Blind Friends By Isra Rao NovelR50463 Blind Friends (Episode - 36) 2nd Last Episode
No Download Link
Rate this Novel
Blind Friends (Episode - 36) 2nd Last Episode
Blind Friends By Isra Rao
“کمیل بہت خوش تھا کل”
نوریض نے مسکرا کر کہا
“ہاں۔۔۔۔مجھے خوشی ہے کہ ان دونوں کا نکاح ہوگیا”
ابراہیم بھی مسکرایا۔۔۔۔
“ہاسپیٹل میں انابیہ نے بہت خیال رکھا تھا اس کا”
نوریض نے موبائل کی اسکرین پر انگلیاں چلاتے کہا
“اس کا اب انابیہ کے سوا ہے ہی کون”
ابراہیم نے افسردگی سے کہا
بدلے میں نوریض خاموشی سے موبائل چلانے لگا
“ابراہیم بھائی کھانا لگا دوں؟”
رتبہ نے آتے ساتھ ہی سوال کیا
“لگا ہی دیں آپ کے شوہر کا ارادہ تو بھوکا مارنے کا لگ رہا ہے”
ابراہیم نے پاس بیٹھے نوریض کو گھورا جو موبائل میں گم تھا
“تو میں نے بولا ہے بیگم سے جھگڑا کرلو۔۔۔۔۔”
نوریض نے مسکراہٹ دبائے طنز کیا۔۔۔۔
“رتبہ بھابھی۔۔۔۔میں آپ کا لحاظ کر رہا ہوں بس ۔۔۔۔ورنہ آپ کا شوہر آپ کے سامنے میرے ہاتھوں پٹے گا”
ابراہیم نے جلتے بھنتے انداز میں کہا
“کیوں بھئی۔۔۔۔میں نے کیا غلط بولا ہے۔۔۔۔۔ایبو جب سے منہا گئی ہے تو نے ایک بار بھی منہا کو کال نہیں کی”
نوریض نے موبائل سائیڈ پر رکھا
“کیوں کروں میں۔۔۔میں نے نہیں کہا تھا اسے جانے کے لیے”
ابراہیم نے بے رخی سے کہا۔۔۔
“تو کیا ہوا یار بیوی ہے تیری۔۔۔۔اس کی طبیعت کا ہی پوچھ لے۔۔۔۔وہ تیری زمہ داری ہے ایبو۔۔۔۔”
نوریض نے سمجھاتے ہوئے کہا
“مجھے سب یاد ہے۔۔۔۔مجھے مت بتا”
وہ موبائل ٹیبل سے اٹھاتا اٹھ کھڑا ہوا۔۔۔۔
“نوریض ۔۔۔۔۔”
رتبہ نے نوریض کو گھورا
وہ موبائل جیب میں رکھتے باہر کی جانب بڑھ گیا۔۔۔۔
“ابراہیم بھائی کھانا۔۔۔۔۔”
رتبہ نے پکارا مگر وہ باہر نکل گیا۔۔۔۔
..
“کتنے دن ہوگئے کیا تمہیں میری یاد نہیں آتی؟”
منہا نے ٹائپ کیا۔۔۔۔
مگر سینڈ کرنے سے پہلے ہی مٹا دیا۔۔۔۔
موبائل ہاتھ میں لیے سوچنے لگی ۔۔۔
“آپ یہاں ٹھنڈ میں کیوں بیٹھی ہیں ؟”
سونیا بیگم نے اسے لان میں بیٹھی دیکھ پوچھا۔۔۔۔
“ویسے ہی۔۔۔۔۔”
وہ مسکرائی
“ابراہیم سے بات کر رہی تھی۔۔۔۔؟”
انہوں نے سوال کیا
منہا نے اثبات میں سر ہلایا۔۔۔
وہ نہیں چاہتی تھی انہیں جھگڑے کا علم ہو۔۔۔۔
..
(جب سے منہا گئی ہے تو نے ایک بار بھی اسے کال نہیں کی)
وہ بیڈ کراؤن سے ٹیک لگائے بیٹھا تھا۔۔۔۔
کچھ سوچتے ہوئے اس نے موبائل اٹھایا۔۔۔
منہا کا نمبر نکالا۔۔۔۔
وہ ڈائل کرنے ہی لگا تھا کہ منہا کالنگ اسکرین پر جگمگانے لگا۔۔۔۔
ابراہیم کی انا پھر سے جاگ گئی۔۔۔۔
اس نے اسکرین پر انگلی گھمائی اور کال کاٹ دی۔۔۔۔
تبھی بپ کے ساتھ ایک میسج آیا۔۔۔۔۔
ابراہیم نے فوراً دیکھا
“مجھ سے بات کرو ایبو۔۔۔۔آئی مس یو”
وہ موبائل ہاتھ میں لیے کتنی ہی دیر میسج کو دیکھتا رہا۔۔۔۔
وہ اسے مس کر رہا تھا۔۔۔بہت زیادہ۔۔۔۔
وہ بتانا چاہتا تھا۔۔۔۔
مگر وہ اس سے ناراض تھا۔۔۔۔
اس نے انا کو اوپر رکھتے موبائل سائیڈ ٹیبل پر رکھا
وہ تکیے پر سر رکھے لیٹ گیا۔۔۔۔
..
نکاح سادگی سے ہوا تھا۔۔۔۔بس کچھ رشتےدار اور دوست ہی شامل ہوئے تھے۔۔۔۔۔
کمیل کی طبیعت اب کافی حد تک ٹھیک ہوچکی تھی۔۔۔۔
وہ اوندھے منہ بیڈ پر لیٹا گہری نیند سو رہا تھا۔۔۔۔
انابیہ برابر بیٹھی اسے بغور دیکھ رہی تھی۔۔۔۔
اس نے کبھی سوچا بھی نہیں تھا کہ وہ ایک دن کمیل کو ہمسفر کے روپ میں دیکھے گی۔۔۔۔
کمیل نے نیند میں کروٹ لی۔۔۔۔۔
انابیہ نے فوراً نظریں دوسری جانب پھیری۔۔۔۔
وہ نیند سے بیدار آنکھیں کھولے سامنے بیٹھی انابیہ کو دیکھنے لگا۔۔۔۔
پھر مسکرا دیا۔۔۔۔
“اٹھ گئے تم۔۔۔۔میں ناشتہ لگواتی ہوں۔۔۔۔”
انابیہ اٹھنے لگی۔۔۔۔
کمیل نے اس کا ہاتھ پکڑ اسے روکا۔۔۔۔
وہ مڑ کر دیکھنے لگی۔۔۔۔
“تھینک یو….مجھے معاف کر کے میری زندگی میں شامل ہونے کے لیے۔۔۔آئی لو یو”
کمیل اس کی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے کہنے لگا
“میں یہ تو نہیں کہوں گی کہ میں بھی تم سے محبت کرتی ہوں۔۔۔۔مگر میں نے تم سے نکاح کیا ہے اپنی مرضی سے۔۔۔۔اور میں اسے نبھاؤں گی بھی دل سے”
انابیہ مسکرائی
“میں نے پہلے بھی کہا تھا اور اب بھی کہوں گا۔۔۔۔میری یک طرفہ محبت ہم دونوں کے لیے کافی ہے۔۔۔۔۔”
کمیل نے اس کا ہاتھ ہونٹوں سے لگایا تھا۔۔۔۔
انابیہ مسکرا دی۔۔۔۔
..
وہ فون کان سے لگائے اپنے کمرے میں بیٹھی تھی۔۔۔۔
رنگ جا رہی تھی مسلسل مگر کال رسیو نہیں ہورہی تھی ۔۔۔
وہ بار بار ملا رہی تھی۔۔۔۔
آخر کو ہار کر اس نے غصے سے فون سائلنٹ کیا اور بیڈ پر پھینکا۔۔۔۔
پھر پھوٹ پھوٹ کر رونے لگی۔۔۔۔
پھر چند لمحے بعد فون اٹھایا۔۔۔۔
“کیا تمہیں میری یاد نہیں آتی ایبو؟”
وہ روتے ہوئے ٹائپ کرنے لگی
“ایبو میں تمہیں بتانا چاہتی ہوں۔۔۔میں ٹھیک نہیں ہوں تم آجاؤ”
اس نے میسج سینڈ کیا۔۔۔۔
مگر جواب نا ملنے پر۔۔۔آنسوں پھر سے امڈ آئے۔۔۔۔
جانے کتنی ہی دیر وہ یونہی اسے یاد کر کے روتی رہی۔۔۔۔
آنسوں بہاتی رہی۔۔۔۔
دروازے پر دستک ہوئی تو اس نے چہرہ رگڑ کر آنسو صاف کیے۔۔۔۔
“آئیں نا امی۔۔۔۔”
وہ سونیا بیگم کو دیکھ کہنے لگی۔۔۔
“نہیں وہ میں نے حلوہ بنوایا ہے۔۔۔بچوں میں تقسیم کرنے کے لیے۔۔۔۔آپ آجائیں ۔۔۔۔اور اماں بی سے مل لیں۔۔۔۔بلا رہی ہیں آپ کو۔۔۔”
وہ کہتے ساتھ واپس مڑ کر چلی گئی۔۔۔۔
منہا اٹھی اور منہ دھویا۔۔۔۔۔
حلیہ درست کیا اور اماں بی کے روم میں پہنچ گئی۔۔۔۔
“میں آجاؤں…؟”
منہا نے مسکرا کر دروازے سے ہی پوچھا۔۔۔
“آپ کو پوچھنے کی ضرورت نہیں میرے بچے”
اماں بی نے خوش دلی سے کہا۔۔۔۔
منہا ان کے پاس جا کر بیٹھی۔۔۔۔
“آپ کے امی ابو کا فون آیا تھا وہ لوگ آج ملنے آئیں گے آپ سے”
اماں بی نے بتایا
“کیا؟ مگر مجھے تو نہیں بتایا انہوں نے”
وہ حیران ہوئی
“آپ کے پاس فون کیا تھا مگر لگ نہیں رہا تھا۔۔۔۔”
ان کے بتانے پر اسے یاد آیا کہ اس نے فون سائلنٹ کر دیا تھا۔۔۔۔
“ہاں میں نے دیکھا نہیں فون”
وہ شرمندہ ہوئی
“ابراہیم سے بات ہوئی؟”
انہوں نے اچانک سوال کیا۔۔۔
“جی۔۔۔جی۔۔۔ہوئی تھی۔۔۔۔”
وہ روہانسی ہوئی
“آپ روئی ہو نا؟”
انہوں نے بغور اسے دیکھا۔۔۔۔
“جی۔۔۔نن۔۔۔نہیں تو”
وہ جھجکی
“میں نے اتنی عمر یونہی نہیں گزاری۔۔۔۔چہرہ دیکھ کر اندر کی حالت جان جاتی ہوں۔۔۔۔مجھ سے آپ چھپا نہیں سکتی۔۔۔۔”
انہوں نے دو ٹوک کہا
یک دم ہی منہا کی آنکھ سے لڑکھڑا کر آنسوں گال پر پھسلا۔۔۔۔
“وہ مجھ سے بات ہی نہیں کرتا اماں بی۔۔۔۔۔”
منہا کہتی ساتھ ہی ان کے گلے لگ رونے لگی۔۔۔
سونیا بیگم جو دروازے پر کھڑی دیکھ رہی تھی۔۔۔۔
واپس مڑ گئی۔۔۔۔
..
وہ ڈرائیونگ کر رہا تھا جب اس کا فون بجنے لگا اسکرین کو دیکھا۔۔۔۔سونیا بیگم کی کال تھی۔۔۔۔
اس نے فون واپس رکھ دیا۔۔۔۔
پھر خیال آیا کہ منہا کا حال ان سے پوچھ سکتا ہے
تو اگلی کال پر فون رسیو کیا۔۔۔۔
“ہیلو اسلام وعلیکم مام۔۔۔۔۔”
ابراہیم نے رسمً کہا
“خبردار مجھے مام کہا تو۔۔۔۔آپ میرے بیٹے نہیں ہوسکتے۔۔۔۔
میرا ابراہیم ایسا نہیں تھا”
ان کی کرخت آواز اس کے کانوں میں پڑی۔۔۔
“اب کیا کردیا میں نے؟”
ابراہیم نے فوراً سائیڈ پر لگائی۔۔۔۔
“آپ نے دو مہینوں سے منہا سے بات تک نہیں کی۔۔۔۔
اور آپ پوچھ رہے ہیں آپ کا قصور کیا ہے؟”
وہ تلخی سے کہنے لگی
“ہاں تو آپ لوگ ہیں نا اس کا خیال رکھنے کے لیے۔۔۔۔ویسے بھی اسے میری ضرورت نہیں ہے مام۔۔۔۔۔”
کہتے ساتھ ہی اس نے فون کاٹ دیا۔۔۔۔
..
“یہ لو”
کمیل نے اس کی جانب ایک فائل بڑھائی
“یہ کیا ہے۔۔۔۔” انابیہ نے حیرانی سے فائل کو تھاما
“تمہاری منہ دکھائی۔۔۔۔”
کمیل نے مسکرا کر جواب دیا
انا یہ نے فائل کو کھولا۔۔۔اور پڑھنے لگی۔۔۔۔
کچھ لمحے پڑھنے کے بعد اس نے چہرہ اٹھا کر کمیل کی جانب دیکھا۔۔۔۔
“یہ میرے نام۔۔۔کیوں؟”
وہ حیران ہوئی تھی
“یہ فیکٹری میں نے تمہارے نام کردی۔۔۔۔۔”
کمیل نے کہا
“مگر کیوں۔۔۔مجھے ضرورت نہیں ہے اس کی”
وہ فوراً کہنے لگی
“انابیہ میں جانتا ہوں۔۔۔تم ایک انڈیپینڈنٹ لڑکی ہو۔۔۔۔تم باقی لڑکیوں کی طرح گھر پر بیٹھ کر بچے پیدا نہیں کرسکتی۔۔۔۔”
کمیل نے سنجیدگی سے کہا۔۔۔۔
مگر انابیہ بے اختیار ہی اس کی بات پر ہنس دی اور ہنستی ہی چلی گئی۔۔۔۔۔
کمیل نظریں بھر اسے یونہی دیکھتا رہا۔۔۔۔
کتنے وقت بعد وہ اسے یوں کھلکھلا کر ہنستا دیکھ رہا تھا ۔۔۔۔
..
“زیمل تم تو اپنے بھابھی کو شادی کے بعد بھول ہی گئی”
منہا نے سامنے بیٹھی زیمل کو دیکھ شکایت کی۔۔۔۔
“میں آپ کو بھول سکتی ہوں بھابھی؟”
وہ مسکرائی
“میں بھی یہی سم۔۔۔جھتی۔۔۔۔”
اس کے چہرے کے تاثرات بات کرتے کرتے بدلے تھے۔۔۔۔
“بھابھی۔۔۔۔آپ ٹھیک ہو۔۔۔۔۔؟”
زیمل فوراً اس کی جانب لپکی
درد کی شدت اس کے چہرے پر عیاں تھی۔۔۔۔
زرد چہرے پر اب پسینے چھوٹنے لگے تھے۔۔۔۔۔
“مما۔۔۔۔۔بڑی امی۔۔۔۔۔۔”
وہ گھبراتے ہوئے پکارنے لگی۔۔۔۔۔
..
“تو اب آتا کیوں نہیں ہے میری طرف کوئی ناراضگی ہے؟”
نوریض نے سوال کیا۔۔۔
“نہیں تو”
اس نے سادگی سے جواب دیا
“پھر آتا کیوں نہیں کشمالہ بھی یاد کرتی ہے تجھے”
نوریض نے شکوہ کیا
“میری بات اس سے روز ہوتی ہے ۔۔۔۔۔”
وہ مسکرایا
“جانتا ہوں۔۔۔۔لیکن آج رات کا کھانا تو میرے گھر کھائے گا۔۔۔۔۔سمجھ آئی”
نوریض نے حکم دیا
“ٹھیک ہے آجاؤں گا۔۔۔۔”
اس نے بے رخی سے کہا اور فون بند کردیا۔۔۔۔
اس کا دل ہر چیز سے اچاٹ ہوگیا تھا۔۔۔۔
اس نے چولہا جلایا۔۔۔۔
ارادہ چائے بنانے کا تھا۔۔۔۔
(چائے بنا کر لاؤ)
منہا کی حکمیا آواز اس کے کانوں سے ٹکرائی۔۔۔۔
پانی ابل رہا تھا۔۔۔۔۔
مگر وہ خیالوں میں گم تھا۔۔۔۔
(میں نے چائے لانے کا کہا ہی کیوں)
منہا کا روتا چہرہ اس کی نظروں کے سامنے آیا۔۔۔۔
وہ بے اختیار مسکرایا۔۔۔۔
کتنا روئی تھی وہ اس کے ہاتھ جلنے پر۔۔۔۔
اس نے کچھ سوچ کر سونیا بیگم کا نمبر ڈائل کیا
ارادہ اس بار بھی منہا کی خیریت معلوم کرنا ہی تھا۔۔۔۔
“ہیلو۔۔۔۔۔۔۔۔”
کال رسیو ہوتے ہی عظمیٰ بیگم کی آواز آئی
وہ پہچان گیا تھا
“چچی۔۔۔۔کیسی ہیں آپ؟”
ابراہیم نے سوال کیا
“منہا ٹھیک نہیں ہے ابراہیم ۔۔۔۔فورًا پہنچو یہاں۔۔۔ہم سب ہسپتال ہیں۔۔۔۔”
انہیں نے پریشانی سے کہا
“مگر ہوا کیا؟”
اس کے حواس اڑے تھے
“آپ کی بیوی کی سیریس حالت ہے۔۔۔۔اسے آپ کے خون کی ضرورت ہے ابراہیم۔۔۔۔۔”
عظمیٰ بیگم نے اسے بتایا۔۔۔۔
ابراہیم کو مانو حلق خشک ہوگیا تھا
“ڈاکٹرز نے کہا ہے اگر فوراً اسے خون نہیں ملا تو اس کی جان کو خطرہ ہے۔۔۔۔۔پلیز بیٹا جلدی پہنچو۔۔۔۔”
انہوں نے فون بند کیا
“ابراہیم فوراً کمرے کی جانب بھاگا۔۔۔
چابی اور والٹ اٹھایا۔۔۔۔۔
اور باہر کی جانب بڑھ گیا۔۔۔۔۔
..
“میرا بلڈ گروپ میچ نہیں ہے منہا سے”
“یا اللہ اب خون کون دے گا؟”
وہ گھبرائی
“میں نے ابراہیم کو بلایا ہے تھوڑی ہی دیر میں وہ پہنچ جائے گا۔۔۔۔اس نے کہا ہے وہ خون دے گا۔۔۔آپ فکر نہیں کریں”
عظمیٰ بیگم نے تسلی دی۔۔۔۔
“چلو یہ اچھا کیا۔۔۔۔آپ اپنے بھائی کو بھی کال کر کے بتا دیتے عمران۔۔۔۔۔۔۔۔”
سونیا بیگم کی فکر اب کم ہوئی تھی۔۔۔۔
“جی میں نے کردیا ہے وہ آتے ہی ہوں گے۔۔۔۔”
عمران صاحب نے انہیں تسلی دی۔۔۔۔
..
وہ ڈرائیونگ کر رہا تھا۔۔۔
فون بار بار بج رہا تھا اس نے کال رسیو کی۔۔۔۔
“تو آیا نہیں ابھی تک کھانے پر ویٹ کر رہے ہیں ہم۔۔۔۔۔۔؟”
نوریض کب سے کالز کر رہا تھا۔۔۔۔
رسیو ہوتے ہی بولنے لگا۔۔۔۔
“نوریض میں گھر جا رہا ہوں منہا کی طبیعت خراب ہے۔۔۔۔۔۔۔”
اس نے نوریض کو بتایا اور فون بند کرتے گاڑی بھگانے لگا۔۔۔۔۔
(آپ کی بیوی کی سیریس حالت ہے اسے آپ کے خون کی ضرورت ہے)
اس کے کانوں سے جملا ٹکرایا تھا۔۔۔۔۔
اس نے گاڑی کی اسپیڈ بڑھائی۔۔۔۔۔
وہ جلد سے جلد پہنچنا چاہتا تھا۔۔۔۔
(ایبو میں تمہیں بتانا چاہتی ہوں کہ میں ٹھیک نہیں ہوں۔۔۔تم آجاؤ)
ہر لفظ اس کی آنکھوں کے سامنے لہرا رہا تھا۔۔۔۔
آنسوؤں کا گولا مانو گلے میں اٹکا تھا۔۔۔۔۔
وہ اپنی بے رخی پر پچھتا رہا تھا ۔۔۔۔
وہ دل ہی دل میں خود کو کوس رہا تھا۔۔۔۔
تبھی سامنے ایک بچہ نظر آیا جو بھاگتے ہوئے روڈ کراس کر رہا تھا۔۔۔۔
ابراہیم نے فوراً اسٹیئرنگ کو گھمایا۔۔۔۔۔
مگر گاڑی سنبھلنے کے بجائے دوسری گاڑی سے جا ٹکرائی۔۔۔۔
اس کی سامنے اندھیرا چھانے لگا تھا۔۔۔۔۔
اسے کچھ نظر نہیں آرہا تھا۔۔۔۔
اس کے دماغ میں ابھی بھی بس منہا گھوم رہی تھی۔۔۔۔
..
جب اس کی آنکھ کھلی تو اس کے سامنے نوریض کھڑا تھا۔۔۔۔وہ یہاں وہاں دیکھنے لگا۔۔۔۔
وہ ہسپتال میں تھا۔۔۔۔اس نے کھلی کھڑکی سے باہر دیکھا سورج چمک رہا تھا۔۔۔۔
یعنی صبح ہوچکی تھی۔۔۔۔۔بہت دیر ہوچکی تھی۔۔۔۔
وہ اٹھ بیٹھا۔۔۔
“تیری طبیعت نہیں ٹھیک آرام کرلے۔۔۔۔”
نوریض نے کہا
“نوریض۔۔۔منہا کیسی ہے؟مجھے جانا ہے اس کے پاس”
وہ بیڈ سے اترنے لگا
“چلے جانا۔۔۔۔۔کون روک رہا ہے۔۔۔۔اور وہ ٹھیک ہے اب۔۔۔میری بات ہوگئی”
نوریض نے تسلی دی
“نہیں۔۔۔۔مجھے جانا ہے۔۔۔۔وہ ٹھیک نہیں ہے۔۔۔۔میں نے دیر کردی یار۔۔۔اسے میری ضرورت تھی”
وہ افسردگی سے کہنے لگا
“وہ ٹھیک ہے۔۔۔۔رات کو ہی آپریشن ہوگیا تھا۔۔۔۔۔بیٹا ہوا ہے “
نوریض نے اسے تسلی دینی چاہی۔۔۔
“نہیں۔۔۔مجھے جانا۔۔۔۔۔”
وہ روانی میں کہتے کہتے رکا تھا۔۔۔۔
اس نے نوریض کے الفاظوں پر غور کیا
پھر سر اٹھا کر اسے دیکھا۔۔۔
نوریض نے اثبات میں سر ہلایا
“مبارک ہو یار۔۔۔۔تو پاپا بن گیا”
نوریض نے ہنس کر کہا۔۔۔۔
ابراہیم اس کی بات پر مسکرایا۔۔۔۔
“مگر مجھے جانا ہے نوریض۔۔۔پلیز۔۔۔۔۔”
ابراہیم نے ضد کی ۔۔۔۔
“ہاں۔۔۔میں لے چلوں گا۔۔۔۔۔”
نوریض نے اس کے کاندھے پر ہاتھ رکھا۔۔۔۔۔
ابراہیم کا دماغ ابھی بھی حاضر نہیں تھا۔۔۔
وہ جلد از جلد وہاں پہنچنا چاہتا تھا۔۔۔۔
..
“امی۔۔۔۔۔”
منہا نے پکارا
“جی بیٹا کہیں۔۔۔۔کچھ چاہیے؟”
وہ پوچھنے لگی
“ابراہیم آگیا؟”
وہ آس لیے انہیں دیکھنے لگی۔۔۔۔
“آجائے گا۔۔۔۔آپ اپنے بیٹے کو دیکھیں۔۔۔بلکل آپ کے جیسا ہے”
سونیا بیگم نے اس کے قریب بچے کو لٹاتے ہوئے کہا۔۔۔۔
وہ اسے دیکھ مسکرائی۔۔۔۔
“میرے جیسا نہیں ابراہیم جیسا”
وہ اس کے گال کو چھوتے ہوئے بڑبڑائی تھی۔۔۔۔
..
“چاچو۔۔۔۔۔منہا کیسے ہے؟”
اس نے آتے ہی سامنے عمران صاحب کو دیکھ پوچھا۔۔۔۔
“اب تمہیں آنے کی ضرورت نہیں تھی ابراہیم”
وہ بے رخی سے کہنے لگے
“چاچو مجھ سے غلطی ہوگئی۔۔۔۔۔”
وہ معافی مانگنے لگا
“یہ ماتھے پر کہا ہوا ہے؟”
وہ پٹی دیکھ پوچھنے لگے
“ابراہیم کا ایکسیڈنٹ ہوگیا تھا ورنہ یہ رات میں ہی پہنچ جاتا”
نوریض نے صفائی دی
“اندر ہے منہا اور تیرا بیٹا بھی”
انہوں نے مسکرا کر اسے گلے سے لگایا ۔۔۔
“منہا ٹھیک پے؟”
ابراہیم نے پوچھا۔۔۔۔
“ہاں۔۔۔۔۔جا مل لے۔۔۔۔۔”
انہوں نے کہا
وہ دروازہ کھول اندر داخل ہوا۔۔۔۔
سامنے منہا آنکھیں موندے گہری نیند میں تھی۔۔۔۔
سونیا بیگم بچے کو فیڈر پلانے کوشش کر رہی تھی۔۔۔۔
اسے دیکھ ناگواری چہرے پر اتری۔۔۔۔
ایک نظر منہا کو دیکھا۔۔۔۔جو ابھی بھی سورہی تھی۔۔۔۔
وہ اٹھی اور باہر نکل گئی۔۔۔۔۔
ابراہیم لمحہ بھر اسے سوتا دیکھتا رہا۔۔۔۔
ایک آنسوں آنکھ سے گرا۔۔۔۔
جسے اس نے انگوٹھے سے صاف کیا اور باہر نکل گیا۔۔۔۔
