Blind Friends By Isra Rao NovelR50463 Blind Friends (Episode - 37) Last Episode
No Download Link
Rate this Novel
Blind Friends (Episode - 37) Last Episode
Blind Friends By Isra Rao
“تو کب تک پہنچے گا؟”
نوریض فون کان سے لگائے بات کر رہا تھا جب سامنے سے آتی لڑکی نے اسے مخاطب کیا
“نوریض ۔۔۔۔” وہ مسکراتے ہوئے اس کے پاس آئی۔۔۔۔
نوریض نے فون بند کر جیب میں رکھا۔۔۔۔
“کرن۔۔۔۔۔؟” وہ تصحیح کرنا چاہتا تھا
“ہاں۔۔۔کیسے ہو۔۔۔۔ابراہیم کیسا ہے؟”
وہ پوچھنے لگی۔۔۔۔
“سب ٹھیک ہیں۔۔۔۔تم بتاؤ؟”
نوریض نے خوش دلی سے پوچھا
“میں یہاں جاب کرتی ہوں۔۔۔”
کرن نے مسکرا کر کہا
“اچھا ماشاءاللہ ڈاکٹر بن گئی تم۔۔۔۔”
نوریض نے ہنس کر کہا
“تم یہاں کیا کر رہے ہو؟”
وہ آخر پوچھ بیٹھی
“میں منہا سے ملنے آیا تھا۔۔۔۔تم بھی ملو۔۔۔اوپر روم میں ہے”
نوریض نے اسے کہا۔۔۔۔
“کیا ہوا اسے خیریت ۔۔۔۔؟”
وہ فکرمندی سے پوچھنے لگی
“ہاں سب خیر۔۔۔۔بیٹا ہوا ہے۔۔۔۔۔”
نوریض نے خوشی سے بتایا
“پھر تو مجھے ملنا پڑے گا اس سے”
وہ نوریض کے ساتھ اوپر کی جانب بڑھ گئی۔۔۔۔
..
“میں کیا کروں گی وہاں جا کر۔۔۔۔تم چلے جاؤ”
وہ ہاتھوں پر لوشن لگاتے ہوئے مصروفیت سے کہنے لگی
“اگر تم جانا نہیں چاہتی تو میں زبردستی نہیں کروں گا۔۔۔مگر تم چلو گی تو میرے دوستوں کو اچھا لگے گا”
کمیل نے سنجیدگی سے کہا۔۔۔۔
اور وارڈ روب سے کپڑے نکالنے لگا
“تم میری طرف سے مبارکباد دے دینا ابراہیم کو۔۔۔۔”
انابیہ نے سادگی سے کہا
وہ اس کی بات پر مڑ کر اسے دیکھنے لگا۔۔۔
پھر اس کے قریب جا کر بیٹھا۔۔۔۔
“انابیہ اگر تم میری وجہ سے نہیں جارہی کہ مجھے برا لگے گا تو تم غلط ہو۔۔۔میں ایسی سوچ کا مالک بلکل بھی نہیں ہوں۔۔۔۔مجھے معلوم تھا تم ابراہیم کو پسند کرتی ہو۔۔۔پھر بھی میں تم سے محبت کرتا رہا اور شادی بھی کی۔۔۔۔اور میں وعدہ کرتا ہوں۔۔۔۔ہمارے بیچ کبھی شک نہیں آئے گا”
کمیل نے اس کے ہاتھوں کو تھامتے ہوئے تسلی دی۔۔۔
انابیہ مسکرا دی۔۔۔۔
کمیل واقع اس کے معاملے میں بہت نرم دل اور محبت کرنے والا ثابت ہورہا تھا۔۔۔
..
“چچی مام کہاں ہے۔۔۔قسم سے میرا بیٹا بھی نہیں دکھایا مجھے انہوں نے۔؟”
ابراہیم نے خفگی سے کہا
“تو آپ نے کام ہی ایسے کیے ہیں۔۔۔۔”
وہ سنجیدگی سے کہنے لگی
“چچی پلیز۔۔۔۔”
وہ روہانسی ہوا
“دو روم چھوڑ کر روم ہے جو اس میں ہوں گی۔۔۔۔”
انہوں نے اسی سنجیدگی سے کہا
“وہاں کیا کر رہی ہیں مام۔۔؟۔”
وہ کہتے ہوئے اس طرف بڑھا ہی تھا کہ عمران صاحب کی آواز پر رکا
“بھائی ہیں وہاں۔۔۔۔۔”
انہوں نے اونچی آواز میں کہا تھا۔
وہ مڑ کر دیکھنے لگا
“منہا کو آپ نے ڈپریشن کا مریض بنا دیا تھا۔۔۔۔نا کھاتی تھی نا ٹھیک سے سوتی تھی۔۔۔۔اچانک اس کی طبیعت خراب ہوگئی۔۔۔۔خون کے لیے آپ کو بلایا مگر آپ نہیں آئے۔۔۔پتا ہے کس نے خون دیا؟”
عظمیٰ بیگم نے اسے دیکھتے ہوئے کہا
“فرقان بھائی نے۔۔۔۔”
انہوں نے طنزیہ کہا
“بابا نے؟” وہ حیرت سے بڑبڑایا
“جی ہاں۔۔۔۔اس عمر میں بھی انہوں نے خون دیا ہے۔۔۔۔اور جب سے دیا ہے۔۔۔۔ان کی اپنی طبیعت بہتر نہیں۔۔۔سب نے منع کیا تھا مگر انہوں نے منہا کو بچانے کے لیے اپنی صحت کی پرواہ نہیں کی۔۔۔۔”
اعظمی بیگم غصے سے ہی صحیح مگر ابراہیم کا ضمیر جگانا چاہتی تھی۔۔۔۔
ابراہیم بنا کچھ کہے پلٹا اور روم کی جانب بھاگا ۔۔۔
دروازہ کھول اندر داخل ہوا۔۔۔۔آہستہ قدم اٹھاتا وہ تھوڑے فاصلے پر رکا
“آپ ٹھیک ہیں بابا؟”
وہ بیڈ پر بیٹھے فرقان صاحب سے نظریں ملائے بنا پوچھنے لگا۔۔۔۔
“میں ٹھیک ہوں۔۔۔۔۔یہ آپ کے سر پر کیا ہوا ہے؟”
انہوں نے فوراً سر پر بندھی پٹی دیکھی۔۔۔۔۔۔
“ایم سوری بابا۔۔۔۔میں وقت پر نہیں پہنچا۔۔۔۔مجھے معاف کردیں”
وہ نم آنکھوں سے نظریں جھکائے کہنے لگا۔۔
فرقان صاحب لمحہ بھر اسے دیکھتے رہے۔۔۔۔
“گلے لگ کر مبارکباد نہیں دیں گے آپ۔۔۔میں دادا بن گیا”
وہ مسکرا کر کہنے لگے۔۔۔۔
ابراہیم نے نظریں اٹھا کر انہیں دیکھا۔۔۔۔
پھر لپک کر ان کے گلے لگ گیا۔۔۔۔
کب سے روکے آنسوں بہنے لگے تھے۔۔۔۔
سونیا بیگم کی آنکھوں سے آنسوں گرنے لگے تھے۔۔۔
وہ اس لمحے کو دیکھنے کے لیے ترس گئی تھی۔۔۔
وہ فرقان صاحب سے آج ڈر نہیں رہا تھا کوئی گلا نہیں کر رہا شکوہ نہیں کر رہا تھا۔۔۔۔
بس بچوں کی طرح زاروقطار رو رہا تھا۔۔۔۔
وہ اس آغوش کو اس محبت کو بہت ترستا تھا۔۔۔۔
“کیا عورتوں کی طرح رو رہے ہیں آپ۔۔۔۔چپ کرجائیں”
وہ اسی سخت انداز میں کہنے لگے۔۔۔۔
ابراہیم نے اپنے بازو سے اپنے گیلے چہرے کو صاف کیا
“اپنے بیٹے سے ملے آپ۔۔۔۔؟”
فرقان صاحب کے سوال پر اپنا بازو چہرے پر رگڑتا رکا۔۔۔۔
پھر فوراً سونیا بیگم کی جانب دیکھا۔۔۔۔
جو اٹھ کر اس کے قریب آئی۔۔۔۔
اور بچہ اس کی جانب بڑھایا۔۔۔۔۔
ابراہیم نے پہلی بار اپنے بیٹے کو اٹھایا تھا۔۔۔۔
وہ اس خوشی کو بہت ترسا تھا۔۔۔۔
وہ بے اختیار ہی اس معصوم کو دیکھ مسکرا دیا۔۔۔۔
آنسوں پھر سے بہنے لگے تھے۔۔۔
مگر اس بار خوشی کے آنسوں تھے۔۔۔۔
سونیا بیگم نے اسے خود سے لگاتے ہوئے پیار کیا۔۔۔۔
آج خود باپ بن کر اسے فرقان صاحب کی محبت کا اندازہ ہورہا تھا۔۔۔۔
..
“ابراہیم سے ہوئی تھی نا تمہاری شادی؟”
وہ سامنے بیٹھی منہا سے پوچھنے لگی
“ہاں۔۔۔۔” منہا نے مختصر کہا
” اسے بھی مبارکباد دے دیتی۔۔کہاں ہے وہ؟۔۔”
وہ منہا سے پوچھنے لگی
“پتا نہیں۔۔۔۔” منہا نے کہا
“تمہارا ہسبنڈ ہے تمہیں نہیں پتا ابراہیم کہاں ہے؟”
وہ حیرانی سے کہنے لگی
“ابراہیم یہاں ہے”
ابراہیم دروازہ کھول اندر داخل ہوا
“ہائے ابراہیم۔۔۔کیسے ہو ؟”
اس نے آگے بڑھ کر ہاتھ ملایا۔۔۔۔
“بلکل ٹھیک۔۔۔تم بتاؤ۔۔۔۔سنا تھا ڈاکٹر بن رہی تھی؟”
ابراہیم سوال کرنے لگا
“بن گئی۔۔۔یہاں جاب ہے میری۔۔۔۔۔”
وہ ہنس کر بتانے لگی۔۔۔۔
دونوں کو کھلکھلا کر بات کرتا دیکھ منہا کو غصہ کنٹرول کرنا مشکل ہورہا تھا۔۔۔۔
تبھی اندر کمیل اور انابیہ داخل ہوئے۔۔۔
انہیں دیکھ منہا مسکرائی۔۔۔
“کمیل۔۔۔۔”
وہ اسےپہنچان گئی تھی
“کرن۔۔۔۔؟ کیسی ہو؟کتنے ٹائم بعد دیکھا تمہیں۔۔۔شکل بھی بھول گیا تھا میں”
کمیل نے ہنس کر کہا
“ہاں۔ مگر میں نہیں بھولی تھی۔۔۔میری اسائمنٹ کاپی کرتے تھے تم دونوں۔۔۔۔۔”
کرن کی بات ابراہیم نے فوراً کمیل کی جانب اشارہ کیا۔۔۔۔
“میں تو پڑھتا تھا۔۔۔۔”
کمیل نے چڑ کر کہا۔۔۔
“سب کو پتا ہے بیٹا تو کتنا پڑھتا تھا۔۔۔۔”
ابراہیم نے طنزیہ کہا۔۔۔۔
“ویسے ہی ہو آج بھی تم سب۔۔۔۔لگتا ہے آج پورا کمینہ گروپ یہاں مل جائے گا”
کرن ہنس کر کہنے لگی۔۔۔۔
اس کی بات پر جہاں منہا اداس ہوئی۔۔۔۔ابراہیم اور کمیل کے چہرے پر بھی افسردگی چھائی تھی۔۔۔
ان کی ہنسی غائب ہوگئی تھی۔۔۔۔
“کمینہ گروپ اب نہیں رہا”
پیچھے سے آتے نوریض نے کہا
“کیوں؟ ایوری تھنگ از اوکے؟”
وہ حیرت سے پوچھنے لگی
“کیوں کہ شاید تم جانتی نہیں آرب کی ڈیتھ ہوگئی”
نوریض کے جملے پر جہاں کرن کو افسوس ہوا۔۔۔
وہاں ان چاروں کا دل پھر سے رونے کو تیار تھا۔۔۔
وہ کرن سے مل کر جہاں اپنی کالج لائف کی یادوں میں چلے گئے تھے۔۔۔وہاں آرب کے ساتھ چھوڑنے کا وقت بھول نہیں سکتے تھے۔۔۔۔پھر سے سب یاد آگیا تھا
وہ تکلیف بہت بڑی تھی۔۔۔۔بہت بڑی۔۔۔۔
..
“کیسے ہیں آپ انکل ۔۔۔۔؟”نوریض نے پوچھا۔۔۔۔
“میں ٹھیک ہوں اب تو۔۔۔۔۔”
وہ کہنے لگے
“انکل خون دینے سے آپ بستر پر آگئے۔۔۔۔میں تو آپ کو ینگ سمجھ رہا تھا”
کمیل نے فرقان صاحب کو دیکھتے ہوئے کہا
“سمجھ کیا رہے تھےآپ۔۔۔۔ینگ ہی ہوں بیٹا۔۔۔۔”
وہ مسکرائے تھے
“ہاں جی بلکل انکل تو ابراہیم کے ساتھ کھڑے ہوجائیں تو چھوٹے لگتے ہیں۔۔۔۔۔۔”
نوریض ہلکے سے بڑبڑایا تھا۔۔۔
جسے کمیل سن چکا تھا۔۔۔۔
اور اسے مشکل ہوگیا تھا اپنی ہنسی روکنا۔۔۔۔
“اچھا انکل اجازت دیں”
کمیل اٹھ کھڑا ہوا۔۔۔۔
“ارے نہیں نہیں ایسے کیسے۔۔۔۔گھر چلیں گے آپ سب۔۔۔”
انہوں نے حکمیا کہا
“نہیں نہیں مہربانی انکل۔۔۔۔”
نوریض نے خوش دلی سے کہا
“اپنے دوست کی خوشی میں تو شامل ہوں گے آپ لوگ۔۔۔۔”
انہوں نے بہت عزت دیتے ہوئے کہا۔۔۔۔
نوریض اور کمیل کو تو ہضم نہیں ہورہی تھی۔۔۔۔
..
وہ بیڈ کراؤن سے ہلکی سی ٹیک لگائے بیٹھی تھی۔۔۔۔
ہاتھ میں پیالی تھی۔۔۔۔جس میں دلیا تھا وہ چمچ ہلا رہی تھی۔۔۔۔
ابراہیم اسے بغور دیکھ رہا تھا۔۔۔۔
“ناراض ہے؟”
وہ اس کے برابر بیٹھا
منہا نے گردن گھمائی اور دوسری جانب دیکھنے لگی
“دیکھے گی بھی نہیں میری طرف؟”
ابراہیم نے سوال کیا
منہا نے نفی میں سر ہلایا۔۔۔۔۔
وہ ہلکے سے مسکرایا۔۔۔۔۔
پھر اپنا بازو اس کے چہرے کے سامنے کیا۔۔۔۔۔
منہا نے پہلے بازو کو دیکھا۔۔۔۔پھر حیرت سے اسے۔۔۔۔
وہ اب بھی مسکرا رہا تھا۔۔۔۔
منہا کو اسے مسکراتا دیکھ غصہ آنے لگا۔۔۔۔
اس نے آؤ دیکھا نا تاؤ اس کےبازو پر دانت گاڑھ دیے۔۔۔۔۔
پوری قوت سے کاٹ کر اس کے بازو کو آزادی بخشی مگر وہ ابھی بھی مسکرا رہا تھا۔۔۔۔
“تجھے درد نہیں ہوا؟”
منہا نے ہار کر اسے مسکراتا دیکھ پوچھا۔۔۔۔
“نہیں تو۔۔۔۔۔”
ابراہیم نے نفی میں گردن ہلائی
“ڈھیٹ ہو نا۔۔۔۔۔” وہ بے رخی سے کہتی پھر سے پیالی میں چمچ ہلانے لگی۔۔۔۔
“کھا کیوں نہیں رہی؟”
اس نے اس کے ہاتھوں کی جانب دیکھتے ہوئے پوچھا۔۔۔۔
“تجھے کیا لینا دینا۔۔۔تو جا اپنی ایکس کے پاس”
منہا نے بے رخی سے کہا
“وہ میری ایکس نہیں۔۔۔۔”
ابراہیم نے تصحیح کی
“کیوں کیا تو ساری ساری رات فون پر بات نہیں کرتا تھا اس سے؟”
منہا نے پوچھا
“اب تو پرانی باتوں پر اپنے معصوم شوہر سے جھگڑا کرے گی؟”
وہ مسکراہٹ دبائے پوچھنے لگا
“چلو نئی بات پر کر لیتی ہوں۔۔۔ٹائم کیا ہوا ہے؟”
وہ پوچھنے لگی
“پانچ بج رہے ہیں”
ابراہیم نے اپنی کلائی پر بندھی اومیگا کی واچ کو دیکھ کہا۔۔۔۔جسے وہ ہمیشہ پہن کر رکھتا تھا۔۔۔۔
“کل رات آپریشن ہوا تھا اور تو اب مل رہا ہے مجھ سے”
منہا نے شکوہ کیا
“میں ڈر رہا تھا نا کہیں میری بیوی مجھے جان سے مار ہی نا دے۔۔۔۔۔”
ابراہیم نے شرارت بھرے لہجے میں کہا۔۔۔۔
“مارا تو تو نے ہے۔۔۔ان دو مہینوں میں ہر روز ہر لمحہ۔۔۔۔”
منہا کی آنکھ سے آنسوں گرنے لگے تھے۔۔۔۔
“تجھے کیا لگتا ہے منہا تیرے بنا میں زندہ رہ سکتا ہوں۔۔۔۔۔؟”
ابراہیم نے اس کے آنسوں کو انگوٹھے کی مدد سے صاف کیا
“ہاں دو مہینے سے رہ رہا تھا۔۔۔۔پتا ہے میری کتنی طبیعت خراب ہوئی۔۔۔میں مر جاتی تو۔۔۔۔۔؟”
وہ اسے دیکھ سوال کرنے لگی
“تو میں بھی تیرے پیچھے اوپر آجاتا۔۔۔معافی مانگنے”
ابراہیم نے اپنے کان پکڑتے ہوئے طلبگار نگاہوں سے اسے دیکھا۔۔۔۔
وہ نم آنکھوں سے بھی مسکرا دی۔۔۔۔
پھر اس کے کاندھے پر سر ٹکا دیا۔۔۔۔
“نام سوچا ہے۔۔۔ہمارے بیٹے کا؟”
وہ پوچھنے لگی
“بابا رکھیں گے”
ابراہیم نے خوش دلی سے جواب دیا
منہا نے سر اٹھا کر اسے دیکھا۔۔۔۔
ابراہیم نے ابرو اچکا کر حامی بھری۔۔۔
..
“مما میں نوریض کی گاڑی میں لے آؤں گا منہا کو ۔۔۔آپ گھر چلیں۔۔۔۔ہم آتے ہیں”
ابراہیم نے اپنے بیٹے کو دیکھتے ہوئے کہا
“اچھا۔۔۔۔لاؤ اسے مجھے دے دو۔۔۔۔آپ منہا کو لے آنا”
انہوں نے ابراہیم کی گود سے بچہ لیتے ہوئے کہا۔۔۔۔
“کرن چلی گئی؟”
ابراہیم نے منہا کو چھیڑنے کے لیے جان بوجھ کر کرن کا زکر کیا۔۔۔
منہا نے اسے گھورا۔۔۔۔
“کرن تم لوگوں کی دوست تھی؟”
انابیہ نے سوال کیا
“وہ ہماری کلاس میٹ تھی۔۔۔۔ایبو پر مرتی تھی”
نوریض نے ہنس کر کہا
“ہاں ابراہیم اور کمیل دونوں اس کی اسائمنٹ کاپی کرتے تھے۔۔۔چور تھے دونوں”
منہا نے چڑ کر کہا
“جی نہیں میں اپنی خود بناتا تھا۔۔۔۔”
ابراہیم نے فوراً کہا
“نہیں جی۔۔۔صرف میں آرب ہی بناتے تھے”
منہا نے روانی سے کہا۔۔۔۔
پھر یک دم ہی چپ ہوئی۔۔۔۔
آرب کے زکر پر سب کے چہرے پر پھر سے اداسی چھا گئی تھی۔۔۔
“آج اگر ایدہ اور آرب ہوتے تو تمہارا گروپ مکمل ہوجاتا”
انابیہ نے دکھ بھرے لہجے میں کہا۔۔۔۔
” تیرا بریسلیٹ کہاں ہے؟”
ابراہیم کو جیسے کچھ یاد آیا
“پرس میں ہے اندر والی زپ کھولو۔۔۔”
منہا نے اشارہ کیا۔۔۔۔
ابراہیم نے بریسلیٹ نکالا۔۔۔۔اور ہاتھ میں پکڑے دیکھنے لگا۔۔۔
جس پر نفاست سے بلائنڈ فرینڈز لکھا تھا۔۔۔۔
ابراہیم کی آنکھوں میں نمی تیر آئی تھی۔۔۔۔
کمیل نے ابراہیم کے کاندھے پر ہاتھ رکھا۔۔۔۔
وہ اس کی تکلیف کو اتنا ہی محسوس کر رہا تھا جتنا وہ۔۔۔۔
“تو لایا ہے؟ کہاں ہے؟”
ابراہیم نے پوچھا
نوریض نے جیب میں ہاتھ ڈال بریسلیٹ نکالا۔۔۔۔
..
“تمہارا بریسلیٹ کہاں ہے؟”
انابیہ نے باہر بیٹھے کمیل کو دیکھ پوچھا۔۔۔
“ایبو کے پاس۔۔۔۔میں نے کڈنیپنگ والی رات منہا کو بچاتے ہوئے گنوا دیا تھا”
کمیل نے افسردگی سے کہا۔۔۔
“تو تم مانگ لو واپس ابراہیم سے”
انابیہ نے مشورہ دیا
“اب اس بریسلیٹ کا فائدہ نہیں ہے۔۔۔۔”
کمیل نے کہا
“تم لوگوں کی دوستی کا سائن ہے وہ بریسلیٹ۔۔۔۔تم سب کو پہن کر رکھنا چاہیے۔۔۔۔آئی تھنک ابراہیم بھی یہی چاہتا ہے۔۔۔تبھی اس نے نوریض کو لانے کو کہا”
انابیہ نے کہا
“وہ ایسا کچھ نہیں چاہتا انابیہ۔۔۔۔۔”
کمیل نے دکھ بھرے لہجے میں کہا
“پھر وہ کیا کرے گا؟”
انابیہ نے ناسمجھی سے پوچھا۔۔۔۔
“پتا نہیں۔۔۔۔”
وہ کہتے ساتھ اٹھ کھڑا ہوا۔۔۔۔
..
“گاڑی روک نوریض “
ابراہیم نے کہا۔۔۔۔
نوریض نے گاڑی روکی۔۔۔وہ لوگ پل پر تھے۔۔۔۔
منہا نے یہاں وہاں دیکھا۔۔۔۔
ابراہیم باہر نکلا۔۔۔۔۔اور گرل کو تھامے کھڑا ہوا۔۔۔۔
نوریض بھی برابر آکھڑا ہوا۔۔۔۔
ٹھنڈی ہوائیں چل رہی تھی۔۔۔۔۔
پیچھے ہی کمیل کی گاڑی رکی۔۔۔۔۔وہ گاڑی سے اترا۔۔۔۔
“یہاں کیوں رکے ہو؟”
کمیل ان کے قریب آیا۔۔۔۔
“پتا ہے یارو۔۔۔۔میں آنے والی نسلوں کو ایک نصیحت ضرور کرنا چاہوں گا۔۔۔۔۔”
ابراہیم نے پل کے نیچے تیزی سے بہتے پانی کو دیکھا۔۔۔۔
کمیل نے نوریض کی جانب دیکھا۔۔۔۔
وہ خاموش تھا۔۔۔۔
“دوستی بہت خوبصورت رشتہ ہے۔۔۔۔مگر دوستی میں ہمیشہ آنکھیں کھلی رکھنی چاہیے۔۔۔۔اندھا نہیں ہونا چاہیے”
ابراہیم نے اداسی سے کہا
“ایبو ایم سوری۔۔۔۔اس سب کا زمہ دار میں ہوں”
کمیل نے نظریں جھکائے کہا۔۔۔۔
“نہیں اس سب کے زمہ دار ہم سب ہیں۔۔۔۔دوستی میں جب محبت آجاتی ہے تو ایسا ہی ہوتا ہے۔۔۔۔دوستی میں محبت نہیں آنی چاہیے یار”
نوریض نے کہا
کھڑکی سے انہیں دیکھتی منہا ان کی آواز سن رہی تھی۔۔۔
“آج جب آرب اور ایدہ کا زکر ہوا تو محسوس ہوا ہم دوستوں کو کبھی بھول نہیں سکتے۔۔۔۔ہم سب کے دل تو آج بھی جڑے ہوئے ہیں۔۔۔۔۔۔۔اور آگے بھی رہیں گے۔۔۔۔”
ابراہیم نے کمیل کے شانوں پر بازو پھیلاتے ہوئے کہا
“بس ہمارا کمینہ گروپ ٹوٹ گیا”
کمیل نے نم آنکھوں سے کہا
ابراہیم نے ہاتھ میں پکڑے چار بریسلیٹ دیکھے۔۔۔۔
“(یہ ہمارے کمینہ گروپ کا سلوگن ہے)
اس کے کانوں سے جملہ ٹکرایا
“بلائنڈ فرینڈز ۔۔۔۔اس کا سلوگن ہی غلط تھا۔۔۔۔۔”
وہ آہستگی سے کہنے لگا۔۔۔۔
پھر ایک ہی جھٹکے سے سارے بریسلیٹ نیچے بہتے پانی میں پھینک دیے۔۔۔۔
(یہ بریسلیٹ میں نے بنوائے ہیں۔۔۔۔ہماری دوستی کی نشانی ہے یہ)
کمیل کی آنکھوں کے سامنے منظرلہرایا۔۔۔
جب وہ ان سب کے لیے یہ بریسلیٹ بنوا کرایا تھا۔۔۔۔
کمیل کی آنکھوں سے آنسوں گرے تھے۔۔۔۔
وہ بنا کچھ کہے پلٹ کر اپنی گاڑی کی جانب بڑھ گیا۔۔۔۔
گاڑی میں بیٹھا تو انابیہ کی نظر اس کے بھیگے چہرے پر پڑی۔۔۔۔
“کمیل تم رو رہے ہو؟”
انابیہ نے پوچھنا تھا کہ کمیل بے اختیار ہی اس کے گلے لگا۔۔۔۔اس کی سسکیاں گاڑی میں گونج رہی تھی۔۔۔۔
“میں نے سب برباد کردیا۔۔۔۔میری وجہ سے ہمارا گروپ ٹوٹ گیا۔۔۔۔ہم پہلے جیسے بلائنڈ فرینڈز نہیں رہے انابیہ۔۔۔۔۔”
کمیل نے بھری آواز سے کہا۔۔۔۔
انابیہ کی آنکھوں میں بھی نمی تیر آیا تھی۔۔۔۔
“اس نے بریسلیٹ پھینک دیے۔۔۔۔۔اس نے بلائنڈ فرینڈز کو پانی میں بہا دیا۔۔۔۔۔سب ختم ہوگیا”
وہ روتے روتے کہ رہا تھا۔۔۔۔
“تو اس نے بلکل ٹھیک کیا ہے۔۔۔۔سلوگن غلط تھا نا کسی بھی رشتے میں ہمیں اندھا نہیں ہونا چاہیے۔۔۔۔۔تم دوبارا بریسلیٹ بنوانا۔۔۔۔اس بار فرینڈز فور ایور کا سلوگن رکھنا۔۔۔تاکہ تم سب کو کوئی الگ نہ کرسکے۔۔۔۔۔”
انابیہ نے مسکرا کر اسے سمجھایا۔۔۔۔
وہ خاموشی سے اثبات میں سر ہلا گیا۔۔۔۔۔
ابراہیم اور نوریض گاڑی میں بیٹھے۔۔۔۔
“کچھ ہوا تو نہیں نا؟”
منہا نے برابر بیٹھے ابراہیم کا بازو تھاما
“نہیں۔۔۔سب ٹھیک ہے۔۔۔۔”
ابراہیم نے اس کی پیشانی پر ہونٹ رکھے۔۔۔۔
چلیں ہمارا بیٹا گھر پر انتظار کر رہا ہوگا”
ابراہیم نے محبت بھرے لہجے میں کہا۔۔۔۔۔
“آہاں۔۔۔میں گاڑی میں ہوں۔۔۔۔”نوریض نے کھنکھارتے ہوئے گاڑی اسٹارٹ کی۔۔۔۔
منہا اور ابراہیم قہقہہ لگا کر ہنسے۔۔۔۔
کھلکھلا کر۔۔۔۔
ختم شد
