Blind Friends By Isra Rao NovelR50463 Blind Friends (Episode - 23)
No Download Link
Rate this Novel
Blind Friends (Episode - 23)
Blind Friends By Isra Rao
(حال)
“گڈ مارننگ میم۔۔۔ابراہیم قریشی”
ابراہیم دلکش انداز میں چلتا اس کے قریب آیا۔۔۔۔
وہ جو موبائل میں گم ٹانگ پر ٹانگ رکھے بیٹھی تھی۔۔۔۔
اسے دیکھ اٹھ کھڑی ہوئی
“گڈ مارننگ۔۔۔۔” وہ مسکرائی۔۔۔۔
مگر وہ پلکیں نہیں جھپکا پارہی تھی۔۔۔
“پلیز بیٹھیں نا آپ۔۔۔۔” وہ خوش دلی سے کہنے لگا۔۔۔
وہ بیٹھ گئی مگر نظریں اسی پر تھی
“سوری میں تھوڑا بزی تھا آپ کو ویٹ کرنا پڑا۔۔۔”
ابراہیم نے معذرت کی
“نو اٹس اوکے۔۔۔۔” وہ مسکرائی
“آپ کی فائل دیکھی ہے میں نے۔۔۔۔گراؤنڈ فلور پر اگر ہم سویمنگ پول بناتے ہیں۔۔۔تو اوپر والے فلورز کی بالکونی سے بھی ویو اچھا ہوگا۔۔۔۔۔آپ کا کیا خیال ہے”
وہ خوش دلی سے پوچھنے لگا
“میں ایسا ہوٹل بنوانا چاہتی ہوں۔۔۔۔جس کی خوبصورتی کے چرچے دور تک پھیل جائیں۔۔۔۔اسی لیے میں آپ کے پاس آئی ہوں”
وہ مسکرا کر کہنے لگی۔۔۔۔
“جی بلکل آپ کو ہماری کمپنی شکایت کا موقع نہیں دے گی۔۔۔۔مجھے دو دن اور دے دیں۔۔۔تاکہ میں آپ کو مزید آئیڈیاز دے سکوں۔۔۔۔”
ابراہیم نے کہا
“ٹھیک ہے۔۔۔۔آپ مجھے اپنا نمبر دے دیں “
انابیہ نے مسکرا کر کہا
“جی۔۔۔یہ میرا کارڈ رکھ لیں آپ۔۔۔۔”
اس نے جیب سے کارڈ نکال کر اس کے حوالے کیا۔۔۔۔
“مجھے آپ کا پرسنل نمبر چاہیے۔۔۔۔تاکہ مجھے کوئی پرابلم نہ ہو”
وہ کہنے لگی
“نہیں۔۔۔پرابلم کوئی نہیں ہوگی۔۔۔۔آپ میرا نمبر لکھ لیں۔۔۔”
وہ اس کی بات پر مسکرایا۔۔۔۔
اور نمبر لکھوایا۔۔۔۔
تبھی اس کا فون بجا اور وہ ماضی کے خیال سے باہر نکلی۔۔۔۔
اس نے ہاتھ بڑھا کر فون سائیڈ ٹیبل سے اٹھایا۔۔۔۔
اور کال رسیو کی۔۔۔
“ہیلو۔۔۔۔۔” اس نے سادہ سے انداز میں کہا
“تم آئی کیوں نہیں تھی پارٹی میں؟”
آگے سے شکوہ کیا گیا
“کمیل میں بزی تھی یار۔۔۔۔ہوٹل کا کام اٹکا ہوا ہے۔۔۔اتنی ٹینشن ہے”
وہ بالوں کو ہاتھ کی مدد سے اوپر کرتی کہنے لگی
“میں کچھ نہیں جانتا۔۔۔۔تم شام کو ریسٹورنٹ پہنچ رہی ہو۔۔۔اوکے۔۔۔۔”
کمیل نے حکم سنایا۔۔۔
“اوکے۔۔۔۔۔”وہ ہلکے سے مسکرائی۔۔۔
اور فون بند کیا۔۔۔۔
مگر سوچ دائرہ ابراہیم کے گرد گھوم رہا تھا۔۔۔۔
اس کی پہلی ملاقات ابراہیم سے وہ کبھی بھول نہیں سکتی تھی۔۔۔۔
وہ یہ جان گئی تھی کہ ابراہیم شادی شدہ ہے۔۔۔۔
پھر بھی اس کا ذہن اسی پر اٹکا تھا۔۔۔۔
..
“کیا ہوا ارجنٹ بلایا؟” وہ آتے ساتھ کرسی کھسکا کر بیٹھا۔۔۔۔
“ہاں۔۔۔۔ایک کام تھا تجھ سے”
ابراہیم نے کہا
“ہاں حکم کر۔۔۔”نوریض نے فوراً کہا
“تو کچھ دن پہلے مجھے تو ہوٹل کے کنسٹرکشن کا آرڈر دلوا رہا تھا۔۔۔۔”
ابراہیم نے یاد دہانی کروائی
“ہاں ہاں فکر ہی نہ کر۔۔۔۔تجھے ہی ملے گا آرڈر”
نوریض نے تسلی دینی چاہی
“لیکن مجھے آرڈر نہیں چاہیے۔۔۔۔”
ابراہیم نے سادگی سے کہا
“کیا؟” نوریض کو جھٹکا لگا
“ہاں۔۔۔میں چاہتا ہوں یہ آرڈر تو میم سلطانہ کو بول کر آرٹم کمپنی کو دلوا دے”
ابراہیم نے تھوڑا آگے ہوکر کہا
“آرٹم کو۔۔۔۔کیوں؟”وہ ناسمجھی سے پوچھنے لگا
“کیوں کہ آرٹم کا مینیجر اس وقت آرب ہے۔۔۔۔۔تو ہوٹل کے کام کی ساری مینجمنٹ آرب کے ہاتھ میں ہوگی۔۔۔۔سمجھ رہا ہے؟”
ابراہیم نے وحشیانہ مسکراہٹ کے ساتھ ابرو اچکا کر پوچھا۔۔۔
وہ اثبات میں سر ہلاتا مسکرا دیا۔۔۔۔
..
“بیٹھو۔۔۔۔۔” کمیل نے کرسی کھینچتے ہوئے کہا
“تھینک یو” وہ مسکرا کر بیٹھی
“ویسے تو میں ناراض تھا مگر پھر سوچا میں تم سے ناراض رہ ہی نہیں سکتا۔۔۔۔”
وہ مسکرایا
“اوہو۔۔۔۔کیا بات ہے اتنی عزت مل رہی ہے آج”
انابیہ ہنسی
“میں تمہیں اس سے بھی زیادہ عزت دینا چاہتا ہوں۔۔۔۔”
کمیل نے سادگی سے کہا
انابیہ نے ناسمجھی سے دیکھا
کمیل نے بنا کچھ کہے ایک ڈبی اس کے سامنے ٹیبل پر رکھ دی
“یہ کیا ہے؟” انابیہ نے پوچھا
“میں ہماری دوستی کو ایک اور نام دینا چاہتا ہوں”
اس نے ڈبی کھولی سامنے کی ایک خوبصورت ڈائمنڈ رنگ چمک رہی تھی
“کیا مطلب۔۔۔۔” اس نے ابرو سکیڑ کر دیکھا
“ول یو میری می۔۔۔؟” کمیل نے مسکرا کر کہا
“کمیل ۔۔۔۔تم مزاق کر رہے ہو”
وہ چونکی تھی
“نہیں۔۔۔۔میں سچ میں تم سے ہمیشہ سے شادی کرن چاہتا ہوں۔۔۔میں تم جیسا ہی لائف پارٹنر چاہتا ہوں”
کمیل نے صفائی دی
“مگر میں نے کبھی تمہیں کبھی لائف پارٹنر کی نظر سے نہیں دیکھا۔۔۔”
انابیہ نے سنجیدگی سے کہا
“ہاں تو اب دیکھ لو۔۔۔سوچ لو۔۔۔۔”
وہ مسکرایا
“نہیں۔۔۔۔میں کسی اور کو پسند کرتی ہوں۔۔۔اور تم۔۔۔۔اس کے جیسے نہیں ہو۔۔۔۔تم صرف میرے دوست ہو کمیل”
انابیہ نے سنجیدگی سے سمجھایا
“کون ہے وہ؟” کمیل کے تاثرات بدلے۔۔۔۔
“جو بھی ہے۔۔۔۔مگر تم نہیں ہوسکتے۔۔۔ہم بہت اچھے دوست ہیں اور بس۔۔۔۔۔”
انابیہ اٹھ کھڑی ہوئی
“انابیہ ۔۔۔۔”
وہ بھی اٹھا
“ایم سو سوری۔۔۔۔۔”
وہ اپنا پرس اٹھاتی تیزی سے باہر کی جانب بڑھ گئی۔۔۔۔
..
“پہلے تم کہ رہے تھے کہ ابراہیم قریشی کو آرڈر دے دیں۔۔۔۔میں نے ٹرسٹ کیا۔۔۔۔اور وہ لائق بھی ہے۔۔۔۔مگر اب تم کہ رہے ہو آرٹم کمپنی کو دے دوں؟ وجہ؟
وہ نوریض کو دیکھ پوچھنے لگی۔۔۔۔
“کیونکہ میں میں آپ کا نقصان کروانا چاہتا ہوں”
وہ شرارت چھپائے کہنے لگا
“لگتا ہے تمہیں نوکری پیاری نہیں ہے۔۔۔۔بے روزگار ہونا چاہتے ہو لڑکے”
وہ سنہرے بالوں کو پیچھے کرتی ہلکا سا مسکرائی
“آپ ایک غریب آدمی کو جاب سے نکال دیں گی۔۔۔آہ لگے گی۔۔۔چھوٹی سی بچی ہے میری”
نوریض نے منہ بنا کر کہا۔۔۔۔
“تمہاری حرکتیں ہی ایسی ہیں۔۔۔۔” وہ گھڑی میں ٹائم دیکھتی کہنے لگی
“خیر میرا ٹائم ہورہا ہے۔۔۔۔ایک پارٹی میں جانا ہے۔۔۔۔”
وہ کہتی اٹھ کھڑی ہوئی
“پھر میں آرٹم کو کال کردوں؟”
اس نے نظریں اٹھا کر سوال کیا۔۔۔۔
“کردو۔۔۔مگر نقصان تمہاری سیلری سے کاٹوں گی۔۔۔۔”
میم سلطانہ نے سنجیدگی سے جواب دیا
“مجھے بیچ دیں گی تب بھی پورا نہیں ہوگا”
نوریض نے ہنسی دبائی۔۔۔۔
“انسان بنو”
وہ مسکرا کر کہتی باہر نکل گئی۔۔۔۔
..
“ایک تو یہ ایبو بھی نا۔۔۔کبھی چیزیں جگہ پر نہیں رکھے گا”
منہا نے کہتے ساتھ اس کے جوتے اٹھا کر جگہ پر رکھے۔۔۔پھر کوٹ اٹھا کر ہینگ کیا۔۔۔۔۔
“خود سے باتیں کر رہی ہو کیا”
وہ بال خشک کرتا باتھ روم سے نکلا۔۔۔۔
“اپنی چیزیں جگہ پر نہیں رکھتے پھر میرا دماغ کھاتے ہو۔۔۔”
منہا نے اسے ٹوکا
“ہاں تو تم کس لیے ہو۔۔۔۔میرا، میری چیزوں کا خیال رکھو۔۔۔۔”
ابراہیم نے مسکرا کر کہا
تبھی دروازے پر دستک ہوئی۔۔۔۔اور ملازمہ اندر داخل ہوئی۔۔۔
“منہا بی بی۔۔وہ باہر آپ کی دوست آئی ہے۔۔۔۔”
ملازمہ نے کہا
“میری دوست؟” اس نے چونک کر پوچھا
“رتبہ ہوگی” ابراہیم نے فوراً کہا
“نہیں نہیں۔۔۔کوئی ایدہ ہے”
ملازمہ نے تصحیح کی
“ایدہ۔۔۔۔۔” اس نے ابراہیم کی جانب دیکھا۔۔۔
“ایدہ یہاں کیوں آئی ہے؟” ابراہیم بڑبڑایا
“پتا نہیں۔۔۔۔۔” منہا بھی حیران ہوئی
“ٹھیک ہے آپ بٹھائیں ہم آتے ہیں۔۔۔۔”
ابراہیم نے حکم دیا اور ملازمہ باہر نکل گئی۔۔۔
..
“کل میم سلطانہ تم سے ملیں گی۔۔۔۔”
نوریض نے انفارم کیا
“مگر تم یہ سب کیوں کر رہے ہو؟”
آرب نے سوال کیا
“کیا؟”
نوریض نے ناسمجھی سے پوچھا
“تم چاہو تو یہ آرڈر کسی کو بھی دلوا سکتے ہو۔۔۔۔ابراہیم کو بھی پھر میری کمپنی کو کیوں؟”
آرب نے کہا
“ابراہیم کو دیا تھا مگر اس نے انکار کردیا کیوں کہ اس کی بہن کی شادی ہے۔۔۔۔اور میم جلد یہ کام شروع کرنا چاہتی ہیں۔۔۔۔۔”
نوریض نے صفائی دی
“اور رہی بات تمہاری کمپنی کو یہ آرڈر دلوانے کی تو یہ مجھے نہیں پتا تھا کہ تم یہاں مینیجر ہو۔۔۔ورنہ میں پوری کوشش کرتا کہ میم تم سے نا ملے۔۔۔۔مگر افسوس میں ایسا انسان نہیں۔۔۔۔میں کام میں پرسنل معاملات نہیں شامل کرتا”
نوریض نے کہتے ہی فون بند کرتا دیا
اور مسکرا دیا۔۔۔۔
..
“حیران ہوں گے نا تم دونوں۔۔۔کہ میں یہاں کیسے”
ایدہ نے مسکرا کر کہا
“ہاں واقع حیرت تو ہوئی”
ابراہیم نے اسے دیکھ کہا
“اصل میں میرے پاس تم لوگوں کے پرانے گھر کا ایڈریس تھا۔۔۔۔پھر پتا چلا تم لوگوں نے یہ نیا بنگلا لیا ہے۔۔۔۔”
ایدہ نے گھر کا جائزہ لیتے ہوئے کہا۔۔۔۔
وہ بنگلا واقع بہت خوبصورت تھا۔۔۔۔
ہر چیز نفاست سے لگی تھی۔۔۔۔
“یہ بھی گھر ہے۔۔۔۔میرا اور منہا کا”
ابراہیم نے پاس بیٹھی منہا کے شانوں پر بازو پھیلاتے مسکرا کر کہا۔۔۔۔
“یہ ابراہیم نے ہماری شادی کے چار سال پورے ہونے کی خوشی میں لیا ہے۔۔۔۔۔”
منہا نے ہنس کر بتایا
“بہت اچھا لگا تم دونوں کو خوش دیکھ کر”
ایدہ نے مسکرا کر کہا۔۔۔۔
“تھینک یو” ابراہیم نے کہا
“میں اصل میں تم دونوں سے معافی مانگنا چاہتی تھی۔۔۔آرب نے جو پارٹی میں بدتمیزی کی۔۔۔۔اسے ایسا نہیں کرنا چاہیے تھا”
ایدہ نے شرمندگی سے کہا
“کوئی بات نہیں۔۔۔۔۔”
منہا نے سادگی سے کہا۔۔۔۔
ابراہیم کچھ بولنا چاہتا تھا مگر اس کے جواب پر خاموش ہوگیا
“بس پھر ٹھیک ہے۔۔۔۔سنڈے کو تم لوگوں کی دعوت ہے میرے گھر”
ایدہ نے خوش دلی سے کہا
“سوری یار ایدہ۔۔۔میں”
ابراہیم کوئی بہانہ بناتا اس سے پہلے ہی ایدہ نے ٹوکا
“کوئی بہانہ نہیں چلے گا ایبو۔۔۔۔تم لوگوں کو آنا پڑے گا۔۔۔۔میں نے نوریض اور رتبہ کو بھی انوائٹ کیا ہے۔۔۔۔۔پلیز۔۔۔۔”
ایدہ نے منت کی
“ٹھیک ہے ہم ضرور آئیں گے”
منہا نے فوراً کہا۔۔۔۔
اور ابراہیم بس منہا کو دیکھ کر رہ گیا۔۔۔۔
..
“کام ہوگیا۔۔۔۔جیسا تونے کہا تھا سب ویسا ہی ہورہا ہے”
نوریض نے ڈرائیو کرتے ہوئے کہا
“اب کل میم سلطانہ آرب سے میٹنگ نہیں کریں گی”
ابراہیم نے کہا
“مگر کیوں؟”
نوریض حیران ہوا
“کیوں کہ آرب یہ سمجھے گا کہ تو نے میم سلطانہ کو روک دیا۔۔۔۔۔اب سلطانہ میم اسامہ سکندر سے میٹنگ کریں گی۔۔۔۔جو آرٹم کا مالک ہے۔۔۔۔۔”
ابراہیم نے تفصیل دی
“اس سے کیا ہوگا؟”
وہ ناسمجھی سے پوچھنے لگا
“اس سے آرب کا تجھ پر بھروسہ ہوجائے گا کہ تیرا کوئی پلان نہیں ہے۔۔۔۔اور وہ جان بوجھ کر ہوٹل کا کام اپنا ہاتھ میں لے گا تجھے نیچا دکھانے کے لیے”
ابراہیم کی بات سن نوریض مسکرایا۔۔۔۔
“بڑا کمینہ ہے تو”
نو ریض نے بے اختیار کہا۔۔۔۔
“فکر نہیں کر۔۔۔۔تو بھی ماضی میں کمینہ گروپ کا میمبر رہ چکا ہے”
ابراہیم نے فخریہ کہا
“اور لعنت ہو ایسے ماضی پر۔۔۔۔۔”
نوریض نے منہ بنا کر کہا۔۔۔۔
ابراہیم اپنا قہقہہ ضبط نہ کرسکا۔۔۔۔
..
“تمہیں ہاں نہیں کرنی چاہیے تھی۔۔۔۔”
ابراہیم نے کاؤچ پر لیٹتے ہوئے کہا
“کیوں؟” منہا نے اس کے بالوں میں انگلیاں چلاتے پوچھا
“کیوں کہ تم ڈرپوک ہو”
ابراہیم نے الفاظوں کا تماچہ اس کے منہ پر دے مارا
“میرا ہسبینڈ تو بہادر ہے نا”
اسے جیسے فرق نا پڑا ہو
“میں تمہارے لیے پوری دنیا سے لڑ سکتا ہوں۔۔۔بس میں چاہتا ہوں تم میرے پیچھے نہیں میرے ساتھ کھڑی رہو۔۔۔۔۔”
ابراہیم نے اس کا ہاتھ پکڑ لبوں سے لگایا۔۔۔۔
“میں تمہارے ساتھ ہوں۔۔۔ہمیشہ۔۔۔۔”
منہا نے جھک کر اس کے ماتھے پر محبت ظاہر کی۔۔۔۔
“پھر چلیں بیڈ روم میں؟” ابراہیم نے شرارت سے ابرو اچکائی۔۔۔۔
“انسان بنو۔۔۔۔۔۔”
منہا نے ایک زوردار مکہ اسے رسید کیا۔۔۔
اور ابراہیم زوردار قہقہہ لگا کر ہنسنے لگا۔۔۔۔
..
“اصل میں شادی کے بعد میں پڑھنے باہر چلا گیا تھا۔۔۔۔تین سال بعد میں نے یہاں کراچی میں برانچ کھولی۔۔۔اور منہا کو بھی لے آیا ساتھ۔۔۔۔”
ابراہیم کھانا کھاتے ہوئے تفصیل سے بتانے لگا۔۔۔۔
“کیونکہ یہ میرا لکی چارم ہے۔۔۔۔”
ابراہیم نے ہاتھ میں پکڑا نوالہ منہا کی جانب بڑھایا۔۔۔۔
منہا نے مسکرا کر کھا لیا۔۔۔۔
“آرب نظر نہیں آرہا۔۔۔۔۔؟” نوریض نے پوچھا
“وہ آفس ہے۔۔۔آجائے گا کچھ دیر تک۔۔۔۔”
ایدہ نے کہا
“چلو میں تم لوگوں کو اپنا روم دکھاتی ہوں ۔۔۔۔”
کھانا کھاتے ہی سب ایدہ کے ساتھ ہولیے ۔۔۔
“کافی اچھی ڈیکور کی ہے۔۔۔۔۔”
ابراہیم نے یہاں وہاں دیکھتے ہوئے کہا
“برابر والا روم احد کے لیے تیار کروایا تھا مگر وہ آرب کے بنا سوتا نہیں۔۔۔۔”
ایدہ خوش دلی سے بتانے لگی
ابراہیم نے نوریض کو دیکھا۔۔۔۔(کتنا بور کر رہی ہے یہ)
دونوں جا کر صوفے پر بیٹھ گئے۔۔۔۔
“ایک چیز دکھاتی ہوں میں تمہیں”
ایدہ نے ڈرار سے بریسلیٹ نکالا
منہا یہ دیکھ” ایدہ نے بریسلیٹ اس کے سامنے لہرایا۔۔۔۔
جس پر بلائنڈ فرینڈز لکھا تھا
منہا نے حیرانی سے اس کے ہاتھ میں پکڑا بریسلیٹ دیکھا۔۔۔۔
وہ اسے نہیں بھول سکتی تھی۔۔۔۔
کبھی بھی نہیں۔۔۔۔
اس بریسلیٹ کا شیشہ ٹوٹا ہوا تھا۔۔۔۔
اندر لکھا بلائنڈ فرینڈز بھی ٹوٹے ہوئے شیشے سے صاف دکھائی نہیں دے رہا تھا۔۔۔۔
“یہ مجھ سے گر گیا تھا تبھی تھوڑا ٹوٹ گیا”
ایدہ نے خود ہی وضاحت دی۔۔۔۔
مگر منہا کا دماغ اس میں اٹک چکا تھا۔۔۔۔
اگر ایدہ کا بریسلیٹ اس کے پاس تھا تو جو اسے ملا تھا وہ کس کا تھا۔۔۔۔
“اب ہمیں چلنا چاہیے”
نوریض آخر کو بول ہی اٹھا۔۔۔۔
“کیوں آرب آنے والا ہوگا مل کر جانا”
ایدہ نے کہا
“پھر کبھی صحیح رتبہ کی طبیعت ٹھیک نہیں تھی۔۔۔۔۔اسی لیے وہ آ بھی نہیں سکی۔۔۔۔”
نوریض اٹھ کھڑا ہوا۔۔۔۔
“نیکسٹ ٹائم ضرور لانا”
ایدہ کہتے ان کے ساتھ سیڑھیاں اتر رہی تھی۔۔۔۔
جب سامنے سے آرب اندر داخل ہوا۔۔۔۔
اس کی نظریں اوپر تھی۔۔۔۔
وہ لوگ نیچے آئے۔۔۔۔
“کتنی دیر کردی آبی تم نے ہم سب کب سے تمہارا ویٹ کر رہے تھے۔۔۔”
ایدہ نے فوراً کہا
(جھوٹی ہم کب کررہے تھے؟)
نوریض نے دل میں کہا
“بس تھوڑی دیر ہوگئی۔۔۔۔بیٹجو نا تم لوگ”
آرب نے مصنوعی مسکراہٹ کے ساتھ کہا
“تھوڑی نہیں کافی دیر ہوگئی۔۔۔اب ہم چلتے ہیں”
ابراہیم نے مسکرا کر معذرت کی
آرب نے پیچھے کھڑی منہا کو دیکھا لائٹ گرین کلر کے شارٹ فراک میں سلکی لمبے بالوں کو ہائی پونی میں قید کیے۔۔۔۔بہت ہی پرکشش لگ رہی تھی۔۔۔۔
ہاں وہ آج بھی بہت حسین تھی۔۔۔۔اس کے چہرے سے نظریں ہٹانا دنیا کا سب سے مشکل کام تھا۔۔۔۔
“چلیں” اس کے نظروں کے تعاقب کو بھانپتے ہوئے ابراہیم نے منہا کو ہاتھ بڑھا کر مخاطب کیا
“ہاں۔۔۔۔۔” منہا نے مسکرا کر اس کا ہاتھ تھاما۔۔۔۔
ایدہ کی نظریں ان دونوں سے ہوتی آرب پر جا ٹکی جو یک ٹک انہیں دیکھ رہا تھا۔۔۔۔
“تم لوگ بھی آنا کبھی ٹائم ملے تو۔۔۔۔” منہا نے ایدہ سے ملتے ہوئے کہا۔۔۔۔
وہ تینوں آرب کے قریب سے گزر کر چلے گئے۔۔۔۔
وہ اسی طرح کھڑا تھا۔۔۔۔اندر ایک لاوا سا ابل رہا تھا۔۔۔۔
جسے روکنا اس کے بس میں نہیں تھا۔۔۔۔
..
“یہ ایدہ کتنا بور کرتی ہے” ابراہیم جو ابھی فریش ہوکر نکلا تھا سامنے بالکونی میں کھڑی منہا کو دیکھ کہنے لگا۔۔۔
مگر وہ اپنے ہی خیالوں میں گم تھی۔۔۔
وہ کب اس کے پیچھے آکھڑا ہوا۔۔۔۔
اسے محسوس نہیں ہوا۔۔۔۔
وہ اسی طرح بیٹھی تھی کرسی پر ٹانگیں چڑھائے۔۔۔۔
وہ اسے دیکھ مسکرایا۔۔۔
“کیا ہوا۔۔۔۔۔؟ کہاں گم ہو؟”
وہ اس کے پس بیٹھتے ہوئے پوچھنے لگا
“کیا؟ ہاں۔۔۔نہیں کچھ نہیں” وہ ہڑبڑائی۔۔۔
“کوئی پریشانی ہے تو بتاؤ…تم شیئر کرسکتی ہو”
ابراہیم نے اس کا ہاتھ تھامتے ہوئے پوچھا۔۔۔۔
“ایبو۔۔۔۔مجھے کچھ بتانا ہے۔۔۔بلکہ دکھانا ہے۔۔۔۔”
وہ کہتے ساتھ اٹھ کھڑی ہوئی۔۔۔
اور کمرے کی جانب بڑھ گئی۔۔۔
وہ ناسمجھی سے دیکھ رہا تھا۔۔۔۔
منہا نے تھوڑی ہی دیر بعد ایک بریسلیٹ لاکر اس کے سامنے رکھا۔۔۔۔
جس پر بلائنڈ فرینڈز لکھا تھا۔۔۔۔
“کیا ہوا اسے؟” وہ ناسمجھی سے پوچھنے لگا
“یہ کس کا ہے؟”
وہ پوچھنے لگی
“تمہارا” اس نے فوراً کہا
“تو پھر یہ کس کا ہے؟”
اس نے اسی طرح کا ایک اور بریسلٹ سامنے رکھا۔۔۔۔
“یہ میرا ہوگا۔۔۔ڈرار سے نکالا ہوگا”
وہ منہا کو دیکھتے کہنے لگا
“نہیں۔۔۔۔یہ وہ بریسلیٹ ہے جو مجھے کڈنیپنگ کی رات اس جگہ ڈے ملا تھا”
منہا نے فوراً کہا
“کیا تمہیں بریسلیٹ ملا تھا مگر تم نے تو مجھے نہیں بتایا کبھی۔۔۔۔”
ابراہیم نے حیرانی سے کہا
“میں بتانا چاہتی تھی مگر۔۔۔۔”
منہا کہتے کہتے رکی۔۔۔۔
“مگر کیا؟ مجھے بتاؤ تفصیل سے کیا ہوا تھا اس رات؟”
ابراہیم نے سنجیدگی سے پوچھا۔۔۔۔
..
“کہاں گم ہے تو کامی تو کل آیا بھی نہیں گھر ہم نے کتنا ویٹ کیا”
ایدہ نے فون کان سے لگائے ڈانٹا
“اس نے انکار کردیا یار”
کمیل نے جیسے اس کے گلے شکوے کو اگنور کیا
“کس نے؟ کیا ہوا؟”
ایدہ نے پوچھا
“انابیہ نے یار۔۔۔۔۔اس نے مجھے انکار کردیا”
وہ افسردگی سے کہنے لگا
“مگر کیوں؟ “
وہ بھی حیران ہوئی
“وہ کسی اور کو پسند کرتی ہے” کمیل نے بتایا
“کس کو۔۔۔کون ہے وہ؟ وہ تجھے کیسے انکار کرسکتی ہے؟”
ایدہ کو سمجھ نہیں آرہا تھا کمیل کو کیسے تسلی دے
“پتا نہیں۔۔۔۔مگر ایدہ وہ جو بھی ہے۔۔۔۔میں اسے انابیہ کی زندگی میں شامل نہیں ہونے دوں گا…وہ صرف میری ہے”
کمیل کے لہجے میں عجیب سی ضد تھی۔۔۔۔۔
“تو فکر نہیں کر کچھ کرتے ہیں۔۔۔۔ٹھیک ہے غصہ نہیں کر۔۔۔۔کوئی نہیں ہے۔۔۔۔وہ بہانا بنا رہی ہوگی بس۔۔۔”
ایدہ کی بات پر اس کے تاثرات بدلے
“ہاں۔۔۔ایسا بھی تو ہوسکتا ہے کہ وہ جھوٹ بول رہی ہو۔۔۔میں منا لوں گا اسے”
وہ کہنے لگا۔۔۔
..
“تم آئے کیوں نہیں۔۔۔۔کب تک ایسے ناراضگی رکھو گے۔۔۔ہم خوش ہیں وہ لوگ بھی خوش ہیں۔۔۔پرانی باتیں بھول جاؤ”
ایدہ نے سمجھانا چاہا
“میں ناراض نہیں ہوں کسی سے بھی۔۔۔۔”
آرب نے سنجیدگی سے کہا
“تو آئے کیوں نہیں؟” ایدہ نے سول کیا
“کام بہت زیادہ ہے آفس میں۔۔۔اور نیا آرڈر ملا ہے۔۔۔ہوٹل کی کنسٹرکشن کا کام ہے۔۔۔۔۔مجھے ہی مینج کرنا ہے”
وہ بتانے لگا
“تم یہ جاب چھوڑ دو۔۔۔۔میں ڈیڈ سے بات کرتی ہوں۔۔۔۔وہ تمہیں پیسے دیں گے تم بھی ابراہیم کی طرح اپنی کمپنی کھولو۔۔۔۔”
ایدہ نے مشورہ دیا
“نہیں۔۔۔پہلی بات تو میں تمہارے ڈیڈ سے پیسے نہیں لے سکتا۔۔۔اور دوسری بات۔۔۔۔ابراہیم نے صرف برانچ کھولی ہے۔۔۔۔قریشی کمپنی پر اس کے ڈیڈ اور چاچو کافی عرصے سے کام کررہے ہیں انہوں نے نام کمایا ہے۔۔۔۔۔اور اسی نام کا استعمال کر کے ابراہیم کو کامیابی ملی ہے”
وہ جلتے بھنتے انداز میں کہنے لگا
ایدہ بس سے دیکھ کر رہ گئی
..
(چار سال پہلے)
(منگنی کی رات)
“کون ہو تم لوگ؟” نوریض نے سوال کیا۔۔۔۔
ایک اندھیرے کمرے میں ہلکی سی روشنی تھی جو روشن دان سے پھوٹ کر نکل رہی تھی۔۔۔۔
سامنے کرسیوں پر وہ دونوں بندھے ہوئے تھے۔۔۔۔
سامنے ہی دو لوگ کھڑے تھے ہاتھ میں گن تھی۔۔۔۔
اور چہرے پر ماسک۔۔۔۔
“بتاتے کیوں نہیں کون ہو تم لوگ ہمیں کیوں لائے ہو یہاں؟”
منہا چلائی۔۔۔۔
“اے لڑکی خاموش ہوجا۔۔۔۔۔زیادہ چک چک کرنے کی ضرورت نہیں ہے”
ایک آدمی نے تلخ لہجے میں کہا
“کیوں خاموش رہوں میں۔۔۔ہمیں کیوں لائے ہو۔۔۔ہمیں جانے دو۔۔۔۔۔”
منہ نے پھر سے چلائی
تبھی دوسرے بندے کا فون بجنے لگا۔۔۔۔
جی سر۔۔۔۔۔سر یہ لڑکی تو خاموش ہی نہیں ہورہی۔۔۔۔کہو تو اس کی زبان بند کردوں؟”
وہ غصے سے پوچھنے لگا۔۔۔۔
منہا اور نوریض نے ایک دوسرے کو دیکھا
“جی سر۔۔۔۔جی۔۔۔۔جی۔۔۔”اس نے کہتے ساتھ فون بند کیا۔۔۔۔
“آجا۔۔۔۔” اس نے دوسرے کو باہر چلنے کا اشارہ کیا
“کہاں جارہے ہو تم لوگ؟ ہمیں کھولو۔۔۔۔۔” منہا نے کہا
“اے لڑکی۔۔۔۔۔” ایک آدمی گن نکال غراتے ہوئے اس کی جانب بڑھا۔۔۔۔
“چھوڑ دے اسے ہاتھ نہیں لگانا سر کا حکم ہے۔۔۔”
دوسرے کے بولنے پر وہ آدمی رکا اور اسے گھورتا باہر نکل گیا۔۔۔
“نوریض کچھ کر۔۔۔۔نوریض۔۔۔۔” منہا رونے کو تھی۔۔۔
“منہا۔۔۔۔چپ ہوجا۔۔۔۔یہ ہمیں کچھ نہیں کریں گے۔۔۔۔انہیں اجازت نہیں ہے۔۔۔۔ابھی دیکھا نا اس آدمی نے کیا کہا”
نوریض نے اسے تسلی دی
“سب پریشان ہورہے ہوں گے۔۔۔۔نوریض مجھے گھر جانا ہے۔۔۔۔”
اس کی آنکھ سے آنسوں گرنے لگے۔۔۔۔
رات کے تین بج رہے تھے۔۔۔۔مگر وہ دونوں اسی طرح بیٹھے تھے۔۔۔کوشش کرتے کرتے تھک چکے تھے
“ایم سوری منہا ” ۔نوریض نے افسردگی سے کہا
“سوری بولنے سے کیا ہوگا اب۔۔۔تیری وجہ سے ہوا ہے یہ سب”
منہا نے پھر سے رونا شروع کیا۔۔۔۔
تبھی دروازہ کھول ایک آدمی اندر آیا۔۔۔۔
اور جاکر منہا کو کھولنے لگا۔۔۔۔
“کیا کر رہے ہو؟” نوریض نے سنجیدگی سے پوچھا۔۔۔
منہا بھی پھٹی پھٹی نگاہوں سے دیکھنے لگی۔۔۔
منہا کھلتے ہی اٹھ کھڑی ہوئی۔۔۔۔
“چلو سر جی نے بلایا ہے۔۔۔۔۔” اس نے منہا کو کہا۔۔۔۔
“کہاں؟ نہیں منہا کہیں نہیں جائے گی؟” نوریض کی چھٹی حس نے کام کیا اس نے منہا کو نفی میں اشارہ کیا
“نہیں میں نہیں جاؤں گی”
اس آدمی نے منہا کا ہاتھ پکڑا۔۔۔۔
“چھوڑو اسے۔۔۔۔۔” نوریض غرایا۔۔۔۔
“چھوڑو مجھے۔۔۔۔۔” جب منہا کو لگا وہ نہیں چھوڑ رہا تو منہا نے اپنے پاؤں کی جانب دیکھا جہاں ہائی ہیل تھی۔۔۔۔منہا نے پاؤں اٹھا کے اس آدمی کے پاؤں پر زوردار طریقے سے مارا۔۔۔اور درد کی وجہ سے اس آدمی نے اس کا ہاتھ چھوڑ دیا۔۔۔۔
“نوریض ۔۔۔۔۔” وہ بھاگ کر نوریض کے پیچھے کھڑی ہوئی۔۔۔۔
اس آدمی کے پاؤں سے خون نکل رہا تھا۔۔۔
“منہا مجھے کھولو۔۔۔۔” نوریض نے جلدی سے کہا۔۔۔۔
منہا جلدی سے اس کی رسی کھولنے لگی۔۔۔۔
“جاہل عورت۔۔۔۔۔”
وہ آدمی تیزی سے اس کی جانب بڑھا۔۔۔۔
“نوریض ۔۔۔۔۔۔” منہا چلانے لگی۔۔۔۔
وہ آدمی زبردستی اسے کھینچتا لے جانے لگا۔۔۔۔
نوریض کو اپنا آپ بہت بے بس لگ رہا تھا۔۔۔۔
اس کی آنکھوں کے سامنے منہا کو وہ لوگ لے گئے تھے مگر وہ کچھ نہیں کرپایا تھا۔۔۔۔
