Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Blind Friends (Episode - 29)

Blind Friends By Isra Rao

“انابیہ نام کی کسی لڑکی کو جانتے ہیں آپ؟”

فرقان صاحب نے سامنے نظریں جھکائے کھڑے ابراہیم کو دیکھتے ہوئے پوچھ۔۔۔۔

“بابا وہ لڑکی۔۔۔۔” پیچھے کھڑی منہا نے کچھ کہنا چاہا مگر انہوں نے ہاتھ اٹھا کر اسے چپ کروایا

“آپ سے نہیں پوچھا میں نے”

فرقان صاحب نے تلخی سے کہا۔۔۔۔

منہا سہم کر خاموش ہوگئی۔۔۔۔

فرقان صاحب کے غصے سے پورا گھر ڈرتا تھا یہاں تک کہ ابراہیم بھی۔۔۔۔لیکن منہا وہ واحد لڑکی تھی جسے کبھی ان سے ڈر نہیں لگتا تھا۔۔۔۔

مگر آج ان کا رویہ دیکھ منہا گھبرا گئی تھی ۔۔۔

“بتائیں کون ہے انابیہ؟”

انہوں نے پھر سے ابراہیم کی جانب دیکھ سوال کیا۔۔۔

“بابا وہ کلائنٹ تھی ایک۔۔۔۔۔”

ابراہیم نے ہمت کر کے بتایا۔۔۔۔

جبکہ نظریں ابھی بھی جھکی تھیں ۔۔۔

“آپ آخری بار کہاں ملے تھے اس سے؟”

فرقان صاحب نے دوسرا سوال کیا

“ریسٹورنٹ میں۔۔۔۔”

اس نے مختصر کہا

“کب؟”

وہ اسے بغور دیکھ رہے تھے

“کل۔۔۔۔۔”اس نے روانی سے جواب دیا

“وہ یہاں آئی تھی آپ سے ملنے؟”

انہوں نے تفصیل چاہی

“جی۔۔۔۔وہ یہاں گھر پر آگئی تھی۔۔۔یہاں کافی مہمان تھے۔۔۔تو مجھے ریسٹورنٹ جانا پڑا۔۔۔۔مگر بابا۔۔۔۔۔۔”

ابراہیم اپنی بات پوری کرتا اس سے پہلے ہی فرقان صاحب کا زوردار تھپڑ اس کا گال سرخ کرنے کے لیے کافی تھا۔۔۔۔

“مجھے نہیں پتا تھا اولاد کو اتنی چھوٹ دینے کا نتیجہ یہ نکلتا ہے”

انہوں نے تلخی سے کہا

“مگر بابا آپ غلط سمجھ رہے ہیں۔۔۔۔۔۔۔”

ابراہیم نے صفائی دینی چاہی

“جس ملاقات کو دنیا سے چھپانا پڑے۔۔۔۔وہ صحیح کیسے ہوسکتی ہے ؟”

انہوں نے بھپری آواز میں سوال داغا

ابراہیم مزید نظر جھکا گیا۔۔۔۔

اس سے غلطی ہوئی تھی۔۔۔۔

“دوبارا میرے سامنے تب ہی آنا جب اس مسئلہ کا حل نکال لو۔۔۔۔۔ورنہ میں اپنے شک پر یقین کا مہر لگا کر آپ کو اپنی زندگی سے نکالنے میں زرا نہیں سوچوں گا”

انہوں نے غصے سے کہا اور باہر نکل گئے۔۔۔۔

ابراہیم پاس پڑی چیئر پر خاموشی سے بیٹھا۔۔۔۔

جانے کیا سوچ رہا تھا اس نے نظر اٹھا کر بھی کسی کو نہیں دیکھا۔۔۔

بس زمین کو گھور رہا تھا۔۔۔۔

منہا نے پاس کھڑی سونیا بیگم کو دیکھا۔۔۔۔

“ابراہیم۔۔۔۔۔”

سونیا بیگم نے آگے بڑھ کر اس کے سر پر ہاتھ رکھے اسے خود سے لگایا۔۔۔۔

ابراہیم نے ضبط سے آنکھیں بند کی۔۔۔۔

“میں نے کچھ نہیں کیا مام۔۔۔۔۔آئی سویر”

اس کی آواز بھر آئی تھی۔۔۔۔

کب سے ضبط کیے آنسوں وہ بہا رہا تھا۔۔۔۔

“میں جانتی ہوں۔۔۔میرا بیٹا کچھ غلط نہیں کرسکتا”

وہ اسے تسلی دیتی کہنے لگی۔۔۔۔

“میں نے ہمیشہ وہی کیا مام۔۔۔جو بابا نے کہا۔۔۔۔کیا انہیں مجھ پر اتنا بھی بھروسہ نہیں۔۔۔۔”

وہ کسی بچے کی طرح انسوں بہا رہا تھا۔۔۔۔

منہا نے پہلی بار اسے یوں روتے دیکھا تھا۔۔۔۔

پہلی بار اس نے ابراہیم کو تکلیف میں دیکھا تھا۔۔۔۔۔

منہا کے گال پر آنسوں بہ رہے تھے۔۔۔۔

اسے تکلیف ہورہی تھی۔۔۔۔

“وہ مجھ سے کبھی پیار سے بات نہیں کرتے۔۔۔۔میں کچھ بھی کرلوں میں ان کے دل میں جگہ نہیں بنا سکتا۔۔۔۔”

وہ روتے ہوئے کہنے لگا۔۔۔۔

ضبط سے چہرہ سرخ ہوچکا تھا۔۔۔۔

“نہیں بچے۔۔۔۔آپ کے بابا آپ سے پیار کرتے ہیں۔۔۔۔”

سونیا بیگم نے اس کے آنسوں صاف کرتے ہوئے کہا۔۔۔۔

“نہیں کرتے وہ۔۔۔۔اگر کرتے تو مجھ پر بھروسہ کرتے۔۔۔۔مجھ سے صفائی مانگتے۔۔۔۔”

وہ شکوہ کن انداز میں کہنے لگا۔۔۔۔

“بھروسہ ہے بیٹا۔۔۔وہ بس غصے میں ہیں۔۔۔۔۔”

سونیا بیگم نے اس کے ماتھے پر بوسہ دیتے شفقت سے کہا۔۔۔۔

“نہیں ٹھیک ہے بس۔۔۔۔مجھے جو کرنا ہوگا کرلوں گا۔۔۔۔”

وہ چہرہ رگڑتا اٹھ کھڑا ہوا۔۔۔۔۔

“جاؤ جاکر پیکنگ کرو۔۔۔۔۔”

اس نے سامنے کھڑی منہا کو دیکھ حکم دیا۔۔۔۔

“ابراہیم آپ ایسے نہیں جاسکتے۔۔۔۔۔”

سونیا بیگم بوکھلائی۔۔۔۔

“تمہیں سنائی دیا؟ جاؤ”

اس نے چلا کر منہا کو گھورا۔۔۔۔۔

منہا یک دم ہی سہمی۔۔۔۔

پھر بنا کچھ کہے کمرے کی طرف بھاگی۔۔۔۔۔

“ابراہیم بھائی غصے میں تھے۔۔۔۔۔تم کیوں بیوقوفی کر رہے ہو۔۔۔۔”

عمران صاحب نے اس کے کاندھے پر ہاتھ رکھا۔۔۔۔

“چاچو۔۔۔۔آج نہ صحیح کل مجھے تو ویسے بھی جانا ہی تھا ۔۔۔اچھا ہے بابا کو میں نظر نہیں آؤں گا”

وہ کہتے ساتھ اندر کی جانب بڑھ گیا۔۔۔۔

❤️❤️❤️❤️❤️..

“میں تجھ سے معافی مانگنا چاہتا ہوں۔۔۔بلکہ تم سب سے”

آرب نے سامنے بیٹھے نوریض کو دیکھتے ہوئے کہا

“میں تو تجھے پھر بھی معاف کردوں گا آبی۔۔۔مگر منہا کا کیا؟۔۔۔کیا تو نے اس کے ساتھ صحیح کیا تھا؟”

نوریض نے کاٹ دار لہجے میں کہا

“مجھے پتا ہے مجھ سے غلطی ہوئی ہے۔۔۔۔اس کی سزا میں آج تک بھگت رہا ہوں یار ۔۔۔تجھے کیا لگتا ہے۔۔۔منہا کو کھو کر میں ایدہ کے ساتھ ہنسی خوشی زندگی گزار رہا ہوں۔۔۔۔ایدہ کے ساتھ میں صرف کمپرومائز کر رہا تھا نوریض۔۔۔۔میں ایک پل کے لیے بھی کبھی منہا کو نہیں بھولا۔۔۔۔”

آرب نے افسردگی سے کہا۔۔۔

نوریض خاموشی سے اسے دیکھ رہا تھا۔۔۔۔

“میں نے دوستوں پر اعتبار نہ کر کے سزا کاٹی ہے نوریض اور کاٹ رہا ہوں ۔۔۔تو میرا دوست ہے نا پلیز مجھے معاف کردے”

آرب نے منت کی۔۔۔۔

نوریض نے اٹھ کر اسے گلے لگایا۔۔۔۔

وہ جانتا تھا اس کا قصور نہیں تھا۔۔۔۔۔

❤️❤️❤️❤️❤️..

اس نے گھر آتے ہی بیگ رکھا اور چابی ٹیبل پر رکھی۔۔۔۔

پھر صوفے پر بیٹھ کر ٹیک لگائے آنکھیں موند لی۔۔۔۔

منہا کھڑی اسے بغور دیکھ رہی تھی۔۔۔

وہ اداس تھا۔۔۔۔

“ایبو۔۔۔۔۔پانی لاؤں؟”

منہا س کے پاس گئی۔۔۔۔

ابراہیم اسی طرح آنکھیں موندے ہوئے تھا۔۔۔۔

زرا بھی نہیں ہلا تھا۔۔۔جیسے اس نے سنا ہی نہ ہو۔۔۔

“ایبو۔۔۔۔” منہا نے اس کے کاندھے پر ہاتھ رکھا۔۔۔۔

“سن لیا یار۔۔۔۔کچھ چاہیے ہوگا تو بتا دوں گا۔۔۔دماغ نہیں خراب کرو۔۔۔۔”

ابراہیم غصے سے مانو دھاڑا تھا۔۔۔۔

منہا نے یک دم ہاتھ ہٹایا۔۔۔۔

“بھاڑ میں جاؤ میری بلا سے”

نمی تیزی سے اس کی آنکھوں میں اتری تھی ۔۔۔۔

وہ کمرے کی جانب بڑھ گئی تھی۔۔۔۔

ابراہیم فوراً سیدھا ہوا۔۔۔۔

اس نے اپنا سر دونوں ہاتھوں میں گرایا۔۔۔۔

پھر اٹھ کر منہا کے پیچھے کمرے میں داخل ہوا۔۔۔۔

وہ کمرے میں نہیں تھی۔۔۔۔شاید باتھ روم گئی تھی۔۔۔۔

ابراہیم اپنے ہاتھ میں بندھی اومیگا کی واچ کھولنے لگا ۔۔۔

پھر اٹھا کر ڈریسنگ پر پھینکی۔۔۔۔

کف لنکس کھول کر بازوں فولڈ کیے۔۔۔۔

جوتے اتار کر سائیڈ پر رکھے ۔۔۔

پھر بیڈ پر لیڈ گیا۔۔۔۔

تھوڑی ہی دیر میں منہا گیلے بالوں میں ٹاول رگڑتی باہر آئی۔۔۔۔

اس نے ایک اچٹتی نگاہ ابراہیم پر ڈالی پھر ڈریسنگ ٹیبل کی جانب بڑھ گئی۔۔۔۔

منہا کو غصہ آرہا تھا۔۔۔۔

مگر وہ ابھی اس سے لڑنا نہیں چاہتی تھی۔۔۔

وہ جانتی تھی وہ ڈسٹرب ہے۔۔۔۔

“ایم سوری”

ابراہیم بیڈ سے اٹھ کر اس کے قریب آیا۔۔۔۔

وہ اسی طرح مصروف رہی۔۔۔۔

پیچھے کھڑے ابراہیم کو وہ آئینے میں دیکھ سکتی تھی۔۔۔۔

وہ بلکل اس کے پشت پر کھڑا تھا ۔۔۔

وہ ہلکا سا مسکرایا۔۔۔۔۔

“ایم سوری میری جان۔۔۔۔مجھے تم پر غصہ نہیں اتارنا چاہیے تھا۔۔۔مگر کیا مجھے اتنا حق نہیں ہے کہ میں تمہیں ڈانٹ بھی سکوں”

وہ اسے شانوں سے تھامے کہنے لگا۔۔۔۔

اس کی نظریں آئینے میں اس کے چہرے پر تھی۔۔۔۔

“نہیں۔۔۔۔”

منہا نے بنا سوچے دھڑلے سے جواب دیا۔۔۔۔

اس کی بات پر ابراہیم بے اختیار ہنس دیا۔۔۔۔

“تو تم مجھے ڈانٹ لو۔۔۔۔حساب برابر ہوجائے گا۔۔۔۔”

ابراہیم نے اس کے کاندھے پر چہرہ ٹکائے اسے اپنے حصار میں لیا۔۔۔۔

“تم نے مجھے کیوں نہیں بتایا کہ انابیہ آئی ہے ؟”

منہا نے سوال کیا

“ویسے ہی”

اس نے مختصر کہا

“اگر تم مجھے بتا دیتے تو میں بھی چلتی ساتھ اور تم پر کوئی الزام بھی نہیں آتا ایبو”

منہا نے مڑ کر نرمی سے سمجھایا

“مجھے لگا تم پھر شک کرو گی۔۔۔۔۔”

ابراہیم نے وجہ بتائی۔۔۔۔

“میں نہیں کرتی۔۔۔۔مجھے یقین ہے تم پر”

منہا نے اسے یقین دلانا چاہا

“تھینک یو میری جان مجھے احساس کروانے کے لیے کہ کوئی ہے جو مجھ پر بھروسہ کرتا ہے”

وہ اس کا چہرہ دونوں ہاتھوں میں سموئے کہنے لگا

وہ مسکرائی تھی۔۔۔۔

ابراہیم لمحہ بھر اس کی نکھوں میں دیکھتا رہا پھر بنا وقت ضائع کیے اس کے لبوں پر جھک گیا۔۔۔۔

منہا نے پیچھے ڈریسنگ پر ہاتھ رکھے خود کو گرنے سے روکا۔۔۔۔

ابراہیم لمحہ بھر پیچھے ہٹ کر اسے دیکھنے لگا۔۔۔۔

وہ اس کی شدت کے زیرِ اثر سانس بحال کرنے میں مصروف تھی۔۔۔۔

ابراہیم ہلکا سا مسکرا پھر اس کی گردن پر جھکا۔۔۔۔

منہا کا سانس رکنے کو تھا مانو۔۔۔۔

“ایبو۔۔۔۔”منہا نے اسے ٹوکا

وہ رک کر اسے دیکھنے لگا۔۔۔۔

“میں اپ سیٹ ہوں۔۔۔۔۔”

ابراہیم نے شرارت چھپائے اسے دیکھا۔۔۔۔

“میں تجھے جان سے مار دوں گی ایبو۔۔۔۔”

اس نے اسے پیچھے دھکیلا اور آگے بڑھ گئی۔۔۔۔

“اچھا سوری نا۔۔۔۔۔اب آرام سے کروں گا”

ابراہیم نے ہنستے ہوئے اس کا ہاتھ پکڑا۔۔۔۔

منہا بنا وقت ضائع کیے اس کے ہاتھ پر اپنے دانت گاڑے۔۔۔۔

ابراہیم نے چبھن سے یک دم اس کا ہاتھ چھوڑا۔۔۔۔

“کیا پاگل ہوگئی ہے۔۔۔۔”

وہ اپنا ہاتھ دیکھنے لگا۔۔۔۔

“اور تو جو ہوا تھا تھوڑی دیر پہلے۔۔۔۔”

منہا نے غصے سے کہا۔۔۔۔

“میں ابھی بھی پاگل ہی ہورہا ہوں۔۔۔۔۔”

اس نے جھپٹ کر منہا کو اپنے حصار میں لیا

“ایبو۔۔۔جاہل۔۔۔۔جنگلی۔۔۔۔۔”

وہ ہنستے ہوئے جانے کیا کیا بکنے لگی۔۔۔۔

وہ مسکراتے ہوئے اس کے نم بالوں میں چہرہ چھپا گیا۔۔

ایک سکون اس کے اندر سرائیت کرنے لگا تھا۔۔۔۔

وہ صبح سے بہت اداس تھا۔۔۔

چند لمحے کے لیے ہی صحیح وہ سب بھول کر اس لمحے میں گم ہونا چاہتا تھا۔۔۔۔۔

❤️❤️❤️❤️❤️..

وہ شورٹس پر سلیو لیس ٹی شرٹ پہنے لان میں کرسی پر براجمان موبائل چلانے میں مصروف تھا جب سامنے گیٹ سے اندر آتے نوریض پر اس کی نظر پڑی۔۔۔۔

وہ حیران تب ہوا جب اس کے اسے آرب بھی آتا نظر آیا۔۔۔

اس نے موبائل ٹیبل پر رکھا اور اٹھ کھڑا ہوا۔۔۔۔

“پورے کپڑے پہن لیا کر موسم بدل رہا ہے میرے بھائی۔۔۔۔”

نوریض نے اس سے ملتے ہوئے حلیے پر نظر ڈالے طنزیہ کہا۔۔۔

“ہاں آج تو واقع بدل گیا لگتا ہے۔۔۔آرب صاحب آئے ہیں گھر میرے”

ابراہیم نے اسے اگنور کر پیچھے کھڑے آرب کو تیکھی نظروں سے دیکھا۔۔۔

“کیسا ہے ایبو؟”

آرب ہنس کر ملنے لگا۔۔۔۔

“خیریت۔۔۔بیٹھو۔۔۔۔”

ابراہیم نے کرسی کی جانب اشارہ کیا تینوں ہی کرسیوں پر براجمان ہوگئے۔۔۔

“میں معافی مانگنے آیا ہوں ایبو۔۔۔کیا تم لوگ مجھے معاف کرو گے؟”

آرب نے اسے دیکھتے ہوئے پوچھا

“معافی؟ کیوں؟”

وہ حیرانی سے کبھی نوریض کو کبھی آرب کو دیکھ رہا تھا

“میں چار سال پہلے کی گئی غلطیوں کو سدھارنا چاہتا ہوں ایبو۔۔۔۔”

آرب نےشرمندگی ظاہر کی۔۔۔

نوریض نے ابراہیم کو دیکھا۔۔۔۔

ابراہیم لمحہ بھر خاموش ہوا ۔۔۔

“ایک شرط پر”

پیچھے سے آتی منہا کی آواز پر تینوں نے اس کی جانب دیکھا۔۔۔

وہ چائے کے دو کپ ہاتھوں میں لیے کھڑی تھی۔۔۔

پھر چلتی قریب آئی۔۔۔۔

“منظور ہے” اس نے بنا سوچے کہا۔۔۔

منہا نے آبرو اچکائی۔۔۔۔

“شرط سن لو پہلے مسٹر آرب”

منہا نے ٹیبل پر کپ رکھتے ہوئے کہا

آرب خاموش تھا

“تمہیں اپنی بیوی کے خلاف ہماری مدد کرنی ہوگی۔۔۔۔”

منہا نے تیکھی نظروں سے دیکھا

“ضرور….”

اس نے اسی روانی سے جواب دیا

“ٹھیک ہے۔۔۔۔پھر ایدہ کے بوتیک کی ڈپلیکیٹ چابی تم ہمیں دے دو”

ابراہیم نے فوراً کہا۔۔۔۔

وہ ایسے ہی اچانک کام کرتا تھا۔۔۔۔

بنا سوچے۔۔۔۔

مل جائے گی اور کچھ۔۔۔۔؟”

آرب نے سنجیدگی سے پوچھا۔۔۔۔

“تھینک یو یار۔۔۔۔” ابراہیم نے آرب کی جانب مسکرا کر ٹیبل پر رکھا کپ اس کی جانب بڑھایا۔۔۔

“میں اور چائے لاتی ہوں”

منہا نے ٹیبل پر صرف ایک رکھے دیکھ کہا۔۔۔

اسے نہیں پتا تھا وہ دونوں آئے ہوئے ہیں۔۔۔

اسی لیے وہ صرف اپنا اور ابراہیم کا ہی کپ لائی تھی۔۔۔

“یہ میں پی رہا ہوں۔۔باقی تم دونوں میاں بیوی دیکھ لو۔پینا چاہو تو۔۔”

نوریض نے ٹیبل سے دوسرا کپ اٹھایا۔۔۔۔

“مجھے پتا تھا تیری نیت میں ہے۔۔۔۔”

ابراہیم نے ذلیل کرنے کا موقع نہیں چھوڑا۔۔۔۔

نوریض مسکرا کر چائے پینے لگا۔۔۔جیسے اس نے سنا ہی نہ ہو۔۔۔۔

“یں لاتی ہوں۔۔۔۔”

منہا ہنستی اندر کی جانب بڑھ گئی۔۔۔

رب نے ایک نظر اسے جاتا دیکھا پھر کپ ہونٹوں سے لگا لیا۔۔۔۔

اسے معافی مل گئی تھی۔۔۔۔مانو اسے سکون مل گیا تھا

❤️❤️❤️❤️❤️..

“آیا نہیں آرب؟” منہا نے یہاں وہاں دیکھتے ہوئے کہا۔۔۔

“آیا تو نوریض بھی نہیں۔۔۔۔ابراہیم نے فکرمندی سے کہا

تبھی سامنے سے ایک بزرگ چلتا ان کے پاس آیا۔۔۔

جس کے سر پر ٹوپی تھی۔۔۔۔

بڑی سی داڑھی۔۔۔سفید شفاف بال۔۔۔۔

آنکھوں پر چشمہ چڑھا تھا۔۔۔۔

اور ہاتھ میں لاٹھی تھی۔۔۔۔

“بیٹا یہ ایڈریس تو بتانا۔۔۔۔مجھے ارجنٹ جانا ہے یہاں”

اس نے قریب آتے ہی پوچھا۔۔۔۔

ہاتھ میں پرچی تھی۔۔۔

منہا اور ابراہیم نے ایک دوسرے کو دیکھا۔۔۔

پھر بے اختیار ہی ہنسنے لگے۔۔۔۔

اور ہنستے ہی چلے گئے۔۔۔

“کیسے پہنچانا کمینوں ؟”

نوریض نے اپنی نارمل آواز میں کہا۔۔۔۔

“اتنا بزرگ بن کر بول رہا ہے ایڈریس بتانا۔۔۔چاچا کے قبر میں پاؤں ہیں اور ارجنٹ جانا ہے۔۔۔کہاں جانا ہے قبرستان ؟”

ابراہیم نے ہنستے ہوئے کہا

“ایسے نہیں بولنا تھا کیا؟”

نوریض نے تصحیح کرنی چاہی۔

“پتا بتا دو۔۔۔بس اتنا بھی کہے گا تو کافی ہوگا”

منہا نے سمجھایا

تبھی سامنے سے چلتا آرب آیا۔۔۔۔

بزرگ کو دیکھ چونکا۔۔۔۔

“یہ انکل کون ہیں؟” اس نے پاس کھڑے ہوتے ہی آہستگی سے ابراہیم سے پوچھا۔۔۔۔

ابراہیم اور منہا کی ایک بار پھر سے ہنسی چھوٹ گئی۔۔۔۔

“ابے۔۔۔یہ تو پہنچانا نہیں مجھے۔۔۔تم لوگوں کی ہنسی نہیں رک رہی”

نوریض نے جلتے ہوئے کہا۔۔۔

“نوریض۔۔۔۔” آرب حیران ہوا۔۔۔

“ہاں۔۔۔۔میں ہی ہوں”

نوریض نے جواب دیا

“یہ خود تیرے جیسا ہے بونگا؟”

ابراہیم نے ہنسی روکنے کی کوشش کی۔۔۔

“بونگا نہیں ہوں۔۔وہ بس رات کا وقت ہے تو دھیان نہیں دیا”

آرب نے صفائی دینی چاہی۔۔۔۔

“ہاں۔۔۔پتا ہے۔۔۔۔” ابراہیم نے فوراً کہا۔۔۔۔

“تو ٹھیک سے پوچھنا اب۔۔۔۔۔” ابراہیم نے اس بار نوریض کو ٹوکا تھا۔۔۔۔

“پلان کیا ہے ویسے؟”

آرب نے سوال کیا

“تجھے کیوں بتائیں؟تو نے اپنی بیوی کو بتا دیا تو؟”

ابراہیم نے شرارت بھرے لہجے میں طنزیہ کہا۔۔۔

“بتانا ہوتا تو تم لوگوں کی مدد کے لیے رات کے اس پہر یہاں نہیں ہوتا”

آرب بھی حساب چکتا کرنا خوب جان گیا تھا۔۔۔۔

“اس خوبصورت بوتیک کو اخری بار دیکھ لو آرب۔۔۔۔میں تو کہتا ہوں تصویر بنا لو۔۔۔۔ایدہ کو سینڈ کردینا”

ابراہیم نے دوبارا کہا

“کم از کم ایدہ تصویر دیکھ کر ہی خود کو تسلی دے گی۔۔۔۔کہ وہ کسی وقت میں اس خوبصورت بوتیک کی مالک تھی۔۔۔۔”

منہا نے ہنستے ہوئے کہا۔۔۔

“ہاں اور تصویر دیکھ کر آنسوں بھی بہائے گی۔۔۔۔۔”

ابراہیم بھی ہنستے ہوئے کہنے لگا۔۔۔۔

آرب خاموش تھا۔۔۔۔

“اچھا انتظام ہوا؟”

منہا نے اسے دیکھتے ہوئے پوچھا۔۔۔۔

اس نے اثبات میں سر ہلایا۔۔۔۔

اور ہتھیلی سامنے کی۔۔۔۔

جہاں ایک چابی تھی۔۔۔۔

“آج میں ایدہ کو جلا کر راکھ کردوں گی”

منہا دیکھ مسکرائی۔۔۔۔اور جھٹ چابی اس کے ہاتھ سے اٹھائی۔۔۔۔

آرب نے پل بھر کو اپنی ہتھیلی سے مس ہوتی اس کی انگلیوں کو دیکھا۔۔۔۔

پھر نظر نداز کرتا اس کے تاثرات دیکھنے لگا۔۔۔۔

وہ مسکرا رہی تھی۔۔۔۔

اور پاس کھڑے ابراہیم سے باتیں کرنے میں مصروف ہوگئی تھی۔۔۔۔

مگر آرب کچھ اور دیکھ ہی نہیں سکتا تھا۔۔۔۔

وہ خاموشی سے اسے دیکھ رہا تھا۔۔۔۔

“میری بیوی کو تاڑنا بند کرو آبی۔۔۔۔”

ابراہیم اسے ٹوکتا آگے بڑھ گیا۔۔۔۔۔

آرب نے جھٹ نظریں گھمائی۔۔۔۔

منہا چابی پرس میں ڈالتی آگے بڑھ گئی۔۔۔۔انہیں اپنا میشن کامیاب بنانا تھا۔۔۔۔۔

سامنے ہی بوتیک کے باہر چوکیدار بیٹھا تھا۔۔۔۔

وہ لوگ بوتیک کی جانب بڑھ رہے تھے۔۔۔۔اور آرب خاموشی سے پلٹ گیا۔۔۔۔

اسے ایدہ کے جاگنے سے پہلے گھر واپس جانا تھا۔۔۔۔

وہ کے دیے ہوئے دھوکے کا ادھار نہیں رکھنا چاہتا تھا۔۔۔۔

❤️❤️❤️❤️❤️..

وہ دونوں دور کھڑے نوریض کو دیکھ رہے تھے۔۔۔نوریض نے چوکیدار سے کچھ کہا

شاید پرچی دکھا کر ایڈریس پوچھ رہا تھا۔۔۔۔

چوکیدار نے اسے سہارا دیا اور آگے بڑھ گیا۔۔۔۔

ان دونوں نے فوراً سے قدم بڑھائے۔۔۔۔۔

جلدی سے چابی لگائی اور بوتیک میں داخل ہوئے۔۔۔۔

اندھیرا تھا۔۔۔۔ہر طرف ۔۔۔۔

“کوئی سوٹ لینا ہے تو لے لو۔۔۔۔”

ابراہیم نے شرارت بھرے لہجے میں کہا۔۔۔۔

موبائل کی روشنی میں بھی ڈریسز صاف دکھائی دے رہے تھے۔۔۔۔

“کوئی ضرورت نہیں ہے۔۔۔۔”

منہا نے منہ بنا کر جواب دیا اور ابراہیم بے اختیار ہی مسکرا دی

“بوتل دو ہمارے پاس صرف دس منٹ کا ٹائم ہے”

منہا نے بوتل اس کے ہاتھ سے لیتے ہوئے کہا۔۔۔۔

جس میں پیٹرول تھا۔۔۔۔

ابراہیم اوپر جانے لگا تو منہا نے اسے مڑ کر دیکھا۔۔۔۔

“اوپر جا رہا ہوں وائر کاٹنے”

ابراہیم نے بتانا ضروری سمجھا۔۔۔

میں بھی آتی ہوں”

منہا اس کے پیچھے چلی۔۔۔۔۔

❤️❤️❤️❤️❤️..

وہ جب کمرے میں داخل ہوا تو ایدہ کی آنکھ کھلی۔۔۔۔

اس نے آرب کی جانب دیکھا جو کمرے کا دروازہ بند کر رہا تھا۔۔۔۔

“کیا ہوا ہنی؟”

ایدہ نے نیند سے بوجھل آنکھوں سے دیکھا ۔۔۔

“کچھ نہیں میں وہ بس پانی لانے گیا تھا”

آرب نے ہاتھ میں پکڑا جگ دکھایا ۔۔۔

“اچھا۔۔۔سوجاؤ۔۔۔”

وہ کہتے ساتھ آنکھیں بند کرگئی ۔۔۔

آرب جگ سائیڈ ٹیبل پر رکھے احد کے برابر لیٹ گیا۔۔۔۔

وہ گہری نیند سورہا تھا۔۔۔

آرب نے جھک کر اس کی پیشانی چومی۔۔۔۔

وہ ایدہ سے لاکھ نفرت صحیح مگر اپنے بیٹے سے بہت محبت کرتا تھا۔۔۔۔

مگر آج ابراہیم کو چابی دے کر اسے سکون ملا تھا۔۔۔

اسے تسلی تھی۔۔۔۔کہ وہ جو کر رہا ہے صحیح کر رہا ہے۔۔۔۔

رات گہری ہورہی تھی مگر نیند آنکھوں سے بوجھل تھی۔۔۔۔

وہ خاموشی سے لیٹا سوچوں میں گم تھا جب سائیڈ ٹیبل پر رکھا ایدہ کا فون شور مچانے لگا۔۔۔۔

آرب نے جھٹ آنکھیں موندی۔۔۔۔

ایدہ نے ہاتھ بڑھا کر غنودگی میں فون اٹھایا۔۔۔

پھر کان سے لگایا

“ہیلو۔۔۔۔” اس کی نیند میں ڈوبی آواز آرب سن رہا تھا

“واٹ؟”

وہ یک دم ہڑبڑا کر اٹھی۔۔۔۔

“ایسے کیسے آگ لگ گئی؟” وہ چلانے کے انداز میں پوچھنے لگی

آرب بھی اٹھ بیٹھا۔۔۔۔

“آرب بوتیک میں آگ لگ گئی ہے۔۔۔۔”

وہ اٹھ کھڑی ہوئی تھی ڈرار سے کار کی چابی نکالی۔۔۔

“میں بھی چلتا ہوں؟”

آرب بھی اٹھ کھڑا ہوا۔۔۔۔

ایدہ کے چہرے پر گھبراہٹ اور پریشانی دیکھ آرب کو ایک خوشی محسوس ہورہی تھی۔۔۔۔

❤️❤️❤️❤️❤️❤️..

“ویسے ایک بات نہیں سمجھ آئی۔۔۔۔”

منہا نے کچھ سوچتے ہوئے کہا۔۔۔۔

“کیا؟” وہ دونوں سڑک پر چل رہے تھے۔۔۔۔

“تم نے وائر کو کیوں کاٹا۔۔۔۔ہم نے تو ویسے بھی پیٹرول سے لگانی تھی نا”

منہا نے ناسمجھی سے پوچھا

“وائر اس لیے کاٹی۔۔۔کہ اگر آگ ٹائم پر بجھا دی گئی۔۔۔۔کٹی ہوئی وائر سے شاید ان کا اسپارکنگ کی جانب جائے گا۔۔۔۔آگ کسی وجہ سے لگتی ہے۔۔۔یونہی نہیں لگ جاتی ڈارلنگ”

ابراہیم نے اس کی ناک پکڑی۔۔۔۔

“واہ میرا ہسبینڈ کتنا سمارٹ ہے”

منہا نے تعریف کی

“بس دیکھ لو اب سب کے پاس ایبو نہیں ہوتا”

ابراہیم مسکرایا

تبھی اس کا فون وائبریٹ ہونے لگا۔۔۔

اس نے جیب سے نکالا۔۔۔۔پھر اسکرین پر نام دیکھ۔۔۔سائیڈ کا بٹن دبایا اور واپس جیب میں رکھ لیا

“کس کی کال ہے اس وقت؟”

منہا پوچھے بنا نہ رہ سکی ۔۔۔

“مام کی”

ابراہیم نے سنجیدگی سے بتایا

“اس وقت؟”

منہا حیران ہوئی

“ہاں نماز کے لیے اٹھی ہوں گی نا”

ابراہیم نے سادگی سے کہا

“تو بات کرلو؟” منہا نے کہا

“ابھی میرا موڈ نہیں ہے یار۔۔۔صبح میں کال کرلوں گا بابا کے جانے کے بعد”

ابراہیم نے لاپرواہی سے کہا

اور سامنے کھڑی اپنی گاڑی کی جانب بڑھ گیا

“ایبو ۔۔۔دل صاف کرلو۔۔۔وہ بابا ہیں ڈانٹ بھی سکتے ہیں مار بھی سکتے ہیں۔۔۔حق ہے انہیں”

منہا نے سمجھانا چاہا۔۔۔۔وہ دونوں گاڑی کے پاس آکر رکے۔۔۔

“نہیں مجھے برا نہیں لگا۔۔انہیں بلکل حق ہے۔۔۔مگر انہیں اپنی پرورش پر اعتبار کرنا چاہیے تھا ۔۔۔وہ بھی نہیں تو کم از کم مجھے صفائی کا موقع دینا چاہیے تھا۔۔۔۔”

ابراہیم نے آنکھوں اور لبوں پر پہلی بار اسے شکایت نظر آئی تھی جو اسے اپنے باپ سے تھی۔۔۔

❤️❤️❤️❤️❤️..

وہ ڈرائونگ کر رہا تھا جب سامنے ایک گاڑی کے قریب کھڑے ابراہیم اور منہا پر اس کی نظر پڑی۔۔۔

آرب کے اسٹیئرنگ پر جمے۔۔۔اس نے گردن موڑ کر ایدہ کو دیکھا۔۔۔۔جو انہیں پہنچاننے کی سعی کر رہی تھی۔۔۔۔

آرب نے اسپیڈ بڑھائی بڑھائی اور ان کے برابر سے نکل گیا۔۔۔

ایدہ نے کھڑکی سے باہر جھانکا۔۔۔۔

“وہ ابراہیم اور منہا تھے نا؟”

ایدہ نے آرب سے پوچھا۔۔۔

“کون؟ کہاں؟”

آرب انجان بنا

“ابھی پیچھے کھڑے تھے وہ وگ”

ایدہ نے کہا

“نہیں وہ کیسے ہوسکتے ہیں۔۔۔وہ لوگ تو گھر گئے ہوئے ہیں۔۔۔شیمل کی شادی میں تم نے خود تو بتایا تھا۔۔۔۔”

آرب نے اس کا دھیان بھٹکایا۔۔۔۔

“ہاں۔۔۔صحیح کہ رہے ہو۔۔۔۔۔”

اس نے سر پر ہاتھ رکھا وہ بہت پریشان تھی

بوتیک پہنچتے ہی باہر نکلی۔۔۔۔

سامنے بوتیک میں آگ لگی تھی جسے کافی حد تک بجھا دیا گیا تھا۔۔۔۔

“آگ کیسے لگ گئی تم کہاں دفع ہوگئے تھے؟”

ایدہ قدم بڑھا کر چوکیدار کے پاس گئی

“میں تو یہیں ہوتا ہوں میڈم “

چوکیدار نے صفائی دی۔۔۔۔۔

ایدہ کا بس نہیں چل رہا تھا وہ سب کو ختم کردے۔۔۔

سامنے بوتیک کو دیکھ دیکھ کر اس کا خون جل رہا تھا۔۔۔

وہ رونا نہیں چاہتی تھی۔۔۔مگر اپنی آنکھوں کے سامنے وہ اپنی پوری زندگی کو جلتے ہوئے دیکھ رہی تھی۔۔۔

آنسوں گرنے کو بیتاب تھے۔۔۔۔

اس کی آنکھیں سرخ ہوچکی تھی

ضبط جواب دے گیا تھا۔۔۔۔

❤️❤️❤️❤️❤️..

“اس کی تو حالت دیکھنے والی ہوگی نا؟”

وہ چائے کا کپ ہاتھ میں تھامے کہنے لگا۔۔۔۔

“ہاں۔۔۔آبی بتا رہا تھا دکھی ہے بہت”

نوریض نے کہا۔۔۔۔

تبھی گیٹ پر پولیس کو دیکھ نوریض اٹھ کھڑا ہوا۔۔۔۔

“ایبو۔۔۔پولیس”

نوریض نے اسے مخاطب کیا۔۔۔۔

“چل دیکھتے ہیں۔۔۔۔”

وہ کپ رکھے آگے بڑھا۔۔۔۔

“ابراہیم قریشی۔۔۔۔۔آپ کو ساتھ چلنا ہوگا۔۔۔۔آپ کے خلاف وارنٹ ہے ہمارے پاس۔۔۔۔”

پولیس والے نے ہاتھ میں پکڑا کاغذ اس کی جانب بڑھایا۔۔۔۔

نوریض نے جھٹ کھول کر دیکھا۔۔۔۔

“ایبو؟”

منہا نے ابراہیم کی جانب دیکھا۔۔۔۔

“جی مجھے پانچ منٹ دیں۔۔۔میں چلتا ہوں”

ابراہیم وقت مانگتا اندر کی جانب بڑھ گیا

“ابراہیم اب کیا کریں گے؟”

منہا نے پوچھا۔۔۔۔

“میری بات سن نوریض اس ریسٹورنٹ جا کر تجھے ریکارڈنگ نکلوانی ہے۔۔۔۔۔جس میں میں اور انابیہ ملے تھے۔۔۔۔تجھے کسی بھی طرح اسے ڈیلیٹ کرنا۔۔۔”

ابراہیم نے نوریض کو سمجھاتے ہوئے کہا۔۔۔۔

“تو فکر نہیں کر۔۔۔۔”

نوریض نے اسے تسلی دی۔۔۔۔

“تجھے کسی بھی ہیلپ کی ضرورت ہو۔۔۔۔نوریض کو بولنا۔۔۔۔اور ٹینشن نہیں لے۔۔۔تیرا ایبو سب ٹھیک کردے گا”

اس نے منہا کے چہرے کو دونوں ہاتھوں میں سمویا۔۔۔۔

منہا مسکرا دی۔۔۔۔۔

وہ اپنی اداسی ابراہیم کے سامنے ظاہر نہیں کرنا چاہتی تھی۔۔۔۔وہ جتانا چاہتی تھی وہ بہت بہادر ہے ۔۔۔

❤️❤️❤️❤️❤️..

“وہ صرف بوتیک نہیں تھی کامی۔۔۔۔میرے خواب تھے۔۔۔۔میری خوشیاں اس سے جڑی تھی۔۔۔۔”

وہ نم آنکھوں سے کہنے لگی

“مگر سوچنے کی بات ہے آگ لگی کیسے؟”

کامی نے کہا۔۔۔۔

“کوئی وائر ٹوٹ گئی تھی۔۔۔۔۔یہ تو شکر ہے جو دوسرا آرڈر تھا وہ ابھی پہنچا نہیں تھا”

آرب نے فوراً تفصیل دی

“پھر بھی ایسے کیسے آگ لگ سکتی ہے”

کمیل کی سمجھ میں نہیں آرہا تھا

“آگ لگنے میں کتنا ٹائم لگتا ہے یار۔۔۔بات صرف یہ کہ قسمت میں ہی یہ نقصان لکھا تھا ۔۔۔مگر ہم دوبارا محنت کریں گے نا ایدہ۔۔۔۔۔میں تمہارے ساتھ ہوں”

آخری بات اس نے ایدہ کی جانب دیکھ کہا۔۔۔۔

ایدہ اسے دیکھ کر رہ گئی۔۔۔

آرب کے اس جملے نے ایدہ کو خوشی دی تھی۔۔۔۔

“کیا وہ لوگ ریکارڈنگ ہمیں دکھائیں گے؟”

منہا نے سوال کیا

“نہیں۔۔۔ایسے کوئی نہیں دکھاتا۔۔۔کچھ سوچنا ہوگا”

نوریض نے سنجیدگی سے کہا

“نوریض ہم بابا کی ہیلپ لے سکتے ہیں نا۔۔۔۔ہوسکتا ہے وہ کچھ کرسکیں۔۔۔۔”

منہا نے سوچتے ہوئے کہا

“ہاں۔۔۔فرقان انکل کو ویسے بھی وہاں کافی لوگ جانتے ہیں۔۔۔ہوسکتا ہے کچھ کرسکیں وہ ۔۔۔۔ہمیں بات کرنی چاہیے”

نوریض نے بھی حامی بھری۔۔۔۔

مگر منہا سوچ میں ڈوبی تھی۔۔۔۔کیا ابراہیم راضی ہوگا فرقان صاحب کی ہیلپ لینے کے لیے؟

ناراضگی ہمیشہ تو نہیں رہے گی نا۔۔۔۔اس وقت میں تو وہ ہیلپ کریں گے؟”

منہا نے دل میں کہا۔۔۔۔۔

“ہاں وہ ضرور ہیلپ کریں گے۔۔۔اور میں۔۔۔ابراہیم کو بتاؤں گی نہیں۔۔۔۔کہ میں نے بابا کی ہیلپ لی تھی”

منہا نے دل ہی دل میں فیصلہ کیا ۔۔۔۔