Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Blind Friends (Episode - 35)

Blind Friends By Isra Rao

“ایبو۔۔۔۔۔”

وہ لیپ ٹاپ پر انگلیاں چلا رہا تھا جب منہا برابر آبیٹھی۔۔۔

“ہممم۔۔۔۔” وہ اسکرین پر نظریں جمائے مصروفیت سے کہنے لگا

“امی اور بابا آرہے ہیں”

منہا نے جھجھکتے ہوئے کہا

اس نے یک دم اسکرین سے نظریں ہٹا کر اسے دیکھا

“میں نے بس امی سے بات کی تھی۔۔۔۔”

منہا نے صفائی دی

“تو نے انہیں بتا دیا ہوگا؟”

وہ فوراً کہنے لگا

“ہاں تو کیا اتنی بڑی خوشخبری چھپانا ان کے ساتھ زیادتی نہیں ہوگی؟”

وہ الٹ پوچھنے لگی

“جب ہوتا تو انہیں پتا لگ جاتا”

وہ بے رخی سے کہنے لگا

“تو کیا انہیں دکھ نہیں ہوتا؟”

وہ افسردگی سے کہنے لگی

“تو کیا مجھے دکھ نہیں ہوا تھا بابا کے رویے پر۔۔۔۔بلکہ مجھے بچپن سے ہوتا آرہا ہے”

وہ غصے سے کہنے لگا

“ایبو۔۔۔۔وہ بابا ہیں۔۔۔۔وہ ہمارے گھر آرہے ہیں۔۔۔پلیز کوئی تماشہ نہیں کرنا ۔۔۔۔پلیز”

منہا نے منت کی۔۔۔۔

ابراہیم لمحہ بھر سوچتا رہا پھر لیپ ٹاپ بند کر سائیڈ پر رکھا۔۔۔اور اٹھ کر باتھ روم کی جانب بڑھ گیا

❤️❤️❤️❤️❤️❤️..

“ایدہ کو پولیس لے گئی”

وہ کھانا کھاتے ہوئے بتانے لگا

“کیا؟”

رتبہ چونکی۔۔۔۔

“ہاں۔۔۔سارہ آنٹی اور آصف انکل کا لاڈلا بیٹا تھا آرب۔۔۔۔انہوں نے ہمیشہ اس کی ہر خواہش پوری کی۔۔۔۔اس کی خوشی کے لیے سارہ آنٹی حیدرآباد چلی گئی تھی ۔۔ کیونکہ ایدہ ان کے ساتھ نہیں رہنا چاہتی تھی۔۔۔۔”

نوریض نے تفصیل دی

“ایدہ مجھے ایسی لڑکی لگتی ہے جو کبھی خوش نہیں رہ سکتی۔۔۔۔”

رتبہ نے ابرو اچکا کر کہا

“بلکل ایسا ہی ہے۔۔۔۔ایدہ نے اپنی زندگی تو خراب کی ہے ساتھ احد کی بھی کردی ۔۔۔۔”

نوریض پانی گلاس میں ڈالتے ہوئے کہا

“ہممم۔۔۔۔سارہ آنٹی اور آصف انکل احد سے بہت محبت کرتے ہیں ۔۔مگر احد کو ماں باپ کی کمی تو ہمیشہ محسوس ہوگی نا۔۔۔۔”

رتبہ نے دکھ بھرے لہجے میں کہا

اور نوریض اثبات میں سر ہلا کر رہ گیا۔۔۔۔

❤️❤️❤️❤️❤️❤️..

“ڈیڈ معاف کردیں مجھے”

وہ برابر بیٹھا خاور صاحب کو دیکھ رہاتھا

جو آنکھیں موندے لیٹا تھا۔۔۔۔

“مجھ سے غلطی ہوگئی۔۔۔۔میں میں سدھار لوں گا ڈیڈ۔۔۔بس آپ ٹھیک ہوجائیں۔۔۔پلیز ڈیڈ میرا آپ کے سوال کوئی نہیں ہے۔۔۔۔”

وہ گرتے آنسوؤں کے ساتھ کہ رہا تھا۔۔۔۔

“اگر آپ کو کچھ ہوگیا تو میں بہت اکیلا پڑ جاؤں گا”

آکسیجن ماسک لگائے خاور صاحب اسی طرح لیٹے تھے۔۔۔۔

“میں جانتا ہوں آپ کو اس حال میں ہم نے ہی پہنچایا ہے ۔۔۔مگر ڈیڈ ایک بار معاف کردیں۔۔۔۔آپ جیسا کہیں گے میں ویسا کروں گا۔۔۔میں۔۔میں انابیہ اور شوکت انکل سے پاؤں پکڑ کر بھی معافی مانگ لوں گا۔۔۔۔بس آپ ٹھیک ہوجائیں”

وہ مسلسل رو رہا تھا۔۔۔۔

وہ خاور صاحب کو کھونا نہیں چاہتا تھا۔۔۔۔۔

❤️❤️❤️❤️❤️❤️..

“آپ بیٹھیں نا۔۔۔۔” منہا نے سونیا بیگم کو بیٹھنے کا اشارہ کیا۔۔۔۔ابراہیم بھی ماں کے پاس بیٹھ گیا۔۔۔۔

وہ اسے لاڈ کرنے لگی۔۔۔۔۔

“بابا کہاں ہیں؟” منہا نے پوچھا۔۔۔۔

“وہ باہر ہی ہوں گے۔۔۔آرہے ہیں بس۔۔۔۔۔” انہوں نے مسکرا کر کہا۔۔۔۔

منہا بھی مسکرا دی

“آپ تو یہاں آؤ بیٹھو میرے پاس”

سونیا بیگم نے اسے پاس بٹھایا۔۔۔۔

اماں بی اور باقی سب کیسے ہیں؟”

منہا نے پوچھا

“سب ٹھیک ہیں۔۔۔۔آپ کی خوشخبری کا سنا تو سب ہی بہت خوش تھے۔۔۔سب آنا چاہ رہے تھے پھر میں نے کہا میں اپنی بیٹی ساتھ ہی لے آؤں گی”

سونیا بیگم بات سن منہا نے چونک کر ابراہیم کو دیکھا۔۔۔۔

ابراہیم بھی سنجیدگی سے منہا کو دیکھ رہا تھا ۔۔۔

“مگر میں کیسے جاسکتی ہوں ۔۔۔یہاں ایبو”

وہ جھجکتے ہوئے بات پوری کرنے لگی ہی تھی کہ سونیا بیگم نے بات کاٹی

“ان کی فکر آپ مت کرو۔۔۔۔یہ اپنا خیال خود رکھ سکتے ہیں۔۔۔۔مگر آپ کو اس وقت پراپر کیئر کی ضرورت ہے۔۔۔۔”

وہ سمجھانے لگی

“مگر میں کیئر کر رہاں ہوں منہا کی۔۔۔۔”

ابراہیم نے فوراً کہا

“کیا خاک خیال رکھ رہے ہیں۔۔۔کتنی کمزور ہوگئی ہے۔۔۔۔میں کچھ نہیں سن رہی میں بس منہا کو ساتھ لے کر جا رہی ہوں۔۔۔۔۔”

انہوں نے فیصلہ سنایا

تبھی فرقان صاحب اندر داخل ہوئے

منہا نے آگے بڑھ کر سلام کیا۔۔۔۔۔

“اسلام وعلیکم” ابراہیم نے رسم سلام کیا

اور خاموشی سے اٹھ کر اندر کی جانب بڑھ گیا

فرقان صاحب اس کی بے رخی کی وجہ اچھے سے سمجھ گئے تھے ۔۔۔۔

منہا انہیں دیکھ فوراً آگے بڑھی

“بابا۔۔۔۔۔آئیں نا ۔۔۔بیٹھیں۔۔۔۔”

منہا نے مسکرا کر کہا۔۔۔۔۔

❤️❤️❤️❤️❤️❤️..

“دیکھیں آپ یہ میڈیسن لے آئیں۔۔۔۔پیشنٹ کی طبیعت ٹھیک نہیں”

نرس نے کمیل کے ہاتھ میں کاغذ دیتے ہوئے کہا

کمیل اثبات میں سر ہلاتا باہر کی جانب بھاگا۔۔۔۔

تھوڑی ہی دیر میں وہ دوا ہاتھ میں لیے واپس آیا۔۔۔۔

“یہ۔۔۔۔۔۔” اس نے نرس کو دوا دی ۔۔۔۔

“ایم سوری۔۔۔۔۔اب اس کی ضرورت نہیں”

نرس کہتی آگے بڑھ گئی۔۔۔۔۔

کمیل کے پاؤں تلے سے زمین کھسکی۔۔۔

وہ فوراً اندر کی جانب بھاگا۔۔۔۔۔۔

❤️❤️❤️❤️❤️❤️..

“تو منع کردے مام کو۔۔۔۔۔”

ابراہیم نے اس کے کمرے میں آتے ہی کہا

“میں نے کیا تھا مگر وہ دونوں بضد ہیں۔۔۔۔۔میں کیا کہوں؟”

منہا روہانسی ہوئی

“یہ مجھے نہیں پتا مگر تو نہیں جائے گی منہا”

ابراہیم نے حکم دیتے ہوئے کہا

سوری۔۔۔مگر میں ان کا دل نہیں دکھا ا چاہتی۔۔۔۔”

منہا وارڈ روب کی جانب بڑھ گئی

“مطلب تو جارہی ہے؟”

وہ اس کے پیچھے جاکھڑا ہوا

“ہاں۔۔۔میں جارہی ہوں”

منہا نے کپڑے نکالتے ہوئے کہا

“مطلب تجھے وہ لوگ زیادہ عزیز ہیں؟”

ابراہیم نے سنجیدگی سے سوال کیا

“ہاں۔۔۔۔جب تو مجھ سے نکاح کر کے مجھے اکیلا چھوڑ کر ملک سے باہر چلا گیا تھا نا۔۔۔۔تو انہی لوگوں نے سنبھالا تھا مجھے۔۔۔۔مجھے بہو نہیں بیٹی بنایا ہے انہوں نے۔۔۔۔میں احسان فراموش نہیں ہوں ایبو”

وہ مڑ کر تلخی سے کہنے لگی

“کوئی احسان نہیں کیا انہوں نے۔۔۔۔شادی بھی تو میری تجھ سے انہیں لوگوں نے کروائی تھی نا۔۔۔۔۔میری کوئی لو میرج نہیں تھی تجھ سے”

ابراہیم نے اسی ٹون میں جواب دیا

چہرہ سرخ ہوچکا تھا۔۔۔۔

“ہاں۔۔۔۔تو یہ کہنا چاہتا ہے کہ تیری شادی مجھ سے بابا نے زبردستی کروائی تھی۔۔۔۔۔؟”

منہا نے دکھ بھرے لہجے میں کہا۔۔۔۔

“منہا تو ساری سچویشن کو جانتی ہے۔۔۔۔پرانی باتیں مت اکھیڑ۔۔۔۔۔”

ابراہیم تلخ ہوا

“ابراہیم مجھ سے جاتے جاتے لڑ مت تو۔۔۔۔میں خوشی خوشی جانا چاہتی ہوں”

وہ مڑ کر پھر سے کپڑے نکال کر بیڈ پر رکھنے لگی۔۔۔۔۔

پھر بیگ کھول کر پیکنگ کرنے لگی

“تو غلط کر رہی ہے منہا”

وہ چلایا تھا

مگر اسی طرح اپنی پیکنگ کرنے لگی۔۔۔۔

پھر سارا سامان رکھ بیگ بند کیا۔۔۔۔۔

“میں وہاں نہیں آؤں گا پھر منہا۔۔۔۔تو بلائے گی تب بھی نہیں۔۔۔۔۔”

وہ فیصلہ سنا رہا تھا۔۔۔۔

اس کی بات سن منہا کے قدم ٹھہرے تھے۔۔۔۔

اس نے مڑ کر اسے دیکھا۔۔۔۔

جو آنکھوں میں غصہ لیے اسے دیکھ رہا تھا۔۔۔۔

اس نے اثبات میں سر ہلایا۔۔۔۔

پھر مڑ گئی۔۔۔۔۔اور کمرے سے باہر نکل گئی۔۔۔۔

❤️❤️❤️❤️❤️❤️..

“تو وہ چلی گئی؟”

نوریض نے سوال کیا

“ہاں۔۔۔۔میرے منع کرنے پر بھی وہ چلی گئی”

ابراہیم نے غصے سے بتایا

نوریض ہلکے سے مسکرایا

“تو ہنس رہا ہے؟”

ابراہیم تپا

“نہیں۔۔۔۔میں بس یہ کہ رہا ہوں کہ تم لوگ اب بڑے ہوجاؤ”

نوریض نے ہنسی روکتے ہوئے کہا

“تو بکواس نہ کر۔۔۔۔۔”

ابراہیم نے اکتا کر کہا۔۔۔

تبھی نوریض کا فون بجنے لگا

اس نے کال رسیو کی۔۔۔۔۔

“کیا؟ کب؟” وہ حیرانی سے پوچھ رہا تھا۔۔۔

پھر فون بند کر ٹیبل پر رکھا

خاور انکل کی ڈیتھ ہوگئی”

نوریض نے بتایا

“کیا؟” ابراہیم نے جیسے جھٹکا لگا ۔۔۔۔

“ہاں۔۔۔اور ایدہ کو پولیس نے اریسٹ کرلیا۔۔۔۔کمیل کتنا اکیلا ہوگیا ہوگا”

نوریض کو جیسے دکھ ہوا۔۔۔۔۔

“ہمم۔۔۔۔کیا ہمیں جانا چاہیے؟”

ابراہیم نے پوچھا۔۔۔۔

چلتے ہیں۔۔۔۔تدفین کے بعد آجائیں گے واپس۔۔۔”

نوریض نے کہا۔۔۔

ابراہیم نے اثبات میں سر ہلایا ۔۔۔

❤️❤️❤️❤️❤️❤️..

وہ لوگ کمیل کے پاس نہیں گئے تھے۔۔۔۔۔

بس تدفین کی۔۔۔۔۔

کمیل سارا ٹائم انتظار کرتا رہا کہ وہ دونوں آکر اس کے گلے لگیں گے۔۔۔اس کا دکھ کم کرنا چاہیں گے۔۔۔۔۔

مگر وہ دونوں دور کھڑے رہے۔۔۔۔۔

سب لوگ تدفین کے بعد چلے گئے تھے۔۔۔

مگر کمیل وہیں خاور صاحب کی قبر پر بے سدھ بیٹھ گیا تھا۔۔۔۔

ابراہیم اور نوریض کو اس پر ترس آرہا تھا۔۔۔۔

اس کا رونا دیکھا نہیں جارہا تھا۔۔۔۔

مگر وہ آرب کی موت کو نہیں بھول سکتے تھے۔۔۔۔

اس جگہ پر آکر انہیں پھر سے آرب کی یاد آگئی تھی۔۔۔۔

“چل۔۔۔آرب سے مل کر آتے ہیں”

نوریض نے کہا۔۔۔۔

اور ابراہیم اس کے پیچھے چل دیا۔۔۔۔

کچھ ہی لمحے بعد کمیل نے مڑ کر دیکھا۔۔۔۔

وہ دونوں اس کے پاس نہیں تھے۔۔۔۔

وہ اکیلا تھا۔۔۔۔۔

❤️❤️❤️❤️❤️❤️..

“آپ لڑ کر آئی ہیں نا ابراہیم سے؟”

فرقان صاحب نے سامنے بیٹھی منہا کو دیکھ پوچھا۔۔۔۔

“جی۔۔۔۔نہیں۔۔۔نہیں تو”

منہا نے نفی میں سر ہلایا

“میں جانتا ہوں۔۔۔۔وہ گیٹ تک ہمیں رخصت کرنے بھی نہیں آیا تھا۔۔۔۔۔وہ مجھ سے ناراض ہے۔۔۔۔۔”

فرقان صاحب نے سنجیدگی سے کہا

“نہیں بابا۔۔۔ایسا نہیں ہے۔۔۔”

منہا نے جھجھکتے ہوئے کہا

“جو بھی تھا آپ کو ایسے نہیں آنا چاہیے تھا۔۔۔۔

آپ نے غلط کیا”

فرقان صاحب نے کہا

“نہیں بابا۔۔۔وہ آجائے گا۔۔۔وہ ناراض نہیں ہے۔۔۔۔وہ معافی مانگے گا آپ سے۔۔۔۔”

منہا نے تسلی دیتے ہوئے کہا

“چلیں مان لیتے ہیں۔۔۔۔اب آپ آرام کرلیں۔۔۔۔خوش رہیں”

وہ اس کے سر پر ہاتھ رکھتے باہر نکل گئے۔۔۔۔

❤️❤️❤️❤️❤️❤️..

دن گزر رہے تھے۔۔۔مگر کمیل کا دکھ کم نہیں ہورہا تھا۔۔۔۔

وہ سارا سارا دن قبرستان میں بیٹھا رہتا۔۔۔۔

آج بھی جمعہ کی نماز کے بعد وہ قبرستان چلا آیا تھا

جب خاور صاحب کی قبر پر گیا تو دور سے اس نے انہیں دیکھا۔۔۔۔

وہ دونوں خاور صاحب کی قبر پر کھڑے ان کے لیے دعا کر رہے تھے۔۔۔۔

کمیل کے چہرے پر مسکراہٹ ابھری۔۔۔۔

وہ تیزی سے چلتا وہاں پہنچا۔۔۔۔۔

نوریض اور ابراہیم نے جیسے اسے دیکھا۔۔۔۔

منہ پر ہاتھ پھیرے۔۔۔دعا پوری کی۔۔۔۔

اور وہاں سے نکلنے لگے۔۔۔۔بنا کوئی بات کیے۔۔۔۔

“ایبو۔۔۔نوریض” کمیل کے پکارنے پر وہ رکے۔۔۔۔

“کیا معافی کی کوئی گنجائش نہیں ؟”

کمیل نے سوال کیا۔۔۔۔۔

“کیا تیری معافی سے آبی واپس آسکتا ہے؟”

ابراہیم نے افسردگی سے پوچھا۔۔۔

وہ شرمندہ ہوا۔۔۔۔۔نظریں جھکائی۔۔۔۔

“تم دونوں سے دوستی کی بہت بڑی قیمت چکائی ہے ہم سب نے۔۔۔۔اپنے دوست کو کھویا ہے ہم نے۔۔۔۔”

نوریض نے فوراً کہا

“ابھی ہم اسی سے مل کر آرہے ہیں۔۔۔۔۔پتا ہے کامی۔۔۔۔وہ ہم سے بات نہیں کرتا۔۔۔۔ہمارا دوست خاموش ہوگیا۔۔۔۔چلا گیا ہمیشہ کے لیے۔۔۔صرف تم دونوں بہن بھائی کی وجہ سے”

ابراہیم کی آنکھیں نم تھی۔۔۔۔

” میں مانتا ہوں مجھ سے غلطیاں ہوئی ہیں۔۔۔مگر یہ سب کرنے والی ایدہ تھی۔۔۔۔اور وہ اپنے کیے کی سزا کاٹ رہی ہے۔۔۔۔وہ جیل میں پڑی ہے۔۔۔۔اور مزے کی بات پتا ہے کیا ہے ایبو۔۔۔۔وہ باہر نکلنا نہیں چاہتی۔۔۔۔۔دماغی حالت خراب ہوگئی ہے اس کی ڈیڈ کے بعد سے۔۔۔۔۔”

کمیل نے دکھ بھرے لہجے میں کہا

وہ دونوں حیرانی سے ایک دوسرے کو دیکھنے لگے۔۔۔۔

“وہ کہتی ہے وہ صرف آرب کی نہیں ڈیڈ کی بھی قاتل ہے۔۔۔۔وہ ٹھیک نہیں ہے یاروں۔۔۔پلیز یہ میرے جڑے ہاتھوں کو دیکھ لو۔۔۔۔ہمیں معاف کردو۔۔۔۔۔پلیز۔۔۔۔۔”

کمیل نے ہاتھ جوڑے۔۔۔۔۔

“کیا معافی مانگنا اور معاف کرنا اتنا آسان ہوتا ہے کامی؟”

ابراہیم نے سوال کیا۔۔۔۔

کمیل اس کی بات پر نظریں جھکا گیا اس کے پاس جواب نہیں تھا۔۔۔۔

ابراہیم تیزی سے آگے بڑھ گیا۔۔۔۔

نوریض بھی اس کے پیچھے لپکا۔۔۔۔

کمیل انہیں دور جاتا دیکھ رہا تھا ۔۔۔

پھر وہیں خاور صاحب کی قبر پر بیٹھ گیا۔۔۔۔

اور زاروقطار رونے لگا۔۔۔۔

“دیکھیں نا ڈیڈ کوئی مجھے معاف نہیں کر رہا۔۔ہمیں دوستوں کی بدعا لگ گئی ہے ڈیڈ۔۔۔۔۔ہم دونوں بہن بھائی زندہ ہی مر رہے ہیں۔۔۔۔۔”

وہ کہتے ساتھ ہی بے بسی سے رونے لگا۔۔۔۔

جانے کتنی دیر۔۔۔۔۔

تبھی اس کا فون بجا۔۔۔۔فیکٹری سے کال تھی۔۔۔۔

اس نےفون بند کیا اور اٹھ کھڑا ہوا۔۔۔

وہ اب بھی زمہ دار تو نہیں ہوا تھا مگر کوشش کر رہا تھا کہ خود کو کام میں مصروف رکھے۔۔۔۔

وہ بہت تنہا ہوگیا تھا۔۔۔۔

وہ قبرستان سے نکل کر اپنی گاڑی کی جانب بڑھ رہا تھا۔۔۔۔۔

کہ کچھ لوگوں نے آکر اس کا راستہ روکا۔۔۔۔

اس نے ناسمجھی سے انہیں دیکھا۔۔۔۔

تبھی ایک آدمی نے آگے بڑھ کر اس کے منہ پر زوردار مکہ رسید کیا۔۔۔۔

وہ لڑکھڑایا تھا۔۔۔۔

پھر پیچھے کھڑے دو بندے بھی آگے آئے۔۔۔۔

ان کے ہاتھ میں ڈنڈے تھے ۔۔۔۔

پہلے ہی وار میں وہ زمین پر جا گرا ۔۔۔۔

وہ تینوں اسے بے دردی سے مارنے لگے۔۔۔۔۔

وہ درد سے کراہ رہا تھا۔۔۔۔۔

تبھی ایک شخص نے پستول نکالی۔۔۔۔۔

وہ چلانے ہی لگا تھا کہ کسی نے پیچھے سے پکڑ کر اسے کھینچا۔۔۔۔۔

لاتوں اور گھونسوں کی بوچھاڑ کردی ۔۔۔۔

وہ اکیلا ان تینوں سے لڑ رہا تھا۔۔۔۔

کمیل کی آنکھوں کے سامنے اندھیرا چھا رہا تھا مگر۔۔۔۔پھر بھی وہ پہنچانے میں غلطی نہیں کرسکتا تھا۔۔۔۔

وہ ابراہیم کی تھا۔۔۔۔۔

وہ زخمی حالت سے بھی مسکرا رہا تھا۔۔۔۔

تبھی نوریض اس کی جانب بھاگتا ہوا آیا اوراٹھایا۔۔۔۔

اس کی آنکھیں مکمل بند ہوگئی تھیں۔۔۔۔۔

“کامی۔۔۔کامی آنکھیں کھول۔۔۔۔۔”

نوریض مسلسل اس کا گال تھتھپارہا تھا۔۔۔۔۔

کمیل چاہ کر بھی آنکھیں کھول نہیں پارہا تھا۔۔۔

اس کے چہرے پر ایک اطمینان تھا۔۔۔کہ اسے کچھ نہیں ہوگا۔۔۔۔اس کے دوست اس کے پاس تھے۔۔۔۔۔

❤️❤️❤️❤️❤️❤️..

“کھانا کھایا ہے آپ نے؟”

وہ لان میں بیٹھی تھی جب عظمیٰ بیگم نے آتے ہی پوچھا ۔۔۔

“ابھی بھوک نہیں چچی۔۔۔۔تھوڑی دیر بعد کھا لوں گی۔۔۔۔”

منہا نے فوراً کہا

“اس حال میں آپ کو ٹائم پر کھانا چاہیے۔۔۔۔اٹھیں جلدی۔۔۔۔کھانا کھائیں”

عظمیٰ بیگم نے حکم دیا۔۔۔۔

وہ ہنستے ہوئی اٹھ کھڑی ہوئی

“آپ لوگ کھلا کھلا کر موٹی کردیا مجھے”

منہا نے کہا

“کوئی موٹی نہیں ہوئی۔۔۔خیر سے ساتواں مہینہ لگ گیا ہے۔۔۔۔مگر مجھے تو ابھی بھی کمزور ہی لگ رہی ہو”

وہ ہنستے ہوئے کہنے لگی۔۔۔۔

منہا بھی ہنس دی۔۔۔

“ابراہیم سے بات ہوئی؟”

وہ یونہی چلتے چلتے پوچھنے لگی۔۔۔

مگر منہا کے ہونٹوں سے مسکراہٹ غائب ہوئی۔۔۔۔

“ہاں۔۔۔ہاں ہوئی تھی”

وہ بوکھلاتے ہوئے کہنے لگی۔۔۔۔

وہ کیا بتاتی وہ کتنی بار کالز کر چکی تھی۔۔۔مگر ابراہیم نے جواب نہیں دیا۔۔۔۔

اب تو منہا نے اسے کالز کرنا ہی چھوڑ دی تھی۔۔۔۔

وہ جانتی تھی وہ ناراض ہے۔۔۔

مگر وہ یہ بھی جانتی تھی۔۔۔۔

کہ کچھ ہی وقت ہے پھر وہ خوشخبری ملتے ہی دوڑا چلا آئے گا۔۔۔۔

❤️❤️❤️❤️❤️❤️..

“انابیہ میڈم آپ سے کوئی ابراہیم قریشی ملنے آئے ہیں”

ملازمہ نے اطلاع دی

“کیا؟ کہاں ہے وہ؟”

وہ اٹھ کھڑی ہوئی

“نیچے لاؤنج میں بٹھایا ہے”

ملازمہ نے بتایا۔۔۔۔

وہ تیزی سے کمرے سے باہر نکلی ۔۔

اس کا رخ لاؤنج کی جانب تھا

“کیسے ہو۔۔۔۔۔؟” اس نے سامنے کھڑے ابراہیم کو دیکھا

“میں ٹھیک ہوں۔۔۔مگر تم نے کیا کیا؟ یہ طریقہ صحیح نہیں تھا۔۔۔۔۔”

ابراہیم نے سنجیدگی سے کہا

“میں سمجھی نہیں”

وہ پوچھنے لگی

“میں مانتا ہوں انابیہ تمہارے ساتھ غلط ہوا ہے بلکہ بہت زیادہ غلط ہوا ہے۔۔۔۔۔کمیل تمہارا گنہگار ہے۔۔۔اسے سزا دینا حق ہے تمہارا۔۔۔۔مگر ایک آدھے مرے ہوئے شخص کو کیا سزا دو گی تم؟”

ابراہیم نے افسردگی سے کہا

وہ خاموش تھی۔۔۔۔

“وہ ہاسپیٹل میں ایڈمٹ ہے۔۔۔۔زخمی حالت میں۔۔۔۔اسے تو کوئی دوا دینے والا بھی نہیں۔۔۔۔اسے اپنے کیے کی سزا مل رہی ہے انابیہ پلیز اسے معاف کردو اب۔۔۔پلیز۔۔۔۔”

ابراہیم نے منت کی۔۔۔

“مگر میں نے اسے کچھ نہیں کہا”

انابیہ نے کہا۔۔۔۔

“تمہارے ڈیڈ نے بندے بھیجے تھے ۔۔۔اسے بہت مارا ہے۔۔۔۔اگر میں ٹائم پر نہ پہنچتا تو شاید وہ۔۔۔۔۔”

وہ لمحہ بھر رکا۔۔۔

“ہم نے ایک دوست کو کھو دیا ہے انابیہ ہم اب اور دوستوں کو مرتا نہیں دیکھ سکتے”

ابراہیم کی آنکھوں میں دکھ بھرا تھا۔۔۔بے بسی تھی۔۔۔

“چھ مہینے بعد مل رہے ہو مجھ سے۔۔۔۔مگر وہ بھی کسی اور کے لیے”

وہ ہلکا سا مسکرائی تھی

“انابیہ۔۔۔۔مجھے بھول جاؤ اور زندگی میں آگے بڑھو۔۔۔۔ابراہیم ہمیشہ تمہارے لیے دعا کرے گا۔۔۔۔تمہارے ہر حال میں ساتھ کھڑا ہوگا ۔۔۔۔مگر ابراہیم قریشی تمہیں مل نہیں سکتا۔۔۔”

ابراہیم نے صاف گوئی سے کہا

“میرے لیے اس سے زیادہ اعزاز کی کیا بات ہوگی۔۔۔۔کہ ابراہیم قریشی میرے لیے دعا جرے گا”

وہ مسکرا کر کہنے لگی

“دیکھو ۔۔جو ہوگیا سو ہوگیا۔۔۔اب سب بھول جاؤ۔۔۔شادی کرلو ۔۔۔تمہیں بھی خوش رہنے کا حق ہے۔۔۔۔”

ابراہیم نے مشورہ دیا ہو جیسے۔۔۔۔

“شادی کرلوں؟ یہ بھی بتا دو۔۔۔۔کہ ایک ایسی لڑکی جس کہ پاس سانسوں کے علاوہ باقی کچھ نہ بچا ہو۔۔۔۔وہ خوش کیسے رہے؟ اس سے کون شادی کرے گا؟”

وہ نم آنکھوں سے کہنے لگی۔۔۔

ابراہیم کے دل میں ایک ٹیس اٹھی تھی۔۔۔۔

“کمیل رئیسی۔۔۔۔۔وہی تم سے شادی کرے گا۔۔۔۔”

ابراہیم نے فوراً کہا

وہ خاموشی سے دیکھنے لگی۔۔۔

“میں جانتا ہوں۔۔۔معافی کے قابل نہیں۔۔۔۔مگر اسے ایک چانس دے دو ۔۔۔وہ تم سے محبت کرتا ہے۔۔۔۔وہ ہر خوشی دے گا تمہیں۔۔۔۔وہی تمہیں عزت دے گا انابیہ۔۔۔۔میری بات مان لو۔۔۔پلیز”

ابراہیم نے پھر سے منت کی

“مان لی ۔۔۔۔۔”

انابیہ نے اس کی جانب دیکھتے ہوئے کہا۔۔۔۔

وہ یک چونکہ۔۔۔۔پھر ہلکے سے مسکرایا۔۔۔۔

“تھینک یو۔۔۔۔”

وہ خوش تھا

بہت خوش۔۔۔۔۔

❤️❤️❤️❤️❤️..

“یہ کھانا کھا لے۔۔۔۔”

نوریض نے اسے کھانا دیتے ہوئے کہا۔۔۔۔

وہ ٹیک لگائے بیٹھا تھا۔۔۔۔۔

اس نے مسکرا کے پلیٹ تھام لی۔۔۔۔

“یہ کھانا کہاں سے آگیا؟”

وہ کھانا دیکھتے ہی سمجھ گیا تھا کہ یہ گھر کا بنا کھانا ہے۔۔۔۔

“رتبہ نے بھیجا ہے”

نوریض نے مسکرا کر کہا

“تھینک یو بول دینا میری طرف سے۔۔۔۔۔”

کمیل مسکرایا تھا۔۔۔۔

“ایبو کہاں ہے؟”

کمیل نے یہاں وہاں دیکھتے ہوئے کہا

“پتا نہیں باہر ہوگا”

نوریض نے کہا۔۔۔۔۔

“کیا تم لوگوں نے مجھے معاف کردیا؟”

وہ آس بھرے لہجے میں پوچھنے لگا۔۔۔۔

“سالے۔۔۔معاف کیا ہے تو یہاں ہاسپیٹل میں سڑ رہا ہوں نا۔۔۔ورنہ گھر پر اپنی بیوی کے ساتھ ڈنر کر رہا ہوتا۔۔۔۔۔”

نوریض نے چڑ کر کہا۔۔۔۔

اور کمیل کھلکھلا کر ہنس دیا۔۔۔۔

تبھی ابراہیم اندر داخل ہوا۔۔۔۔

اس کے ہاتھ میں فروٹ تھے۔۔۔۔

“ابھی تمہارا ہی پوچھ رہا تھا میں۔۔۔۔۔”

کمیل مسکرایا۔۔۔۔

“جلدی ٹھیک ہوجا۔۔۔۔ہم میرڈ ہیں تیری زیادہ خدمت کریں گے تو ہماری بیویاں ہم چھوڑ جائیں گی”

نوریض نے اسے ٹوکتے ہوئے کہا۔۔۔۔

“ہاں۔۔۔۔اور پھر تیری شادی بھی تو کرنی ہے نا۔۔۔۔۔ساری عمر ہم سے خدمت کروائے گا؟”

ابراہیم نے پوچھا

وہ یک دم سنجیدہ ہوا۔۔۔۔

مسکراہٹ لمحہ بھر غائب ہوئی۔۔۔۔

“تم لوگ ہو نا۔۔۔کافی ہے”

وہ سنجیدگی چھپائے کہنے لگا۔۔۔۔

“ایسے کیسے تیری بیوی ساتھ لایا ہوں”

ابراہیم نے مسکرا کہا۔۔۔۔۔

وہ حیران ہوا تھا۔۔۔۔

پھر اس کی نظر دروازہ کھول اندر آتی انابیہ پر پڑی۔۔۔۔

اس نے ناسمجھی سے ابراہیم کو دیکھا۔۔۔۔

اس نے اثبات میں سر ہلایا۔۔۔۔