Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Blind Friends (Episode - 10)

Blind Friends By Isra Rao

“منگنی میں بلیک؟”

وہ حیرات سے آرب کی جانب دیکھنے لگی۔۔۔

جو سامنے ڈریس پر نظریں ٹکائے کھڑا تھا

“ہاں کیوں منع ہے؟”

وہ اسی حیرت سے پوچھنے لگا۔۔۔

منہا نے نفی میں سر ہلایا

“تو بس پھر۔۔۔اسے پیک کردیں”

آرب نے شاپ والے کو مسکرا کر کہا۔۔۔۔

“دیکھنا کتنی پیاری لگو گی تم اس ڈریس میں”

آرب اس کا ہاتھ تھام بیگز لیتے باہر نکلا۔۔۔۔

“آبی۔۔۔مجھے وہ پیچ والا زیادہ پسند تھا۔۔۔۔”

وہ معصومیت سے کہنے لگی۔۔۔

“نہیں تم یہ بلیک پہنو گی۔۔۔۔بلیک تم پر زیادہ اچھا لگتا ہے”

وہ اس کی ناک ہلکی سی دباتا کہنے لگا۔۔۔

“مگر آبی میں بلیک بہت پہن چکی۔۔۔۔مجھے لگتا ہے سب مجھے ایک ہی کلر میں بار بار دیکھ کر بور ہوجائیں گے”

وہ کچھ سوچ کر کہنے لگی۔۔۔

“اوروں کا نہیں پتا۔۔۔۔مگر۔۔۔میں تم سے کبھی بور نہیں ہوسکتا منہا۔۔۔۔کبھی بھی نہیں۔۔۔۔”

وہ اسے یک ٹک دیکھتا کہنے لگا۔۔۔۔

منہا مسکرا دی۔۔۔

” کیا بے وقوفی تھی یہ؟”

کمیل نے ہاسپیٹل کے بیڈ پر لیٹی ایدہ کو گھورا۔۔۔

وہ خاموش بیٹھی تھی۔۔۔ہاتھ کی کلائی پر پٹی بندھی تھی۔۔۔

بے رونق چہرہ لیے وہ بس کمیل کو دیکھ رہی تھی۔۔۔

“کچھ ہوجاتا تو؟”

کمیل نے افسردگی سے سوال کیا

“تو میری بات نہیں مان رہا تھا۔۔۔۔تجھے اپنی بہن سے زیادہ اپنے دوست پیارے ہیں”

وہ خفگی سے کہنے لگی

“وہ تیرے بھی دوست ہیں ایدہ”

وہ یاد دہانی کروانے لگا

“مجھے یاد ہے کامی۔۔۔مجھے بھی ان سب سے محبت ہے”

وہ صفائی دینے لگی۔۔۔

“نہیں تو خود غرض ہوگئی ہے”

وہ تلخی سے گویا ہوا

“ہاں میں خود غرض ہورہی ہوں۔۔۔میں دل کے ہاتھوں مجبور ہوں۔۔۔کامی یہ منگنی رکوا دے۔۔۔پلیز کامی”

وہ پھر سے نم آنکھوں سے گزارش کرنے لگی

کمیل خاموش تھا۔۔۔

“میری اور آرب شادی ہونے دے بس۔۔۔میں پھر سے سب ٹھیک کردوں گی یہ وعدہ رہا میرا ۔۔۔میں منہا کی زندگی برباد نہیں ہونے دوں گی”

وہ اسے دیکھ رہی تھی

“اس کی زندگی برباد ہوجائے گی جب اسے آرب نہیں ملے گا “

وہ جتانے لگا

“میں ارب سے بھی زیادہ اچھے لڑکے سے شادی کرواؤں گی اس کی۔۔۔تو بھروسہ رکھ میں سب ٹھیک کردوں گی۔۔۔”

وہ پھر سے منت کر رہی تھی اور کمیل۔ خاموشی سے سوچ میں ڈوب گیا

“بابا میں پرسوں آجاؤں گا۔۔۔کل میرے دوستوں کی منگنی ہے تو۔۔۔۔”

ابراہیم نے فون کان سے لگائے کہا

“جی بابا۔۔۔۔۔” ابراہیم نے مختصر کہا اور سامنے زے اندر آتے کمیل کو دیکھا۔۔۔

پھر فون بند کر اس کی جانب بڑھ گیا

“کیسا ہے بڈی؟”

کمیل نے فوراً کہا اور صوفے پر آکر بیٹھا۔۔۔

“نوریض کہاں ہے؟”

وہ پوچھنے لگا۔۔۔۔

“اندر فون پر”

ابراہیم ہنسا

“اوہو۔۔۔۔ابے اوئے۔۔۔۔۔باہر نکل۔۔۔۔”

کمیل نے آواز لگائی۔۔۔

آواز سنتے ہی وہ باہر آیا

“انسان بن جا۔۔۔۔”

باہر آتے ہی وہ کہنے لگا

“سارا دن لگا رہتا ہے رتبہ بھابھی سے۔۔۔شادی قریب ہے۔۔۔اب پرہیز کر تھوڑا”

کمیل نے چھیڑتے ہوئے کہا

“تو بکواس بند کر۔۔۔۔یہ بتا تیاری ہوگئی کل کی۔۔۔؟”

نوریض نے پوچھا۔۔۔۔

“ہاں۔۔۔آل موسٹ۔۔۔۔کل کے لیے میرے پاس پلان ہے ایک۔۔۔۔”

کمیل نے شرارت بھرے لہجے میں کہا۔۔۔۔

“کیا ہے جلدی بتا”

نوریض اس کے پاس لپک کر بیٹھا۔۔۔

“دیکھ منہا جائے گی ٹھیک 5 بجے پارلر۔۔۔8 بجے آرب کے گھر پہنچنا ہے منگنی شروع ہوگی۔۔۔۔لیکن ایبو 7 بجے منہا کو پارلر سے پک کرے گا”

کمیل اپنا پلان بتا رہا تھا

“لیکن میں کیوں پک کروں گا اسے؟”

ابراہیم نے فوراً پوچھا

“تم اسے کہو گے کہ سرپرائز ہے دونوں کے لیے….”کمیل نے بتایا

“اور پھر ہم دونوں میں اور نوریض آرب کو ٹھیک 8 بجے کال کریں گے پیسوں کے لیے “

کمیل نے کہا

“دماغ ٹھیک ہے ؟”

ابراہیم بھڑکا۔۔۔۔

“یار وہ پیسے لے کر آئے تو ہم سے ملے گا کتنا مزہ آئے گا”

کمیل نے ٹھنڈے لہجے میں کہا

“نہیں۔۔۔۔یہ نہیں ہوگا منہا کی فیملی بہت سخت ہے۔۔۔ہم ایسا کچھ نہیں کر رہے۔۔۔”

وہ کہ کر کچن کی جانب بڑھ گیا۔۔۔

“آبی کل ہماری منگنی ہے۔۔۔۔ایک یادگار دن ہوگا۔۔۔مجھ سے تو انتظار ہی نہیں ہورہا”

منہا نے پاس کھڑے آرب کو دیکھتے ہوئے کہا۔۔۔

جو پاس کھڑی اپنی بائک سے ٹیک لگائے کھڑا تھا۔۔۔۔

“کل میں تمہیں اپنے ہاتھوں سے رنگ پہناؤں گا”

آرب نے اس کا ہاتھ تھاما۔۔

منہا ہلکے سے مسکرا دی۔۔۔۔

“چلیں”

آرب نے بائک کی چابی لہراتے پوچھا۔۔۔

اس نے اثبات میں سر ہلایا

“مجھے اس بائک پر ڈر لگتا ہے”

منہا نے گردن موڑ کر بائک کو دیکھا۔۔۔۔

“یار ڈرنے کی کیا ضرورت ہے میں جو ہوں۔۔۔۔بیٹھو”

آرب نے بائک پر بیٹھتے ہوئے حکم دیا

“منہا اس کے پیچھے بیٹھی ڈرتے ڈرتے بیٹھی۔۔۔۔

اس بائک پر بیٹھنا واقع اکورڈ تھا۔۔۔

“کامی کیا رہا۔۔۔۔؟ تونے ایبو کو راضی کیا؟”

وہ بے تابی سے پوچھنے لگی۔۔۔

“نہیں وہ راضی نہیں ہوا۔۔۔۔ایدہ ہم اس پر سارا الزام نہیں ڈال سکتے کیوں کہ ایبو اتنا بھی بے وقوف نہیں ہے”

کمیل نے ہار مانتے ہوئے کہا۔۔۔

“کیوں کیا ہوا؟”

وہ پوچھنے لگی

“انکار کردیا اس نے”

کمیل نے صاف گوئی سے جواب دیا

ایدہ سوچ میں پڑ گئی۔۔۔۔

پھر فون پر کچھ ڈائل کرنے لگی۔۔۔

“ہاں ہیلو باسل۔۔۔۔”

ایدہ نے فون کان سے لگایا

کمیل نے سر اٹھا کر اسے دیکھا۔۔۔۔

“روکو روکو۔۔۔۔” منہا نے کہا۔۔۔۔

“کیوں کیا ہوا؟”

مجھے بھی سکھاؤ بائک چلانی”

منہا نے ضد کی۔۔۔

“ابھی تو تم بیٹھتے ہوئے بھی ڈر رہی تھی۔۔۔ابھی تمہیں چلانی سیکھنی ہے”

وہ بائک روک پوچھنے لگا

“ڈر تو ابھی بھی لگ رہا مگر وہ ایدہ نے چلانی سیکھ لی یہ بائک تو میں بھی تو سیکھ سکتی ہوں نا”

وہ معصومیت سے کہنے لگی۔۔۔

وہ گردن موڑ کر سامنے کھڑی منہا کو دیکھنے لگا۔۔۔۔

تبھی بائک پر دو بندے آکر ان کے برابر رکے۔۔۔۔

اور پھرتی سے گن نکال کر ان پر تان دی۔۔۔

“نکالو سب۔۔۔۔۔۔فٹافٹ”

ایک آدمی نے کہا۔۔۔۔

سڑک سنسان تھی۔۔۔۔آرب نے دونوں ہاتھ اوپر کیے۔۔۔

منہا خوف کے مارے آرب کے پیچھے چپکی۔۔۔۔

“دے رہا ہوں۔۔۔۔۔” آرب نے بڑبڑاتے ہوئے والٹ موبائل سب ان کے حوالے کیا۔۔۔۔

ایک آدمی نے منہا کے ہاتھ میں پرس دیکھا۔۔۔۔

اور اشارہ کیا۔۔۔۔

آرب نے خاموشی سے منہا سے پرس لے کر ان کی جانب بڑھا دیا۔۔۔۔

“نیچے اترو۔۔۔۔۔۔”

ایک آدمی نے حکم دیا۔۔۔۔

“میں نے سب دے دیا ہے”

آرب نے سنجیدگی سے کہا۔۔۔۔

“اترو۔۔۔جلدی۔۔۔۔”

وہ گن تانے تلخی سے بولا تھا۔۔۔۔

“آبی۔۔۔دے دو۔۔۔۔۔۔”

منہا نے خوف سے لرزتی آواز میں کہا اور آرب کے کاندھے کو زور سے دبوچا۔۔۔۔

آرب خاموشی سے اتر گیا۔۔۔۔

وہ کچھ نہیں سکتا تھا اس کے ساتھ منہا تھی۔۔۔جو بہت ڈر گئی تھی۔۔۔

“ابے نیوز سنی تو نے؟”

نوریض نے بیڈ پر پاؤں پھیلائے بیٹھے ابراہیم کو دیکھا۔۔۔

“کون سی”

وہ پوچھنے لگا

“دوپہر میں آبی کے ساتھ سنیچنگ ہوئی۔۔۔۔۔بائک بھی لے گئے”

نوریض نے سنجیدگی سے بتایا

“نہ کر۔۔۔۔۔۔سچ بتا؟”

وہ اس کی بات سن سیدھا ہوا۔۔۔۔

“قسم سے ابھی اسی سے بات کر کے آرہا ہوں۔۔۔۔منہا کے ساتھ گیا تھا لانگ ڈرائیو پر۔۔۔۔چوروں نے رکشے کے پیسے بھی نہیں چھوڑے۔۔۔۔”

نوریض نے ہنسی دبائی

“یہ ہوئی نا بات۔۔۔۔۔مجھ سے چیٹنگ سے ریس جیتا تھا نا۔۔۔گئی نا بائک بھی۔۔۔۔”

وہ ہنستے ہوئے اٹھ کھڑا ہوا

“کمینے تو ہنس رہا ہے۔۔۔۔فون کرلے۔۔۔۔اپ سیٹ ہے۔۔۔اس کی مام تو غصہ بھی ہورہی تھی کہ کیا ضرورت تھی منہا کے ساتھ جانے کی”

نوریض بتانے لگا

“ویسے یار۔۔۔مجھے نا سارہ آنٹی پر شک ہوتا جیسے وہ خوش نہیں ہیں منہا سے شادی پر۔۔۔۔”

ابراہیم نے کچھ سوچتے ہوئے کہا

“مجھے بھی یہی لگتا ہے۔۔۔۔لیکن چلو خوش رہیں کل ویسے بھی منگنی ہوجائے گی سارے ڈر ختم”

نوریض نے بھی سنجیدگی سے کہا

” کیسا لگ رہا ہوں میں؟”

وہ سارہ بیگم کو دیکھ پوچھنے لگا۔۔۔۔

“بہت ہی پیارا۔۔۔۔۔”

وہ اس کی پیشانی کو چومنے لگی۔۔۔۔

“اج تو منگنی ہے میرے بیٹے کی۔۔۔۔خوش ہو نا؟”

پیچھے سے آتے سعید صاحب نے پوچھا

“بہت خوش ڈیڈ۔۔۔۔”

وہ ان سے مسکرا کر ملا۔۔۔۔

“جلدی ریڈی ہوکر آؤ سب مہمان آگئے ہیں”

سارہ بیگم اور سعید صاحب حکم دیتے باہر نکلے۔۔۔۔

“دیکھا میرا بیٹا کتنا ہینڈسم لگ رہا تھا”

سارہ بیگم سیڑھیاں اترتی کہنے لگی۔۔۔

“ہاں۔۔۔ماشااللہ۔۔۔۔۔” سعید صاحب مسکرائے

“بس وہ مڈل کلاس لڑکی ذرا سوٹ نہیں کرتی میرے بیٹے کے ساتھ ۔۔۔۔”

وہ اکتا کر کہنے لگی

“کوئی بات نہیں زندگی اس نے گزارنی ہے۔۔۔۔۔”

وہ دونوں لان کی جانب بڑھ گئے جہاں مہمانوں کی بھیڑ تھی

“بہت پیاری لگ رہی ہو۔۔۔۔بلیک ڈریس میں۔۔۔۔۔”

پاس کھڑی بیوٹیشن نے منہا کی جانب دیکھتے ہوئے کہا۔۔۔

وہ خود کو آئینے میں دیکھ مسکرا دی

تبھی اس کے فون پر بپ ہوئی۔۔۔۔

نوریض کا میسج تھا۔۔۔۔وہ باہر ویٹ کر رہا تھا

وہ حیران ہوئی۔۔۔۔

پھر کال ملائی۔۔۔

“تم باہر کیا کر رہے ہو؟”

وہ پوچھنے لگی

“باہر آؤ تم۔۔۔۔سرپرائز ہے آرب بھی وہیں ہے۔۔۔”

نوریض نے کہا۔۔۔

وہ مسکرائی پھر فون بند کردیا

اور ڈریس سنبھالتی باہر کی جانب بڑھ گئی

“میں تجھے لوکیشن بھیج رہا ہوں وہاں پہنچ۔۔۔۔”

نوریض نے کہا

“تو کہاں ہے؟”

میں منہا کو لے اسی جگہ پر آرہا ہوں۔۔۔۔کمیل اور میں نے سرپرائز پلان کیا ہے۔۔۔۔”

نوریض نے پوری تفصیل دی

“یار یہ غلط ہے۔۔۔تے مہیں منہا کو بتانا چاہیے تھا”

ابراہیم نے فوراً کہا

“یار ہم نے سچ میں سرپرائز پلان کیا ہے۔۔۔۔کمیل آرب کو لے کر آرہا ہے۔۔۔۔تو بھی آجا لوکیشن پر”

نوریض کی بات پر ابراہیم کے تیور بگڑے۔۔

“میں نے تم لوگوں کو منع کیا تھا۔۔۔۔میں نہیں آرہا اب نکل یہاں سے”

ابراہیم نے غصے سے فون بند کیا

“میں تو سیدھا جاؤں گا فنکشن میں دماغ خراب ہے ان کا تو”

ابراہیم بڑبڑایا

اور باتھروم کی جانب بڑھ گیا

تھوڑی دیر میں وہ جب باہر نکلا تو اس کے فون پر نوریض کا میسج لگا ہوا تھا۔۔۔جس میں اس نے لوکیشن بھیجی تھی۔۔۔

اس نے سر جھٹکا اور آئینے میں خود کو دیکھ بال بنانے لگا

“اتنی دیر ہوگئی آئے نہیں منہا کے گھر والے؟”

سارہ بیگم نے آرب کی جانب دیکھا۔۔۔

“میں دیکھتا ہوں”

آرب نے فون نکال کر کال ملائی مگر مسلسل بند جارہا تھا۔۔۔۔

“نمبر نہیں لگ رہا”

وہ بڑبڑایا

“کیا ہوا ابی”

ایدہ نے اسے پریشان دیکھ پوچھا

“یار منہا اور اس کے گھر والے نہیں آئے ابھی تک۔۔۔۔”

آرب نے بتایا

“تو اس کے بھائی کو کال کر کے پوچھو کہاں رہ گئے؟”

ایدہ نے مشورہ دیا

“ہاں صحیح کہ رہی ہو”

ارب نے منیب کا نمبر ڈائل کیا۔۔۔۔

تبھی سامنے سے ابراہیم آتا دکھائی دیا۔۔۔۔

ایدہ اسے دیکھ چونکی۔۔۔۔

“اس کا بھائی کہ رہا ہے کہ وہ پارلر سے کب کی نکل چکی ہے۔۔۔مگر گھر نہیں آئی۔۔۔مجھے ٹینشن ہورہی ہے۔۔۔۔وہ کہاں جاسکتی ہے”

وہ پریشان تھا۔۔۔۔

ابراہیم اس کی بات سن چکا تھا۔۔۔۔ابراہیم کا بی پی بڑھ گیا تھا۔۔۔۔

“کیا ہوا خیریت؟”

ابراہیم قریب آیا

“یار منہا کا کچھ پتا نہیں۔۔۔اس کے گھر والے بھی پریشان ہورہے ہیں۔۔۔پارلر سے ابھی تک گھر نہیں پہنچی۔۔۔”

وہ بتانے لگا۔۔۔

“کسی دوست کے ساتھ ہوگی۔۔۔میں دیکھتا ہوں۔۔۔۔”

ابراہیم کہتے ساتھ مڑا۔۔۔۔

اور تیزی سےباہر کی جانب بڑھ گیا

وہ سنسان سی جگہ تھی جہاں بس اندھیرا ہی اندھیرا تھا۔۔۔۔

وہ حیرت سے یہاں وہاں دیکھ رہا تھا۔۔۔۔

اسے سمجھ نہیں آرہا تھا۔۔۔نوریض نے اس کی لوکیشن اسے کیوں بھیجی تھی۔۔۔نہ ہی تو قریب میں کوئی ریسٹورنٹ تھا نہ ہی کوئی ہوٹل۔۔۔۔

وہ مسلسل کال کر رہا تھا نوریض کا نمبر نہیں لگ رہا تھا

“یہ کیا کیا نوریض اور کامی نے۔۔۔۔۔سب لوگ ویٹ کر رہے ہیں۔۔۔۔”

ابراہیم نے سر کو پکڑا۔۔۔۔

اس نے کمیل کو فون کر کے اسے وہاں بلایا۔۔۔۔

تھوڑی ہی دیر میں وہ وہاں پہنچ گیا

“کامی کہاں ہے نوریض اور منہا….سب ویٹ کر رہے ہیں۔۔۔بس بہت ہوگیا مزاق”

ابراہیم نے کمیل کو کہا

“ایبو مجھے نہیں پتا..”

وہ سادی سے کہنے لگا

“کیا مطلب تجھے نہیں پتا تونے ہی تو نوریض کو بولا کہ منہا کو لے کر یہاں آجائے سرپرائز ہے”

وہ حیرت سے پوچھنے لگا۔۔۔

“نہیں ایبو۔۔۔۔میں نے اسے ایسا کچھ نہیں کہا۔۔۔۔یہ پلان تو اسی وقت کینسل ہوگیا تھا جب تونے منع کردیا تھا۔۔اس کے بعد میری بات تک نہیں ہوئی نوریض سے”

وہ صفائی دینے لگا

“ایسا کیسے ہوسکتا ہے۔۔۔یہ دیکھ اس نے مجھے لوکیشن بھیجی تھی۔۔۔۔اور یہ دیکھ کال لاگ۔۔۔اس نے مجھے خود بتایا کہ تونے منہا اور آبی کے لیے سرپرائز پلان کیا ہے۔۔۔اور یہ کہ تو آرب کو لے آئے گا یہاں۔۔۔”

ابراہیم نے فون دکھاتے ہوئے کہا

“یہ دیکھ تو۔۔۔میری کل بات ہوئی تھی فلیٹ آنے سے پہلے۔۔۔۔آج تو میری اس ڈے کوئی بات ہی نہیں ہوئی”

اس نے فون نکال کر ابراہیم کو ہسٹری دکھائی۔۔۔جہاں واقع نوریض سے لاسٹ ٹائم کل بات ہوئی تھی۔۔۔۔

ایسا کیسے ہوسکتا ہے یار۔۔۔وہ لوگ کہاں جاسکتے ہیں۔۔۔۔اگر وہ لوگ نہیں ملے تو مسئلہ ہوجائے گا کامی۔۔۔۔ہمیں انہیں ڈھونڈنا ہوگا”

ابراہیم پریشان ہوا۔۔۔۔

“ایسے کیسے یہاں سے چلی گئی وہ۔۔۔۔میں پولیس کو بلاؤں گا یہاں ابھی”

آرب نے غصے سے پاس کھڑی عورت کو دھمکی دی

“دیکھیں ہمارا قصور نہیں ہے۔۔۔اسے کوئی بھی لینے آئے۔۔۔وہ اپنی مرضی سے گئی ہے”

وہ صفائی دینے لگی۔۔۔

“میں تو آیا ہی نہیں تھا لینے اسے”

پاس کھڑے منیب نے کہا

“دیکھیں ہمیں نہیں پتا کون لینے آیا تھا۔۔۔مگر وہ اپنی مرضی سے گئی تھی۔۔۔۔”

بیوٹیشن نے کہا

“ایک منٹ یہاں سے جانے سے پہلے کسی کی کال آئی تھی۔۔۔یا کوئی نام پتا ہو جو اسے لینے آیا تھا”

ایدہ نے نرمی سے اس عورت سے پوچھا

“جی۔۔۔پہلے کسی نوریض کا میسج آیا تھا۔۔۔پھر منہا نے خود اسے کال کی ۔۔۔وہ باہر ہی کھڑا تھا اس کا انتظار کر رہا تھا۔۔۔۔”

اس نے پوری ڈیٹیل دی۔۔۔اور آرب نے چونک کر ایدہ کو دیکھا

“آپ لوگوں مے اپنی بیٹی کو اتنی ڈھیل دی ہوئی ہے کہ وہ کسی کے بھی ساتھ چلی جاتی ہے”

سارہ نے تلخی سے کہا

آنٹی آپ زیادہ بول رہی ہیں “

منیب نے تلخی سے کہا

“اگر ایسا نہیں ہے تو پہلے بھی تو وہ پوری رات گھر سے باہر تھی مگر آپ لوگوں نے پوچھا تک نہیں ۔۔۔”

سارہ بیگم نے کہا۔۔۔

“نہیں ایسا کبھی نہیں ہوا”

منیب نے غصے سے جواب دیا

“تو آرب کے ساتھ لائبریری میں رات کس نے گزاری تھی۔۔۔۔؟”

وہ پوچھنے لگی

منیب نے ماں کی طرف دیکھا

“منیب یہ سب جھوٹ ہے۔۔۔۔وہ ایدہ کے ساتھ تھی۔۔۔۔”

انہوں نے فوراً بیٹی کی صفائی دی

“نہیں۔۔۔۔۔اس نے جھوٹ بولا تھا ایدہ بتاؤ”

سارہ بیگم نے ایدہ کی جانب دیکھتے ہوئے کہا

وہ خاموش کھڑی تھی

“آنٹی چھوڑیں نا۔۔۔۔آپ لوگ کیوں جھگڑا کر رہے ہیں”

ایدہ نے کہا

“وہ آپ کے ساتھ تھی یا نہیں؟”

منیب نے پوچھا

“نہیں۔۔۔۔۔وہ آرب کے ساتھ تھی”

ایدہ نے سادگی سے سر جھکائے جواب دیا۔۔۔

اور منیب کے پیروں تلے زمین نکلی۔۔۔۔

“ہر جگہ ڈھونڈ لیا یار مگر کہیں پتا نہیں لگا”

کمیل نے آرب کو دیکھتے ہوئے کہا۔۔۔۔

جو ابھی ابھی اس جگہ پہنچا تھا۔۔۔۔

“وہ لوگ کہاں جاسکتے ہیں۔۔۔۔۔”

آرب نے اپنا سر دونوں ہاتھوں میں تھاما۔۔۔۔

“آبی۔۔۔۔کچھ نہیں ہوگا۔۔۔۔تو اعتبار رکھنا بس”

ابراہیم نے اس کے کاندھے پر ہاتھ رکھا۔۔۔۔

آرب نے اس کی جانب دیکھا۔۔۔۔آنکھوں میں آنسوں تیر آئے تھے۔۔۔۔

وہ جھٹ سے ابراہیم کے گلے لگا۔۔۔۔

“آبی۔۔۔۔لوگ چاہے کچھ بھی کہیں۔۔۔۔نوریض ایسا نہیں ہے۔۔۔۔وہ ہمارا دوست ہے۔۔۔۔۔۔”

ابراہیم نے اس کا بھروسہ پکا کرنا چاہا

“وہاں وہ بیوٹیشن کہ رہی ہے کہ نوریض نے اسے باہر بلایا۔۔۔اور وہ اپنی مرضی سے گئی تھی۔۔۔۔منہا کی بھابھی کہتی ہیں۔۔۔۔منہا کئی بار راتوں میں نوریض سے بات کرتی پکڑی گئی ہے۔۔۔۔۔”

ارب نے نم آنکھوں سے اسے بتایا

“تو سب کو چھوڑ۔۔۔۔تو بتا کیا منہا ایسی ہے؟ کیا نوریض ایسا کرسکتا ہے؟”

ابراہیم نے اس کی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے پوچھا۔۔۔

“ایبو مجھے یقین ہے۔۔۔۔مگر پھر وہ لوگ ہیں کہاں۔۔۔رات گزر رہی ہے۔۔۔مگر ان لوگوں کا نہیں پتا۔۔۔”

آرب نے جھنجھلا کر کہا۔۔۔۔

“ہم ڈھونڈ رہے ہیں انہیں مل جائیں گے۔۔۔۔تو یقین رکھ مجھ پر۔۔۔۔یہ دیکھ اس پر یقین رکھ کسی کی باتوں میں نہیں آنا تونے”

اس نے اس کا ہاتھ سامنے کیا۔۔۔جس پر وہ سب ہمیشہ بلائنڈ فرینڈز کا بریسلیٹ پہن کر رکھتے تھے۔۔۔۔

آرب زخمی سا مسکرایا

“کچھ پتا چلا ان کا؟”

وہ جب گھر آیا تو سب مہمان جاچکے تھے۔۔۔لان کی سجاوٹ اسی طرح سجی تھی۔۔۔۔

بس رونق ختم ہوگئی تھی۔۔۔

“تمہیں پتا ہے میں نے کس طرح سب لوگوں کو فیس کیا کہ منگنی کینسل ہوگئی ہے۔۔۔کیوں کہ لڑکی بھاگ گئی اپنے دوست کے ساتھ”

انہوں نے غصے سے کہا

“ایسا نہیں ہے مام۔۔۔۔”

وہ ایک دم سے کہنے لگا

“ایسا ہی ہے۔۔۔سب جانتے ہیں وہ اپنے دوست کے ساتھ اپنی مرضی سے گئی ہے۔۔۔۔اور پوری رات سے غائب ہے۔۔۔۔”

سارہ بیگم نے غصے سے کہا

سعید صاحب آرب کے پاس کرسی کھینچ کر بیٹھے۔۔۔۔

“دیکھو بیٹا تم نے ضد کی ہم نے پوری کی۔۔کیا نتیجہ نکلا۔۔؟ اب اگر وہ واپس بھی آجائے تو کیا؟ بدنامی تو ہوگئی نا ہماری بھی تمہاری بھی اور اس لڑکی اور اس کے گھر والوں کی بھی۔۔۔۔”

وہ سمجھانے لگے۔۔۔۔

آرب خاموشی سے سن رہا تھا