Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Blind Friends (Episode - 20)

Blind Friends By Isra Rao

“کہاں تھی تم؟”

آرب نے تن کر سوال کیا

“بوتیک”

ایدہ نے جواب دیا

“ایدہ احد کی ابھی طبیعت ٹھیک ہوئی ہے۔۔۔۔اور تم ملازموں کے حوالے چھوڑ کر اسے بوتیک چلی جاتی ہو”

آرب نے سنجیدگی سے کہا

“ہاں تو کیا میں اس کی وجہ سے بوتیک بند کردوں؟”

وہ پوچھنے لگی

“ہاں بند کردو”

آرب نے کہا

“آبی تم چاہتے ہو میں احد کو لے کر گھر پر بیٹھ جاؤں؟ سیریسلی؟”

وہ حیران ہوئی

“ہاں میں یہی چاہتا ہوں۔۔۔۔پیسے میں کما رہا ہوں نا۔۔۔۔تم احد کو سنبھالو بس”

آرب نے فیصلہ سنایا

“ہاں مجھے پتا ہے کتنے پیسے کما رہے ہو تم۔۔۔۔چھوٹی سی جاب سے تم احد کو خوش رکھ سکتے ہو مجھے نہیں”

وہ طنزیہ کہنے لگی

“تم جانتی ہو مجھے اس جاب کی بھی ضرورت نہیں۔۔۔۔میں گھر پر بیٹھ کر بھی تمہارے اخراجات پورے کرسکتا ہوں”

آرب نے اسے دیکھ کہا

“اپنے ڈیڈ سے مانگ کر؟”

ایدہ نے چوٹ کی

“ہاں۔۔۔۔جب تم نے مجھ سے شادی کی تھی تب بھی میں ان سے ہی مانگتا تھا۔۔۔۔اگر تمہیں اب اعتراض ہے تو تب بھی ہونا چاہیے تھا۔۔۔مت کرتی مجھ سے شادی”

آرب نے غصے سے کہا

“آرب۔۔۔۔میں نے یہ نہیں کہا”

ایدہ نے فوراً ٹون چینج کی

“تم نے جو بھی کہا میں نے سن لیا اور سمجھ بھی لیا۔۔۔۔۔”

آرب کہتا غصے سے باہر نکل گیا۔۔۔۔

❤️❤️❤️❤️❤️..

اس کی جب آنکھ کھلی تو برابر سوئے ابراہیم پر اس کی نظر پڑی۔۔۔۔

تکیہ منہ پر رکھے سورہا تھا۔۔۔۔

وہ اسے دیکھ فوراً اٹھ بیٹھی۔۔۔۔

“ایبو کے بچے۔۔۔۔۔۔” اس نے تکیہ چھینتے ہوئے کہا

“کیا ہوا ہے؟”اس نے آنکھیں کھول اسے دیکھا

“اٹھو….کس سے پوچھ کر یہاں سوئے تم؟” وہ غصے سے کہنے لگی

“یار منہا۔۔۔صبح صبح دماغ نہیں خراب کرو”

وہ بڑبڑایا

“میں تمہیں جان سے مار دوں گی” اس نے ہاتھ میں پکڑا تکیہ اس کے منہ پر دے مارا

“کیا بکواس ہے۔۔۔سونے کیوں نہیں دے رہی؟”

وہ ہڑبڑا کر اٹھ بیٹھا۔۔۔۔

“تم میرے بیڈ پر کیوں آئے۔۔۔۔؟” وہ غصے سے پوچھنے لگی

“میرا بیڈ ہے یہ۔۔۔۔۔چماٹ لگادوں گا میں” وہ اکتا کر کہتا پھر سے لیٹ گیا

“لگاؤ۔۔۔۔لگاؤ نا۔۔۔۔۔میں کیا ڈرتی ہوں تم سے”

منہا نے غصے سے کہا۔۔۔مگر وہ پھر سے منہ پر تکیہ جمائے آنکھیں موند چکا تھا۔۔۔۔

منہا نے غصے سے ایک مکہ اس کے کاندھے پر رسید کیا مگر وہ ٹس سے مس نہ ہوا۔۔۔۔

منہا اٹھ کر واش روم کی جانب بڑھ گئی۔۔۔۔

اس کے جاتے ہی ابراہیم نے سر اٹھا کر اسے دیکھا۔۔۔۔۔

اس کی نیند وہ برباد کر کی تھی۔۔۔۔

❤️❤️❤️❤️❤️..

“اچھا آپ رونا تو بند کریں۔۔۔۔میں بات کروں گی ابراہیم سے”

سونیا بیگم نے اسے چپ کرواتے ہوئے کہا۔۔۔۔

“امی وہ روز مجھ سے لڑتے ہیں۔۔۔۔اور تو اور مجھے تھپڑ مارنے کی دھمکی دیتے ہیں۔۔۔۔۔”

وہ روتے ہوئے کہنے لگی۔۔۔۔

“چپ ہوجائیں بیٹا۔۔۔۔۔ایسے کیسے مارے گا ہم ہیں نا”

اماں بی نے فوراً کہا۔۔۔۔

“کیا ہوا ہے۔۔۔۔؟” فرقان صاحب کے کمرے میں آتے ہی سب خاموش ہوئے۔۔۔۔

منہا سیدھی ہوکر بیٹھی۔۔۔۔

“بیٹا رو کیوں رہی تھی آپ؟ ابراہیم نے کچھ کہا ہے؟”

انہوں نے اسے دیکھتے ہوئے پوچھا۔۔۔۔

منہا خاموش تھی۔۔۔۔

“زیمل بلا کر لاؤ ابراہیم کو”

فرقان صاحب نے حکم دیا۔۔۔۔

اور زیمل سر ہلاتی باہر چلی گئی۔۔۔۔

تھوڑی ہی دیر میں ابراہیم ان کے سامنے سر جھکائے بیٹھا تھا۔۔۔۔

“ہم نے یہ سکھایا ہے آپ کو۔۔۔کہ بیوی پر ہاتھ اٹھاؤ”

فرقان صاحب نے غصے سے پوچھا۔۔۔۔

“بابا میں نے کب ہاتھ اٹھایا؟” ابراہیم نے چونک کر منہا کو دیکھا۔۔۔۔

جو سونیا بیگم کے گلے لگی ہوئی تھی۔۔۔۔

اور معصومیت کا ڈھونگ پیک پر تھا

“آپ نے منہا کو مارنے کی دھمکی دی ہے۔۔۔۔”انہوں نے پھر سے کہا۔۔۔

“نہیں بابا یہ جھوٹ بول رہی ہے۔۔۔۔۔”

ابراہیم نے فوراً کہا۔۔۔

“ابراہیم بس۔۔۔۔ آپ بڑے ہوگئے ہیں شادی ہوگئی آپ کی۔۔۔۔منہا کا خیال رکھنا اسے خوش رکھنا آپ کا فرض ہے۔۔۔۔”

انہوں نے سنجیدگی سے کہا

“جی بابا۔۔۔۔۔” ابراہیم نے نظر جھکائے بس اتنا کہا۔۔۔۔

“آپ سے منہا کا خیال نہیں رکھا جارہا تو بتا دیں۔۔۔۔وہ یہیں رہے گی۔۔۔۔۔”

انہوں نے اسے دیکھتے ہوئے پوچھا

“جی بابا میں یہیں رہنا چاہتی ہوں”

منہا نے فوراً کہا

“نہیں بابا۔۔۔آئندہ آپ کو شکایت کا موقع نہیں ملے گا۔۔۔۔میں خیال رکھ لوں گا”

ابراہیم نے سادگی سے جواب دیا۔۔۔۔

منہا منہ کھولے اسے دیکھ رہی تھی۔۔۔۔۔

فرقان صاحب کے جاتے ہی ابراہیم نے ابرو اچکا کر اسے دیکھا۔۔۔۔

“چلیں کراچی؟”

ابراہیم نے مسکرا کر پوچھا۔۔۔۔

“امی میں نہیں جاؤں گی اس کے ساتھ”

منہا نے سونیا بیگم کی جانب دیکھا۔۔۔۔

“یہ آئیندہ تنگ نہیں کرے گا آپ کو۔۔۔۔۔” اماں بی نے کہا

“اماں بی مجھے یہیں رہنا ہے۔۔۔۔مجھے نہیں جانا کراچی۔۔۔”

منہا نے فوراً ضد کی

“یہ نہیں جانا چاہتی تو یہیں رہنے دیں نا۔۔۔” عظمیٰ بیگم نے کہا

“چچی مجھ سے باہر کے کھانے نہیں کھائے جاتے۔۔۔۔” ابراہیم نے صفائی دی

“تو شیف رکھ لو نا۔۔۔۔۔میں تو نہیں جاؤں گی۔۔۔میرے ویسے پاؤں میں درد ہے۔۔۔۔”

اس نے منہ بنا کر کہا۔۔۔۔

“صحیح تو کہ رہی ہے۔۔۔پاؤ ٹھیک ہوجائے تو لے جانا۔۔۔ایک ہفتہ چھوڑ دو اسے ۔۔۔”

اماں بی نے منہا کو لاڈ کرتے ہوئے کہا

“مگر اماں بی۔۔۔۔۔” ابراہیم کچھ کہنے لگا تھا کہ سونیا بیگم نے ٹوکا

“کیا ہوگیا ابراہیم۔۔۔۔ضد نہیں کرتے”

انہوں نے نرمی سے کہا۔۔۔۔

ابراہیم نے اثبات میں سر ہلایا اور اٹھ کھڑا ہوا۔۔۔

“اچھا میں جارہا ہوں۔۔۔۔۔میٹنگ ہے میری۔۔۔۔۔” وہ گھڑی دیکھتا کہنے لگا۔۔۔۔

پھر ماں سے گلے ملا۔۔۔۔

“اللہ حافظ اماں بی۔۔۔۔۔” اس نے انہیں جھک کر پیار کرتے کہا۔۔۔۔

ایک نظر مسکرا کر پاس بیٹھی منہا پر ڈالی جو منہ پھلائے اسے دیکھ رہی تھی۔۔۔۔

جان چھوٹے گی” وہ بڑبڑائی۔۔۔۔۔

❤️❤️❤️❤️❤️..

“منہا ساتھ نہیں آئی؟”

نوریض نے پوچھا۔۔۔۔

“نہیں یار۔۔۔۔۔گھر ہے۔۔۔۔ضد کر کے بیٹھی ہے “

ابراہیم نے چائے کا کپ اٹھاتے ہوئے کہا

“جھگڑا ہوا تم دونوں کا؟”

وہ پوچھنے لگا

“ہر روز ہی لڑتی ہے وہ تو۔۔۔۔۔”

اس نے سر جھٹکا

“تونے کچھ تو بولا ہوگا بلا وجہ تو نہیں لڑے گی”

نوریض نے چائے کی سپ لیتے ہوئے کہا ۔۔۔۔

“میں نے کچھ نہیں بولا۔۔۔۔تیری بات مانی بس اب وہ اور بھی ناراض ہوگئی”

اس نے اکتا کر کہا

“کون سی بات؟” وہ پوچھنے لگا

“تونے ہی کہا تھا بیوی بنا دوست نہیں۔۔۔۔پیار دے غصہ نہیں۔۔۔۔۔”

وہ یاد دہانی کروانے لگا۔۔۔۔

“ہاں تو؟”

وہ اسے دیکھنے لگا

“تو میں نے بیوی بنا لیا۔۔۔۔۔بس”

وہ چائے پیتا معصومیت سے کہنے لگا ۔۔۔۔

“نہ کر۔۔۔۔۔۔” نوریض سے اگلی گھونٹ نہیں اتری۔۔۔۔

“ہاں۔۔۔۔۔۔”ابراہیم نے مختصر کہا

“اور اس نے تجھے زندہ چھوڑ دیا؟ کمال ہے؟” نوریض نے حیرت سے پوچھا

“کہاں۔۔۔۔پورے گھر کا سامان الٹ دیا۔۔۔۔یہ یہاں بازوں پر چمچ مارا تھا ابھی تک درد ہے”

ابراہیم نے بازو کی جانب اشارہ کیا۔۔۔۔

اور نوریض ہنس ہنس کر لوٹ پوٹ ہونے لگا۔۔۔۔۔

“یہ سب تیری وجہ سے ہوا ہے” ابراہیم نے اسے گھورا

“ابے کمینے میں نے تجھے ایسا کرنے کو کب کہا۔۔۔۔۔”

نوریض نے ہنسی روکتے ہوئے کہا

“یار وہاں گھر میں رو رو کر سب کو میرے خلاف کیا ہوا ہے اس نے۔۔۔۔”

ابراہیم نے بیچارگی سے کہا

تو نے حرکت ہی ایسی کی ہے۔۔۔۔۔کتا بھی منہ چاٹ لے۔۔۔۔”

نوریض نے ہنس کر طنز کیا

“تیری وجہ سے ہوا ہے سب۔۔۔۔اب تو ہی حل کرے گا مسئلے کو”

ابراہیم نے اسے گھورتے ہوئے کہا۔۔۔۔

“کچھ سوچتے ہیں۔۔۔تو چائے پی”نوریض نے مسکرا کر کہا

اور وہ چائے پینے لگا۔۔۔۔

❤️❤️❤️❤️❤️..

“کمیل کہا ہے؟” اس نے گھر میں آتے ہی ملازمہ سے پوچھا۔۔۔۔

“وہ اپنے روم میں ہیں۔۔۔۔۔۔”

ملازمہ نے کہا۔۔۔۔

“ٹھیک ہے۔۔۔میں۔ دیکھ لوں گی۔۔۔”

وہ کہتی سیڑھیاں چڑھتی اس کے روم تک گئی اور دستک دے کر اندر داخل ہوئی

۔۔۔۔

“کمیل۔۔۔۔۔” وہ سامنے بیڈ پر بیٹھا تھا۔۔۔۔سلیو لیس شرٹ پہنے۔۔۔۔

ہاتھ میں ٹشو تھا۔۔۔جس سے بار بار وہ ناک صاف کر رہا تھا

“طبیعت کیسی ہے؟”

وہ اندر آتے ہی پوچھنے لگی۔۔۔۔

وہ ہمیشہ کی طرح بالوں کو پیچھے رومال سے قید کیے ۔۔۔۔

ایک دو لٹ ماتھے پر ڈالے۔۔۔۔۔

جنس پر براون شرٹ پہنے پرکشش دکھ رہی تھی۔۔۔۔

کمیل اسے دیکھ مسکرایا

“آگیا تمہیں میرا خیال”

وہ خفگی سے کہنے لگا

“یار میں اتنی بزی تھی۔۔۔۔افس میں ۔۔۔باباکی طبیعت ٹھیک نہیں تھی “

وہ صفائی دینے لگی

“آفس جوئن کرلیا تم نے ؟”

وہ پوچھنے لگا

“ہاں ۔۔۔۔بابا نے اتنا فورس کیا کچھ دن کے لیے۔۔۔۔مجھے سنبھالنا پڑے گا”

وہ بیچارگی سے کہنے لگی

“اچھی بات ہے۔۔۔۔اب تمہیں سنبھالنا چاہیے”

وہ کہنے لگا۔۔۔۔

کمیل کو اس کے ساتھ وقت کا پتا ہی نہیں لگا۔۔۔۔

احساس تب ہوا جب وہ اٹھ کر جانے لگی

“کامی۔۔۔۔۔” ایدہ کمرے میں داخل ہوئی اسے دیکھ مسکرائی۔۔۔۔

“کیسی ہو انابیہ ؟” ایدہ نے پوچھا

“فائن۔۔۔تم کیسی ہو ایدہ؟” وہ بھی پوچھنے لگی۔۔۔۔

“بلکل ٹھیک ۔۔بیٹھو نا”

ایدہ نے فوراً کہا

“نہیں۔۔۔مجھے دیر ہورہی ہے کام ہے کچھ ۔۔۔تم دونوں باتیں کرو۔۔۔۔ٹیک کیئر”

وہ کہتی باہر چلی گئی۔۔۔۔

“کیا چل رہا ہے؟”ایدہ نے اس کے جاتے ہی کمیل کو دیکھا۔۔۔۔

“کچھ بھی نہیں”

کمیل مسکرایا

“بابا سے بات کروں کیا؟” ایدہ نے پوچھا

“پہلے میں اس سے تو بات کرلوں” کمیل ہنسا

“کیا مطلب تو ے بتایا نہیں اسے ابھی تک؟”

ایدہ حیران ہوئی

“تیرا کچھ نہیں ہوسکتا کامی۔۔۔۔۔”

ایدہ اکتا کر کہتی صوفے پر بیٹھی۔۔۔۔

❤️❤️❤️❤️❤️..

“یہ کیا کیا ابراہیم بھائی نے؟” رتبہ نے منہ پر ہاتھ رکھا

“الٹا ہم پر الزام ڈال رہا اب”

نوریض نے کہا

“اب تو وہ اور بھی ناراض ہوگئی ہوگی”

رتبہ نے فوراً کہا

“ہاں۔۔۔حویلی ہے۔۔۔کراچی آنے پر راضی نہیں ہے وہ۔۔۔۔۔”

نوریض نے بتایا

“ابراہیم بھائی کو منانا چاہیے اسے”

رتبہ نے مشورہ دیا

“وہ بڑی ٹیڑھی ہے۔۔۔تم جانتی نہیں اسے ابھی۔۔۔۔”

نوریض نے کہا

“کسی بہانے سے بلاتے ہیں نا۔۔۔۔یہاں بلا کر سب مل کر اسے سمجھائیں گے تو شاید سمجھ جائے”

رتبہ نے کہا

“کیا بہانہ”

وہ سوچنے لگا

“کشمالہ کی برتھ ڈے ہے۔۔۔اسے انوائیٹ کرتے ہیں”

رتبہ نے فوراً مسکرا کر کہا۔۔۔

اور نوریض نے سر کو خم دیا۔۔۔۔

❤️❤️❤️❤️❤️..

“یار میرا دل نہیں لگ رہا” ابراہیم نے کھانا پلیٹ میں ڈالتے ہوئے کہا۔۔۔۔

“تو لے آ منہا کو”

نوریض نے کہا

“آئے گی نہیں ۔۔ضدی ہے بہت”

ابراہیم نے اکتا کر کہا

“کشمالہ کی برتھ ڈے ہے پرسوں یا پتا آجائے”

نوریض نے کہا

“آ ہی نا جائے” ابراہیم نے منہ بنایا

“تو کل چلا جا۔۔۔کام کو میں دیکھ لوں گا”

نوریض نے کہا

“ہاں صبح جاؤں گا”

اس نے فون بند کیا۔۔۔۔

اسے گھر خالی لگ رہا تھا ۔۔۔

اس گھر کو اور ابراہیم کو منہا کی عادت ہوگئی تھی ۔۔۔

❤️❤️❤️❤️❤️..

“مام۔۔۔میرا دل نہیں لگا نا”

وہ سونیا بیگم کی گود میں سر رکھے کہنے لگا ۔۔۔

“منہا کے بنا؟” وہ ہنس کر پوچھنے لگی

“آپ کے بنا”

وہ محبت سے کہنے لگا

“پہلے تو لگ جاتا تھا۔۔۔۔منہا کی یاد آرہی ہوگی آپ کو تبھی ہفتے کا کہ کر جمعہ کو ہی آگئے”

سونیا بیگم اس کے بالوں میں ہاتھ پھیرتی کہنے لگی

“میں آپ کے لیے آیا ہوں۔۔۔۔۔” ابراہیم نے مسکرا کر کہا

“بس بس۔۔۔۔۔” وہ ہنسنے لگی۔۔۔۔

❤️❤️❤️❤️❤️..

“پاؤں کیسا ہے؟” وہ لان میں بیٹھی تھی جب ابراہیم اس کے برابر کرسی کھینچ کر بیٹھا

“ٹھیک ہے۔۔۔۔تم کیوں آئے ہو؟”

وہ پوچھنے لگی

“تمہاری یاد آرہی تھی مجھے”

ابراہیم نے اس کی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے کہا

“بھابھی۔۔۔بھائی امی بلارہی ہیں۔۔۔کھانے پر”

زیمل نے وہاں آکر کہا۔۔۔۔

منہا ایک نظر ابراہیم پر ڈالتی اٹھ کھڑی ہوئی۔۔۔۔

❤️❤️❤️❤️❤️..

“منہا۔۔۔۔۔” ابراہیم نے اسے دیکھ پکارا۔۔۔

وہ ابھی ابھی روم میں آئی تھی

“کشمالہ کی برتھ ڈے ہے سنڈے کو۔۔۔۔”

ابراہیم نے کہا

“تو۔۔۔۔۔” وہ پلٹ کر پوچھنے لگی

“تو تم چلو گی نا میرے ساتھ؟”

وہ پوچھنے لگا۔۔۔۔

“میرا جانا ضروری نہیں”

منہا نے فوراً کہا

“ضروری ہے۔۔۔انہوں نے بلایا ہے”

ابراہیم نے کہا

“میں اب کراچی نہیں جاؤں گی”

منہا نے فیصلہ سنایا

ابراہیم اٹھ کر اس کے پاس آیا۔۔۔

وہ ڈریسنگ ٹیبل کے سامنے کھڑی بالوں کو باندھ رہی تھی

“سوری نا یار۔۔۔۔۔پلیز چل لو”

ابراہیم نے اس کے سامنے آتے ہی کہا

“نہیں مجھے تم پر بھروسہ نہیں۔۔۔۔” وہ اس کی آنکھوں میں دیکھتے کہنے لگی

“سوری نا۔۔۔پلیز۔۔۔۔۔”

وہ منت کرنے لگا

“ٹھیک ہے ” منہا نے اسے دیکھتے ہوئے کہا۔۔۔۔

وہ مسکرا دیا

“میں بیڈ پر سوجاؤں؟ ” وہ اسے دیکھ معصومیت سے پوچھنے لگا۔۔۔۔

ہممم۔۔۔مگر اپنی سائیڈ۔۔۔۔” منہا کو جیسے اس پر ترس آیا۔۔۔۔

پھر چپ چاپ جا کر بیڈ پر بیٹھ گئی۔۔۔۔

ابراہیم مسکراتا بیڈ کی دوسری سائیڈ بیٹھا۔۔۔۔

❤️❤️❤️❤️❤️❤️..

“امی مجھے حلوہ بنادیں”

ابراہیم نے صوفے پر لیٹتے ہوئے حکم کیا

“ابراہیم مجھے آپ کے بابا کے ساتھ جانا ہے رشتے داروں کے گھر۔۔۔۔۔آپ منہا کو کہ دیں”

سونیا بیگم نے مصروفیت سے کہا

“میں نہیں بولوں گا اسے آپ بول دیں “

وہ گیم کھیلتا کہنے لگا

“بھائی آپ کی بیوی ہے وہ آپ ڈرتے کیوں ہیں اتنا؟”

زیمل نے شرارت بھرے لہجے میں کہا

“ڈرتا ورتا نہیں ہوں میں۔۔۔۔نک چڑی ہے وہ بس منہ نہیں لگتا زیادہ”

ابراہیم فون میں گم کہا۔۔۔۔

اس بات سے بے خبر کہ منہا سامنے کھڑی سب رہی تھی۔۔۔۔

❤️❤️❤️❤️❤️..

“میں نے کہا تھا حلوہ بنا دینا۔۔۔” ابراہیم نے گلہ کیا۔۔۔۔

“کیوں؟ میں کیوں بناؤں؟”

منیا نے تلخی سے پوچھنے لگی

“امی گھر پر نہیں تھی۔۔۔۔اور چچی کی طبیعت صحیح نہیں تھی۔۔اسی لیے تمہیں کہلوایا تھا”

وہ صفائی دینے لگا۔۔۔۔

“میری تو چغلی کرتے ہو تم۔۔۔اور مجھ سے فرمائش کرتے ہو پھر”

وہ کمر پر ہاتھ رکھے غصے سے کہنے لگی

“کب کرلی چغلی؟ میں کرسکتا ہوں”

ابراہیم نے معصومیت سے کہا

“میں سب سن چکی ہوں ایبو۔۔۔۔۔”

منہا نے انگلی دکھاتے ہوئے کہا

“کیا سن لیا تم نے” ابراہیم نے مسکرا کر پوچھا۔۔۔۔

“کیا کہ رہے تم کہ میں نک چڑی ہوں۔۔۔۔؟”

وہ تن کر کہنے لگی۔۔۔

“ہاں تو نہیں ہو؟”

وہ مسکراہٹ دبائے پوچھنے لگا۔۔۔۔

وہ اسے کھا جاے والی نظروں سے دیکھنے لگی۔۔۔

“زمین پر سوؤ گے تم اب واپس”

وہ حکمانہ انداز میں کہنے لگی۔۔۔

منہا کی بات سن اس کے ڈھیلے اعصاب تنے۔۔۔۔چہرے پر ناگواری اتری۔۔۔۔

“دماغ ٹھیک ہے۔۔۔میں ادھر ہی سوؤں گا۔۔۔آئی سمجھ”

وہ سنجیدگی سے کہتا بیڈ پر بیٹھ کمبل اوڑھنے لگا۔۔۔۔

“ٹھیک ہے۔۔۔پھر میں سورہی ہوں زمین پر۔۔۔۔۔”

وہ برا سا منہ بناتی کہنے لگی۔۔۔

“اگر تم زمین پر سوئی تو میں ابھی مام کو یہاں لے کر آؤں گا ۔۔۔اور اب میں نہ تمہارا لحاظ کروں گا نہ شرم”

وہ تلخی سے کہ رہا تھا۔۔۔۔

وہ منہ بنائے کھڑی رہی۔۔۔۔

جانے کیا چل رہا تھا دماغ میں۔۔۔۔

ابراہیم پاس رکھی بک اٹھا کر پڑھنے لگا۔۔۔۔

وقفہ وقفہ سے ایک نظر اس پر ڈالتا جو یونہی کھڑی تھی۔۔۔۔

پھر پیر پٹختی بیڈ تک آئی اور تکیہ درست کرتی لیٹ گئی۔۔۔۔

ابراہیم اسے دیکھ ہلکا سا مسکرایا۔۔۔۔

پھر کمبل کی دوسری سائڈ اس پر ڈالتا اسے اوڑھانے لگا۔۔۔۔

منہا نے بنا اس کی جانب دیکھے کمبل واپس خود پر سے اتار کر پھینکا۔۔۔

ابراہیم نے ابرو سکیڑی۔۔۔۔پھر دوبارا اس پر کمبل ڈالا۔۔۔۔

منہا نے اسی تیزی سے واپس اتار پھینکا۔۔۔۔

“بھلائی کا زمانہ ہی نہیں”

وہ بڑبڑایا۔۔۔۔

پھر کچھ سوچتے ہوئے سائیڈ ٹیبل سے اے سی کا ریموٹ اٹھا کر بٹن دبائے۔۔۔۔

پھر ایک شرارت بھری نظر پاس لیٹی منہا پر ڈالی جو اس کی جانب پشت کیے غصے میں سونے کی ایکٹنگ کر رہی تھی۔۔۔۔

“اب آئے گا مزہ”

وہ دل میں کہتا کمبل درست کرتا لیٹ گیا۔۔۔۔

اور لیمپ آف کردیا۔۔۔۔

رات میں کسی پہر اسے ٹھنڈ کا احساس ہوا۔۔۔۔

منہا نے نیند میں کمبل خود پر ڈالا اور پھر سے سوگئی۔۔۔۔

ابراہیم نے اسے دیکھا اندھیرے میں بھی اس کا چہرہ چمک رہا تھا۔۔۔۔

آنکھیں بند وہ گہری نیند میں گم تھی۔۔۔۔

ابراہیم نے اس کے ماتھے پر آئے بالوں کو انگلی کی مدد سے ہٹایا۔۔۔۔

پھر جھک کر اس کے پیشانی پر لب رکھے۔۔۔۔

” سوتے ہوئے کتنی پیاری لگتی ہے۔۔۔۔۔”

وہ اسے دیکھ سوچنے لگا۔۔۔۔

پھر مسکراتا اسے گرد بازو پھیلاتا آنکھیں موند گیا۔۔۔۔۔

❤️❤️❤️❤️❤️..

وہ رات دیر سے گھر آئی تو دیکھا کمرے میں نہ ہی آرب تھا اور نہ ہی احد۔۔۔۔

اس نے فون اٹھایا اور نمبر ڈائل کیا

دوسرءمی ہی بیل پر رسیو ہوا

“کہاں ہو ہنی۔۔۔۔؟” وہ پوچھنے لگی

“حیدرآباد” آرب نے کہا

“واٹ؟”

وہ چونکی

“تم بتا کر بھی نہیں گئے؟”

وہ کہنے لگی

“۔۔تمہارے پاس ویسے بھی نہ میرے لیے ٹائم ہے نہ ہی میرے بیٹے کے لیے۔۔۔تو کیا فرق پڑتا ہے۔۔۔۔۔”

آرب نے طنزیہ کہا

“آرب تم۔۔۔۔۔” وہ کچھ کہتی مگر کال ڈسکنیکٹ ہوچکی تھی۔۔۔

ایدہ نے فون غصے سے بیڈ پر پھینکا

وہ سرخ چہرے سے بیڈ پر بیٹھی سوچنے لگی۔۔۔۔

❤️❤️❤️❤️❤️❤️..

جب اس کی آنکھ کھلی تو خود کو ابراہیم کی بانہوں میں قید پایا۔۔۔۔

اس نے ابرو سکیڑ کر اسے دیکھا۔۔۔۔

وہ گہری نیند سورہا تھا۔۔۔۔

بکھرے بال ماتھے پر تھے۔۔۔۔

وہ فوراً سے اسے پیچھے کرتی خود کو اس کی گرفت سے آزاد کرواتی اٹھ بیٹھی

“بنا چپکے تو تمہیں نیند آےی نہیں نا”

وہ منہ بناتی ٹوکنے لگی

“مجھے یا تمہیں؟” ابراہیم نے کہنی کے بل ہاتھ پر سر کو رکھتے کہا

“میں تم سے کیوں چپکوں گی؟ “

وہ کہنے لگی

“رات کو تو تم ناراض تھی مجھ سے۔۔۔۔پھر میرا کمبل کیوں لیا تم نے یہ بتاؤ”

ابراہیم نے ہنسی دباتے پوچھا

“ہاں تو مجھے سردی لگ رہی تھی۔۔۔۔”

وہ شرمندہ ہوتی اٹھ کھڑی ہوئی

“میں نے ہی اے سی فل کیا تھا”

ابراہیم بڑبڑایا

“کیا؟ یہ جاہلانا حرکت تمہاری ہی ہوسکتی ہے ایبو۔۔۔۔۔انسان بنو”

اس نے ہاتھ میں پکڑا اپنا کیچر اسے دے مارا جسے ابراہیم نے پھرتی سے کینچ کیا۔۔۔۔

اور زوردار قہقہہ لگا کر ہنسا۔۔۔۔۔