Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Blind Friends (Episode - 21)

Blind Friends By Isra Rao

“ایدہ آرب غلط نہیں ہے”

کمیل نے فوراً کہا

“تم میرے بھائی ہو یا اس کے؟”

وہ پوچھنے لگی

“بات رشتے کی نہیں ہے حق بات کی ہے۔۔۔۔احد تمہاری زمہ داری ہے”

کمیل نے سنجیدگی سے کہا

“تو میں سنبھالتی ہوں نا”

وہ صفائی دینے لگی

“تم اگر سنبھالتی تو آبی تمہیں بنا بتائے حیدرآباد نہیں جاتا”

کمیل نے کاٹ دسر لہجے میں کہا

“پتا نہیں میں نے کیا سوچ کر اس سے شادی کی تھی”

ایدہ نے جھنجھلا کر کہا

“بس ہوگئی محبت ختم؟۔ اس لیے تم نے منہا کو سائیڈ کر کے آبی سے شادی کی تھی”

کمیل نے احساس کروایا

ایدہ نے سر جھٹکا۔۔۔۔

مگر دماغ منہا پر اٹک گیا۔۔۔۔

“منہا پتا نہیں کیسی ہوگی؟ “

وہ کہنے لگی

“منہا کا تو پتا نہیں مگر ایبو کی کمپنی اچھی چل رہی ہے۔۔۔۔”

کمیل نے فوراً بتایا

“تم ملے تھے؟” وہ پوچھنے لگی

“ہاں ایک دو بار۔۔۔سر سری سی ملاقات بس۔۔۔۔”

کمیل نے سادگی سے کہا

“کمیل ہمیں اب انہیں منانا چاہیے پھر سے۔۔۔۔۔”

ایدہ کہنے پر وہ سوچ میں ڈوب گیا۔۔۔۔

کیوں کہ جو بھی تھا ان تین سالوں میں وہ لوگ بھلائے نہیں گئے تھے۔۔۔۔

❤️❤️❤️❤️❤️..

“اماں بی اپنا خیال رکھیے گا”

منہا نے ان کے گلے ملتے ہوئے کہا

“خوش رہو” وہ اسے پیار کرنے لگی

“اماں بی کبھی مجھے تو ایسے پیار نہیں کیا آپ نے؟”

ابراہیم نے خفگی سے گلہ کیا۔۔۔۔

“ہاں اب مجھے منہا زیادہ عزیز ہے۔۔۔اور خبردار جو اسے تنگ کیا یا جھگڑا کیا”

انہوں نے تلخی سے تنبیہ کی۔۔۔۔

“اماں بی میں کہاں کرتا ہوں جھگڑا معصوم ہوں”

وہ منہ بناتا کہنے لگا۔۔۔۔

پھر اماں بی کے ماتھے پر پیار کرتا۔۔۔۔ان سے ملا۔۔۔۔۔

“آپ نے اپنا بہت خیال رکھنا ہے۔۔۔۔اور مجھے کال بھی کرنی ہے”

اماں بی نے ابراہیم اور منہا کو حکم دیا۔۔۔

انہوں نے حامی بھری

پھر سونیا بیگم اور عظمیٰ بیگم سے ملے۔۔۔۔

“تم بھی چلو زیمل ہمارے ساتھ”

منہا نے کہا

“میرا دل تو بہت ہے مگر امی نہیں مانیں گی۔۔۔”

زیمل نے منہ بنا کر کہا

“امی کو میں منا لوں گی۔۔۔تم چلو بس”

منہا نے مسکرا کر کہا

“نہیں۔۔۔۔یہ نہیں جائے گی۔۔۔ابھی ایگزامز ہیں اس کے”

عظمیٰ بیگم نے فوراً کہا

“ایگزامز تک واپس آجائے گی چچی۔۔۔”

منہا نے منت کی

“نہیں۔۔۔یہ ایگزامز کے بعد آجائے گی کراچی۔۔۔ابھی نہیں”

انہوں نے اٹل کہا۔۔۔

اور منہا نے منہ بنا کر زیمل کو دیکھا۔۔۔۔

❤️❤️❤️❤️❤️..

“ہیپی برتھ ڈے ٹو یو۔۔۔۔۔” وہ سب تالیاں بجارہے تھے۔۔۔کشمالہ بھی خوشی سے تالیاں بجانے لگی۔۔۔۔

“کتنی کیوٹ لگ رہی ہے”

منہا نے ہنستے ہوئے کہا۔۔۔۔

“کشمالہ جاؤ آنٹی کو کھلا کر آؤ”

نوریض نے منہا کی جانب اشارہ کیا

وہ منہا کی جانب کیک لے کر گئی۔۔۔

جسے مسکرا کر منہا نے کھایا۔۔۔۔

اور اسے پیار کرنے لگی

“رتبہ کھانا لگادو”

نوریض نے رتبہ کی جانب اشارہ کیا جو ابراہیم سے باتیں کرنے میں مصروف تھی۔۔۔۔

اور خود سیڑھیوں کی جانب بڑھ گیا۔۔۔۔

“ایک منٹ نوریض”

منہا نے آواز دی

وہ رکا مگر پلٹا نہیں۔۔۔۔

“نوریض تم ناراض ہو مجھ سے؟” منہا نے سوال کیا

“نہیں میں تم سے کیوں ناراض ہونے لگا”

وہ پلٹ کر اسے دیکھ کہنے لگا

“پھر تم مجھ سے بھاگتے کیوں ہو؟ ملتے بھی نہیں”

منہا نے شکایت کی

“نہیں۔۔۔ایسی تو بات نہیں۔۔۔”

نوریض نے یہاں وہاں دیکھا۔۔۔

وہ اس سے نظر نہیں ملانا چاہتا تھا ۔۔۔۔

“تو پھر کیسی بات ہے”

وہ سینے پر ہاتھ باندھے پوچھنے لگی

“تم یہ سب مت سوچو۔۔۔بس ایبو کو دل سے اپنا لو منہا۔۔۔۔وہ تم سے۔۔۔۔۔”

اس سے پہلے نوریض اپنی بات پوری کرتا منہا نے ٹوکا

“اوہ۔۔۔۔اور یہ سب تم سے ایبو نے کہا ہوگا۔۔۔۔”

منہا کے تیور بگڑے

میں نے کیا کہ دیا؟” پیچھے سے آتے ابراہیم نے پوچھا

“ہاں تمہیں تو یہی آتا ایبو۔۔۔میری چغلیاں کرو بس۔۔۔۔۔”

منہا نے غصے سے پلٹ کر کہا

“اوہ۔۔۔۔میں نے کب کرلی۔۔۔اور میں کیوں کروں گا میں ڈرتا ہوں کیا تجھ سے؟”

وہ بھی غصے میں آیا

“کیا ہوگیا دونوں لڑ کیوں رہے ہو؟”

رتبہ وہاں آئی

نوریض نے ماتھے پر ہاتھ مارا۔۔۔۔۔

“تم کیا کہ رہی تھی عزت دو۔۔۔یہ لائق ہے۔۔۔دل تو کرتا ہے منہ توڑ دوں اس کا”

منہا نے رتبہ سے شکایت کی

“یہی بات اگر۔۔۔۔اگر نوریض نے کہی ہوتی نا میں پتا نہیں کیا کرتا۔۔۔۔تم لیڈیز ہو”

ابراہیم نے تیش سے کیا

نوریض نے ابراہیم کو گھورا۔۔۔۔۔

“اوہ۔۔۔۔لیڈیز۔۔۔۔بولو نا ہمت نہیں ہے”

منہا نے الٹ کہا

“کیا ہوگیا۔۔۔۔نوریض ابراہیم بھائی کو لے کر جاؤ”

رتبہ نے جھگڑا ختم کروایا اور منہا کو ساتھ لیے روم میں آگئی۔۔۔۔

“کیا ہوگیا منہا ۔۔۔۔شوہر ہے وہ تمہارا”

رتبہ نے سمجھاتے ہوئے کہا

“ایسے شوہر کی ایسی کی تیسی۔۔۔۔۔چغلیاں کرتا پھرتا ہے۔۔۔۔کل بھی امی سے چغلی کر رہا تھا میں نے خود پکڑا اسے”

منہا نے غصے سے کہا

“انہوں نے کچھ نہیں نوریض سے نا مجھ سے تم غلط سمجھ رہی ہو ۔۔۔۔وہ بہت اچھے ہیں۔۔۔۔”

رتبہ نے کہا

“تم نہیں جانتی اسے میں بہت اچھے سے جانتی ہوں۔۔۔دوست ہے میرا”

وہ الٹا رتبہ کو سمجھانے لگی

“میں نہیں مانتی۔۔۔۔وہ پیٹ پیچھے تمہاری برائی کرے۔۔۔۔ادھر آؤ”

رتبہ نے اسے ہاتھ پکڑ کر اٹھایا

اور باہر لے آئی۔۔۔۔

جہاں نوریض اور ابراہیم صوفے پر بیٹھے باتیں کر رہے تھے۔۔۔۔

“تم کہ رہی تھی نا کہ نوریض سے چغلیاں کرتا ہے۔۔۔خود سن لو”

رتبہ نے کہا

منہا خاموشی سے سننے لگی

“ایبو یار تیری بیوی ہے وہ۔۔۔۔عزت کیا کر”

نوریض نے سمجھایا

“وہ عزت کے لائق ہے۔۔۔۔تو نے دیکھا نا کتنی بدتمیزی کی۔۔۔۔اسے صبح شام موچڑے پڑنے چاہیے”

ابراہیم نے تپ کر کہا۔۔۔۔

منہا نے مڑ کر پیچھے کھڑی رتبہ کو دیکھا۔۔۔۔

جو شرمندگی سے سر جھکا گئی۔۔۔۔

ابراہیم نے رتبہ کے مان کا کچرا کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی تھی۔۔۔۔

“وہ پیار کے لائق بھی نہیں عزت کے لائق بھی نہیں۔۔۔۔لڑتی ہے تجھ سے۔۔۔۔یسا کر چھوڑ دے اسے جان چھڑوا”

نوریض نے صوفے سے ٹیک لگائی

“دماغ ٹھیک ہے۔۔۔۔۔چھوڑ نہیں سکتا میں اسے”

ابراہیم نے فوراً کہا

“چل ایسا کر گھر پھینک آ۔۔۔یہاں دوسری شادی کرلے”

نوریض کے مشورے پر منہا نے ایک بار پھر سے رتبہ کو دیکھا۔۔۔۔

جو ایک پل کے لیے ابراہیم کی بات سن کر خوش ہی ہوئی تھی۔۔۔کہ نوریض کے مشورے نے اسے زمین بوس ہونے پر مجبور کیا تھا۔۔۔

اب تو عہ خود پچھتا رہی تھی کہ وہ منہا کو یہاں لائی کیوں؟

“نہیں۔۔۔۔تو پاگل ہوگیا کیا”

ابراہیم نے ٹوکا

“کیوں تو ہی تو تنگ ہے اس سے؟”

نوریض نے الٹ پوچھا

“تنگ بھلے ہوں۔۔۔مگر میں اس کے بنا رہ نہیں سکتا یار۔۔۔۔مجھے اس کی لڑائی کی عادت ہوگئی۔۔۔۔میرا اس کے بنا دل نہیں لگتا۔۔۔۔”

ابراہیم کی بات سن رتبہ اور منہا دونوں چونکی۔۔۔۔

“تجھے اس سے محبت ہوگئی ہے؟” نوریض نے پوچھا ۔۔

“ہاں شاید۔۔۔۔تجھے پتا ہے نوریض مجھے وہ دنیا کی سب سے خوبصورت لڑکی لگتی ہے۔۔۔۔جسے دوست ہوکر شاید میں نے کبھی نوٹس ہی نہیں کیا تھا۔۔۔”

ابراہیم نے مسکرا کر کہا۔۔۔۔

پیچھے کھڑی رتبہ نے منہا کے کاندھے پر ہاتھ رکھا۔۔۔۔

وہ چپ چاپ مڑ کر اندر چلی گئی۔۔۔۔

❤️❤️❤️❤️❤️..

(ہاں شاید۔۔۔۔تجھے پتا ہے نوریض مجھے وہ دنیا کی سب سے خوبصورت لڑکی لگتی ہے۔۔۔۔جسے دوست ہوکر شاید میں نے کبھی نوٹس ہی نہیں کیا تھا۔۔۔)

وہ کھڑکی سے باہر دیکھتی سوچ میں ڈوبی تھی گاڑی کب رکی اسے پتا ہی نہیں چلا۔۔۔۔

“منہا۔۔۔۔منہا”

ابراہیم کے پکارنے پر اس نے چونک کر دیکھا۔۔۔۔

“گھر آگیا چلو۔۔۔۔”

وہ کہتا گاڑی سے باہر نکلا۔۔۔۔

منہا بھی خاموشی سے باہر نکل کر اندر کی جانب بڑھ گئی۔۔۔۔

منہا نے بیگ صوفے پر پھینکا اور کچن کی جانب بڑھ گئی۔۔۔۔

پانی کی بوتل نکال گلاس میں ڈالنے لگی۔۔۔۔

“منہا ایک گلاس پانی دینا”

ابراہیم نے آواز لگائی اور صوفے پر جا بیٹھا۔۔۔۔

منہا نے گلاس میں پانی ڈالا اور اسے دیا۔۔۔۔

جسے ابراہیم نے تھام لیا۔۔۔۔

“چائے بناؤں؟”

منہا نے سوال کیا۔۔۔

ہاں” ابراہیم مسکرایا

اسے لگا منہا ساری لڑائی بھول گئی ہے۔۔۔۔

منہا کچن کی جانب بڑھ گئی…

ابراہیم اٹھ کر سلیب کی جانب کھڑا ہوا

“تمہیں پتا ہے گھر کتنا خالی ہوگیا تھا تمہارے بنا”

ابراہیم نے مسکرا کر کہا

“اچھا تمہیں تو خوشی ہوئی ہوگی۔۔۔جان چھوٹی”

منہا نے مسکراہٹ دبائی۔۔۔۔

“نہیں۔۔۔یار الٹا میں نے تمہیں مس کیا بہت”

ابراہیم نے فوراً کہا

“کیوں مس کیا؟”

وہ پوچھنے لگی

“وہ مجھ سے باہر کے کھانے نہیں کھائے جاتے”

ابراہیم نے ناک سے مکھی اڑائی

“پکڑو”

منہا نے پلٹ کر اسے دیکھا۔۔۔۔

پھر چائے کا کپ اسے تھمایا۔۔۔۔

“مزاق کر رہا ہوں۔۔۔۔۔” ابراہیم نے ہنس کر کہا۔۔۔۔

منہا خاموشی سے چائے پینے لگی۔۔۔۔

اور جا کر صوفے پر بیٹھی۔۔۔۔

“ناراض ہو؟” ابراہیم اس کے برابر بیٹھا۔۔۔۔

“نہیں۔۔۔۔” منہا نے اسے دیکھ نفی میں سر ہلایا۔۔۔۔

وہ چائے کی سپ لینے لگا۔۔۔۔

“ایم سوری۔۔۔۔۔”

منہا نے ابراہیم کو دیکھ کہا

“سوری کیوں؟” وہ ناسمجھی سے پوچھ بیٹھا

“میں کچھ زیادہ ہی غصہ کرجاتی ہوں کبھی کبھی”

منہا نے چائے کا کپ رکھتے ہوئے کہا۔۔۔۔

پھر اٹھ کھڑی ہوئی

“کہاں جارہی ہو؟”

ابراہیم نے قریب آکر پوچھا

“اپنے روم میں” منہا نے شانے اچکا کر جواب دیا

“یار منہا۔۔۔۔ایم سوری۔۔۔۔” ابراہیم نے اس کے ہاتھوں کو تھاما

منہا خاموشی سے اسے دیکھ رہی تھی۔۔۔۔۔

“مجھے پتا ہے میں نے غلط کیا تمہارے ساتھ۔۔۔مگر تم خود سوچو یار۔۔۔۔تم میری بیوی ہو۔۔۔۔میں اگر تمہارے پاس نہیں آؤں گا تو کس کے پاس جاؤں گا۔۔۔اور اس دن کے بعد سے تو میں نے تمہیں ہاتھ بھی نہیں لگایا”

وہ نرمی سے سمجھانے لگا

“ایبو تم لڑتے بہت ہو مجھ سے”

منہا نے گلہ کیا

“اب نہیں لڑوں گا سچی۔۔۔۔پلیز۔۔۔یار کیا ہم ایک نئی زندگی کی شروعات نہیں کرسکتے ۔۔۔کیا ہم اس رشتے کو نبھانے کی کوشش نہیں کرسکتے؟”

وہ اس کی آنکھوں میں دیکھتا پوچھنے لگا۔۔۔

“میری ساری باتیں مانو گے؟”

منہا نے مسکرا کر پوچھا

“میں جورو کا غلام بن جاؤں گا۔۔۔۔خوش” ابراہیم نے ہنس کر جواب دیا

“میں اپنا سامان لاتی ہوں”منہا کھل کر مسکرائی۔۔۔۔اور روم کی جانب جانے لگی کہ ابراہیم نے اس کا ہاتھ پکڑ اسے واپس کھینچا۔۔۔۔

“سامان کہاں بھاگا جارہا ہے۔۔۔بعد میں لے لیں گے”

ابراہیم نے محبت بھرے لہجے میں کہا۔۔۔۔

اور اسے اپنی گود میں اٹھایا۔۔۔۔

“ایبو۔۔۔۔یہ کیا کر رہے ہو؟” منہا نے پوچھا

“غلامی۔۔۔۔۔” اسے بیڈ پر لٹاتے ہوئے کہنے لگا۔۔۔۔

“میں واپس اپنے روم میں جارہی ہوں”

منہا نے فوراً کہا

“ڈارلنگ اب نہیں جاسکتی” وہ اپنی شرٹ اتارتے شرارت بھرے لہجے میں کہنے لگا۔۔۔۔

“ڈارلنگ کسے بول رہے ہو؟ تھپڑ کھاو گے”

منہا نے غراتے ہوئے کہا

“رومانس نہیں کرنے دینا مجھے”

ابراہیم نے ہاتھ میں پکڑی شرٹ اس کے منہ پر دے ماری۔۔۔۔

“جاہل انسان۔۔۔۔۔” منہا نے جھنجلا کر کہا۔۔۔۔۔

“کچھ بھی بول لے تو مجھےروک نہیں سکتی۔۔۔۔۔” ابراہیم کہتا شرارت سے اس پر جھکا اور منہا نے ڈر سے آنکھیں زور سے میچ لی۔۔۔

ابراہیم ناچاہتے ہوئے بھی قہقہہ لگا کر ہنس دیا۔۔۔۔

❤️❤️❤️❤️❤️❤️..

“میں مام کے پاس گیا تھا”

آرب نے کہا

“جہاں بھی گئے تھے تمہیں بتا کر جانا چاہیے تھا آبی۔۔۔”

ایدہ نے غصے سے کہا

“میں تمہارا غلام نہیں ہوں۔۔۔جو تم سے پرمیشن لے کر جاوں”

آرب نے غراتے ہوئے کہا

“تم میرے شوہر ہو اور میں تمہاری بیوی جو تم مجھے مانتے نہیں۔۔۔۔۔مجھے پتا ہونا چاہیے کہ میرا شوہر میرا بیٹا کہاں ہے”

ایدہ نے سنجیدگی سے کہا

“اوہ شوہر اور بیٹے کا خیال تمہیں ہے کب۔۔۔۔۔؟

میرا بیٹا دو سال سے زیادہ کا ہوگیا وہ بولتا نہیں ہے۔۔۔۔۔تمہیں کوئی فکر ہے؟”

وہ کاٹ دار لہجے میں پوچھنے لگا

“اس کا علاج چل رہا ہے ہے ہنی”

وہ سمجھانے لگی

“علاج مائے فٹ۔۔۔۔بچے کا علاج صرف ایک ماں کرسکتی ہے۔۔۔۔اس کی توجہ کرسکتی ہے۔۔۔۔مگر تم نے تو احد کو پیدا کر کے مجھ پر احسان کردیا ہے۔۔۔۔اسے ملازموں کے حوالے چھوڑ دیا ہے”

آرب نے سرخ چہرے سے کہا

“کیسی باتیں کررہے ہو آبی”

وہ روہانسی ہوئی

“ایدہ ایک بات بتادوں اگر میرے بیٹے کو کچھ بھی ہوا۔۔۔تو میں تمہیں زندہ نہیں چھوڑوں گا اپنے ہاتھوں سے ماروں گا تمہیں۔۔۔۔سمجھ آئی”

وہ اسے وارننگ دیتا باتھروم کی جانب بڑھ گیا۔۔۔

اور ایدہ سر جھٹک کر رہ گئی۔۔۔۔

❤️❤️❤️❤️❤️..

وہ کچن میں کھڑی ناشتہ بنانے میں مصروف تھی جب پیچھے سے ابراہیم نے اسے اپنے حصار میں لیا۔۔۔۔

“ایبو تیار ہوجاؤ دیر ہورہی ہے تمہیں” وہ مسکرا کر کہنے لگی۔۔۔۔

“یار دل نہیں کررہا میرا جانے کا”

وہ منہ بناتا کہنے لگا۔۔۔۔

“جانا تو پڑے گا”

منہا نے کہا

“اچھا پھر شام کو تیار رہنا باہر چلیں گے”

ابراہیم نے اس کے گیلے بالوں سے اٹھتی مہک کو اگنور کرتے سیدھے ہوکر کہا۔۔۔۔

“کہاں؟” وہ پلٹی

“جہاں تم کہو؟” ابراہیم نے محبت بھری نظروں سے اسے دیکھا

“ٹھیک ہے میں سوچ کر بتاؤں گی۔۔۔۔ابھی جاؤ ریڈی ہوجاؤ”

منہا نے حکم دیا۔۔۔۔

اور وہ روم کی جانب بڑھ گیا۔۔۔۔

❤️❤️❤️❤️❤️..

“کافی خوش لگ رہا ہے؟” نوریض نے پوچھا

“ہاں ہوں تو”

وہ مسکرایا

“لگتا منہا کے ساتھ صلح ہوگئی”

نوریض نے شرارت سے پوچھا

“ہمارا جھگڑا کب ہوا تھا؟”

وہ پوچھنے لگا

“اوہ کیا یاداشت ہے۔۔۔۔ہمارے گھر میں کل جنگ عظیم ہوئی تھی “

نوریض نے چوٹ کی

“وہ تو ہمارا پیار تھا”

ابراہیم ہنسا

تبھی بیل بجی۔۔۔۔

ابراہیم نے اٹھایا

“سر کوئی کمیل رئیسی آپ سے ملنا چاہتے ہیں”

سیکریٹری کی بات سنتے ہی ابراہیم چونکا۔۔۔۔

“کمیل ۔۔۔۔۔”

وہ حیران ہوا ۔۔۔۔

“ٹھیک ہے بھیج دو”

اس نے کہتے ساتھ فون رکھا

“کامی یہاں کیوں آیا ہے؟”

ابراہیم نے سامنے بیٹھے نوریض سے کہا

“مل کر پتا لگے گا”

نوریض بھی حیران تھا

“کیسے ہو بڈی۔۔۔۔۔؟”

کمیل نے ہاتھ ملایا

“فائن۔۔۔۔۔”

نوریض نے جواب دیا

“تم لوگ تو بھول ہی گئے؟”

کمیل نے گلہ کیا

“نہیں۔۔۔نہیں تمہیں کیسے بھول سکتے ہیں؟”

نوریض نے کہا

“یہ کارڈ ہے میری برتھ ڈے پارٹی ہے۔۔۔فارم ہاؤس پر۔۔۔سب دوستوں کو بلایا ہے۔۔۔اور تم لوگ تو میرے بیسٹ فرینڈ ہو”

کمیل نے مسکرا کر کہا

ابراہیم خاموش تھا

“میں اور ایدہ تم لوگوں کو کبھی نہیں بھول سکتے “

کمیل نے محبت بھری نظروں سے کہا۔۔۔۔

نوریض اور ابراہیم نے ایک دوسرے کو دیکھا۔۔۔۔

“تھینک یو مگر میں بزی ہوں”

ابراہیم نے معزرت کی

کمیل خاموش ہوا۔۔۔۔

“ہاں میرے پاس بھی ٹائم نہیں ہے کامی۔۔۔۔سوری”

نوریض نے کہا

“کوشش ضرور کرنا” وہ اٹھ کھڑا ہوا

اور ان سے مل کر چلا گیا۔۔۔۔

❤️❤️❤️❤️❤️..

“میں جارہی ہوں۔۔۔۔احد کا خیال رکھنا”

ایدہ نے ملازمہ کو دیکھ کہا

“جی۔۔۔۔” ملازمہ نے ادب سے کہا اور احد کو گود میں اٹھایا

“اور ہاں آرب آئے تو کہنا احد کی میڈیسن لینے گئی ہے”

ایدہ نے بہانہ بتایا۔۔۔۔

اور باہر نکل گئی۔۔۔۔

وہ نکلی ہی تھی کہ آرب گھر میں داخل ہوا۔۔۔۔۔

“احد۔۔۔۔کم ہیئر” اس نے اشارا کیا۔۔۔۔

احد بھاگ کر آرب کے گلے لگا۔۔۔۔

وہ اسے گود میں اٹھائے پیار کرنے لگا۔۔۔۔

“یہ دیکھو پاپا آپ کے لیے چاکلیٹ لائے ہیں۔۔۔۔”

وہ اسے چاکلیٹ دکھاتا کہنے لگا۔۔۔۔

“ایدہ کہاں ہے؟” وہ ملازمہ سے پوچھنے لگا

“جی وہ احد بابا کی میڈیسن لینے گئی ہیں”

ملازمہ نے بتایا اور کچن کی جانب بڑھ گئی۔۔۔۔

وہ سر جھٹک کر رہ گیا۔۔۔۔

❤️❤️❤️❤️❤️..

“میرا انتظار کر رہی تھی؟” وہ پیار سے پوچھنے لگا

“نہیں تو” منہا نے نفی میں سر ہلایا

“میں تو کر رہا تھا کب شام ہو کب میں اپنی بیوی کے پاس جاؤں”

وہ محبت بھرے لہجے میں کہنے لگا

“اتنی چیزی لائنز کیسے مار لیتے ہو؟”

منہا نے ہنستے ہوئے ٹوکا

“تجھے پتا ہے منہا تو دنیا کی پہلی ایسی عورت ہے جسے شوہر کی رومینٹک باتیں چیزی لائنز لگتی ہیں۔۔۔۔۔”

وہ بدمزہ ہوا

“عورت نہیں ہوں میں ” منہا نے ٹوکا

وہ صوفے پر بیٹھا

“ایبو ایک فرمائش کروں میں؟”

منہا نے کہا

“دو کر” وہ مسکرا کر کہنے لگا

“شاپنگ پر چلیں” منہا نے کہا

“پیسے نہیں ہیں یار۔۔۔۔”ابراہیم نے بیچارگی سے کہا ۔۔۔

منہا نے کشن اٹھا کر اسے مارا۔۔۔۔

“بیویوں والی فرمائشیں شروع ہوگئی “

ابراہیم نے ہنستے ہوئے کہا

کل تو کہ رہے تھے جورو کا غلام بنوں گا”

منہا نے یاد دہانی کروائی

“میری بات سنو لڑکی۔۔۔۔مرد سے رات میں تم کوئی بھی وعدہ لے لو وہ بنا سوچے سمجھے کرلے گا۔۔۔۔”

ابراہیم نے شرارت چھپاتے کہا

“اور صبح مکر جائے گا جیسے تم مکر رہے ہو”

منہا نے اسے گھورا۔

“کب مکر رہا ہوں۔۔۔میں آپ کا غلام ہوں۔۔۔میڈم چلیں”

ابراہیم نے ادب سے کہا اور منہا مسکرا دی۔۔۔۔

❤️❤️❤️❤️❤️..

“وہ والی دکھائیں”

ابراہیم نے سینڈل کی جانب اشارہ کیا۔۔۔۔

“یہ میرے پاؤں میں اچھی نہیں لگے گی۔۔۔فٹ نہیں ہوگی۔۔۔”

منہا نے سینڈل دیکھ کہا

“میں پہناتا ہوں نا۔۔۔۔کیسے فٹ نہیں آئے گی”

ابراہیم نے زمین پر بیٹھتے ہوئے کہا۔۔۔۔

“ایبو۔۔۔۔۔میں خود پہن لوں گی”

وہ ہنسی

“کیوں مجھے پہنانی آتی ہے یار۔۔۔۔” وہ کہتا پہنانے لگا۔۔۔۔۔

منہا بغور اسے دیکھ رہی تھی۔۔۔

وہ شخص اس کے دل میں گھر کرتا جارہا تھا۔۔۔۔

ابراہیم نے پیمنٹ کی۔۔۔۔اور اس کا ہاتھ تھامے باہر آیا۔۔۔۔

تم یہاں بیٹھو میں کچھ کھانے کو لاتا ہوں”

ابراہیم اسے کرسی پر بٹھا کر چلا گیا۔۔۔۔

ابراہیم کی پسند کی سینڈل اس نے پاؤں میں پہنی تھی۔۔۔۔

وہ مسکراتی یہاں وہاں دیکھنے لگی ۔۔۔۔

کہ اس کی مسکراہٹ غائب ہوئی۔۔۔۔

سامنے ہی ایدہ کھڑی فون پر بات کر رہی تھی۔۔۔۔

منہا اسے دیکھ اٹھ کھڑی ہوئی۔۔۔۔

ناجانے کیوں اس کے قدم اس کی جانب بڑھ نے لگے۔۔۔۔

کتنے عرصے بعد اسے دیکھا تھا۔۔۔

وہ ویسی ہی تھی۔۔۔۔

ایدہ کی نظر اس پر پڑی۔۔۔۔۔ایدہ نے فون بند کیا۔۔۔۔

اور تیزی سے اس کی جانب بڑھی۔۔۔

چہرے پر مسکراہٹ تھی۔۔۔۔

“منہا۔۔۔۔کیسی ہو؟” وہ آگے بڑھ کر اس کے گلے لگنے لگی ہی تھی کہ منہا نے ہاتھ سے روکا۔۔۔۔

“تم نے ایسا کیوں کیا ایدہ۔۔۔تم تو میری دوست تھی”

وہ بھیگی آنکھوں سے سوال کرنے لگی

“میں اب بھی تمہاری دوست ہوں۔۔۔۔مجھے تم سے نفرت نہیں ہے۔۔۔۔نا کبھی کرسکتی ہوں۔۔۔۔میں دشمن نہیں ہوں تمہاری”

وہ نرمی سے صفائی دینے لگی۔۔۔۔

“تم دشمن ہو۔۔۔۔تم نے میری زندگی خراب کردی ایدہ”

وہ روتے ہوئے جھنجھلائی تھی۔۔۔

“منہا۔۔۔میری جان۔۔۔۔تجھے میری نیچر کا پتا ہے۔۔۔تو سمجھ سکتی ہے نا۔۔۔مجھے کوئی چیز پسند آجاتی ہے تو مجھے وہ ہر حال میں چاہیے ہوتی ہے”

وہ اسے شانوں سے تھامے سمجھانے لگی۔۔۔۔

“مگر آبی چیز نہیں تھا ایدہ۔۔۔۔وہ میرا سب کچھ تھا”

وہ اس کے ہاتھ جھٹک پوری قوت سے چلائی تھی۔۔۔۔

“منہا۔۔۔میری شادی ہوگئی ۔۔۔تیری بھی تو ہوگئی ہے نا۔۔۔۔سب بھول جا۔۔۔۔۔پلیز۔۔۔۔” وہ بات پوری کرتی اس سے پہلے ہی پیچھے سے آتے ابراہیم کی آواز پر دونوں چونکے۔۔۔۔

“کیا بھولنے کو کہ رہی ہے تو اسے۔۔۔۔۔”

وہ مسکراتا ہوا آیا تھا

“ایبو۔۔۔۔کیسے ہو؟ میں بس کہ رہی تھی اتنے دنوں بعد ملے ہیں کتنا اچھا لگ رہا ہے۔۔۔۔پرانے دن یاد آگئے۔۔۔۔”

اس نے جھٹ بات بدلی۔۔۔۔

مگر اس سے پہلے وہ کچھ کہتا منہا بنا کچھ کہے تیزی سے باہر کی جانب بھاگی۔۔۔۔

❤️❤️❤️❤️❤️..

(تم نے ایسا کیوں کیا میرے ساتھ ایدہ۔۔۔کیوں؟)

وہ روم میں آتے ہی ہچکیوں کے ساتھ رونے لگی۔۔۔۔

وہ اس کے پیچھے روم میں بھاگتا ہوا آیا۔۔۔۔

وہ زمین پر بیٹھی تھی۔۔۔پاؤں میں پہنی سینڈلز بھی نہیں اتاری تھی۔۔۔۔

“منہا کیوں رو رہی ہے تو؟” وہ اس کے پاس گھٹنوں کے بل بیٹھا۔۔۔۔

وہ بنا کوئی جواب دیے بس روئے چلے جا رہی تھی۔۔۔۔

آنسوں متواتر بہ رہے تھے۔۔۔۔

“ایدہ نے کچھ کہا ہے۔۔۔؟ ہوا کیا ہے بتائے گی مجھے؟” وہ اس کے چہرے کو بغور دیکھ رہا تھا۔۔۔۔

مگر وہ کوئی جواب نہیں دے رہی تھی۔۔۔۔

ابراہیم کو اب غصہ آنے لگا تھا۔۔۔۔

“یار بتائے گی نہیں تو کیسے پتا لگے گا ہوا کیا ہے؟ رونے سے کچھ ٹھیک نہیں ہوتا یار۔۔۔۔”

وہ بے بسی سے اٹھ کھڑا ہوا۔۔۔

مگر وہ سر جھکائے ہچکیوں سے روئے چلے جارہی تھی۔۔۔

“منہا۔۔۔۔یار تم بھول کیوں نہیں جاتی ہو سب کچھ۔۔۔۔۔؟”

وہ زمین پر بیٹھی لڑکی کو دیکھتے ہوئے کہنے لگا۔۔۔۔

“یو نو واٹ؟ تو کبھی چینج نہیں ہوسکتی۔۔۔ہاں ٹھیک ہے اس نے چھوڑ دیا تجھے۔۔۔۔ہر وقت کا رونا دھونا۔۔۔۔میں پھنس گیا ہوں تجھ سے شادی کر کے۔۔۔۔میری غلطی ہے۔۔۔مجھے کرنی ہی نہیں چاہیے تھی”

وہ غصہ سے بولتا چلا جارہا تھا۔۔۔۔

اس کی بات سنتے ہی جیسے روتی منہا چپ ہوئی۔۔۔ہتھیلی سے رگڑ کر آنسوں صاف کیے۔۔۔

اور کرنٹ کھا کر اٹھ کھڑی ہوئی۔۔۔۔

“تو کیوں کی تھی شادی؟ میں نے کہا تھا؟ تم نے خود کی تھی۔۔۔۔”

وہ غرائی تھی۔۔۔۔

“ایم سوری۔۔۔میرا وہ مطلب نہیں تھا”

وہ یک دم صفائی دینے لگا۔۔۔

“نہیں چھوڑ دو مجھے۔۔۔۔طلاق دو۔۔۔۔بولو ابھی بولو۔۔۔۔میں سن رہی ہوں۔۔۔۔تم بھی چھوڑ دو۔۔۔۔”

منہا نے غصے سے کہا۔۔۔۔

“تجھ سے بات کرنا ہی فضول ہے۔۔۔۔”

وہ کہتے ساتھ ہی باہر نکل گیا۔۔۔۔اور دروازہ زور سے مار کر بند کیا