Blind Friends By Isra Rao NovelR50463 Blind Friends (Episode - 8)
No Download Link
Rate this Novel
Blind Friends (Episode - 8)
Blind Friends By Isra Rao
“بھائی غصہ ہیں مجھ سے”
منہا نے اداسی سے کہا
“تو کیوں ڈر رہی ہے۔۔۔تیرا تو کوئی قصور نہیں تھا”
نوریض نے پاس بیٹھی منہا کی جانب دیکھ کر کہا
تبھی سامنے سے منیب چلتا آرہا تھا۔۔۔۔
نوریض اور منہا اٹھ کھڑے ہوئے۔۔۔۔
“بھائی۔۔۔”
منہا اسے دیکھ پریشان ہوئی
“یہ کون ہے؟”
منیب نے نوریض کی جانب دیکھتے ہوئے پوچھا۔۔۔۔
“میں منہا کا فرینڈ ہوں۔۔۔۔نوریض “
اس نے ہاتھ بڑھایا۔۔۔۔
منیب نے خاموشی سے ہاتھ ملا لیا
“اس بار ہاتھ ملایا ہے۔۔۔۔اگلی بار اگر تم اور تمہارے دوست منہا کے آس پاس بھی دکھائی دیے تو ہاتھ توڑنے میں بھی ٹائم نہیں لگاؤں گا میں”
منیب نے سنجیدگی سے نوریض کو دھمکی دی اور آگے بڑھ گیا۔۔۔۔
“بھائی۔۔۔۔۔” منہا نے ایک نظر نوریض کو دیکھا جو خاموش کھڑا تھا۔۔۔۔
“قسم سے دھمکی دے کر گیا ہے”
نوریض نے منہ بنایا
“وہ غصے میں تھے ۔۔۔سوری یار”
منہا نے پاس بیٹھے نوریض کو دیکھتے معذرت کی
“پھر بھی یار ہم تیرے لیے لڑے تھے۔۔۔۔تیرے بھائی کو سمجھنا چاہیے تھا اس بات کو”
ابراہیم نے سنجیدگی سے کہا
“انہیں بات کا نہیں پتا نا۔۔۔۔پرنسپل نے شکایت کی اسی لیے۔۔۔۔بس سوری “
وہ پھر سے شرمندہ ہوئی
“چلو خیر ہے کوئی بات نہیں۔۔۔۔کچھ کھاتے ہیں”
آرب نے بات کو ختم کرنا چاہا
“ہاں آئسکریم منگوا لے۔۔۔۔”
کامی نے کہا۔۔۔
“اس بار اپنے اپنے پیسے نکالو۔۔۔سب”
آرب نے جھنجھلا کر کہا۔۔۔۔
“تو بھوکا مر لے۔۔۔۔یہ لے”
کامی نے پرس سے پیسے نکال اس کی جانب بڑھائے۔۔۔۔
“یہ بات۔۔۔۔شرم کرلے آرب۔۔۔دوستی میں پیسہ نہیں لانا چاہیے۔۔۔سیکھ کامی سے”
نوریض نے خوش دلی سے کہا
“اوہ۔۔۔۔اس نے صرف اپنے دیے ہیں۔۔۔۔”
آرب نے ہنس کر کامی کا دیا ہوا نوٹ ہوا میں لہرایا
نوریض کی مسکراہٹ غائب ہوئی۔۔۔۔
اس نے کامی کی جانب دیکھا۔۔۔
“ہاں تو اپنے اپنے خود بھرو۔۔۔۔”
کامی بھی ہنس کر کہنے لگا
“چل دے دے یار۔۔۔۔”
ابراہیم نے نوریض کو کہنی ماری
“تو دے میں پرس نہیں لایا”
نوریض نے ڈھٹائی سے کہا
“ابے کمینے۔۔۔ہر بار ایک ہی بہانہ کیوں بناتا ہے۔۔۔۔”
ابراہیم نے والٹ نکال اپنے اور نوریض کے پیسے آرب کی جانب بڑھائے۔۔۔۔
“آرب ایک میری بھی۔۔۔۔”
منہا نے پرس سے پیسے نکال آرب کی جانب بڑھائے۔۔۔۔
“رکھ لو میں لے آؤں گا”
آرب نے مسکرا کر کہا۔۔۔۔
اور اس کے جواب پر صرف منہا ہی مسکرائی۔۔۔۔
باقی تینوں کے منہ دیکھنے والے تھے۔۔۔۔
“یہ ایدہ کہاں رہ گئی؟”
آرب نے سب کو آئسکریم دیتے ہوئے پوچھا
“اسے سر شکور کے پاس گئی ہے۔۔۔پریکٹیکل لینے”
منہا بتایا۔۔۔۔
“یار میں نے پریکٹیکل لینا تھا سر کے پاس ہی ہے”
نوریض نے کہا
“وہ لے آئے گی میں نے بتایا تھا”
منہا نے آئسکریم کھاتے ہوئے تسلی دی۔۔۔
دور کھڑی ایدہ انہیں دیکھ رہی تھی۔۔۔۔
آرب نے سب کو آئسکریم دی۔۔۔۔
پھر خود بھی اپنی آئسکریم کھال کر کھانے لگا۔۔۔۔
“میرا فلیور۔۔۔۔چینج کیوں لائے” منہا نے اس کی آئسکریم کو دیکھتے ہوئے پوچھا
“تم یہ لے لو؟”
آرب نے ہنس کر اس کی جانب بڑھائی۔۔۔
منہا نے منہ کھول کر اس کی آئسکریم چکھی۔۔۔۔
“نہیں تھینک یو۔۔۔میری زیادہ اچھی ہے”
منہا نے مسکرا کر کہا۔۔۔۔
“ٹیسٹ کرواؤ”
آرب نے سرگوشی کی۔۔۔۔
“نو۔۔۔۔” منہا مسکرا دی۔۔۔
“میرے بنا ہی آئسکریم کھا رہے ہو تم سب؟”
وہ شکوہ کن نگاہوں سے پوچھنے لگی
سب جو آئسکریم کھانے میں مصروف تھے۔۔۔یک دم اسے دیکھنے لگے۔
“کب سے ویٹ کر رہے تیرا۔۔۔کہاں رہ گئی تھی؟”
ابراہیم نے پوچھا
“ویٹ کر رہے ہوتے تو آئسکریم نہیں ہوتی تم سب کے ہاتھوں میں”
وہ سنجیدہ تھی۔۔۔
“ارے نہیں یار۔۔۔تو تھی نہیں نا۔۔۔۔پگھل جاتی “
نوریض نے صفائی دی۔۔۔
مگر ایدہ کے تیور نہیں بدلے وہ جھٹ سے قریب آئی اور سب کے ہاتھوں سے آئسکریم باری باری ہاتھ مارتے گرا دی۔۔۔۔
“یہ کیا بدتمیزی ہے”
آئسکریم گرتے ہی ابراہیم غرایا
“جب میں نہیں کھاؤں گی تو تم سب کیسے کھا سکتے ہو؟”
وہ بھی اکڑ کر کہنے لگی
“میں تمہیں بھی لا دیتا۔۔۔۔۔مگر یہ سب”
آرب کا مڈ آف ہوا
“تم صرف منہا کو لا کر دو دوبارا”
وہ ایک بری نظر ان دونوں پر ڈالتی پلٹ گئی۔۔۔۔
ایدہ کو ایسا نہیں کرنا چاہیے تھا۔۔۔۔”
نوریض نے کہا
“یار وہ ایسی ضدی تو ہے ہی ۔۔۔تمہیں پتا تو ہے”
کامی نے اکتاہٹ بھرے لہجے میں کہا
“کچھ ہماری بھی غلطی ہے۔۔۔ہمیں ویٹ کرنا چاہیے تھا۔۔۔”
ابراہیم کو احساس ہوا
“تو میں اسے بھی لا کر دے دیتا نا”
آرب نے تلخی سے کہا
“اٹس اوکے آبی۔۔۔۔وہ غصے میں تھی۔۔۔۔”
منہا نے سمجھایا
“چل آجا اسے مناتے ہیں۔۔۔۔”
ابراہیم اٹھ کھڑا ہوا
“میں تو نہیں جارہا۔۔۔۔سیدھی بات ہے”
آرب نے منہ پھیرا
“غلطی ہماری بھی تھی آبی”
منہا نے نرمی سے کہا
“اس کی تھی تھی”
آرب نے فوراً کہا
“تو ہماری بھی تو تھی۔۔۔ہمیں اس کا ویٹ کرنا چاہیے تھا”
منہا نے کہا
“ارے چھوڑ دو یار خود ہی سیٹ ہوجائے گی”
کمیل نے اکتاہٹ بھرے لہجے میں کہا
“تو کیسا بھائی ہے۔۔۔۔؟”
نوریض نے ٹوکا
“تو بن جا اس کا بھائی”
کمیل نے جل کر کہا
“میں دوست ہی ٹھیک ہوں”
وہ ہنسا
“چلو نا یار۔۔۔۔اٹھ جا آبی۔۔۔۔”
ابراہیم نے اسے ہاتھ پکڑ کر اٹھایا
“کوئی بات نہیں۔۔۔۔”
منہا نے بھی زور دیا۔۔۔۔
وہ نا چاہتے ہوئے بھی ساتھ ہولیا۔۔۔
وہ سیڑھیوں پر بیٹھی تھی۔۔۔۔
غصہ تھا جو کم ہونے کا نام نہیں لے رہا تھا۔۔۔۔
اس کے سامنے بار بار وہی منظر لہرا رہا تھا۔۔۔۔
جب آرب منہا کو اپنے ہاتھوں سے آئسکریم کھلا رہا تھا۔۔۔۔
جانے کیا تھا جو اندر ہی اندر اسے تکلیف دے رہا تھا۔۔۔
وہ خود کمزور تھی اپنے احساسات کے آگے۔۔۔۔
تبھی کسی نے اس کے چہرے کے سامنے آئسکریم لہرائی۔۔۔۔
اس ہاتھ پر بینڈ بندھا ہوا تھا۔۔۔۔
جیسا اس کے ہاتھ میں بھی تھا۔۔۔۔
جس پر خوبصورتی سے بلائنڈ فرینڈز لکھا گیا تھا ۔۔۔۔
اس نے ایک نظر اٹھا کر اسے دیکھا۔۔۔۔
سامنے ابراہیم کھڑا تھا۔۔۔۔
“نہیں چاہیے”
اس نے تلخ لہجے میں کہا۔۔۔
“پھر مجھ سے لے لو؟”
نوریض نے ایک اور آئسکریم اس کی جانب بڑھائی
“نو۔۔۔۔۔”
اس نے اترا کر کہا
“مجھ سے تو لے لو گی؟”
منہا نے بھی اپنے ہاتھ میں پکڑی آئسکریم اس کے سامنے کی۔۔۔
ایدہ نے ایک نظر اسے دیکھا۔۔۔پھر بنا کوئی جواب دیے۔۔۔منہ پھیر لیا
“میں تو بھائی ہوں تیرا مجھ سے لے لے”
کمیل نے بھی اس کی جانب بڑھائی۔۔۔۔
“شٹ اپ۔۔۔۔”
ایدہ نے اکتا کر جواب دیا
آرب کے ہاتھ میں کوئی آئسکریم نہیں تھی۔۔۔۔
وہ خاموشی سے کھڑا تھا۔۔۔۔
چاروں کے بریسلیٹ بندھے ہاتھ سامنے تھے۔۔۔۔
بس آرب کا نہیں تھا۔۔۔۔
ایدہ نے سر اٹھا کر دیکھا۔۔۔۔وہ سینے پر ہاتھ باندھے کھڑا تھا
بنا کسی تاثر کے۔۔۔۔
“مان بھی جا اب۔۔۔۔”
منہا نے ٹوکا۔۔۔۔
“تم سب کیوں آئے ہو۔۔۔۔جاؤ آئسکریم کھاؤ۔۔۔۔”
وہ بے دلی سے کہنے لگی۔۔۔
“ایدہ غلطی صرف ہماری نہیں تھی۔۔۔تمہاری بھی تھی۔۔۔۔ہم تمہیں منانے آئے ہیں اور تم مان بھی نہیں رہی”
آرب کہے بنا نا رہ سکا
“تم نہیں۔۔۔صرف یہ لوگ منانے آئے ہیں”
اس نے سنجیدگی سے درستگی کی
“میں بھی منانے ہی آیا ہوں۔۔۔۔”
اس نے منہا کے ہاتھ سے آئسکریم لی۔۔۔۔
پھر ایدہ کی جانب بڑھائی۔۔۔۔
“اب نخرے نہیں کر زیادہ۔۔۔۔”
ابراہیم نے ٹوکا۔۔۔۔
ایدہ مسکرائی۔۔۔۔پھر آرب کے ہاتھ سے آئسکریم لے لی۔۔۔۔
اس کے لیتے ہی باقی تینوں نے اپنی آئسکریم کھول کھانا شروع کردی۔۔۔
“یہ تم لوگ میرے لیے لائے تھے”
ایدہ نے یاد دہانی کروائی۔۔۔
“اتنی پیاری بھی نہیں ہے تو۔۔۔جو سب دیں گے تجھے۔۔۔۔”
نوریض نے کہا۔۔۔اور ایدہ نے گود میں رکھا پریکٹیکل اٹھا کر مارا ۔۔
“یار مجھے تو بینک جانا تو کھانا لے جانا میں آکر کھالوں گا”
نوریض نے ابراہیم کو کہا
“کتنی دیر میں آئے گا۔۔؟”
وہ پوچھنے لگا
“تھوڑی دیر میں آجاؤں گا”
نوریض کہتا باہر کی جانب بڑھ گیا۔۔۔
“چل آجا ایبو۔۔۔۔ریس لگاتے ہیں”
آرب نے بائک کی چابی دکھاتے ہوئے کہا۔۔۔
ابراہیم مسکرایا۔۔۔۔
“آجا ہارنے کا زیادہ شوق ہے تجھے”
ابراہیم نے ہنس کر کہا۔۔۔
“میں بھی آؤں گی آبی”
ایدہ نے آوازلگائی
“دماغ ٹھیک ہے؟”
ابراہیم نے چونک کر اسے دیکھا
“کیا۔۔۔۔مجھے بھی ریس لگانی ہے۔۔۔”
وہ مسکرا کر کہنے لگی
“تجھے آتی ہے چلانی؟”ابراہیم نے پوچھا
“نہیں۔۔۔مگر تم لوگ سکھاؤ نا”
ایدہ نے فوراً کہا
“ابراہیم اور آرب نے ایک دوسرے کو دیکھا۔۔۔پھر زور دار قہقہہ لگا کر ہنسنے لگے
“ایم سیریس”
ایدہ روہانسی ہوئی
“اوہ بی بی۔۔۔۔تو بائک کا ویٹ بھی ہینڈل نہیں کرسکتی۔۔۔آئی بڑی۔۔۔۔”
ابراہیم نے ہنسی روکتے ہوئے کہا
“اب ایسا بھی نہیں ہے”
ایدہ نے معصومیت سے کہا۔۔۔
“ایسا ہی ہے۔۔۔۔تم سے نہیں ہوپائے گا ایدہ۔۔۔۔”
آرب نے اس کا گال تھپتھپایا۔۔۔
“دفع ہوجاؤ تم دونوں”
وہ غراتی اپنی گاڑی کی جانب بڑھ گئی
اور وہ دونوں ابھی تک ہنس رہے تھے۔۔۔
“پتا ہے آج میں نے آبی ہرا دیا۔۔۔۔۔”
ابراہیم نے صوفے پر بیٹھتے ہوئے کہا
“آبی تیری طرح رائڈر تو نہیں ہے۔۔۔۔ابھی تو بائیک لی ہے اس نے۔۔۔بلکہ ایدہ نے دی تھی”
نوریض کھانا ڈالتے ہوئے کہنے لگا
“تو پھر ریس کیوں لگاتا ہے؟”
وہ ہنسنے لگا
نوریض نے کھانا لا کر رکھا
“یہ ایدہ آج کل آبی پر زیادہ مہربان نہیں ہورہی؟”
وہ الجھا
“منہا سے ایدہ کی زیادہ بنتی ہے۔۔۔۔اب ظاہر ہے آبی سے منہا کا ریلیشن ہے تو وہ بھی زیادہ کلوز ہوگئی”
وہ سمجھانے لگا۔۔۔
“ہاں۔۔۔۔شاید۔۔۔۔”
ابراہیم نے شانے اچکائے اور کھانا کھانے لگا۔۔۔۔
“میری شادی ہورہی ہے تجھے پتا ہے؟”
نوریض نے نوالہ بناتے ہوئے خوش دلی سے نیوز دی
“ہیں۔۔۔۔۔؟ کب؟ “
وہ کھاتے کھاتے رکا
“ابھی ڈیٹ فکس نہیں ہوئی۔۔۔مگر اگلے مہینے ہے۔۔۔۔ایگزامز بھی ہوجائیں گے تب تک۔۔۔۔”
وہ مسکرایا
“ایگزامز تو اسی مہینے ہیں تو شادی کی تیاری کر رہا ہے یا ایگزامز کی؟”
ابراہیم نے ہنس کر پوچھا
“ظاہر ہے شادی کی۔۔۔۔”
وہ بے اختیار کہ کر ہنسا
“اوہو۔۔۔۔تڑپ ہی ایسی ہے۔۔۔رہا ہی نہیں جاتا۔۔۔۔”
ابراہیم نے شرارت بھرے لہجے میں چھیڑا۔۔۔
“بکواس بند کر۔۔۔۔”
نوریض کی بات پر وہ قہقہہ لگا کر ہنسا
“کامی سکھا دے نا مجھے”
ایدہ نے پاس بیٹھے کمیل کو دیکھتے ہوئے کہا
جو کافی کا مگ ہاتھ میں لیے بیٹھا تھا
“تو سیکھ کر کیا کرے گی؟”
وہ کپ کو لبوں سے لگانے لگا
“ایبو اور آبی سے ریس لگاؤں گی”
ایدہ نے چہک کر کہا
اس کی بات سن اس کے منہ میں پھنسی کافی کا گھونٹ فوارے کی صورت میں باہر نکلا۔۔۔۔۔
اور وہ کپ میز پر رکھ بنا رکے ہنسنے لگا۔۔۔۔
“انسان بن۔۔۔۔”
اس نے اس کے بازوں پر چپت لگائی
مگر وہ مسلسل ہنس ہنس کر لوٹ پوٹ ہورہا تھا
“تو ہنس لے پہلے”
وہ غرائی
“تجھے لگتا ہے تو سیکھ کر ایبو جیسے رائڈر سے ریس لگائے گی؟”
وہ ہنسی کو روکنے لگا
“ہاں کیوں ایبو آسمان سے اترا ہے”
وہ سنجیدہ تھی
“اس سے آرب بھی ریس جیت جائے تو کہنا۔۔۔۔”
وہ پر جوش تھا۔۔۔
وہ جانتا تھا ابراہیم بائیک چلانے میں کتنا ایکسپرٹ ہے۔۔۔۔
“آپ کا بیٹا سمجھے تب نا؟”
سارہ بیگم نے اکتاہٹ بھرے لہجے میں کہا
“میں نے کالج سے معلوم بھی کیا۔۔۔۔وہ جھگڑا بھی اس نے اسی لڑکی کے پیچھے کیا ایک بار پہلے بھی کرچکا”
وہ تفصیل دینے لگی
“تو تم نے ہی اتنی آزادی دی ہے۔۔۔۔تمہارے لاڈ پیار کی وجہ سے وہ بگڑا ہے”
وہ سارہ بیگم کو الزام دینے لگے
“اسے پسند ہی کرنا تھا تو ایدہ کو کرلیتا۔۔۔۔وہ ہمارے اسٹیٹس سے میچ تو ہوتی ہے۔۔۔۔وہ مڈل کلاس لڑکی۔۔۔۔اس کا بھائی چھوٹی سے جاب کرتا ہے۔۔۔۔اور باپ آرمی مین ہے۔۔۔۔اسکالرشپ پر پڑھ رہی ہے”
وہ ساری معلومات سامنے بیٹھے سعید صاحب کو دے رہی تھی
“میں بات کرتا ہوں اس سے۔۔۔۔”
وہ کچھ سوچتے ہوئے کہنے لگے
“نہیں آپ کریں گے تو وہ آپ سے بدظن ہوجائے گا۔۔۔۔میں کرتی ہوں کوشش”
وہ سنجیدگی سے کہنے لگی۔۔۔۔
“سنو۔۔۔۔۔پک بھیجو نا ابھی بنا کر”
آرب نے فون کان سے لگائے کہا
“آبی۔۔۔بارات نکلنے والی ہے۔۔۔۔میں جارہی ہوں”
وہ ہنس کر ٹوکنے لگی
“پک بھیجو پہلے۔۔۔۔دو دن سے میں نے دیکھا تک نہیں تمہیں”
وہ افسردگی سے کہنے لگا۔۔۔
“تو آجاتے شادی پر میں نے بلایا تھا”
وہ الٹ کہنے لگی۔۔۔
“ہاں تمہارا دولہا بھائی۔۔۔۔نوریض کو دھمکی دے کر گیا تھا کہ آس پاس بھی دکھائی نہیں دینا منہا کے۔۔۔اور وہ دھمکی ہم سب کے لیے تھی۔۔۔تم سب جانتی ہو”
وہ بے دلی سے کہنے لگا
“تو تم ڈر گئے؟”
وہ پوچھنے لگی
“میں ڈرتا صرف تمہاری طرف سے ہوں۔۔۔تمہیں کوئی پرابلم نہ ہو”
وہ فکرمندی سے کہنے لگا
“اچھا نا میں جارہی ہوں۔۔۔۔امی بلا رہی ہیں”
وہ مصروفیت سے کہنے لگی
“منہا۔۔۔۔پک بھیجو پہلے”
وہ بضد تھا
“تم ضدی بہت ہو”
وہ مسکرائی
“ہاں تمہارے معاملے میں۔۔۔۔۔”
وہ ہنسا
پھر وڈیو کال کا بٹن دبایا
کال پک ہوتے ہی منہا کا خوبصورت سجا سنورہ چہرہ اسے دکھائی دیا
مہرون ڈریس میں بال کھلے کرل کیے ہوئے۔۔۔۔ماتھے پر باریک سا ٹیکہ چمک رہا تھا۔۔۔۔
وہ لمحہ بھر اسے دیکھتا رہ گیا۔۔۔۔
وہ واقع حسین لگ رہی تھی۔۔۔۔
“کیسی لگ رہی ہوں؟”
منہا نے پوچھا
“اتنی حسین کہ مجھے تعریف کے لیے الفاظ نہیں مل رہے”
وہ سادگی سے کہنے لگا۔۔۔
اور منہا اس کی بات پر ہنس دی
“اس مسکراہٹ کو میں اپنی آنکھوں میں ہمیشہ کے لیے قید کر رہا ہوں۔۔۔۔آنکھیں بند بھی کروں گا تو مجھے تم نظر آؤ گی ہنستے ہوئے”
وہ محبت بھرے لہجے میں کہنے لگا
“اس شاعری کو بچا کر رکھو مسٹر۔۔۔۔شادی کے بعد روز تعریف کرنی پڑے گی”
وہ اترا کر کہنے لگی
“ڈیمانڈز کافی بڑھ گئی ہیں میڈم اپ کی۔۔۔۔”
وہ ہنسنے لگا
“بیوی بننے کی پریکٹس کر رہی ہوں”
وہ جتانے لگی۔۔۔۔
تبھی پیچھے سے کسی کی آواز آئی۔۔۔۔
“میں جارہی ہوں آبی بائے۔۔۔۔”
وہ کہتے ہی فون بند کر باہر بھاگی۔۔۔۔
اور آرب فون ہاتھ میں لیے بے اختیار مسکرا دیا
“کرن مجھے نہیں پتا تھا سچ میں”
وہ سامنے کھڑا کرن سے بات کر رہا تھا جب نوریض آیا
مگر اس کے ساتھ کرن کو دیکھ قریب نہیں گیا۔۔۔۔
کرسی کھسکا کر بیٹھ گیا۔۔۔ساتھ ہی آرب بیٹھا تھا
“یہ ایبو باز نہیں آئے گا”
ارب نے سر کو خم دیا
“کرن ناراض ہوگئی اس سے۔۔۔۔وہ کمیل والی بات پر صفائی دے رہا ہے”
وہ ہنس کر بتانے لگا
“اسے کیا ضرورت ہے۔۔۔۔اس کے پاس تو بہت لڑکیاں ہیں۔۔۔۔”
آرب نے بک پر نظریں جمائے کہا
“وہ اس لیے منانے گیا ہے کیوں اسے لگتا ہے کرن کے مارکس اسی کی وجہ سے کم آئے تھے اس دن۔۔۔۔”وہ خود کو قصور وار سمجھ رہا ہے”
نوریض نے کلیئر کیا
اس نے بھی تو کمیل پر یقین کیا ۔۔۔وہ پکی پکائی کھیر کھاتا ہے”
وہ بک پر کچھ لکھنے لگا۔۔۔۔
ہاتھ میں ہمیشہ کی طرح بلائنڈ فرینڈز کا بریسلیٹ بندھا ہوا تھا
“ہم سب ایک دوسرے پر اندھا یقین کرتے ہیں۔۔۔۔تبھی تو یہ پہنا ہوا ہے”
اس نے اپنی کلائی بھی ارب کے برابر کی۔۔۔۔
جس پر سیم بریسلیٹ تھا۔۔۔۔
بلائنڈ فرینڈز ۔۔۔۔۔وہ دونوں بریسلیٹ دیکھ مسکرا دیے۔۔۔۔
“بس یار گزر ہی گئی شادی۔۔۔۔۔”
منہا نے کہا
“کافی پلیز۔۔۔۔۔”
ابراہیم نے ویٹر کو اشارہ کیا۔۔۔
وہ اکثر یہاں سب مل کر کافی پینے آتے تھے۔۔۔۔
اسی لیے ویٹر کو معلوم تھا کتنی کافی لانی ہے اور کیسی لانی ہے۔۔۔۔
“نوریض کی تو شادی ہے نیکسٹ منتھ”
کمیل نے منہا کو بتایا
“کیا؟ سچ میں”
وہ حیران ہوئی
“ہاں۔۔۔۔۔” نوریض مسکرایا
“تونے تو کہا تھا کہ رتبہ کے گھر والے مان نہیں رہے ابھی شادی پر”
ایدہ نے فوراً ٹوکا
“ہاں مگر رتبہ ہے نا منا لیا”
نوریض نے خوش دلی سے بتایا
“واہ واہ۔۔۔۔رتبہ بھابھی تو چھا گئی”
کمیل نے زور سے ٹیبل پر ہاتھ مارا۔۔۔۔
پاس رکھا منہا کا پرس زمین پر گرا۔۔۔۔۔
“تمیز کرلے۔۔۔۔۔” ابراہیم کہتے ہی جھکا اور پرس اٹھانے لگا۔۔۔۔
مگر سارا سامان نکل کر زمین پر بکھرا ہوا تھا۔۔۔
منہا اٹھی اور سامان اٹھا کر پرس میں ڈالنے لگی۔۔۔۔
ابراہیم کی نظر کرسی کے پاس پڑی رنگ پر پڑی جس میں فیروزہ جڑا تھا۔۔۔۔
اس نے فوراً اٹھا لی۔۔۔۔
“کتنی خوبصورت ہے یہ۔۔۔” وہ ہاتھ میں لیے مسکرایا
“تجھے اچھی لگ رہی ہے؟ تو رکھ لے”
منہا نے ابراہیم کو دیکھتے ہوئے کہا
“تھینک یو میڈم۔۔۔۔”
ابراہیم نے وہ رنگ انگلی میں پہن لی۔۔۔۔
آرب دور سے انہیں دیکھ رہا تھا۔۔۔۔
چہرے پر کوئی تاثرات نہیں تھے
“چل آجا ایبو ۔۔۔۔ریس”
آرب نے اشارا کیا
وہ ہنستے ہوئے قریب آیا
کل بھی ہارا تھا تو”
وہ یاد دہانی کروانے لگا
“آج نہیں ہاروں گا”
آرب نے مسکرا کر کہا
“دیکھتے ہیں”
ابراہیم نے چابی لہرائی اور بائیک کی جانب بڑھ گیا۔۔۔۔
دونوں نے ہیلمٹ پہنے۔۔۔۔اور تھمب کا اشارا کرتے ساتھ بائک اسٹارٹ کی۔۔۔۔
دونوں اسپیڈ میں بڑھ رہے تھے۔۔۔۔کبھی آرب آگے آجاتا تو کبھی ابراہیم۔۔۔۔
تبھی پیچھے سے ایک بائیک اور ان کے برابر چلنے لگی۔۔۔۔
دونوں نے دیکھا۔۔۔۔
ابراہیم نے پورا جائزہ لیا وہ لڑکی تھی۔۔۔۔
اس نے ہاتھ سے ابراہیم کو ہائے کیا۔۔۔۔
ابراہیم مسکرایا۔۔۔۔
اور اس کے برابر بائک بھگانے لگا۔۔۔۔
دونوں ساتھ رائڈ کر رہے تھے۔۔۔۔
اس بات سے بے خبر کہ آرب آگے بڑھ چکا ہے۔۔۔۔
