Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Blind Friends (Episode - 18)

Blind Friends By Isra Rao

“تمہارے ڈیڈ تو ہوٹل بنا رہے تھے نا؟”

وہ چکن چاؤمن کو کانٹے سے منہ میں ڈالتے ہوئے کہنے لگا

“ہوٹل تو بنائیں گے۔۔۔بس بھائی امریکہ چلے گئے تو ڈیڈ اکیلے ہوگئے۔۔۔۔”

وہ کولڈ ڈرنک کا گلاس ہاتھ میں لیے کہ رہی تھی

“تو تم کچھ ہیلپ کرو نا انکل کی۔۔۔۔اب تمہیں بھی انٹرسٹ لینا چاہیے”

کمیل نے مشورہ دیا

“تم جانتے ہو مجھے انٹرسٹ نہیں۔۔۔۔”

وہ لاپرواہی سے کہنے لگی

“تو انٹرسٹ پیدا کرو ۔۔۔ “

وہ بھی ٹون میں کہنے لگا

“تم خود کیوں نہیں سنمبھالتے؟”

وہ طنزیہ پوچھنے لگی

“کرلوں گا میں نے ہی سنبھالنا ہے سب۔۔۔۔”

وہ سنجیدگی سے کہنے لگا

“تو خاور انکل کا ساتھ دو۔۔۔۔زمہ دار بنو۔۔۔۔کل کو تم نے شادی بھی کرنی ہے”

انابیہ نے مسکرا کر کہا

“کوئی اچھی لڑکی ملی تو زمہ دار بھی بن جاؤں گا اور شادی بھی کرلوں گا”

وہ اسے گہری نظروں سے دیکھتے ہوئے کہنے لگا

“زمہ دار بنو گے تو لڑکی بھی مل ہی جائے گی۔۔۔۔”

وہ ہنس کر کہنے لگی

“تمہیں کیسا لڑکا پسند ہے؟”

وہ پوچھنے لگا۔۔۔۔

“مجھے؟” وہ حیرت سے پوچھنے لگی

کمیل نے اثبات میں سر ہلایا

“لڑکا ایسا ہونا چاہیے۔۔۔۔جسے دیکھ کر دل کہے بس یہی چاہیے۔۔۔۔جو دل پھینک نا ہو۔۔۔تھوڑا اکھڑ ہو۔۔۔تھوڑا خوش مزاج۔۔۔۔جس کے دل تک رسائی مشکل ہو۔۔۔۔۔”

وہ سوچتے ہوئے کہنے لگی

کمیل خاموشی سے اسے دیکھ رہا تھا

“اینڈ یو نو۔۔۔۔کہ مجھے مشکل کام کرنے میں کتنا مزہ آتا ہے”

وہ دلچسپی سے کہنے لگی

“عجیب ہی پسند ہے تمہاری۔۔۔”

کمیل کاندھے اچکاتا دوبارا کھانے میں مصروف ہوگیا

❤️❤️❤️❤️❤️..

“اماں بی میں کب سے منت کر رہا ہوں مان ہی نہیں رہی”

ابراہیم نے لاچارگی کا لبادہ اوڑھا

“منہا۔۔۔کیوں نہیں جارہی ؟”

اماں بی پوچھنے لگی

“اماں بی میں یہاں رہنا چاہتی ہوں آپ لوگوں کے ساتھ۔۔۔”

منہا نے جواب دیا

“ہم لوگوں کے ساتھ ہی رہتی تھی آپ۔۔۔اب اپنے شوہر کے ساتھ رہو ۔۔۔تیاری کریں شاباش”

وہ اس کے سر پر ہاتھ پھیرتی حکم دینے لگی

“مگر اماں بی میرا دل نہیں لگے گا”

منہا نے منت کی

“لگ جائے گا۔۔۔۔اچھی بیویاں شوہروں کا خیال رکھتی ہیں۔۔۔انہیں خوش رکھتی ہیں۔۔۔۔”

اماں بی نے پیار سے سمجھایا

“اور کیا اماں بی مجھے باہر کے کھانے بلکل نہیں پسند۔۔۔۔”

ابراہیم نے معصومیت کے ساتے ریکارڈ توڑے۔۔۔۔

منہا نے اسے گھورا۔۔۔۔ابراہیم مسکرایا۔۔۔۔

وہ خون جلا کر رہ گئی۔۔۔

❤️❤️❤️❤️❤️..

“ہنی۔۔۔۔” ایدہ نے سامنے کاؤچ میں بیٹھے آرب کو مخاطب کیا۔۔۔۔

جو لیپ ٹاپ پر کام کرنے میں مصروف تھا

“ہمممم۔” آرب نے بنا اسے دیکھے جواب دیا

“ہنی میری بوتیک کی اوپننگ ہے۔۔۔میں چاہتی ہوں تم کرو۔۔۔۔کل پارٹی بھی رکھی ہے میں نے۔۔۔۔تم آؤ گے نا؟”

وہ اس کے پاس بیٹھی۔۔۔۔

“نہیں۔۔۔۔میں نہیں آسکتا سوری۔۔۔۔مجھے بہت کام ہے”

آرب نے صاف انکار کیا

“کیوں آبی۔۔۔۔؟” وہ شکوہ کن نگاہوں سے دیکھنے لگی

“ایدہ آفس کا بہت کام ہے مجھے بلکل بھی ٹائم نہیں۔۔۔”

آرب نے اسے دیکھتے ہوئے صفائی دی

“میں نے تمہیں کتنی بار کہا ہے۔۔۔۔چھوڑ دو کمپنی۔۔۔ڈیڈ کی فیکٹری سنبھالو۔۔۔”

ایدہ نے اس کے سامنے رکھا لیپ ٹاپ ہاتھ بڑھا کر بند کیا۔۔۔۔

وہ اسے دیکھنے لگا

“تم جانتی ہو ایدہ۔۔۔۔میں خود دار ہوں۔۔۔میں ایسا نہیں کروں گا”

وہ نرمی سے سمجھانے لگا

“ہنی۔۔۔اس چھوٹی سی جاب پر اتنی محنت کرتے ہو مجھے نہیں پسند اور ڈیڈ کا سب کچھ ہمارا ہی تو ہے۔۔۔۔۔”

وہ اس کا ہاتھ تھامے کہنے لگی

“میرا نہیں۔۔۔تمہارا اور کمیل کا۔۔۔۔”

وہ مسکرایا۔۔۔۔اور پھر سے لیپ ٹاپ کھولنے لگا

“ایک ہی بات ہے ۔۔۔”

وہ بڑبڑاتی اٹھی اور بیڈ کی جانب بڑھ گئی۔۔۔۔

❤️❤️❤️❤️❤️..

وہ دونوں ابھی ابھی کراچی پہنچے تھے۔۔۔۔ابراہیم نے بیگ رکھا اور صوفے پر گرنے کے انداز میں بیٹھا۔۔۔۔

منہا یہاں وہاں دیکھتی گھر کا جائزہ لے رہی تھی۔۔۔۔

وہ گھر کافی بڑا نہیں تھا۔۔۔۔مگر خوبصورت تھا

اور صفائی وغیرہ بھی ہوئی تھی۔۔۔۔

سامنے ہی دو رومز تھے۔۔۔۔اور برابر میں سیڑھیاں تھی۔۔۔

پچھلی طرف گلاس وال لگا تھا جہاں سے سویمنگ پول نظر آرہا تھا۔۔۔۔

وہ چل کر سیڑھیوں کی جانب گئی۔۔۔اس سے پہلے وہ اوپر چڑھتی ابراہیم کی آواز پر پلٹی۔۔۔۔

“کھانا بناؤ میرے لیے”

ابراہیم نے جوتے اتارتے ہوئے اسے چھیڑا

“زہر نا بنا دوں تڑکا لگا کر؟”

منہا نے جلے بھنے انداز میں کہا۔۔۔

“وہ تو میں روز کھاتا ہوں اور ہضم بھی کرتا ہوں”

ابراہیم نے ہنسی دباتے ہوئے کہا

“کیا؟”

اس نے ناسمجھی سے پوچھا

“تمہاری زہریلی باتیں”

وہ مسکرایا

“شکر کرو صرف باتیں سناتی ہوں۔۔۔۔حرکتیں تو تمہاری مار کھانے والی ہیں۔۔۔۔”

منہا نے سنجیدگی سے کہا

“اوہ میں کھا ہی نا لوں تمہاری مار۔۔۔یہ نخرے برداشت کرنے کی امید مجھ سے مت لگانا”

ابراہیم نے تلخ لہجے میں کہا

“تم سے تو تمہارے گھر والوں کو کوئی امید نہیں مجھے کیا ہوگی”

اس کا جملا تپانے کے لیے کافی تھا۔۔۔۔

“انہیں بھی تم نے ہی بھڑکایا ہے۔۔۔۔ورنہ تین سال میں کیا جادو کردیا میرے باپ پر تم نے۔۔۔۔جو انہیں تمہاری باتیں ٹھیک لگتی “

وہ غصے سے کہنے لگا۔۔۔

“ہاں تم جلتے رہو۔۔۔میں چلی کھانا بنانے”

وہ چڑاتی کچن کی جانب بڑھ گئی۔۔۔۔

اور ابراہیم کا دل کیا اسے جوتا پھینک کر مارے۔۔۔

❤️❤️❤️❤️❤️..

“یہ تیکھا بہت ہے ایبو”

منہا نے ایک نوالہ منہ میں ڈالتے ہی کہا۔۔۔۔

اس کے منہ سے سسکی نکلی۔۔۔۔

“کمال ہے تم خود اتنی تیکھی ہو”

ابراہیم نے گلاس میں پانی بھرتے ہوئے کہا۔۔۔اور اسے تھمایا

“بکواس نہیں کرو۔۔۔تمہیں بولا تھا میں بنا لوں گی۔۔۔۔باہر سے منگوا لیا”

وہ منہ بناتی کہنے لگی

“تم آتے ہی کچن میں گھس جاتی۔۔۔ایک تو احساس کیا میں نے”

ابراہیم نے احسان جتایا

“میں بنا لیتی۔۔۔اس سے تو بہتر ہی ہوتا”

وہ پانی پیتی کہنے لگی

“میں سونے جارہا ہوں۔۔۔۔تم بھی سوجانا۔۔۔۔سامنے والا روم تمہارا ہے”

ابراہیم نے اشارا کیا

منہا نے پلٹ کر دیکھا۔۔۔۔

پھر اثبات میں سر ہلایا۔۔۔۔

وہ دوسرے روم کی جانب بڑھ گیا

❤️❤️❤️❤️❤️..

وہ آج جلدی اٹھ گئی تھی۔۔۔۔اسے بہت کام تھے بوتیک کے۔۔۔۔

پارٹی کے انتظامات دیکھنے تھے۔۔۔

“آرب اٹھ گیا۔۔۔۔”

اس نے ملازمہ سے احد کو گود میں لیتے ہوئے پوچھا

“جی وہ تو آج جلدی چلے گئے تھے”

ملازمہ نے بتایا۔۔۔۔

وہ گہری سوچ میں ڈوبی۔۔۔پھر احد کو لیے اوپر کی جانب بڑھ گئی

وہ جانتی تھی آج وہ جان بوجھ کر جلدی نکل گیا تاکہ اسے پارٹی میں شامل نہ ہونا پڑے۔۔۔۔

❤️❤️❤️❤️❤️..

“ایبو آج جلدی اٹھ گئے۔۔۔کہاں جارہے ہو؟”

وہ اسے تیار ہوتا دیکھ پوچھنے لگی

“ہینگنگ گاڑڈن۔۔۔چلو گی؟”

وہ چڑاتا پوچھنے لگا

منہا نے ابرو سکیڑ کر اسے گھورا۔۔۔

ابراہیم اسے دیکھ ہنسنے لگا۔۔۔۔

“یار آفس جارہا ہوں اور کہاں جاؤں گا کام ہے آج زیادہ۔۔۔۔شام میں دیر ہوجائے گی”

وہ گھڑی پہنتے کہنے لگا۔۔۔۔

منہا اسے ہی دیکھ رہی تھی۔۔۔۔۔

اس کے ہاتھ کی انگلی میں فیروزہ جھلک رہا تھا۔۔۔۔

وہ ہلکا سا مسکرائی۔۔۔۔۔

❤️❤️❤️❤️❤️..

“آبی۔۔۔۔ہنی تم کہاں ہو؟”

اس نے فون کان سے لگائے پوچھا

“آفس ہوں یار کام زیادہ ہے بتایا تھا رات کو میں نے۔۔۔۔۔”

آرب نے مصروفیت سے کہا

“آج پارٹی ہے بوتیک پر۔۔۔۔ہنی میں ویٹ کروں گی”

ایدہ نے محبت بھرے لہجے میں کہا

“میرا ویٹ نہیں کرنا ایدہ۔۔۔۔مجھے بہت کام ہیں”

وہ اسی ٹون میں کہنے لگا

“آبی تم ہمیشہ ایسے ہی کرتے ہو۔۔۔تمہیں مجھ سے آج تک محبت نہیں ہوئی۔۔۔میری خوشی تمہارے لیے اہمیت رکھتی ہی نہیں۔۔۔۔۔”

ایدہ نے کہ کر فون بند کردیا۔۔۔۔

اسے غصہ آرہا تھا۔۔۔۔

تین سال سے وہ آرب کے دل پر راج کرنا چاہتی تھی۔۔۔۔اس کی محبت کی حقدار بننے کی کوشش میں لگی تھی۔۔۔۔

مگر آرب اپنے رویے سے ہر بار اسے جتا دیتا تھا کہ وہ صرف اس کی بیوی ہے اس کی محبت نہیں۔۔۔۔

❤️❤️❤️❤️❤️..

اس نے ہاتھ پر بندھی گھڑی دیکھی رات کے 8 بجا رہی تھی

اسے دیر ہوگئی تھی۔۔۔۔اور اب ٹریفک اسے دیر کر رہی تھی ۔۔

“بھائی۔۔۔۔جلدی چلیں۔۔۔۔”

وہ رکشے والے کو کہنے لگی۔۔۔۔

تبھی اس کی نظر برابر والی گاڑی پر پڑی۔۔۔۔۔جو ٹریفک کی وجہ سے رکی ہوئی تھی۔۔۔۔

مگر اندر بیٹھے دو انسانوں کو زندگی میں کبھی نہیں بھول سکتی تھی۔۔۔۔

وہ آنکھیں پھاڑے انہیں دیکھ رہی تھی۔۔۔۔

جو ایک بچے کو گود میں لیے بیٹھا ساتھ بیٹھی ایدہ سے مخاطب تھا۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ایدہ کی نظر پڑی ہی تھی کہ وہ کرنٹ کھا کر پیچھے ٹیک لگا کر بیٹھی۔۔۔۔

اس کا گلے میں آنسوؤں کا گولا پھنسا تھا ۔۔۔

آنسوں باہر آنے کو بیتاب تھے۔۔۔۔۔

وہ گھر آتے ہی سیدھا روم کی جانب بھاگی ۔۔۔۔پرس بیڈ پر پھینکا اور ماتھے پر ہاتھ رکھے خود کو رونے سے روکنے لگی۔۔۔

مگر آنسوں گالوں پر پھسلتے چلے گئے۔۔۔۔۔

تبھی دروازے پر دستک ہوئی۔۔۔۔۔

اس نے رگڑ کر آنسوں صاف کیے۔۔۔۔۔

چہرہ سرخ ہوگیا تھا ۔۔۔۔۔

“آگئی تم۔۔۔۔۔کہاں گئی تھی؟”

ابراہیم نے سینے پر ہاتھ باندھے دروازے سے ٹیک لگائی

“میں تمہاری پابند نہیں ہوں جو جواب دوں۔۔۔۔”

منہا نے بے رخی سے رخ موڑتے چہرہ چھپایا۔۔۔۔۔

ابراہیم کے اعصاب تنے۔۔۔۔چہرے پر غصہ ابھرا۔۔۔۔۔

اس نے آگے بڑھ کر اس کا بازو پکڑ اس کا رخ اپنی جانب کیا۔۔۔۔۔

“تم مجھے جواب دہ ہو۔۔۔۔۔آئی سمجھ۔۔۔۔”

ابراہیم نے اس کی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے چبا کر کہا

“نہیں بتاؤں گی۔۔۔تم ہوتے کون ہو مجھ سے پوچھنے والے”

وہ سرخ چہرے سے کہنے لگی

“منہا تم یہاں میری زمہ داری پر ہو۔۔۔۔۔تم جہاں بھی جاؤ گی مجھے بتا کر جاؤ گی۔۔۔۔۔دوبارہ تم مجھے بنا بتائے گئی تو ۔۔۔۔۔”

ابراہیم نے تلخی سے کہا

“تو ۔۔تو کیا کرلو گے۔۔۔۔۔زیادہ شوہروں والے حکم چلانے کی ضرورت نہیں ہے ایبو”

منہا نے سرخ آنکھوں سے کہا

“کیوں کہ میں ہوں تمہارا شوہر۔۔۔۔۔”

وہ تلخ لہجے میں کہنے لگا

“نہیں ہو۔۔۔نہیں ہو۔۔۔تم نہیں ہو۔۔۔ میرے شوہر۔۔۔۔میرے کوئی نہیں ہو تم۔۔۔۔۔دفع ہوجاؤ یہاں سے”

اس نے ابراہیم کے سینے پر ہاتھ رکھ پیچھے دھکیلا۔۔۔۔۔

آنسوں پھر سے بہنے لگے تھے

اس بات کا جواب میں بہت اچھے سے دے سکتا ہوں ۔۔مگر میں تمہارے منہ نہیں لگنا چاہتا”

وہ حقارت سے کہتا باہر نکل گیا۔۔۔۔۔

اور منہا بیڈ پر گرنے کے انداز میں بیٹھی۔۔۔۔رونے لگی۔۔۔۔

اتنی تیز آواز میں کہ اپنے کمرے میں جاتے ابراہیم کو اس کی آواز کانوں کو چیرتی ہوئی سنائی تھی۔۔۔۔

وہ اپنے کمرے کے دروازے پر کھڑا رہا ۔۔۔

اس کے رونے کی آواز مسلسل اس کے کانوں میں پڑ رہی تھی ۔۔۔۔

ابراہیم کو غصہ آرہا تھا۔۔۔۔۔اس نے قوت سے دیوار پر ہاتھ مارا۔۔۔۔۔

اور تیز قدم بڑھاتا باہر نکل گیا۔۔۔۔۔

❤️❤️❤️❤️❤️..

“کیا ہوگیا یار؟”

نوریض نے کہا

یار ایک تو غلطی بھی اس کی اوپر سے غصہ بھی مجھے ہی دکھا رہی ہے۔۔۔۔”

ابراہیم نے صوفے سے ٹیک لگائی۔۔۔۔

“وہ لڑ کر ہمیشہ سے ہی روتی ہے”

نوریض نے سادگی سے کہا۔۔۔۔

“مگر یہ بھی تو ہوسکتا ہے۔۔۔۔کہ وہ ڈسٹرب ہو کسی بات پر۔۔۔۔”

رتبہ نے چائے کی ٹرے میز پر رکھتے ہوئے کہا۔۔۔۔

“نہیں ایسا ہوتا تو وہ مجھے بتاتی نا”

ابراہیم نے نفی میں سر ہلایا

“آپ نے پوچھا تھا؟”

رتبہ نے سوال داغا۔۔۔۔

ابراہیم ساکت ہوا ۔۔۔

“میں مانتی یوں اس کی غلطی تھی وہ بنا بتائے گئی۔۔۔مگر شاید آپ غصہ کرنے کے بجائے پیار سے پوچھتے تو وہ بتا دیتی”

رتبہ نے سنجیدگی سے اپنی بات رکھی

“پیار۔۔۔۔ان لوگوں میں پیار ہوگا تو پیار سے بات کرے گا نا۔۔۔یہ دونوں تو ہمیشہ سے لڑتے رہے ہیں۔۔۔۔کالج میں بھی کبھی نہیں بنتی تھی ان کی”

نوریض نے تفصیل سے بتایا۔۔۔۔

“ابراہیم بھائی وہ بیوی ہے آپ کی۔۔۔۔اور آپ کی توجہ پیار محبت۔۔۔۔یہاں تک کہ آپ پر بھی اس کا حق ہے۔۔۔۔”

رتبہ نے خالی کپ ٹرے میں رکھتے ہوئے کہا۔۔

وہ خاموش تھا۔۔۔۔

“رتبہ صحیح کہ رہی ہے۔۔۔۔اس نے بہت کچھ سہا ہے ایبو۔۔۔۔اسے پیار کی ضرورت ہے غصے کی نہیں ۔۔۔۔”

نوریض نے پاس بیٹھے ابراہیم کی جانب دیکھتے ہوئے کہا

“یار وہ مجھے شوہر مانتی ہی نہیں ہے۔۔۔۔۔”

رتبہ ے جاتے ہی ابراہیم نے سرجھٹک کر نوریض کو دیکھا

“تو مانتا ہے اسے اپنی بیوی؟”

نوریض نے گہری نظروں سے سوال کیا

وہ نوریض کو دیکھنے لگا۔۔۔۔۔

اور نفی میں سر ہلا دیا ۔۔۔۔

“تم دونوں دوست تھے۔۔۔مگر اب نکاح میں ہو۔۔۔۔تو اسے بیوی مانے گا تو وہ تجھے شوہر مانے گی نا”

نوریض نے اسے سمجھایا۔۔۔۔

“تو ایسا کر کل یہاں لے آ اسے کشمالہ سے بھی مل لے گی اور رتبہ اسے سمجھا کر بھی دیکھ لے گی”

نوریض نے مشورہ دیا

ابراہیم گہری سوچ میں ڈوب گیا

❤️❤️❤️❤️❤️..

“مجھے بہت خوشی ہوئی تم آئے”

اس نے آرب کے بازو کو تھامتے ہوئے اس کے کاندھے پر سر رکھا۔۔۔۔

“میں تمہاری خوشی کے لیے ہی آیا تھا”

ارب نے مسکرا کر کہا

“ہنی۔۔۔تم نے میری تعریف نہیں کی آج”

وہ جو گرین کلر کی فٹ ڈریس کو زیب تن کیے ہوئے تھی۔۔۔۔

بالوں کو کرل کیے۔۔۔۔گہرہ میک اپ۔۔۔۔۔ آرب کو کہیں سے بھی تعریف کے لائق نہیں لگ رہی تھی۔۔۔۔

“تمہیں کیا ضرورت تعریف کی؟”

آرب نظر انداز کیے پوچھنے لگا

“ہے نا ضرورت تمہارے منہ سے سننے کی؟ کرو نا”

ایدہ نے پیار سے کہا

“اچھی لگ رہی ہو”

آرب نے ہنسی دبائی تھی۔۔۔۔

“صرف اچھی۔۔۔۔کتنے کنجوس ہو تم”

ایدہ نے شکوہ کیا۔۔۔۔

“میری مانو تو یہ ڈریس چینج کرلو۔۔۔اور منہ دھو کر آؤ۔۔۔پھر تم اچھی نہیں بہت اچھی لگو گی”

آرب نے مسکرا کر کہا اور موبائل میں مصروف ہوگیا۔۔۔۔

“آبی تم سے نا یہی امید تھی مجھے۔۔۔۔دوست جب شوہر بنتا ہے نا تو تعریف بھی سننے کو نہیں ملتی۔۔۔۔”

ایدہ منہ بناتی کہنے لگی۔۔۔

اور آرب کی کب سے روکی ہنسی نمودار ہوئی۔۔۔۔

❤️❤️❤️❤️❤️..

وہ جب گھر آیا تو منہا کچن میں تھی۔۔۔۔۔

اس نے پلٹ کر اسے دیکھا۔۔۔۔۔

وہ خاموشی سے صوفے پر جا بیٹھا۔۔۔۔

ترچھی نظروں سے وہ اسے ہی دیکھ رہا تھا۔۔۔۔

“منہا۔۔۔۔” وہ کچھ سوچ کر اٹھا اور اس کے قریب گیا۔۔۔۔

“ہاں۔۔۔کچھ چاہیے تمہیں؟” منہا نے دھیمی آواز میں کہا تھا یا اس کی آواز بیٹھ گئی تھی۔۔۔۔۔

یہ اندازہ لگانا مشکل تھا

ابراہیم کو سمجھ نہیں آرہا تھا وہ کیا کہے۔۔۔۔

معذرت کرے۔۔۔یا اس سے رونے کی وجہ پوچھے۔۔۔۔

“میں اپنے گھر گئی تھی۔۔۔۔”کافی دیر انتظار کے بعد منہا نے خود ہی خاموشی توڑی

“ایم سوری۔۔۔۔۔” ابراہیم نے گہرہ سانس خارج کیا۔۔۔۔

“میں آئندہ بتا کر جاؤں گی۔۔۔۔”

منہا نے کپ میں چائے ڈالتے ہوئے کہا

“منہا۔۔۔”

ابراہیم نے اس کے کاندھوں کو تھامے اس کا رخ اپنی جانب کیا۔۔۔۔

اس کی آنکھیں سوجی ہوئی تھی۔۔۔۔

چہرہ آنسوؤں سے دھلا شفاف۔۔۔۔

سلکی بالوں کو جوڑے میں قید کیا ہوا تھا۔۔۔۔

وہ اسے دیکھ کر رہ گیا۔۔۔۔

“کیا حالت بنائی ہوئی ہے تم نے یار۔۔۔۔اگر تم میری وجہ سے اتنا روئی ہو تو ایم سوری۔۔۔۔”

اس نے منہا کو دیکھتے ہوئے کہا

منہا خاموشی سے دیکھ رہی تھی

“مجھے بتاؤ۔۔۔کسی نے کچھ کہا ۔۔۔گھر پر سب خیریت ۔۔۔۔؟”

وہ پوچھنے لگا۔۔۔۔

“ہممم۔۔۔۔۔امی اسلام آباد گئی ہیں خالہ کے پاس گھر پر کوئی تھا ہی نہیں۔۔۔۔”

منہا نے چائے کا کپ اٹھا کر اس کی جانب بڑھایا

جب آجائیں تب چلی جانا۔۔۔۔تم اپنی مرضی سے کہیں بھی جاسکتی ہو۔۔۔بس مجھے بتا دیا کرو ایک میسج کر کے۔۔۔”

ابراہیم نے نرمی سے کہا

“کیوں؟ تمہیں میری فکر ہوتی ہے؟”

منہا نے گہری نظروں سے سوال کیا

“ہاں۔۔۔۔ظاہر ہے”

اس نے کپ ہونٹوں سے لگایا۔۔۔۔۔

اور پلٹ گیا۔۔۔۔

منہا نے اپنا چائے کا کپ اٹھایا اور اس کے پیچھے کچن سے باہر نکل گئی۔۔۔۔

❤️❤️❤️❤️❤️..

صبح کے نو بج رہے تھے جب اس کا فون چیخنے لگا۔۔۔۔

ابراہیم نے ہاتھ بڑھا کر دیکھا گھر سے وڈیو کال تھی

اس نے کال پک کی اور آنکھیں مسلتا اٹھ بیٹھا۔۔۔۔

“کیسی ہیں اماں بی۔۔۔۔؟”

ابراہیم نے پوچھا۔۔۔۔

“سورہے تھے ابھی تک۔۔۔۔۔؟ ” اماں بی نے پوچھا

“یہ تو سوتے ہی ہیں دیر تک۔۔۔۔منہا کہاں ہے؟”

سونیا بی نے سوال کیا

“وہ کچن میں ہے”

ابراہیم سیدھا ہوا۔۔۔

“بات کروائیں۔۔۔” اماں بی نے حکم دیا۔۔۔۔

وہ اٹھ کر باہر نکلا۔۔۔۔

وہ کچن میں نہیں تھی۔۔۔۔

ابراہیم نے کال کٹ کی۔۔۔۔۔پھر دروازہ بجایا۔۔۔۔

منہا جو سوئی تھی دستک سے بیدار ہوئی۔۔۔۔

اس نے دروازہ کھولا۔۔۔۔۔

ابراہیم سامنے ہی ویسٹ میں کھڑا تھا۔۔۔۔

کسرتی بازوں ابھر رہے تھے۔۔۔۔

بال بکھرے۔۔۔۔چہرے پر نیند سے بیداری صاف ظاہر تھی۔۔۔

وہ اسے دیکھ چونکی۔۔۔۔

“کیا ہوا خیریت؟”

منہا نے کھلے بالوں کا جوڑا کرتے پوچھا۔۔۔۔

تبھی ابراہیم کا فون پھر سے بجنے لگا۔۔۔۔

ابراہیم نے اس کی جانب اسکرین کی۔۔۔

منہا کو دوپٹے کا خیال آیا اس نے بیڈ سے دوپٹہ اٹھایا۔۔۔اور اپنا حلیہ درست کیا۔۔۔۔۔

“یہ لیں کرلیں بات”

ابراہیم نے منہا کی جانب بڑھایا۔۔۔۔

منہا نے فون تھاما اور بات کرنے لگی۔۔۔۔

“آج سنڈے ہے۔۔۔۔شوہر گھر پر ہے آپ ایسے حلیے میں کیوں ہیں؟”

اماں بی نے منہا کو دیکھتے ہی ٹوکا۔۔۔۔

اس نے نظر اٹھا کر ابراہیم کو دیکھا۔۔۔۔

“میں وہ۔۔۔بس جا ہی رہی تھی۔۔۔۔”

وہ جھجکتے ہوئے کہنے لگی

“جائیں تیار ہوجائیں۔۔۔۔میں شام میں کروں گی کال۔۔۔۔”

اماں بی نے حکم دیا اور فون بند کردیا

“یہ لو۔۔۔۔۔” منہا نے اس کی جانب فون بڑھایا

“ایسی کون سی ایمرجنسی تھی جو اس حلیے میں ہی آگئے میرے سامنے ۔۔۔۔”

منہا نے منہ پھیرتے ہوئے کہا

“تو کیا کہتا وہ الگ روم میں سورہی ہے۔۔۔۔اور میرے حلیے میں کیا خرابی ہے؟”

وہ خود کو دیکھتا پوچھنے لگا

“کچھ نہیں۔۔۔میں سورہی ہوں۔۔۔۔”

منہا نے ہاتھ سے آتی جمائی روکی

“سنا نہیں اماں بی نے کیا کہا۔۔۔تیار ہوجاؤ شوہر گھر ہے۔۔۔اور ناشتہ بناؤ۔۔۔۔”

ابراہیم نے شرارت بھرے لہجے میں کہا

“زیادہ اترانے کی ضرورت نہیں۔۔۔۔چائے تم بھی بنا سکتے ہو”

اس نے بستر پر واپس جاتے ہوئے کہا۔۔۔۔

“جی نہیں۔۔۔جلدی بناؤ”

وہ ہنس کر کہتا اپنے روم کی جانب بڑھ گیا۔۔۔۔۔

❤️❤️❤️❤️❤️..

“انابیہ میڈم آپ کے لیے پارسل ہے”

ملازمہ نے بڑا سا ڈبہ اس کی جانب بڑھایا

“میرے لیے کس نے بھیج دیا؟”

وہ چونکی۔۔۔۔

پھر اٹھ کر ڈبے کے قریب گئی اور کارڈ ڈھونڈ نے لگی

سائیڈ پر ہی کارڈ لگا تھا۔۔۔

انابیہ نے کھولا تو نام دیکھ مسکرائی۔۔۔۔

پھر ڈبہ کھولنے لگی۔۔۔۔

ڈبہ کھولتے ہی اس نے منہ پر ہاتھ رکھے۔۔۔۔

اندر ایک وائٹ خوبصورت سی بلی تھی۔۔۔۔

انابیہ خوشی سے اچھلی۔۔۔۔

اس کے لیے یہ سب سے پیارا گفٹ تھا

تبھی اس کا فون بجنے لگا۔۔۔۔

اس نے فون کی اسکرین کو دیکھا۔۔۔۔

پھر کان سے لگایا

“ہیپی برتھ ڈے انابیہ”

کمیل کی آواز گونجی۔۔۔۔

“تمہیں کیسے پتا؟” وہ پوچھنے لگی ۔۔۔۔

“بس دیکھ لو ہم دوستوں کی خبر رکھتے ہیں”

کمیل نے فوراً کہا

“کمیل رئیسی۔۔۔۔تم نے مجھے سب سے پہارا گفٹ دیا ہے۔۔۔۔”

وہ خوشی سے بڑبڑائی۔۔۔۔

اور بلی کو ڈبے سے نکال کر پیار کرنے لگی ۔۔۔

❤️❤️❤️❤️❤️..

“ناشتہ باہر کرنے چلیں؟”

وہ نہا کر نکلی ہی تھی جب ابراہیم اس کے کمرے میں داخل ہوا۔۔۔۔

وہ آئینے کے سامنے بنا دوپٹے کے کھڑی بال بنا رہی تھی۔۔۔۔

لمبے بال اس کی پشت کو ڈھانپے لہرا رہے تھے۔۔۔۔

ابراہیم لمحہ بھر اس کے خوبصورت بالوں کو دیکھتا رہا۔۔۔۔

اس نے کبھی نوٹس ہی نہیں کیا تھا۔۔۔۔

وہ ائینے میں اس کی نظریں خود پر مرکوز پاتے پلٹی۔۔۔۔

پھر بیڈ سے دوپٹہ اٹھا کر گلے میں ڈالا۔۔۔۔

“چائے۔۔۔۔۔۔۔” ابراہیم نظر پھیر گیا

پھر اس کی جانب کپ بڑھایا۔۔۔۔

“تم نے کیوں بنائی۔۔۔میں بنا دیتی”

وہ جھجکتے ہوئے کہنے لگی

“کوئی بات نہیں۔۔۔۔کبھی کبھی شوہر کے ہاتھوں کی چائے پینی چاہیے۔۔۔۔۔”

وہ ہنس کر کہنے لگا۔۔۔۔

منہا نے ابرو سکیڑ کر اسے دیکھا۔۔۔۔

وہ شرمندہ ہوتا بنا کچھ کہے باہر نکل گیا۔۔۔۔

❤️❤️❤️❤️❤️..

(تو ایسا کر کل یہاں لے اسے۔۔۔کشمالہ سے بھی مل لے گی اور رتبہ سمجھا بھی دے گی اسے)

وہ سوچنے میں مصروف تھا جب فرنٹ سیٹ کا دروازہ کھول منہا اندر بیٹھی۔۔۔۔

“نوریض کے گھر چلتے ہیں۔۔۔۔کشمالہ یاد کر رہی تھی “

ابراہیم نے گاڑی اسٹارٹ کرتے ہوئے کہا

“مجھے؟”

وہ چونک کر پوچھنے لگی

“نہیں مجھے۔۔۔تم ملی کب اس سے؟۔”

وہ ہنسا۔۔۔۔

منہا نے حامی بھری۔۔۔۔

اور ابراہیم مسکرا دیا