Blind Friends By Isra Rao NovelR50463 Blind Friends (Episode - 26)
No Download Link
Rate this Novel
Blind Friends (Episode - 26)
Blind Friends By Isra Rao
(جا نہیں اٹھا رہے مال۔۔۔جو کرنا ہے کرلے)
کمیل نے سامنے پڑے گلاس کو اٹھا کر پوری قوت سے دیوار پر دے مارا۔۔۔۔
“یہ تو نے اچھا نہیں کیا نوریض”
کمیل کا غصہ آسمان چھورہا تھا
“میں نے پھر سے دوستی کا ہاتھ بڑھایا تھا مگر تونے اتنا بڑا دھوکا دیا مجھے۔۔۔۔میں تجھے چھوڑوں گا نہیں۔۔۔”
وہ غصے سے غرایا تھا۔۔۔۔
اسے سمجھ نہیں آرہا تھا وہ کیا کرے۔۔۔۔وہ بہت بڑا نقصان تھا جو اس نے اٹھایا تھا۔۔۔۔
..
“وہ بلڈنگ کے رینوویشن کا کام کہاں تک پہنچا؟”
ابراہیم نے فائل پلٹتے ہوئے مصروفیت سے پوچھا۔۔۔۔
“سر کافی حد تک تو ہوچکا ہے اس ویک میں کمپلیٹ ہوجائے گا۔۔۔۔”
سیکریٹری نے بتایا
تبھی اس کا فون بجنے لگا۔۔۔۔
“ہیلو۔۔۔۔”اس نے کال رسیو کی۔۔۔۔
“جی جی میں جانتا ہوں۔۔۔کیا ہوا؟”
ابراہیم نے تجسس سے پوچھا
“واٹ؟ کون۔۔۔کون سے ہاسپیٹل میں۔۔۔؟”
وہ پریشان ہوا
“مجھے نکلنا ہے تھوڑی ایمرجنسی ہے۔۔۔تم دیکھ لینا”
وہ سیکرٹری کو کہتا باہر نکل گیا۔۔۔۔
وہ جلدی سے ہسپتال پہنچا روم نمبر پوچھ کر وہ انابیہ کے کمرے میں پہنچا۔۔۔۔
“میں ٹھیک ہوں کامی ۔۔۔۔نو ٹینشن۔۔۔۔”
وہ کسی سے فون پر بات کر رہی تھی۔۔۔
وہ کمرے میں داخل ہوا۔۔۔اسے بیٹھا دیکھ ابراہیم کی جان میں جان آئی۔۔۔۔
“میں بعد میں بات کرتی ہوں۔۔۔”انابیہ نے ایک نظر سامنے سے آتے ابراہیم کو دیکھا۔۔۔پھر فون بند کردیا۔۔۔۔
“کیا ہے یہ سب؟”
ابراہیم نے اسے دیکھ پوچھا۔۔۔۔
“کچھ نہیں۔۔۔آپ کو کیا فرق پڑتا ہے؟”
انابیہ نے سوجے چہرے کو دوسری طرف موڑا۔۔۔
“مس انابیہ۔۔۔۔میں ایسے کبھی بھی کہیں بھی آپ کے بلانے پر نہیں آسکتا ہوں”
ابراہیم نے ماتھے پر ہاتھ رکھے اکتاہٹ بھرے لہجے میں کہا
“مگر آپ مجھے آواز دے کر دیکھیں۔۔۔۔میں کبھی بھی کہیں بھی پہنچ جاؤں گی آپ کے لیے۔۔۔۔”
انابیہ نے سرخ آنکھوں سے اس کی جانب دیکھا
“انابیہ۔۔۔۔اپنا نہ صحیح اپنے ڈیڈ کا سوچیں اپنی فیملی کا سوچیں۔۔۔کچھ ہوجاتا آپ کو تو؟”
ابراہیم نے نرمی سے سمجھایا
“کیوں؟ آپ کو فرق نہیں پڑتا مجھے کچھ ہوجاتا تو”
اںابیہ نے پر امید لہجے میں سوال کیا
“نہیں۔۔۔مجھے فرق نہیں پڑتا۔۔۔۔پلیز اپنے بارے میں سوچیں۔۔۔میں بار بار کہ رہا ہوں۔۔۔پلیز۔۔۔مجھے بھول جائیں۔۔۔۔”
ابراہیم اب اکتا گیا تھا۔۔۔۔
“کیا آپ مجھ سے اچھے سے بات بھی نہیں کرسکتے۔۔۔۔؟”
وہ بھیگی آنکھوں سے پوچھنے لگی۔۔۔
ابراہیم کو اپنے رویے پر یک دم پچھتاوا ہوا۔۔۔
اس کے تاثر بدلے۔۔۔
“ایم سوری۔۔۔۔مگر آپ مجھ سے وعدہ کریں دوبارا ایسی کوئی حرکت نہیں کریں گی آپ۔۔۔ٹھیک ہے؟”
ابراہیم اس کے پاس پڑی چیئر پر بیٹھا
انابیہ نے اثبات میں سر ہلایا۔۔۔۔
“کچھ کھایا آپ نے؟” وہ پوچھ بیٹھا۔۔۔۔
“نہیں۔۔۔” انابیہ نے نفی میں سر ہلایا
“اس نے سائیڈ ٹیبل سے پڑا جوس اٹھایا اور انابیہ کی جانب بڑھایا”
ابراہیم کا رویہ قدرے بہتر تھا۔۔۔
وہ ہلکا سا مسکرائی۔۔۔اس کے لیے یہی کافی تھا کہ وہ اس کے پاس بیٹھا اس کی فکر کر رہا تھا۔۔۔۔
دروازے پر کھڑا کمیل اس لمحے کو پھٹی آنکھوں سے دیکھ رہا تھا۔۔۔۔اسے اپنی آنکھوں پر یقین نہیں آرہا تھا۔۔۔۔
اس کا بس نہیں چل رہا تھا کہ ابراہیم کو گریبان سے پکڑ کر وہاں سے دھکے دے کر نکالتا۔۔۔۔۔
مگر وہ ایسا کر نہیں سکتا تھا۔۔۔۔
اس نے جھٹ موبائل نکالا اور اس لمحے کو قید کیا۔۔۔
..
“پتا نہیں کہاں رہ گیا یبو؟”
وہ لان میں بیٹھی اس کا ویٹ کر رہی تھی۔10 بج رہے تھے وہ ہمیشہ 8 بجے گھر آجاتا تھا
منہا کو اب فکر ہونے لگی تھی۔۔۔
تبھی بیل بجی۔۔۔۔۔۔۔منہا گیٹ کی جانب ہی دیکھ رہی تھی۔۔۔۔
سامنے سے آصف صاحب اور منیب آرہے تھے۔۔۔
منہا انہیں دیکھ اٹھ کھڑی ہوئی۔۔۔۔
اسے اپنی آنکھوں پر یقین نہیں آرہا تھا۔۔۔۔
کہ سامنے سے آنے والے اس کے باپ اور بھائی تھے۔۔۔
وہ اٹھ کھڑی ہوئی۔۔۔۔پھر بھاگتی ہوئی ان تک گئی۔۔۔۔
“بابا…” منہا آصف صاحب کی جانب بھاگی۔۔۔۔
وہ اسے دیکھ مسکرائے۔۔۔۔
منہا بھاگ کر ان کے گلے لگی۔۔۔۔
اور کتنے عرصے سے وہ یہ سکون تلاش کر رہی تھی۔۔۔۔
جو اسے آج نصیب ہوا تھا۔۔۔
وہ بے اختیار ہی پھوٹ پھوٹ کر رو دی۔۔۔۔
“ہمیں سب بتا دیا ہے ابراہیم نے ۔۔۔۔کہ جو ہوا اس کے پیچھے ایدہ تھی۔۔۔۔”
منیب نے کہا۔۔۔۔
منہا نے سر اٹھا کر اسے دیکھا۔۔۔۔
“بھائی۔۔۔آپ نے مجھے معاف کردیا”
وہ منیب کے گلے لگی۔۔۔
“تمہاری غلطی تھی ہی نہیں تو۔۔۔معافی تو ہمیں مانگنی چاہیے بیٹا”
آصف صاحب نے اس کے سر پر ہاتھ رکھا۔۔۔
“ہاں۔۔۔ہمیں معاف کردو منہا”
منیب نے شرمندگی سے کہا
..
“تمہیں کتنی بار سمجھایا ہے یہاں مت آیا کرو ۔۔۔سمجھ نہیں آتی؟”
آصف صاحب نے تلخی سے کہا
“میں آؤں گا ضرور آؤں گا جب تک آپ لوگ منہا کو معاف نہیں کریں گے میں آتا رہوں گا”
ابراہیم نے ڈھٹائی سے کہا
فائقہ بیگم سامنے خاموش کھڑی تھی۔۔۔۔
وہ بے بس تھی۔۔۔۔
“آنٹی۔۔۔وہ بہت یاد کرتی ہے آپ سب کو۔۔۔۔آپ ماں ہوکر اسے یاد نہیں کرتی۔۔۔۔”
ابراہیم نے سوال کیا۔۔۔۔
فائقہ بیگم کی آنکھیں بھر آئی تھی۔۔۔
آخر کو وہ اپنی اولاد سے چار سال سے دور تھی۔۔۔
“اسے اس گھر میں آنے کی اجازت دے دیں آپ۔۔۔خدا کا واسطہ ہو۔۔۔۔باپ اتنے سخت دل تو نہیں ہوتے۔۔۔۔”
ابراہیم نے بے بسی سے کہا
“تمہیں سمجھ نہیں آرہی” منیب نے آگے بڑھ کر اسے گریبان سے پکڑا۔۔۔۔
“منیب۔۔۔۔۔۔” فائقہ بیگم یک دم چکرا کر زمین پر گری۔۔۔۔
“امی۔۔۔۔۔” منیب ان کی جانب بھاگا ۔۔۔
ابراہیم کی ان کی طرف لپکا۔۔۔
“امی آنکھیں کھولیں۔۔۔۔” منیب پریشان ہوا۔۔۔۔
“ہمیں ہاسپیٹل لے کر جانا چاہیے انہیں۔۔۔۔”
ابراہیم نے کہا۔۔۔۔
منیب اور آصف صاحب انہیں لے کر ہسپتال پہنچے۔۔۔۔
ابراہیم بھی وہیں تھا۔۔۔۔
“انہیں اٹیک آیا ہے۔۔۔۔” ابراہیم جو ابھی ابھی ڈاکٹر سے مل کر آیا تھا سامنے کھڑے آصف صاحب کی جانب دیکھ کہنے لگا۔۔۔
“ایک ماں سے اس کی اولاد کو دور کرنے کا جو گناہ آپ کمارہے ہیں نا۔۔۔۔۔آپ کو جواب دینا ہوگا۔۔۔۔روز قیامت ہی صحیح۔۔۔”
ابراہیم نے چبا کر کہا۔۔۔
آصف صاحب نے سنجیدگی سے اسے دیکھا۔۔۔
“آپ ان کے شوہر ہیں۔۔۔۔آپ انہیں منہا سے ملنے سے روک سکتے ہیں ۔۔۔مگر آپ ایک ماں سے اس کی اولاد کو یاد کرنے سے آپ نہیں روک سکتے۔۔۔۔”
ابراہیم نے افسردگی سے کہا
“جو بھی ہوا تھا اس میں منہا کا قصور نہیں تھا۔۔۔۔اس کا بس یہ قصور تھا کہ اس نے دوستی میں اعتبار کیا۔۔۔۔وہ بہت معصوم ہے سر۔۔۔۔وہ لوگوں کے اصلی چہرے نہیں پہنچانتی۔۔۔۔”
ابراہیم نے انہیں تفصیل دی۔۔۔۔
وہ خاموش کھڑے تھے۔۔۔۔
“منیب جو کچھ ہوا بہت غلط ہوا مگر اس کا قصور نہیں تھا۔۔۔۔یہ ان دونوں بہن بھائی کی پلاننگ تھی۔۔۔۔جسے نہ نوریض سمجھ سکا نہ میں اور نہ منہا۔۔۔ہم نے دوستی میں دھوکا کھایا ہے”
ابراہیم نے پاس کھڑے منیب کو صفائی دی۔۔۔۔
منیب نے اس کی بات خاموشی سے سنی
“یہ دیکھیں۔۔۔۔میرے جڑے ہاتھ دیکھ لیں۔۔۔اسے اس کی ماں سے ملنے سے نہیں روکیں۔۔۔پلیز۔۔۔۔اسے معاف کردیں آپ لوگ”
ابراہیم نے نم آنکھوں سے ہاتھ جوڑے ۔۔۔
جسے آصف صاحب نے تھاما اور اسے گلے سے لگایا۔۔۔۔
انہیں فخر ہوا انہوں نے اپنی بیٹی کا ہاتھ غلط ہاتھوں میں نہیں دیا۔۔۔۔۔
..
“میں سارا پیسہ لگا چکا ہوں۔۔۔اور وہ مال نہیں اٹھارہے۔۔۔۔میری فیکٹری کو اتنا بڑا نقصان ہوگیا ایدہ۔۔۔۔۔”
کمیل نے لاچارگی سے کہا
“نوریض ایسا کیوں کر رہا ہے؟ ہم نے سب بھلا دیا وہ بھی بھول جائے”
ایدہ نے اسے دیکھ کہا
“کیوں کر رہا ہے؟ جیسے تجھے پتا نہیں۔۔۔۔سب تیری وجہ سے ہورہا ہے۔۔۔۔اس دو ٹکے کی محبت کے پیچھے تونے دوستی دشمنی میں بدلوادی۔۔۔۔”
کمیل نے تلخی سے کہا
“اچھا اگر محبت کی یہی ویلیو ہے تیری نظر میں تو بھول جا تو بھی انابیہ کو۔۔۔۔۔اس کا بھی ایبو سے افیئر ہے نا۔۔۔”
ایدہ نے غراتے ہوئے کہا
“ایبو اگر شادی شدہ نہ ہوتا نا ایدہ۔۔۔۔میں ان کے راستے سے ہٹ جاتا۔۔۔۔مگر وہ انابیہ کو بھی دھوکا دے رہا ہے”
کمیل نے فکرمندی ظاہر کی
“تو بھی پیچھے مت رہ پھر بدلہ تو پھر بدلہ ہی صحیح۔۔۔۔”
ایدہ نے غصے سے کہا
..
“گھر کب آؤ گی؟”
ابراہیم نے بیڈ کراؤن سے ٹیک لگائی
“کیوں میری یاد آرہی ہے؟”
منہا نے پوچھا
“نہیں بلکہ مزہ آرہا ہے۔۔۔پورے بیڈ پر پھیل کر سوتا ہوں۔۔۔آرام سے”
ابراہیم نے فون کان سے لگائے شرارت سے کہا
“بس پھر سوجاؤ کیوں فون کر کے پوچھ رہے ہو۔۔۔کب آو گی کب آو گی”
منہا نے روٹھے انداز میں کہا
اور ابراہیم کا قہقہہ گونجا
“آئی مس یو میری جان۔۔۔۔۔پتا ہے مجھے نیند ہی نہیں آرہی۔۔۔۔بیویوں کے مائکے جانے پر حکومت کو پابندی لگانی چاہیے”
ابراہیم نے بے اختیار کہا
منہا اس کی بات پر ہنسی۔۔۔۔
“اگر ایسا ہوجائے تو سارے شوہروں نے سڑکوں پر نکل آنا ہے۔۔۔۔”
منہا نے ہنس کر کہا
“میں تو نہیں نکلوں گا۔۔۔وہ لوگ اپنی بیویوں سے تنگ ہوں گے نا”
ابراہیم نے جواباً سنجیدگی سے کہا
“مطلب میں تنگ نہیں کرتی تمہیں؟”
منہا نے سوال کیا
“تنگ نہیں بہت تنگ کرتی ہو۔۔۔۔مگر میں نے کمپرومائز کرنا سیکھ لیا اب۔۔۔۔۔”
ابراہیم نے بیچارگی سے منہ بنا کر کہا۔۔۔
“ایبو۔۔۔۔۔دفع ہوجا…بائے”
منہا نے جواب سنے بنا ہی کال ڈسکنیکٹ کی۔۔۔
اور ابراہیم فون ہاتھ میں لیے ہنسنے لگا۔۔۔۔
..
“میں نے ایدہ سے بات کرلی ہے۔۔۔۔بہت جلد ڈیڈ سے بھی کرلوں گا”
کمیل نے سنجیدگی سے سامنے بیڈ پر بیٹھی انابیہ کو کہا
“کیا؟ کون سی بات؟”
وہ ناسمجھی سے پوچھنے گی
“ہماری شادی کی۔۔۔۔”
کمیل نے اسے بغور دیکھا
“شادی۔۔۔۔ہماری۔۔۔کمیل میں تمہیں انکار کرچکی ہوں”
انابیہ نے بے رخی سے کہا
“تمہارے پاس کوئی وجہ نہیں ہے انکار کی۔۔۔سمجھی۔۔۔۔ڈیڈ تمہارے بابا سے خود ہی بات کرلیں گے”
کمیل نے روب دار لہجے میں کہا
“میں کسی کو پسند کرتی ہوں کمیل تم زبردستی نہیں کرسکتے میرے ساتھ”
انابیہ نے غصے سے کہا
“اور وہ جسے تم پسند کرتی ہو وہ شادی شدہ ہے۔۔۔۔۔”
کمیل غرایا
انابیہ لمحہ بھر ساکت ہوئی
“میں جانتی ہوں”
انابیہ نے نظریں گھمائی
“کیا؟ تم جانتی ہو۔۔۔پھر بھی۔۔۔۔۔تمہارا دماغ ٹھیک ہے؟”
وہ پوچھنے لگا
وہ خاموش تھی۔۔۔۔
“تم اس سے دور رہو گی اب۔۔۔۔ورنہ میں اسے جان سے مار دوں گا”
کمیل غرایا
اور اس کا جواب سنے بنا ہی باہر نکل گیا
..
“میٹنگ کی ساری ڈیٹیل مجھے بھیجو۔۔۔۔”
ابراہیم پاس کھڑے کسی امپلائے کو سمجھا رہے تھے۔۔۔۔
جب دروازے سے اندر آتے کمیل پر نظر پڑی۔۔۔۔
وہ کمیل کی جانب بڑھ گیا
“کامی۔۔۔۔ہائے بڈی۔۔۔تو یہاں؟”
وہ اسے اپنے آفس دیکھ حیران ہوا تھا
“میں تجھ سے ہی ملنے آیا تھا”
کمیل نے کہا
“ویلکم۔۔۔آجا”
وہ اسے اندر بلاتا آگے بڑھ گیا۔۔۔۔
“کافی بھیجو۔۔۔۔”
اس نے ملازم کو حکم دیا۔۔۔۔
“ابرہیم جو تو کر رہا ہے نا وہ صحیح نہیں ہے”
کمیل نے کرسی سے ٹیک لگائے کہا
“میں نے کیا کیا؟”
وہ پوچھنے لگا
“انابیہ کے ساتھ؟”
وہ اسے دیکھنے لگا
“انابیہ تو کیسے جانتا ہے اسے؟”
ابراہیم چونکا
“سوال یہ نہیں بنتا سوال یہ بنتا ہے۔۔۔کہ تو شادی شدہ ہوکر بھی اس معصوم سے افیئر چلارہا ہے۔۔۔اسے یوز کر رہا ہے۔۔۔جو میں تجھے کرنے نہیں دوں گا”
کمیل نے سنجیدگی سے دھمکی دی
ابراہیم مسکرایا
“پہلی بات تو میرا اس کے ساتھ کوئی افیئر نہیں۔۔۔۔اور دوسری بات”
وہ رک کر ٹیبل پر جھک کر اس کے تھوڑا قریب ہوا۔۔۔۔
کامی اسے دیکھ رہا تھا
“تیرا بھی اس کے ساتھ افیئر نہیں۔۔۔۔”
ابراہیم کہتے ہی کرسی سے ٹیک لگا کر ہنسا۔۔۔
کمیل کا مانو خون ہی جل گیا۔۔۔۔
“وہ میری دوست ہے”
کمیل نے اسے گھورا۔۔۔۔
“اگر دوست ہے تو یہ بات تو اسے سمجھا کیوں مجھ سے شادی شدہ کے پیچھے پڑی ہے۔۔۔۔”
ابراہیم نے لاپرواہی سے کہا
“سمجھا دوں گا اسے بھی۔۔۔بس تو دور رہ اس سے “
کمیل نے سنجیدگی سے کہا
“فکر مت کر۔۔۔میں بیوی سے محبت کرنے والا شخص ہوں۔۔۔۔باقی تو دیکھ لے کیسے لڑکی کو راضی کرے گا”
ابراہیم نے بڑی نرمی سے اس کی دکھتی رگ پر ہاتھ رکھا۔۔۔۔
کمیل خاموش رہا۔۔۔۔
ملازم کافی رکھ کر گیا۔۔۔۔
“کافی پی۔۔۔۔۔اور فکر مت کر تیرا دوست ہوں۔۔۔۔اور میں دوستی میں دھوکا نہیں کرتا”
اس نے طنزیہ کہا۔۔۔۔
کمیل شرمندہ ہوا
“سوری یار۔۔۔۔وہ بس میں تھوڑا پریشان تھا”
کمیل نرم پڑا
“کیوں خیریت؟”
ابراہیم نے پوچھا
“یار فیکٹری پیچھے جارہی ہے۔۔۔۔نوریض نے مجھے برباد کردیا۔۔۔۔میں اسے چھوڑوں گا نہیں”
وہ تفصیل سے بتانے لگا
“نوریض کو ایسا نہیں کرنا چاہیے تھا۔۔۔تو کہے تو میں بات کروں؟”
ابراہیم نے کہا
نہیں کوئی فائدہ نہیں۔۔۔۔اب بدلہ ہوگا بس”
کمیل کا چہرہ سرخ ہوا
“کیسا بدلہ؟”
ابراہیم نے پوچھا
“میم سلطانہ کے ہوٹل کی کنسٹرکشن کا کام چل رہا ہے نا۔۔۔۔مجھے وہ رکوانا ہے۔۔۔۔”
کمیل نے سوچتے ہوئے کہا
“کیسے بھی۔۔۔۔میرے ڈیڈ کے لیے کوئی مشکل نہیں”
کمیل نے ٹھنڈے لہجے میں کہا
ابراہیم سوچ میں پڑ گیا
..
“نوریض۔۔۔۔۔آرب کا کام کردے اب “
ابراہیم نے کہا
“مگر یار اس کا قصور نہیں تھا ایبو۔۔۔کیا ہم اس سے بدلہ لے کر صحیح کر رہے ہیں؟”
نوریض نے سوچتے ہوئے کہا
“مجھے پتا ہے اس کا قصور نہیں تھا۔۔۔مگر ابھی میں جیسا بول رہا ہوں تو ویسا ہی کر۔۔۔۔۔”
ابراہیم نے سنجیدگی سے کہا
“کیا ہوا سب خیریت؟”
نوریض اس کے رویے سے پریشان ہوا
“ہاں سب ٹھیک ہے۔۔۔بس تو کام رکوا دے”
ابراہیم نے حکم دیا۔۔۔
..
“احد گر جاؤ گے۔۔۔۔”
وہ صوفے پر بیٹھی تھی۔۔۔۔
اور سامنے ہی احد بال سے کھیل رہا تھا۔۔۔۔
تبھی گیٹ سے اندر آتی پولیس پر ایدہ کی نظر پڑی۔۔۔۔
ایدہ نے ملازمہ کو احد کی جانب اشارہ کیا۔۔۔۔
ملازمہ اسے اٹھا کر لے گئی۔۔۔۔
ایدہ باہر کی جانب بڑھ گئی۔۔۔۔
“کیا ہوا ہے سر؟” ایدہ نے اخلاقاً پوچھا
“مسٹر آرب کو بلا دیں آپ۔۔۔۔”
ایک پولیس والے نے نرمی سے کہا
“مگر کیوں؟”
ایدہ چونکی
“ان کا ارسٹ وارنٹ ہے ہمارے پاس۔۔۔۔ہم انہیں گرفتار کرنے آئے ہیں”
پولیس والے کی بات سن مانو ایدہ کو اگلا سانس نہیں آیا۔۔۔
اس کے ہاتھ پاؤں ٹھنڈے پڑے۔۔۔۔
“آرب۔۔۔آرب۔۔۔”
ایدہ گھبرائی ۔۔۔
“کیا ہوا؟” وہ سیڑھیاں اترتا نیچے آیا۔۔۔
سامنے ہی پولیس کھڑی تھی۔۔۔۔
وہ ناسمجھی سے دیکھنے لگا
“آپ مسٹر آرب ہیں؟”
ایک پولیس والے نے سوال کیا
“جی۔۔۔۔” آرب میں سر ہلایا
“آپ کے خلاف وارنٹ ہے۔۔۔آپ کو چلنا ہوگا”
انہوں نے اسی تاثر سے کہا
اور آرب کے پاؤں تلے زمین نکلی۔۔۔
“نہیں۔۔۔آرب یہ لوگ تمہیں اریسٹ کیوں کرنے آئے ہیں؟”
ایدہ نے آرب کی بازو کو مضبوطی سے تھاما
“ایک منٹ”
آرب نے ایدہ کو تسلی دی۔۔۔
پھر سامنے کھڑے پولیس افسر کو دیکھا
“کیا میں جان سکتا ہوں۔۔۔کس جرم میں؟”
وہ سوال کرنے لگا
“آپ نے میم سلطانہ کے ہوٹل کی کنسٹرکشن میں جتنا مال استعمال کیا ہے وہ سب دو نمبر تھا۔۔۔۔مسل میں ملاوٹ کے کیس میں آپ کا نام آیا ہے۔۔۔۔”
انہوں نے تفصیل سے بتایا
“مگر یہ سب جھوٹ ہے۔۔۔میں نے ایسا کچھ نہیں کیا”
آرب روہانسی ہوا۔۔۔
“یہ سب تو بعد کی بات ہے آپ کو ہمارے ساتھ چلنا پڑے گا”
انہوں نے سنجیدگی سے کہا۔۔۔۔
آرب نے لمحہ بھر سوچا۔۔۔پھر اثبات میں سر ہلایا
“آرب میں ڈیڈ سے بات کرتی تمہیں جانے کی ضرورت نہیں ہے۔۔۔۔”
ایدہ نے نفی میں سر ہلاتے اسے روکا
“کچھ نہیں ہوسکتا اب ان کے پاس اریسٹ وارنٹ ہے۔۔۔مجھے جانا ہی ہوگا…احد کا خیال رکھنا”
اس نے ایدہ کا گال تھپتھپایا اور خاموشی سے ان کے ساتھ ہولیا۔۔۔۔
