی شاہ ایک عام سی لڑکی کی محبت میں گرفتار ہو کر اتنا بے بس ہوجائے گا کہ وہ خود کی ہی ذات کو فراموش کر دے گا ۔۔،
کسی سے بھی نا ہارنے والا ارتضی شاہ آج تمہارے ساتھ کی گئی محبت سے شکست کھا گیا ہے ۔
خود پر سے ضبط کھوتے ہوئے محسوس کرتا ہوا وہ کچھ منٹوں کے لیے ماہین کو سننے کے لیے رکا تھا۔
میں اب یہاں نہیں رہوں گی۔حتمی فیصلہ سنا گئی تھی ۔
سیدھے لفظوں میں کہہ دو نا کہ ارتضی شاہ مر جاؤں تم۔۔،
خدا کی قسم ایک سیکنڈ بھی ضائع کیے بغیر میں مرنے کے لیے تیار ہوجاؤں گا ۔ماہین کی جان نکال لینے والی خاموشی سے خود کے ہاتھ پیروں سے جان نکلتی محسوس ہوئی تھی ۔
بے بسی کی حد کو چھوتا ہوا وہ پہلی بار کسی کے سامنے اپنے اندر کا حال کھول کر کھول کر رکھتا ہوا ،
اپنے چہرے پر لگائے ہوئے مغرور شاہ کا نقاب اتار کر
ماہین کے آگے وہ اپنی محبت کی بھیک مانگ رہا تھا ۔۔
ارتضی کی تکلیف کو محسوس کرتی ہوئی وہ کچھ منٹوں کے لیے اپنے کیے فیصلے سے ڈگمگائی تھی فقط کچھ منٹوں کے لیے ۔۔۔۔۔
واپس سے خود کو مضبوط کرتی ہوئی وہ ارتضی کی طرف پیٹھ کیے کھڑی ہوئی تھی ۔۔۔۔۔
ماہین ۔۔۔۔۔،میں اپنی دیے وعدے سے بندھ گیا تھا ۔۔پر میں پورا نہیں کیا ۔
پلیز آپ اپنے فیصلے سے پیچھے ہٹ جاؤ ۔۔۔گھٹنوں کے بل بیٹھتا وہ اپنے کیے وعدے پر پچھتایا تھا ۔
آپ مرد ہمیں سمجھتے کیا ہیں ۔کٹھ پتلی ہیں ہم جو آپ لوگوں کے ایک اشارے پر اپنی پوری زندگی گزار دیں ۔
آپ کی دی گئی زبان ،کی اہمیت رکھتی ہے ۔۔۔،آپ کا دیا گیا وعدے بہت اہمیت کا حامل ہوتے ہیں ۔۔۔ارتضی کا نکاح سے پہلے ہی طلاق دینے کا وعدہ اسے اندر سے توڑ گیا تھا۔
مگر ہمارا کیا ۔ارتضی شاہ اس کی ٹوٹتی ہوئی خاموشی پر کچھ پل کےلیے پرسکون ہوا تھا مگر ماہین کی سرخ ہوتی ہوئی سوال کرتی سنہری آنکھیں ارتضی شاہ اپنے چہرے پر مرکوز ہوتے دیکھ اپنی بے قابو ہوتی دھڑکنوں سے گبھرایا تھا۔
ارتضی کے ساکت چہرے کو دیکھ کر سوال کرتی ہوئی وہ خود کو رونے سے باز رکھنے کی سعی کررہی تھی ۔
ماہین ،نہیں رہ سکتا میں آپ کے بغیر مر جاؤں گا ۔۔۔۔ماہین کے دونوں کندھوں پر ہاتھ رکھتا ہوا اپنی محبت کا یقین دلاتا ہوا بے بس ہوا تھا ۔
سب کہنے کی باتیں ہوتی ہیں ، کوئی کسی کے لیے نہیں مرتا ۔۔۔۔۔ارتضی کے دونوں ہاتھوں کو جھٹکتی ہوئی اس سے دور ہوئی تھی ۔
اس زبردستی کے رشتے میں بندھ کر مجھے نہیں رہنا آپ کے ساتھ ۔آج پھر وہ ارتضی شاہ کو چھوڑ کر جارہی کبھی نا واپس آنے کے لیے ۔
اپنے دل کے ہاتھوں مجبور ہوتی ماہین شاہ مڑ کر ارتضی شاہ کے بکھرے ہوئے وجود کو کرب سے دیکھتی ہوئی آنکھیں میچ گئی تھی ۔
تو جانے لگا ہے تو پلٹ کر مت دیکھ ۔۔۔۔،
موت لکھ کر تو قلم توڑ دیئے جاتے ہیں ۔۔۔۔۔۔،،
ارتضی کے لفظوں کو سنتی وہ وہاں سے خود کو ارتضی کی محبت کی گرفت سے آزاد کرواتی ہوئی نکلی تھی۔
بھرائی آواز میں کہتاہوا ارتضی شاہ آج اپنی جگہ اسے سنگ دل بنے دیکھ کچھ عرصے پہلے اپنے وعدہ کی وجہ سے ہوئی ماہین کی کیفیت کووہ محسوس نہیں کرسکتا تھا۔۔۔
ماہین کو گئے ہوئے آج دوسرا دن تھا ،شاہ حویلی میں کسی کو بھی خبر نا تھی ماہین کے اچانک سے بخاری ولا جانے کی اور نا ہی کسی کو ارتضی سے پوچھنے کا موقع ملا تھا۔
کیونکہ وہ ان دو دنوں میں زیادہ تر ہسپتال میں بری رہا تھا۔
اب بھی ایسا ہی ہوا تھا ہسپتال سے واپس آکر وہ سیدھا اپنے کمرے میں بند ہوگیا تھا ۔
گھپ اندھیرے کمرے کے بیچوں بیچ ترتیب سے رکھے جہازی بیڈ پر نیم دراز لیٹا ہوا کمرے میں ماہین کی موجودگی نا پاکر افسردہ ہوا تھا ۔
جب اچانک بجتے اپنے سیل فون کی طرف متوجہ ہوتا وہ ابھی خوش ہوا ہی تھا ماہین کی کال سمجھ کر مگر اگلے ہی پل حیدی کالنگ فون اسکرین پر جگمگاتے دیکھ بے دلی سے فون اٹینڈ کرگیا تھا۔
بولو حیدی کیا کام تھا۔۔۔۔۔۔
ہمیشہ کی طرح آج بھی اس نے حیدر کی کال اٹینڈ کرتے ہی سنجیدگی سے پوچھ رہا تھا۔
ضروری تھوڑی ہے حیدر شاہ ہر بار ارتضی شاہ کو مطلب کے لیے فون کرے ۔۔۔عام سا ٹھہرا ہوا لہجہ ارتضی اور اس میں دن رات کا فرق تھا ۔
ارتضی سورج کی مانند گرم لہجے تپیش اور روب لیے وہیں حیدر چاند کی مانند ٹھنڈا خوش مزاج ۔۔۔
آپ اگر فری ہوں تو تھوڑی دیر مجھ سے بات کرلیں ۔بڑے دنوں بعد حیا کی موجودگی کے باعث حیدر شاہ کے لبوں پر مسکراہٹ کی ہلکی سی رینگی تھی ۔
اس کی یاد مجھے تنہاہ کہاں رہنے دیتی ہے حیدی ۔۔
بس کسی سائے کی طرح ہر وقت میرے اردگرد مڈلاتی رہتی ہے ۔۔افسردگی سے کہتا وہ سائیڈ ٹیبل پر رکھے لیمپ کو آن کرتا سیدھا ہو بیٹھا تھا ۔
آپ ہمت نا ہاریں بہت جلد آجائے گئیں گی بھابھی واپس ۔
یہ فقط حیدر شاہ جانتا تھا کہ کس کرب کو جھیل کر بھابھی لفظ اس نے ادا کیا تھا۔
پتا ہے حیدی جب بھی کوئی شخص مرتا ہے نا اس کے پیچھے بھی یا تو بیماری ہوتی ہے یا اچانک حادثے ۔
کیونکہ دنیا سے جانے والوں کے پاس کوئی نا کوئی بہانا ہوتا ہے یہ دنیا چھوڑ کر جانے کا ۔۔۔۔
“مگر ارتضی شاہ کو ماہین شاہ کی بے رخی اور جدائی بن آئی موت مار دے گی ۔۔،”
نم لہجے میں بولتا ہوا ارتضی شاہ پہلی بار خود کو بے بس محسوس کررہا تھا ۔۔۔۔
یہ وقت بتائے گا کہ زندگی کس کے ساتھ وفا کرتی ہے اور کس کے ساتھ بے وفائی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
کچھ فیصلے صرف وقت کرتا ہے جس سے ہم سب انجان ہوتے ہیں، ویسے ہی ارتضی اور حیدر دونوں انجان تھے آنے والے طوفان سے ۔۔۔
ایسا نہیں کہتے بھائی ۔۔۔۔۔۔۔
زندگی سے اچھی توقع رکھنی چاہیے کیونکہ زندگی بہت خوبصورت ہے اگر ہم اسے خوبصورت نظریے سے دیکھیں تو ۔۔
ارتضی شاہ کی تکلیف اس سے بڑی تو نا تھی مگر درد ناک ضرور تھی ۔
کسی سے یک طرفہ محبت کرنا اور اسے نا پانے سے کئی زیادہ کسی کو حاصل کر کے بھی لاحاصل رہنا بڑا درد ناک سفر ہوتا ہے ۔
جاری ہے ۔۔۔۔
