Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Blind Friends (Episode - 12)

Blind Friends By Isra Rao

“آنٹی آرب کہاں ہے؟”

ایدہ نے سارہ بیگم سے پوچھا

“اپنے روم میں ہے۔۔۔دو تین دن ہوگئے مگر نہ کسی سے بات کر رہا ہے نہ کچھ کھا رہا ہے”

سارہ بیگم نے اسے افسردگی سے بتایا

میں نے پہلے ہی کہا تھا آنٹی۔۔۔مگر آرب کو منہا کے علاوہ کوئی نظر نہیں آتا تھا۔۔۔۔”

ایدہ نے اکتاہٹ بھرے لہجے میں کہا

“آپ کھانا بھجوا دیں میں کھلانے کی کوشش کرتی ہوں آرب کو”

ایدہ نے سادگی سے کہا۔۔۔

اور سیڑھیاں چڑھتی آرب کے روم کی جانب بڑھ گئی۔۔۔

“ایدہ کتنی اچھی لڑکی ہے۔۔۔کتنا فکر ہے اسے آرب کی۔۔۔۔کیا ہوتا اگر آرب اس مڈل کلاس لڑکی کی جگہ ایدہ کو چوز کرتا”

وہ دل ہی دل میں بڑبڑائی اور سر جھٹکتی کچن کی جانب بڑھ گئی ۔۔۔

“یار یہ منہا کے باپ کا بس نہیں چل رہا وہ اسے راہ چلتے کسی کے بھی ساتھ شادی کر کے گھر سے نکال دیں۔۔۔۔”

ابراہیم نے اکتا کر کہا

“یار اگر آرب کو ہم منا لیں تو تجھے شادی نہیں کرنی پڑے گی۔۔۔۔”

نوریض نے حل بتایا

اور ابراہیم سوچ میں پڑ گیا۔۔۔۔

“چل آخری کوشش کرتے ہیں۔۔۔۔بابا ویسے بھی باہر گئے ہیں۔۔۔۔”

ابراہیم نے بائک کی چابی اٹھائی۔۔۔

نوریض نے اثبات میں سر ہلایا۔۔۔۔

“آبی۔۔۔۔۔پلیز تھوڑا سا کھانا کھا لو۔۔۔۔۔”

ایدہ نے بالکونی میں کھڑے آرب کو دیکھا۔۔۔۔

ا

جو ایک ہاتھ ریلنگ پر رکھے اور دوسرے ہاتھ میں سگریٹ تھامے کھڑا تھا۔۔۔۔

بکھرا حلیہ۔۔۔بکھرے بال۔۔۔ آنکھیں سرخ ہوچکی تھی۔۔۔۔

ایدہ سے اس کی حالت دیکھی نہیں جارہی تھی۔۔۔۔

تبھی نیچے سے ابراہیم کی آواز آئی۔۔۔جو آرب کو پکار رہا تھا۔۔۔۔

آرب نے مڑ کر دیکھا۔۔۔۔پھر تیزی سے روم سے باہر نکل نیچے جھانکا۔۔۔۔

ابراہیم اور نوریض کھڑے تھے۔۔۔۔

آرب کے چہرے کے تاثرات بگڑے۔۔۔۔وہ تیزی سے روم سے باہر نکلا۔۔۔۔

ڈرار کھولا اور گن نکالی۔۔۔

پیچھے کھڑی ایدہ چونکی۔۔۔۔

“آبی یہ کیا۔۔۔کیا کر رہے ہو یہ؟”

ایدہ نے اسے روکنا چاہا مگر وہ بنا رکے تیزی سے سیڑھیاں اترتا نیچے گیا

ایدہ اس کے پیچھے بھاگی۔۔۔۔

“تیری ہمت کیسے ہوئی یہاں آنے کی”

آرب نے نوریض کا گریبان پکڑا۔۔۔

“آرب میں نے کچھ نہیں کیا۔۔۔۔میں اور منہا بے قصور ہیں یار”

نوریض نے اپنا گریبان چھڑوانا چاہا

“تیری نیت تھی اس پر شروع سے۔۔۔۔اسی لیے تونے موقع کا فائدہ اٹھایا۔۔۔۔”

آرب نے غراتے ہوئے کہا

“بکواس بند کر آبی۔۔۔۔وہ صرف میری دوست ہے۔۔۔۔۔تیری سوچ ہی گھٹیا ہے”

نوریض نے جھٹکے سے اسے پرے دھکیلا

“ہاں میں گھٹیا ہوں۔۔۔۔بہت گھٹیا جو تجھ جیسے انسان سے دوستی کی تھی۔۔۔۔آج میں سارا قصہ ہی ختم کردوں گا”

اس نے گن نوریض پر تانی۔۔۔۔

“آرب۔۔۔۔۔” سارہ بیگم اسے دیکھ اس کی جانب بڑھی۔۔۔۔

اور اس کا ہاتھ نیچے کیا۔۔۔

“آرب تو بات تو سن لے۔۔۔۔یار۔۔۔۔ہم تجھے سمجھانے آئے ہیں یہاں۔۔۔۔”

ابراہیم نے فوراً کہا

“ابھی بھی ایبو تجھے اس پر یقین ہے جس نے میری زندگی خراب کردی۔۔۔۔میری پیٹ پیچھے خنجر گھونپا ہے اس نے اور میں اسے چھوڑ دوں”

آرب نے سرخ چہرے سے کہا

“یار تو ٹھنڈے دماغ سے بات تو سن لے۔۔۔۔ہم تجھے یہ بتانے آئے ہیں کہ منہا کے گھر والے اس کی شادی کر رہے ہیں۔۔۔۔”

ابراہیم نے فوراً کہا

ابراہیم کی بات سن آرب کے اندر تک چوٹ لگی۔۔۔۔

اچانک سے اعصاب ڈھیلے پڑے۔۔۔

“ہمیں فرق نہیں پڑتا وہ کسی سے بھی شادی کریں اس کی۔۔۔۔تم لوگ جاؤ یہاں سے۔۔۔

سارہ بیگم نے غصے سے کہا

“آرب کیا اب بھی تو کچھ نہیں کرے گا۔۔۔۔تو اسے چھوڑ دے گا؟”

ابراہیم نے سوال کیا

“میں نے اسے چھوڑ دیا ہے۔۔۔۔میرا اس سے اب کوئی تعلق نہیں۔۔۔۔اور میں۔۔۔۔۔”

وہ اپنا جملا پورا کرتا اس سے پہلے ہی اس کی نظر پیچھے دروازے کے قریب کھڑی منہا پر پڑی۔۔۔۔

ایک کرب تھا جو اس کی آنکھوں میں دکھائی دے رہا تھا۔۔۔۔

ابراہیم اور نوریض نے بھی مڑ کر دیکھا۔۔۔۔

پیچھے ساکت کھڑی منہا بس بھیگی آنکھوں سے آرب کو دیکھ رہی تھی۔۔۔۔

آرب مڑ کر جانے لگا ہی تھا کہ منہا کی آواز نے رکنے پر مجبور کیا

“میں یہاں منت کرنے نہیں آئی۔۔۔محبت اور دوستی دونوں تم ڈیزرو نہیں کرتے۔۔۔۔۔نہ تمہیں محبت پر یقین ہے نا ہی دوستی پر۔۔۔۔”

منہا نے آنسوں صاف کرتے ہوئے کہا

“اور ہاں۔۔۔۔بلائنڈ فرینڈز کا بریسلیٹ اب کبھی مت پہننا۔۔۔۔کیوں کہ ہماری محبت اور دوستی اب ایکسپائر ہوگئی ہے”

منہا کہتے ساتھ ہی باہر کی جانب بھاگی۔۔۔۔

ابراہیم اور نوریض بھی اس کے پیچھے بھاگے۔۔۔۔

 (اور ہاں۔۔۔۔بلائنڈ فرینڈز کا بریسلیٹ اب کبھی مت پہننا۔۔۔۔کیوں کہ ہماری محبت اور دوستی اب ایکسپائر ہوگئی)

ابراہیم نے ہاتھ میں لیے بریسلیٹ کو دیکھا۔۔۔۔

آنکھوں میں نمی تیر آئی تھی۔۔۔۔

دل بار بار ایک ہی بات دوہرا رہا تھا کہ اب دوستی ختم ہوگئی ہے ۔۔۔

تبھی نوریض نے اس کے کاندھے پر ہاتھ رکھا۔۔۔۔

وہ مڑ کر اسے دیکھنے لگا۔۔۔۔

“تو انکل کو منع کردے۔۔۔۔منہا سے شادی میں کروں گا۔۔۔”

نوریض نے نم انکھوں سے کہا

“تو۔۔۔۔مگر تیری شادی ہے اگلے مہینے۔۔۔۔رتبہ بھابھی سے تو بہت محبت کرتا ہے۔۔۔تو کیسے کرسکتا ہے؟”

ابراہیم نے حیرت سے پوچھا

“منہا اکیلی رہ گئی ہے یار۔۔۔۔میری وجہ سے اس کی زندگی برباد ہوگئی ہے۔۔۔”

نوریض نے گال پر گرتے آنسوں نظر انداز کیے

“تو نے کچھ نہیں کیا۔۔۔۔اور تو بابا سے بات نہیں کرے گا۔۔۔۔بابا نے بلکل صحیح فیصلہ کیا ہے۔۔۔۔میں کروں گا منہا سے شادی۔۔۔۔۔میں جانتا ہوں تو رتبہ بھابھی سے کتنی محبت کرتا ہے۔۔۔۔۔”

ابراہیم نے اس کا گال تھپتھپایا

وہ زخمی سا مسکرا دیا

وہ بیڈ کراؤن سے ٹیک لگائے بیٹھا کتاب پڑھ رہا تھا۔۔۔پڑھ کر سونا اس کی عادت تھی۔۔۔۔

تبھی اس کا فون بجنے لگا۔۔۔۔

اس نے اسکرین دیکھا انجان نمبر تھا۔۔۔۔

ابراہیم نے ے اگنور کیا اور فون واپس رکھ دیا

مگر فون پھر سے بجنے لگا

اس بار اس نے کال یس کی اور کان سے لگایا

“ہیلو ایبو۔۔۔۔”

منہا کی آواز اس کے کانوں سے ٹکرائی

“منہا۔۔۔۔اس وقت کال کی۔۔۔خیریت۔۔۔؟ سب ٹھیک ہے؟ تم ٹھیک ہو نا؟”

وہ ایک دم پریشان ہوا

“میں ٹھیک ہوں۔۔۔۔مجھے بس تم سے بات کرنی تھی۔۔۔۔”

منہا نے کہا

“ہاں۔۔۔کہو سن رہا ہوں”

ابراہیم سیدھا ہوا

“ایبو تم شادی سے انکار کردو۔۔۔تمہیں میرے لیے یہ قربانی دینے کی ضرورت نہیں ہے۔۔۔۔”

منہا کی سنجیدہ سی آواز اس کے کانوں سے ٹکرائی

“میں کوئی قربانی نہیں دے رہا۔۔۔۔مجھے بس تم پر اور نوریض پر پورا یقین ہے۔۔۔۔۔”

ابراہیم نے اسے تسلی دی

“پھر بھی میں بلکل نہیں چاہوں گی کہ تم میری وجہ سفر کرو۔۔۔۔”

منہا نے کہا

“یہ میرا نہیں میرے بابا کا فیصلہ ہے”

ابراہیم کو اس کے دکھ کا اندازہ تھا اسی لیے وہ احسان جتانا نہیں چاہتا تھا

 (لوگوں کا نہیں پتا مگر میں تم سے کبھی بور نہیں ہوسکتا منہا)

وہ وائٹ سوٹ پہنے ابراہیم کے برابر بیٹھی تھی سر پر ریڈ دوپٹہ جمائے۔۔۔۔۔

(کل میں تمہیں اپنے ہاتھوں سے رنگ پہناؤں گا)

“قبول ہے”

اس نے کپکپاتے ہاتھوں سے سائن کیے۔۔۔۔

دو آنسوں بہتے گردن میں جذب ہوئے۔۔۔۔

آرب کے محبت بھرے جملے اس کے کانوں سے ٹکرا رہے تھے۔۔۔۔

آرب اس کی محبت ہی نہیں دوست بھی تھا۔۔۔مگر اس نے اس کے صاف کردار کا یقین نہیں کیا۔۔۔۔

اور جس سے وہ شادی کر رہی تھی وہ بھی اس کا دوست تھا۔۔۔

مگر اس نے ایک بار بھی اس کے کردار کی صفائی نہیں مانگی تھی

“آج منہا کی شادی تھی”

ایدہ نے سامنے کھڑے آرب کو دیکھا۔۔۔

جو ایکویریم میں فش فوڈ اپنی انگلیوں کی مدد سے ڈال رہا تھا۔۔۔۔

ایدہ کی بات سن اس کا ہاتھ تھم گیا۔۔۔۔

بنا پلکیں جھپکے وہ اسی انداز میں کھڑا تھا

“اس نے تم سے معافی تک نہیں مانگی۔۔۔تمہیں منایا تک نہیں۔۔۔۔کتنی جلدی تمہیں بھول کر شادی کرلی اس نے”

ایدہ نے سنجیدگی سے چوٹ کی

وہ پلٹ کر ایدہ کو دیکھنے لگا۔۔۔۔

مگر کہا کچھ نہیں۔۔۔بس خاموشی سے رخ موڑ کر صوفے کی جانب بڑھ گیا

“پوچھو گے نہیں اس نے کس سے شادی کی ہے؟”

ایدہ اس کے پیچھے گئی

“جانتا ہوں۔۔۔۔نوریض سے”

وہ سر جھٹک کہنے لگا

“نہیں۔۔۔ایبو سے”

ایدہ نے اسے بغور دیکھا۔۔۔۔

“ایبو سے؟” وہ پلٹ کر دیکھنے لگا

“ہاں۔۔۔۔ایبو سے ہوئی ہے شادی”

ایدہ نے جواب دیا

“یہ کیسے ہوسکتا ہے؟”

وہ حیرت ڈے پوچھنے لگا

“منہا نوریض سے شادی کیوں کرے گی۔۔۔۔سچ تو یہ ہے کہ وہ صرف امیر لڑکوں کو پھساتی ہے ۔۔۔نوریض سے دل تو بہلا سکتی ہے۔۔۔مگر شادی نہیں۔۔۔شادی کے لیے اسے امیر لڑکا ہی چاہیے تھا۔۔۔جیسے کہ تم اور ایبو”

ایدہ نے حقارت سے بھرے الفاظ اس کے کانوں میں انڈیلے

“مگر ایبو وہ کیسے کرسکتا ہے؟”

آرب کی حیرت ابھی بھی کم نہیں ہوئی تھی

“منہا جیسی خوبصورت لڑکی کو کوئی انکار کرسکتا ہے؟ پھس گیا ہوگا وہ بھی اس کے جال میں”

ایدہ نے کہا

“مطلب۔۔۔۔” وہ ایدہ کو دیکھتا کچھ سوچنے لگا

“مطلب یہ کہ وہ تینوں ملے ہوئے تھے۔۔۔تینوں نے مل کر تمہیں دھوکا دیا ہے۔۔۔۔”

وہ سمجھانے لگی۔۔۔

اور آرب خاموشی سے سن رہا تھا

وہ بریسلیٹ ہاتھ میں لیے دیکھ رہی تھی۔۔۔۔جس پر بلائنڈ فرینڈز لکھا تھا۔۔۔۔

منہا نے وہ بریسلیٹ اپنے پرس میں رکھ دیا۔۔۔۔

کیوں کہ اب وہ اسے کبھی پہننا نہیں چاہتی تھی۔۔۔۔

مگر پھینکنے کی ہمت ابھی بھی اس میں نہیں تھی

“چلیں۔۔۔۔۔” پیچھے سے ابراہیم کی آواز آئی۔۔۔۔

اس نے پلٹ کر دیکھا۔۔۔۔

پھر اثبات میں سر ہلایا۔۔۔۔

اور پرس اٹھاتی اس کے ساتھ باہر کھڑی گاڑی میں بیٹھ گئی۔۔۔۔

“اچھا۔۔۔۔بڈی اپنا خیال رکھنا۔۔۔اور ہاں کسی بھی مدد کی ضرورت ہو۔۔۔مجھے ضرور بتانا۔۔۔۔”

ابراہیم نے نوریض کے گلے لگتے کہا

“تو آلریڈی اتنا کچھ کرچکا۔۔۔۔تیرا احسان میں ساری زندگی نہیں بھولوں گا”

نوریض نے محبت بھرے لہجے میں کہا۔۔۔

“کوئی احسان نہیں۔۔۔۔تو جگر ہے میرا۔۔۔۔ائی لو یار”

ابراہیم اس گلے لگ کر کہنے لگا۔۔۔۔

پھر گاڑی میں بیٹھ گیا۔۔۔اور دیکھتے ہی دیکھتے گاڑی نوریض کی آنکھوں سے دور ہوگئی۔۔۔۔

آج وہ سب دوست جدا ہوگئے تھے۔۔۔۔

“آنٹی میں چلتی ہوں ڈیڈ کی کال آگئی ہے۔۔۔۔”

وہ پرس اٹھاتی کہنے لگی

“ایدہ تھینک یو بیٹا۔۔۔۔تم نے ہمارا بہت ساتھ دیا ہے۔۔۔جس طرح تم نے آرب کو سنبھالا۔۔۔تم واقع ایک اچھی دوست ہو”

سارہ بیگم نے مسکرا کر کہا

“ارے نہیں آنٹی۔۔۔۔کیسی باتیں کر رہی ہیں۔۔۔۔جب بھی ضرورت ہو آپ مجھے یاد کرسکتی ہیں”

ایدہ نے مسکرا کر کہا اور باہر کی جانب بڑھ گئی۔۔۔۔

“تم نے بھی مجھے دھوکا دیا ایبو”

وہ راکنگ چیئر پر آنکھیں موندے بیٹھا تھا۔۔۔۔

“تم تو میرے سب سے اچھے دوست تھے۔۔۔۔تم تینوں نے مل کر مجھے راستے سے ہٹا دیا۔۔۔۔

کیا جاتا اگر تم خود سے کہ دیتے میں پیچھے ہٹ جاتا”

وہ دل میں کہنے لگا

“کیا دوستوں پر اندھے اعتبار کی اتنی بڑی سزا ملتی ہے؟”

وہ خود سے سوال کرنے لگا۔۔۔۔

بند آنکھوں کے کناروں سے آنسوں بہ نکلے

تبھی دروازے پر دستک ہوئی اور سارہ بیگم اندر داخل ہوئی

آرب نے انگلی سے آنکھ کا کنارا صاف کیا۔۔۔۔

اور سیدھا ہوکر بیٹھا

“آرب۔۔۔۔میں تمہارے لیے کافی لائی ہوں”

انہوں نے ہاتھ میں پکڑا کپ اس کی جانب بڑھایا

“آرب بیٹا ایک بات کہوں؟ مانو گے”

وہ پوچھنے لگی

آرب نے اثبات میں سر ہلایا

“تم ایدہ سے شادی کرلو”

ان کی بات آرب نے ابرو سکیڑی

ماتھے پر شکن ابھری

“وہ تمہارا بہت خیال رکھتی ہے۔۔۔۔ہر وقت تمہارے ساتھ ہوتی ہے۔۔۔۔وہ بہت اچھی لڑکی ہے۔۔۔مجھے بہت پسند ہے”

انہوں نے۔ وش دلی سے کہا

“مام۔۔۔۔میں اس سے شادی نہیں کرسکتا۔۔۔وہ صرف میری دوست ہے۔۔۔میں ایسا کچھ نہیں سوچا کبھی”

وہ صفائی دینے لگا

“تو اب سوچ لو۔۔۔۔میرے لیے ہاں کہ دو۔۔۔۔”

وہ منت کرنے لگی

“مام آپ سمجھ کیوں نہیں رہی ہیں۔۔۔۔میں نہیں کرسکتا”

وہ اٹھ کھڑا ہوا

“کیوں نہیں کرسکتے۔۔۔۔کب تک منہا کا غم دل سے لگائے رکھو گے۔۔۔اس نے بھی تو شادی کرلی تم کیوں نہیں کرسکتے۔۔۔؟”

وہ تلخی سے پوچھنے لگی

“کیوں کہ میں منہا سے جتنی بھی نفرت کرلوں۔۔۔۔ایدہ کو محبت نہیں دے سکتا۔۔۔۔”

وہ دل کی بات زبان پر لے ہی آیا

سارہ بیگم اسے دیکھ کر رہ گئی۔۔۔۔

“میں ابراہیم کی چچی ہوں۔۔۔۔یہ آپ کی ساس ہے۔۔۔۔”

عظمیٰ بیگم سامنے کھڑی سونیا بیگم کی جانب اشارہ کرتی تعارف کروا رہی تھی۔۔۔

اور میں زیمل ہوں۔۔۔۔۔آپ کی نند۔۔۔۔۔”

زیمل نے خوش دلی سے اپنا تعارف کروایا

منہا بنا مسکرائے سب کو دیکھ رہی تھی۔۔۔۔

“آؤ میں آپ کو اماں بی سے ملواتی ہوں”

سونیا بیگم نے مسکرا کہا اور منہا ان کے ساتھ چل دی۔۔۔۔

وہ اماں بی کے کمرے میں داخل ہوئی۔۔۔جہاں ابراہیم پہلے سے موجود تھا۔۔۔۔

ان سب کو دیکھ سیدھا ہوا۔۔۔۔

“اسلام وعلیکم “

منہا نے آگے بڑھ کر سلام کیا

اما بی نے اسے اپنے پاس بٹھایا۔۔۔۔

“آپ میرے ابراہیم کی دلہن ہو۔۔۔۔جتنی میں نے سوچا تھا اس سے بھی پیاری۔۔۔۔”

وہ خوشی سے کہنے لگی۔۔۔

“اب بوڑھی ہوگئی ہوں۔۔۔۔پتا نہیں کتنی زندگی ہے۔۔۔۔مرنے سے پہلے بس اپنے ابراہیم کی دلہن کو دیکھنا چاہتی تھی۔۔۔آج وہ خواہش بھی پوری ہوگئی۔۔۔۔”

وہ محبت سے کہنے لگی۔۔۔

منہا اسی انداز میں بیٹھی تھی۔۔۔خاموش۔۔۔

“بس ایک ہی گزارش ہے۔۔۔اس گھر کو کبھی ٹوٹنے مت دینا۔۔۔۔میرا ایک ہی پوتا ہے۔۔۔۔اور تم اکلوتی دلہن ہو”

وہ سر پر ہاتھ پھیرتی سمجھا رہی تھی۔۔۔

ابراہیم اور منہا نے ایک دوسرے کو دیکھا۔۔۔۔

اماں بی بہت خوش تھی۔۔۔۔