Hasil E Zeest By Mehwish Ghafoor Readelle50217 Episode 25 Part 1
No Download Link
Rate this Novel
Episode 25 Part 1
غلام رسول ۔آج کے دن ہی تین سرجری کرکے وہ شہر سے واپس منت ہسپتال گیا تھا ۔
جہاں پر اپنے ریگولر پیشنٹس کے ساتھ وقت گزارنے کے بعد ارتضی حویلی واپس آیا تھا ۔
مگر آتے ہی اپنے کمرے میں رحیم کو دیکھ کر ٹھٹھکا تھا۔
معذرت سائین سرکار! پتا نہیں یہ کیسے آپ کے کمرے میں آگیا ، ۔ارتضی کے بیڈ پر آرام سے سوئے ہوئے رحیم کو دیکھ کر غلام رسول کو اپنی شمات آتی دیکھائی دی تھی ۔
رحیم جو کھیل کھیلتا ہوا ارتضی کے کمرے چھپنے کی غرض سے آیا تھا ۔
سب کا انتظار کرتے ہوئے اس کی وہیں آنکھ لگ گئی تھی ۔
میں ابھی اسے یہاں سے لے جاتا ہوں اور شمیم سے کہہ کر بیڈ کی چادر بھی تبدیل کروا دیتا ہوں۔سر جھکائے وہ جلدی سے بیڈ پر سوئے اپنے بیٹے رحیمکی سمت بڑھا تھا۔
رہنے دو ۔
جی سرکار سائین ۔ارتضی کی سرگوشی وہ سن نہیں سکا تھا۔
میں نے کہا ہے سونے دو اسے یہاں پر آج ۔بچوں کی نیند خراب نہیں کرنی چاہیے ۔بچوں کے ساتھ اپنے بیر کو سائیڈ رکھتا ہوا وہ فکر سے بولا تھا ۔
مگر آگے سے دھیان رکھنا ،بیزاریت سے کہتا ہوا وہ کہہ کر ڈریسنگ روم کی سمت بڑھا تھا ۔
تم گئے نہیں ۔
تھوڑی دیر بعد شاورلے کر باہر آتا ہوا ارتضی دروازے کے پاس کھڑے غلام رسول کو دیکھ کر حیرت کا شکار ہوا تھا ۔
جارہا ہوں ۔شب بخیر ۔۔دروازہ بند کرکے جاتے ہوئے غلام رسول کو دیکھ ارتضی اپنی بیڈ پر سوئے ہوئے رحیم کو دیکھ کر اس کے قریب آکر لیٹا تھا ۔
رحیم کو نا بھیجنے کی سب سے بڑی وجہ ماہین کی کمی تھی جو اسے پریشان کیے رکھتی تھی ۔
آج رحیم کو اس طرح پرسکون سوتے دیکھ کر ارتضی کو رشک ہوا تھا ۔
کتنا عرصہ ہوگیا تھا اسے پرسکون سوئے ہوئے ،
رحیم کو کنفرٹ اوڑھاتے ہوئے وہ ونڈو کے پاس آکھڑا ہوا تھا، جہاں چاند اپنی پوری تاب کے ساتھ رات کے سیاہ اندھیرے کو اپنی چاندی سے مٹائے ہوئے تھا۔
حیدر ارتضی بھائی کیوں نہیں گئے ماہین آپی کو لینے ،لیپ ٹاپ پر کچھ ٹائپ کرتے حیدر کے ہاتھ رکے تھے۔
آج بخاری ولا ماہین کو لینے کے لیے اپنی کی گئی غلطی کو سدھارنے کے لیے دلاور شاہ خود گئے تھے شاہدہ بیگم کے ساتھ ۔
سرجری میں بزی ہونگے وہ اس لیے ۔ارتضی اور ماہین کی ناراضگی کے بارے میں سب جاننے لے بعد بھی حیدر با آسانی حیا سے حقیقت چھپا گیا تھا۔
حیدر کو سنجیدگی سے کام کرتے دیکھ حیا کو شرارت سوجھی تھی ۔۔
میں نے تو آج غور کیا ہے کی تمہاری آنکھیں مینڈک جیسی دیکھتی ہیں ۔کاؤچ پر حیدر کے ساتھ بیٹھی ہوئی وہ حیدر کی ٹکی نظروں سے وہ کنفیوز ہوتی ہوئی وہ خود کو کمپوز کرگئی تھی ۔
تمہیں نہیں لگتا حیا کے تم کچھ زیادہ ہی میری شکل پر کمنٹ پاس کرنے لگ گئی ہو ۔جتاتے ہوئے انداز میں کہتا ہوا وہ حیا کو گھور رہا تھا ۔
اچھا ایسا ہے پر مجھے لگا کہ میں تمہیں آج کل کم تنگ کرنے لگی ہوں ۔حیدر کی ستوان ناک کھینچتی ہوئی وہ محبت سے لبریز لہجے میں بولتی ہوئی مسکرائی تھی ۔
چلو کوئی بات نہیں اب میں تمہیں کم تنگ کروں گی ۔حیدر کے کندھے پر سر ٹکاتی ہوئی شرارت سے مسکرائی تھی ۔
مطلب تم باز نہیں آؤ گی اپنی حرکتوں سے ۔حیا کے مسکراتے چہرے کو دیکھ وہ چاہ کر بھی سنجیدہ نہیں ہوسکا تھا۔
ہر گز نہیں میری سڑی ہوئی ککڑی ۔آنکھیں بند کیے وہ حیدر کو مسکرانے پر مجبور کر گئی تھی ۔
حیا ۔۔۔۔۔۔مضنوئی ناراضگی سے پکارتے ہوئے وہ حیا کے سر پر اپنی تھوڑی ٹکا گیا تھا۔
جواب میں فقط کھلکھلائی تھی ۔
ماہین بیٹا تمہاری ارتضی سے بات ہوئی کب آرہا ہے وہ تمہیں لینے ،کھانا کھاتی ہوئی ماہین کے تھمے تھے شاکرہ بیگم کے پوچھنے پر ۔
جی تائی امی میں نے ہی انہیں منع کیا ہے آنے کے لئے حیا کے بعد گھر بلکل خالی ہوگیا ہے نا اس لیے تھوڑے دن اور یہاں پر رہنے کا سوچا ہے میں نے ارتضی سے اجازت لے لی ہے میں نے ۔نکاح سے پہلے کیے گئے ارتضی کے وعدے کو وہ چاہ کربھی بھول نہیں پا رہی تھی ۔
شادی شدہ بیٹیاں اپنے میکے میں نہیں سسرال میں اچھی لگتی ہیں ۔اور ویسے بھی ایک نا ایک دن یہ سب ہونا ہی تھا ۔شاکرہ بیگم کی بات پر سر جھکا گئی تھی انہیں اب کیا بتاتی وہ خوف سے یہاں پر آئی تھی نا کہ ارتضی کی اجازت لے کر ۔
جی تائی امی ۔آنسو ضبط کرتی ہوئی وہ وہاں سے اٹھ کر اپنے روم کی سمت بڑھی تھی ۔
مجھے سب ٹھیک کیوں نہیں لگ رہا ماہین تمہارے اور ارتضی کے درمیان ،اپنے دل میں چلتے خدشات کے باعث انہوں نے ماہین سے پوچھا تھا ۔
مجھے زلیل و خوار کروا کر خود کہاں سکون سے بیٹھ گئے ہو،
میں اپنے فیصلے پر پچھتا رہی ہوں کاش میں تمہارے ساتھ ہاتھ نا ملاتی کم از کم اپنی نظروں میں تو نا گرتی ،ایک مہینے سے مسلسل اسے فون کرتی ہوئی نوری آج مقابل کے کال اٹینڈ کرنے پر برس پڑی تھی ۔
میں نے سوچ لیا ہے اب میں مزید ارتضی شاہ کے سامنے اپنی محبت کی بھیک نہیں مانگو گی ،اور نا ہی تمہارا ساتھ دوں گی ۔نوری کی بات پر مقابل کے چہرے پر حددجہ سنجیدگی چھائی تھی ۔
آواز نیچی رکھو میرے سامنے ہوگی تم دنیا کے لیے ماڈل پریہا نور پر میرے لیے آج بھی تم وہی شاہ حویلی کی ملازمہ نوری ہی ہو ،نوری کی آواز آواز پر چوٹ کرتا ہوا وہ گلاس ونڈو کے پاس آکھڑا ہوا تھا ۔
تم پچھتانے کی بات کر رہی ہو ارے پچھتا تو میں رہا ہوں تمہارے ساتھ ہاتھ ملانے پر ،
تمہارے لیے میں کیا کیا نہیں کیا ،اپنی چند اداؤں سے بھی ارتضی شاہ کو رحجا نا کسی تم ،
اسے عورتیں تو اپنی چند اداؤں سے مردوں کو زیر کردیتی ہیں اور تم وہ بھی نا کرسکی بات کرتی ہو پچھتانے کی ،تمخسرانہ انداز میں کہتا ہوا وہ غروب ہوتے سورج کو دیکھ کر کچھ توقف کے لیے خاموش ہوا تھا ۔
اور آج جو شوبز کی دنیا میں تمہارا اتنا نام ہے جس کے بل پر اتنا کود رہی ہو ، بھولو مت یہ سب میری بدولت ہے ورنہ تم جیسی لڑکیوں کو کون پوچھتا ہے ،اگر میںسفارش نا کرواتا تو آج بھی وہی نوکرانی ہی رہتی تم پھر چھوٹی سی جھونپڑی میں دیکھتی رہتی سائین سرکار کے ساتھ کے خواب ،طنز کرتا ہوا وہ نوری کے زبان پر قفل لگا گیا تھا ۔
اب کہاں گئے زبان کے جوہر تمہارے ۔ونڈو پر مخملی پردے کھینچتے ہوئے وہ ہوٹل روم میں رکھے کاؤچ پر براجمان ہوا تھا ۔
میں بس اتنا ہی جانتی ہوں کہ مجھے مزید اب تمہارا ساتھ نہیں دینا ،آنسو صاف کرتی ہوئی مضبوط لہجے میں بولی تھی ۔
ارتضی کے ساتھ کی گئی آخری کنروسیچش پر وہ ارتضی کے ساتھ کا اپنا ارادہ بدل گئی تھی ۔
سوچ لو پھر ریحان کے ہاتھوں کی کٹ پتلی بن رہ کر جاؤ گی ۔اس شخص نے نوری کو ڈرانا چاہا تھا ۔
مجھے فرق نہیں پڑتا کم از کم ملک صاحب تمہاری طرح گھٹیا نہیں ہیں جو کرتے ہیں سامنے کرتے ہیں تمہاری طرح پیٹھ پیچھے وار نہیں کرتے ۔پہلی بار وہ ریحان کے حق میں بول رہی تھی مقابل اس کے اس طرح بدل جانے پر پریشان ہوا تھا ۔
سوچ لو تمہارے پاس وہ بہت اچھا موقع ہے ،
کیسا موقع ۔لفظوں کا آخری جال بنتا ہوا وہ نوری کا شکار کرنے میں کامیاب ہوگیا تھا ۔
سنا ہے ماہین صاحبہ تمہارے سائیں سرکار کو چھوڑ کر اپنے گھر جا چکی ہیں، شاہ حویلی کی سن گن سن کر اسے خوشی تو بہت ہوئی تھی ،
اس سب مجھے کیا فائدہ ہونے لگا،نا سمجھی میں پوچھتی ہوئی وہ مقابل کے قہقہ لگانے پر فون کان سے ہٹا کر اس کی ذہنی حالت پر شک گزرا تھا ۔
مطلب یہ کہ تمہارے سائین سرکار کے برے دن ہیں اور غلط ماہین بھ،،،
مطلب ماہین صاحبہ کی غلط فہمی عروج پر ہے ،
میرے خیال سے یہ بہت اچھا وقت ہے ماہین کا برین واش کرنے کا ۔پر سوچ انداز میں کہتا ہوا اپنے لیپ ٹاپ پر ارتضی اور ماہین کی ساتھ کی فوٹوز دیکھ کر تلخ مسکرایا تھا ۔
مین سمجھ نہیں پا رہی تم کہنا کیا چاہ رہے ہو ۔وہ اب بھی انجان تھی مقابل کے شاطر دماغ سے ۔
مطلب لوہا گرم ہے تم وار کرو اور اپنی قسمت آزما لو ،ماہین کو اتنا بد گمان کردو ارتضی سے کہ پلٹ کر کبھی بھی اسے نا دیکھے، دونوں ہمیشہ ہمیشہ کے لیے الگ کردو اور ماہین کی جگہ تم لے لو ،
نوری کی خاموشی پر وہ مزید بول گیا تھا ۔
قسمت ایسے موقعے بار بار نہیں دیتی ۔مقابل نوری کو سوچنے پر مجبور کرگیا تھا ۔
آخری بار میں تمہارا ساتھ دوں گی ۔
اور وہیں ہوا مقابل کی منشا کے مطابق نوری ہامی بھر گئی تھی اپنی قسمت کو آخری بار آزمانے کے لیے ۔
یہ آخری بار تمہاری زندگی بدل دے گی ،کہہ کر وہ کال ڈیسکنیٹ کرگیا تھا۔
مجبور کردیا مجھے ارتضی شاہ تم نے ،
جب میری محبت مجھے نہیں مل سکتی تو میں تمہیں تمہاری محبت سے دور کردوں گا ۔
فون اسکرین پر اپنی دشمن جاں کی فوٹو دیکھتا ہوا وہ کرب سے آنکھیں میچ گیا تھا ۔
ہم اپنی بہو کو لینے آئے ہیں ۔خوشگوار ماحول میں کھانا کھانے کے بعد سب لاونچ میں آبیٹھے تھے۔
شاہدہ بیگم کے ساتھ بیٹھی ہوئی رائمہ ماہین کے پاس بیٹھتی ہوئی اسے دیکھ کر مسکرا رہی تھی ۔
بھابھی آپ کی طبعیت تو ٹھیک ہے نا ،ماہین کی آنکھوں کے گرد حلقے اور مرجھائے ہوئے چہرے کو دیکھ کر وہ فکرمندانہ میں استفسار کرگئی تھی ۔
ہاں ٹھیک ہوں ، کچھ دنوں سے ماہین کی طبعیت میں عجیب و غریب بدلاؤ آیا ہوا تھا۔ جس سے انجان وہ ارتضی کی عادت کا نام دیئے ہوئے تھی ۔
نہیں بھابھی مجھے تو آپ ٹھیک نہیں لگ رہی ہیں۔میں نے دیکھا تھا کھانا بھی آپ نے ٹھیک سے نہیں کھایا تھا ۔رائمہ کی فکرمندانہ انداز پر وہ دل سے مسکرائی تھی ۔
ماہین ۔دلاور شاہ کے پکارنے پر لاونچ روم سے باہر جاتی ہوئی ماہین کے قدم تھمے تھے ۔
دلاور شاہ کے پکارنے پر وہ ان کے پاس آئی تھی ۔
میں آج ریاض تم سے معافی مانگنے بھی آیا ہوں، چھبیس سال سے میں تم سے بلاوجہ نفرت کرتا آیا ہوں ،
میں یہ سمجھتا آرہا تھا کہ تم نے میری اتنی قابل بہن کو ٹھکرایا ہے مگر میری اس غلط فہمی کی وجہ سے میں نفرت کی آگ میں جلتا ہوا میں اپنی زندگی کی سب سے بڑی غلطی کرنے والا تھا مگر ارتضی نے میری آنکھوں پر بندھی نفرت کی پٹی کھول دی ۔ریاض صاحب جو ناسمجھی میں انہیں دیکھ رہے تھے وہیں ماہین کے کانوں میں ارتضی کے آخری لفظ کانوں میں گونجے تھے ۔
کیا مطلب میں کچھ سمجھا نہیں ۔حمدان صاحب کو دیکھتے ہوئے وہ دلاور شاہ سے پوچھ رہے تھے۔
آج میں تمہارا شکریہ ادا کرنا چاہتا ہوں ،اگر تم چھبیس سال پہلے ہماری عزت کی خاطر نکاح سے انکار نا کرتے تو ہماری عزت خاک خاک میں مل جاتی ۔دونوں ہاتھ جوڑے وہ ریاض صاحب کے سامنے کھڑے ہوئے تھے ۔
جو مجھے اس وقت سہی لگا میں نے فقط وہ کیا تھا اب آپ ایسے ہاتھ جوڑ کر مجھے شرمندہ ناکریں ۔بلکہ گلے لگیں ۔دلاور شاہ کے ساتھ بغلگیر ہوتے وہ مسکرائے تھے ۔
ماہین بیٹا مجھے معاف کردو اور اپنے گھر چلو ،آپ معافی مت مانگیں پلیز۔دلاور شاہ کے اپنے سامنے جڑے ہاتھوں کو دیکھ وہ فورا سے بولی تھی ۔
ان سب میں میرے ارتضی کی کوئی غلطی نہیں تھی مگر سزا اسے مل رہی ہے آپ سے دوری کی ۔
میں اچھے سے جانتا ہوں ارتضی کبھی بھی آپ کو طلاق تو دور کبھی سوچ بھی نہیں سکتا ہے وہ ۔نم آنکھوں سے اپنی غلطی پر پشیمان ہورہی تھی ۔
میں سامان لے کر آتی ہوں ۔ماہین کے پیچھے ہی شاکرہ بیگم بھی گئی تھیں ۔
ماں نہیں سمجھا نا تم نے مجھے ،سامان پیک کرتی ہوئی ماہین کرب سے آنکھیں میچ گئی تھی ۔
ماں سمجھا تھا تو آپ کو پریشان نہیں کرنا چاہا ۔آنسوؤں سے بھری آنکھوں سے شاکرہ بیگم کو دیکھتی ہوئی وہ ان کا ہاتھ تھام کر بیڈ پر بیٹھا گئی تھی ۔
رہنے دو ،
سچ میں تائی امی ۔ان کی زانوں ہر سر رکھ کر آنکھیں موندے وہ رو دی تھی ۔
اب رونا بند کرو اور سب سچ سچ بتاؤ کیا ہوا تھا ۔شاکرہ بیگم کو ساری روداد گوش گزار کرتی ہوئی آخری میں پھر سے رو دی تھی ۔
ٹائی امی ارتضی نے مجھے کال تک نہیں کی ہے ۔اب بھی اسے ارتضی سے شکوہ تھا
غلطی تمہاری ہے ماہین آدھی ادھوری بات سن کر سب کچھ چھوڑ کر آگئی ،شرمندگی سے نظریں جھکائے وہ ہنوز شاکرہ بیگم کے پیروں میں بیٹھی ہوئی تھی ۔
میاں بیوی کے درمیان اعتبار کا ہونا بہت ضروری ہے، ماہین کو اپنے ساتھ بیٹھاتی ہوئیں وہ اسے سمجھا رہی تھیں ۔
اب میں ان پر خود سے زیادہ اعتبار کروں گی تائی امی ۔شاکرہ بیگم کے کندھے پر سر رکھے وہ ارتضی کی ناراضگی سے ڈر رہی تھی ۔
ایسا ہی کرنا ہے تم نے ،اب جلدی سے فریش ہوکر اچھے سے تیار ہوجاؤ ۔ماہین کی پیشانی پر بوسہ دے کر وہ وہاں سے گئی تھیں ۔
سوری ارتضی ہر بار میں کیوں آپ سے بدگمان ہوجاتی ہوں ،اپنی بیوقوفی پر ملال کرتی ہوئی باتھروم میں بند ہوئی تھی ۔
کچھ توقف بعد وہ شاہ حویلی آئی تھی ۔
مسلسل ایک گھنٹے کے انتظار کرنے کے بعد ارتضی کی گاڑی کی آواز پر ماہین کا انتظار ختم ہوا تھا۔
حویلی واپسی پر آج بھی ارتضی نے کھانا کھانے سے منع کیا تھا ۔
اور سیدھا اپنے کمرے کی سمت بڑھا گیا تھا جہاں صبری سے اس کے انتظار میں ماہین کی جان ہلکان ہوئی جارہی تھی ۔
نیم اندھیرے کمرے میں داخل ہوتے ارتضی نے لائٹس آن کرنا گورا نہیں سمجھا تھا ۔
کمرے میں ماہین کی محسور کن خوشبو ارتضی کو کمرے میں محسوس ہوئی تھی ۔
جسے نظر انداز کرتا ہوا وہ ڈریسنگ ٹیبل پر اپنی ریسٹ واچ رکھتا ہوا سر جھکائے اسے آج پھر ماہین کے ہونے کا الہام ہوا تھا ۔
سیل فون بیڈ پر پھینکنے کے انداز سے رکھتا ہوا وہ قدموں کی آہٹ پر اچانک سے پیچھے مڑا تھا ۔
سامنے کسی کو نا پاکر وہ اپنے دکھتے سر کو پکڑ کر وہ ڈریسنگ روم کی سمت بڑھا تھا ۔
انہیں پتا کیوں نہیں چل رہا اب تو ضرور ڈھونڈ لیں گے ۔بیڈ کی پیچھے چھپ کر بیٹھی ہوئی ماہین زچ ہوئی تھی ارتضی کی بے خبری پر ۔
مگر کچھ سوچ کر ماہین نے ضرور سے اپنے چوڑیوں کو کھنکھاتی ہوئی اپنی سمت متوجہ کرنے سعی کرگئی تھی ۔
چوڑیوں کی کھنکھاہٹ پر فورا سے ڈریسنگ روم سے باہر آتا ہوا وہ دیوانہ وار اپنی نظریں دوڑا رہا تھا ۔
مگر ماہین اسے نہیں نظر نہیں آرہی تھی ۔
میں ہی بے سکون نہیں تھی ڈاکٹر جلاد ۔ارتضی کے اس طرح خود کو ڈھونڈنے پر وہ مسکراتی ہوئی ارتضی کو خود کو ڈھونڈتے دیکھ اس کی خوشی کا کوئی ٹھکانہ ہی نہیں رہا تھا ۔
ماہین ۔ارتضی کی پکار پر اپنے منہ ہاتھ رکھتی ہوئی وہ اپنی چلتی سانسوں کو دبا گئی تھی ۔
کچھ دیر جواب کا انتظار کرنے کے ارتضی کو باتھروم میں جاتے دیکھ ماہین دبے پاؤں چلتی ہوئی ڈریسنگ روم میں آئی تھی ۔
دس منٹ کے انتظار کے بعد بالوں کو ٹاول سے خشک کرتا ہوئے ارتضی کو باہر آتے دیکھ ماہین نے پیچھے سے ارتضی کے گرد حصار باندھ دیا تھا ۔
ایم سوری ارتضی، ماہین کی موجودگی اور لمس کو سانس روکے محسوس کرتا ہوا وہ ساکت کھڑا تھا ۔
ایک عجیب سی خوشی محسوس ہوئی تھی اسے ماہین کی ہونے پر ۔
کس کے ساتھ آئیں ہیں آپ ،خود کو پرسکون کرتا ہوا وہ کچھ توقف بعد بول رہا تھا ۔
ماں سرکار اور بابا کے ساتھ ۔ارتضی کی پیٹھ سے سر ٹکائے آنکھیں بند کیے ہوئے وہ ارتضی کو خود سے ناراض نا سمجھ کر مسکرائی تھی ۔
تو یہاں میرے کمرے کیا کر رہی ہیں آپ ،جائیں بابا اور ماں سرکار کو کہہ کر اپنے لیے کوئی اور کمرے صاف کروا لیں ۔
کیونکہ آپ آئیں تو انہوں کے لیے ہیں ۔خود کو ماہین کے حصار سے آزاد کرواتا ہوا ضبط سے جبڑے بھینچے ہوئے تھا ۔ جو کرب وہ جھیل رہا تھا یہ اس سے بہتر کوئی نہیں جانتا تھا۔
میں صرف اور صرف آپ کے لیے آئی ہوں ۔لب دبائے وہ ارتضی کے لہجے سے ڈری تھی ۔
مذاق اچھا کرلیتی ہیں آپ ،تمخسرانہ انداز میں ہنستا ہوا وہ ماہین کو دیکھنے سے قاصر تھا ۔
کیونکہ وہ اسے دیکھ کر کمزور نہیں پڑنا چاہتا تھا ۔
ایم سوری ارتضی ایم رئیلی ویری سوری ۔ارتضی کی طرف سے کوئی جواب نا پاکر وہ پھر سے بھرائی آواز میں بولتی ہوئی واپس سے ارتضی کے گرد حصار باندھ گئی تھی ۔
سوری ۔۔سرد لہجے میں کہتا ہوا وہ اگلے ہی لمحے میں ماہین کی نازک گرفت سے خود کو رہا کرتا ہوا بنا ماہین کی طرف رخ کیے ماہین سے دو قدم پیچھے ہوا تھا ۔
ارتضی کو خود سے دور ہوتے دیکھ ماہین کے تھمے ہوئے آنسو ٹوٹ کر رخسار پر بہنا شروع ہوئے تھے ۔
میرے خیال سے اس لفظ کو سننے کی مجھے عادت ڈال لینی چاہیے اب ۔ماہین کی سمت رخ کرتا ہوا وہ حد درجہ سرد لہجہ لیے ہوئے تھا ۔
کیونکہ آپ کو تو ہر بار غلط فہمی ہوجاتی ہے اور بنا کچھ جانے بنا کچھ سنے آپ مجھے مجرم ٹھہرا کر گھر چھوڑ کر چلی جاتی ہیں،
چاہیے روکنے والا اپنی زندگی ہی کیوں نا ہار جائے آپ کو فرق کہاں پڑتا ہے ۔ارتضی کا ایک ہفتے سے کیا ضبط آج ٹوٹ گیا تھا ۔
میں وعدہ کرتی ہوں آپ سے ایسا نہیں ہوگا پھر سے ارتضی ۔ارتضی کے ہاتھ کو پکڑتی ہوئی نم لہجے میں بول رہی تھی ۔
ایسا ہی ہوگا کیونکہ ایسا ہی ہوتا آیا ہے ہمارے درمیان ماہین ،
بنا میرے بارے جانے آپ نے مجھ نفرت کا دعوا کیا ،اور عین شادی والے دن بھی آپ گھر سے بھاگ گئی تھیں،
اور اب لاسٹ ٹائم بھی تو یہ ہی کچھ کیا تھا آپ نے بنا پوری بات سنے آپ نے فیصلہ کیا اور مجھے چھوڑ کر چلی گئیں۔
آگے بھی ایسا ہی ہوگا کیونکہ آپ سب پر اعتبار کرسکتی ہیں ایک نہیں کر سکتی ہیں تو صرف ارتضی شاہ پر ۔کچھ توقف کے لیے کمرے میں فقط ماہین کی سسکیاں گونج رہی تھی ۔
آپ چاہیں تو جا سکتی ہیں اب میری طرف سے آپ پر کوئی پابندی عائد نہیں ہوگی ۔ماہین کے روانگی سے بہتے آنسوؤں سے نظریں چراتا ہوا وہ رخ موڑ گیا تھا ۔
ارتضی میں وعدہ کرتی ہوں میں آئیندہ کے بعد سے صرف اور صرف آپ پر اعتبار کروں گی ،جو آپ کہیے گے وہ بات مانو گی باقی کسی کی بھی بات پر یقین نہیں گی ۔ارتضی کے روبرو آتی ہوئی وہ ہچکیوں کے ساتھ رو رہی تھی ۔
میں وعدہ کرتی ہوں پر پلیز آپ میرے ساتھ ایسا بی ہیوو مت کریں مجھ سے برداشت نہیں ہورہا آپ کا ایسا رویہ ۔ارتضی کے سینے پر سر رکھتی ہوئی وہ تواتر روتی ہوئی ارتضی کی شرٹ بھیگو رہی تھی ۔
پھر سے ماہین کو خود کے ساتھ لگے دیکھ وہ اپنے لب آپس میں پیوست کر گیا تھا ۔
ماہین رونا بند کریں ،ماہین کے شانوں پر ہاتھ رکھ کر اسے خود سے دور کرنے کوشش کرتا ہوا ماہین کے گرفت میں مضبوطی دیکھ وہ حیران ہوا تھا ۔
سوری پلیز ارتضی لاسٹ ٹائم معاف کردیں ،سرخ نم آنکھیں لیے وہ ارتضی کے چہرے کو دیکھ کر امید بھری نظروں التجا کررہی تھی ۔
ماہین مجھے نیند آرہی ہے آپ کو بھی سو جانا چاہیے ۔بلآخر خود کو آزاد کرواتا ہوا وہ بیڈ پر دراز ہوا تھا ۔
نم آنکھیں لیے وہ ارتضی کو حیرانگی سے دیکھ رہی تھی ۔
مجھے بہت نیند آرہی ہے اگر آپ کو سونا ہے تو سو جائیں کیونکہ مجھے لائیٹ آف کرنی ہے ۔آنکھوں پر ہاتھ رکھے ہوئے وہ بنا ماہین کو دیکھے آج اسے اپنے سنگدل ہونے کا ثبوت دے گیا تھا ۔
مردہ قدموں سے خود کو گھیسٹتی ہوئی وہ ارتضی کے برابر میں آکر لیٹی تھی ۔
ماہین کو لیٹے ہوئے دیکھ وہ کمرے میں چلتا سائیڈ پمپ بھی آف کرگیا تھا ۔
کافی دیر ایک ہی سمت میں لیٹی ہوئی وہ ارتضی اور اپنے درمیان کے فاصلے کو مٹاتی ہوئی ارتضی کے سینے پر سر رکھ کر آنکھیں موند گئی تھی ۔
ماہین کے عمل پر وہ چاہ کر بھی اسے دور نا کرسکا تھا فقط خاموشی سے آنکھیں میچ گیا تھا ۔
کب آرہے ہو ،مما کالنگ دیکھ وہ اپنے بکھرے سامان کو جلدی جلدی پیک کررہا تھا ایک گھنٹے بعد اس کی پاکستان کی فلائٹ تھی جو وہ صائمہ انصاری سے چھپا رہا تھا سرپرائز دینے کی خاطر۔
بہت جلد مما ۔۔لب دبائے وہ شرارت سے گویا ہوا تھا ۔
وہاج کے جواب پر وہ اپنے ساتھ بیٹھے وہاب انصاری کو دیکھ کر نگاہ جھکا گئی تھیں ۔
تم سے ایک ضروری بات کرنی ہے وجی ۔۔بڑی ہمت باندھ کر انہوں نے کہا تھا ۔
جی مما کہیے ۔عام سے لہجے میں کہتا ہوا اپنا سامان باندھ رہا تھا ۔
وہ کچھ مہینے پہلے میں نے تمہیں ایک خوشخبری سنائی تھی ،انہوں نے تہمیت باندھی تھی ۔
جی ،بے ساختہ ہی اس کے لبوں پر مسکراہٹ رینگی تھی ۔
اس ہی کو لے کر ۔وہ بولتی ہوئی ٹھہر گئیں تھیں ۔
کیا مما صاف صاف کہیے کیا کہنا چاہ رہی ہیں آپ ،سامان پیک کرتے ہوئے وجہ کے ہاتھ تھمے تھے ۔
وہاج کو ڈر لگا تھا صائمہ انصاری کی باتوں سے ۔
تمہارا اور رائمہ کا رشتہ ختم ہوگیا ہے وہاج ۔صائمہ انصاری کی کہی بات سن کر اس کے لبوں کی مسکراہٹ سمٹی تھی ۔
کیا مطلب مما ۔شاکڈ ہوتا ہوا وہ فقط یہ ہی پوچھ سکا تھا ۔
کتنا خوش تھا وہ اپنے اور رائمہ کے رشتے فکس ہوجانے پر ،جلدی جلدی اپنے تمام کام نمٹا کر وہ بس جلد از جلد رائمہ سے ملنے کا خواہ تھا ۔
مگر اچانک سے یہ خبر سن کر اسے دھچکا لگا تھا ۔
مطلب اب تمہارا اور رائمہ کا رشتہ کبھی بھی نہیں جوڑ سکتا ۔ساری باتیں اسے گوشگزار کرتیں ہوئیں وہ آخر میں رو پڑی تھیں ۔
میں بعد میں بات کرتا ہوں آپ سے ۔فون ڈیسکنیٹ کرتا ہوا وہ بیڈ پر رکھے اپنے سارے سامان کو زمین بوس کرگیا تھا ۔
ارتضی شاہ ۔۔حلق کے بل چلاتا ہوا وہ اپنی پوری قوت سے چلایا تھا۔
بہت ہوگیا اب ،بہت بن گیا میں بزدل ،اب اور نہیں اب دیکھنا مسٹر ارتضی شاہ تمہاری زندگی میں کیسا طوفان لاتا ہے یہ وہاج انصاری ۔۔نفرت انگیز لہجے میں کہتا ہوا کچھ ماہ پہلے ہوئی اپنی اور نوری کی ملاقات کو سوچ کر اس کا نمبر ڈائل کرگیا تھا ۔
جب میں اور رائمہ ایک نہیں ہوسکتے تو تمہیں بھی کوئی حق نہیں ہے ماہین کے ساتھ ہنستی مسکراتی زندگی گزارنے کا ۔
ارے تم تو وہی شاہ حویلی کی ملازمہ ہو نا ،نوری کا بدلے ہوئے حلیے کے باوجود وہاج اسے پہنچان گیا تھا۔
شہر کے مشہور کیفے میں نوری کو دیکھ کر وہ حقیقت حیران ہوا تھا ۔
فورا سے اس کے پاس آتا ہوا وہ اس سے مخاطب ہوا تھا۔
اور یہ اس وقت ریحان کے ساتھ یہاں کیا کررہی ہو تم ۔حیرانگی سے نوری کو ریحان کے ساتھ دیکھ کر وہ اس سے پوچھ رہا تھا۔
اپنی غریبی مٹانے کی خاطر مجھ جیسی بے بس لڑکیوں کو ریحان ملک جیسے لوگوں کا سہارا درکار ہوتا ہے ۔سامنے سے کافی کا آرڈر کینسل کروانے کے لیے جاتے ہوئے ریحان کو دیکھ کر وہ افسردگی سے بولی تھی ۔
تمہیں کیا ضرورت پڑی اپنی غریبی مٹانے کی ،ناسمجھی میں نوری کو تو کبھی سامنے سے جاتے ریحان کو دیکھ رہا تھا۔
اپنے سے اونچے قد کے آسمان کو چھونے کی خواہش مجھے یہاں تک لے آئی ،افسردگی سے کہتی ہوئی وہ وہاں کے چہرے پر ناسمجھی کے تاثرات دیکھ کر پھیکا سا مسکرائی تھی ۔
سائین ارتضی سرکار سے محبت کرنے کی سزا ملک صاحب کے روپ میں جھیل رہی ہوں ۔وہاج شاکڈ ہوا تھا سن کر ۔
کیا مطلب۔
ایک ایک بات بتاتی ہوئی وہ آخر میں خود اپنی بے بسی پر کرلائی تھی ۔
ارتضی بھائی نے تمہیں آدھی رات کو بے عزت کرکے نکالا تھا ،نوری اپنی کہی تمام باتیں با آسانی اس سے چھپا گئی تھی اور ارتضی کی کہی ہر بات کے ساتھ اپنے لفظوں کا اضافہ کرتی ہوئی رو رہی تھی ۔
ہاں ۔۔
مجھے محبت کا درس دینے والے خود اتنے گرے ہوئے ہیں ۔ مجھے اور رائمہ کو دور کرنے کی سزا آپ کو نوری کے روپ میں ملے گی ارتضی شاہ ۔دل میں سوچتا ہوا وہ نوری کے بھیگے رخسار کو دیکھ رہا تھا ۔
میں تمہاری مدد کرو گا ارتضی شاہ کو تباہ و برباد کرنے میں
یہ رہا میرا نمبر تمہیں جس چیز کی ضرورت پڑے تم مجھے کال کرسکتی ہو۔ریحان کو آتے دیکھ وہ فورا سے وہاں سے گیا تھا ۔
جبکہ نوری اپنے ہاتھ میں وہاج کا نمبر چھپا گئی تھی ۔
نوری اور وہاج کے بڑھتے رابطے کو بریک دلاور شاہ کے اچانک سے رائمہ اور وہاج کے رشتے نے لگائی تھی ۔
ارتضی سے بدلہ لینے کا وہ ارداہ ترک کرگیا تھا ،
مگر صائمہ انصاری کی کال نے اسے دوبارہ سے اس کے اندر جلتی بدلے کی آگ کو بھڑکا دیا تھا۔
ماں سرکار آج شام کو حیدر اور حیا سے ملنے کی خاطر ہسپتال کا استاد آرہا ہے اور اس لیے مین آج چھوٹی سی شاعری کی محفل رکھوانے کا ارادہ کیا ہے آپ سب تیاریاں اپنی نگرانی مین کروا لیجئے گا ۔
بریک فاسٹ کرتا ہوا وہ اپنے برابر مین بیٹھی ماہین اور سامنے بیٹھے دلاور شاہ کو یکسر اگنور کیے ہوئے تھا ۔
واووو، حیا کی چیخ پر حیدر اس کے ہاتھ پر دباؤ دے کر اسے چپ کروا گیا تھا ۔
جو رائمہ کی نظروں سے مخفی نا رہ سکا تھا ۔
اوکے خدا حافظ ۔ارتضی کو اٹھتے دیکھ ماہین بھی اپنی جگہ سے اٹھی تھی ۔
آپ آرام سے ناشتہ کیجئے ماہین ،کل رات سے اس نے اسے اب مخاطب کیا تھا ۔
ارتضی کے سب کے سامنے ایسے منع کرنے پر وہ اپنا افسردہ سا منہ لیے کھانے پر جھکا تھی
رات کے آٹھ بجے محفل کا آغاز کیا گیا تھا جس میں ارتضی کے دوست سمت منت ہسپتال کا لگ بھگ پورا اسٹاف مدعو تھا۔
وہ راستے ترک کرتا ہوں وہ منزل چھوڑ دیتا ہوں،
جہاں عزت نہیں ملتی وہ محفل چھوڑ دیتا ہوں ۔۔۔،
شاہ حویلی میں لگی گئی شاعری کی محفل میں آج ارتضی شاہ نے خود پہل کی تھی ۔
اپنے جذباتوں کو شاعری میں بیان کرتا ہوا وہ فقط اپنی دشمن جاں کی خاطر عرض کررہا تھا ۔
سب کی موجودگی میں بھی ارتضی شاہ چاہ کر بھی اس پر سے نظر نہیں ہٹا پارہا تھا۔
ماہین کے جھکے سر کو دیکھتا ہوا وہ ٹھہر ٹھہر کر کہتا ہوا افسردہ چہرے پر مسکراہٹ سجائے ہوئے تھا۔
کناروں سے اگر میری خودی کو ٹھیس پہنچےتو ،
بھنور میں ڈوب جاتا ہوں وہ ساحل چھوڑ دیتا ہوں ۔۔،
ارتضی کے لفظوں میں چھپی اس کی کیفیت پر وہ درد سے آنکھیں میچ گئی تھی ۔
مجھے مانگے ہوئے سائے ہمیشہ دھوپ لگتے ہیں،
مین سورج کے گلے پڑتا ہوں بادل چھوڑ دیتا ہوں ۔۔۔،
ضبط سے کہتا ہوا وہ اسے بہت کچھ باور کروا گیا تھا ۔
اپنی اپنی نشستوں پر براجمان شاہ حویلی کے مکین اور اسٹاف سے لے کر سنگ مرمر کے فرش پر بچھائی گئی مخملی کارپیٹ پر بیٹھے ملازمین بھی اپنے سائیں سرکار کی خوبصورت انداز بیان پر داد دینے والے انداز میں مسکرا رہے تھے ۔
ارتضی اور ماہین کی کیفیت سے بے خبر سب ارتضی کو داد دے رہے تھے۔
تعلق یوں بھی نہیں رکھتا ۔۔۔۔۔، کبھی رکھا کبھی چھوڑا،
جسے میں چھوڑتا ہوں پھر مسلسل چھوڑ دیتا ہوں ۔۔۔۔۔،
آخری لائن دل پر پتھر رکھ کر بولتا ہوا ارتضی شاہ کرب سے آنکھیں میچ کر کھولتا ہوا جبرا مسکرا رہا تھا ۔
ایک زبان اور اپنے وعدوں کا پابند ارتضی شاہ پورے گاؤں میں اپنا نام کا تھا ۔
اس کی کہی بات اور اس کا فیصلہ پتھر پر کھینچی گئی لکیر کی مانند تھا ۔
واہ واہ کیا خوب کہا ہے ، کمال کردیا ارتضی بھائی آپ نے ۔
سمی کی تعریف مسکراتے ہوئے وصول کرتا ہوا ارتضی ماہین کے جھکے سر کو دیکھ کر وہ اس کی اپنے اوپر پڑی ایک نگاہ کا خواہ تھا ۔
جو دنیا جہان سے بے نیاز بیٹھی اپنے ہاتھوں کی الجھی ہوئی لکیروں میں نجانے کیا ڈھونڈنے میں مشغول تھی ۔
جب خود پر نظروں کی تپیش محسوس کرتی ہوئی بے ساختہ نگاہ اٹھا کر دیکھتی ہوئی وہ اپنے سامنے کھڑے ارتضی شاہ کی ضبط سے ہوئی سرخ آنکھوں کو دیکھ کر خوف سے نگاہ جھکا گئی تھی ۔
کہ کہیں ارتضی اپنی بات پوری نا کردے اور اسے چھوڑ دے ۔
جاری ہے ۔۔۔۔
